سانحۂ کربلا اسلامی تاریخ کا اِنتہائی المناک باب ہے، اس سانحہ کے بعد یزید بن معاویہ کو لگاتار برا بھلا کہا جاتا رہا ہے۔ البتہ یزید کے جنتی؍بخشے ہوئے ہونے کے بارے میں نبی کریمﷺ کی اُس بشارت کا تذکرہ کیا جاتاہے جس میں شہر قیصر کی طرف سب سے پہلے حملہ آور لشکر کو مغفور لہم ہونے کی خوش خبری دی گئی ہے۔ائمہؒ اسلاف میں سے امام ابن تیمیہ، حافظ ابن حجر، علامہ قسطلانی اور حافظ ابن کثیررحمہم اللہ وغیرہ نے یزید بن معاویہ کو اس پہلے لشکر کا سالار قرار دیا ہے جس نے تاریخ اسلامی میں سب سے پہلے شہر قیصر (قسطنطنیہ) پر حملہ کیا تھا۔ زیر نظر مضمون میں ان ائمہؒ اسلاف کے موقف کے برعکس بعض احادیث اور تاریخی واقعات سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ یزید بن معاویہؓ کے زیر قیادت قسطنطنیہ پر حملہ کرنے والا یہ لشکر پہلا نہیں، بلکہ آخری ؍چھٹا تھا اور اس سے قبل سیدنا معاویہؓ بن ابو سفیان، عبدالرحمن بن خالدؓبن ولید اور سفیان بن عوف کی زیر قیادت قسطنطنیہ پر حملے ہوچکے تھے؛ اس بنا پر یزید بن معاویہ نبی کریمﷺ کی اس بشارت کا مستحق نہیں ٹھہرتا۔ ایک اہم نکتے پر تاریخی بحث ہونے کے ناطے اسے 'محدث' میں اس بنا پر شائع کیا جارہا ہے کہ یہ اس نکتہ پر جامع ومبسوط بحث ہے۔ البتہ ا س سے دلائل کی بنا پر اتفاق واختلاف کی گنجائش بلاشبہ باقی ہے جس کے لئے 'محدث' کے صفحات حاضر ہیں۔یہاں یہ بنیادی سوال بھی باقی ہے کہ حدیث ِنبویؐ میں وارد 'مدینہ قیصر' کا مصداق کیا لازماً قسطنطنیہ ہی ہے جبکہ اس دورِ میں قیصرکا پایۂ تخت حمص تھا۔ اس موضوع پر 'محدث' میں ۱۰ برس قبل دو مضامین بھی شائع ہوچکے ہیں جن میں اپریل ۱۹۹۹ء میں مولانا عبد الرحمن عزیز کا مضمون 'سانحۂ کربلا اور غزوئہ قسطنطنیہ کی اِمارت کا مسئلہ' اور ا س کے تعاقب میں مولانا ارشاد الحق اثری حفظہم اللہ کا مضمون 'سانحہ کربلا میں اِفراط وتفریط: بعض تسامحات' شمارہ اگست ۱۹۹۹ء کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ (ح م)

جہادِ قسطنطنیہ کے پہلے سپہ سالار کون تھے؟

صحیح بخاری میں رسول اللہﷺکی دو بشارتوں کا ذکر ہے جوآپؐ نے دو جہادی لشکروں کے متعلق بیان فرمائی ہیں جن میں سے ایک سمندر میں جہاد کرنے والوں کے متعلق ہے اور دوسری بشارت قسطنطنیہ پر سب سے پہلا حملہ کرنے والوں کے متعلق ہے۔ چنانچہ پہلے اس حدیث کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں:

«أوّل جیش من أمتي یغزون مدينةَ یصر مغفور لھم» [صحیح بخاری،کتاب الجہاد باب ۹۳، ماقیل فی قتال الروم، ح:۲۹۲۴]

''میری اُمت کا وہ پہلا لشکر جو قیصر کے شہر پر حملہ کرے گا، اس کے لیے پروانۂ مغفرت ہے۔''

منکرینِ حدیث میں سے محمود احمد عباسی اور اس کے ہم نوا ناصبی حضرات نے اس حدیث کا مصداق یزید بن معاویہ کو قرار دیا ہے۔اور اس حدیث کو یزید کے پاکباز ہونے کے بارے میں قوی دلیل کے طورپر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ یزید بن معاویہؓ کے دورِ خلافت میں تین عظیم واقعات رونما ہوئے اور یہ ایسے واقعات ہیں کہ جس نے یزید کی سیرت و کردار کو مسخ کرکے رکھ دیا ہے :

1. سیّدناحسینؓ بن علیؓ اور ان کے ساتھیوں واہل بیت کاقتل عام

2. واقعہ حرہ جس میں مدینہ پر چڑھائی کی گئی اور مدینہ کو تاخت وتاراج کیا گیا اور مدینۃ الرسول ﷺ کی حرمت کو پامال کیا گیا۔

3. خانہ کعبہ پر حملہ کیا گیا جس سے خانہ کعبہ کی بنیادیں ہل گئیں اور اُسے آگ لگ گئی۔

ناصبی حضرات نے یزید بن معاویہ کو اِن تینوں واقعات سے بری الذمہ قرار دینے کے لیے ان کے جنتی ہونے کا عقیدہ پاک و ہند میں پھیلایا اور اس بات کو 'ایک نئی تحقیق' کا نام دیتے ہوئے تحقیقی انداز میں پیش کیا گیا، جس کی وجہ سے بہت سے محققین بھی اس سے متاثر ہوئے اور اُنہوں نے بھی اسے ایک انمول تحقیق سمجھ کر اس کی خوب تشہیر کی۔

اہل حدیث جماعت جن میں محققین کی کافی تعداد موجو دہے لیکن ان میں سے بعض لوگ بھی تحقیق کے نام سے گمراہ ہوئے اور اُنہوں نے بھی اس نئی تحقیق کی تائید کی جس سے یہ غلط نظریہ لوگوں میں عام ہوگیا کہ قسطنطنیہ پر پہلا حملہ کرنے کی بنا پر یزید بن معاویہ جنتی ہے۔ جبکہ یزید بن معاویہؓ کے دور میں سیدنا حسینؓ اور آپ کے اصحاب کے قتل کے علاوہ مدینہ منورہ کو جس طرح تاخت وتاراج کیا گیا اور اہل مدینہ کا جس طرح خون بہاکر مدینۃ الرسولﷺ کی حرمت کو پامال کیا گیا، اس کی مثال پوری اسلامی تاریخ میں نہیں ملتی اور نہ ہی اس طرح کا کوئی واقعہ اہل مدینہ کے ساتھ کبھی پیش آیا۔ بلکہ اہل مدینہ کوخوف زدہ کرنے اور ڈرانے والوں کے متعلق احادیث میں جس قدر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، ان سے حدیث کا ہر طالب ِعلم بخوبی واقف ہے۔ کجا یہ کہ جس نے اُن کا قتل عام کیا، اس کی سزا تو بہت ہی سخت ہے۔ لہٰذا مکہ، مدینہ اور کربلا کے مقتولین کا خون یزید کے سر ہے جس کا حساب اور بازپرس اس سے ہونی ہے۔ یزید بن معاویہؓ کوبغیر کسی دلیل کے جنتی قرار دینے والے ان حقائق کو بھی نگاہ میں رکھیں تاکہ اصل حقیقت تک رسائی پانے میں اُنہیں آسانی ہو۔

اب ہم اس یزید کے مغفور لهم میں سے ہونے کے دعویٰ کی طرف آتے ہیں۔ ماضی کے بعض مؤرخین نے بھی 'اوّل جیش' کا ذکر کرتے ہوئے اس کا مصداق یزید بن معاویہ کو قرار دیا لیکن اس کی کوئی دلیل اُنہوں نے بیان نہیں کی حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ''ہر شخص کی بات دلیل کے ساتھ قبول اور دلیل کی بنا پر ہی ردّ کی جاسکتی ہے۔'' لہٰذا اس سلسلہ میں ضرورت محسوس کی گئی کہ اس بات کی تحقیق کی جائے اور جہاں لوگوں کو اس سلسلہ میں غلطی لگی ہے، اسے بھی واضح کردیا جائے۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلی غلطی جس عبارت سے بعض محققین کو بھی لگی ہے ، وہ صحیح بخاری کے یہ الفاظ ہیں:

«قال محمود بن الربیع: فحدثتھا قومًا فیھم أبو أیوب صاحب رسول اﷲ ﷺ في غزوته التي تُوفّي فیھا ویزید بن معاوية علیهم بأرض الروم...» [صحیح بخاری: کتاب التهجد، باب۳۶، صلاة النوافل جماعة،ح:۱۱۸۶]

''سیدنا محمو دبن الربیعؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے (نفل کی جماعت کی) یہ حدیث ایک ایسی قوم کے سامنے بیان کی کہ جن میں رسول ﷺ کے صحابی اور میزبانِ رسول اللہؐ سیدنا ابوایوب انصاریؓ بھی تھے اور اُنہوں نے اسی غزوہ میں وفات پائی اور یزید بن معاویہ اس لشکر پر سالار تھے۔''

اس روایت سے معلوم ہوا کہ غزوئہ روم جس کے سپہ سالار یزیدبن معاویہؓ تھے، اسی غزوہ میں ابوایوب انصاریؓ بھی موجود تھے اور جنہوں نے اسی غزوہ کے دوران وفات بھی پائی۔

یہاں یہ واضح رہنا چاہيے کہ ابوایوب انصاریؓ جہادِ قسطنطنیہ میں شروع سے آخر تک شامل تھے اور معاویہ کے دورِ خلافت میں قسطنطنیہ پر یہ آخری غزوہ تھا کہ جس میں سیدنا ابو ایوب انصاریؓ وفات تک شریک رہے اور اس فوج کے سپہ سالار یزید بن معاویہؓ تھے اور قسطنطنیہ پر حملوں کاآغاز حضرت معاویہؓ نے ہی کیا تھا جیسا کہ آگے تفصیل سے بیان ہوگا۔

اس مضمون کا مطالعہ کرنے والے حضرات سے درخواست ہے کہ وہ تنقیدی نظر سے اس مضمون کا جائزہ لیں اور اس مضمون کے سلسلے میں جو مثبت یا منفی دلائل ان کے پاس موجود ہوں اُن سے راقم الحروف کو ضرور بہ ضرور آگاہ کریں۔ لیکن واضح رہے کہ وہ جوکچھ نقل کریں، وہ کسی شخص کی محض رائے نہ ہو یا تاریخ کی کوئی بے سند روایت نہ ہو بلکہ وہ جوکچھ بھی نقل کریں وہ تحقیقی مواد ہونا چاہئے اور جو روایت بھی وہ نقل کریں وہ باسند اور صحیح ہو۔جو محدثین کے اُصول کے مطابق صحیح یا حسن درجہ کو پہنچی ہوئی ہو کیونکہ بے سند روایت کا وجود اور عدم برابر ہے اور وہ شریعت میں کسی دلیل کی حیثیت نہیںرکھتی۔ اگر کوئی اہل علم اس سلسلہ میں ان اُصولوں کو مدنظر رکھ کر میری راہنمائی کریں تو اس کی کوشش اور جدوجہد کو ان شاء اللہ تعالیٰ قدروقیمت اورعزت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ اور یہی قرآنِ مجید کا پیش کردہ اُصول ہے:

﴿هاتوا بُر‌هـٰنَكُم إِن كُنتُم صـٰدِقينَ ١١١﴾... سورة البقرة

سب سے پہلا سمندری لشکر

صحیح بخاری کی ایک روایت میں اس حدیث کے الفاظ یوں ہیں:

''سیدنا انس بن مالک ؒ سے مروی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سیدہ اُمّ حرام بنت ِملحانؓ کے گھر تشریف لے گئے (جو سیدنا انسؓ کی خالہ تھیں) اور ان کے ہاں تکیہ لگا کر سو گئے، پھر ہنستے ہوئے جاگے۔اُمّ حرامؓ نے پوچھا''اے اللہ کے رسولؐ! آپ کیوں ہنسے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: میری اُمت کے کچھ لوگ سبز سمندر میں جہادفی سبیل اللہ کے لیے سوار بالکل اسی طرح ہیں جیسے بادشاہ تخت پربیٹھے ہیں۔اُمّ حرامؓ نے عرض کیا:اے اللہ کے رسولؐ! دُعا فرمائیں کہ اللہ مجھے ان لوگوں میںشامل کردے، آپؐ نے دعا فرمائی کہ اے اللہ! اسے اُن لوگوں میں شامل فرما دے اور آپؐ دوبارہ سوگئے اور پھر ہنستے ہوئے جاگے۔اُمّ حرامؓ نے پہلے کی طرح پوچھا کہ آپ کیوں ہنس رہے ہیں۔ آپؐ نے پہلے کی طرح جواب دیا: کہ مجھے میری امت کے کچھ لوگ جہاد فی سبیل اللہ کرتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ اُمّ حرامؓ نے عرض کیا کہ آپؐ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان لوگوں میں شامل کردے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ تو پہلے لشکر میں شامل ہے اور بعد والوں میں شامل نہیں ہے۔

سیدنا انسؓ بیان کرتے ہیں کہ اُمّ حرامؓ نے سیدنا عبادہ بن صامتؓ کے ساتھ نکاح کیا پس وہ سیدنا معاویہؓ بن ابو سفیانؓ کے زمانے میں (جبکہ وہ سیدنا عثمانؓ کے دورِ خلافت میں شام کے گورنر تھے۔ اپنے خاوند سیدنا عبادۃ بن الصامتؓ کے ساتھ) اور فاختہ بنت ِقرظہ کے ساتھ (جو سیدنا معاویہ کی بیوی تھیں) سمندر میں سوار ہوئیں اور جب وہ اس جہاد سے واپس آرہی تھی تو جانور پر سوار ہوئیں تو جانور نے ان کو گرا دیا (اور ان کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی) اور وہ وفات پاکر شہادت کے مقام پر فائز ہوگئیں۔''

[صحیح البخاري: کتاب الجهاد: باب۱) الدعاء بالجهاد للرجال والنساء، باب۲) فضل من یصرع في سبیل اﷲ فمات فھو منھم، باب۳) غزوة المرأة في البحر، باب۴) رکوب البر؛ وکتاب التعبیر، باب۵) رؤیا النھار وکتاب الاستیذان، باب۶) من زار قومًا وصحیح مسلم: کتاب الإمارة: باب فضل الغزو في البحر وسنن أبو داود: کتاب الجهاد، وسنن الترمذي وغیرہ]

٭صحیح بخاری کی دوسری روایت میں سیدنا عمیر بن اسود عنسیؒ بیان کرتے ہیں کہ

''وہ سیدنا عبادہ بن صامتؓ کے پاس اس وقت گئے جب وہ حمص کی بندرگاہ میں ایک مکان میں اُترے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ اُن کی بیوی اُمّ حرامؓ تھیں۔ عمیرؓ نے کہا کہ ہم سے اُمّ حرامؓ نے حدیث بیان کی کہ اُنہوں نے نبی ﷺسے سنا، آپ ؐ فرماتے تھے: «أوّل جیش من اُمتي یغزون البحر قد أوجبوا»

''میری اُمت کا وہ پہلا لشکر جو سمندر میں جہاد کرے گا، ان کے لیے (جنت) واجب ہوگئی۔''

اُمّ حرامؓ نے عرض کیا:اے اللہ کے رسولﷺ میں بھی اس لشکر میں شریک ہوں گی۔ آپؐ نے فرمایا: تو اس میں ہوگی۔ پھر آپؐ نے فرمایا: «أوّل جیش من اُمتي یغزون مدينة قیصر مغفور لھم» ''میری اُمت کا وہ پہلا لشکر کہ جو قیصر کے شہر (قسطنطنیہ) پر حملہ کرے گا، اس کے لیے پروانۂ مغفرت ہے۔''

میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ کیا میں بھی اس میں شامل ہوں گی۔ آپؐ نے فرمایا:نہیں۔'' [صحیح بخاری، کتاب الجہاد: باب ما قیل فی قتال الروم،ح:۲۹۲۴]

اس حدیث کو امام بخاریؒ کے علاوہ امام حسن بن سفیان نے اپنی مسند میں، امام ابونعیم اصفہانی نے حلیۃ الأولیاء میں اور امام طبرانی نے مسند الشامیـین میں روایت کیا ہے۔ [ملاحظہ فرمائیں : سلسلۃ الأحادیث الصحيحة: ج۱؍ ص۷۶، رقم ۲۶۸]

اس حدیث میں دو لشکروں کے متعلق نبیﷺ نے خبر دی ہے کہ جو دو مختلف مقامات پر حملہ آور ہوں گے۔ پہلا لشکر سمندری جہاد کرے گا اور ان کے لیے جنت کے واجب ہونے کی بشارت دی گئی ہے اور صحیح بخاری کی روایت کے مطابق مسلمانوں نے سب سے پہلے سیدنا معاویہؓ کی سرکردگی میں بحری جہاد کیا اور اسی جہادمیں اُمّ حرامؓ شہید ہوئیں۔

حافظ ابن کثیرؒ ۲۸ھ کے واقعات کے ضمن میں قبرص کی فتح کی ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''قبرص کو سیدنا معاویہؓ بن ابی سفیان نے فتح کیا۔ وہ مسلمانوں کی بہت بڑی فوج کے ساتھ قبرص کی طرف گئے اور اُن کے ساتھ عبادہ بن صامتؓ اور ان کی بیوی اُمّ حرامؓ بنت ِملحانؓ بھی تھیں۔''

پھر حدیث ِاُمّ حرامؓ بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

''سیدہ اُمّ حرامؓ اس غزوہ میں شامل تھیں اور وہیں ان کی وفات ہوئی ۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ سیدنا معاویہ سمندر میں کشتیوں پر سوار ہوکر جزیرہ میں گئے جو قبرص کے نام سے مشہور ہے اور ان کے ساتھ مسلمانوں کی ایک عظیم فوج تھی۔ اُنہوں نے اس حملہ کے متعلق سیدنا عثمانؓ سے اجازت چاہی تھی تو عثمانؓ نے ان کو اجازت دے دی۔ سیدنا معاویہؓ نے اس حملہ کے متعلق سیدنا عمرؓ سے بھی اجازت چاہی تھی لیکن انہوں نے اس عظیم مخلوق (جہازوں) پر مسلمانوں کو سوار کرانے سے انکار کردیا تھا کہ اگر وہ حرکت کرے تو سب کے سب ہلاک ہوجائیںگے۔ مگر جب سیدنا عثمانؓ کا زمانہ آیا تو معاویہؓ نے اس بارے میں اصرار کیا تو عثمانؓ نے ان کو اجازت دے دی۔'' [البداية والنھاية:ج۷؍ص۱۵۳]

حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے بھی اس حدیث پر اس طرح کی تفصیل ذکر فرمائی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں: فتح الباري: ج۱۱؍ ص۷۵،۷۶ نیز تہذیب التہذیب: ج۱۲؍ ص۴۶۲

اس وضاحت سے معلوم ہواکہ جس سمندری غزوہ کی خبر نبی1 نے دی تھی، وہ بعد میں غزوئہ قبرص کی شکل میں سامنے آیا اور سیدنا عثمانؓ کے دورِ خلافت میں سیدنا معاویہؓ کے ہاتھوں یہ جزیرہ فتح ہوا اور اسی غزوہ کے دوران اُمّ حرامؓ شہید ہوئیں اور اس غزوہ کے سپہ سالار کے متعلق صحیح بخاری میں وضاحت ہے کہ وہ سیدنا معاویہؓ تھے۔

أوّل جیش کے متعلق علماے کرام کے اَقوال

اس حدیث میں جس دوسرے لشکر کے متعلق خوشخبری دی گئی ہے تو یہ لشکر وہ تھا کہ جس نے قسطنطنیہ پر پہلا حملہ کیا تھا۔ بعض مؤرخین نے قسطنطنیہ پر حملہ کرنے والوں میں یزید بن معاویہؓ کا بھی ذکر کیا اور بعض نے اُنہیں پہلے لشکر میں شامل سمجھا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اس آخری لشکرمیں شامل ہوا تھا کہ جس میں سیدنا ابوایوب انصاریؓ نے وفات پائی تھی جس کو وضاحت صحیح بخاری کے حوالہ سے گزرچکی ہے اور جس کی مزید وضاحت آگے آئے گی۔یزید کے قسطنطنیہ والے لشکر میں شرکت کے متعلق علماے کرام کی تصریحات ملاحظہ فرمائیں۔

٭حافظ ابن حجر عسقلانیؒ لکھتے ہیں کہ

''مہلبؒ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں معاویہؓ کی منقبت بیان ہوئی ہے، اس لیے کہ اُنہوں نے سب سے پہلے سمندری جہاد کیا اور ان کے بیٹے یزید کی بھی منقبت بیان ہوئی ہے کیونکہ اُس نے سب سے پہلے قیصر کے شہر میں جہاد کیا۔'' [فتح الباری:۶؍۱۰۲]

مہلب بن احمد بن ابی صفرۃ اندلسی کی وفات ۴۳۵ھ میں ہوئی۔ [سیراعلام النبلاء:۱۳؍۳۷۷] اور مذکورہ غزوہ ۵۲ھ میں ہوا تھا۔ یاد رہے کہ مہلب نے اپنے دعویٰ پر کوئی دلیل بیان نہیں کی ۔

٭حافظ ابن کثیر بیان کرتے ہیں:

''اور یزید پہلاشخص ہے جس نے یعقوب بن سفیان کے قول کے مطابق ۴۹ھ میں قسطنطنیہ کی جنگ کی اور خلیفہ بن خیاط نے ۵۰ ھ بیان کیاہے۔ پھراس نے سرزمین روم سے اس غزوہ سے واپس آنے کے بعداس سال لوگوں کو حج کروایااور حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشادفرمایا: ''اُمت کا وہ پہلا لشکر جو قیصر کے شہر پر حملہ کرے گا، وہ مغفور ہے۔'' اور وہ دوسری فوج تھی جسے رسول اللہﷺنے اُمّ حرامؓ کے پاس اپنے خواب میں دیکھا تھا اور اُمّ حرامؓ نے کہا: اللہ سے دُعا کریں کہ وہ مجھے ان میں شامل کردے۔آپؐ نے فرمایا تو اوّلین میں سے ہے یعنی سیدنا معاویہؓ کی فوج میں شامل ہوگی جب وہ قبرص میں جنگ کریں گے پس سیدنا معاویہؓ نے سیدنا عثمانؓ کے دورِ حکومت میں ۲۷ھ میں قبرص کو فتح کیااور اُمّ حرامؓ بھی ان کے ساتھ تھیں۔ اُنہوں نے وہیں قبرص میں وفات پائی پھر دوسری فوج کا امیر ان کا بیٹا یزید بن معاویہ تھا اور اُمّ حرامؓ نے یزید کی اس فوج کونہیں پایا اور یہ دلائل نبوت میں سے ایک انتہائی بڑی دلیل ہے۔''

[البداية والنھاية: ج۸؍ ص۲۲۹]

٭حافظ ابن حجرعسقلانی ؒ فرماتے ہیں:

''اور اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی نکلتا ہے کہ جہادہرامیرکے ماتحت جائز ہے (چاہے وہ نیک ہو یا بد)۔ اس حدیث میں قیصر کے شہر میں جہاد کرنے والوں کی تعریف کی گئی ہے اور اس جہاد کا امیریزیدبن معاویہؓ تھا اور یزید تو یزیدہی تھا۔ [فتح الباری: ج۱۱؍ ص۷۷]

٭علامہ قسطلانی ؒ فرماتے ہیں:

''قیصر کے شہر (قسطنطنیہ) پر سب سے پہلے یزید بن معاویہؓ نے جہادکیا اور ان کے ساتھ سادات صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت بھی شریک تھی جس میںعبداللہ بن عمرؓ، عبداللہ بن عباسؓ ، عبداللہ بن زبیرؓ اور ابو ایوب انصاریؓ تھے اور ابوایوب انصاریؓ نے اسی غزوہ میں ۵۲ھ میں وفات پائی'' [حاشیہ صحیح بخاری: ج۱؍ ص۴۱۰]

٭ علامہ بدرالدین عینیؒ رقم طراز ہیں :

''یزید بن معاویہ نے بلادِروم میں جہا دکیا یہاں تک کہ وہ قسطنطنیہ تک جا پہنچے۔'' [عمدۃالقاری: ج۱۴؍ ص۱۹۹]

٭ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:

''قسطنطنیہ پر پہلا حملہ کرنے والے لشکر کے سپہ سالار یزید تھے اور چونکہ 'لشکر' معین تعداد کو کہا جاتا ہے، اس لیے اس فوج کا ہر ہر فرد بشارتِ مغفرت میں شریک ہے نہ کہ اس کا کوئی فرد تو لعنت میں شریک ہو اور کوئی اس میں سے ظالموں میں شریک ہو۔ اور کہا جاتاہے کہ یزید اسی حدیث کی بنا پر قسطنطنیہ کی جنگ میں شریک ہوا تھا۔ '' [منہاج السنۃ:۲؍۲۵۲]

اس بات میں شک و شبہ نہیں کہ یزید بن معاویہ قسطنطنیہ کے جہاد میں شریک ہوا تھا اور اس بات کی گواہی صحابی رسولﷺ سیدنا محمود بن الربیعؓ نے دی ہے۔ چنانچہ سیدنا محمود بن الربیع ؓ بیان کرتے ہیں کہ میںنے ایک حدیث ایک ایسی قوم کے سامنے بیان کی کہ جس میں سیدنا ابوایوب انصاریؓ رسول اللہﷺکے صحابی شامل تھے اور یزید بن معاویہ ان پر اَمیر تھے، روم کی سرزمین میں۔'' [صحیح بخاری: ج۱؍ ص۱۵۸ تاریخ الصغیر: ص۷۴]

سیدنا محمود بن الربیعؓ کے بیان سے یہ بھی واضح ہوا کہ یزید بن معاویہ جس لشکر پر امیر تھے اس میں سیدنا ابو اَیوب انصاریؓ بھی شامل تھے اور اسی لشکر میں سیدنا ابوایوب انصاریؓنے وفات پائی اور اُنہوں نے۵۰ھ یا ۵۲ھ میںوفات پائی ہے۔

اس سے واضح طور پر یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یزید بن معاویہ جس لشکرمیں شامل تھا، وہ معاویہ کے دورِ حکومت میں قسطنطنیہ پر حملہ کرنے والا سب سے آخری لشکر تھا۔

٭ سیدنا محمد بن سیرینؒ فرماتے ہیں:

''سیدنا ابوایوب انصاریؓ نے یزید بن معاویہؓ کے زمانے میں جہاد کیاپھر وہ بیمارہوگئے پس اُنہوں نے فرمایا: مجھے روم کی سرزمین میں جہاں تک ہوسکے لے جاناپھر مجھے دفن کردینا۔'' [التاریخ الصغیر لامام بخاری: ص۶۵، طبع سانگلہ ہل]

٭ سیدنا ابوطبیان ؒ بیان کرتے ہیں:

''سیدنا ابوایوب ؓ نے یزیدبن معاویہ کے ساتھ جہاد کیا (اسی دوران وہ بیمارہوگئے) پس اُنہوں نے فرمایا: جب میں مرجاؤں تو مجھے دشمن کی سرزمین میں لے جانا اور جب تمہارا دشمن سے سامنا ہو تو مجھے اپنے قدموں کے نیچے دفن کردینا۔'' [مسنداحمد: ج۵؍ ص۴۲۳،۴۱۹ قلت: ورجالہ ثقات، الطبرانی فی الکبیر ۳۸۴۷،۴۰۴۱،۴۰۴۲، مصنف ابی شیبہ:۵؍۳۲۰، طبقات ابن سعد:۳؍۴۸۴،۴۸۵]

اس روایت میں یہ واقعہ بیان کرنے والے سیدنا ابوطبیان حصین بن جندب جہنی کوفیؒ ہیں اور طبقات ابن سعد [ج۳ص۳۶۹ طبع دارالکتب العلمیہ بیروت] میں عن ابی طبیان عن اشیاخہ عن ابی ایوب الانصاری کی سند سے یہ واقعہ موجود ہے اور ان کے اشیاخ عبداللہ بن نمیر اور یعلی بن عبید طنافسی ہیں جو ثقہ ہیں۔

٭ سیدنا محمد بن سیرینؒ بیان کرتے ہیں کہ

''ابوایوب انصاریؒ غزوئہ بدر میں شریک تھے پھر (رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد) مسلمانوں کے جہاد میں اگر کسی ایک میں وہ پیچھے رہ جاتے تو دوسرے میں ضرور شریک ہوتے، سوائے ایک سال کے جب لشکر پرایک نوجوان سپہ سالار بنادیاگیا تو وہ بیٹھ رہے۔ اس سال کے بعد وہ افسوس کرتے تھے اور کہتے تھے کہ مجھ پر گناہ نہ تھا جو مجھ پر عامل بنایاگیاتھا، مجھ پر گناہ نہ تھا جو مجھ پرعامل بنایا گیاتھا۔ مجھے پر گناہ نہ تھا جو مجھ پرعامل بنایا گیاتھا ( یعنی ان کو اس کاانتہائی افسوس ہوا)۔ پھر وہ (قسطنطنیہ کی جنگ کے دوران) بیمار ہوگئے۔لشکر پر(اس وقت) یزیدبن معاویہ امیر تھا۔ وہ ان کے پاس ان کی عیادت کو آیا اور پوچھا کہ کوئی حاجت ہو تو بیان کیجئے۔ اُنہوں نے فرمایا: ہاں میری حاجت ہے کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے اونٹ پر سوار کرکے جہاں تک ممکن ہوسکے، دشمن کی زمین میں لے جانا اور جب (آگے مزید) گنجائش نہ پانا تو وہیں دفن کردینا اور واپس آجانا۔ جب ان کی وفات ہوگئی تو اُنہیں سوار کیاگیا اور جہاں تک ممکن ہوسکا، اُنہیں دشمن کی زمین میں لے جایاگیا پھر اُنہیں وہاں دفن کیاگیا اور (لوگ) واپس آگئے اور سیدنا ابوایوب انصاریؓ کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایاہے: ﴿انفروا خفافا وثقالاً﴾ یعنی ''اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکلو، چاہے تم ہلکے ہو یا بھاری۔'' میں اپنے آپ کو سبک بارپاتا ہوں یاگراں بار۔''

[الطبقات الکبرٰی از امام محمد بن سعد: ج۳؍ ص۳۶۹، مستدرک حاکم: ج۳؍ ص۴۵۹]

اس واقعہ کو حافظ ابن کثیرؒ نے بھی مسنداحمد بن حنبلؒ کے حوالہ سے نقل کیاہے۔ دیکھئے البداية والنھاية: ج۸؍ ص۵۸،۵۹

ان روایات کاخلاصہ یہ ہے کہ یزیدبن معاویہ جس لشکر کے سالار تھے اور جس نے ان کی امارت میں قسطنطنیہ پر حملہ کیا تھا، اس میں سیدنا ابوایوب انصاریؓ شریک تھے اور اسی لشکر میں اُنہوں نے وفات پائی تھی اور اہل سیر کا اس پر اتفاق ہے کہ سیدنا ابو اَیوب انصاریؓ کی وفات۵۰ھ یا ۵۲ھ میں ہوئی ہے اور اہل سیر نے ذکر کیا ہے کہ یزیدبن معاویہ کا یہ حملہ ۴۹ھ میں شروع ہوا تھا۔

٭ چنانچہ حافظ ابن کثیر ۴۹ھ کا عنوان قائم کرکے لکھتے ہیں:

''اسی سال یزید بن معاویہؓ نے بلادِ روم کے ساتھ جنگ کی حتیٰ کہ سادات صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ جس میں سیدنا ابن عمر، سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن زبیر اور سیدنا ابوایوب انصاری شامل تھے، قسطنطنیہ پہنچ گیا۔'' آگے لکھتے ہیں: اور اسی میں سیدنا ابوایوب خالد بن زید انصاریؓ اور بعض کا قول ہے کہ ان کی وفات اس غزوہ میں (اس سال) نہیں ہوئی بلکہ اس کے بعد ۵۱ھ یا۵۲ھ یا ۵۳ھ کے غزوات میں ہوئی جیسا کہ ابھی بیان ہوگا۔ [البداية والنہاية: ج۸؍ ص۳۲]

٭ چودھویں صدی میں ناصبیوں کے امام جناب محمود احمد عباسی نے بھی لکھا ہے :

''چنانچہ ۴۹ھ میں حضرت معاویہؓ نے جہادِ قسطنطنیہ کے لیے بری اور بحری حملوں کا انتظام کیا۔ بری فوج میں شامی عرب تھے خصوصاً بنی کلیب جو امیر یزید کا ننہالی قبیلہ تھا، ان کے علاوہ حجاز قریش غازیوں کا بھی دستہ تھا جس میں صحابہ کرام کی ایک جماعت شامل تھی۔ اس فوج کا امیر اور سپہ سالار امیرالمومنین کے لائق فرزند امیر یزید تھے۔ یہی وہ پہلا اسلامی جیش ہے جس نے قسطنطنیہ پرجہادکیا۔'' [خلافت ِ معاویہ و یزید: ص۷۳]

٭ اور اسی قول کو محمود احمدعباسی صاحب کے لائق شاگرد جناب محمد عظیم الدین صدیقی نے اپنی کتاب 'حیاتِ سیدنا یزید' میں اختیار کیا ہے۔ [ص۶۷]

٭ امام خلیفہ بن خیاط اپنی تاریخ میں ۵۰ھ کے ضمن میں لکھتے ہیں:

''اور اسی سن میں یزید بن معاویہؓ نے ارضِ روم میں جہاد کیا اور ان کے ساتھ سیدنا ابوایوب انصاریؓ بھی تھے۔'' [تاریخ خلیفہ بن خیاط: ص۲۱۱]

٭حافظ ابن کثیرؒ نے ۵۲ھ کا عنوان قائم کرکے اس کے ضمن میں سیدنا ابوایوب انصاریؓ کی وفات کا ذکر کیا ہے اور ۵۲ھ کے قول کو سب سے زیادہ قوی قرار دیاہے۔'' [البدایۃ والنہایۃ: ج۸؍ ص۵۹]

٭حافظ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں:

''اور یہ غزوئہ مذکور ۵۲ھ میں ہوا اور اسی غزوہ میں اَبو اَیوب انصاریؓ کی وفات ہوئی اور اُنہوں نے وصیت فرمائی کہ اُنہیں قسطنطنیہ کے دروازہ کے قریب دفن کیا جائے۔'' [فتح الباری: ۶؍۱۰۳]

علماے کرام کے اَقوال میں تضاد و اِضطراب

حافظ ابن حجر عسقلانیؒ ، حافظ ابن کثیرؒ اور حافظ ابن تیمیہؒ وغیرہ نے ایک طرف یزید بن معاویہ کے لشکر کو اوّل جیش کا مصداق قرار دیا ہے جیسا کہ پہلے گزرا ہے لیکن پھر یہی علما یہ بات نقل کرتے ہیں کہ یزیدبن معاویہ کا یہ حملہ ۴۹ھ سے شروع ہوا تھا اور اس کی سب سے بڑی دلیل صحیح بخاری کی وہ روایت ہے کہ جس میں سیدنا محمود بن الربیع کا یہ بیان موجود ہے کہ یزید بن معاویہ اس لشکر کے سالار تھے جس میں ابوایوب انصاری بھی شریک تھے اور اس میں اُنہوں نے وفات پائی تھی۔ [صحیح بخاری:۱۱۸۶] اور ابوایوب انصاریؓ کی وفات ۵۲ھ میں ہوئی حالانکہ دیگر تاریخی حقائق سے ثابت ہوتا ہے کہ اس غزوہ سے پہلے بھی قسطنطنیہ پر کئی حملے ہوچکے تھے جن کا ذکر احادیث اور تاریخ کی کتب میں موجود ہے اور ان کو آگے ذکر کیا جارہا ہے۔

اس وضاحت سے ثابت ہوا کہ یہ حملہ نہ تو پہلا حملہ ہے اور نہ ہی ان کا لشکر 'اوّل جیش' کا مصداق ہے۔ جن حضرات نے یزید بن معاویہؓ کے لشکر کو اوّل جیش کا مصداق قراردیا ہے اُنہیں اس سلسلہ میں غلطی لگی ہے اور انہوں نے اس بات کی کوئی دلیل ذکر نہیں کی اور نہ سنداً کوئی روایت بیان کی ہے بلکہ صرف یہی بات ذکر کرکے کہ یزید کے لشکر نے قسطنطنیہ پر لشکرکشی کی تھی اور بس... چنانچہ اس بات کی اشد ضرورت محسوس کی گئی کہ یہ معلوم کیا جائے کہ قسطنطنیہ پر کتنے حملے کئے گئے اور ان حملوں میں سب سے پہلا حملہ کس نے کیا تھا۔

1. قسطنطنیہ پر پہلا حملہ سیدنا معاویہؓ نے کیا تھا

حافظ ابن کثیرؒ نے اگرچہ یزیدبن معاویہؓ کے لشکر کو 'اوّل جیش' کا مصداق قرار دیا ہے لیکن وہ خود ہی دوسرے مقام پر لکھتے ہیں :

''اور ۳۲ھ میں سیدنا معاویہؓ نے بلادِ روم پر چڑھائی کی۔ یہاں تک کہ وہ خلیج قسطنطنیہ تک پہنچ گئے۔'' [البداية والنہاية:ج۷؍ص۱۵۹]

حافظ موصوف ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:

''کہتے ہیں کہ خلیج قسطنطنیہ کی جنگ سیدنا معاویہ کی امارت میں ۳۲ھ میں ہوئی اور وہ خود اس سال لوگوں پرامیر تھے۔'' [ایضاً: ج۸؍ ص۱۲۶]

حافظ زبیر علی زئی لکھتے ہیں:

''یہ حملہ ۳۲ھ بمطابق ۶۵۲،۶۵۳ھ میں ہوا تھا۔ [دیکھئے تاریخ طبری: ج۴؍ ص۳۰۴، العبر از ذہبی:ج۱؍ ص۲۴، المنظم از ابن جوزی:ج۵؍ ص۱۹ طبع۱۹۹۲ء، البداية والنھاية:ج۷؍ ص۱۵۹، ج۸؍ ص۱۲۶، تاریخ الاسلام از ذہبی وغیرہ]

اس وقت یزید کی عمر تقریباً چھ سال تھی۔ [دیکھئے تقریب التہذیب وغیرہ] صرف اس ایک دلیل سے ہی روزِ روشن کی طرح ثابت ہوتا ہے کہ 'اوّل جیش' والی حدیث ِمبارکہ کو یزید پر فٹ کرنا صحیح نہیں ہے۔ '' [ماہنامہ 'الحدیث' حضرو: شمارہ ۶؍ ص۹؛ مقالات ج۱؍ ص۳۱۱]

موصوف دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:

''یہ حملہ قسطنطنیہ پر مضیق القسطنطينية کی طرف سے ہوا تھا، یہ مقام اس شہر سے قریب ہے۔''

حافظ ذہبی لکھتے ہیں:

''فیھا کانت وقعة المضیق بالقرب من قسطنطينة وأمیرھا معاوية'' [تاریخ اسلام از ذہبی، عہد خلفاے راشدین: ص۳۷۱]

''اس سن میں مضیق کا واقعہ ہوا جو کہ قسطنطنیہ کے قریب ہے اور اس کے امیر معاویہؓ تھے۔ لہٰذا یہ حملہ بھی قسطنطنیہ پر ہی تھا۔ معاویہؓ نے یہ حملہ عثمان بن عفان کے دورِ خلافت میں کیا تھا۔''

2. سیدنا معاویہؓ کا قسطنطنیہ پر دوسرا حملہ

قسطنطنیہ پر دوسرا حملہ سیدنا معاویہؓ نے اپنے دورِ خلافت میں کیا تھا جس کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں:

امام بخاری روایت کرتے ہیں:

«حدثنا عبداﷲ بن صالح حدثنی معاوية عن عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر عن أبیه عن أبي ثعلبة الخشني قال سمعته في خلافة معاوية بالقسطنطينية وکان معاوية غزا الناس بالقسطنطينية إن اﷲ لا یعجز ھذہ الأمة من نصف یوم»

[التاریخ الصغیر: ص۵۶ طبع سانگلہ ہل پاکستان؛ طبع دوم ۱؍۱۲۳، التاریخ الکبیر: ج۱؍ص۲۴۸ ق۲،ج۱]

''سیدنا ابوثعلبہ خشنی بیان کرتے ہیں کہ میں نے معاویہ ؓ کو ان کے دورِ خلافت میں قسطنطنیہ میں یہ فرماتے ہوئے سنا جبکہ وہ لوگوں کو قسطنطنیہ پر چڑھائی کے لیے روانہ کررہے تھے کہ ''بے شک اللہ تعالیٰ اس امت کو آدھے دن کے بقدر بھی عاجزنہیں کرے گا۔''

اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے کیونکہ اسے روایت کرنے والے سیدنا ابوثعلبہ خشنی مشہور صحابی رسول ﷺ ہیں اور ان سے ان کے شاگرد سیدنا جبیر بن نفیر ثقہ اور جلیل القدر تابعی ہیں اور صحاحِ ستہ میں سے امام بخاریؒ کے علاوہ سب نے ان سے حدیث روایت کی ہے اور امام بخاریؒ نے بھی الادب المفرد، التاریخ الصغیر اور التاریخ الکبیر میں ان سے حدیث روایت کی ہے۔ جبیر سے ان کے بیٹے عبدالرحمن بن جبیر اس روایت کو بیان کرتے ہیں اور وہ ثقہ ہیں اور ان محدثین نے ان سے حدیث روایت کی ہے کہ جنہوں نے ان کے والد ِمحترم سے حدیث لی ہے۔ عبدالرحمن کے شاگرد معاویہ بن صالح ہیں جو صدوق ہیں اور اُنہیں اَوہام بھی ہوئے ہیں۔ امام بخاری کے علاوہ دیگر صحاحِ ستہ والوں نے ان کی حدیث روایت کی ہے۔ گویا یہ تینوں راویان صحیح مسلم کے راوی ہیں۔ معاویہ سے اس روایت کو نقل کرنے والے عبداللہ بن صالح ہیں جن کے متعلق حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:

''وہ صدوق ہیں،بہت غلطیاں کرنے والے ہیں لیکن جب وہ کتاب سے روایت کرتے ہیں تو ان کی روایت مضبوط ہوتی ہے اور ان میں کچھ فضیلت پائی جاتی ہے۔ (تقریب) لیکن عبداللہ بن صالح اس روایت کو بیان کرنے میں منفرد نہیں ہیں بلکہ مسنداحمد میں لیث بن سعد نے ان کی متابعت کررکھی ہے اور لیث ثقہ، تبت، فقیہ اور مشہور امام ہیں اور صحاحِ ستہ کے راوی ہیں لہٰذا یہ روایت صحیح ہے۔''

مسند احمد کی متابعت والی روایت کے الفاظ یہ ہیں :

«عن عبد الرحمٰن بن جبیر عن أبیه قال سمعت أبا ثعلبة الخشني صاحب رسول اﷲ ﷺ أنه سمعه یقول وھو بالفسطاط في خلافة معاوية وکان معاوية أغزٰی الناس القسطنطينية فقال: واﷲ لا تعجز ھذہ الأمة من نصف یوم إذا رأیت الشام مائدة رجل واحد وأھل بیته فعند ذلك فَتْحُ القسطنطينية »

''سیدنا جبیر بن نفیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کے صحابی سیدنا ابوثعلبہ خشنی کو اس وقت فرماتے سنا جب کہ وہ خیمہ میں تھے اور یہ معاویہ ؓ کی خلافت کا زمانہ تھا اور سیدنا معاویہ اس وقت لوگوں کو قسطنطنیہ پر لشکر کشی کے لیے روانہ فرما رہے تھے پس اُنہوں نے فرمایا اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ اس اُمت کو آدھے دن کے بقدر بھی عاجز نہیں کرے گا اور جب توشام میں ایک شخص اور اس کے گھر والوں کے لیے ایک دستر خوان دیکھے تو اس وقت قسطنطنیہ فتح ہوگا۔'' [مسنداحمد:ج۴؍ ص۱۹۳، وقال شیخ شعیب ارناوط: اسنادہ علیٰ شرط مسلم؛ مسندالامام احمدبن حنبل :۲۹؍۲۶۹،ح۱۷۷۳۴، وقال ہیثمی: رواہ احمد و رجالہ رجال الصحیح؛مجمع الزوائد:۶؍۲۱۹]

اس حدیث میں یہ الفاظ «واﷲ لاتعجز ھذہ الأمة من نصف یوم» مرفوعاً بھی ثابت ہیں۔ [دیکھئے سنن ابوداؤد:۴۳۴۹، مستدرک حاکم:۴؍۴۲۴ علیٰ شرط الشیخین ووافقہ الذہبی والطبرانی فی الکبیر: ۲۲؍۵۷۲، ۵۷۶ وفی الشامیین:۲۰۲۹]

سیدنا معاویہؓ نے رومیوں کی سرزمین پر سولہ حملے کئے تھے۔ [البدایہ:۸؍۱۳۳] اور ان میں سے جس جس حملہ کی بھی کچھ تفصیلات ملی ہیں، اسے بیان کیا جارہا ہے نیز اس سلسلہ میں مزید کوشش کی جائے اور مطالعہ کیا جائے تو بہت سے حقائق سامنے آسکتے ہیں۔

3. سیدنا معاویہ کا قسطنطنیہ پر تیسرا حملہ

سیدنا معاویہؓ کے قسطنطنیہ پر ایک اور حملہ کی نشاندہی سیدنا عبداللہ بن عباس کی اس روایت سے ہوتی ہے۔ عبداللہ بن عباس سیدنا ابوایوب انصاری کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

«إن أبا أیوب خالد بن زید الذي کان رسول اﷲ ﷺ نزل في دارہ، غزا أرض الروم فمرَّ علی معاوية فجفاہ معاوية ثم رجع من غزوته فجفاہ ولم یرفع به رأسًا قال أبو أیوب: إن رسول اﷲ ﷺ أنبأنا: إنا سنرٰی بعدہ إثرة۔قال معاوية: فما أمرَکم؟ فقال: أمرنا أن نصبر۔قال: فاصبروا» [مستدرک حاکم:۳؍۴۶۲، وقال الحاکم والذهبي: صحیح؛ المعجم الکبیر للطبرانی:۴؍۱۲۵، ج:۳۸۷۶]

''بے شک ابوایوب انصاری خالد بن زید وہ ہیں کہ جن کے ہاں ان کے گھر پر رسول اللہﷺ اُترے تھے(اور اُنہوں نے نبیﷺکی کئی دن تک میزبانی فرمائی تھی)۔ اُنہوں نے ارضِ روم میں جنگ کی۔ پس معاویہ ان پر گزرے اور معاویہ نے ان سے بے رختی برتی پھر وہ اس غزوہ سے واپس آگئے تو پھر بھی معاویہ نے ان سے بے رخی برتی اور ان کی طرف سر اُٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ سیدنا ابوایوب نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے ہم سے فرمایا تھا کہ ہم آپؐ کے بعد حق تلفی دیکھیں گے یعنی ہم(انصار) کو نظرانداز کیا جائے گا۔ معاویہؓ نے کہا کہ ایسی صورت میں تمہیں کیا حکم دیا گیاہے؟ کہا کہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم صبر کریں تو اُنہوں نے کہا کہ بس پھر صبر کرو ۔''

اس روایت سے واضح ہورہا ہے کہ سیدنا ابوایوب انصاری، سیدنا معاویہ کے ساتھ بھی قسطنطنیہ کے جہاد میں شریک ہوئے تھے اور پھر اس جہاد میں حصہ لے کر وہ معاویہ کے ساتھ واپس بھی آگئے۔ سیدنا ابوثعلبہ خشنی اور عبداللہ بن عباس دونوں کی روایات کو الگ الگ واقعات مانا جائے تو خلیج قسطنطنیہ کوملا کر یہ تین حملے بنتے ہیں جو معاویہ کے زیر امارت قسطنطنیہ پر کئے گئے تھے کیونکہ بقول حافظ ابن کثیرؒ : معاویہؓ نے ارضِ روم پر سولہ مرتبہ لشکرکشی کی تھی جیسا کہ پیچھے باحوالہ گزر چکا ہے۔

4. قسطنطنیہ پر چوتھا حملہ سیدنا عبدالرحمن بن خالد بن الولید کے زیر امارت ہوا

سیدنا عبدالرحمن بن خالد بن ولید اپنے باپ خالدؓ بن ولید کی طرح انتہائی شجاع تھے۔ اُنہیں بعض محدثین نے صغار صحابہ میںبھی شمار کیا ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی ؒنے الإصابة في تمییز الصحابة میں ان کا مفصل ترجمہ لکھا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی تصریح کردی ہے کہ

"أخرج ابن عساکرمن طرق کثیرة أنه کان یؤمر علی غزو الروم أیام معاوية"

''حافظ ابن عساکرنے بہت سی سندوں سے نقل کیا ہے کہ جناب معاویہؓ کے عہد ِحکومت میں ان کو رومیوں سے جو جنگیں لڑی جاتی تھیں، ان میں امیر بنایا جاتاتھا۔'' [الاصابہ:۳؍۶۸]

امام ابن جریر طبریؒ نے اپنی تاریخ میں ۴۴ھ اور ۴۵ ھ کے واقعات کے ضمن میں اور حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنھایہ میں۴۴ھ اور ۴۶ھ کے واقعات کے ذیل میں بلادِ روم میں ان کی زیر امارت رومیوں سے مسلمانوں کے سرمائی جہاد کا ذکر کیاہے۔ افسوس کہ ۴۶ھ میں بلادِ روم ہی میں ان کو حمص میں زہر دے کر شہید کردیاگیا تھا۔ عبدالرحمن بن خالدؓ اپنے غزوات و جہاد کی وجہ سے شامی مسلمانوں میں بڑے محبوب و بااثر تھے۔ [البدایہ والنہایہ:۸؍۳۱]

اس سلسلہ کی بعض احادیث بھی ملاحظہ فرمائیں :

«عن أسلم أبي عمران قال: غزونا من المدينة نُرید القسطنطينية وعلی الجماعة عبدالرحمٰن بن خالد بن الولید والروم مُلصقو ظُهُورهم بحائط المدينة فحمل رجل علی العدوّ فقال الناس: مه مه لا إله إلا اﷲ یلقي بیدیه إلی التهلكة۔فقال أبو أیوب: إنما نزلت هذہ الآية فینا معشر الأنصار لما نصر اﷲ نبیَّه وأظهر الإسلام قلنا هلمَّ نقیم في أموالنا ونُصْلِحُها فأنزل اﷲ ﴿وَأَنفِقوا فى سَبيلِ اللَّهِ وَلا تُلقوا بِأَيديكُم إِلَى التَّهلُكَةِ﴾ فالإلقاء بالأیدي إلی التهلكة أن نقیم في أموالنا ونصلحہا وندع الجهاد۔ قال أبو عمران: فلم یزل أبو أیوب یجاهد في سبیل اﷲ حتی دفن بالقسطنطينية» [سنن أبو داود: کتاب الجهاد: باب في قوله عزوجل ولا تلقوا بأیدیکم ]

''سیدنا اسلم ابو عمران کا بیان ہے کہ ہم مدینہ سے جہاد کے لیے قسطنطنیہ کی طرف روانہ ہوئے اس وقت امیر جیش سیدنا عبدالرحمن بن خالدبن الولید تھے۔رومی فوج شہر پناہ سے پشت لگائے مسلمانوں سے آمادہ پیکار تھی۔ اسی اثنا میں (مسلمانوں کی صف میںسے نکل کر) ایک شخص نے دشمن (کی فوج) پرحملہ کردیا۔ لوگ کہتے رہے: ''رکو، رکو، لا الہ اِلا اللہ یہ شخص تو خود اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے۔'' یہ سن کر سیدنا اَبوایوب اَنصاری نے فرمایا کہ یہ آیت تو ہم انصاریوں کے بارے میں اتری ہے۔ (واقعہ یہ ہے) کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کی مدد فرمائی اور اسلام کو غلبہ نصیب فرمایا تو ہم نے کہا تھا کہ اب تو ہم کو مدینہ میں رہ کر اپنے اَموال کی خبرگیری اور ان کی اصلاح کی طرف توجہ دینا چاہئے۔ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت ِشریفہ نازل فرمائی: ﴿وَأَنفِقوا فى سَبيلِ اللَّهِ وَلا تُلقوا بِأَيديكُم إِلَى التَّهلُكَةِ...١٩٥ ﴾... سورة البقرة ''اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میںنہ ڈالو۔'' لہٰذا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا تو جہاد کو چھوڑ کر ہمارا اپنے اَموال کی خبرگیری اور اس کی اصلاح کے خیال سے اپنے گھروں میں بیٹھ رہنا تھا۔ سیدنا ابوعمران کہتے ہیں کہ سیدنا ابوایوب مسلسل اللہ کی راہ میں جہاد ہی کرتے رہے تاآنکہ وہ دفن بھی قسطنطنیہ میں ہوئے۔''

حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ لکھتے ہیں:

''سنن ابوداود والی روایت بالکل صحیح اور محفوظ ہے جس کی سند مع متن یہ ہے: ابن وھب عن حیوة بن شریح عن یزید بن أبي حبیب عن أسلم أبي عمران قال: غزونا من المدينة نرید القسطنطينية وعلی الجماعة عبد الرحمٰن بن خالد بن الولید... الخ''

''اسلم ابوعمران سنن ابی داؤد، ترمذی و نسائی کے راوی اور ثقہ تھے۔ [تقریب التہذیب: ص۱۳۵] یزید بن ابی حبیب کتب ِ ستہ کے راوی اور''ثقة فقیه وکان یرسل'' ہیں۔ [ایضاً ص۱۰۷۳] وکان یُرسل کوئی جرح نہیں ہے۔ حیوہ بن شریح صحیح بخاری کے راوی اور ثقہ تھے۔ [ایضاً ص۲۷۲ بہ تحقیق شیخ ابو اَشبال شاغف]

عبد اللہ بن وہب کتب ِستہ کے بنیادی راوی اور ثقہ حافظ عابد ہیں۔ [تقریب التہذیب:ص۵۵۶] صحیح بخاری میں ان کی تقریباً ایک سو تیس روایات موجود ہیں۔آپ اُصولِ حدیث کی ایک قسم الرواية بالإجازۃ کے قائل تھے جو کہ ایک مستقل فقہی موقف ہے اور راجح بھی یہی ہے کہ روایت بالا جازۃ جائز ہے۔ دیکھئے مقدمة ابن الصلاح وغیرہ

ابن سعد نے آپ پر تدلیس کا الزام لگایا ہے جو کہ (اس روایت میں) کئی لحاظ سے مردود ہے:

1. اس روایت میں ابن وہب نے سماع کی تصریح کررکھی ہے۔

2. ابن وہب کی سند کی متابعت بھی موجود ہے۔ حافظ ابن عساکرؒ نے کہا :

«أخبرنا أبو محمّد بن الأکفاني بقرأتي علیه قال: ثنا عبدالعزیز بن أحمد: أنبأ أبو محمد بن أبي نصر: أنا أبو القاسم بن أبي العقب: أنا أحمد بن إبراهیم القرشي ثنا ابن عائذ: ثنا الولید: ثنا عبد اﷲ بن لهيعة واللیث بن سعد عن یزید عن أبي عمران التجیبي قال: غزونا القسطنطينية وعلی أھل مصر عقبة بن عامر الجھني وعلی الجماعة عبدالرحمٰن بن خالد بن الولید» [تاریخ دمشق مصور: ج۹؍ ص۹۲۹]

اس سند میں لیث بن سعد کتب ِستہ کے مرکزی راوی اور ''ثقة ثبت فقیه إمام مشهور'' ہیں۔ [تقریب التہذیب: ص۸۱۷]

لیث بن سعد نے ابن وہب کے اُستاد حیوہ بن شریح کی 'متابعت ِتامہ' کررکھی ہے۔والحمدﷲ

3. حافظ ابن حجر کی تحقیق بھی یہ ہے کہ ابنِ وہب مدلس نہیں تھے۔ [دیکھئے النکت علیٰ ابن الصلاح: ج۲؍ ص۶۳۷]

نوٹ: راجح یہی ہے کہ عبداللہ بن وہبؒ ثقہ ہونے کے ساتھ مدلس بھی تھے۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ سنن ابی داؤد کی اس حدیث کی سند بالکل صحیح ہے۔ اسی وجہ سے امام حاکم اور ذہبی نے اسے بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے۔ اگر شرط سے مراد یہ لیا جائے کہ اس سند کے تمام راوی بخاری و مسلم کے ہیں تو ظاہر ہے کہ یہ بات وہم ہے کیونکہ اسلم صحیح بخاری یا مسلم کے راوی نہیں ہیں اور اگر یہ مراد لیا جائے کہ اس کے راوی بخاری و مسلم کے راویوں کی طرح ثقہ ہیں، سند متصل ہے اور شاذ یا معلول نہیں تو یہ بات بالکل صحیح ہے۔ مستدرک کے مطالعہ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ امام حاکم صحیح بخاری و مسلم کے راویوں یا ان جیسے ثقہ راویوں کی غیرمعلول روایت کو صحیح علیٰ شرط الشیخین أو علی أحدھما کہہ دیتے ہیں اور حافظ ذہبی ان کی موافقت کرتے ہیں جیسا کہ حاکم فرماتے ہیں: «وأنا اَستعین اﷲ علیٰ إخراج أحادیث رواتھا ثقات قد احتج بمثلھا الشیخان رضي اﷲ عنھما أو أحدھما»[المستدرک:ج۱؍ ص۳] یعنی''میں اللہ کی مدد مانگتا ہوں ان احادیث کی روایت کے لیے جن کے راوی ثقہ ہیں۔بخاری ومسلم یا صرف بخاری یا صرف مسلم نے ان راویوں جیسے راویوں سے حجت پکڑی ہے۔'' اس عبارت سے بھی دوسری بات کی تائید ہوتی ہے اور یہی راجح ہے۔ لہٰذا علیٰ شرط الشیخین وغیرہ عبارات سے بعض محققین عصر کا حاکم و ذہبی کے بارے میں پروپیگنڈہ کرنا صحیح نہیں ہے، مزید تفصیل آگے آرہی ہے۔ ان شاء اللہ

یاد رہے کہ اَوہام اس سے مستثنیٰ ہیں۔

اِس لشکر کے اُمرا کون کون تھے؟

سنن ابو داود کی اس صحیح حدیث سے معلوم ہواکہ اس لشکر میں مصریوں کے امیر سیدنا عقبہ بن عامر اور شامیوں کے امیر سیدنا فضالہ بن عبید تھے جبکہ پورے لشکر کے امیر سیدنا عبدالرحمن بن خالد بن الولید تھے۔ حیوہ بن شریح کے سارے شاگرد اہل مصر کا امیر عقبہ بن عامر کو قرار دیتے ہیں اور یہی بات لیث بن سعد اور ابن لہیعہ کی روایت عن یزید بن ابی حبیب میں ہے۔ کما تقدّم لہٰذا یہ بات اِجماعی واتفاقی ہے۔

حیوہ کے دونوں شاگرد عبداللہ بن یزید المقرئ٭ اور عبداللہ بن المبارک بالاتفاق یہ بیان کرتے ہیں کہ اہل شام کے امیر فضالہ بن عبید تھے۔ یہی بات لیث بن سعد و ابن لہیعہ کی روایت میں ہے۔لیث بن سعد اور ابن لہیعہ کی روایت میں بھی اہل شام کا امیر فضالہ بن عبید کو قرار دیا گیا ہے۔

البتہ ضحاک بن مخلد کے شاگردوں میں اس بابت اختلاف ہے۔ عبد بن حمید کی روایت میں: وعلی الجماعة فضالة بن عبید کے الفاظ ہیں۔ (سنن ترمذی) جبکہ عمرو بن ضحاک اور عبید اللہ بن سعید کی روایتوں میں اس کا تذکرہ نہیں ہے۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ضحاک بن مخلد کی روایت ابن المبارک وغیرہ کی مخالفت اور اپنے شاگردوں کے اختلاف کی وجہ سے شاذ و مردود ہے۔

اگر یہ صحیح بھی ہوتی تو اس کا مطلب یہ تھا کہ قسطنطنیہ پر بہت سے حملے ہوئے ہیں۔ بعض میں امیر لشکرعبدالرحمن بن خالد بن ولید تھے، بعض میں فضالہ بن عبید اور بعض میں یزید بن معاویہ اور بعض میں کوئی اور؛ لہٰذا جامع ترمذی کی روایت سے بھی پروفیسر صاحب کا یہ دعویٰ ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ قسطنطنیہ پر صرف اور صرف ایک ہی حملہ ہوا ہے اور اس حملہ میں یزیدبھی موجود تھا۔ یاد رہے کہ سنن ابو داؤد کی ایک دوسری روایت [کتاب الجہاد، باب ۱۲۹ فی قتل الاسیر بالنبل حدیث: ۲۶۸۷] سے بھی عبدالرحمن بن خالد بن ولید اور سیدنا ابوایوب کا مل کر جہاد کرنا ثابت ہوتاہے جیسا کہ آگے آرہا ہے۔

٭سنن ترمذی کی روایت میں وعلی الجماعة فضالة بن عبید کے جو اَلفاظ آئے ہیں، ان کا وہم ہونا کئی وجوہ سے ثابت ہے :

1. حیوہ بن شریح کے تمام شاگرد وعلی أھل الشام فضالة بن عبید کے الفاظ روایت کررہے ہیں۔

2. یہ الفاظ سنن ترمذی کے علاوہ دوسری کسی کتاب میں نہیں ہیں۔

3.محققین٭ نے ترمذی کی روایت کے وہم کی طرف اشارہ کیا ہے۔

خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی لکھتے ہیں:

«فظھر بھذہ الروایات أن عبدالرحمٰن بن خالد کان أمیرًا علی الجمیع» [بذل المجہود: ج۱۱؍ ص۴۳۵]

یعنی ''ان روایات سے ظاہر ہوا کہ سیدنا عبدالرحمن بن خالد تمام لشکر پرامیر تھے۔''

تاریخ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قسطنطنیہ پر کئی حملے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ سیدنا معاویہؓ نے رومیوں کی زمین پر سولہ مرتبہ فوج کشی کی۔ [البدایہ : ج۸؍ ص۳۳ ۱] ایک لشکر سردیوں (شواتی) میںاور دوسرا گرمیوں (صوائف) میں حملہ آور ہوتا۔ [ایضاً: ص ۱۲۷]

دیگر کتب ِحدیث میں عبد الرحمن بن خالد کی زیر امارت حملہ قسطنطنیہ کا تذکرہ

بعض لوگوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ سنن ابو داؤد کے علاوہ عبدالرحمن بن خالدبن الولید کے تمام لشکر پر سپہ سالار ہونے کا ثبوت کسی بھی دوسری کتاب میں نہیں ملتا۔ اس کا جواب دیتے ہوئے اُستاذ موصوف فرماتے ہیں کہ ''درج ذیل کتابوں میں بھی صحیح سند کے ساتھ اس حملہ آور فوج کاقائد عبدالرحمن بن خالد بن الولید ہی مذکور ہے:

1. جامع البیان فی تفسیر القرآن، المعروف بہ تفسیر طبری [ج۲؍ص۱۱۸،۱۱۹]

2. تفسیر ابن ابی حاتم الرازی [ج۱؍ ص۳۳۰،۳۳۱]

3. احکام القرآن از جصاص [ج۱؍ ص۳۲۶،۳۲۷]

4. مستدرک حاکم [ج۲؍ ص۸۴،۸۵] اسے حاکم اور ذہبی دونوں نے بخاری و مسلم کی شرط پرصحیح کہا ہے۔''[مقالاتِ حافظ زبیر علی زئی:ص۳۰۷ تا۳۱۱]

مستدرک حاکم کی روایت جو اسی سند سے ذکر ہوئی ہے، اس میں وضاحت ہے کہ اہل مصر کے امیر عقبہ بن عامر جہنی اور اہل شام کے امیر فضالہ بن عبید انصاری تھے جس سے واضح ہوتا ہے کہ صحابہ کرام اور تابعین کی کثیر تعداد جہادِ قسطنطنیہ میں شریک تھی اور یہ حملے یزید بن معاویہ کے حملے سے بہت پہلے کئے گئے تھے۔ فضالہ بن عبیدانصاری کی ایک روایت صحیح مسلم [رقم : ۹۶۸ ]میں بھی ہے جس میں ان کی ارضِ روم کے جزیرہ رُودس میں جہادی مہم کا ذکر موجود ہے جس سے فضالہ کے ۵۱ ہجری میں شام پر امیر ہونے کی مزید تصریح ہوتی ہے اور فضالہ کی وفات ۵۳ھ میں ہوئی۔

سنن ابو داود کی دوسری حدیث

ایسے ہی سنن ابوداؤد کی ایک دوسری روایت سے بھی ثابت ہے کہ عبدالرحمن بن خالد بن الولیدؓ کے ساتھ ابوایوب انصاریؓ اس غزوہ میں شریک تھے اور عبدالرحمن پوری جماعت پر امیر تھے۔ پوری حدیث کے الفاظ حسب ِذیل ہیں:

«عن ابن تِعْلی قال: غزونا مع عبد الرحمٰن بن خالد بن الولید فأتي بأربعة أعلاج من العدو فأمر بهم بهم فقتلوا صبرًا۔ قال أبو داود قال لنا غیر سعید عن ابن وهب في هذا الحدیث قال بالنبل صبرا فبلغ ذلك أبا أیوب الأنصاري فقال سمعت رسول اﷲ ﷺ ینهیٰ عن قتل الصبر ۔۔۔ الحدیث» [سنن أبو داود: کتاب الجهاد: باب ۱۲۹، في قتل الأسیر بالنبل:۲۶۸۷]

''سیدنا عبیدبن تعلی بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدناعبدالرحمن بن خالد بن الولید کے ساتھ جہاد میں شریک تھے۔ (اسی مہم میں) ان کے سامنے دشمن کے چار شخص پیش کئے گئے جن کے قتل کرنے کا اُنہوں نے حکم دیا اور تعمیل حکم میں ان کو باندھ کر قتل کردیا گیا۔''

امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ ''ہم سے ہمارے استاذامام سعید بن منصور کے علاوہ ایک دوسرے صاحب نے ابن وہب سے اس حدیث کو یوں نقل کیا کہ ان چاروں کوباندھ کر تیروں کا ہدف بنایا۔ جب اس بات کی خبر سیدنا ابوایوبؓ انصاری کو ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہﷺسے سنا ہے کہ اُنہوں نے اس طرح ہاتھ باندھ کر قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ بس قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر کوئی مرغی بھی ہو تو میں اس کا باندھ کر نشانہ نہ لوں۔ جب یہ بات سیدنا عبدالرحمن بن خالد بن الولید کو پہنچی تو انہوں نے اس کے کفارے میں چار غلام آزاد کئے۔''

یہ حدیث سنن ابوداؤد کے علاوہ سنن سعید بن منصور۶۶۷، مسنداحمد:۵؍۴۲۲، طبرانی:۴؍ ۵۹؍ ۴۰۰۲،السنن الکبریٰ:۹؍۷۱، الدارمی:۱۹۷۴، صحیح ابن حبان: ۸؍۴۵۰، ۵۵۸۰۱،الطحاوی: ۳؍۱۸۲، والشاشی:۱۱۶۰۔۱۱۶۱، مصنف ابن ابی شیبہ:۵؍۳۹۸ وغیرہ میں بھی موجود ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: الموسوعة الحديثية مسند احمد:۳۸؍۵۶۱، امام ابوداؤد نے دوسرے اُستاد سے جو کچھ روایت کیا ہے، یہی کچھ امام سعید بن منصور بھی بیان کرتے ہیں۔ [السنن سعیدبن منصور:۲۶۶۷]

سنن ابوداؤد کی مذکورہ بالا حدیث کی سند ملاحظہ فرمائیں : حدثنا سعید بن منصور قال حدثنا عبد اﷲ بن وهب قال أخبرني عمرو بن الحارث عن بکیر بن عبد اﷲ بن الأشج عن ابن تِعْلیٰ نیز دیکھئے: سنن سعید بن منصور

امام احمد بن حنبل نے اس حدیث کو شریح بن نعمان کے واسطے سے ابن وہب سے اس طرح بیان کیا ہے۔اس واقعہ کوبیان کرنے والے عبید بن تعلی طائی فلسطینی ہیں اور ان کے متعلق حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ وہ صدوق من الثالثہ ہیں۔ [التقریب:۷۹۰۶ ] اور دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:امام نسائی نے اُنہیں ثقہ کہا اور ابن حبان نے اُنہیں الثقات میں ذکر کیاہے۔ امام ابن مدینیؒ نے یہ اعتراض کیا ہے کہ جس نے اس سند میں سے بکیرکے والد کا واسطہ گرایا ہے، وہ محمد بن اسحق ہیں اور یہ روایت منقطع ہے اور کہا کہ یہ اسناد حسن ہے سوائے اس کے کہ عبید بن تعلی نے احادیث کی سماعت نہیں کررکھی ہے اور ان کی روایت کو بکیر بن اشج کی ان سے روایت نے مضبوط کردیا کہ وہ صاحب ِحدیث ہیں اور ہم اس سے ابوایوب انصاری کی اس حدیث کے علاوہ کوئی حدیث نہیں جانتے اور عبدالحمید بن جعفر نے اس روایت کوسند سے بیان کیاہے اور اسے عمدہ قرار دیا۔ [التہذیب:۷؍۶۱]

محدثین نے اس حدیث کو دوسندوں سے بیان کیاہے: ایک سند میں بکیر بن اشج اور ابن تعلی کے درمیان عن أبیہ کا واسطہ ہے اور دوسری سندوں میں یہ واسطہ نہیں ہے۔امام سعید بن منصور، امام احمد بن حنبل اور ابن حبان وغیرہ۔ ابن وہب کے واسطے سے عن ابیہ کاذکرنہیں کیا ہے۔ نیز امام محمد بن اسحق نے اس روایت کو دونوں طرح سے روایت کیا ہے۔ لہٰذا یہ روایت عن بکیر عن ابن تعلی بھی درست ہے کیونکہ بکیر بعض صحابہ کرام سے بھی حدیث کے راوی ہیں لہٰذا ابن تعلی سے ان کا سماع ناممکن نہیں ہے بلکہ اُنہوں نے ابن تعلی سے اس حدیث کاسماع کیا ہے چنانچہ ابن حبان میں یہ الفاظ موجود ہیں: عن بکیر بن الأشج عن عبید بن تعلی سمعه یقول سمعت أبا أیوب الأنصاري [۵۵۸۰]

جس سے ثابت ہوا کہ یہ سند صحیح و متصل ہے۔یہی وجہ ہے کہ شیخ شعیب ارناؤط نے صحیح ابن حبان کی تحقیق میں اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔ نیز حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے کیونکہ دوسرے محدثین بھی اسے بغیر واسطے کے روایت کرتے ہیں، لہٰذا یہ روایت منقطع نہیں ہے۔

اس وضاحت سے کئی باتیں ثابت ہوئیں:

1. قسطنطنیہ پر ان حملوں کے دوران پوری جماعت پرعبدالرحمن بن خالد بن الولید امیر تھے اور اہل شام پر فضا لہ بن عبید اوراہل مصر پر عقبہ بن عامر جہنی امیر تھے۔

2. شروع کے حملوں یا اوّل جیش میں یزید بن معاویہ شامل نہ تھے کیونکہ یہ واقعات ۴۴ھ، ۴۵ھ اور ۴۶ھ کے دوران پیش آئے تھے اور یہ حملے یزید بن معاویہ کے ۴۹ھ کے حملے سے پہلے ہوئے تھے کیونکہ سیدنا عبدالرحمن بن خالد بن الولید ۴۶ھ میں شہید ہوگئے تھے اور اس غزوہ میں بھی سیدنا اَبوایوب انصاری، سیدنا عبدالرحمن بن خالد کے ساتھ شریک تھے جیسا کہ وہ سیدنا معاویہؓ کے ساتھ ان کی بے رخی کے باوجود شریک ہوئے تھے اور پھر وہ آخری معرکہ میں یزید بن معاویہؓ کے ساتھ بھی شریک ہوئے اور پھر اسی حملہ کے دوران بیمارہوکر اُنہوں نے وفات پائی تھی، جس کی تفصیل اوپربیان ہوچکی ہے۔

5. قسطنطنیہ پر پانچواں حملہ (زیر امارت: سفیان بن عوف)

حافظ زبیر علی زئی لکھتے ہیں:

''یزید بن معاویہؓ کے آخری حملہ سے پہلے قسطنطنیہ پر سابقہ حملوں کے علاوہ ایک اور حملہ بھی ہوا ہے۔ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں:

"واستعمل معاوية سفیانَ بن عوف علی الصوائف وکان یعظّمه"

''اور معاویہؓ نے سفیان بن عوف کوقسطنطنیہ پر صیفی(موسم گرماکے) حملوں میں امیر بنایا اور آپ ان کی تعظیم کرتے تھے۔''[الإصابة: ج۲؍ص۵۶]

محمد خضیری کی محاضرات الأمم الإسلامية میں ہے کہ

''وفي ۴۸ھـ جھَّز معاوية جیشًا عظیمًا الفتح قسطنطينية وکان علی الجیش سفیان بن عوف'' [ج۲؍ ص ۱۱۴]

''اور ۴۸ھ میں معاویہؓ نے قسطنطنیہ کی فتح کے لیے ایک عظیم لشکربھیجا جس کے امیر سیدنا سفیان بن عوف تھے۔''

6.قسطنطنیہ پر آخری حملہ

سیدنا معاویہؓ کے دورِ حکومت میں قسطنطنیہ پر جو آخری حملہ ہوا تھا، اس لشکر کے سپہ سالار یزید بن معاویہ تھے اور اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس لشکر میں سیدنا اَبوایوب انصاری بھی شامل تھے جو اسی جہاد کے دوران وفات پاگئے تھے اور اُنہیں قسطنطنیہ کے دروازہ کے قریب دفن کیا گیا تھا اور اس کی تفصیل پچھلے صفحاتمیں گزر چکی ہے۔صحیح بخاری میںسیدنا محمود بن الربیع کا بیان ہے، وہ فرماتے ہیں:

''میں نے (نفل نماز کی جماعت والی یہ) حدیث ایک ایسی قوم کے سامنے بیان کی کہ جن میں رسول اللہﷺکے صحابی (اور میزبان) سیدنا ابوایوب انصاری بھی تھے اور اُنہوں نے اسی غزوہ کے دوران وفات پائی اور یزید بن معاویہ اس لشکر پرسالار تھے۔'' [صحیح بخاری: ۱۱۸۶]

''معاویہؓ نے قسطنطنیہ پر جو لشکر کشی کی تھی، ان میں ایک لشکر سردیوں میں(شواتی) اور دوسرا گرمیوں میں (صوائف) حملہ آور ہوتا تھا۔ [البدایہ:۸؍۱۲۷] ان لشکروں میں الصائفة (اپریل ۶۷۲ء تاستمبر ۶۷۲ء ) کا سالار یزید تھا۔ [دیکھئے خلافت ِمعاویہ و یزید: ص۴۳۵] اور عام کتب ِتاریخ'' [ماہنامہ الحدیث، حضرو : شمارہ نمبر۶،ص۹]

پاک و ہند میں یزید کے جنتی ہونے کا نظریہ کس نے پیش کیا؟

یزید بن معاویہ کے جنتی ہونے کا نظریہ پاک و ہند میں سب سے پہلے محمو داحمد عباسی نے پیش کیا۔ یہ شخص کٹر ناصبی عقائد کا حامل تھا اور اس نے اپنی کتاب 'خلافت ِمعاویہ و یزید' اس زمانے میں تحریر کی کہ جب وہ چینی سفارتخانہ میں ملازم تھا۔ میں بھی جب اس کی اس تحقیق جدید سے متاثر ہوا تھا تو اس سے ملاقات کے لیے اس کے گھر گیا اور میں نے دورانِ گفتگو اس سے کہا کہ آپ نے سیدنا حسینؓ کے سر کے متعلق لکھا ہے کہ اس کے متعلق تمام روایات وضعی ہیں جبکہ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ حسینؓ کا سر مبارک ابن زیاد کے سامنے پیش کیاگیا۔ عباسی صاحب نے کہا: ''ہاں! بخاری گدھے نے یہ بات لکھی ہے۔'' (معاذ اللہ)

میںنے جب اُس سے امام بخاریؒ کے متعلق یہ گستاخی سنی تو مجھے سخت صدمہ پہنچا اور عباسی صاحب کی عقیدت کاسارا نشہ اسی وقت اُتر گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے تحقیق کی توفیق عنایت فرمائی۔ وللہ الحمد

دراصل محمود احمد عباسی نے یہ سب کچھ تحقیق کے نام سے پیش کیا تھا جس سے عام تعلیم یافتہ طبقہ کافی متاثر ہوا اور بعض علماء کرام بھی ان کی تحقیق سے متاثر ہوکر ان کے دامن گرفتہ ہوگئے اور پھر ان کی تحقیق ایسی بلند ہوئی کہ انہوںنے صحیح بخاری پربھی ہاتھ صاف کردیا جیسا کہ جناب حبیب الرحمن کاندھلوی نے 'مذہبی داستانیں' لکھیں اور جناب محمد عظیم الدین صدیق صاحب نے اپنی کتاب 'حیاتِ سیدنا یزید' میں یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ ان حضرات نے اپنی کتب میں سیدنا علی ؓ اور خاندانِ اہل بیت رسول اللہﷺسے بغض و عداوت کا کھل کر اِظہار کرکے اپنے چھپے ہوئے گندے ناصبی عقیدہ کو بھی ظاہر کیا۔ ایک طرف یہ سیدنا علیؓ کی خامیاں نکالتے ہیں اور دوسری طرف یزید کو 'سیدنا' یزید اور 'رحمتہ اللہ علیہ' لکھتے ہیں۔

ان حضرات نے صحیح بخاری کی 'اوّل جیش' والی روایت کو بنیاد بنا کر یزید کو پہلے جنتی ثابت کیا اور پھر اس کے سیاہ کارناموں مثلاً قتل حسین، واقعہ حرہ اور خانہ کعبہ پر حملہ وغیرہ کو چھپانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے ، حالانکہ یزیدبن معاویہ کے عہد ِخلافت میں سیدنا حسینؓ اور ان کے خاندان کا قتل ایک زبردست المیہ ہے اور جس سے وہ عہدہ برا قرار نہیں دیئے جاسکتے اور پھر مدینہ منورہ پر شامی فوج کا حملہ اور مدینہ طیبہ کو تاخت وتاراج کرنا صحابہ کرامؓ اور تابعین کا قتل عام اور مدینہ والوں کو خوفزدہ کرنا جس کے متعلق بہت سی احادیث ِصحیحہ موجود ہیں جن میں اہل مدینہ کو خوفزدہ کرنے والوں کو ڈرایا گیاہے۔اسی طرح حرم شریف اور خانہ کعبہ پرحملہ وغیرہ ؛ یہ خلافت ِیزید کے وہ سیاہ کارنامے ہیں کہ جنہیں آج تک اُمت ِمسلمہ فراموش نہیں کرسکی اور ان میں حصہ لینے والوں میں سے اگر کسی نے حدیث بھی بیان کی ہے تواس کی حدیث کو اس کے اس سیاہ کارنامہ کی وجہ سے ردّ کردیا جاتا ہے اور جس کی تفصیل آئندہ پیش کی جائے گی۔


 

نوٹ

٭ اس سند پر ایک بحث ہفت روز اہل حدیث ج 29، شمارہ نمبر19،ص10، کے شمارہ میں شائع ہو چکی ہے جس میں ابوعبد الرحمان المقری پر جرح کی گئی ہے ۔ صاحب مضمون پروفیسر محمد شریف کا ابو عبدالرحمان المقری پر جرح کرنا شیخ الاسلام ابن المبارک کی متابعت [السنن الکبری للنسائی ج6ص 299ح 11029، وتفسیر النسائی ج1/ص238، ح49] کی وجہ سے کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ المقری کے دفع کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے۔

[٭ محققین سے مراد سید حلیمی اور صبری شافعی ہیں۔ یہ وہی محققین ہیں جن کا حوالہ پروفیسر محمد شریف نے دیاہے۔ ہفت روزہ اہل حدیث لاہور: ج۲۹؍ شمارہ ۱۹، ص۱۰ کالم نمبر ۱ اور آگے جاکر اسی صفحہ پرکالم نمبر۲ پر لکھتے ہیں: ''حافظ زبیر صاحب نے جو تفسیر نسائی کے حاشیہ کا حوالہ دیا، یہ ایک مبہم حوالہ ہے، محشی کون ہے؟ اس نے یہ الفاظ کہاں سے لئے؟''سبحان اﷲ!