5.عیب نہ چھپائیں

دین اسلام خیر خواہی کا دین ہے، اس لیے مسلمان تاجر پر لازم ہے کہ لین دین کے وقت سچائی سے کام لے اور خریدار پر حقیقت ِحال واضح کرے،مال کے نقص کو نہ چھپائے اور ملاوٹ، مکر وفریب،جھوٹ اوردھوکہ دہی سے مکمل اجتناب کرے۔یہ سوچ نہ رکھے کہ سچ بولنے سے منافع میں کمی واقع ہو گی کیونکہ سچ بولنے سے اللہ تعالیٰ تھوڑے منافع میں بھی برکت ڈال دیتا ہے جبکہ جھوٹ سے حاصل کیا ہوا زیادہ منافع بھی بے برکت ہوتا ہے، چنانچہ رسول اللہﷺ کا ارشادِگرامی ہے :

«فَإِنْ صَدَقَا وَبَیَّنَا بُورِکَ لَهُمَا فِی بَیْعِهِمَا، وَإِنْ کَتَمَا وَکَذَبَا مُحِقَتْ بَرَکَة بَیْعِهِمَا»[صحیح البخاری کتاب البیوع: با ب ما یمحق الکذب]

''اگر وہ دونوں (تاجر اور گاہک)سچ بولیں اور ایک دوسرے پر حقیقت ِحال واضح کر دیں تو ان کے سودے میںبرکت ہو گی، اور اگر دونوں نے جھوٹ بالا اور عیب کو چھپایا تو ان کے سودے سے برکت مٹا دی جائے گی۔''

فریقین کو چاہیے کہ وہ معاملہ کرتے وقت ہمیشہ اس حدیث کو پیش نظر رکھیں۔ بعض دکاندار چیز کا نقص واضح نہیں کرتے بلکہ اس کی ذمہ داری خریدار پر ڈال دیتے ہیں کہ آپ خود دیکھ لیں اگر بعد میں کوئی نقص نکلا تو ہم ذمہ دار نہ ہوں گے حالانکہ ان کو اس کا علم ہوتا ہے کہ یہ طریقہ خلافِ شریعت ہے۔ نبی ﷺکا ارشاد گرامی ہے :

«الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ وَلاَ یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ بَاعَ مِنْ أَخِیهِ بَیْعًا فِیهِ عَیْبٌ إِلاَّ بَیَّنَهُ لَهُ» [سنن ابن ماجہ: باب من باع عیبًا فلیبـیّنه وقال ابن حجر في الفتح: إسنادہ حسن]

''ایک مسلمان دوسرے مسلمان کابھائی ہے۔اور کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو ایسی چیز بیچے جس میں عیب ہو سوائے اس کے کہ وہ اس پر واضح کردے۔ ''

یعنی فروخت کنندہ کو چاہیے کہ وہ خریدار پر واضح کرے کہ مال میں یہ نقائص ہیں۔ مال کے عیوب چھپانا کتنا عظیم جرم ہے، اس کی سنگینی کااندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی اکرمﷺنے ایسے لوگوں سے بیزاری اور بے تعلقی کا اعلان فرمایا ہے جو چیز کا عیب ظاہر کئے بغیر فروخت کر دیتے ہیں۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ ؓبیان کرتے ہیں :

'' رسول اللہ ﷺغلے کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے توآپ نے اپنا ہاتھ اس ڈھیر میں داخل کیا۔ آپ کی اُنگلیوں نے گیلا پن محسوس کیاتوآپؐ نے فرمایا: اے غلے والے! یہ کیا ہے؟اُس نے کہا: یا رسول اللہﷺ! اس پر بارش پڑ گئی تھی۔ آپ نے فرمایا: تم نے اس بھیگے ہوئے غلے کو اوپر کیوں نہ کر دیا تاکہ لوگ اس کو دیکھ سکتے۔ اس موقع پر آپ ﷺنے فرمایا:جس نے دھوکا دیا، اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔''[صحیح مسلم: باب قول النبي ﷺ من غشنا]

یہاں یہ نکتہ غور طلب ہے کہ تاجر نے غلے کو خود گیلا نہیں کیا تھا بلکہ محض گیلے حصے کو چھپایا تھا مگر آپ نے اسے بھی قابل گرفت قرار دیا۔ کیونکہ ناقص خوراک سے لوگوں کی صحت پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔کم روشنی میں گاہک کے سامنے مال پیش کرنا یا مال کی دو تہیں ہوں تو صرف عمدہ تہہ ہی دکھانا بھی دھوکہ دہی میں داخل ہے۔

6. ناپ تول میں ڈنڈی نہ ماریں

دھوکا دہی اورفریب کی بد ترین قسم ناپ تول میں کمی ہے۔ جو لوگ اس سنگین جرم کے مرتکب ہیں وہ اسلام کی نگاہ میں قابل نفرت اور سخت سزا کے مستحق ہیں۔ قرآنِ مجید نے اس جرم کی شناعت و قباحت اور اُخروی سزا یو ں بیان فرمائی ہے :

﴿وَيلٌ لِلمُطَفِّفينَ ١ الَّذينَ إِذَا اكتالوا عَلَى النّاسِ يَستَوفونَ ٢ وَإِذا كالوهُم أَو وَزَنوهُم يُخسِر‌ونَ ٣﴾... سورة المطففين

'' ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں اور جب اُنہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں۔''

حضرت شعیب ؑ جس قوم میں مبعوث کئے گئے، ان میں شرک کے علاوہ ایک نمایاں بیماری یہ بھی تھی کہ وہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے، حالانکہ یہ بڑے آسودہ حال تھے۔ جب یہ لوگ حضرت شعیب ؑکی نصیحت پر بھی باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر آگ برسا کر ان کو مال ودولت سمیت تباہ کر دیا۔یہ عذاب اس طرح آیا کہ پہلے سات دن تک ان پر سخت گرمی اور دھوپ مسلط کر دی۔ اس کے بعد بادلوں کا ایک سایہ آیا، چونکہ یہ لوگ سات دن کی سخت گرمی سے بلبلائے ہوئے تھے، اس لیے سب سائے تلے جمع ہوگئے تا کہ ٹھنڈی ہواؤں کا لطف اُٹھائیں۔ لیکن چند لمحے بعد ہی آسمان سے آگ کے شعلے برسنا شروع ہو گئے، زمین زلزلے سے لرز اُٹھی اور ایک سخت چنگھاڑ نے اُنہیں ہمیشہ کے لیے موت کی نیند سلا دیا۔قرآنِ حکیم نے اس واقعہ کی طرف ان الفاظ سے اشارہ کیا ہے :

﴿فَكَذَّبوهُ فَأَخَذَهُم عَذابُ يَومِ الظُّلَّةِ ۚ إِنَّهُ كانَ عَذابَ يَومٍ عَظيمٍ ١٨٩﴾... سورة الشعراء

''اُنہوں نے اسے(شعیب ؑکو) جھٹلایا تو اُنہیں سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا۔ وہ بڑے بھاری دن کا عذاب تھا۔''

امام الانبیاء ﷺکا فرمان ہے :

«وَلَمْ یَنْقُصُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیزَانَ إِلاَّ أُخِذُوا بِالسِّنِینَ وَشِدَّة الْمَؤُنَة وَجَوْرِ السُّلْطَانِ عَلَیْهِمْ » [سنن ابن ماجہ :باب العقوبات]

''جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے تو اس پر قحط سالی، سخت محنت اور حکمرانوں کا ظلم مسلط کر دیاجاتا ہے۔ ''

چونکہ ناپ تول میں ڈنڈی مارنا ظلم ہے جس کی دین اسلام میں قطعاگنجائش نہیں۔اس لیے احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ دیتے وقت ذرا جھکتا ہوا دیا جائے۔ فرمانِ نبویؐ ہے :

«إِذَا وَزَنْتُمْ فَأَرْجِحُوا» [سنن ابن ماجہ :باب الرجحان في الوزن]

''جب تول کر دو تو جھکتا ہوا دو۔''

7.قسمیں نہ کھائیں

بعض تاجر اگر جھوٹی قسمیں کھا کر دھوکا دہی کے مرتکب ہوتے ہیںتو بعض گاہکوںکو مطمئن کرنے کے لیے بہت زیادہ قسمیں کھا تے ہیں۔ جھوٹی قسم تو بد ترین گناہ ہے، روزِ قیامت اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی طرف نظر رحمت سے نہیںدیکھے گا لیکن سچی قسم سے بھی پرہیز کرنا چاہیے۔ چنانچہ حدیث کی مستند اور اعلیٰ ترین کتاب صحیح بخاری میں ایک عنوان یوں قائم کیاگیا ہے:

"بَابُ مَا یُکْرَہُ مِنَ الْحَلِفِ فِي الْبَیْعِ"

''خرید وفروخت میں قسمیں کھانا مکروہ ہیں۔''

شارحِ بخاری علامہ ابن حجرؒاس کی شرح میں لکھتے ہیں:

''یہ کراہت ِمطلق ہے۔ اگر قسم جھوٹی ہو گی تو مکروہ تحریمی اور اگر سچی ہو گی تو مکروہ تنزیہی ہو گی۔ '' [فتح الباری: ج۴؍ص۴۰۰]

یعنی سچی قسم سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔ علامہ بدر الدین عینیؒنے بھی یہی مطلب بیان کیا ہے۔ [عمدۃ القاری: ج۸؍ ص۳۵۵]

ارشادِ نبویؐ کے مطابق یہ عادت برکت کھو دینے کا باعث ہے کیونکہ دنیاوی مفاد کے لیے اللہ تعالیٰ کے بابرکت نام کا استعمال غیر مناسب ہے اوربالآخر جب لوگ ایسے تاجر کی عادت سے واقف ہو جاتے ہیں تو پھر اس کی قسموں پریقین نہیں کرتے۔ یوںاس کی دکانداری خراب ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے قسمیں کھا کر مال بیچنے سے منع کیا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ 1نے فرمایا:

«الْحَلِفُ مُنَفِّقَة لِلسِّلْعَة مُمْحِقَة لِلْبَرَکَة» [صحیح بخاری باب یمحق اﷲ الربا]

''قسم تجارت کو تو چلاتی ہے مگر برکت کو ختم کر دیتی ہے۔''

حضرت ابو قتادۃ انصاریؓکہتے ہیں کہ اُنہوں نے رسول اللہﷺکو یہ فرماتے سنا:

«إِیَّاکُمْ وَکَثْرَة الْحَلِفِ فِي الْبَیْعِ فَإِنَّهُ یُنَفِّقُ ثُمَّ یَمْحَقُ»

''بیع میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچو کیونکہ یہ چیز فروخت تو کر دیتی ہے، مگر اس کی برکت ختم کر دیتی ہے۔'[صحیح مسلم: باب النہي عن الحلف في البیع]

8. نرم رویہ اختیار کریں

کاروباری معاملات اور لین دین میں دوسرے فریق کورعایت اور سہولت دینا اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام یہ تلقین کرتا ہے کہ فریقین ایک دوسرے کے ساتھ فراخ دلی، نرمی اورسیر چشمی کا مظاہرہ کریں۔ بنئے کی طرح سخت اور بے لچک رویہ اختیار نہ کریں۔ پیارے نبی ﷺکا فرمان ہے :

«رَحِمَ اﷲُ رَجُلاً سَمْحًا إِذَا بَاعَ، وَإِذَا اشْتَرَی، وَإِذَا اقْتَضَی»

[صحیح بخاری: کتاب البیوع: باب السھولة و السماحة في الشراء و البیع]

''اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم فرمائے جو بیچتے، خریدتے اور تقاضا کرتے وقت نرمی کرتا ہے۔''

دوسری روایت میں ہے :

«أفضل المؤمنین رجل سمح البیع، سمح الشراء، سمح القضاء، سمح الاقتضاء» [طبرانی اوسط:ج۷؍ص۲۹۷]

''بہترین مؤمن وہ ہے جو خرید وفروخت، قرض کی ادائیگی اور مطالبہ میں نرم ثابت ہوتا ہے۔ ''

ïبعض اوقات چیز خریدنے کے بعد انسان کواس کی ضرورت نہیں رہتی یا وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ مجھ سے غلطی ہو گئی، اس صورت میں اگرچہ شریعت دوسرے فریق کو مجبور نہیں کرتی کہ وہ ضرور واپس کرے لیکن اگر وہ ایسا کر لے تو یہ بہت بڑی نیکی ہو گی۔ سیدنا ابو ہریرہؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :

«مَنْ أَقَالَ مُسْلِمًا أَقَالَهُ اﷲُ عَثْرَتَهُ» [سنن أبي داود باب في فضل الإقالة]

''جو مسلمان کا سودا واپس کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسکی غلطیوںسے در گذر فرمائے گا۔ ''

ہمارے ہاں بعض دکان داروں نے یہ عبارت لکھ کرآویزاں کی ہوتی ہے :

''خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں ہو گا ۔''

یہ رویہ نہ تواس جذبہ اخوت و محبت کے مطابق ہے جس کی تعلیم اِسلام اپنے ماننے والوں کو دیتا ہے اور نہ ہی کاروباری لحاظ سے فائدہ مند،کیونکہ جب کسی تاجر کی یہ شہرت ہو جائے کہ وہ خریدی گئی چیز واپس یا تبدیل نہیں کرتاتو لوگ اس کی دکان پر جانے سے کتراتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کاروبار سے برکت ختم ہوجاتی ہے۔

9. سودے پر سودا کرنا ممنوع ہے

دو پارٹیوں کے درمیان معاملہ طے پا جانے کے بعد تیسر ے فریق کو یہ اجازت نہیں کہ وہ کسی پارٹی کو ورغلا کر سودا خراب کرنے کی کوشش کرے۔ نہ تو خریدار سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ سودا ختم کر دیں میں تمہیں یہی چیز اس سے کم قیمت پرمہیا کردیتا ہوںاور نہ ہی فروخت کنندہ کو یہ پیشکش کی جا سکتی ہے کہ تم یہ چیز اسے نہ دو بلکہ میں اس سے زیادہ میںخریدتا ہوں۔ یہ دونوں طریقے اسلامی تعلیم کے خلاف ہیں کیونکہ اس طرح لوگوں کے درمیان نفرت و عدوات پیدا ہوسکتی ہے۔ اس لیے حدیث میں اس سے منع کیا گیا ہے۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

«وَلَا یَبِعْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَیْعِ بَعْضِ»

[صحیح مسلم: کتاب البر والصلة، باب تحریم ظلم المسلم وخذله]

''کوئی شخص کسی کے سودے پر سودا نہ کرے۔''

دوسری حدیث میں ہے:

«لاَ یَسُمِ الْمُسْلِمُ عَلَی سَوْمِ أَخِیهِ» [صحیح مسلم: تحریم بیع الرجل علی بیع أخیه]

''مسلمان اپنے بھائی کی قیمت پر قیمت نہ لگائے۔ ''

اگرچہ نیلامی (بولی)میں بھی ایک شخص دوسرے شخص کی طرف سے لگائی گئی قیمت پر قیمت لگاتا ہے مگر یہ صورت جائز ہے۔

٭ ایک تو اس لیے کہ نیلامی کا جواز خود نبی ﷺسے ثابت ہے۔ حضرت انسؓ سے منقول ہے :

''رسول اللہ ﷺنے ایک کمبل اور پیالہ فروخت کیا۔ آپؓ نے فرمایا: یہ کمبل اور پیالہ کو ن خریدے گا۔ ایک شخص نے کہا میں یہ دونوں چیزیں ایک درہم میں لیتا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا ایک درہم سے زائد کون دے گا۔ ایک شخص نے دو درہم دیئے تو آپ نے وہ دونوں چیزیں اس کو بیچ دی۔'' [سنن ترمذی:کتاب البیوع، باب ماجاء في بیع من یزید وقال ھٰذا حدیث حسن]

امام بخاریؒنے صحیح بخاری میں اس کے حق میں یوں عنوان قائم کیا ہے۔

بابُ بَیْعِ الْمُزایَدَة ''نیلامی کے جواز میں''

٭ دوسرا اس لیے کہ قیمت پر قیمت لگانا تب ناجائز ہے جب فروخت کنندہ پہلے شخص کو فروخت کرنے پر آمادگی ظاہر کر چکا ہو یعنی سودا طے پاچکا ہو،لیکن اگر اس نے ابھی تک اپنی آمادگی کا اظہار نہ کیاہو بلکہ صرف خواہشمندوں کو قیمت لگانے کی دعوت دے رہا ہو تو پھر یہ جائز ہے۔ نیلامی میں چونکہ فروخت کنندہ کی دعوت پرقیمت لگائی جا رہی ہوتی ہے لہٰذایہ اس ممانعت میں داخل نہیں ہے۔

10.گناہ میں معاون نہ بنیں

ہرمسلمان کا دینی فریضہ ہے کہ وہ اپنی استطاعت واستعدادکی حد تک بدی اور فحاشی کے انسداد کے لیے جد وجہد کرے۔ایک مؤمن کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ مال ودولت کی خاطر برائی میں ممدومعاون بنے۔ قرآن نے دنیامیں زندگی گزارنے کاایک زریں اُصول یہ بتایا ہے :

﴿وَتَعاوَنوا عَلَى البِرِّ‌ وَالتَّقوىٰ ۖ وَلا تَعاوَنوا عَلَى الإِثمِ وَالعُدو‌ٰنِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَديدُ العِقابِ ٢﴾... سورة المائدة

''نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے رہو۔ گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کے معاون نہ بنو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک وہ سخت عذاب والا ہے۔''

اس حکم کا اطلاق معاملات پر بھی ہوتا ہے۔ اس لیے اگر کسی فروخت کنندہ کو یہ یقین ہو کہ خریدارمجھ سے خریدی گئی چیزحرام مقصدکے لیے استعما ل کرے گا تو اس کے ساتھ معاملہ کرنا جائز نہیں ہو گا۔حضرت بریدہ ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

«مَنْ حَبَسَ الْعِنَبَ أَیَّامَ الْقِطَافِ حَتَّی یَبِیعَهُ مِمَّنْ یَتَّخِذُہُ خَمْرًا فَقَدْ تَقَحَّمَ النَّارَ عَلَی بَصِیرَة»

[بلوغ المرام وحَسَّنَ ابن حجر إسنادہ ]

''جس نے انگور کو اُتارنے کے زمانہ میں روکے رکھے تاکہ وہ شراب ساز کو فروخت کرے تو وہ جانتے بوجھتے جہنم میں جا گھسا۔ ''

صحیح بخاری میں مذکورہے :

«وکَرِہَ عِمْرانُ بنُ حُصَینِ بَیْعَهُ في الفِتْنَة»

''عمران بن حصین ؓنے فتنہ (مسلمانوں کی باہمی لڑائی) کے دور میں اسلحہ کی فروخت کو مکروہ قرار دیا ہے۔ ''[باب بیع السلاح في الفتنة وغیرھا]

شیخ الاسلام حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں:

''اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ خریدار کے ساتھ تعاون ہے۔ یہ تب ہے جب صورت حال واضح نہ ہو لیکن جب باغی کا علم ہو پھر بر حق جماعت کو بیچنے میں کوئی حرج نہیں۔ ابن بطال کہتے ہیں کہ فتنہ کے زمانہ میں اسلحہ کی فروخت اس لیے ممنوع ہے کہ یہ گناہ پر تعاون کی شکل ہے، اسی لیے امام مالکؒ، شافعیؒ، احمد ؒاور اسحقؒ شراب ساز کو انگور بیچنے مکروہ سمجھتے ہیں۔'' [فتح الباری: ج۴؍ ص۴۰۸]

حرام کاروبارکے لیے جگہ فروخت کرنے کا بھی یہی حکم ہے بشرطیکہ معاہدئہ بیع کے وقت فروخت کنندہ کے علم میں ہو کہ خریدار اس کو حرام مقاصد کے لیے استعمال کرے گا لیکن اگرمعاہدے کے وقت اس کی نیت معلوم نہ ہو اور بعد اَزاں وہ اس کا غلط استعمال شروع کر دے تو اس صورت میں فروخت کنندہ پر کوئی گناہ نہیں ہو گا۔ یہاں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ شرعاًفروخت کنندہ پر مشتری سے خریداری کا مقصد معلوم کرنے کی پابندی نہیں ہے۔

11.اُدھار معاملات لکھ لیا کریں

کاروباری طبقہ کو اکثراُدھار خریدو فروخت کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔ بعض اوقات فریقین باہمی اعتماد اور خوشگوار تعلقات کی بنا پر ابتدا میں کسی تحریر کی ضرورت محسوس نہیں کرتے مگربعدمیں بے اعتمادی اورغلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور نوبت لڑائی، جھگڑے اور مقدمہ بازی تک جا پہنچتی ہے یا زیادہ عرصہ گزرنے کی وجہ سے خریدار کو یاد ہی نہیں رہتا کہ اس نے کوئی چیز خریدی تھی یا نہیں،اگر خریدی تھی تو کس قیمت پر۔

اس کے علاوہ یہ بھی امکان ہے کہ خریدار اچانک فوت ہوجائے اور تحریری ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے اس کے ورثا ادائیگی سے انکار کر دیں۔ اس موقع پر اگر کسی فریق کے پاس تحریر موجود ہو تو یہ شہادت کا کام دے سکتی ہے۔ اس لیے قرآنِ حکیم نے یہ تلقین کی ہے کہ اُدھار خرید وفروخت کی دستاویز لکھ لی جائے تا کہ بعد میں تنازعات اور اختلافات پیدا نہ ہوں اور اگر ہوں تو ان سے نمٹناآسان ہو۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا تَدايَنتُم بِدَينٍ إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكتُبوهُ...٢٨٢﴾... سورة البقرة

''اے ایمان والو!جب تم مدتِ معین تک اُدھار کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔''

اگرچہ اہل علم کی اصطلاح میں یہ حکم واجب نہیں لیکن اس کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ جو لوگ اس حکم کو معمولی سمجھ کر غفلت برتتے ہیں، وہ بسا اوقات ایسے جھگڑوں میں پھنس جاتے ہیں جن سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔ لہٰذااگر قرآن کی اس گراں قدر تعلیم پر عمل کر لیا جائے تو بعد میں پیدا ہونے والے بہت سے مفاسد کا سد باب ہو سکتا ہے۔

چونکہ نقدلین دین میں اختلاف کا اندیشہ کم ہوتاہے،اس لیے قرآنِ حکیم نے نقد خرید وفروخت کو ضبط تحریر میں لانے کی پابندی عائد نہیں فرمائی۔ البتہ اگر فروخت شدہ چیز بڑی مالیت کی ہوتو پھر رسید کا اہتمام ضرور ہوناچاہیے تا کہ بعد میں کوئی نقص سامنے آئے تو خریدار کے پاس خریداری کا ثبوت موجود ہو جو فروخت کنندہ کو دکھایاجا سکے۔ حضرت عداء بن خالدؓ بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے آنحضرتﷺسے غلام یا لونڈی خریدی اورآپؐ نے ثبوت کے طور پر مجھے یہ تحریر لکھ کر دی :

«هَذَا مَا اشْتَرَی الْعَدَّاء بْنُ خَالِدِ بْنِ هوْذَة مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اﷲِ ﷺ اشْتَرَی مِنْهُ عَبْدًا أَوْ أَمَة لاَ دَاء َ وَلاَ غَائِلَة وَلاَ خِبْثَة بَیْعَ الْمُسْلِمِ الْمُسْلِمَ»

[سنن ترمذی: باب ما جاء في کتابة الشروط؛ سنن ابن ماجہ: باب شراء الرقیق]

''یہ وہ خریداری ہے جو عداء بن خالد بن ہوذہ نے محمد رسول اللہﷺسے کی ہے۔ اس نے آپ سے ایک ایسا غلام یا لونڈی خریدی ہے جس میں نہ کوئی عیب ہے اور نہ ہی اخلاقی برائی اور دھوکہ دہی۔ یہ ایک مسلمان کی مسلمان کے ساتھ بیع ہے۔''

فروخت کی جانے والی چیزکے متعلق ہدایات


جوچیز فروخت کی جا رہی ہو اس کے متعلق بھی شریعت نے اُصول طے کر دیئے ہیں جن کی پابندی لازمی ہے :

1.قرض دستاویزات کی تجارت جائز نہیں

شرعی قواعدوضوابط کے تحت قرض کے تمَسُّکات اور کریڈٹ دستاویزات پرمنافع کماناجائز نہیں کیونکہ شریعت کی رو سے قرض تجارتی معاملہ نہیں ہے۔ لہٰذا ڈیبینچرز، پاکستان انوسمنٹ بانڈز(پی آئی بی)، فیڈرل انوسمنٹ بانڈز(ایف آئی بی)، روایتی ٹرم فنانس سرٹیفکیٹس (ٹی ایف سی)، اور ٹریثرری بلز (ٹی بلز )کی خرید وفروخت ممنوع ہے کیونکہ یہ سب سودی قرض کے تمَسُّکاتہیں۔بل آف ایکسچینج(Bill of Exchange)کی ڈسکاؤنٹ جس کا کاروباری حلقوں میں خاصا رواج ہے، بھی کریڈٹ دستاویز بیچنے کی ایک شکل ہے۔حالیہ مالیاتی بحران جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھاہے، اس کی ایک بڑی وجہ قرضوں اور ان کے مُشْتَقّات (Derivatives)کی خریدوفروخت ہے۔ اگر معاشی سرگرمیوں سے اس عنصر کو ختم کر دیں تو موجودہ بحران پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔

کریڈٹ دستاویزات کی بیع سے ملتی جلتی ایک صورت صُکُوْک کی خرید وفروخت ہے جس کاتذکرہ کتب ِحدیث میںموجود ہے۔ صُکُوک ''صَکّ'' کی جمع ہے جس کا معنی ہے: 'دستاویز'

مروان بن حکم کے دور میں بیت المال سے راشن حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو کارڈز جاری کئے جاتے جنہیںصُکوک کہاجاتاتھا۔بعض لوگ یہ کارڈز فروخت کردیتے تھے۔ حضرت ابو ہریرہؓ مروان سے ملاقات کے لیے گئے تو اُن سے کہا کہ آپ نے توسود کی بیع کو جائز قرار دے دیا ہے۔ مروان نے کہا: میں نے تو ایسا نہیں کیا، اُنہوں نے فرمایا:آپ نے صکوک فروخت کرنے کی اجازت دی ہے، حالانکہ رسول اللہﷺنے غلے کی بیع سے منع فرمایا ہے تاآنکہ اسے قبضہ میں لے لیا جائے۔ چنانچہ مروان نے اپنے خطاب میں اس پر پابندی لگانے کا اعلان کر دیا۔ سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے سیکورٹی اہلکاروں کو دیکھا: وہ لوگوں کے ہاتھوں سے صکوک چھین رہے تھے۔

[صحیح مسلم: کتاب البیوع، باب بطلان بیع المبیع قبل القبض]

2.چیزکا استعمال جائزہو

دوسرا اُصول یہ ہے کہ صرف انہی چیزوں کا لین دین ہو جن سے عام حالات میں شرعی طور پر فا ئدہ حاصل کیا جا سکتا ہو۔ جن چیزوں سے عام حالات میںفائدہ اٹھاناجائز نہیں، ان کی خرید وفروخت بھی نہیں ہو سکتی؛جیسے شراب، مردار اور خنزیر وغیرہ ہیں۔یہ چیزیں ہر حال میں حرام ہیں ان سے اِضطراری حالت میں تو فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے لیکن ان کو کسی قسم کے حالات میں فروخت نہیں جاسکتا۔چنانچہ عبداللہ بن عباسؓ نبی ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:

«إِنَّ اﷲَ إِذَا حَرَّمَ عَلَی قَوْمٍ أَکْلَ شَيْء ٍ حَرَّمَ عَلَیْهِمْ ثَمَنَه»

''یقینا اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر کسی چیز کا کھانا حرام کرتے ہیں تو ان پر اس کی قیمت بھی حرام کر دیتے ہیں۔''[سنن ابو داؤد: باب في ثمن الخمر و المیتۃ]

٭وہ کونسی کونسی اشیا ہیں جن کے استعمال کی شرعی طور پراجازت نہیں، اس سلسلے میں بعض قرآنی آیات ملاحظہ ہوں:

٭﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِنَّمَا الخَمرُ‌ وَالمَيسِرُ‌ وَالأَنصابُ وَالأَزلـٰمُ رِ‌جسٌ مِن عَمَلِ الشَّيطـٰنِ فَاجتَنِبوهُ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ ﴿٩٠﴾... سورة المائدة

''اے ایمان والو!شراب، جوا، بت اور فال نکالنے کے تیر ناپاک ہیں، شیطانی عمل ہیں۔ لہٰذا ان سے بچو تا کہ تم فلاح پاؤ۔''

٭﴿قُل لا أَجِدُ فى ما أوحِىَ إِلَىَّ مُحَرَّ‌مًا عَلىٰ طاعِمٍ يَطعَمُهُ إِلّا أَن يَكونَ مَيتَةً أَو دَمًا مَسفوحًا أَو لَحمَ خِنزيرٍ‌ فَإِنَّهُ رِ‌جسٌ...﴿١٤٥﴾... سورة الانعام

''کہہ دیجیے کہ میری طرف جو وحی کی گئی ہے، اس میں کسی کھانے والے پر میں کوئی چیز حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو، یا بہایا ہوا خون ہو، یا خنزیر کا گوشت ہو پس یقینا وہ نجس ہے۔ ''

٭﴿ وَمِنَ النّاسِ مَن يَشتَر‌ى لَهوَ الحَديثِ لِيُضِلَّ عَن سَبيلِ اللَّهِ بِغَيرِ‌ عِلمٍ وَيَتَّخِذَها هُزُوًا ۚ أُولـٰئِكَ لَهُم عَذابٌ مُهينٌ ٦﴾... سورة لقمان

''بعض لوگ وہ ہیں جو دِل فریب باتیں خریدتے ہیں، تاکہ بغیر علم کے اللہ کی راہ سے گمراہ کریںاور ان کو مذاق بناتے ہیں،ان لوگوں کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔''

قرآنِ مجید کی ان آیات میںشراب، جوے، بتوں، فال نکالنے کے تیروں، مردار، بہائے گئے خون، خنزیر کے گوشت اور دل فریب باتوں کی حرمت بیان کی گئی ہے۔ شراب کے علاوہ دیگرمُنَشِّیات اورمُخَدِّرات کا بھی یہی حکم ہے۔ اسی طرح بتوں کے علاوہ باقی آلاتِ شرکیہ بھی اس حرمت میں داخل ہیں۔ جب کہ دلفریب باتوں میں گانے،موسیقی، رومانوی ناول،فحش لٹریچر اور باطل نظریات پر مشتمل کتب سب شامل ہے۔ لہٰذا گانوں اور موسیقی پر مشتمل آڈیو، ویڈیو کیسٹس، سی ڈیز، فحاشی،جادو اورعلم نجوم کی تعلیم پر مبنی کتابوں کی تجارت حرا م ہے۔

٭نبی ﷺنے کتے اور بِلّے کی قیمت سے بھی منع فرمایا ہے۔ ابو زبیر کہتے ہیں میں نے :

«سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ ثَمَنِ الْکَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ قَالَ زَجَرَ النَّبِيُّ ﷺ عَنْ ذَلِکَ»

''جابرؓسے کتے اور بِلّے کی قیمت کے بارہ میں پوچھا۔ اُنہوں فرمایا: نبی1نے اس سے ڈانٹا ہے۔ '' [صحیح مسلم: باب تحریم ثمن الکلب]

یہاں یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ حرام اشیا کا لین دین جس شکل میں بھی ہو، وہ ناجائزہی شمار ہو گا، جیسا کہ سیدنا جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے فتح مکہ کے سا ل مکہ مکرمہ میں نبی ﷺکو یہ فرماتے سنا:

«إِنَّ اﷲَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَیْعَ الْخَمْرِ وَالْمَیْتَة وَالْخِنْزِیرِ وَالأَصْنَامِ» فَقِیلَ یَا رَسُولَ اﷲِ أَرَأَیْتَ شُحُومَ الْمَیْتَة؟ فَإِنَّهُ یُطْلَی بِهَا السُّفُنُ وَیُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ وَیَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ فَقَالَ: «لاَ هُوَ حَرَامٌ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اﷲِ ﷺ عِنْدَ ذَلِکَ قَاتَلَ اﷲُ الْیَهُودَ إِنَّ اﷲَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا حَرَّمَ عَلَیْهِمْ شُحُومَهَا أَجْمَلُوہُ ثُمَّ بَاعُوہُ فَأَکَلُوا ثَمَنَهُ» [صحیح بخاری باب بیع المیتة والأصنام، صحیح مسلم :باب تحریم بیع الخمر]

''بلا شبہ اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی خرید وفروخت کو حرام قرار دیا ہے۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ ﷺ! مردار کی چربی کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے کیونکہ یہ کشتیوں کولگائی جاتی ہے اور اس سے چمڑوں کومالش کی جا تی ہے اور لوگ اس کو چراغوں میں جلاتے ہیں، توآپ نے فرمایا: نہیں یہ بھی حرام ہے۔ پھر اس موقع پر آپ نے فرمایا: اللہ یہودیوں کو تباہ کرے جب اللہ تعالیٰ نے اُن پر چربی حرام کی تو اُنہوں نے اس کو پگھلاکر بیچا اور اس کی قیمت کھاگئے۔ ''

3. ابہام سے پاک ہو

تیسرا اُصول یہ ہے کہ جس چیز کا سودا ہو رہا ہے وہ اپنی جنس، ذات، مقدار اور اوصاف کے لحاظ سے بالکل واضح اور متعین ہو،کسی بھی اعتبار سے مبہم یاغیر واضح نہ ہو۔ اس قسم کے ابہام کواصطلاح میں غَرَر (Uncertainty)کہتے ہیںجو شریعت کی نظر میں ممنوع ہے جیسا کہ حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے:

«نَهَی رَسُولُ اﷲِ ﷺ عَنْ بَیْعِ الْحَصَاة وَعَنْ بَیْعِ الْغَرَرِ»

[صحیح مسلم: باب بطلان بیع الحصاۃ]

''رسول اللہ ﷺنے کنکری کی بیع اور غرر پر مشتمل بیع سے منع فرمایا ہے۔''

کنکری کی بیع خرید وفروخت کا وہ طریقہ ہے جوزمانۂ جاہلیت میں رائج تھا۔ فروخت کنندہ خریدار سے کہتا: میں یہ کنکری پھینکتا ہوں،یہ جہاں گرے گی میں وہاں تک یہ زمین آپ کو اتنے میں فروخت کرتا ہوں؛ایسا کرنا ممنوع ہے،کیونکہ اس صورت میں زمین مبہم رہتی ہے، جبکہ شریعت کا حکم یہ ہے کہ جو چیز فروخت کی جا رہی ہو وہ واضح اور متعین ہونی چاہیے۔ یہ بھی اصل میں غررہی ہے مگر چونکہ زمانہ جاہلیت میں لوگ اس میں ملوث تھے، اس لیے اس کاعلیحدہ تذکرہ فرمایا۔ اس نوعیت کی اور بھی کئی بیوع رائج تھیں مگرآپ ﷺنے سب پر پابندی عائد فرمادی۔

٭ ہمارے معاشرے میں ہاؤسنگ اسکیموں کی فائلیں فروخت کرنے کا رواج ہے حالانکہ ابھی وہاں نہ تو پلاٹنگ ہوئی ہوتی ہے اور نہ ہی اَفراد کا الگ الگ حصہ متعین ہوتا ہے۔ شرعی اعتبار سے فائلز کی خرید وفروخت جائز نہیں کیونکہ جب تک اسکیم کی پلاٹنگ نہ کر دی جائے، پلاٹ مبہم رہتا ہے جس کی نشاندہی ممکن نہیں ہوتی اور مبہم چیز کی خرید وفروخت ناجائز ہے۔ اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے پلاٹنگ کی جائے، اس کے بعد خرید وفروخت شروع ہو۔

زمین میں پوشیدہ سبزیوں کی بیع

بعض اوقات کاشت کارشلجم، گاجر، مولی، اَروی، لہسن اور پیاز وغیرہ کی فصل کو زمین کے اندر ہی فروخت کر دیتے ہیں۔ چونکہ یہ سبزیاں زمین میں پوشیدہ ہوتیں ہیں، اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کرنا درست ہے یا یہ غرر کے زمرہ میں داخل ہے ؟جلیل القدر فقیہ امام ابن قیم ؒ اس کے جواب میں فرماتے ہیں:

"ولیس من بیع الغرر بیع المغیبات في الأرض کاللفت والجزر والفجل والقلقاس والبصل ونحوها فإنها معلومة بالعادة یعرفها أهل الخبرة بها وظاهرها عنوان باطنها فهو کظاهر الصبرة مع باطنها ولو قدر أن في ذلك غررًا فهو غرر یسیر یغتفر في جنب المصلحة العامة التي لا بد للناس منها" [زاد المعاد: ج۵؍ ص۸۲۰]

''جو سبزیاں زمین میں پوشیدہ ہوتیں ہیں جیسے شلجم، گاجریں، مولیاں، اَروی اور پیاز وغیرہ ہیں ان کی (زمین کے اندر) بیع غرر میں داخل نہیں ہے کیونکہ یہ عام طور پر معلوم ہوتی ہیں۔ ان کے بارے میں معلومات رکھنے والے ان کو جانتے ہوتے ہیں۔ ان کی ظاہری حالت سے ان کی اندرونی حالت کا علم ہو جاتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے غلے کے اوپر والے حصے کو دیکھ کر اس کی اندرونی حالت کا پتا چل جاتا ہے۔ اگر اس میں غرر تسلیم کر بھی لیا جائے تو یہ معمولی ہو گا جو مفادِ عامہ جو کہ لوگو ں کے لیے ناگزیر ہے، کی وجہ سے ناقابل گرفت ہے۔ ''

مزید فرماتے ہیں:

''اگر ان کو ایک ہی مرتبہ نکال کر بیچنے کی شرط عائد کر دی جاتی تو اس میں مشقت ہو تی اور لوگوں کے اَموال خراب ہوتے جبکہ شریعت کا یہ تقاضا نہیں ہے۔ اور اگر یہ پابندی لگا دی جاتی کہ تھوڑی تھوڑی مقدار میںبیچی جائے یعنی جتنی نکالی جائے، اتنی ہی فروخت کی جائے تو اس میں بھی تنگی اور حرج ہوتا، اس سے اصحابِ مال اور مشتری کے مفادات کامعطل ہونا کسی سے مخفی نہیں ہے۔'' [ایضاً: ص۸۲۱]

4. سپرد گی ممکن ہو

فروخت کی جانے والی چیز کے متعلق چوتھا حکم یہ ہے کہ فروخت کنندہ اس کو خریدار کے حوالے کرسکتاہو۔ جو چیز خریدار کے سپرد نہ کی جا سکتی ہو، اس کو بیچنا جائز نہیںکیونکہ مشتری سے قیمت وصول پانے کے بعد چیز اس کے حوالے نہ کرنا صریح زیادتی ہے، چنانچہ رسی تڑا کر بھاگے ہوئے جانور کو فروخت کرنا صحیح نہیں، تاآنکہ مالک اس پر قابو نہ پا لے۔ایسے ہی اس پلاٹ اور مکان کو بھی بیچنا درست نہیںجس پر کسی نے ناجائز قبضہ کررکھاہو حتیٰ کہ اسے ناجائز قابض سے واگزار کرا لیا جائے کیونکہ ان صورتوں میں سپرد گی ممکن نہیں ہے، ہاں اگر غصب شدہ پلاٹ یا مکان غاصب کو ہی فروخت کیا جائے یا کسی ایسے شخص کو جو غاصب سے قبضہ لینے کی طاقت رکھتا ہو تو پھر جائز ہے۔ تاہم قبضہ نہ ملنے کی صورت میں خریدار کو بیع منسوخ کرنے کا اختیار ہو گا،چنانچہ مشہور حنبلی فقیہ علامہ بہوتی ؒلکھتے ہیں:

"فإن باعه من غاصبه أو قادر علی أخذہ صحَّ لعدم الغرر فإن عجز بعد فله الفسخ" [ الروض المربع:۲۷۹]

''اگر غصب شدہ چیزغاصب کو یا ایسے شخص کو بیچے جو قبضہ لے سکتا ہو تو یہ بیع صحیح ہو گی کیونکہ اب غرر نہیں رہا، اوراگر بعد میں قبضہ نہ لے سکا تو اس کو منسوخ کرنے کا حق حاصل ہو گا۔''

٭٭٭٭٭