افراط و تفریط کے درمیان اسلام کی راہِ اعتدال

قسط دوم

ہمارے پہلے آباؤ اجدادجو اپنے عمل و اخلاق، تہذیب و تمدن اور معاشرتی ترقی کی بدولت، ساری دنیا کے پیشوا تھے، جن کی طرف ہماری نسبت ایک ناخلف کی ہی حیثیت سے ہو سکتی ہے۔ ان کا طرزِ عمل عورتوں کے معاملہ میں درست تھا، کیونکہ ان کے ہاں عورت اگر ایک طرف معاشرے کی متحرک روح اور چاق و چوبند فرد تھی جو علم و عمل کے خانگی، زرعی اور جنگی میدانوں میں مرد کے شریکِ کار ہوتی تو دوسری طرف ان تمام ذمہ داریوں کے باوجود بھی وہ باپردہ رہتی جو اس کی شرافت و ناموش کا محافظ ہوتا، اگر کوئی شخص اِس کا کسی قسم کا حق دبا لیتا تو حق کے حصول سے اس کا حجاب کبھی مانع نہ ہوتا اور نہ ہی صلح و جنگ کے امور میں مرد کے ساتھ تعاون کرنے میں رکاوٹ بنتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اسلاف کیا مرد اور کیا عورتیں سب تہذیب و تمدن کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے۔ قرآنی تعلیمات نے عورت کی ترقی میں کبھی رکاوٹ نہیں ڈالی بلکہ اسی مبارک کتاب کی پاکیزہ تعلیمات کا معجزہ تھا کہ عورت کی آبرو اور شرافت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اسے معاشرہ میں اعلیٰ مقام ملا۔

لیکن ہمارے پچھلے آباؤداجداد جب دین و دنیا کی علمی اور صحیح عملی راہ سے ہٹ جانے کی وجہ سے عفت اور خلق کے بلند معیار قائم کرنے سے عاجز آگئے اور شرع محمدی کی حدود نافذ کرنے سے قاصر رہے تو انہوں نے فرار اور چھپنے کی راہ اختیار کی اور (بقول شما) پردہ میں غلو کر کے عورتوں کو گھروں میں زندہ درگور کر دیا۔ اگر اشد ضرورت پڑنے پر نکلیں بھی تو انہیں صرف ایک آدھی آنکھ کھولنے کی اجازت دی ان کی آواز تک کو موجب شرم قرار دیا، ان کا محرموں اور خاوندوں کی موجودگی میں بھی مردوں سے خواہ وہ کتنے صالح ہوں بات تک کرنے کو بے حیائی پر محمول کیا۔ پھر معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ بلکہ اسے لکھنے پڑھنے سے بھی محروم رکھا جس سے اس اِن کی وراثت، خرید و فروخت، شہادت اور وکالت کے حقوق اور دیگر ہر قسم کے تصریفات اور اختیارات ضائع ہو گئے جو انہیں اسلامی شریعت نے عنایت فرمائے تھے۔ ایسی عورتوں کی حالت زار زندوں کی بجائے مردوں سے زیادہ ملتی جلتی ہے، بلکہ معاملہ اس سے بھی تجاوز کر چکا ہے کہ کنواری لڑکیاں اور دوشیزائیں حجاب کی ناجائز سختیوں کے اندھیروں میں ایسی گم ہوئیں کہ انہیں ا نکے والدین اور بھائی بہنوں کے علاوہ دوسری کوئی عورت بھی نہیں دیکھ پاتی، اس طرح اس سنت مطہرہ پر عمل جاتا رہا ہے۔ جس میں رسول خدا ﷺ ارشاد فرماتے ہیں۔

«اإذَا اأرَادَ اَحَدُکُمْ اأنْ یتزَوَّجَ ا مْرَأَة فَلْیَنْظُرْ إلَیْھََا فَاِنَّه أحْرٰی أنْ یُؤْدَمَ بَیْنَھُمَا»

''جب کسی عورت سے نکاح مطلوب ہو تو اسے قبل از نکاح دیکھ لے کیونکہ اس سے محبت بڑھنے کی زیادہ توقع ہے۔''

یعنی اگر وہ تخلیہ کی ملاقات اور مقامِ تہمت سے گریزاں ہوتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ لیں تو اس سے اتفاق پیدا ہونے کی زیادہ توقع ہے۔

اِن غیر شرعی تکلفات کے نتیجہ میں جو جرائم منظرِ عام پر آتے ہیں، وہ نہایت کثیر التعداد اور آئے دِن پیش آنے والے ہیں، چنانچہ نکاح شادی کے موقعوں پر فریب کاری اور دھوکہ دہی کی کافی مثالیں سامنے آتی ہیں، مثلاً کسی شخص کی دو بیٹیاں ہوں جن میں سے ایک خوبصورت جس کا نام لیلیٰ اور دوسری بدصورت جسے وعد کہتے ہوں اگر کوئی خوبصورت سے نکاح کا پیغام دے کر بھیجتا ہے۔ تو چونکہ نہ وہ انہیں پہچانتا ہے اور نہ ہی بڑھیا عورت انہیں جانتی ہے، جو اس کی طرف سے پیغام لے کر جاتی ہے تو اہلِ خانہ مغالطہ دے کر کہ خوبصورت وعد ہے، بدصورت سے نکاح کر دیتے ہیں، جس کا خمیازہ اِسے بھگتنا پڑتا ہے اور اس کا مال ضائع جاتا ہے۔

اگر اصحاب فہم و فراست اور نیک لوگ ایک تحریک کی شکل میں اس رواج کو ختم کرنے پر تل جائیں اور عورت کو وہی مقام دیں جو اسے دورِ نبوت میں نصیب تھا جس کا مظہر بعض دیہاتوں میں آج تک موجود ہے اور اس کے ساتھ نظر کی حفاظت کی تلقین بھی کریں تو ان کا تعاون نہایت ضروری ہو گا۔ لیکن وہ لوگ جو آزادیٔ نسواں کے داعی اور اس کے حقوق کے (نام نہاد) نگرا ن ہیں ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جن کی امت مسلمہ کے ِدل میں کوئی عزت ہے اور نہ ہی اِن پر کوئی اعتماد ۔۔، کیونکہ ان کے پاس اخلاق ہے نہ غیرت، انہیں آبرو کا پاس ہے نہ عزت و ناموس کا کچھ لحاظ، عوام ان پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ اس تحریک کے در پردہ ایسے ارادے رکھتے ہیں جو بھیڑ بکریوں کے گلے میں بھیڑیے کے ہوتے ہیں۔

اور یہ چیز بھی ان لوگوں کو معلوم ہے کہ مستورات کو حجاب کی ناجائز پابندیوں سے اگرچہ دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن منہ کھلا چھوڑ کر، حسن و جمال کی نمائش کرتے ہوئے آبرو کی قدر و قیمت ختم کر دینے میں جن مصائب سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ ان کا کوئی کنارہ نہیں، عورت کی طرف سے ایسے اقدامات نہایت خطرناک اور دوزخ میں لے گرنے والے کناروں پر استوار ہیں۔ عورت کی اِس مصیبت کا حل نہ تو کوئی ڈاکٹر کر سکا اور نہ ہی کوئی تعویز گنڈے کرنے والا، بلکہ لوگ اس کے معاملے میں دو گروہ بن گئے ایک افراط کی راہ پر چل نکلا اور دوسرا تفریط میں گم ہو گیا۔

آزادیٔ نسواں کے دعویدارو! خدا گواہ ہے اگر ہمیں یہ یقین ہوتا کہ تم واقعی عورتوں کی ناگفتہ بہ حالت کی اصلاح میں فہم و فراست اور عقل و خرد کے مضبوط اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نیکی اور سعادت کو نصب العین بناؤ گے۔ اور یہ کوشش کرو گے کہ وہ مامتا کے زریں اصول میں کمال حاصل کرتے ہوئے نیک اولاد جنیں گی اور ان کی گھریلو زندگی خوشگوار وار سعادت سے لبریز ہو گی تو ہم تمہاری امداد و نصرت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کرتے۔

لیکن ہم نے تمہاری طبیعتوں کو اوچھا اور تمہاری نیتوں کو فاسد پایا۔ تم فریب کاری اور دھوکہ دہی سے کام لے کر سادہ لوح دوشیزاؤں کی آبرو لوٹتے اور دنیا کے پرخطر مراحل کو سبز باغوں کے چکموں میں تبدیل کر کے ہر حیلے اور بہانے سے ان کا شکار کرتے ہو، تم انہیں زندگی کے ہر موڑ میں ایسی دشواریوں سے ہم کنار کرنا چاہتے ہو جو کسی دشمن کے ذہن میں بھی نہیں آتیں۔ اس لئے ہمارا یہ کہنا ہے کہ حجاب کی ناجائز، سختیاں تمہاری اس تحریک کے درپردہ برآمد ہونے والے خطرناک نتائج کی نسبت بہت ہلکی ہیں۔ پھر تمہارا یہ کہنا کہ یہ فریب کاریاں اور حیلہ تراشیاں، جن کا نتیجہ شریف خاندانوں کی بربادی ہوا ہے، تم نے اہلِ یورپ کی اقتدا میں اختیار کیں یہ بھی نہایت تعجب خیز ہے، چنانچہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ یورپ کے ترقی پذیر اس بے راہ روی کے موجد نہیں بلکہ یہ چیز انہیں اپنے (جاہل اور غیر شائستہ) اسلاف سے ورثہ میں ملی ہے، البتہ انہوں نے اس حالت کو تبدیل کرنے کی کوشش ضرور کی ہے، چنانچہ رپورٹ ملاحظہ ہو۔

''یہ چیز یقینی ہے کہ وہ ممالک جن میں اسلامی آداب و اخلاق ابھی باقی ہیں ان میں شادی کے نتائج شاندار رہتے ہیں۔ وہاں شادی شدہ عورتوں کی تعداد ۹۵ فیصد ہے اور یہ سب کچھ حجاب کی پابندیوں کے باوجود صرف اسلامی ہدایات کا کرشمہ ہے۔''

کیا آپ جانتے ہیں کہ جب ہٹلر نے یہ دیکھا کہ جرمن میں شادی شدہ جوڑے چالیس فیصد سے زائد نہیں تو قانون پاس ہوا کہ جو شادی کرے اسے پانچ ہزار مارک قرضہ یعنی اس زمانہ کے چار سو د ینار دیئے جائیں گے۔ جس کی ایک قسط ایک بچہ پیدا ہونے پر معاف اور پانچ بچوں کا باپ بننے پر مکمل قرضہ معاف ہو جائے گا۔

اور یہ بھی اعلان ہوا کہ ماؤں کو ہر سال فصل ربیع کے موقعہ پر انعام و اکرام سے نوازا جائے گا۔ ان کیلئے قیمتی تحائف اور بہترین ہدیے مخصوص کر دیئے گئے اور ایک خکم کے مطابق پانچ بچوں کے والدین کو تمام ٹیکس معاف کرنے کے علاوہ عمدہ ترین مالی امداد سے نوازا گیا۔

دوسری طرف غیر شادی شدہ مرد ہوں کہ عورتیں اگر وہ اچھی ملازمت پر فائز ہوں تو انہیں عالمی جنگ کے موقعہ پر اپنی آمدنی کا انتہائی حصہ بصورت ٹیکس ادا کرنا پڑتا۔ ان سب احکام کے باوجود شہری ماحول میں شادی شدہ لوگوں کی تعداد چالیس فیصد سے نہ بڑھ سکی، ہاں دیہی علاقوں میں کچھ اضافہ ہوا۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ دیہات کا نظام ہی ایسا ہے کہ ایک دوسرے کے تعاون کے بغیر نہیں چل سکتا۔

اگر کوئی یہ پوچھے کہ شہری ماحول میں قلت نکاح کا ذمہ دار کون ہے؟ تو بغیر کسی شک و شبہ کے کہوں گا کہ اِس کے ذمہ دار مرد ہیں۔ کیونکہ غیر شادی شدہ عورت خواہ امیر ہو خواہ غریب نکاح کی خواہش میں بے قرار رہتی ہے۔ اس کے لئے موضوع نکاح سے بڑھ کر کوئی موضوع دلچسپ نہیں، خصوصاً ایسی بدنصیب عورت جو کسی شادی چور (ہایرات شفندلر) کے دام فریب میں گرفتار ہو چکی ہو۔ کیونکہ بہت سی لڑکیاں فصل ربیع کے پھولوں کی مانند خوبصورت، خوش و خرم اور ناز و نعمت میں پلی ہوئی تھیں، ایسے لوگوں نے انہیں بدبختی اور حرمان نصیبی کے دوزخ میں جھونک کر ان کی زند گی کا ستیاناس کر دیا۔ یہ شیطان سیرت لوگ حسن و شباب اور بہترین وضع قطع لے کر شہروں میں داخل ہوئے ہیں۔ ان کی شکل و صورت، قدو قامت، شیرینی کلام، ہر قسم کے رقص کا تجربہ، فضول خرچی، حسن انتخاب اور خوبی تنقید دیکھ کر نوجوان لڑکیوں کے منہ میں پانی آجاتا ہے انہوں نے اپنے ارسقراطی نسبت کے مختلف نام رکھے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات اِس کا ثبوت مہیا کرنے کے لئے نقلی پاسپورٹ بھی پاس رکھتے ہیں۔ وہ ہمیشہ امیر گھرانے کی لڑکیوں پر ڈور ڈالتے ہیں۔ ان کے سامنے دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بہت بڑے سرمایہ دار اور امیر و کبیر گھرانے کے چشم و چراغ ہیں۔ پھر بینک سے بھاری مقدار کا کوئی چیک لڑکی کے سامنے کیش کروا لیتے۔ یا کسی شریک کار کو تار دے کر بہت بڑی رقم منگوا لیتے ہیں (ساتھ ہی اسے مختلف لڑکیوں کی تصویریں اور ان کے خطوط دکھاتے ہیں جو ان کے دھوکے میں آکر لکھنے لگتی ہیں) وہ ان کی تصاویر دیکھ کر کہ یہ لڑکیاں اپنی شکل و صورت، ادبی معیار اور خاندانی شرافت کے باوجود اسے چاہتی ہیں تو وہ (بازی لینے کی فکر میں) اس کے عشق اور فتنۂ محبت میں بڑھ جاتی ہے۔ جب اس کا داؤ ہر لحاظ سے مکمل اور اس کی عقل اس کے عشق میں اندھے ہونے کی وجہ سے کام نہیں کرتی تو وہ اچانک کوئی بہانہ تراشتا ہے کہ ایک بھاری مقدار کا چیک جو اس نے اپنے ماں باپ سے طلب کیا تھا، فلاں وجہ سے اس کی وصولی میں دیر ہوگئی، حالانکہ یہ وجہ بالکل بے بنیاد ہوتی ہے۔ لڑکی ناتجربہ کاری کی وجہ سے دھوکہ میں آکر اس کی مرضی کے مطابق قرضہ لا دیتی ہے۔ جسے حاصل کرنے کے بعد وہ فوری سفر کا بہانہ بنا کر اور فوری واپس کا وعدہ کر کے ہمیشہ کے لئے چھوڑ جاتا ہے۔

بعض اوقات وہ حاملہ رہ جاتی ہے، لیکن یہ شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کیونکہ نکاح ہونے سے پہلے وہ ایسی ادویات استعمال کرنے میں خاصی احتیاط اور باقاعدگی اختیار کرتے ہیں جن سے حمل نہیں ہوتا۔ کیا آزادیٔ نسواں کے دعویدار یہ جانتے ہیں کہ اہل یورپ میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک سے متعلقہ عورت بھی مرد کی حمایت، نگرانی اور اس کی سرپرستی کی دست نگر رہتی ہے۔ اس کی اس ضرورت کو مال، علم، شرافت، حسب و نسب اور کسی قسم کا جاہ و جلال پورا نہیں کرتے۔ اِس ضمن میں برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ کا قصہ مشہور ہے کہ وہ ایک روز خاوند کے کمرے پر آئی، دروازہ پر دستک دی۔ اندر سے آواز آئی:

''کون ہے؟''

کہنے لگی: ''میں ملکہ ہوں۔''

جواب ملا:

''مجھے ملکہ کی ضرورت نہیں۔''

اسے فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا، تلافی کرتے ہوئے کہنے لگی۔

''دروازہ کھولئے! میں آپ کی پیاری وکٹوریہ ہوں۔''

''ہاں اب کھولتا ہوں۔'' اس نے جواب دیا۔

تو اللہ نے ہر ذی روح مادہ کو خواہ بے زباں ہو یا ناطق اسے طبعی طور پر نر کا محتاج بنایا ہے۔ نیز اس کی طبیعت میں رب العزت نے مصنوعی نزاکت اور ناز و نخرہ بھی کوٹ کوٹ کر بھر دیا ہے۔ عورت خواہ انتہائی ترقی پذیر ملک اور تہذیب میں کیوں نہ پروان چڑھی ہو، کسی صورت میں بھی وہ مرد کی حمایت سے مستغنی نہیں رہ سکتی۔

مجھے ''بون 1'' شہر میں ''فرادزی'' نامی ایک عورت نے بتایا کہ وہ خاوند کی زندگی میں اس کی ایک معشوقہ کی وجہ سے خون کے گھونٹ پیتی رہتی۔ لیکن جب اس کی موت کی وجہ سے سارے کام ادھورے رہ گئے تو وہ اس کے فراق پر آنسو بہانے لگی۔ اگر وہ کسی فرم کو کوئی آرڈر بھیجتی ہے تو اپنے نام کا آخری حصہ جو اس کی نسوانیت کا غماز ہے حذف کر دیتی ہے تاکہ ایسا نہ ہو کہ مکتوب الیہ کو اس کی اس کمزوری کا علم ہو تو وہ آرڈر بک کرنے میں غفلت اور سستی سے کام لے۔

اس نے مجھے یہ بھی بتایا کہ بعض اوقات اس کے دروازے پر خلافِ قانون کچھ مسکین صدقہ و خیرات مانگتے ہیں تو وہ بھکاری پر رحم کھا کر دروازے کی درز سے پیسے پھینکتی ہے تاکہ نہ وہ خالی جائے اور نہ ہی کوئی چور بھکاری کے بھیس میں اس کے گھر میں آگھسے۔

برلن2 ہمارے پڑوس میں ایک عورت رہائش پذیر تھی۔ جس کے چھوٹے چھوٹے تین بچے تھے۔ پہلی عالمگیر جنگ میں فضائی حملوں کی خبر دینے میں جب خطرے کی گھنٹی بجتی تو اس کے ساتھ ہی عورت اور اس کے بچوں کی چیخیں بلند ہونے لگتیں۔ وہ ہمیشہ اپنے پاس آگ بجھانے کے لئے پانی کی ایک بہت بڑی بالٹی رکھتی۔ وہ خطرے کا الارم سنتے ہی تینوں بچوں کو جگا دیتی، کپڑے پہناتی، کچھ کھانے پینے کو دے دیتی، کیونکہ بعض اوقات حملے کی مدت چھ گھنٹے یا اس سے بھی زائد وقت تک ہوتی اور ان دنوں یعنی عالمی جنگ کی ابتدا سے ۱۹۴۲ تک فضائی حملے صرف رات کو ہوتے۔

اس واقعہ کے ضمن میں یہ ذکر بھی مناسب ہوگا کہ پہلی عالمی جنگ کی ابتدا میں فضائی حملے دو قسم کے ہوتے۔

1) روسی حملے: چونکہ روس قریب تھا۔ اس لئے ان کی علامت یہ تھی کہ غروب آفتاب کے آدھ گھنٹہ بعد شروع ہو جاتے۔ جرمن ان حملوں سے بالکل نہ گھبراتے اور اکثر لوگ پناہ گاہیں بھی تلاش نہ کرتے۔

2) انگریزی حملے: ان حملوں سے بہت جلد تباہی پھیل جاتی اور جرمن ان سے بچاؤ کی ہر ممکن تدبیر کرتے تو جب میں ماں بچوں کی چیخیں سنتا اور چونکہ میرے علاوہ کوئی اور مرد ان کے پڑوس میں رہائش پذیر نہ تھا۔ اس لئے میں ہی ان کی مدد کو دوڑتا۔ ایک بچہ میں اُٹھا لیتا اور سیڑھیوں سے اترنے لگتا اور بسا اوقات تواترنے کی بھی مہلت نہ ملتی کہ فضائی حملوں کی گرج اور ان کے جواب میں داغی جانے والی توپوں کی گڑگڑاہٹ اور ان سے کوندتی ہوئی بجلیاں ہمارے چھت سے اترنے سے پہلے ہی شروع ہو جاتیں تو یہ مسکین سیڑھی کے پائیدان سے کمین گاہ کے دروازے تک کا فاصلہ کہ وہاں سے انہیں کھلے آسمان تلے چلنا پڑتا طے کرنے کی بجائے کھڑے کھڑے کانپتے رہتے۔ چنانچہ میں ان کا حوصلہ بڑھاتا۔ جب انہیں لے کر کمین گاہ کی چوتھی سیڑھی پر پہنچتا۔ واپس آجاتا اور خود اس میں پناہ گزیں نہ ہوتا۔ کیونکہ میرا کمین گاہ کے چوکیداروں سے ایک دفعہ جھگڑا ہو گیا تھا۔

اور ہوا یہ۔۔ کہ جب میں جرمنی سے چلا گیا تو اس گھر پر گولہ باری ہوئی جس سے وہ کمرہ بھی بمعہ سازوسامان جل گیا، جس میں میں سویا کرتا تھا۔

اگر ہم اِن واقعات کا شمار کریں جن سے ثابت ہو کہ عورت مرد کی محتاج اور اس کی حمایت کی ضرورت مند رہتی ہے تو بات طویل ہو جائے گی۔

البتہ اقوام یورپ میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ قوم کا عورتوں سے ناروا سلوک، ان سے بے رحمی برتنا ان کی انتہائی حرص کا شاخصانہ ہے جس کا ذِکر دوسروں کے لئے درسِ عبرت ہونا چاہئے کیونکہ ان کے ہاں رواج ہے کہ جب تک کوئی لڑکی کم از کم ۵۰۰۰ مارک حق مہر نہ ادا کرے شادی نہیں کر سکتی۔ ہاں اس سے زائد خرچ کرنا چاہے تو اس کی کوئی قید و بند نہیں کیونکہ جس کی قسمت ساتھ دے اسے اپنے خرچ کے مطابق مناسب خاوند ملے گا۔ کیونکہ خاوند کسی عورت کے حسن و جمال، اس کی طبعی شرافت اور حسب و نسب سے متأثر ہو کر شادی نہیں کرتا بلکہ اس کے ہاں سب سے زیادہ اہمیت اس کے مال و متاع کو ہے۔ یہ عورت مال جمع کرنے کی غرض سے اپنی جوانی کا ایک بہت بڑا حصہ ملازمت میں گزار دیتی ہے، کیونکہ صرف اسی صورت میں اِسے شادی کی اُمید ہو سکتی ہے۔

برلن میں نوکرانی تیس مارک میں دستیاب ہوتی ہے۔ جبکہ چھوٹے شہروں میں کھانے سمیت بیس مارک میں مل جاتی ہے وہ حق مہر جوڑنے کی فکر میں اپنے آپ پر ہر نعمت حرام کر لیتی ہے۔ بعض اوقات اس کی تنخواہ پر ایک بوڑھی اور کمزور ماں کی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔ اسے بھی چند ایک مارک بطور امداد دینا پڑتے ہیں۔

تو آپ اندازہ لگا ئیں کہ وہ کتنے سال ملازمت کرے تاآنکہ اس کے پاس ہزاروں مارک اکٹھے ہو جائیں۔ جن کے بعد وہ اپنے جیسے کسی مفلوک الحال مرد سے شادی کی سوچ سکے، پھر بات اِسی پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اسے تلاشِ خاوند کے لئے ناچ گھر اور سینما ہال وغیرہ کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اگر کسی مرد سے بات چیت کا موقعہ مل جائے تو اِسے غنیمت سمجھتی ہے۔

رواج یہ ہے کہ مرد ہی عورت کو رقص کی دعوت دیتا ہے۔ کسی مرد کی تلاش میں چند پیسے جن کی اسے اشد ضرورت ہوتی ہے خرچ کر کے کسی اجتماعی جگہ مثلاً سینما ہال، قہوہ خانہ، ہوٹل یا ناچ گھر میں چلی جاتی ہے اگر کوئی نہ ملے تو نامراد واپس لوٹ کر اگلی فرصت کا انتظار کرنے لگتی ہے۔ کیونکہ اس کے پاس اتنا وقت کہاں کہ وہ روزانہ چکر کاٹتی پھرے بلکہ اس کی بہترین حالت یہ ہے کہ ہفتہ میں ایک روز اِسے اتنی فراغت مل جائے۔

اگر کسی نے دعوت دی بھی تو عین ممکن ہے کہ اس کا مذہب جدا ہو یا صرف دھوکہ دے رہا ہو۔ اور اگر کوئی شخص ہر لحاظ سے مناسب ہو تو اسے قبل از نکاح کچھ عرصہ اس سے وقتاً فوقتاً ملاقاتیں کرنا ہونگی، پسند آجائے تو پھر سالہا سال منگنی میں ہی گزر جاتے ہیں۔ اس دوران خطرہ لاحق رہتا ہے کہ کہیں فریق ثانی وعدہ خلافی کر کے منگنی نہ توڑ ڈالے۔

میں بون یونیورسٹی کے شعبہ علوم مشرق کی ایک سیکرٹری عورت کو جانتا ہوں۔ جس کا دِل ہمیشہ غم زدہ رہتا۔ اس کا واقعہ یوں تھا کہ کسی شخص نے اس سے وعدۂ نکاح کیا اس کے ساتھ چودہ برس ملاقاتیں کرتا رہا۔ جن کا مقصد نان نفقہ اور زندگی کے کاموں میں ہاتھ بٹانے کی بجائے صرف جنسی تسکین تھا۔ کیونکہ ذمہ داریوں کا سوال صرف نام کے خاوند بیوی بننے کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ اس سے پہلے وہ صرف منگیتر کہلاتے ہیں۔ چودہ برس کے بعد اس کی متاع عزیز لٹ گئی اور حسن و شباب ڈھل گیا تو اس نے اسے چھوڑ کر کسی اور عورت سے شادی کر لی جو اس سے زیادہ مالدار تھی اور یہ حسرت کے آنسو بہاتی رہ گئی۔

ہزار ہا مثالوں میں سے یہ ایک مثال ہے۔ ایسے منگیتروں کی زندگی کا سب سے زیادہ تعجب خیز پہلو یہ ہے کہ مدت دراز تک دو محبوبوں کی طرح جنسی تعلقات سے محظوظ دو انسان جب نام کی شادی کر لیتے ہیں تو فوراً ہی ناچاقی ہو جاتی ہے، جس کا نتیجہ بالآخر طلاق ہوتا ہے۔

اس سلسلہ میں سب سے زیادہ حیرت انگیز مثال جرمنی کے شہر ''بون'' میں پیش آئی کہ بیس برس تک نہایت اتفاق اور ہر لحاظ سے مطمئن زندگی کاٹنے کے بعد جب نکاح کر لیا تو ایک برس ہی گزرا تھا، اگرچہ وہ بھی سارا لڑائی جھگڑے میں گزرا، کہ طلاق ہو گئی۔ میں نے راز پوچھا تو معلوم ہوا کہ منگیتر شادی سے پہلے اپنے اصلی عادات و اطوار کو مصنوعی اور بناوٹی چاپلوسیوں کے پردہ میں چھپا رکھتے ہیں کہ کہیں وہ بیزار ہو کر منگنی نہ چھوڑ دے لیکن نکاح ہوتے ہی یہ تکلفات یکسر ختم ہو جاتے ہیں اور انسان اپنے حقیقی روپ میں آجاتا ہے، جس کا نتیجہ نفرت، لڑائی جھگڑا اور بالآخر طلاق ہوتی ہے، اس سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ مشرقی ممالک کے جو لوگ ناتجربہ کاری اور کوتاہ بینی کی وجہ سے مغربی ممالک کی تقلید میں منگیتروں کے لئے خلوت کی ملاقاتیں اور جلوت کی محفلیں قائم کرنے کو اچھا سمجھتے ہیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ ایک دوسرے کے دلی بھید اور اندرونی باتیں ظاہر ہو جاتی ہیں۔ اگر کوئی قابل مواخذہ چیز نہ ملے تو اس طرح یہی اتفاق اور محبت آئندہ رسمی زوجیت کی خوشگوار زندگی کی بنیاد ہو گی لیکن مذکورہ بالا واقعات کی روشنی میں یہ چیز ثابت ہو چکی ہے کہ یہ دلیل بالکل بودی اور نکمی ہے کیونکہ تکلف برطرف کئے بغیر اصل طبیعتیں نہیں کھلتیں جس کا مرحلہ نکاح کے بعد شروع ہوتا ہے، نیز وہ غیر معصوم ہیں اس لئے خطرہ رہتا ہے کہ کہیں حرام کاری نہ شروع کر دیں۔ جس کا نتیجہ دین و دنیا کی بربادی اور رسوائی ہے۔

حدیث میں آتا ہے:«مَا خَلَا رُجُلٌ با مْرَأة إلّا کَانَ الشَّیْطَانُ ثَالِتَھُمَا»

جب بھی کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ خلوف میں ہوتا ہے تو ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے۔''

رسول اکرمﷺ نے ان عورتوں کو جن کے خاوند یا محرم پاس نہ ہوں ان کے پاس جانے سے منع فرمایا ہے۔ آپ سے دیور جیٹھ یعنی خاوند کے بھائی کے بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا وہ اس کے ساتھ علیحدہ ہو سکتا ہے؟

فرمایا: ''کہ وہ موت ہے''

یعنی اس کا خلوت میں اس سے ملاقات کرنا کسی غیر قریبی شخص کی نسبت زیادہ خطرناک ہے۔ اور نبی اکرم ﷺ نے عورت کو خاوند یا محرم کے بغیر کسی دوسرے شخص کے ساتھ سفر کرنے کو ممنوع فرمایا ہے۔ ان تمام احکام کا مقصد صرف آبرو، حسب و نسب، دین اور رحم کے حقوق کی حفاظت اور آپس کے اختلافات کو ختم کرنا ہے۔

ہاں منگیتروں کا ایک دوسرے کو بغیر کسی مقامِ تہمت یا تخلیہ وغیرہ کے دیکھ لینا، جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔ نہایت ضروری ہے کیونکہ نبی کریمﷺ نے از خود اس کا حکم فرمایا ہے،

ان کا یہ کہنا کہ خوشگوار شادی کی بنیاد محبت ہے۔ یہ قابل تنقید ہے کیونکہ محبت کی کئی قسمیں ہیں۔

جنسی تعلقات کی محبت، کھانے پینے کی محبت اور گھوڑ سواری کی محبت وغیرہ اور یہ محبت درحقیقت دل کا درد اور اس کا روگ ہے۔ جب تک اس کی تسکین نہ ہو بڑھتا رہتا ہے اور تسکین کی شکل یہی ہے کہ مطلوب سے اس کی غرض حاصل ہو جائے۔ جب مقصد حل ہو جاتا ہے تو یہ جوش ختم ہو جاتا ہے اور رغبت کمزور ہوجاتی ہے۔ اب اس کی وہ آنکھ نہیں رہتی۔ جس سے وہ اسے پہلے دیکھا کرتا تھا۔ یہی رغبت کمزور ہوتے ہوتے بالآخر ختم ہو جاتی ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ بہت سے لوگ عورتوں کے عشق میں گرفتار تھے۔ انہوں نے ان سے شادی کی خاطر سب کچھ لٹا دیا لیکن جب ان کی خواہش پوری ہو گئی تو وہ ان سے بیزار ہو گئے۔ ان کے نزدیک ان کی قیمت ایک کوڑی بھی نہ رہی۔ وجہ یہ ہے کہ انکی محبت قلبی نہ تھی بلکہ محض جذباتی اور جنسی تھی۔ جس کی تسکین پر محبت بھی جاتی رہی۔ کسی یورپی شخص سے سوال ہوا تھا کہ تجھے کونسی عورت پسند ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میں اپنی بیوی کے سوا ہر عورت کو پسند کرتا ہوں۔ اگر ایسی محبت بالکل ختم نہ بھی ہو تب بھی اس کا وہ جوش اور ولولہ ختم ہو جاتا ہے جو دیرپا رفاقت کے لئے ضروری ہے اور اگر اتفاق سے محبوب سنگ دل طبیعت کا، سخت اور بدمزاج ہو تو محبت کی جگہ بغض اور عداوت لے لیتے ہیں۔ محبت کی جملہ اقسام سے ایک قسم میلان زوجیت کی محبت ہے یہ محبت پہلی قسم محبت سے دیرپا ہوتی ہے۔ اگر اتفاق سے دونوں کی طبیعتیں مل جائیں تو ایام گزرنے پر یہ محبت پروان چڑھتی ہے۔ہمارا مقصد نہیں کہ حسن و جمال حقیقی محبت کا سبب نہیں ہوتا اور نہ ہم عورت کی ظاہری شکل و شباہت سے قطع نظر صرف اس کی روحانی اور اخلاقی خوبیوں پر اکتفا کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ ایک فاش غلطی ہے۔ بلکہ حقیقی محبت اس وقت تک کامل نہیں ہوتی،  جب تک کہ محبوب و مطلوب دوسری خوبیوں کے علاوہ خوبصورتی کے ساتھ مزین نہ ہو۔ اور ایسی محبت اس شرعی نکاح پر منحصر ہے۔ جس سے پہلے دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا ہو اور دونوں لالچ یا مجبوری کے بغیر میاں بیوی بننے پر آمادہ ہو گئے ہوں۔ اگر ان کے اخلاق اوررسوخِ عقیدہ بھی مل جائیں تو یہ چیز ان کی محبت کو نہایت طاقتور اور مضبوط کر دے گی اور اسلام نے اِسی کا حکم دیا ہے۔

اب رہا مذہب اسلام پر تمہارا یہ اعتراض کہ اس میں عورت کی وراثت مرد کی وراثت سے نصف ہوتی ہے تو یہ ایک فضول اعتراض ہے کیونکہ اسلام میں مرد پر ایسی مالی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جن سے عورت آزاد ہے مثلاً حق مہر کی ادائیگی، بیوی بچوں کا خرچ، غریب ماں باپ کی ذمہ داری اور یہ سب کچھ اس ذمہ داری کے علاوہ ہے جو ان کی حمایت و حفاظت اور ان کی طرف سے دفاع سے متعلق ہے۔ اس لئے اسے مال کی زیادہ ضرورت ہے بخلاف عورت کے کہ اسے مرد کی نسبت مال کی بہت تھوڑی ضرورت ہے۔


 

حوالہ جات

[1] زمانہ قدیم کے آباؤ اجداد

[1] زمانہ تأخر کے آباؤ اجداد

[1] مقصد یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کی بدولت خاوند بیوی نکاح سے پہلے بوجہ پردہ ایک دوسرے کی عادات و خصائل سے ناواقف ہونے کے باوجود کامیاب اور خوشخال زندگی بسر کرتے ہیں۔ طلاق کی نوبت کبھی کبھار آتی ہے، بخلاف اہل یورپ کے کہ وہ قبل از نکاح مدت تک ایک دوسرے کے ساتھ ہر طرح وابستہ رہنے کے باوجود جب صرف نام کے خاوند بیوی بنتے ہیں تو فوراً ناچاقیاں اور طلاقیں ہو جاتی ہیں اور یہ طلاقیں آئے دن ہوتی رہتی ہیں۔ ۱۲ مترجم

[1] مغربی جرمنی کا صدر مقام ہے۔

[1] جرمنی کے مشرقی اور مغربی حصوں کی سرحد پر واقع ہے۔ جس کے مغرب میں سرمایہ دارانہ نظام اور مشرق میں سوشلزم حکومت کر رہا ہے درمیان میں دیوار برلن ہے جس پر برقی رو چل رہی ہے۔ سوشلزم سے تنگ آکر لاکھوں انسان ہر سال دیوار پھاند کر مغربی جرمنی میں جانے کی کوشش میں برقی رو اور دونوں ملکوں کے پہرے کی پرواہ نہ کرت ہوئے موت کے منہ میں آتے رہتے ہیں، ۲۱ مترجم۔