اِس مہینے کی فضیلت کے متعلق حدیث کی کسی کتاب میں کوئی  ذِکر نہیں ملتا۔ شیخ عبد الحق دہلوی نے اپنی کتاب ''ما ثبت بالسنہ'' میں لکھا ہے کہ ''اس ماہ میں شیخ عبد القادر جیلانیؒ کی وفات ہوئی تھی، اور ان کا عرس ۹ تاریخ کو ہوتا ہے اور مشہور گیارہویں تاریخ ہے'' یہ لکھنے کے بعد انہوں نے عرس کے استحسان کا ذِکر کیا ہے۔ لیکن مسلمان عالم یا صوفی کے کسی مہینہ میں فوت ہونے سے اس مہینے کی فضیلت ثابت نہیں ہو سکتی۔ اگر یہ بات ہوتی تو جن مہینوں میں نبی کریم ﷺ آپ کے خلفائے راشدین اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی وفات ہوئی۔ جن مہینوں میں ائمہ اہل بیت اور دوسرے صالحین اور اولیا اللہ فوت ہوئے ان سب مہینوں کو افضل ہونا چاہئے حالانکہ اس امر کے متعلق کسی آیت، حدیث یا کسی امام مجتہد کے قول سے معمولی سا بھی ثبوت نہیں ملتا۔ عرسوں کا بھی یہی حال ہے کہ ان کے متعلق بھی کسی قسم کے کوئی عقلی یا نقلی دلیل نہیں ملتی، ہاں اگر مشائخ میں سے کسی کی طرف ایسا قول منسوب کیا جاتا ہے تو وہ حجت نہیں ہو سکتا دیگر غیر شرعی رسوم کی طرح عرس بھی ایک رسم ہے اور یہ رسم ایک ایسی بدعت ہے، جس کی قیامت کے روز باز پرس ہو گی، شاہ ولی اللہ محدثؒ دہلوی اپنے وصیت نامہ میں تحریر فرماتے ہیں:۔ ''نسبت صوفیہ غنیمت کبری است در سوم ایشاں ہیچ نمے ارزو'' ایسی رسوم کی کوئی اہمیت نہیں۔

عرس کی بدعت سے عوام الناس کی ایک کثیر تعداد پیر پرست اور قبر پرست ہو گئی ہے۔ اور لوگ عرس منانے کے لئے دور دراز کی منزلیں طے کر کے پہنچنے لگے ہیں، حالانکہ صرف زیارت قبر کے لئے بھی سفر کرنا شرعاً ثابت نہیں اور اس سفر میں توقیر کی زیارت کے علاوہ رسوم عرس بھی پیشِ نظر ہوتی ہیں۔

تاریخ وفات کو عرس (خوشی اور شادی) کا دن قرار دینا، خدا اور اس کے رسول ﷺ پر ایک جرأت ہے۔ کیونکہ کوئی وفات خوشی کی مصداق تب ہی ہو سکتی ہے، جب کہ پورا یقین ہو جائے کہ اس کا خاتمہ ایمان پر ہوا ہے۔ لیکن یہ بات ان لوگوں کے سوا جن کی مغفرت کی شہادت یا جن کو جنت کی بشارت رسول مقبول ﷺ نے دی ہے۔ کسی اور شخص کو حاصل نہیں خواہ وہ شخص کتنا ہی بڑا عابد، زاہد، صالح، عالم، عامل، متقی اور ولی کیوں نہ ہو، اہل سنت والجماعت کا یہی عقیدہ ہے، اور کتب دین سے بھی یہی واضح ہوتا ہے، ہاں جس شخص کو ہم متقی، صالح اور عابد و زاہد دیکھتے ہیں۔ اس کے حق میں ہمیں حسن ظن رکھنا چاہئے۔ لیکن یہ گمان اِس امر کا مقتضیٰ نہیں کہ ہم ان کی وفات کے دِن کو خوشی کا دِن قرار دے کر (قبر پر گھر میں) ایسی ایسی رسوم ادا کریں جن کا حکم ہمیں شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام سے نہیں ملتا۔

یہ رسوم عرس ان بدعات میں شامل ہیں، جن کے متعلق نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ''جو اسلام میں ایسے امور شروع کرے جو اس میں نہیں ہیں۔ تو وہ اس قابل ہیں کہ انہیں رد کر دیا جائے'' اور دوسری حدیث میں ہے کہ ''جو شخص ہمارے حکم کے علاوہ کوئی نیا کام کرے وہ رد کر دینے کے قابل ہے'' اور ایک تیسری حدیث میں بھی ایسے ہی الفاظ ملتے ہیں1۔ اور حدیث کے یہ الفاظ ہر نئے پیدا شدہ امر پر حاوی ہیں۔ کوئی ادنےٰ اور اعلےٰ بدعت اس دائرے سے خارج نہیں، یہ حدیث جس طرح بدعت کی بیخ و بن اکھاڑتی ہے اِس کی وضاحت ''نیل الأوطار'' میں بڑے اچھے انداز سے کی گئی ہے، اور ''دلیل الطالب'' میں بھی نقل ہے۔


 

حوالہ جات

 عن عایشة رضی الله تعالى عنھا قالت قال رسول اللہﷺ من أحدث فی أمرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد رواہ الشیخان وابو داو’ ولفظہ من  صنع أمرا علی غیر أمرنا فھو رد وابن ماجہ وفی روايته لمسلم من عمل عملا  ليس عليه أمرنا فهو رد