نام نہاد ترقی یافتہ اقوام کی تقلید میں ہمارے ہاں جس تعلیم و تہذیب کا دور دورہ ہے اور نوجوان نسل جس طرح اس کا شکار ہو رہی ہے۔ ۔ اس نے اسلامی تہذیب و تمدن اور مشرقی روایات کو ایسی بری طرح سے ڈائنا سیٹ کیا ہے کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، چند سالوں میں دیکھتے ہی دیکھتے ہماری سوسائٹی یورپ کی ذہنی غلام ہو گئی ہے۔ ہمارے ادارے، ہمارے مراکز، ہمارے دار العلوم اور تربیتی سنٹر سب یورپ زدگی کے مریض ہو گئے ہیں۔ ہمارا اندازِ فکر، ہماری معاشرت، ہمارا طرزِ زندگی اسلامی سادگی کو ترک کر کے عیسائیت کا نقال یا دیگر غیر اسلامی بلکہ اسلام  دشمن قوموں کے نقش قدم پر چلنے پر فخر محسوس کر رہا ہے، اس قلب ماہیت کی وجہ سے اسلام پر سے اعتماد اور ایمان باللہ کو سخت ٹھیس لگی ہے۔ قرآن، اسلام اور ہادیٔ اسلام کی عظمت بالکل کم ہو گئی اور سرِ عام نوجوان نسل نہ صرف اسلامی کلچر کا مذاق اُڑا رہی ہے، بلکہ ڈاکٹر فضل الرحمن اور ہمچو قسم کے اصحاب قلم اسلام کو مسخ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ عہدِ حاضر کے ایسے اکثر مدعیانِ ثقاقتِ اسلامی اسی مغربی مرعوبیت کا شکار اور تجدد پسندی کے مریض ہیں اور وہ اسلام کو بلا واسطہ اپنا ہدف بنانے کے بجائے ''ملاں'' کو تختۂ مشق بنا کر عوام کے دلوں سے اسلام کی وقعت کو زائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کے نزدیک عہد حاضر کے لادین نظریات اور لا دین سائنس کو مذہب پر بالا دستی اور اسلامی نظریات کو کھینچ تان کر ان کے مطابق کر دینا ہی معارف پروری ہے، وہ خود بدلنا نہیں چاہتے ہیں۔ حتیٰ کہ خود عہد نبویﷺ اور صحابہؓ کے دور کی قرآنی تاویلات اور دنیوی تعلیمات سے ہر جدت کا جواز پیدا کرنا ان کا بزعم خویش علمی مشغلہ ہو گیا ہے، بلکہ حسن پرستی، امرد پرستی، گانا بجانا، راگ و رنگ اور آلات مزامیر تک کو اسلام سے ثابت کیا جا رہا ہے۔ یہ سب ہماری انگریزی تعلیم اور انگریزی ذہنیت پر مبنی نصاب تعلیم کی برکات ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ جس قسم کی زبان مروج ہو گی اسی قوم کی تہذیب کی ترویج ہو گی۔ ظاہر ہے کہ جب پاکستان میں ہم نے انگریزیت کو سر کا تاج بنا کر رکھا ہے تو یہاں مکہ و مدینہ عرب و حجاز اور اسلام و قرآن کے تمدن کو اپنایا نہیں جا سکتا۔ تعجب کا مقام ہے کہ جس مذہب (اسلام) کو اول روز سے ہی عیسائیت و یہودیت نے اپنا حریف اور دشمن نمبر ۱ قرار دے رکھا ہے ہم نے اسی دشمن کے ہاں اپنی متاع ایمان چند چمکدار کھوٹے سکوں کے عوض بیچ دی ہے۔ حالانکہ ہمارا قرآن بار بار ہمیں یہود و نصاریٰ سے الگ رہنے کی دعوت دے رہا ہے۔

یورپی معاشرہ:

تعلیم کو انسان کی سیرت سازی اور تعمیر اخلاق میں بڑا دخل ہوتا ہے۔ اسلامی تعلیمات نے تمام اخلاقی برائیوں کا قلع قمع کیا ہے، بلکہ پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ میں اخلاق کی تکمیل ہی کے لئے نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اس کے برعکس یورپین زبان اپنے مخصوص کلچر کی حامل ہے اور اس کا کلچر یورپ کے ڈانس گھروں میں بخوبی جا کر دیکھا جا سکتا ہے، جہاں ہر شخص اس بارہ میں آزاد ہے کہ ہر شخص کی ماں، بہن، بیٹی، بیوی کے ساتھ بازو میں بازو ڈال کر سینہ سے سینہ ملا کر نہایت شرمناک انداز میں گھنٹوں ناچ کر سکتا ہے۔ اور اسے ایک اعلیٰ درجہ کا معاشرتی شرف سمجھا جاتا ہے۔ یورپ میں زنا کاری، اغواء، بالجبر، مرد و عورت کا کھلا اختلاط، سڑکوں پر حیا سوز گشت، سینماؤں میں فحاشی کی نمائش، باغات اور سیر گاہوں میں مخلوط شرمناک تفریح، دفتروں، تجارتی اداروں، تعلیمی مرکزوں، بنکوں، دوکانوں غرضیکہ سب جگہ بد کردار مرد و عورت اکٹھے کام کرتے اور مادرِ پدر آزاد زندگی بسر کرتے ہیں۔ بلکہ تکلف بر طرف نوڈ اِزم (NOODISM) کی تحریک یورپ بھر میں رائج ہو رہی ہے۔ وہ ایسی کلبیں ہیں جہاں مرد عورت مادر زاد ننگے رہتے ہیں اور اِسے فطری اور پیدائشی قرار دیتے ہیں۔ یورپ کے سینماؤں میں مار دھاڑ کی فلمیں، جرائم کی ٹریننگ، چوری، ڈاکہ، لوٹ کھسوٹ، اور رہزنی کی عملی تربیت کے لئے سینمائی مناظر دکھائے جاتے ہیں۔ اب یہی چیز ہم نے انگریزی طرز تعلیم کے ذریعہ اپنے ملک میں رائج کر لی ہے۔

تعمیر اخلاق میں تعلیم کا حصہ:

انگریز کی ہندوستان میں آمد سے پہلے ہماری ساری تعلیم قرآن کی تعلیم پر مشتمل تھی۔ مسجدیں ہمارے مراکز تھے۔ اُردو کی تعلیم بھی ہمارے اخلاقیات عالیہ کی علمبردار تھی، سبق سبق میں مائل اور اخلاقی قصے کہانیاں پڑھائی جاتی تھیں۔ فارسی، عربی سیکھنا ہر طالب علم کے لئے ضروری ہوتا تھا۔ ہندو اور غیر مسلم بھی ہماری مساجد میں مسلمان طلبا کے ساتھ پڑھنا قابل فخر سمجھتے تھے، ہم نے خود ایسے ہندو اہل قلم حضرت کو دیکھا ہے اور کئی ہندو مصنفوں کی کتابوں میں ان کی سیرت و سوانح کے ذیل میں پڑھا ہے کہ انہوں نے عربی، فارسی اور اُردو کی تعلیم مسجد کے پیش امام سے حاصل کی۔ خود انگریز کے ہندوستان سے رخصت ہونے کے وقت تک ہماری سکولی تعلیم میں اعلیٰ درجہ کی عربی فارسی کی تعلیم کا غالب عنصر تھا۔ فارسی میں گلستان، بوستان، پند نامہ شیخ عطار وغیرہ کتابیں طلبا کو از بر تھیں۔ چھ کلمے، نمازِ باترجمہ، روزمرہ کے مسائل، غرضیکہ قریباًقریباً زندگی کے اکثر معاملات میں رہنمائی اور اخلاقی تعلیمات سے واقفیت ہمارے طلبا کو میسر تھی۔

موجودہ نصاب سے اخلاقی تعلیم کا اخراج:

جونہی فرنگی یہاں سے رخصت ہوا ہم نے چن چن کر اپنے نصاب کو دین و اخلاق کی تعلیم سے پاک کر دیا۔ اور یورپین کلچر کی ایک ایک برائی کو اس میں سمونے کی کوشش شروع کر دی۔ اب حد یہ ہے کہ نہ صرف ہمارے نصاب میں عربی، فارسی اور اردو ناپید ہو گئی ہے، بلکہ خلافِ اسلام غیر مسلم مستشرقین کے مضامین شامل کر دیئے گئے ہیں، جس میں قرآن کریم، اسلام کی اکثر تعلیمات اور حد یہ ہے کہ خود ہادیٔ اسلام کے خلاف ایسے مضامین موجود ہیں جن میں آنحضرتﷺ پر تنقیدیں کی گئی ہیں، کہیں اسلام پر بزور شمشیر پھیلانے کا الزام ہے۔ کہیں اسلام کو غلامی کی سرپرستی کا مجرم گردانا گیا اور کہیں اسلامی قوانین کو جابرانہ، ظالمانہ اور بے رحمانہ قرار دیا گیا ہے اور کہیں حضور (ﷺ) کی پاک سیرت کو ایسے انداز میں پیش کیا ہے، جس سے پڑھنے والے کے دِل میں حضورﷺ کی عظمت کم ہو جاتی ہے، مثلاً تعداد ازواج کے سلسلہ میں بہت بدنام کیا گیا ہے۔ اور ایسے ایسے من گھڑت قصے ہیں کہ انہیں سن کر تعجب ہوتا ہے، پھر ہمارے سکولوں کالجوں کی تعلیمی امداد کے لئے جو غیر ملکی لائبریریاں کھولی گئی ہیں۔ ان کا اکثر و بیشتر لٹریچر اِس قدر زہر آلود ہے، کہ کوئی مسلمان اس کا سننا بھی گوارا نہیں کر سکتا لیکن ہمارے نوجوان ان امریکن اور برٹش لائبریریوں میں نہایت ذوق و شوق سے جاتے اور اس لٹریچر کا مطالعہ کرتے ہیں، اور ان لائبریریوں میں مفت سروس کے لئے نازک اندام یورپین عورتیں ہمارے نوجوانوں کے اخلاق کو متزلزل کرنے کے لئے موجود رہتی ہیں۔ ہمارا نوجوان طالب علم سمجھتا ہے کہ یہ ان ممالک کی عالی حوصلگی معارف پروری سیر چشمی اور علوم نوازی ہے، حالانکہ یہ دراصل ہمارے متاع صبر و ایمان پر ایک ڈاکہ ہے اور ہماری نوجوان پود کے اخلاق کی قتل گاہیں ہیں۔

تعلیم ہی رہزن بنا رہی ہے:

اس ناقص تعلیم اور غیر اسلامی نصاب کا ہی یہ اثر ہے کہ ہمارے ملک کا نوجوان جو اپنی بہن کی عصمت و عزت کا محافظ تھا، اب خود ہی ان کا ڈاکو، رہزن اور قاتل بن گیا ہے۔ سکولوں، کالجوں کے نوجوان ٹھٹ کے ٹھٹ بازاروں، گلیوں، سیر گاہوں، شاہراہوں غرضیکہ ہر جگہ نوجواں لڑکیوں کے تعاقب میں سرگرداں رہتے ہیں۔ سینمائوں میں عورتوں کو تلاش کرتے ہیں، عصمت فروشی کے اڈوں پر دادِ عیش دیتے ہیں۔ نوبت بہ ایں جار سید کہ زنانہ کالجوں کے دروازوں پر مسلح پولیس کا پہرہ ناگزیر ہو گیا ہے۔

ہمارے طالب علم ۸۰ فیصد سگریٹ نوشی کے عادی ہیں۔ ۹۰ فیصد طلبا سینما کو ایک جزوِ زندگی اور لازمۂ حیات تصور کرتے ہیں، ۳۰ فیصد طلبا شراب کے رسیا ہیں۔ ایک بہت بڑ ے ذمہ دار پولیس آفیسر نے چند سال ہوئے ملکی جرائم کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ اکثر و بیشتر جرائم میں نوجوان طلبا کا ہاتھ ہوتا ہے۔ انقلاب چرخ گردوں تو دیکھئے کہ جو مسلم نوجوان غیر مسلم اور کافر عورتوں تک کی عصمت کی حفاظت کو ضروری اور ایک انسانی عظمت خیال کرتا تھا۔ اب اپنی حقیقی بہن کے ذریعہ اِس کی ہم جماعت طالب علم لڑکیوں کی عصمت کے آبگینوں سے کھیلنے میں ایک فخر محسوس کرتا ہے اور اپنی چنڈال چوکڑی میں اس کا فخریہ اظہار کرتا ہے، یہ سب ہماری موجودہ تعلیم کے برگ و بار نہیں تو کیا ہیں؟

ہمارے فارغ التحصیل طلباء کے اوصاف:

ہم نے دیکھا ہے کہ ہمارے موجودہ فارغ التحصیل طلبا جو کالجوں سے گریجوایشن یا ایم۔ اے کر کے عام سوسائٹی میں داخل ہوتے ہیں، عام طور پر حیوان سے بھی بد تر ہوتے ہیں، عام معمولی اخلاقی تقاضوں سے بھی ناواقف ہیں۔ إلا ما شاء اللہ ہاں وہ خوش قسمت جنہیں گھریلو علمی، اخلاقی اور دینی ماحول مل گیا ورنہ شرم و حیا قسم کی کوئی چیز ان میں نہیں ہوتی۔ یہ لوگ نماز سے اکثر متنفر ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کو سلام کرنا، محبت سے پیش آنا، بڑوں کی عزت کرنا، چھوٹوں پر شفقت کرنا، خدمتِ خلق سر انجام دینا، والدین کی عزت کا خیال رکھنا، اور ان کی اطاعت و عزت کرنا، گھریلو فرائض بجا لانا، والدین کی تکالیف کا احساس کرنا، تحمل مزاجی، برد باری اور سلامت روی کا مظاہرہ کرنا، سادہ غذا و خوراک کو قبول کرنا وقتی تقاضوں کو سمجھنا، معاشرے میں امن و سلامتی کو ترجیح دینا، چغل خوری اور بہتان طرازی سے بچنا، چوری اور خیانت کو برا سمجھنا، خود غرضی، آسائش اور عیش کوشی سے مجتنب رہنا۔ یہ باتیں ان کے ہاں ناپید ہیں، حیرانی ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں نے کیسی عجیب مخلوق کو جنم دیکر ہمارے ملک و ملت کو ایک عجیب تباہ کن کشمکش میں مبتلا کر دیا ہے۔

بنک، ڈکیتی، فراڈ کیس، قتل اور دیگر معاشرتی جرائم میں اکثر اسی نو تعلیم یافتہ نسل کا ہاتھ ہوتا ہے، ہم نے دیکھا کہ ایک ایسے ہی نوجوان نے اپنی نوجوان معصوم بیوی کو مکان کی تیسری منزل سے صرف اس جرم میں گرایا گیا ہ اس کے والدین اسے اپنی غریبی کی وجہ سے ''معقول'' جہیز نہ دے سکے۔

مخلوط تعلیم کے مہلک اثرات:

کالجوں میں مخلوط تعلیم کے اثرات ان فارغ التحصیل نوجوانوں کی زندگیوں میں زہر آلود نقوش چھوڑ جاتے ہیں، وہ بات بات میں اپنی ہم جماعت لڑکی کا ذِکر چھیڑ دیتے ہیں۔ ان کی اداؤں، ان کی سرگرمیوں اور ان کے ہنسی مذاق کے فقرات ان کی زندگیوں کا سرمایۂ حیات بن جاتے ہیں، وہ گاہے بگاہے اور حیلہ بہانہ سے انکو اپنے ہاں دعوت دینے میں کمال انسانیت سمجھتے ہیں، اور اکثر و بیشتر اس میل ملاقات کے نتائج شرمناک صورت میں سامنے آتے ہیں، بیشتر خاندانوں کی عزت خاک میں مل جاتی ہے اور ناجائز مخلوق کی پیدائش سے کئی خاندانوں کا سکون اور کئی لڑکیوں کا مستقبل تباہ ہو جاتا ہے۔ کیا ہماری یونیورسٹیوں کے ارباب اختیار کو معلوم نہیں کہ ہمارے ان دانش کدوں میں کیا ہو رہا ہے؟

بات یہ ہے کہ ان کے ہاں مسلسل انگریزی ماحول کی وجہ سے نیک و بد اور حرام و حلال کی تميز ہی ختم ہو گئی ہے، ہم نے خود ایک مسلمان انگریزی زدہ سکالر سے سنا کہ زنا میں کیا خرابی ہے؟ یہ تو انسانی بھوک اور اس کی قدرتی غذا ہے۔ اسے حدود و قیود کی زنجیروں میں جکڑا نہیں جا سکتا۔ ہم نے دیکھا کہ اکثر و بیشتر طالب علم و طالبہ والدین کی مرضی کے خلاف باہمی زوجیت میں منسلک ہو گئے، لیکن جلد ہی خانہ جنگی، دشمنی اور تنسیخ نکاح سے بڑھ کر معاملہ قتل و غارت تک پہنچ گیا۔

مخلوط تعلیم ہمارے کالجوں اور ہماری یونیورسٹی میں جو گل کھلا رہی ہے، کیا وہ ہمارے اربابِ تعلیم سے پوشیدہ ہے؟ وہ کون سی بے راہ روی ہے، جو ان علم کے ایوانوں، ان ہوسٹلوں اور ان دانشکدوں میں روا نہیں رکھی جاتی ہے، ان بے غیرت والدین کے متعلق کیا کہا جائے۔ جنہوں نے تہذیب کے نام پر اپنی عزت کے آبگینوں کو یوں بے رحم حوادث کے سپرد کر دیا ہے۔ ؎
ایں کا راز تو آید و مرداں چنیں کنند
اکبر الٰہ آبادی نے کیا خوب کہا تھا ؎
شرم اِن کو نہیں آتی غیرت اُن کو نہیں آتی

مخلوط تعلیم سے جو برگ و بار پھوٹ رہے ہیں، ان کے متعلق تفصیلی حالات کا جائزہ إن شاء اللہ آئندہ کسی اشاعت میں لیا جائے گا۔ مختصراً یہی کہنا ہے کہ درد مندانِ ملت نے اگر فحاشی، بدمعاشی اور بے راہ روی کا فوری انسداد نہ کیا و یہ آتشیں لاوا اس نظریاتی مملکت کے اخلاق اور اسلام کے علاوہ غیرت و حمیت کو بھی بہا کر لے جائیگا۔ اور ہمارے یہ کالجیٹ نوجوان یورپ کے مادر پدر آزاد مرد عورت ہپیوں کی طرح جگہ جگہ مارے مارے پھرتے نظر آئیں گے، پھر خدا کا کوئی قہر ہی ان کا خاتمہ کر سکے گا۔

ہمارے نوجوان طالب علموں کی اجتماعی نفسیات کی روشنی میں ان کے کیریکٹر اور اخلاق جاننے کے لئے ایک صاحب سید مظہر علی صاحب چوک نواب صاحب لاہور کا ایک مکتوب ملاحظہ فرمائیے، جو اخبار کوہستان ۲۶ مئی ۷۱؁ میں شائع ہوا ہے جو بلا تبصرہ درج ذیل ہے۔

مجھے ۷۱/۵/۱۳ سندھ ایکسپریس ۱۱۵۔ اپ کراچی سے لاہور آنے کا اتفاق ہوا۔ گاڑی کراچی کینٹ پر پہنچی تو پلیٹ فارم پر ڈھولک پر ناچ دیکھنے میں آیا۔ طالب علم شتر بے مہار کی طرح پلیٹ فارم پر اودھم مچا رہے تھے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ عزیز طلبا کی ایک پارٹی لاہور جا رہی ہے، گاڑی کے مسافروں پر اس پارٹی نے تمام راہ عرصہ حیات تنگ کئے رکھا۔ ہر جنکشن پر یہ لڑکے باقاعدہ ڈھولک بجاتے، عورتوں کے کمپارٹمنٹ کے آگے خوب ڈانس کرتے، ٹنڈو آدم کے قریب نہر پر گاڑی کی زنجیر کھینچ کر گاڑی روکی اور باقاعدہ نہر میں نہا کر گاڑی کو چلنے کا موقعہ دیا۔ خانیوال سٹیشن پر چھابڑی والوں کی چیزیں خورد برد کر لیں۔ رینالہ خورد سٹیشن پر فالسے کی ایک Booked ٹوکری اُٹھا کر کمرے میں رکھ لی اور واپس نہیں کی۔ راستہ بھر گاڑی لیٹ ہوتی رہی۔ یہ ہے ہمارے طلبا کا کریکٹر؟

یہ ہیں ہمارے ملک کے علمی اداروں میں تربیت حاصل کرنے والے وہ طلبا جن کے ہاتھوں میں ملک کی باگ ڈور آنے والی ہے۔ ان سطور کو پڑھتے وقت یہ بھی ذہن میں رہے کہ ابھی ملک میں شدید قسم کا مارشل لا نافذ ہے۔ اور ملک میں ملٹری گشتی عدالتوں کی معدلت گستری کے ہاتھوں سینکڑوں غنڈوں پر کوڑے برس رہے ہیں۔

شرم و حیا سے لباس کا تعلق:

اخلاق اور شرم و حیا کے ساتھ لباس کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اگر لباس حیا دار نہیں تو صاحب لباس حیا دار کیسے ہو سکتا ہے؟ ہمارے کالجوں میں مخلوط تعلیم کے تدریجی اور ارتقائی منازل کے نتیجے میں طلبا اور طالبات نے جو لباس اپنایا ہے۔ افسوس کہ وہ انتہائی شرمناک اور بے حیائی کا مظہر ہے، کوئی شریف آدمی اسے گوارا تو کیا دیکھنے کی بھی تاب و مجال نہیں رکھتا۔ اس کے غیر شریفانہ ہونے کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ گورنر پنجاب کو حکماً اس لباس کو ممنوع قرار دینا پڑا۔

ہمارے ہوسٹل:

ہمارے کالجوں کے ہوسٹلوں میں کیا ہوتا ہے؟ میں ان کا مکمل نقشہ کھینچنے کی تاب نہیں رکھتا۔ گویا اِس اجتماعی نفسیات پر مکمل شیطان کا تسلط ہوتا ہے۔ گانا بجانا، ہزلیات، فلمی ریکارڈنگ، عشق بازی کے ذاتی تجربات اور رنگ و بو کی دنیا کی آپ بیتیاں، سینما اور ایکٹرسوں کے واقعات اور تبصرے ایک دوسرے کے مال میں چوری اور سینہ زوری مطبخ میں کمی بیشی۔ کوئی بزرگ آجائے تو شرمناک مذاق، حالانکہ یہی ہوسٹل ہماری تربیت کے سنٹر ہونے چاہئیں چنانچہ ایسا ہی ہوتا تھا۔ علی گڑھ یونیورسٹی کی تعلیمی اوقات سے زیادہ ان اقامتی اداروں کی اخلاقی تربیت پر ناز تھا۔ ان ہوسٹلوں میں شراب تک کے دَور چلتے تھے۔ اختلاط باہمی کے سارے فتن و شرور کے دروازے کھلتے ہیں جو ایک مسلمان تو کجا ایک عام انسان کے نزدیک بھی انتہائی کرب ناک ہیں۔

یہ ہے اجمالی نقشہ ہماری تعلیم اور ہمارے موجودہ تعلیمی نصاب کا، اور اس کے ذریعہ نونہالان ملت کے سیرت و کردار کا آپ خود ہی اندازہ لگا لیں کہ قوم و ملت اور مذہب کا مآل کیا ہونے والا ہے۔ مجھے تو بار بار حضرت اکبر الٰہ آبادی کا وہ شعر یاد آتا ہے۔ ؎
یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی!