ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • جون
1971
عبدالغفار اثر
نام نہاد ترقی یافتہ اقوام کی تقلید میں ہمارے ہاں جس تعلیم و تہذیب کا دور دورہ ہے اور نوجوان نسل جس طرح اس کا شکار ہو رہی ہے۔۔ اس نے اسلامی تہذیب و تمدن اور مشرقی روایات کو ایسی بری طرح سے ڈائنا سیٹ کیا ہے کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، چند سالوں میں دیکھتے ہی دیکھتے ہماری سوسائٹی یورپ کی ذہنی غلام ہو گئی ہے۔
  • جون
1971
صدیق حسن خان
اِس مہینے کی فضیلت کے متعلق حدیث کی کسی کتاب میں کوئی ذِکر نہیں ملتا۔ شیخ عبد الحق دہلوی نے اپنی کتاب ''ما ثبت بالسنہ'' میں لکھا ہے کہ ''اس ماہ میں شیخ عبد القادر جیلانیؒ کی وفات ہوئی تھی، اور ان کا عرس ۹ تاریخ کو ہوتا ہے اور مشہور گیارہویں تاریخ ہے'' یہ لکھنے کے بعد انہوں نے عرس کے استحسان کا ذِکر کیا ہے۔
  • جون
1971
تقی الدین ہلالی
ہمارے پہلے آباؤ اجداد جو اپنے عمل و اخلاق، تہذیب و تمدن اور معاشرتی ترقی کی بدولت، ساری دنیا کے پیشوا تھے، جن کی طرف ہماری نسبت ایک ناخلف کی ہی حیثیت سے ہو سکتی ہے۔ ان کا طرزِ عمل عورتوں کے معاملہ میں درست تھا، کیونکہ ان کے ہاں عورت اگر ایک طرف معاشرے کی متحرک روح اور چاق و چوبند فرد تھی جو علم و عمل کے خانگی،
  • جون
1971
راسخ عرفانی
نجومِ شب کو جگائو کہ روشنی کم ہے        شرر شرر کو بتاؤ کہ روشنی کم ہے
کوئی بھی بزم میں پہچانتا نہیں ہم کو         فروغِ ربط بڑھاؤ کہ روشنی کم ہے
ابھی لہو کے چراغوں پہ اکتفا کر لو         ابھی زبان پہ نہ لاؤ کہ روشنی کم ہے
  • جون
1971
ریاض الحسن نوری
''یہ سمجھنا محض سادگی ہے کہ حضرت عمرؓ کو ان کے ملازم نے محض ذاتی عناد کی نا پر شہید کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ خلیفہ ثانی مال داروں کی سازش کے نتیجے میں شہید ہوئے۔ اور وہ اس لئے کہ حضرت عمرؓ سماجی معاہدے کے تحت مال داروں کی ذمہ داریوں کے سلسلے میں ان پر سختی کی روش کے قائل تھے۔''
  • جون
1971
عزیز زبیدی
شروع سے ہند کی طرف مسلمانوں کی نگاہیں اُٹھ رہی تھیں، چنانچہ ۱۵ ؁ھ / ۶۳۶ع میں عمان اور بحرین کے گورنر کے ایما پر حکم شفقی نے بمبئی کی سرزمین (تھانہ) پر حملہ کیا اور ۹۳ ؁ھ میں محمد بن قاسم نے اپنی مشہور منجنیق ''العروس'' کے ذریعے حملہ کر کے دیبل (ٹھٹھ) کا قلعہ فتح کیا اور ہند میں اپنے قدم جما لئے۔ اس کے بعد بتدریج مسلمانوں کی آمدورفت بڑھتی رہی اور علاقے کے علاقے مسلمان ہوتے چلے گئے۔
  • جون
1971
محمد اسحاق
نام اور کنیت:

محمد بن جریر نام، ابو جعفر کنیت، طبرستان کے شہر آمل میں ۲۲۴؁ھ میں آپ کی ولادت ہوئی۔ جب ہوش سنبھالا تو ہر طرف علم و فضل کے چرچے اور زہد و ورع کی حکائتیں عام تھیں، ہوش سنبھالت ہی یہ بھی کسبِ علوم و کمال کی خاطر گھر سے نکل پڑے، دور دراز کے سفر ط کئے اور وقت کے علما و فضلا سے شرفِ تلمذ حاصل کیا، تعلیمی اسفار کے دوران میں آپ کے والد آپ کو باقاعدہ خرچ پہنچاتے رہے۔