تنقیدی و تحقیقی جائزہ

قسط نمبر1

قسط نمبر2

چند سال قبل پنڈی میں مسلمانوں کی ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی تھی۔ اس میں دیگر اہلِ علم و فضل حضرات کے علاوہ یادش بخیر جناب مسعود صاحب نے بھی جو اس وقت محکمۂ اوقاف کے ناظمِ اعلیٰ تھے، ایک مقالہ پڑھا تھا۔ مسعود صاحب کے معتقدات ڈھکے چھپے نہیں، وہ اشترا کی ذہن کے حامل اور تجدد پسند ہیں۔ کئی سال ہوتے ہیں انہوں نے لاہور میں پہلی مرتبہ اردو زبان میں نمازِ عید پڑھا کر اپنے مزاج کا نمایاں اظہار کر دیا تھا۔ اس کے بعد بھی مختلف اوقات میں نظامتِ اوقاف کی کرسی پر بیٹھ کر وہ اپنے اشتراکی اور تجد پسند خیالات کا اظہار کرتے آئے ہیں۔ جس زمانے میں پنڈی میں محولہ بالا کانفرنس ہوئی اس وقت جناب مسعود صاحب کا ستارہ اوجِ ثریا پر تھا، اوقاف کے سیاہ و سفید کے وہ مالک تھے، ان کے سامنے کسی کو یارائے دم زونی نہ تھا، انہوں نے اپنا یہ مقالہ بھی وہاں منصبی تحکمیت سے پڑھنے کی کوشش کی جس میں نام قرآن کا تھا لیکن اس میں کار فرما روح مارکس کی تھی، وہاں موجود علما و فضلا نے اسی وقت ان کے خیالات سے بیزاری کا اظہار کر دیا تھا اور ان کے مقالے کے غبارے کی ساری ہَوا نکال کر رکھ دی تھی، بعد میں یہ مقالہ روزنامہ مشرق لاہور میں بالاقساط (۱۹ تا ۲۲ فروری۱۹۶۸؁) شائع ہوا تھا۔ اس مقالے پر اگرچہ کانفرنس میں جزوی تنقید ہو چکی ہے لیکن اس پورے مقالے پر تنقید اور اس میں کار فرما مغالطات کی پوری توضیح کی بڑی ضرورت ہے جس پر ابھی تک کسی صاحب علم نے قلم نہیں اُٹھایا ہے۔ میں نے اپنے اِس مضمون میں اسی مقالے کا ایک تنقیدی جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔ مسعود صاحب ملکیت زمین کے مسئلہ کا ذِکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

''مسلمانوں نے اپنی پوری تاریخ میں اِس سلسلہ میں قرآن کے اُصولوں پر عمل نہیں کیا، سرمایہ دار طبقے نے قرآن کی جان بوجھ کر ایسی تشریح کی جو ان کے مفادات کے مطابق تھی اور ان کی لوٹ کھسوٹ میں حائل نہ ہو سکتی تھی جو پیغمبر اسلامﷺ کے وصال کے فوراً بعد شروع ہو گئی تھی۔''

(روزنامہ مشرق لاہور، مورخہ ۱۹ فروری ۱۹۶۸)

یہاں ابتداء ہی میں مسعود صاحب نے اپنی اُس ذہنیت کا مظاہرہ کر دیا ہے جو ایسے تجدد پسند حضرات میں عام طور پر پائی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو ہی عقل کل سمجھتے ہیں ار اپنے مقابلے میں تاریخ اسلام کے تمام مشاہیر علما و فقہا کو یا تو نادان سمجھتے ہیں یا انہیں سرمایہ داروں اور بادشاہوں کا آلۂ کار۔ یہاں مسعود صاحب نے ایک قدم اور بڑھ کر اپنی ناوک افگنی کے لئے تاریخ اسلام کے بالکل ابتدائی دَور کو چن لیا ہے یعنی خلفائے راشدین اور صحابۂ کرام کا دَور۔ ظاہر ہے کہ مسعود صاحب جب یہ کہتے ہیں کہ ''سرمایہ دارانہ لوٹ کھسوٹ پیغمبرِ اسلام کے وصال کے فوراً بعد شروع ہو گئی تھی، تو اس کی زد میں خلفائے راشدین سمیت تمام افراد آجاتے ہیں۔ اسی طرح قرآن کی غلط تشریح کے جرم کے بھی یہی حضراتِ صحابہ مرتکب قرار پاتے ہیں جو قرآن کے اوّلین حامل تھے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہی قرآن کو نہ سمجھ سکے جن کے سامنے قرآن اُترا، جن کی زبان عربی تھی اور جو براہِ راست اُس ذات سے فیض یافتہ تھے جو ذاتِ وحی و رسالت کی امین تھی تو پھر قرآن کو اور کون سمجھ سکتا ہے؟ پھر اُردو، انگریزی کی چند کتابیں پڑھنے والے سرکاری سی ایس پی افسران کا دعوائے قرآن فہمی کہاں تک قابلِ قبول ہے؟ مزید برآں صحابۂ کرام سمیت تمام مسلمانوں پر یہ الزام کہ انہوں نے اپنی پوری تاریخ میں اِس سلسلے میں قرآن پر عمل نہیں کیا، انتہائی تعجب انگیز ہے۔ اس سے زیادہ صحابۂ کرام کی اور مسلمانوں کی توہین اور کیا ہو سکتی ہے؟ اگر یہ دعویٰ صحیح ہے تو پھر صاف الفاظ میں کہنا چاہئے کہ اسلام سرے سے قابلِ عمل مذہب ہی نہیں ہے، جب قرآن پر اس وقت بھی عمل نہیں کیا گیا جب مسلمان دنیا میں حکمران تھے، صحابۂ کرام کے ہاتھ میں زمامِ اقتدار تھی اور ان کی تہذیب و ثقافت روز افزوں وُسعت پذیر تھی تو پھر قرآن پر عمل کرنا ممکن ہی کہاں ہے؟ عجیب ستم ظریفی ہے کہ یہ لوگ اپنے معتقدات کو صحیح ثابت کرنے کے لئے خود اسلام اور قرآن کو بھی ناقابلِ عمل دکھلا کر مذہب سے لوگوں کو بیزار کر رہے ہیں، علاوہ ازیں یہ نکتہ بھی حل طلب ہے کہ جن سرمایہ داروں نے جان بوجھ کر اپنے مفادات کے مطابق قرآن کی تشریح کی، اس سے کون مراد ہے؟ وہ نرے ''سرمایہ دار'' تھے یا قرآن کے اسرار و رموز سے بھی آشنا تے، اور تاریخ اسلام میں کچھ غیر سرمایہ دار قرآن کے عالم بھی ہوئے ہیں یا نہیں؟ یا پوری تاریخ میں سب علما ''سرمایہ دار'' ہی گزرے ہیں کہ کسی نے بھی ان رمایہ داروں کا پول نہیں کھولا؟ اور یہ سعادت ۱۴ سو سال بعد جناب مسعود بھگوان کو ہی حاصل ہوئی؟ کیا عجیب بات ہے کہ ان لوگوں کو یہ بھی علم نہیں کہ ہماری زبان و قلم سے کیا نکل رہا ہے اور اس کا مفہوم و معنی کیا ہے؟

اِسی مسئلہ زمین پر گفتگو کرتے ہوئے جناب مسعود صاحب فرماتے ہیں:۔

''کوئی شخص زمین پر قطعی حق ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی ایسے پٹہ پر دے سکتا ہے۔ قرآن ہمیں زمین سے اپنا رزق حاصل کرنے کا حق دیتا ہے، اِس لئے جو شخص بھی زمین کو اپنی محنت سے زیر کاشت لاتا ہے۔ وہی اس وقت اس کا مالک ہوتا ہے جب تک وہ اس پر کاشت کرتا ہے۔ قرآن کا ارشاد اس معاملہ میں بالکل واضح ہے کہ ''(مملکت کے ٹیکس ادا کرنے کے بعد) جو کچھ مرد وزن حاصل کریں وہ ان کا ہے۔'' (حوالۂ مذکور)

اِس بیان میں مسعود صاحب نے کاشت کار کے لئے بھی حق ملکیت کی نفی کر دی ہے اور ائمہ اسلام کے اس مسلک کی بھی کہ زمین بٹائی پر دی جا سکتی ہے۔ مسعود صاحب نے دراصل مارکس کے مینی فیسٹو (صفحہ ۷۳) کا اصول کہ کاشف کاروں کا زمین پر حقِ ملکیت ختم کر دیا جائے گا۔ اور سب زمین حکومت کی ملکیت ہو گی۔'' (Abolition Of Property in Land) کو قرآن پر منطبق کرنے کی مذموم کوشش کی ہے۔ دراں حالیکہ یہ نظریہ خود اس ملک میں بھی پوری طرح بروئے کار نہیں آسکا ہے جو پچاس سال سے اشتراکیت کی تجربہ گاہ ہے۔ وہاں (روس میں) بھی کچھ کاشت کاروں کو اپنے مکانوں کے پاس تھوڑی سی زمین پر پرائیویٹ کاشت کی اجازت ہے۔ یہ کاشت اس کے علاوہ ہوتی ہے جو وہ اجتماعی فارموں پر کرتے ہیں، مکانوں اور زمینوں کو فروخت کرنا یا پٹہ دینے کی اجازت روس میں آج بھی موجود ہے بلکہ یہ کام مالک کسی کو مختار نامہ دے کر اس کے ذریعے سے بھی کرا سکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ کسانوں کا کافی کشت و خون کروانے اور روس میں قحط کا سبب بننے کے بعد آخر کار خود لینن نے جو نئی اقتصادی پالیسی (New Economic Policy) وضع کی تھی اس میں زمین کو پٹہ پر دینے او مزدور ملازم رکھ کر کاشت کرانے دونوں چیزوں کی اجازت دے دی گئی تھی۔ ابھی تک روس میں مینی فسٹو پر مکمل طور پر عمل نہیں ہو سکا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے اشتراکی حضرات لینن سے بھی زیادہ متشدد، کمیونسٹ اور کٹرمار کسی ہیں۔ ؎ سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

اور عوام کو دھوکہ دینے کے لئے نام لیتے ہیں قرآن کا اور اسلام کا۔ حالانکہ قرآن کو یہ لوگ جس حد تک مانتے ہیں اس کا اندازہ آپ ان خط کشیدہ الفاظ سے بآسانی لگا سکتے ہیں۔ جو قرآن کی آیات کے نام سے مذکورہ اقتباس میں موجود ہے جس میں صریح طور پر قرآن کی معنوی تحریف کی گئی ہے۔

قرآن کی معنوی تحریف(دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کھلا):

آئیے! اب ہم اُس تحریف پر روشنی ڈالتے ہیں جو مذکورہ خط کشیدہ الفاظ میں قرآن کی آیت کے ترجمہ میں کی گئی ہے۔ خط کشیدہ الفاظ دوبارہ یہاں نقل کئے جاتے ہیں، مسعود صاحب فرماتے ہیں، قرآن کا ارشاد اس معاملہ میں واضح ہے کہ:۔

''(مملکت کے ٹیکس ادا کرنے کے بعد) جو کچھ مرد وزن حاصل کریں وہ ان کا ہے۔'' (حوالۂ مذکور)

یہ کس آیت کا ترجمہ ہے، اس کا حوالہ نہیں دیا گیا تاکہ تحریفِ مطالب میں آسانی رہے، قرآن میں لفظی تحریف تو ممکن نہیں، اس لئے قرآن میں تحریف کرنے والے فقیہانِ بے توفیق یا تو قرآن کے اصل الفاظ لکھنے سے اعراض کرتے ہیں یا آیت کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرتے ہیں، یہاں جناب مسعود صاحب نے دونوں ہی ترکیبوں سے فائدہ اُٹھایا ہے۔ ہم یہاں وہ پوری آیت مع سیاق و سباق کے ذکر کرتے ہیں جو جناب مسعود صاحب کے پیشِ نظر ہے۔ پھر اس آیت کے مفہوم کی وضاحت کے لئے ہم چند علما و مفسرین کی آرا پیش کریں گے تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ اس آیت کا اصل مطلب کیا ہے اور مسعود بھگوان کے طنبورہ میں سے کیا راگ نکل رہا ہے؟

﴿إِن تَجتَنِبوا كَبائِرَ‌ ما تُنهَونَ عَنهُ نُكَفِّر‌ عَنكُم سَيِّـٔاتِكُم وَنُدخِلكُم مُدخَلًا كَر‌يمًا ٣١ وَلا تتَمَنَّوا ما فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعضَكُم عَلىٰ بَعضٍ ۚ لِلرِّ‌جالِ نَصيبٌ مِمَّا اكتَسَبوا ۖ وَلِلنِّساءِ نَصيبٌ مِمَّا اكتَسَبنَ ۚ وَسـَٔلُوا اللَّهَ مِن فَضلِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كانَ بِكُلِّ شَىءٍ عَليمًا ٣٢﴾... سورة النساء

ترجمہ: جن کاموں سے منع کیا جاتا ہے اِن میں سے جو بھاری بھاری کام ہیں اگر تم ان سے بچتے رہو تو ہم تمہاری خفیف برائیاں تم سے دور فرما دیں گے، اور ہم تم کو ایک معزر جگہ میں داخل کریں گے اور تم کسی ایسے امر کی تمنا مت کرو جس میں اللہ تعالیٰ نے بعضوں کو بعضوں پر فوقیت بخشی ہے، مردوں کے لئے ان کے اعمال کا حصہ ثابت ہے اور عورتوں کے لئے ان کے اعمال کا حصہ ثابت ہے اور اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کی درخواست کیا کرو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتے ہیں) (ترجمہ، مولانا تھانویؒ)

مولانا ابو الکلام آزاد مذکورہ آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں:

''البتہ اللہ نے دنیا میں ہر گروہ کو دوسرے گروہ پر خاص خاص باتوں میں مزیت دی ہے اور ایسی ہی مزیت مردوں کو بھی عورتوں پر ہے، مرد عورتوں کی ضروریاتِ معیشت کے قیام کا ذریعہ ہیں، اس لئے سربراہی و کارفرمائی کا مقام قدرتی طور پر انہی کے لئے ہو گیا۔ عورتیں اس خیال سے دل گیر نہ ہوں کہ وہ مرد نہ ہوئیں اور مردوں کے کام ان کے حصہ میں نہ آئے۔ وہ یقین کریں کہ ان کے لئے عمل و فضیلت کی ساری راہیں کھلی ہوئی ہیں۔''

اس کے بعد فرمایا نیک عورتیں وہ ہیں جو اطاعت شعار ہوتی ہیں اور ظاہر و باطن ہر حال میں شوہروں کے مفاد کی حفاظت کرتی ہیں۔''

ہم نے مولانا آزاد کی تشریح اس لئے لکھ دی ہے کیونکہ مسعود صاحب نے اپنے انگریزی کے مضمون میں ان کا حوالہ دیا ہے تاکہ واضح ہو جائے کہ مسعود صاحب کی تشریح خود ان کے پسندیدہ مفسر کے نزدیک بھی غلط ہے۔

اب ہم حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جو چوٹی کے مفسرین صحابہ میں سے ہیں ان کی تفسیر بیان کرتے ہیں۔

«.....فقال (للرجال نصیب) ثواب (مما اکتسبوا) من الخیر (وللنساء نصیب) ثواب (مما اکتسبن) من الخیر في بیوتھن»1

یعنی مردوں کو اس کا ثواب ملے گا جو نیکیاں وہ کمائیں گے اور عورتوں کو ثواب ملے گا ان نیکیوں کا جو وہ اپنے گھروں میں کریں گی ۔2''

خود آیات کے سیاق و سباق سے ظاہر ہو رہا ہے کہ یہاں کیا گفتگو ہو رہی ہے۔ پہلے کبائر گناہوں کا ذِکر ہوا، اس کے بعد صغیرہ کی معافی کا پھر عورتوں اور مردوں کے ثواب کمانے کا ذِکر ہوا کہ مرد و عورت میں کچھ وہبی فضائل کی کمی بیشی ضرور ہے جس میں کس کا کوئی دخل نہیں، جیسے مرد ہونا اور مرد میت کی جو چند خصوصیات ہیں، اس کی خواہش فضول ہے کیونکہ کوئی عورت خواہش اور کوشش سے مرد نہیں بن سکتی، البتہ اعمالِ نیک کے ثواب میں مرد و عورت یکساں ہیں اور اس میں وہ اپنی ریاضت اور محنت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ ثواب کما سکتی ہیں۔ امام رازیؒ نے اس کی دو تشریحات بیان کی ہیں۔ ایک تو یہی کہ اس سے ثوابِ آخرت مراد ہے اور یہ کہ عورت کو گھر کا کام کاج کرنے، روٹی پکانے اور شوہر کی اطاعت کا بھی ثواب ملتا ہے۔

دوسری تشریح یہ کی ہے کہ اس کا مطلب میراث کا وہ حصہ ہے جو عورتوں اور مردوں کو ملتا ہے وہ کہتے ہیں کہ اس قول پر اکتساب کے معنی لاصابۃ اورالاحراز کے ہوں گے۔ ترجیح بہرحال پہلے قول کو ہے۔

اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہاں سرے سے ملکیتِ زمین کا وہ مسئلہ زیر بحث ہی نہیں ہے جو جناب مسعود بھگوان اس سے زبردستی کشید کر رہے ہیں نہ کسی مفسر اور عالمِ دین کے ذہن میں کبھی اس کی وہ تفسیر آئی ہے جو تفسیر اس آیت کی ان صاحب نے کی ہے، جو سراسر تحریف اور دجل و تلبیس ہے لیکن ایسے لوگوں کو اس سے کیا غرض، انہیں تو اپنی مطلب بر آری سے غر ض ہے چاہے اس کے لئے قرآن ہی کو کیوں نہ مسخ کرنا پڑے۔ ایسے ہی ''مجتہدوں'' کے پیش نظرڈ اکٹر اقبال مرحوم نے کہا تھا۔

راہِ آبار و کہ ایں جمعیت است    معنیٔ تقلید ضبطِ ملت است
ز اجتہادِ عالمانِ کم نظر     اقتدا بر رفتگاں محفوظ تر۔۔،
ذوقِ جعفرؓ کاوشِ رازیؓ نماند   آبروئے ملتِ تازی نماند
تنگ برما رہگزار دین شد است   ہر لئیمے راز دارِ دیں شداست

سوال یہ ہوتا ہے کہ مسعود صاحب نے ایسا کیوں کیا؟ جس شخص نے کمیونسٹ مینی فیسٹو پڑھی اور اینجلز کی کتاب Origin of the Family Private Property and the State پڑھی ہے وہ فوراً یہ سمجھ لے گا کہ یہ صرف کمیونسٹ نظریات کے فروغ و اشاعت کے لئے کیا گیا ہے۔ مارکس کے خیالات بیان کرنے کے لئے قرآن کی معنوی تحریف کی گئی ہے۔ مارکس ہی کو حکومت کے ناجائز ٹیکسوں کا سب سے زیادہ خیال رہتا ہے اور وہی یہ خیال کرتا ہے کہ تمام زمین اور کارخانے حکومت کی ملکیت ہونے چاہئیں۔ کمیونسٹ ہی نہیں بلکہ مشہور سوشلسٹ OWEN جسکو انسائیکلو پیڈیا، برٹینیکا اور برٹرینڈ رسل سوشلزم کا بانی قرار دیتے ہیں۔ وہ بھی شادی کا سخت مخالف تھا، کیونکہ اس کے نزدیک شادی بھی ذاتی ملکیت کی ایک قسم تھی، اس نے نہ صرف خاندانی نظام وار شادی کی سخت الفاظ میں مخالفت کی، بلکہ وہ بچوں کے لئے خاندانی ماحول پیدا کرنے کا بھی سخت ترین مخالف تھا۔

دراصل مارکسؔ کا منشا میکاولی سے ملتا جلتا، بلکہ اس سے بھی شدید تھا یعنی یہ کہ سب چیز حکومت کی ہو اور عوام مرد وزن سب غلاموں کی طرح حکومت کے لئے کام کریں، بچوں پر والدین کا کوئی حق نہ ہو۔ اینجلز لکھتا ہے۔ ''عورتوں کی ترقی اور عزت کی پہلی شرط یہ ہے کہ تمام عورتوں کو دوبارہ پبلک انڈسٹری میں کام پر لگایا جائے۔ لیکن اس کے لئے ضروری شرط یہ ہے کہ خاندان کا بطور اقتصاری یونٹ کے خاتمہ کر دیا جائے۔''

کیونکہ مسعود صاحب کے دماغ میں اینجلز اور مارکس کی یہ بات بسی ہوئی ہے کہ تمام عورتوں او مردوں کو بلا استثنا پبلک انڈسٹری میں لگا دیا جائے اور عورت اپنی روزی کمائے اور مرد اپنی کمائے اور اس وجہ سے جب انہوں نے قرآن کریم میں مندرجہ بالا آیت پڑھی تو انہوں نے فوراً اس آیت کی تحریفِ معنوی کر کے مارکس کے خیالات کو قرآن کے نام سے پیش کر دیا، تاکہ ان کی ''مسلمانی'' بھی قائم رہے یا کم از کم عوام میں ان کے معلق یہ تاثر نہ پھیلے کہ وہ مارکسی خیالات کے حامی ہیں۔ اسے کہتے ہیں، سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ ؎
رند کے رند رہے اور ہاتھ سے جنت بھی نہ گئی


آگے جا کر مسعود صاحب نے پھر یہ قرآنی الفاظ لیس للإنسان إلا ما سعی لکھے ہیں اور اس آیت کے بھی پہلے الفاظ اُڑا دیئے ہیں تاکہ اپنی مرضی کے معنی پہنائے جا سکیں۔ مزید یہ کہ سیاق و سباق سے علیحدہ کر کے اس کی معنوی تحریف بھی کی ہے۔ اصل عبارت اور ترجمہ یوں ہے:۔

﴿أَلّا تَزِرُ‌ وازِرَ‌ةٌ وِزرَ‌ أُخر‌ىٰ ٣٨ وَأَن لَيسَ لِلإِنسـٰنِ إِلّا ما سَعىٰ ٣٩ وَأَنَّ سَعيَهُ سَوفَ يُر‌ىٰ ٤٠ ثُمَّ يُجزىٰهُ الجَزاءَ الأَوفىٰ ٤١﴾... سورة النجم

ترجمہ: ''کوئی شخص کسی کا گناہ اپنے اوپر نہیں لے سکتا اور یہ کہ انسان کو (ایمان کے بارے میں) صرف اپنی ہی کمائی ملے گی (یعنی کسی دوسرے کا ایمان اس کے کام نہ آئے گا) اور یہ کہ انسان کی سعی بہت جلد دیکھی جائے گی پھر اس کو پورا بدلہ دیا جائے گا۔''

(ملاحظہ ہو ترجمہ و مختصر تفسیر مولانا اشرف علی مطبوعہ تاج کمپنی)

مندرجہ بالا آیات کی یہ تشریح حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے لے کر اب تک سب مفسرین کرتے آرہے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس کی تفسیر الگ سے چھپ گئی اور دیکھی جا سکتی ہے اور اس میں صرف قیامت کا ذکر ہے۔ اگر مسعود صاحب کی یہ بات مان لی جائے کہ لیس للإنسان إلا ما سعی دنیا کے لئے ہے تو وراثت کی تمام آیات اور احکام کی تنسیخ لازم آتی ہے۔

کیونکہ ایک شخص کو والدین یا دیگر رشتہ داروں سے وراثت میں جو حصہ ملتا ہے اس میں وراثت پانے والے کی کوشش کو کچھ دخل نہیں ہوتا، بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی کا دور کا رشتہ دار غیر ممالک میں لاولد بہت سی جائیداد چھوڑ کر مر جاتا ہے اور وہ اس کے کسی ایسے رشتہ دار کو مل جاتی ہے جس کو اس نے تمام عمر بھی نہیں دیکھا ہوتا۔ کسی قسم کی سعی کا بھلا کیا ذکر۔ ایسے واقعات نادر نہیں۔

دراصل یہ سب کمیونسٹ مینی فیسٹو صفحہ ۷۳ شرط نمبر ۳ کی وجہ سے کہا جاتا ہے جس میں کہ لکھا ہے (Abolition of all rights of inheritance) یعنی وراثت کے تمام حقوق کا خاتمہ۔ اس شرط پر مکمل طور پر روس میں بھی آج تک عمل نہیں ہو سکا، لیکن پاکستان کے کمیونسٹ ابھی سے ایسی باتیں کر رہے ہیں کہ آئندہ کے لئے وراثت کے کل حقوق کو ختم کیا جا سکے۔ اور تمام ترکہ حکومت لے لیا کرے۔ اگر مسعود صاحب کی تفسیر کو تسلیم کر لیا جائے تو اسلامی فقہ کے بہت سے قوانین کالعدم ہو جاتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص کو اچانک دفینہ مل جاتا ہے تو شریعت کی رو سے اس کا پانچواں حصہ حکومت کو دینے کے بعد سارا مال اس شخص کو مل جائے گا۔ حالانکہ یہ مال اس کو بغیر سعی کے ملا۔

اس دنیا پر یہ آیت تو پوری اُترتی ہی نہیں، ہم دیکھتے ہیں کہ سعی خاوند کرتا ہے اور فائدہ اس کے بیوی بچے اُٹھاتے ہیں۔ ایک گھر میں صرف خاوند کی سعی سے اتنی دولت آجاتی ہے کہ بیوی سارا دِن آرام کرتی ہے اور خوب عیش میں گزارتی ہے۔ دوسرے گھر خاوند، بیوی دونوں مل کر کماتے ہیں لیکن پہلے گھر کی نسبت بہت کم آمدن رکھتے ہیں اور وہ فراغت میسر نہیں ہوتی۔

اصل میں اللہ تعالیٰ اس آیت میں یہ فرما رہے ہیں کہ اس دنیا میں تو ایسا ہوتا ہے کہ باپ کی محنت کا پھل بیٹے کو ملے اور بیٹے کی کوشش سے باپ کو آرام پہنچے۔ لیکن آخرت میں ایسا نہ ہو سکے گا۔ اس دنیا میں ایک نیک انسان اپنے کافر بیٹے کو بھی آرام سے رکھ سکتا ہے، کھلا پلا سکتا ہے۔ لیکن قیامت کو ایک پیغمبر اپنے کافر بیٹے کو کچھ بھی فائدہ نہ پہنچا سکے گا۔ نہ خاوند کی کوشش کا فائدہ بیوی کو پہنچ سکتا ہے وہاں ہر شخص کے ذاتی اعمال کام آئیں گے۔ نہ کسی کی نیکی کا انعام غیر کو دیا جائے گا نہ کسی کی خطا پر دوسرے کو پکڑا جائیگا۔

مسعود صاحب کی قرآن میں معنوی تحریف ایک شرمناک فعل ہے۔ یہودی، کتاب اللہ میں تحریف کیا کرتے تھے۔ ان کے متعلق ہی قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:۔

﴿فَبِما نَقضِهِم ميثـٰقَهُم لَعَنّـٰهُم وَجَعَلنا قُلوبَهُم قـٰسِيَةً ۖ يُحَرِّ‌فونَ الكَلِمَ عَن مَواضِعِهِ ۙ وَنَسوا حَظًّا مِمّا ذُكِّر‌وا بِهِ ۚ وَلا تَزالُ تَطَّلِعُ عَلىٰ خائِنَةٍ مِنهُم...﴿١٣﴾... سورة المائدة

ترجمہ:

''صرف ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا اور ہم نے ان کے قلوب کو سخت کردیا وہ لوگ کلام کو اس کے مواقع سے بدلتے ہیں اور وہ لوگ جو کچھ ان کو نصیحت کی گئی تھی اس میں سے ایک بڑا حصہ فوت کر بیٹھے۔ اور آپ کو آئے دِن کسی نہ کسی نئی خیانت کی اطلاع ہوتی رہیگی جو اُن سے صادر ہوتی ہے۔'' (مسلسل)

 

نوٹ1تنویرالمقیاس ﷜ مطبوع مصردیکھیےشرح آیت مذکورہ 2سیاق وسباق سے یہی تفسیر درست ہے اگرچہ تنویر  المقیاس کا ا بن عباس﷜ کی تفسیر ھونا ثابت شدہ نہیں ہے