بطور نمونہ چند آیات

آپ بعض وہ آیات کریمہ ملاحظہ فرمائیں جن کی تفسیر و تشریح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام، صحابہ کرام اور تابعین علیہم الرحمۃ والرضوان کی تفسیر کے بغیر ہرگز ہرگز ممکن ہی نہیں۔ ورنہ سوائے عقلی ڈھکوسلوں کے اور کچھ نہیں ہو گا۔ جس کا نتیجہ دنیا و آخرت میں رسوائی ہے۔ اب بتلائیے کہ ذیل کی آیات کی تفسیر کیا کی جائے؟

الصلوٰۃ الواسطی:

﴿حـٰفِظوا عَلَى الصَّلَو‌ٰتِ وَالصَّلو‌ٰةِ الوُسطىٰ...٢٣٨﴾... سورة البقرة

''محفاظت کرو سب نمازوں کی (عموماً) اور درمیان والی نماز کی (خصوصاً) ''

اس درمیانی نماز (الصلوٰۃ الوسطیٰ) سے کون سی نماز مراد ہے اور کون سی نقلی دلیل جس میں قطعیت ہو۔ ورنہ عقلی دلیل توہر کوئی دے سکتا ہے اور وہ توڑی بھی جا سکتی ہے۔

الذاریات، الحاملات، الجاریات، المقسمات:

﴿وَالذّ‌ٰرِ‌يـٰتِ ذَر‌وًا ١ فَالحـٰمِلـٰتِ وِقرً‌ا ٢ فَالجـٰرِ‌يـٰتِ يُسرً‌ا ٣ فَالمُقَسِّمـٰتِ أَمرً‌ا ٤﴾... سورة الذاريات

قسم ہے ان چیزوں کی جو غبار وغیرہ اُڑاتی ہیں۔ پھر ان کی جو بوجھ اُٹھاتی ہیں۔ پھر ان کی جو نرمی سے چلتی ہیں۔ پھر ان کی جو چیزیں تقسیم کرتے ہیں۔

بتائیے! یہ کیا چیزیں ہیں، جن کی قسم اُٹھائی گئی ہے۔۔۔۔ اسی طرح ﴿وَالمُر‌سَلـٰتِ عُر‌فًا ١﴾... سورة المرسلات" قسم ہے ان کی جو صف باندھ کر کھڑے ہوتےہیں وغیرہ آیات میں جن کی قسم کھائی گئی ہے۔ ان کی تعیین کیسے کی جائے؟

سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ:

﴿وَلَقَد ءاتَينـٰكَ سَبعًا مِنَ المَثانى وَالقُر‌ءانَ العَظيمَ ٨٧﴾... سورة الحجر

اور ہم نے آپ کو سات چیزیں دیں جو مکرر پڑھی جاتی ہیں اور قرآن عظیم دیا۔

ایک اور مقام پر بھی سارے قرآن کو سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ (پ ۲۳، ۱۷) کہا گیا ہے۔ تو ان مکرر پڑھی جانے والی (سبعًا من المثانی) آیات کی تعیین کیسے کی جائے کہ وہ کیا ہیں؟

عَلٰی کُرسِیِّہٖ جَسَدًا :

﴿وَلَقَد فَتَنّا سُلَيمـٰنَ وَأَلقَينا عَلىٰ كُر‌سِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنابَ ٣٤﴾... سورة ص

اور ہم نے سلیمان کو امتحان میں ڈالا اور اہم نے ان کے تخت پر دھڑلا ڈالا۔ پھر انہوں نے رجوع کیا۔

وَاَشْھَدَھُمْ عَلٰی اَنْفُسِھِم:

﴿وَإِذ أَخَذَ رَ‌بُّكَ مِن بَنى ءادَمَ مِن ظُهورِ‌هِم ذُرِّ‌يَّتَهُم وَأَشهَدَهُم عَلىٰ أَنفُسِهِم أَلَستُ بِرَ‌بِّكُم ۖ قالوا بَلىٰ...١٧٢﴾... سورة الاعراف

اور جب کہ آپ کے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے انہی کے متعلق اقرار کیا کہ میں تمہارا رب نہیں ہو؟ سب نے جواب دیا کہ کیوں نہیں۔

فرمائیے! یہ پیدائش کا واقعہ جس کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ اس کی کیا حقیقت ہے۔ کیسی شہات اور کیسا اقرار؟

اَثَرِ الرَّسُوْلِ:

﴿فَقَبَضتُ قَبضَةً مِن أَثَرِ‌ الرَّ‌سولِ...٩٦﴾... سورة طه

پر میں نے اس فرستادہ کے نقش قدم سے ایک مٹھی اُٹھا لی تھی۔

وَلا تَحنَث:

﴿وَخُذ بِيَدِک ضِغثًا فَاضرِ‌ب بِهِ وَلا تَحنَث...٤٤﴾... صورة ص

اور تم اپنے ہاتھ ایک مٹھا سینکوں کا لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو۔

بتائیے! وہ کیا واقعہ تھا جس میں کوئی قسم اُٹھائی گئی تھی اور اس کو توڑنے کے لیے یہ امر الٰہی نازل ہوا تھا۔

فَمَا بَکَتْ عَلَیْھِمُ السَّمَآء:

﴿فَما بَكَت عَلَيهِمُ السَّماءُ وَالأَر‌ضُ وَما كانوا مُنظَر‌ينَ ٢٩﴾... سورة الدخان

''نہ تو ان پر آسمان و زمین کو رونا آیا اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔''

بتلائیے! کہ آسمان و زمین کا حقیقی یا مجازی رونا کیسا ہے اور یہاں کیا مراد ہے؟

حَتّٰی اِذَا فُزِّعَ:

﴿حَتّىٰ إِذا فُزِّعَ عَن قُلوبِهِم قالوا ماذا قالَ رَ‌بُّكُم ۖ قالُوا الحَقَّ...٢٣﴾... سورة سبا

یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہو جاتی ہے تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا حکم فرمایا۔ وہ کہتے ہیں کہ (فلانی) بات کا حکم فرمایا۔

اس کی پوری حقیقت بتلائی جائے کہ کس واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ بیشک سیاق و سباق کے زور سے تلاش کرو۔

کَانَ مَشْھُوْدًا:

﴿إِنَّ قُر‌آنَ الفَجرِ‌ كانَ مَشهودًا ٧٨﴾... سورة الإ سراء

''بے شک صبح کی نماز حاضر ہونے کا وقت ہے۔'' یہ مشہود ہونا کس اعتبار سے ہے؟

شَاھِدٍ وّ مَشْھُوْدٍ:

﴿وَشاهِدٍ وَمَشهودٍ ٣﴾... سورة البروج

''قسم ہے حاضر ہونے والے کی اور اس کی جس میں حاضری ہوتی ہے۔''

شاہد و مشہود کی جو قسم اُٹھائی گئی ہے۔ وہ عظیم الشان کیا چیز ہے؟

وَلَیَالٍ عَشْرٍ:

﴿وَلَيالٍ عَشرٍ‌ ٢﴾... سورة الفجر

''اور قسم ہے دس راتوں کی''

اِس میں جن دس راتوں کی قسم اُٹھائی گئی ہے وہ کس طریق سے متعین کی جائیں؟

اَر‌بَعَةٌ حُرُ‌مٌ:

﴿مِنها أَر‌بَعَةٌ حُرُ‌مٌ...٣٦﴾... سورة التوبة

''ان میں چار مہینے خاص کر ادب کے ہیں۔ ''

فرمائیے! وہ مہینے کیسے معلوم ہوں۔ اور اس حرمت و عزت کی کیا کیفیت ہے؟

مَا وَرَآء ذٰلِکُمْ :

﴿وَأُحِلَّ لَكُم ما وَر‌اءَ ذ‌ٰلِكُم...٢٤﴾... سورة النساء

''اور ان عورتوں کے سوا اور عورتیں تمہارے لئے حلال کی گئی ہیں۔''

پھوپھی اور بھتیجی یا خالہ اور بھانجی کو ایک ہی نکاح میں جمع کرنا ہے اور اس کو معلوم کرنے کا ذریعہ صرف حدیث ہے۔ انکارِ حدیث کے بعد اگر کوئی مندرجہ بالا آیات سے اس کا جواب ثابت کرے تو کیا کر سکے گا؟

حَتّٰی یَاْتِیَك الْیَقِیْنَ:

﴿وَاعبُد رَ‌بَّكَ حَتّىٰ يَأتِيَكَ اليَقينُ ٩٩﴾... سورة الحجر

''اور آپ اپنے رب کی عبادت کرتے رہیے، یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے۔''

اگر کوئی باطنیہ اباحیہ حدیث کے مطابق ''یقین'' سے موت مراد نہ لے اور کہے کہ خدا سے غایت درجہ کی محبت کو پہنچ جانے کے بعد انسان اعمال کا مکلف نہیں رہتا تو اس کو کیسے منواؤ گے۔ (ملخصاً)

٭٭٭٭٭