یَا اَیُّھَا الرَّجُلُ المُعَلِّمُ غَیْرَہ       ھَلَّا لِنَفْسِکَ کَانَ ذَا التَّعْلِیْم
اے دوسروں کو تعلیم دینے والے             یہ وعظ و ارشاد تیرے لئے کیوں نہیں؟
اِبْدَأْ بِنَفْسِکَ فَانْھََ عَنْ غَیِّھَا          فَاِذَا انْتَھَتْ عَْہُ فَاَنْتَ حَکِیْمْ
ہلے اپنے نفس کو تعلیم دے، اسے سرکسی سے روک،                اگر تو نے اسے سرکسی سے باز رکھا لیا، تو پھر تو واقعی دانا شخص ہے
فَھُنَاکَ یُقْبَلُ مَا تَقُوْلُ وَیُقْتَدٰی          بِالْعِلْمِ مِنْکَ وَیَنْفَعُ التَّعْلِمْ
جب یہ مقام پا لیا تو تیری ہر بات منظور           تیرا علم قابل اتباع اور تیری تعلیم نفع بخش ہوگی
تَصِفُ الدَّوَائَ لِذِی السِّقَامِ مِنَ الضِّنَا         کَیْمَا یَصِحُّ بِہ وَاَنْتَ سَقِیْم
تو دوسرے لاغر مریضوں کی صحتیابی کیلئے تو علاج تجویز کرتا ہے حالانکہ تو خود بیمار ہے
وَاَرَاکَ تُلْقِحُ بِالرِّشَادِ عُقُوْلَنَا        نُصْحًا وَّاَنْتَ مِنَ الرِّشَادِ َدِیْم
میں تجھے دیکھتا ہوں کہ تو خیر خواہی سے ہمیں صحیح راہنمائی دینا چاہتا ہے جس سے تو خود عاری ہے
لَاتَنْہَ عَنْ خُلُقٍ وَّثَأتِیَ مِثْلَہ     عَارٌ عَلَیْکَ اِذَا فَعَلْتَ عَظِیْمٌ
ایسے کام سے منع نہ کر جس کا تو خود بھی مرتکب ہے اگر منع کرنے کے باوجود خود بی کرتا پھرے تو یہ بہت شرم کی بات ہے۔