﴿وَقالَ الرَّ‌سولُ يـٰرَ‌بِّ إِنَّ قَومِى اتَّخَذوا هـٰذَا القُر‌ءانَ مَهجورً‌ا ٣٠﴾... سورة الفرقان

یہ بات کس قدر المناک اور باعثِ تعب ہے کہ قرآنِ کریم جیسی جامع و مانع اور فصیح و بلیغ کتاب ہمارے پاس ماجود ہے اس کی فصاحت و بلاغت کے غیر مسلم بھی معترف ہیں لیکن اس کے باوجود اس کی تعلیم و تدریس کے سلسلے میں اس کے شایانِ شان اہتمام نہیں کیا گیا۔

پاکستان جیسی نظریاتی سٹیٹ جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ چودھویں صدی کا محیر العقول واقعہ ہے جو نقشۂ عالم پر ''لا إلہ إلا للہ'' کے نام سے اُبھری، پھر بھی ہمارے سکولوں میں خواہ وہ ابتدائی ہوں، ثانوی یا اعلیٰ مدارج کے کالج اور یونیورسٹیاں ان میں قرآنی تعلیمات کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں مغربی تعلیم و تربیت، اس کے اساتذہ اور نصاب کے انتظامات موجود ہیں، غیر ملکی زبان کے علاوہ دیگر اہم علوم کی تدریس کا انتظام بھی انگریزی طریقہ تعلیم سے ہے، انجینئرنگ، ڈاکٹری، کامرس، ڈرائنگ، فنونِ لطیفہ وغیرہ کے علاوہ تمام ٹیکنالوجی علوم کی تدریس کا انتظام بواسطہ انگریزی ہے۔ فلسفہ، آلہیات، نفسیات جیسے علوم بھی انگریزی زبان اور غیر اسلامی اصولوں پر مرتب شدہ داخل نصاب ہیں۔ یہ علمی طور پر نقصان دہ ہونے کے ساتھ ہمارے طلبا کے لئے دوہرا بوجھ بھی ہیں، کہ پہلے انگریزی سیکھیں پھر ان علوم میں دسترس حاصل کریں، جبکہ ہمارے مزاج، ہمارے ذہن، ہمارا تمدن اور معاشرت، انگریزی زبان سے قطعاً مختلف بلکہ برعکس ہے۔ اور ہمارے طلبا کی کثیر تعداد ہر سال اسی بدیسی زبان کی وجہ سے فیل ہو جاتی ہے۔ قوم گذشتہ ربع صدی سے تڑپ رہی ہے۔ ہر کہ ومہ نے لازمی انگریزی کے خلاف آواز اُٹھائی اور خود ملت کے نونہالوں نے اس کے خلاف متعدد طریقے سے صدائے احتجاج بلند کی، لیکن افسران بالا کی بے حسی قابلِ داد ہے کہ ان کے سر پر جوں تک نہیں رینگی۔ اور انہوں نے ملت اسلامیہ کے پردین آموز تعلیمی مطالبہ کو پاؤں تلے روند ڈالا۔ اس کا نتیجہ جو نکل رہا ہے اور نوجوان نسل جس تیزی سے بے حیائی اور لادینیت کو قبول کرتی جا رہی ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ موجودہ سیاسی بحران بھی دراصل اسی اخلاقی بحران کا ایک منطقی نتیجہ ہے۔ جس کا لازمی نتیجہ ملک کے موجودہ خلفشار اور عظیم بحران کی صورت میں آپ کے سامنے ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو قرآن کی تدریس کا کچھ خیال آیا بھی تو جس طریقے سے اس پروگرام کو روبہ کار لایا گیا ہے۔ وہ قرآن سے ایک گونہ مذاق ہی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے عوام کے مطالبے سے مجبور ہو کر محکمۂ تعلیم نے یہ منظور کر لیا کہ کچھ مقررہ استادوں کے ذریعے طلبا میں قرآنی تدریس کا انتظام کیا جائے، چنانچہ موسم گرما کی چھٹیوں میں ایسے اساتذہ کا انتخاب کیا گیا جو پہلے قرآن کریم کی ترتیل و تدریس کا طریقہ ریفرشر کورسوں کے ذریعے سیکھیں، لیکن باوجود کوشش کے نوے فی صد اساتذہ قرآن سے بالکل کورے اور صحیح قرأت و تدریس کے نا اہل ثابت ہوئے۔ اس طرح یہ سکیم بھی فیل ہو گئی۔ اس تجربہ سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ سکولوں، اور کالجوں میں وہی اساتذہ قرآن کے متعلقہ علوم کی تدریس کے فرائض سر انجام دے سکتے ہیں جو خود قرآن کے ماہر ہوں۔ قرآن کے علم کو جزوی اور ثانوی علم کے طور پر پڑھانے کے لئے عام علوم کے ٹیچروں کو ہنگامی ریفرشر کورسوں کے ذریعے تیار کرنا بے معنی اور لاحاصل تجربہ ہے۔ اگر انگریزی کے لئے بی اے۔ بی ٹی۔ بی ایڈ اور ایم ایڈ ضروری ہیں تو مشرقی علوم کے لئے او۔ ٹی اور دیگر علوم کے لئے ایس اے وی۔ ایس وی۔ سی۔ ٹی یا جے وی۔ جے اے وی وغیرہ تو کیا قرآن ہی ایک ایسی کتاب ہے جس کے لئے قرآن علوم کے ماہرین کی ضرورت نہیں؟ ؎ بریں عقل و دانش بیاید گریست۔

ہمارے موجودہ سرکاری منظور شدہ تعلیمی ادارہ میں قرآنی تعلیم کا کیا حال ہے؟

مجلسِ تعلیماتِ پاکستان نے جو درد مند تعلیمی خدمات پر مشتمل ہے ایک معروف ادارہ ہے، کچھ جائزہ لیا ہے اس کا ملخص ''قرآنِ پاک اور سرکاری نظامِ تعلیم'' کے عنوان سے درج ذیل ہے، ملاحظہ فرمائیے اور سر دھنئے۔:

(الف) ناظرہ کلام اللہ:

ابتدائی سکولوں کی تیسری جماعت میں قرآنی قاعدہ پڑھایا جاتا ہے۔ چوتھی اور پانچویں جماعت میں چھ پارے، چھٹی، ساتویں اور آٹھویں جماعتوں میں باقی کلامِ پاک کی ناظرہ خوانی داخلِ نصاب کی گئی ہے۔ (جبکہ مساجد اور مکاتیب میں یہ کام صرف سال دو سال میں مکمل ہو جاتا ہے) لیکن یہ سب کچھ محکمۂ تعلیم کے گشتی مراسلوں اور کاغذی سکیموں کی حد تک ہے، عملاً شایدہزار میں سے دو، چار سکولوں ہی میں مکمل ناظرہ خوانی کا انتظام ہو گا۔ اس لئے کہ نہ کہیں ناظرہ پڑھانے کے لئے تریت یافتہ حفاظ و قرا کا انتظام ہوا ہے اور نہ آئندہ تریت کے لئے کوئی انتظام کیا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ انتہائی نازک کام دوسرے مضامین کی طرح تریت یافتہ اساتذہ کے بغیر ممکن نہیں (جس کی ساری ذمہ داری محکمۂ تعلیم پر ہے)

(ب) حفظ قرآن:

ابتدائی مدارس کی جماعت چہارم و پنجم میں صرف آخری دس مختصر صورتیں اور ہائی سکول کی جماعت ششم میں صرف ۹ آیات حفظ کرنا نصاب کا حصہ ہے، گو عملاً یہ بھی نہیں ہوتا۔

(ج) ترجمہ کلام اللہ:

ابتدائی مدارس کی کسی جماعت میں کسی ایک آیت کا ترجمہ بھی شامل نہیں۔

وسطانی (مڈل کلاس) میں آخری پارہ کی دس مختصر سورتوں کا اور سورۃ البقرہ کی صرف چار آیات کا ترجمہ نصاب میں داخل ہے۔ جماعت نہم، دہم میں اگر کوئی طالب علم اختیاری اسلامیات کا پرچہ لے تو ۲۲ آخری مختصر سورتوں کا ترجمہ پڑھ لیتا ہے۔ ورنہ پھر ۱۵ سورتوں کا ترجمہ رہ جاتا ہے۔ جس میں سے وہ دس کا ترجمہ پہلے ہی چھٹی، ساتویں جماعتوں میں پڑھ چکا ہے۔ (نصاب سازی میں منصوبہ بندی کی یہ کیفیت دانشوروں کے لئے خاص طور پر توجہ کے لائق ہے)۔

(د) تفسیر کلام اللہ:

انٹر میڈیٹ میں اگر کوئی طالب علم اسلامیات کا مضمون اختیار کرے تو نصف سورہ بقرہ کی تفسیر پڑھ سکتا ہے۔ وہ بھی صرف آرٹس کا طالب علم (کیونکہ سائنس کے طلبا (حکماً) اسلامیات پڑھ ہی نہیں سکتے۔

نصف سورۂ بقرہ لاہور بورڈ میں ہے۔ پشاور بورڈ، حیدر آباد اور کراچی بورڈ میں صرف سات رکوع کی تفسیر شامل نصاب ہے۔ بی اے میں اگر کوئی طالب علم اسلامیات کا مضمون اختیار کرے تو پشاور یونیورسٹی میں سورۂ بنی اسرائیل اور آخری پارہ کا آخری ربع شامل نصاب ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں سورہ محمد، سورہ فتح اور الحجرات یا ان کی جگہ سورۃ النسا داخل نصاب ہے۔ کراچی یونیورسٹی اور سندھ یونیورسٹی میں آخری پارہ کی آخری مختصر سورتوں کی تفسیر نصاب کا حصہ ہیں۔

یونیورسٹی کے آخری مرحلہ پر (جو طلبہ ایم اے علوم اسلامی کرنا چاہیں) ان کے نصاب میں تاریخ، ادب تفسیر اور اصول تفسیر کے علاوہ ترجمہ و تفسیر القرآن کا نصاب مندرجہ ذیل ہے:

پنجاب یونیورسٹی میں... سورہ المائدہ تا سورہ التوبہ

کراچی یونیورسٹی میں.... سورہ البقرہ اور سورہ بنی اسرائیل

پشاور یونیورسٹی میں.... سورہ بقرہ میں سے صرف ۹ رکوع (جو طالبعلم ایف اے میں پڑھ چکا ہوتا ہے)

سندھ یونیورسٹی میں ....کسی آیت کا ترجمہ و تفسیر بھی شامل نصاب نہیں

فنی تعلیم میں قرآن کی تعلیم:

عمومی نظامِ تعلیم کے علاوہ پاکستان میں فنی تربیتیں اور پیشہ ورانہ تعلیم کے متعدد سکول، کالج، انسٹی ٹیوٹ، اکیڈیمیاں، بورڈ اور یونیورسٹیاں قائم ہیں۔ صرف مغربی پاکستان کے اعداد و شمار یہ ہیں:

ایک ایک انجینئرنگ یونیورسٹی، زرعی یونیورسٹی، ٹیکنیکل یونیورسٹی، ایجوکیشن بورڈ، میڈیکل کالج، ہومیو پیتھک کالج اور طبیہ کالج ۱۹۔

انجینئرنگ کالج ۳ لا کالج ۸

کمرشل انسٹی ٹیوٹس ۲۴ کامرس کالج ۸

پولی ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ ۲۲ ٹیچرز ٹریننگ کالج ۹

ووکیشنل سنٹرز ۳۲

اس کے علاوہ زرعی کالج، فاریسٹ کالج، امراض دندان کالج، طب حیوانات کالج، نیشنل کالج آف آرٹس، جسمانی تربیت کے کالج، افسران انتظامیہ کی تربیتی اکیڈیمیاں اور بری بحری فضائی فوج، پولیس کے تربیتی ادارے بھی موجود ہیں۔ مندرجہ بالا (۱۴) اداروں میں زیر تدریس اور زیر تربیت طلبا کی مجموعی تعداد پچاس ہزار کے قریب ہے۔ لیکن سوائے ایک انجینئرنگ یونیورسٹی (جہاں صرف سورہ فاتحہ کی تفسیر شامل ہے) اور کہیں بھی کلام اللہ کا کوئی حصہ کسی صورت میں نصاب میں شامل نہیں ہے۔''
(ملاحظہ ہوسیارہ ڈائجسٹ قرآن نمبر)

یورپین ٹائپ سکول میں قرآن کی تدریس؟

ان کے علاوہ ہمارے ملک میں ایک اور انداز تعلیم کے سکول بھی بکثرت ہیں جنہیں عرف عام میں یورپین ٹائپ سکول کہا جاتا ہے۔ یہاں بچوں کو بالکل انگریز بنایا جاتا ہے۔ پہلی جماعت سے بچے انگریزی بول چال اور مغربی تہذیب کے سانچے میں ڈھالے جاتے ہیں، لباس وضع قطع اور معاشرت غرضیکہ زندگی کے ہر موڑ پر یورپین تہذیب کا پیکر بنانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جاتا اور فیس کی شرح پہلی جماعت کے لئے پندرہ روپے ماہوار تک لی جاتی ہے۔ اس میں بچے عموماً سی ایس پی اور اعلیٰ گریڈ کے افسروں کے ہوتے ہیں، اور یہ ادارے اکثر عیسائی مشنریوں کے ما تحت ہیں۔ صباحی خطاب باقاعدہ بائبل کی تلاوت اور یسوع مسیح کی تصویر کے روبرو ہاتھ باندھ کر دُعا (Cermon) سے شروع ہوتا ہے اور ان سکولوں کی نوے فیصد تعداد مسلمان طلبا پر مشتمل ہوتی ہے۔ گویا مسلمان قوم ہر ماہ لاکھوں روپے فیس کی صورت میں گرہ سے دینے کے علاوہ اپنے بچوں کی نقد متاع ایمان لٹا کر مستقبل میں عیسائیت کے لئے نرم چارہ بنا دیتے ہیں۔ یہ سکول ہمارے معاشرہ میں بے حد مقبول اور معیاری سمجھے جاتے ہیں اور دن بدن ان کی مقبولیت اور تعداد بڑھ رہی ہے۔ ایسے سکولوں کی تعداد مغربی پاکستان میں ۵۷ ؁ میں28 تھی۱۹۶۱؁ میں یہی تعداد بڑھ کر ۸۲ ہو گئی  ۶۶؁ میں ۹۹ تک جا پہنچی اور۷۱؁ میں ۱۵۰ کے قریب اندازہ کی گئی ہے، جن میں کم و بیش پچاس ہزار بچے زیر تعلیم ہیں۔

ان سکولوں میں قرآنی تعلیم کی تدریس کا مسئلہ جب ہمارے محکمہ تعلیم کے زیر غور آیا۔ تو ایک عجیب لطیفہ ہوا۔ اور تعجب ہوتا ہے کہ خود محکمہ تعلیم کے ارباب حل و عقد بعض اوقات کیسے عقل و فرد سے عاری بلکہ مضحکہ خیز فیصلے کر جاتے ہیں۔

اول تو ایسے سکولوں میں قرآنی تعلیم کا پیوند ہی غلط ہے۔ جہاں سارا ماحول کلیۃً غیر اسلامی ہو وہاں پچیس تیس منٹ کے لئے اگر قرآن کریم کی چند غلط سلط آیات کی تدریس ہو بھی گئی تو اس سے کون سے رازی و غزالی پیدا ہوں گے۔ یہ تو ایک بے فائدہ ہے، لیکن چونکہ اسی قرآنی تعلیم کے پردے میں ان مشنری اداروں کی مالی امداد مطلوب تھی لہٰذا فیصلہ کیا گیا کہ ہر ایسے سکول میں محکمہ اپنی گرہ سے ایک ایک وسیع کمرہ تعمیر کرنے کے لئے خرچ برداشت کرے اور تعلیم کے لئے جو مولوی صاحب مقرر کئے جائیں گے ان کی تنخواہ بھی محکمہ تعلیم ہی اپنے فنڈ سے ادا کیا کرے گا، خیال فرمائیے کہ صرف چند منٹ کی تعلیم اور وہ بھی برائے نام اس کے لئے شایان شان ہر سکول میں کمرے تعمیر کرائے گئے جنہیں قرآن سے زیادہ عیسائیت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور ہزاروں روپے ماہوار مدرس کی تنخواہیں دی جاتی ہیں، حالانکہ وہ مدرس اپنے آپ کو سکول کی عیسائی انتظامیہ کا ملازم تصور کرتا اور بیچارہ ایسا بھیگی بلی کی طرح وقت گزارتا ہے جیسے بتیس دانتوں میں زبان مصور ہے، میں نے ایسے اساتذہ کی افسوسناک حالت کو دیکھا ہے، سوال پیدا ہوتا ہے کہ عیسائی اداروں کو ہی یہ مراعات کیوں دی گئی ہیں؟ باقی پرائیویٹ اعلیٰ درجہ کے اسلامی سکولوں کو کیوں در خود اغنا نہ سمجھا گیا، ان عیسائی اداروں کو عمومی تعلیمی گرانٹ ہر سال الگ دی جاتی ہے اور قرآنی تعلیم کے نام پر لکھو کھا روپے الگ عطا فرمائے گئے۔
بریں عقل و دانش ببائد گریست

اسی سلسلہ میں واضح رہے کہ جونیئر کیمرج اور سینئر کیمرج اداروں کے نصاب میں قرآن حکیم کی ایک آیت بھی شامل نصاب نہیں ہے۔

یہ ہے مختصر روئیداد اس ''کتاب ہدی۔'' کی تعلیم کے متعلق اس مملکت خداداد پاکستان میں جس کے دعاوی کی ابتدا و انتہا قرآن ہے اور جس کی رعایا ''حامل قرآن'' کہلانے میں فخر محسوس کرتی ہے، جس کا ایمان یہ ہے کہ اس کتاب سے زیادہ اعلیٰ، سچی، اخلاقی اور فصیح و بلیغ عظیم آسمانی کتاب دنیا کی کسی دوسری قوم کے پاس نہیں ہے۔ اور یہ کہ اس کتاب پر ایمان لانا، اس کی ہدایات پر عملدر آمد کرنا اور اس کی تعلیماتِ عالیہ کی روشنی میں دین و دنیا کو استوار کرنا ہی ایک مسلمان کا مقصد حیات، منزل مقصود اور کعبۂ مطلوب ہے۔ آپ خود ہی اندازہ کر لیں کہ ہمارے ارباب دانش اپنے قول و فعل میں کہاں تک مخلص ہیں اور یہ بھی پیش نظر رہے کہ جو قوم اس طرح اپنے مرکز و محور کو پس پشت ڈال دے، پھر بزو دیا بدیر تاریخ امم ماضیہ کی روشنی میں اس کا انجام کیا ہونے والا ہے!!

اب دیکھنا یہ ہے کہ آخر ہماری اس حرمان نصیبی کا علاج کیا ہے؟

عملی نقطہ نگاہ سے تو اس کا واحد حل یہ ہے کہ جو لوگ درد مندی سے اس خسران بینی کا احساس رکھتے ہیں وہ اپنی جدوجہد کے لئے ایک منظم طریقے سے میدان عمل میں نکل آئیں اور ایسی راہ عمل متعین کریں جس سے ہمارے ارباب اختیار قرآنی تعلیم کو رائج کرنے پر مجبور ہو جائیں۔

قوم نے اب تک اس بارہ میں عملی قدم کیا اُٹھایا ہے؟ زیادہ سے زیادہ کچھ مضامین، کچھ ریزولیوشن، کچھ مذاکرے، کچھ نوٹ اور کچھ مرثیے۔ لیکن جناب رسالت مآبﷺ کی طرح نہ تو تبلیغ حق کی راہ میں پتھر کھائے نہ ہی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرح عملی نفاذ کے لئے مصائب و شدائد برداشت کئے۔

تاریخ پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ جو قومیں یا افراد کسی بلند مقصود کے لئے اپنا خون پیش نہیں کر سکتے۔ ان کی کامیابی محال ہے۔ ؎
خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا

افسوس کہ ہم نے اب تک قرآنی تعلیم کے نفاذ کے لئے بحیثیت مجموعی نہ تو کوئی ہنگامہ خیز انقلابی قدم اٹھایا اور نہ ہی ارباب اختیار کو عمل کی دنیا میں آنے کے لئے اس طرح متاثر کیا کہ وہ قوم کی موجودہ حرمان نصیبی اور ملت کی محرومی کے لئے اپنے آپ کو مجرم گردانتے۔

سب سے پہلے یہ عاصی اپنے آپ کو اس غفلت شعاری کا مجرم گردانتا ہے اور اپنے آپ کو مخاطب کر کے کہتا ہے ؎
سودا قمار عشق میں مجنوں سا کوہ کن       کس منہ سے اپنے آپ کو کہتا ہے عشقباز
بازی اگر نہ پا سکا سر تو دے سکا            اے روسیاہ! تجہہ سے تو یہ بھی نہ ہو سکا۔