ریاضی غالباً تاریخ انسانیت کا قدیم ترین علم ہے۔ جوں ہی انسان نے شہری زندگی اختیار کی۔ ناپ تول اور پیمائش کے لئے چند واضح اصولوں کی ضرورت نے ریاضی کی داغ بیل ڈال دی۔ تاریخ کے ساتھ ساتھ اس سرمائے میں اضافہ ہوتا رہا۔ ہر قوم نے اپنے دورِ عروج میں ریاضی کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔

ریاضی کی ایک شاخ ''علم ہندسہ'' (Geometery) ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا آغاز مصر کی سرزمین سے ہوا۔ مصری لوگ اس علم کا اطلاق زمین کی پیمائش پر کرتے تھے۔ اہرامِ مصر کو دیکھتے ہوئے اس خیال کی توثیق ہو جاتی ہے کہ وہ لوگ ہندسہ میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے۔ مصری جریب کش (Rope Stretcher) ہندسہ کے اہم اصولوں سے واقف تھے۔ وہ جانتے تھے کہ جس مثلث کے اضلاع تین چار اور پانچ کی نسبت میں ہوں وہ قائم الزاویہ ہوتی ہے۔

یونانی مورخ ہیروڈٹس لکھتا ہے کہ ۴۰۰ (ق۔م میں مصریوں کے کھیت چوکور اور بالخصوص مستطیل شکل کے ہوتے تھے۔ بابل کے پیش گو بھی ہندسہ سے واقف تھے اور وہ اپنے زائچوں میں ہندسی اشکال کا استعمال کرتے تھے۔ بابل اور مصر میں مکانوں کی چھتں اور دیواروں پر ہندسی اشکال بنائی جاتی تھیں۔

حکیم احمز (Ahmes) پہلا مہندس ہے جس نے ۱۷۰۰ ق۔ م میں مسطحات کے چند اصول لکھے تھے۔ یہ اوراق برٹش میوزیم میں موجود ہیں۔

یونان میں علمِ ہندسہ کا حقیقی آغاز حکیم تھیلز (Theles) سے ہوا۔ کیم تھیلز ملٹس (Miletus) میں ۶۴۰۔ ق۔م میں پیدا ہوا اور اس نے ایتھنز (۵۴۸۔ ق۔ م۔) وفات پائی۔ تھیلز مصر میں بغرضِ تعلیم آیا تھا اور اسے علم ہندسہ سے دلچسپی پیدا ہو گئی تی۔ یونا واپس جا کر اس نے ملٹس میں ایک مدرسہ کھولا جہاں علم ہندسہ کی تعلیم کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔

''راسی متقابلہ زاویوں کی مساوات'' اور ''متساوی الساقین کے قاعدہ کے زاویوں کی مساوات'' سے تھیلز بخوبی واقف تھا۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ نصف دائرے کا زاویہ قائمہ ہوتا ہے۔ ایک ضلع اور دو زاویوں سے وہ مثلث بنانا جانتا تھا۔ اس نے اہرامِ مصر کی بلندی ہندسی طریقے سے معلوم کی تھی۔ اسی طرح سمندر میں جاتے ہوئے جہاز کے فاصلے کا اندازہ لگانے کے لئے اس نے ہندسی طریقے اختیار کیے تھے۔

تھیلز (Theles) کے بعد اس علم کو اس کے نامور شاگرد فیثا غورث نے چار چاند لگائے۔ اس نے ریاضی دانوں کو جمع کیا اور ایک انجمن تشکیل کی جو فیثا غورثی برادری (Pythagoream Brotherhood) کہلاتی ہے۔ اس نے کروٹونا (Crotona) میں ریاضی کا مدرسہ کھولا۔ اس نے مثلث اور منتظم کثیر الاضلاع کے زاویوں کی مقدار کے اصول وضع کئے۔ وہ مثلث کو مساوی الرقبہ متوازی الاضلاع میں تحویل کرنے کے طریقے سے واقف تھا۔ تناسب (Proportion) مقادیراصم (Surd) کی ہندسی طریقے سے وضاحت کر سکتا تھا۔

فیثا غورث کی قائم کردہ انجمن کے ارکان انسگنیا (Insignia) کے طور پر منتظم مخمس کا نشان استعمال کرتے تھے۔

اس کے بعد علم ہندسہ کی خاصی ترقی ہوئی۔ چوتھی صدی قبل مسیح میں کئی مہندس پیدا ہوئے۔ ان میں ہپوکر ٹس (Hippocrates) نمایاں ہستی ہے۔ ہپوکرٹس کاکارنامہ یہ ہے کہ اس نے پہلی بار زاویوں کے راس پر حروف لکھ کر پڑھنے کا طریقہ اختیار کیا۔

افلاطون (۴۲۷ق۔ م تا ۳۴۷ق۔م) نے ایتھنز سے باہر درختوں کے جھنڈ میں علمی ادارہ قائم کیا جس کا نام ''اکیڈمی'' رکھا، اکیڈمی کے دروازے پر مرقوم تھا۔

''ریاضی سے نابلد شخص کو اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں۔''

افلاطون نے ہندسی اصطلاحات کی وضاحت کی۔ اس نے ہندسی اشکال، پرکار اور پیمانے سے بنانے کے اصول وضع کئے۔ اس نے ہندسی مسائل کے ثبوت کے لئے اثباتی طریقہ رائج کیا۔

حکیم افلاطون کا نامور شاگرد یوڈوکس (Eudoscus) نے متناسب اور مشابہ اشکال پر تفصیلی بحث کی ہے۔ اس نے خط زریں تقسیم (Golden Section) کا طریقہ معلوم کیا اور اہرامِ مصر کے حجم کا اندازہ لگایا۔

حکیم ارسطو نے طبعی مسائل کے حل میں ہندسی طریقے برتے۔ چنانچہ اس دور میں مہندسین نے تمام مسائل کی تدوین کی کوشش کی۔ اس قسم کے کام میں اقلیدس ( ) کو نمایاں مقام حاصل ہے۔

اقلیدس یونانی مہندس تھا جو اسکندریہ کی یونیورسٹی میں ریاضی کا پہلا پروفیسر مقرر کیا گیا تھا۔ یہ یونیورسٹی شاہ بطلیموس (Plotomy) نے ۳۰۱ ق۔م میں قائم کی تھی۔ اقلیدس نے علم ہندسہ کی سب سے پہلی باضابطہ کتاب لکھی تھی۔ یہ کتاب ''مبادیات'' (Elements) کے نام سے مشہور ہوئی۔ ''مبادیات'' تیرہ ابواب پر مشتمل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مذہبی کتابوں کو چھوڑ کر کسی یونانی تصنیف کو اس قدر نہیں پڑھا گیا اور کسی دوسری کتاب کے اس قدر تراجم نہیں ہوئے۔ قرون وسطیٰ میں تقریباً ہر ملک میں یہ کتاب شاملِ نصاب تھی۔ برصغیر پاک و ہند میں بھی بیسویں صدی تک مبادیات کے پہلے چار حصے نصاب میں شامل رہے تھے۔

مبادیات سب سے پہلے لاطینی زبان میں ۱۴۸۲ء میں منتقل ہوئی۔ اقلیدس کے پیش کردہ ہندسی حل آج بھی پڑھے جاتے ہیں۔ اقلیدس نے فیثا غورث کے مسئلے کا جو حل پیش کیا آج تک مروج ہے۔

حکیم اقلیدس کے بعد ارشمیدس، ہیرو اور حکیم اپولوینس (Applonius) اہم مہندس گزرے ہیں۔ ارشمیدس نے پائی ( ) کی قیمت معلوم کی۔ ہیرو نے مثلث کا رقبہ معلوم کرنے کا کلیہ دریافت کیا۔

مثلث کا رقبہ جب کہ ا، ب اور ج مثلث کے ضلعوں کی پیمائشیں ہیں۔ اور ''ص'' تینوں ضلعوں کے مجموعے کا نصف ہے یعنی

کلیہ

حکیم اپولوینس نے مشہور مسئلے کا حل پیش کیا کہ ''ایک مثلث کے دو ضلعوں پر کے مربعوں کے مجموعے تیسرے ضلعے کے نصف اور تیسرے ضلعے کے وسطانیے پرکے مربعوں کے دو چند مجموعے کے تیسرے ضلعے کے وسطانیے پرکے مربعوں کے دو چند مجموعے کے برابر ہوتا ہے۔''

۱۴۶ ق۔م میں یونان اور ۳۰ ق۔ م میں مصر کو رومیوں نے فتح کر لیا اور دونوں ملکوں کو سلطنت روما کا حصہ بنا لیا۔ مصر و یونان پر قابض ہونے کے باوجود رومیوں نے علم ہندسہ کے سلسلے میں اقلیدس کی ''مبادیات'' ہی کا ترجمہ کیا اور یہی ان کی درس گاہوں میں شاملِ نصاب رہا۔

۶۲۲؁ میں اسلامی مملکت ''مدینہ'' کی بنیاد رکھی گئی اور ۶۳۰ ؁ ( ۸ ؁ھ ) میں جزیرہ نمائے عرب اسلامی مملکت میں شامل ہوا۔ تین سال بعد (۱۱ھ) میں آنحضرت ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے اور ان کے جانشین حضرت ابو بکرؓ صدیق (م ۱۳؁ھ) ہوئے۔ خؒافت راشدہ کا نصف اول توسیع مملکت اور حسن انتظام میں گزرا اور باقی نصف خانہ جنگی کی نذر ہوا۔ اس لئے اس تیس سالہ دور میں مسلمان دوسری اقوام کے علوم و فنون کی طرف توجہ نہ دے سکے۔

خلافت راشدہ کے بعد حکومت کی باگ دوڑ خاندانِ اُمیہ کے ہاتھوں میں منتقل ہو گئی۔ اس خانوادے کا درویش صفت خلیفہ خالد بن یزید علم پرور اور علم دوست شخص تھا۔ خالد نے مصر سے یونانی حکماء کو بلا کر کیمیا اور طب و نجوم کی کتابوں کے عربی تراجم کرائے دوسرے لفظوں میں اسلامی حکومت کو تین چوتھائی صدی بھی نہ گزرنے پائی تھی کہ طبیعاتی علوم کے مطالعے کا ذوق مسلمانوں میں پھیلنے لگا۔

(۱۳۲ھ) کواقتدار اموی خاندان سے عباسی خاندان کو منتقل ہو گیا۔ اس خاندان سے عباسی خاندان کو منتقل ہو گیا۔ اس خاندان کا پہلا حکمران سفاح ۷۵۳ (۱۳۶ھ) میں فوت ہوا اور ابو جعفر منصور (م ۱۵۷ھ) تخت نشین ہوا۔ اسی خلیفہ کے دورِ حکومت میں بغداد کی تعمیر ہوئی۔ ابن اثیر ۱۴۵ھ کے واقعات میں لکھتا ہے۔

''عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے مختلف صوبوں کے حکام کو لکھا کہ ان کے یہاں جو معمار مزدور اور قابل اعتماد ''مہندس'' ہوں۔ انہیں بغداد کی تعمیر کے لئے روانہ کر دیا جائے۔''

ابو جعفر منصور کو یونانی کتابوں سے جو عشق تھا اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ:

''ابو جعفر نے ملک روم کے پاس پیغام بھیجا کہ کتب تعالیم کا ترجمہ کر کے اس کو بھیجے۔ ملک روم نے کتاب اقلیدس اور چند کتب طبیعات ارسال کیں۔'''

اقلیدس کے تراجم:

چنانچہ اقلیدس کی ہندسی تالیف ''مبادیات'' کا عربی میں ترجمہ ہوا۔ اس کتاب کا دوسرا نام ''الأصول'' اور ''کتاب الأرکان'' بھی ہے ابن خلدون کے بیان کے مطابق مسائل کی شرح و بسط کے لحاظ سے یہ کتاب طلبہ کیلئے نہایت موزوں اور مناسب تھی۔ مختلف ترجموں کے لحاظ سے اس کے مختلف نسخے رائج ہیں۔

منصور کے زمانے میں ہونے والا ترجمہ دست برد زمانے سے نہ بچ سکا۔ تاریخ بھی اس بارے میں خاموش ہے۔ اس کے بعد ترجمے ہوئے۔ ان کی سلاست اور روانی نے پہلے ترجموں کو مٹا ڈالا۔ ہارون الرشید کے دور (۱۷۰ھ۔ ۱۹۳) میں حجاج بن مطر نے یحییٰ بن خالد برمکی کے ایما پر ''مبادیات'' کا دوسرا ترجمہ کیا اور مامون کے عہد (۱۹۸ھ تاج ۲۱۸ھ) میں تیسری بار ترجمہ اسی نے کیا۔ ابن ندیم لکھتا ہے۔

''حجاج نے اقلیدس کے دو ترجمے کئے۔ ایک نقلِ ہارونی کے نام سے مشہور ہوا اور دوسرا ترجمہ نقلِ مامونی کے نام سے مشہور ہے اور اسی پر اعتماد کیا جاتا ہے۔''

اقلیدس کا چوتھا ترجمہ اسحاق بن حنین (م ۲۹۸ھ) نے کیا۔ اور مشہور مترجم ثابت بن قرہ نے اصلاح کی۔ ابن ندیم نے ''الفہرست'' میں اسحاق بن حنین کے ترجمے پر ثابت بن قرہ کی اصلاح کا ذِکر کیا ہے لیکن مستقل ترجمہ کا تذکرہ نہیں ہے۔ تاہم القفطی کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ثابت نے ترجمہ بھی کیا تھا۔ غرضیکہ پانچواں ترجمہ ثابت بن قرہ نے کیا۔ ابن خلدون بھی ذکر کرتا ہے۔

متذکرۃ الصدر پانچوں ترجمے براہِ راست یونانی زبان سے ہوئے تھے۔ ٹی۔ ایل۔ ہیتھ (T. L. Health) رقم طراز ہے۔

"There seems to be no doubt that Ishaq wo must have known greek as well as his father made his translation direct from greek."

ثابت کے ترجمے کے بارے میں لکھتا ہے۔

Thabit undoubted by consulted greek mass for his revision. This is expressly stated in a marginal note to a Hebrewvertion of the Elemnts made from Ishaq.

ان پانچ ترجموں کے علاوہ بھی چند ترجموں کا ذِکر ملتا ہے، جو چنداں اہم نہیں۔

''مبادیات'' کی اصلاح و تشریح:

اس سلسلے میں پہلا نام فیلسوف العرب ''الکندی'' کا ہے۔ اس کی اصلاح ''رسالہ فی إصلاحح کتب اقلیدس'' اور ''رسالة في  إصلاح المقالة الرابعة عشر والخامسة عشرین کتاب اقلیدس'' کے نام سے مشہور ہے۔ کندی کے بعد ثابت بن قرہ نے ''کتاب فی اشکال اقلیدس'' لکھی۔

چوتھی صدی ہجری میں ابن الہیثم (الہزن ) نے ''مبادیات'' کو خوبی سے ترتیب دیا۔ ابن الہیثم ۳۵۴ھ (۹۶۵) میں بصرہ میں پیدا ہوا تھا۔ بعد ازاں مصر میں سکونت اختیار کی اور وہیں ۴۳۰ھ (۱۰۳۹) میں انتقال کیا۔ اس عظیم مفکر اور امام بصریات سے کم و بیش دو سو کتابیں منسوب ہیں۔ جن میں سے اکثر و بیشتر سائنسی اور ریاضیاتی موضوعات پر ہیں۔ ایک اہم تالیف ''رسالةخواص المثلث في جهت العمود'' ہے جو مشرق و مغرب سے خراج تحسین کر چکی ہے۔

ابو الوفا البوزجانی نے اقلیدس کی ''مبادیات'' کی شرح کا آغاز کیا تھا لیکن ابن ندیم کی تصریح کے مطابق اس کام کو عملی جامہ پہنا سکا۔ ''کشف الظنون'' کے مؤلف حاجی خلیفہ چلپی نے لکھا ہے کہ ابو الوفا نے تیرہ مقالوں میں ایک کتاب لکھی تھی۔ اسی طرح اس کے شاگرد نے استاد کے لیکچروں سے ایک کتاب مرتب کی تاہم یہ دونوں کتابیں ناپید ہیں۔ ابو الوفا البوزجانی ۹۴۰ء میں پیدا ہوا اور ۳۸۷ھ (۹۹۸) میں بغداد میں فوت ہوا۔

بو علی سینا نے ''مبادیات'' کا اختصار کیا اور ''شفا'' کا ایک حصہ اس کے لئے مختص کیا اسی طرح ابن الصلت نے ''کتاب الاقتصار'' میں اس کا ملخص کیا ہے۔ ابن صلت (۱۱۱۲) میں تونس میں فوت ہوا۔

مندرجہ بالا اختصار اور تشریحات محقق نصیر الدین طوسی (م ۶۷۲ھ) کی مرتب کردہ تحریرِ اقلیدس کے سامنے ہیچ ہیں۔ محقق طوسی ۵۹۷ھ (۱۲۳۵) کو طوس میں پیدا ہوا۔ بغداد میں ۶۷۲ھ کو فوت ہوا۔ محقق طوسی بیک وقت ریاضی دان، طبیب اور فلسفی تھا۔ اس نے ۷۷ کتابیں تالیف کیں جو صدیاں گزرنے کے باوجود ایک دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈالے ہوئے ہیں۔

محقق طوسی نے ساتویں صدی ہجری کے وسط میں حجاج بن یوسف اور ثابت بن قرہ کے ترجموں سے مبادیات کا وہ ایڈیشن مرتب کیا جو آج مدارسِ عربیہ میں شامل نصاب ہے۔ مقدمہ میں رقمطراز ہے

''جب میں المحبطی (فلکیات کی کتاب) کے ترجمہ سے فارغ ہوا تو میں نے مناسب سمجھا کہ اقلیدس کی مبادیات کو مرتب کروں ۔۔۔۔ اور اس میں ضروری اضافے کروں ۔۔۔۔ حجاج اور ثابت کے نسخوں میں جو اصل ترجمہ ہے اسے بعد کے اضافوں سے ممتاز کروں۔''

ساتویں صدی ہجری ہی میں ایک اور ریاضی دان محی الدین یحییٰ بن ابی یشکر المغربی نے ایک کتاب ''تحریر اقلیدس۔۔۔۔ فی اشکال الہندسہ'' مرتب کی۔

فارسی تراجم:

ساتویں صدی ہجری میں علامہ قطب الدین شیرازی (م ۷۱۰ھ) نے مبادیات کو فارسی میں منتقل کیا۔ دوسرا ترجمہ خیر اللہ مہندس ہندی کا ہے جو انہوں نے ۱۱۴۴ھ میں ''تقریر التحریر'' کے نام سے کیا۔

خیر اللہ مہندس محمد شاہ اول (م ۱۷۴۸ / ۱۱۶۰ھ) کے زمانے میں معروف ہندوستانی ریاضی دان اور منجم تھا۔ راجہ دھیراج جے سنگھ والی جے پور نے رصد گاہ کی تعمیر کے لئے خیر اللہ ہی کو چُنا تھا۔ موصوف نے تقریر التحریر کے علاوہ ۱۱۶۱ھ میں اسی موضوع پر ''تقریب التحریر'' قلمبند کی۔
محدث میں اشتہار دے کر اپنی تجارت کو فروغ دیں۔