پچھلے شمارہ میں ہم نے لکھا تھا کہ:۔

''ہم اس وقت جس داخلی انتشار اور بیرونی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس کا واحد سبب ہماری وہ کوتاہی ہے جو ہم سے اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والے اس ملک میں اِس کے نظریے کو عملی صورت نہ دینے کی صورت میں سرزد ہوئی۔۔۔۔۔۔۔ الخ ''

یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کا وجود ''لا إلٰه إلااللہ'' کا مرہونِ منت ہے۔ اس کلمہ طیبہ کو اس ملک س وہی مناسبت ہے جو رو کو جسم سے ہوتی ہے۔ یہی روحانی رابطہ پاکستان کی مخصوص جغرافیائی حالت کے باوصف اسکی سالمیت کا ضامن ہے۔ جس سے انحراف پاکستان کے خاتمہ کا باعث ہو سکتا ہے۔

برصغیر کے مسلمانوں کا ایک جداگانہ ریاست کا مطالبہ اسی نظریے کی بنیاد پر تھا جس کی وجہ سے وہ ہندو قوم میں ضم نہ ہو سکتے تھے، انہوں نے اِس مقصد کے لئے پیہم جدوجہد کی اور عظیم قربانیاں دے کر ''پاکستان'' حاصل کیا۔ اس وقت مسلمانوں نے ہندو قوم اور پاکستان دشمن طاقتوں کی شدید مخالفت کے علی الرغم جس جذبۂ ایمانی سے یہ جنگ جیتی تھی، وہ اسلام دشمن طاقتوں کے لئے ایک چیلنج تھا۔ اس لئے وہ پاکستان کے معرضِ وجو میں آنے کے وقت سے ہی اس جذبہ سے ہی اس جذبہ کو پست کر کے مسلمان قوم کی توجہ دوسرے مسائل کی طرف کرنے کے درپے ر ہے تاکہ پاکستان اپنا وجود باقی نہ رکھ سکے۔ خصوصاً بھارت ابھی تک اسے قبول نہیں کر پایا ہے اور وہ پھر سے اکھنڈ بھارت بنانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

ادھر ہمارے عوام و خواص دشمنوں کے عزائم سے بے خبر قیام پاکستان کے مقصد کو پس و پشت ڈال کر نفسانی خواہشات کی تکمیل میں سرگرداں رہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ روحِ پاکستان کمزور ہو گئی اور ۲۳ سال میں ہم اس حالت کو پہنچ گئے کہ آج اس ملک کی سالمیت کا تحفظ ایک کٹھن مسئلہ بن کر سامنے آگیا ہے، حالانکہ چودہ صدیاں قبل اتنی ہی مدت میں اسلام ساری دنیا کے لئے اتفاق واتحاد اور زندگی کی راہنما قوت بن کر اُبھرا تھا اور اسلامی ریاست تا قیامت اس کرۂ ارضی پر بسنے والوں کے لئے نمونہ بنی تھی۔

جب اسلام راہنما قوت بننے کی بجائے کھوکھلا نعرہ بن کر رہ جائے تو اس کے وہی نتائج نکل سکتے ہیں جو آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں یعنی آزادانہ سیاسی سرگرمیوں میں حریت فکر و عمل، پاکستان اور اسلام سے بغاوت کی صورت میں سامنے آئی ہے۔

ملکی سالمیت کا تحفظ اگرچہ ہر پاکستانی کا فرض ہے لیکن اس کی سب سے بڑی ذمہ داری سربراہِ مملکت پر عائد ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہمارے صدر مملکت کو اس کا پورا احساس ہے اور انہوں نے پہلے لیگل فریم ورک آرڈر میں واضح طور پر ملک کی سالمیت اور نظریۂ پاکستان کی پاسداری لازمی قرار دی، پھر موقعہ بہ موقعہ اس کا اظہار کرتے ہی خصوصاً ملک کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہونے پر ۶ مارچ ۱۹۷۱ء کی نشری تقریر میں واشگاف الفاظ میں اس عزم کا اعلان کیا کیونکہ عظیم اکثریت سے کامیاب ہونے والے لیڈر جس طرح ملک میں دو قیادتوں کے لئے کوشاں تھے۔ جس کا نتیجہ ملک کی تباہی تھا۔ اِس کا دفاع چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ہونے کی حیثیت سے صدر یحیٰ خان ہی کر سکتے تھے۔ اس کے بعد صدر مملکت نے اس بحران کو دور کرنے کے لئے اپنی کوششیں تیز تر کر دیں لیکن مصالحانہ مساعی ناکام رہیں۔ اقتدار کے ہوس مند آزادیِ سیاست سے ناجائز فائدہ اُٹھا کر ملک کو تقسیم کرنے اور سامراجی طاقتوں کے عزائم کی تکمیل میں لگے رہے اور انہوں نے نظم و نسق کو تہہ و بالا کر کے شدید خطرناک حالات پیدا کر دیئے، حتیٰ کہ صدر یحییٰ خاں کو ۲۶ مارچ بروز جمعہ ایک ناگزیر سخت اقدام کرنا پڑا، جس کی تفصیلات عوام کے سامنے آچکی ہیں۔

ہم اس اقدام کی مکمل تائید کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ ۱۹۶۵؁ کی جنگ میں جس طرح افواجِ پاکستان نے بیرونی دشمنوں سے پاکستان کی حفاظت کی تھی اسی طرح اب اندرونی دشمنوں اور بیرونی سازشوں سے نپٹنا بھی ان کے لئے ضروری ہو گیا تھا۔ ملکی سالمیت کا یہی تقاضا تھا۔ صدر مملکت کے اعلان کے مطابق یہ وقتی اقدام ہے، جو ہنگامی حالات کے تحت کیا گیا ہے اور پوری قوم کا فرض ہے کہ ملکی استحکام کے لئے اپنا تعاون اسی طرح پیش کرے جس طرح پاک و بھارت کی گزشتہ جنگ میں کیا گیا تھا۔ آج ہم جن حالات سے دو چار ہیں۔ دراصل ان کے پس پردہ بھارت اور دوسری اسلام دشمن طاقتوں کے مذموم عزائم کار فرما ہیں۔ بھارت مغربی پاکستان پر فوج کشی کر کے منہ کی کھا چکا ہے۔ اب وہ مشرقی پاکستان پر نظر لگائے ہوئے ہے جس کے لئے وہ بہانے تلاش کر رہا ہے۔ مشرقی پاکستان کی سلجھتی ہوئی صورت حال نے اسے دیوار نہ بنا دیا ہے۔ اس لئے ایک طرف وہ مشرقی عوام کی ہمدردی کے نام پر شور و غوغا کر رہا ہے تاکہ بین الاقوامی حمایت حاصل کر سکے، دوسری طرف اس نے اپنے مسلح دستے اور ساز و سامان مشرقی پاکستان میں داخل کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ کردار واضح طور پر اس کے عزائم کی نقاب کشائی کر رہا ہے۔ یہ صورتِ حال پوری پاکستانی قوم کے اتحاد اور افواجِ پاکستان سے تعاون کی ضرورت مند ہے، تاکہ پہلے کی طرح اس کے ناپاک ارادے خاک میں ملائے جا سکیں۔

حالیہ صورتِ حال ۱۹۶۵؁ کی جنگ سے زیادہ اہم ہے کیونکہ اُس وقت صرف بیرونی دشمنوں سے مقابلہ تھا لیکن اب اندرونی شر پسندوں کے پیدا کردہ انتشار کی وجہ سے داخلی و خارجی خطرات پیدا ہوئے ہیں۔ اس لئے اب پاکستانی قوم کو دونوں محاذوں پر دفاع کی ضرورت ہے۔ اگرچہ صدر یحیٰ خاں نے ملکی سالمیت کی حفاظت بڑی دلیری سے کی ہے، تاہم یہ اقدام عارضی ہے اور مستقل تحفظ کی یہی ایک صورت ہے کہ ان اسباب کو ختم کیا جائے جو ان حالات کا باعث ہوئے ہیں۔

مشرقی پاکستان یا پاکستان کے کسی دوسرے حصہ میں علاقائی جذبات اُبھارنے یا لسانی تعصبات بیدار کر کے نفرت کے بیج بونے، طبقاتی تقسیم پیدا کر کے حسدوبعض کی آگ بھڑکانے کا مطلب صرف یہ ہے کہ پاکستان میں قومی یکجہتی کو تباہ کر دیا جائے اور اس جداگانہ تشخص کو ختم کر دیا جائے جسکی بنیاد پر ہم بھارت سے الگ ہوئے تھے، نیز داخلی طور پر فتنہ و فساد کو ہوا دیکر ایسے حالات پیدا کر دیئے جائیں کہ پاکستان کا وجود ہی ختم ہو جائے۔ دراصل معاشرہ میں پیدا شدہ خرابیوں کے علاج کی بجائے اس قسم کے ہتھکنڈوں سے وہی لوگ فائدہ اُٹھاتے ہیں جو عوام کے دِلوں سے نظریۂ پاکستان کو عملی جامہ پہنانے کا احساس بھی ختم کر دنا چاہتے ہیں، چنانچہ جن لیڈروں نے علاقائی یا دوسرے نفرت انگیز نعرے لگا کر قوم میں اتفاق و اتحاد کو ختم کرنے اور عملاً ملکی سالمیت کو تباہ کرنے کی کوششیں کی ہیں ان کا کردار یقیناً پاکستان سے غداری کے مترادف ہے۔

ہم اپنی گزارشات کے ساتھ ایک عظیم خطرہ سے آگاہ کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں جس کے آگ مضبوط بند باندھنے کے لئے متحدہ کوششیں ہی کار گر ہو سکیں گی۔ ہماری رائے میں ۱۹۶۵؁ کی پاک و بھارت جنگ اور موجودہ انتشار ایک ہی سلسلہ کی کڑیاں ہیں، کیونکہ بھارت کو پاکستان اس لئے گوارا نہیں کہ یہ ایک اسلامی نظریاتی ریاست ہے جس کو وہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ اِسی طرح جو لوگ علاقائی منافرت پیدا کر کے اسے تقسیم کرنا چاہتے ہیں، انہیں بھی اس کی نظریاتی اساس (اسلام) پسند نہیں وہ دونوں حصوں کے اِس روحانی رابطہ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ دونوں طاقتیں بالواسطہ طور پر نظریہ پاکستان کی دشمن ہیں، جنکا خواب شرمندۂ تعیر نہ ہو سکا۔ لیکن عام انتخابات کے نتیجے کے سلسلہ میں ایک ایسے طبقہ کے حوصلے بہت بڑھ گئے ہیں جو براہِ راست اسلام پر کاری ضرب لگانے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں، چنانچہ وہ اپنے منصوبہ کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے گھات میں بیٹھا ہے جس کی طرف فوری توجہ کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔ پاکستان کی رو (نظریہ) کو باقی رکھنے کی واحد صورت یہ ہے کہ پاکستان میں اسلامی اساس کو اس قدر مضبوط کر دیا جائے کہ مخالفین مایوس ہو جائیں۔

اس کے لئے عوامی ذہن کو دین سے وابستہ کرنے اور ان کی زندگی کو اسلام کا نمونہ بنانے کے لئے جہاں اصلاحی تحریکوں کی ضرورت ہے وہاں صدر یحییٰ خاں۔۔۔ جنہوں نے ملکی سالمیت کے تحفظ کے سلسلہ میں دلیرانہ اقدام کر کے پوری قوم سے خراجِ تحسین حاصل کیا ہے۔ اگر مسلمانوں کے جملہ فرقوں کے ۳۱ نمائندہ علما کے مرتب کردہ ۲۲ نکات کو آئین کی بنیاد بنا دیں تو پاکستان کی نظریاتی حیثیت ہمیشہ کے لئے محفوظ کی جا سکتی ہے، اِن کی آئینی پوزیشن وہی ہو سکتی ہے جو لیگل فریم ورک آرڈر کی ہے۔ اس طرح سے مملکت خدادادِ پاکستان اس خطرہ سے بچ جائے گی جو آج ہمارے ملک و ملت کے سروں پر منڈلارہا ہے۔

اِن بائیس ۲۲ نکات کو بنیاد بنائے بغیر آئین تو بہت بنائے جا سکتے ہیں لیکن ایسے آئین خواہ سبھی کچھ ہوں اسلامی اور نظریہ پاکستان کے حاملین کی امنگوں کے امین نہیں ہو سکتے۔ جب تک ہمارا آئین اسلامی نہ ہو گا پاکستان نہ تو اسلامی ریاست ہو گا اور نہ ہی اس کے قیام کا مقصد پایہ تکمیل کو پہنچ سکتا ہے۔

وما علینا إلا البلاغ

محدث کے قارئین سے

قارئین کرام ''محدث'' بطور نمونہ منگوانے کے لئے اور تین روپے سے کم کی رقم ٹکٹوں کی صورت میں بھیج سکتے ہیں، لیکن ڈاک ٹکٹ ۲۵،۲۰،۱۰،۵،۲ پیسے کے ہونے چاہئیں۔ (ادارہ)

اِس دینی رشتے کی اہمیت کا اعتراف اغیار بھی کرتے ہیں۔ ایک عیسائی مئورخ لکھتا ہے:

''پاکستان شطران یبعدالواحد عن الآخر زھا ۲۰۰۰ کیلو میتر، والوحدة بینھما دینیة۔۔۔''
پاکستان کے دو حصے ہیں جو ایک دوسرے سے تقریباً ۲۰۰۰ کلو میٹر دور ہیں۔ دونوں کے ایک (پاکستان) ہونے کی اساس دین (اسلام) ہے۔

قیادت کی تقسیم قوموں کی موت ہوتی ہے۔ جب یزیدی لشکروں نے مدینہ منورہ پر چڑھائی کی تو انصار و مہاجرین علیحدہ علیحدہ فوجوں سے ان کے مقابلے میں نکلے۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کو اس کی خبر ملی تو بے ساختہ زبان سے نکلا:۔

''امیران!!! ھلک القوم'' یعنی دو امیر ہیں قوم ہلاک ہو گئی۔'' نتیجہ وہی نکلا ہ قیادتوں کی تقسیم کی وجہ سے مہاجرین و انصار شکست کھا گئے۔