سود کامسئلہ اس وقت ہماری سوسائٹی میں عجیب صورت اختیار کرگیا ہے، اس کی مثال سانپ کے منہ میں چھچھوندر کی سی ہو کر رہ گئی ہے، نہ تو تھوکی جاسکتی ہے اور نہ نگلے ہی بن پڑتی ہے۔ اسلامی حکومت کے قیام کی بات ہو یا اسلامی معاشرہ کی تشکیل کی تجویز، بات سود پر آکر رکتی ہے۔ اسلام اِسے حرام قرار دیتا ہے لیکن ہمارے اقتصادی نظام اور معیشت کی رگوں میں یہ زہر مسموم ایسا سرایت کرگیا ہے کہ اس کے بغیر خون کی گردش ممکن نہیں۔ صورتِ حال خاصی حوصلہ شکن معلوم ہوتی ہے۔ ان حالات میں ایک گونہ قنوطیت(Pessimism) کاپیدا ہونا ناگزیر تھا۔ چنانچہ جو لوگ اسلامی معاشرہ کے قیام کے لئے کوشاں ہیں انہیں بھی خدشات اور شکوک نے گھیر رکھا ہے۔ ادھر معاشرہ کا جدید بنکاری اور تجارتی نظام پیچیدہ، ادھر غیر سودی نظام کی عملی صورت ناپید۔ ذہنوں میں بار بار یہ سوالات ابھرتے ہیں کہ کیا غیر سودی نظام واقعی قابل عمل ہے؟ کیا یہ معاشرہ کی جدید طرزِ زندگی کے تمام تقاضے پورے کرسکنے کا اہل ہے؟ ابھی تک ان سوالات کا تسلی بخش جواب قابل عمل منصوبہ کی صورت میں منظر عام پر نہیں آیا ،اس لئے اس طبقہ کی قنوطیت سرزنش کی بجائے ہمدردی کے قابل ہے۔

دوسری طرف وہ طبقہ ہے جو سودی نظام کو برحق قرار دینے کے لئے کبھی اس دلیل کی آڑ اور کبھی اس تاویل کا سہارا لیتا ہے۔ اس کے نزدیک جو سود قرآن نے حرام کیا ہے وہ وہی تھا جو اُس وقت رائج تھا۔ آج کل کا تجارتی (Productive) سود نہ اس وقت تھا، نہ حرام کیا گیا ہے۔ چونکہ قومی آزادی کی بنیاد معاشی استحکام پر ہے اور آج کل کا معاشی نظام بغیر تجارتی سود کے ممکن نہیں، اس لئے قوم او رملک کی بقا کے لئے سود ناگزیر ہے اور اس کو کسی ایسی صورت میں برقرار رکھنا جس میں یہ قرآنی اَحکام سے متصادم نہ ہو، وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

زیر نظر مضمون کی غرض و غایت یہی ہے کہ ان دونوں طبقوں کی ذہنی اُلجھنوں کا جائزہ لیا جائے اور قرآن کی روشنی میں ان کا حل تلاش کیا جائے۔

سود کی وضاحت

سود کے متعلق جو لفظ قرآن میں استعمال کیا گیا ہے وہ ''ربوا'' ہے۔ اس کا مادہ '' ر ب و'' ہے جس کے معانی ''زیادتی''، ''چڑھنے'' اور ''بڑھوتری'' کے ہیں۔ اس لحاظ سے اصل رقم پر جو بھی زیادتی ہوتی ہے اس کو ''ربوا'' کہا جاتاہے۔ نفع کی صورت میں بھی ایک قسم کی زیادتی واقع ہوتی ہے لیکن قرآن اس کو حرام قرار نہیں دیتا۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

﴿ذ‌ٰلِكَ بِأَنَّهُم قالوا إِنَّمَا البَيعُ مِثلُ الرِّ‌بو‌ٰا ۗ وَأَحَلَّ اللَّهُ البَيعَ وَحَرَّ‌مَ الرِّ‌بو‌ٰا...٢٧٥﴾... سورة البقرة

''یہ اسی لئے ہے کہ انہوں نے کہا کہ تجارت بھی تو سود کی مانند ہی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے''

عرب میں قرض کے معاملات کی چند صورتیں رائج تھیں، ان سب میں یہ بات مشترک تھی کہ لین دین کی قرارداد میں اصل سے زائد رقم ادا کرنا بطورِ شرط کے شامل ہوتا تھا اور اہل عرب اس کو ''ربوا'' کہتے ہیں۔ چنانچہ قرآن نے تجارت کے نفع کو حلال اور ربوا کو حرام قرار دیا ہے۔

تجارتی نفع اور سود میں فرق

(1) تجارت کی صورت میں سودا نقدی اور کسی چیز یا شے کے درمیان ہوتا ہے۔ وہ شے یا تو بیچنے والا مکمل طور پر یا کسی حد تک خود تیار کرتا ہے یا تجارتی عمل سے اس کا مالک ہوتا ہے۔ تاجر چیز کو فروخت کے لئے پیش کرتا ہے۔ خریدنے والا چیز کی اِفادیت اور قیمت کا جائزہ لیتا ہے اور دونوں کے درمیان ایک قیمت طے پاجاتی ہے۔ سودا مکمل ہونے کی صورت میں تاجر کو قیمت اور بیچنے والے کو مطلوبہ شے مل جاتی ہے۔ ا س کے برعکس ربوا یا سودی لین دین میں نقدی کا سودا نقدی سے ہوتا ہے۔ یعنی کوئی چیز یا شے درمیان میں نہیں ہوتی۔ تجارت کی صورت میں دونوں فریق قریب قریب یکساں فائدہ اُٹھاتے ہیں کیونکہ بیچنے والے کو اس کا معقول معاوضہ قیمت کی صورت میں وصول ہوجاتا ہے اور خریدنے والے کو مطلوبہ چیز۔ اس کے برخلاف سودی لین دین میں قرض دینے والا تو یقینی طور پر سود کی شکل میں فائدہ اٹھاتا ہے لیکن قرض لینے والے کا فائدہ غیر یقینی نوعیت کا رہتا ہے۔ اگر قرض اس نے ذاتی ضروریات پر صرف کیا تو اس کو کوئی حقیقی (Real) نفع نہ ہوا اور اگر کاروباری کام میں لگایا تو نقصان کے اِمکان کے ساتھ نفع غیر یقینی نوعیت کا رہا۔

(2) دوسرا نمایاں فرق سود اور تجارت میں یہ ہے کہ تجارت کی صورت میں کاریگر یا تاجر فروخت کے لئے پیش کردہ چیز پر محنت، وقت(۱) اور مال صرف کرکے اس چیز کو 'کارآمد' بناتا ہے۔ اقتصادیات کی زبان میں ایک چیز کو کئی صورتوںسے کارآمد بنایا جاسکتا ہے جو ہیئت کی تبدیلی (Form Utility) مکان کی تبدیلی (Place Utility) اور وقت کی تبدیلی(Time Utility) پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ان اقسام کی تبدیلیاں پیدا کرنے کے لئے وقت، محنت اور مال صرف ہوتا ہے۔ غرضیکہ تاجر کے کاروبار کے پیچھے مندرجہ بالا تمام تر قوتیں صرف ہوتی ہیں۔ چنانچہ جو زیادتی تجارت کی صورت میں رونما ہوتی ہے وہ انہیں قوتوں کے صرف کا معاوضہ ہے۔ یہ یقینا ٹھوس خدمات سرانجام دینے کے صلہ میں ظہور میں آتی ہے اور تاجر یا کاریگر کا جائز حق ہے۔ اس کے برعکس سود پر رقم قرض دینے کے لئے قرض دینے والا ماسوائے نقدی کے اور وقتی مہلت کے اور کسی قسم کی جسمانی یا ذہنی کاوش نہیں کرتا۔ اس کی قرض میں دی گئی نقدی اصل کی صورت میں قائم رہتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ اپنے آپ کو دوسرے شخص کی آمدنی میں حصہ دار بنا لیتا ہے۔

(3) تیسرا فرق یہ ہے کہ تجارت میں قیمت اور چیز کے تبادلہ کے بعد سودا مکمل ہوجاتا ہے، اس کے بعد فریقین میں کوئی لین دین باقی نہیں رہتا، لیکن سود کی صورت میں قرض دینے والا ایک مقرر شدہ رقم یعنی سود ماہ بماہ، سال بسال وصول کرتا رہتا ہے اور مقروض سود دینے کا پابند ہوتاہے، اور جب تک اصل رقم واپس نہ ہوجائے یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس معاہدے کے پورا کرنے میں اگر مقروض کی تمام پونجی بھی ختم ہوجائے تو عدالتی انصاف کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔

چنانچہ تجارت اور سود دونوں کی سطحیں مختلف ہیں۔ تجارت دونوں فریقوں کے فائدہ پر مبنی ہے اور اس کے پیچھے وقت،(۲) دماغ، محنت اور مال کا صرف ہے۔ برخلاف اس کے سود میں قرض لینے والا سراسر نقصان (Dis-advantage) میں ہوتا ہے اور قرض دینے والا تمام خطرات سے آزاد، مقروض کی کمائی میں حصہ دار ہوتا ہے، اور فائدہ ہی فائدہ میں رہتا ہے۔

سود اَخلاقی اور معاشرتی وجوہات سے حرام ہے

یہاں کہا جاسکتا ہے کہ سود پر رقم قرض دینا بھی ایک سرمایہ کاری (Investment) کا عمل ہے۔ سرمایہ آخر خون اور پسینہ کی کمائی ہوتا ہے، اور اس کو قرض پر دینے میں قربانی مضمر ہے۔ اس لئے یہ کہاں کا انصاف ہے کہ سرمایہ کو اس کا صلہ (Reward) نہ دیا جائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ سودی لین دین پر جو اعتراض ہے وہ اِقتصادی نہیں بلکہ اَخلاقی و معاشرتی نوعیت کا ہے۔ کیونکہ ایسی سرمایہ کاری (Investment) جس سے معاشرہ کے نقصان کا اندیشہ ہو، آج کل بھی ممنوع ہے۔ مارجورینا، حشیش اور شراب کے کاروبار میں سرمایہ کاری کی عام اجازت اسی لئے نہیں ہے کہ یہ سوسائٹی کے لئے نقصان دہ ہیں۔ اسی طرح سود کا کاروبار اَخلاقی اور معاشی طور پر سوسائٹی کے لئے زہر قاتل کا حکم رکھتا ہے، اسی لئے اسلام نے اس کو ممنوع قرار دیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ مارجورینا اور حشیش کی خرابیاں واضح ہیں اور سود کی تباہ کاریاں پوشیدہ۔ اگر سود کی دور رس خرابیاں ثابت ہوجائیں تو مندرجہ بالا اِقتصادی دلیل کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔

سود اور جائیداد کے کرائے میں فرق

اسی طرح اعتراض کیا جاتا ہے کہ مکانات اور جائیدادوں (Properties) کے کرائے بھی ایک حد تک سود سے ملتے جلتے ہیں کہ ان کے مالکان بھی بغیر کسی مزید محنت اور مشقت کے ایک مستقل آمدنی وصول کرتے رہتے ہیں، تو کیا وجہ ہے کہ اسلام نے کرایہ جات سے حاصل شدہ آمدنی کو جائز قرار دیا ہے۔

(i) مکانات اور جائیدادوں کی اِفادیت ان کے استعمال کے باعث ہر لمحہ اور ہر آن کم (Depreciate)ہوتی جاتی ہے۔ اس کو برقرار رکھنا مالک کا فرض ہے جو وہ مزید سرمایہ کاری (Investment) سے کرتا رہتا ہے (ii) اور مالک کا یہ تعلق اپنی جائیداد کے ساتھ ہمیشہ قائم رہتا ہے (iii) مزید برآں آگ، پانی اور دیگر حادثات کی وجہ سے جائیدادیں ضائع بھی ہوسکتی ہیں ۔ (iv) ا س کے علاوہ جائیداد کے مالک کو اس کے اچھے برے استعمال کا حق ہر وقت مہیا ہوتا ہے۔

ا س کے برعکس سود کی اصل رقم کو برقرار رکھنے کیلئے کسی مزید سرمایہ کاری (Investment) یا فنڈ(Depreciation) کی ضرورت نہیںہوتی۔ یہ رقم قرض دینے والے کے نقطہ ٔ نظر سے کبھی بھی ضائع (Destroy) نہیں ہوتی۔ اور یہ عام حوادث کی بھی زد میں نہیں آتی۔ لیکن سود پر ایک دفعہ رقم دے دینے کے بعد اس کے مالک کا اس کے استعمال پر کسی قسم کا حق باقی نہیں رہتا۔ ان وجوہات کی بنا پر کرایہ کی نوعیت سود سے بالکل مختلف ہے۔ دراصل جو بات وجہ ِضرر ہے وہ جائیداد کی لامحدود ملکیت ہے، اور اس کا حل اِسلام میں موجود ہے۔

ان گزارشات کے بعد یہ بات بالکل واضح ہے کہ تجارت کی زیادتی (نفع) اور سود کی زیادتی (ربوا) میں زمین آسمان کا فرق ہے، اور یہ وجہ ہے کہ قرآن پاک نے اس میں شبہ یا تاویل کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔ حکم بالکل صاف اور واضح ہے کہ تجارت میں پیدا شدہ زیادتی جائز نفع ہے اور حلال ہے لیکن ربوا کی پیدا شدہ زیادتی سود ہے جو کہ ناجائز اور حرام ہے۔

سود کی حمایت میں مختلف تاویلوں کا جائزہ

پہلے ہم دوسرے طبقہ کے لوگوں کے دلائل کا جائزہ لیتے ہیں۔ جیسا کہ تعارفِ مضمون میں عرض کیا جاچکا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی تشریح اپنے طریقہ پر کرنا جائز سمجھتے ہیں اور مختلف دلائل کے سہارے راہِ فرار تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں چار دلائل بنیادی قسم کے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:

(1) اوّل یہ کہ قرآنی حکم کا اطلاق صرف ربوا کی ان صورتوں پر ہونا چاہئے جو عرب میں اس وقت رائج تھیں۔ باقی صورتوں کو مستثنیٰ سمجھ کر جائز قرار دینا چاہئے۔

(2) دوم یہ کہ قرآنی احکام کی سپرٹ(Spirit) کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔ اصل مقصد ربوا کی اذیت آمیز اور ضرر رساں صورتوں کو حرام قرار دینا تھا۔ سود کی باقی صورتیں حرام نہیں ہوسکتیں۔

(3) سوم یہ کہ تجارتی اور نفع آور کاموں کے لئے جو قرض دیئے جائیں، ان پر سود جائز ہونا چاہئے کیونکہ یہ دونوں فریقوں کے لئے فائدہ مند ہوتے ہیں۔

(4) چہارم یہ کہ معاشی ترقی آج کل سود پر منحصر ہے۔ غیر سودی نظام اپنی معاشی کمزوری کی وجہ سے قوم کو محکوم بنا سکتا ہے، ا س لئے قوم کی آزادی کے لئے سود ناگزیر ہے۔

اِن دلائل کا مفصل جائزہ پیش خدمت ہے:

دلیل اوّل ...صرف دورِ نبوی ؐ میں مروّج صرفی سود حرام ہے؟

کہا جاتا ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت عرب میں قرض کے معاملات کی چند صورتیں رائج تھیں۔ ان سب میں مشترک بات یہ تھی کہ لین دین کی تحریری اَسناد میں اصل سے زائد ایک رقم ادا کرنا شرط ہوتا تھا۔ اس وقت تمام کے تمام قرضے حاجت مند لیتے تھے اور ذاتی نوعیت کے ہوا کرتے تھے، اس لئے صرف ذاتی قسم کے قرضہ جات ہی حرام کئے گئے تھے۔ باقی قرض کی صورتیں حرام نہیں ہوسکتیں کیونکہ وہ اس وقت رائج ہی نہیں تھیں۔

شریعت تاقیامت پیش آنے والے تمام حالات کو شامل ہے: یہ طے شدہ بات ہے اور یہ ہمارے اِیمان میں شامل ہے کہ قرآنِ پاک کے جتنے بھی احکام بنیادی نوعیت کے ہیں وہ ہر زمانہ، ہر تہذیب اور ملک کے لئے تاقیامت صحیح ہیں۔ سود کے متعلق قرآنی احکام بنیادی نوعیت کے ہیں اور ان کے متعلق یہ خیال کہ یہ اس وقت کی صورت حال کے مطابق تھے او راب ان کا اِ طلاق نہیں ہے، سرے سے قابل قبول ہی نہیں ہے۔ اس طرزِ استدلال کے مطابق تو نزولِ قرآن کے وقت جو شراب حرام کی گئی تھی وہ خَمْرتھی جس کو انگوروں سے ایک خاص طریقہ سے بنایا جاتا تھا۔ چنانچہ دورِ جدید کی شرابیں مثلا شمپئن، برانڈی، وہسکی اور شیری چونکہ اس صورت میں خمر نہیں ہیں اس لئے یہ حرام نہیں قرار دی جاسکتیں۔ اسی طرح اگر آج کل یا آئندہ چوری خود کار مقناطیسی آلوں یا کمپیوٹروں (Computors) کے ذریعہ سے کی جانے لگے تو وہ قرآن کے احکام کے مطابق ان سزائوں کی مستحق نہ ہوگی، جو قرآن نے مقرر کی ہیں۔

یہ محض مفروضہ ہے کہ اس وقت قرض صرف حاجت مند یعنی غریب و نادار لوگ ہی لیتے تھے اور قرضوں کی نوعیت صرف ذاتی ہوتی تھی۔ حقیقتاًاس وقت بھی تجارتی اور قومی قرضوں کی صورت موجود تھی۔ مشرقِ بعید کی تمام تجارت مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے عرب کے واسطے سے ہوتی تھی۔ اس تمام تجارتی لین دین میں تجارتی قرضے اور سود اس وقت کے رواج کے مطابق شامل تھے(سُود از سید مودودیؒ )... مزید برآں تجارتی قرضوں کی موجودگی نزولِ قرآن سے بہت پہلے تقریباً تمام تہذیبوں سے ثابت ہے۔

نزولِ قرآن کے وقت عرب میں ہر شخص جانتا تھا کہ قرض کا معاملہ صرف شخصی حالات کے لئے نہیں ہوتا بلکہ کاروباری اور قومی ضروریات کے لئے بھی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ قرآن پاک کے حکم سے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا جس سے ضرورت کے اعتبار سے قرض اور قرض میں فرق روا رکھنا ضروری ہو۔ تمام فقہائِ اسلام پہلی صدی ہجری سے آج تک اس امر پر متفق چلے آئے ہیں کہ ''ہر وہ قرض جس کے ساتھ زیادتی شامل ہو، سود ہے'' مو ٔرخین اور محدثین نے ذاتی حاجات اور تجارتی اور کاروباری قرضوں کا واضح طور پر الگ الگ ذکر غالباً اس لئے نہیں کیا کہ ان کے نزدیک قرض چاہے جس غرض کیلئے بھی ہو، قرض ہی سمجھا جاتا تھا اور اس پر سود کی حیثیت بھی ان کی نگاہوں میں یکساں تھی (سُود از سید مودودیؒ ) ... لہٰذا اس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ قرآن نے اپنے حکم سے ہر قسم کے سود کو خواہ وہ شخصی ضروریات کے لئے ہو یا تجارتی اَغراض کیلئے، حرام قرار دیا ہے۔

دلیل دوم... سود کی حرمت مقروض پر تکلیف اورظلم کی بنا پر ہے،اس کے ماسوا سود جائز ہے؟

اِستدلال کیا جاتا ہے کہ جس طرح شراب کی ممانعت میں بنیاد ی خصوصیت، جس کی وجہ سے اسے حرام قرار دیا گیا ہے، نشہ ہے، اسی طرح سودی لین دین میں بنیادی خصو صیت، مقروض کی اذیت، تکلیف اور ضرر ہے۔ اگر قرض دار ایسا حاجت مند اور نادار ہے جس کے لئے سود اور اصل رقم واپس کرنا اس کے لئے مالی طور پر مشکل اور باعث ِتکلیف ہے تو پھر سود کا حرام قرار دیا جانا بجا ہے۔ لیکن ایک صاحب ِحیثیت شخص جو زمین، مکانات اور جائیداد کا مالک ہے، اگر وقتی تقاضے کے تحت (شادی، غمی یا ہنگامی تجارت) کے لئے قرض لیتا ہے تو اس کے لئے تو ادائیگی سود اور اصل رقم کوئی ایسی سنگین اذیت یا ضرر پیدا نہیں کرتی۔ لہٰذا ایسے شخص سے سود لینا کوئی ایسی بری بات نہیں ہے کہ قرآن کے حکم کی سپرٹ کے خلاف ہو۔

یہاں دانشوروں سے دو قسم کی لغزشیں ہوئی ہیں۔ اوّل یہ کہ ضرر یا اذیت کا پہلو مقروض کی تکلیف ہی سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ قرض دینے اور لینے کی تقابلی (Comparative) پوزیشن سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ قرض لینے والا ہمیشہ نقصان (Dis-advantage) میں رہتا ہے۔ جو شخص سود پر قرض دیتا ہے، وہ اپنے لئے تو ایک طے شدہ منافع، بغیر کسی محنت اور کاوش کے حاصل کر لیتا ہے لیکن مقروض کے لئے باوجود اس کی محنت، کاوِش اور دماغ سوزی کے نفع کی کوئی قطعی ضمانت نہیں ہوتی۔ چنانچہ قرض دینے والا بغیر کسی محنت کے اپنے مخالف فریق کے مقابلہ میں بہتر پوزیشن میں ہوتا ہے اور اسی میں اس کا ضرر یا اذیت پوشیدہ ہے یہ صورتِ حال، معاشرتی عدل اور انصاف کے منافی ہے۔

تجارتی سود کے نقصانات: دوسرا بڑا دھوکا جو دلیل میں مضمر ہے وہ یہ کہ اذیت، تکلیف اور ضرر کو صرف ذاتی سطح پر ہی لیا جاتا ہے۔ حالانکہ ساری خرابیاں قومی اور معاشرتی سطح پر بہت شدت سے رونما ہوتی ہیں جو شخصی اور انفرادی اذیت سے کہیں زیادہ تباہ کن اور دور رس ہوتی ہیں۔ دورِ حاضر کی تمام تر خرابیاں سود سے وابستہ ہیں۔ چونکہ سود تو ہر حال میں اَدا کرنا ضروری ہے اس لئے جس کاروبار میں سودی روپیہ لگا ہوتا ہے، اس کا مالک شرحِ سود سے زیادہ نفع کمانے کی غرض سے ہر غلط اور ناجائز طریقہ کا استعمال اپنا حق تصور کرنے لگ جاتا ہے۔ وہ کاروبار میںدھوکا کرتا ہے، بلیک مارکیٹ کو جنم دیتاہے، ذخیرہ اندوزی سے زیادہ نفع کمانے کی کوشش کرتا ہے، حکومت کے ٹیکس بچانے کی غرض سے دو قسم کے رجسٹر حساب و کتاب رکھتا ہے اور اس طرح حکومت اور معاشرہ کا جائز حق غصب کرتا ہے۔ حکومت کی آمدنی کم ہوجاتی ہے۔ عوام کی بہبود اور حکومت کے دوسرے فرائض کے لئے سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت آمدنی بڑھانے کی غرض سے مزید ٹیکس عائد کرتی ہے اور عوام ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبتے چلے جاتے ہیں پھر بھی حکومت کے اِخراجات پورے نہیں ہوتے۔

نفع کی سطح شرحِ سود سے اوپر رکھنے کی خاطر مزدوروں کی اُجرت کم رکھی جاتی ہے۔ مزدور باوجود محنت اور مشقت کے گھر کے اِخراجات پورے نہیں کر پاتے۔ ان کی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی جاتی ہے، اور یہ ایسی ناداری، بے چارگی اور قنوطیت پیدا کرتی ہے جس میں اخلاقی بیماریاں جنم لینا شروع کردیتی ہیں۔ نفرت، چوری، دوسروں کے حق کو غصب کرنا ناگزیر ہوتا چلا جاتا ہے۔ جب مزدوروں کا حق غصب ہوتا ہے تو وہ ردّ عمل کے طور پر معاشرہ کی ہر چیز اور فرد سے بددل ہو کر اس سے انتقام کی ٹھان لیتے ہیں۔ اعلیٰ انسانی اَقدار کا دم گھٹنا شروع ہوجاتا ہے، یہاں تک کہ تمام کا تمام معاشرہ اخلاق کی بدترین گہرائیوں میں گر پڑتا ہے جہاں سے اس کو دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا کرنا قریب قریب ناممکن ہوجاتا ہے۔

دراصل سودی نظام میں بنکوں کے ذریعے سے دولت کی تقسیم ناہموار ہوتی چلی جاتی ہے۔ قوم کی مجموعی رقومات (Deposits) جو بنکوں میں رکھی جاتی ہیں، ان کی بنا پر بنکاری نظام اس سے دس گنا کریڈٹ پیدا کرتا ہے۔ اس تمام سرمایہ پر ۳۰ سے ۴۰ فیصد منافع ہوتا ہے۔ لیکن عام کھاتہ داروں کو ۳ یا ۴ فیصد سود ہی دیا جاتا ہے۔ حقیقت میں کھاتہ داروں کو کوئی خاص بچت بھی نہیں ہوتی۔ کیونکہ ایک سال کے عرصہ میں قیمتیں ۴ یا ۵ فیصد بڑھ جاتی ہیں اور تمام نفع بنک کے مالکان کے حصہ میں آجاتا ہے اس طرح سے سودی بنکاری دولت کے چند ہاتھوں میں سمٹنے کا ذریعہ بنتی ہے۔

سودی روپیہ سے کاروبار کرنے والا زَرپرستی کی ہوس میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ اگر وہ کارخانہ دار ہے تو مال ضرورت اور استعداد (Capacity) سے کم پیدا کرتا ہے تاکہ قیمتیں اونچی رہیں اور اس کو منافع، شرح سود سے کئی گنا زیادہ ملتا رہے۔ دولت کی حرص اور بڑھتی ہے۔ صنعت کار ایک بنکار اور انشورنس کار بھی بن جاتا ہے کیونکہ سود کا حربہ ہر کہ ومہ کو دام میں پھنسانے کے لئے موجود ہے۔ لوگ اپنی محنت سے کمائی ہوئی پونجیاں سود کے لالچ میں بنک میں رکھتے ہیں۔ صنعتی بنکار (Industrial Banker) کے ہاتھ سستا سرمایہ لگ جاتا ہے۔ ایک کارخانہ سے دوسرا اور دوسرے سے تیسرا وجود میں آتا چلا جاتا ہے۔ دولت چند ہاتھوں میں سمٹتی چلی جاتی ہے۔ مزدوروں اور عوم کی معاشی سطح اور آزادی کا دائرہ کم سے کم تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ عام 'ترقی' کارخانوں کی بھرمار اور صنعتوں کی گہما گہمی کے باوجود تنگدستی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ کپڑوں کے کارخانوں کے باوجود انسانیت ننگی ہوتی چلی جاتی ہے، دولت کی جھنکار کے باوجود بھوک اپنا دائرہ تسلط وسیع کرتی جاتی ہے، غرضیکہ دولت کی تقسیم ناہموار سے ناہموار تر ہوتی چلی جاتی ہے اور جو نتیجہ دولت کی ناہموار تقسیم پیدا کرتی ہے، اب پاکستان میں کسی وضاحت کا مرہونِ منت نہیں ہے۔

سودی نظام میں کاروباری طبقہ، پیداوار اور تجارت کو اس طریقہ پر چلاتا ہے کہ وہ اس کے مفاد کے مطابق ہو۔ معاشرہ کی فلاح و بہبود اس کے سامنے ثانوی درجہ رکھتی ہے۔ سرمایہ دار، شرح سود کے اُتار چڑھائو کے انتظار میں سرمایہ کو بیکار بھی رکھتا ہے تاکہ مناسب وقت پر (Invest) کرکے زیادہ سے زیادہ سود حاصل کرسکے۔ اس طرح وہ دولت اور سرمایہ کی گردش (Circulation) کو روکتا ہے۔ وہ لمبی مدت کے قرضوں میں لگانے کی بجائے سرمایہ ہاتھ میں رکھتا ہے تاکہ سٹہ بازی میں حصہ لے کر زیادہ سے زیادہ نفع کمائے اور جب لمبی مدت کے لئے قرضہ دیتا بھی ہے تو خرابیوں کے مزید دروازے کھول دیتا ہے۔ شرح سود پندرہ بیس سال کے لئے پہلے سے ہی مقرر کر لیتا ہے۔ ایسا سودی سرمایہ استعمال کرنے والا اس لمبے عرصہ کی سودی شرط کو نبھانے کے لئے اور اپنا نفع شرح سود سے زائد کمانے کی غرض سے ایسی ایسی ناجائز حرکات کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے جس سے ملک کا معاشی نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے۔ بلیک مارکیٹ، ذخیرہ اندوزی، بے ایمانی غرضیکہ کون سا ایسا معاشی اور اخلاقی جرم ہے جس کے کرنے پر وہ مجبور نہیں ہوجاتا۔ ناجائز مراعات حاصل کرنے کی غرض سے وہ رشوت کا بازار گرم کرتا ہے۔ اس سیل بے پناہ میں وہ ہر ایک کو ملوث کرتا چلا جاتا ہے۔ حکومت کے چپڑاسی سے لے کر اعلیٰ افسر تک اس سیلاب کی لپیٹ میں آتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ نظم و نسق اور حکومت کی بنیادیں ہلنا شروع ہوجاتی ہیں۔ عوام کا اعتماد حکومت اور معاشرہ سے متزلزل ہونا شروع ہوجاتا ہے، غرضیکہ کوئی ایسی چھوٹی بڑی خرابی تصور نہیں کی جاسکتی جو سود خوار، سرمایہ دار اور صنعت کار ملک کے لئے پیدا نہیں کردیتا۔ مندرجہ بالا صور تحال میں نہ صرف معاشی اور اقتصادی نظام غیر منصفانہ اور ظالمانہ انداز میں چل نکلتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اَخلاقی قدریں بھی خاک میں ملنا شروع ہوجاتی ہیں۔ جب دولت چند ہاتھوں میں سمٹتی ہے تو فضول خرچی اور عیش پرستی جنم لیتی ہے۔ دولت اپنی قوت کی بنا پر فحاشی کے سامان اور اڈّے قائم کرنے پر تل جاتی ہے۔ غربت اور ناداری کے ہاتھوں تنگ آئی ہوئی شرافت دم توڑنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔

برخلاف اِسلامی معاشرے کے، جس کی نمایاں خصوصیت ہمدردی، خلوص، مساوات اور بھائی چارہ ہے۔ سودی نظام ایسا معاشرہ پیدا کرنے پر مجبور ہے جس میں بے رحمی، خود غرض، زرپرستی، لوٹ کھسوٹ اور عدمِ مساوات کا دور دورہ ہو۔ سودی نظام کی مختصر سی تصویر جو سطورِ بالا میں کھینچی گئی ہے کوئی جذباتی اور خیالی منظر کشی نہیں ہے بلکہ ایسی حقیقت ہے جس کا ہم اپنے ملک میں تجربہ کرچکے ہیں کیا اس کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ تجارتی سود میں کوئی اذیت، ضرر اور تکلیف مضمر نہیں ہے۔

دلیل سوم ... نفع آور سود کی گنجائش ہونی چاہئے؟

تیسری دلیل کا جواب بہت حد تک مندرجہ بالا سطور میں آگیا ہے۔ تجارتی اور نفع آور کاموں کے لئے جو قرض لئے یا دیئے جاتے ہیں، ان کی کارکردگی واضح کردی گئی ہے۔ قرآن کے حکم کے تحت تجارتی اور ذاتی قرضوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دراصل ذاتی قرضوں کے نقصانات اَفراد تک ہی محدود ہوتے ہیں۔ لیکن تجارتی قرضوں کے اَثرات تمام کے تمام معاشرہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں اور تمام سوسائٹی کا مزاج یکسر اللہ تعالیٰ کی منشا کے خلاف بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے جس قدر سختی سے سود کی ممانعت کے اَحکام جاری کئے ہیں، کسی دوسرے گناہ کے بارے میں نہیں کئے۔یعنی قرآن نے سودی کاروبار کو اللہ اور رسولﷺسے جنگ کے مترادف قرار دیا ہے۔ (البقرۃ : )

دلیل چہارم... سود کو چھوڑنا معاشی تنزلی کا راستہ ہے؟

چوتھی دلیل کے تحت استدلال کچھ اس طریق پر کیا جاتا ہے کہ آج کل دنیا میں بغیر تجارتی سود کے گزارا نہیں۔ جو قوم اس سے پرہیز کرتی ہے وہ دوسری قوموں کے مقابلہ میں معاشی لحاظ سے بہت کمزور ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس طرح یہ قوم اپنی آزادی کھو بیٹھتی ہے اور دوسری قوموں کی محکوم ہوجاتی ہے۔ پھر محکومیت کی ذِلت سے کون واقف نہیں ہے۔ تجارتی سود (Productive Interest) قوم کی تمدنی اور معاشرتی ترقی کا معاملہ ہے، اس لئے قرآن کے اَحکام کی تشریح میں سختی نہیں برتنی چاہئے بلکہ ان کی وضاحت اور تفسیر حالات کے تقاضوں کے تحت کرنا چاہئے۔

قرآنِ پاک کے اَحکامات، وقت کے تقاضوں سے بالاتر ہوتے ہیں۔ اُن کی تشریح میں کسی لچک کی گنجائش نہیں ہوا کرتی۔ نماز ہر حال میں فرض ہے، اس میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں ہے کہ آج کل کے معاشرہ میں انسان بہت مصروف ہے، اس لئے اس کی پابندی پر اتنی سختی نہیں برتنی چاہئے۔

یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان اور قانون ہے کہ مسلمان اگر صحیح معنوں میں مسلمان ہیں تو وہ کبھی محکوم نہیں ہوسکتے۔ اس فرمان اور وعدہ میں کہیں مادّی برتری اور سازوسامان اور معاشی استحکام کا ذکر نہیں ہے، شرط صرف مسلمان ہونے کی ہے۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ مسلمانوں کی برتری اور فتح کبھی سازوسامان اور معاشی مضبوطی کی مرہونِ منت نہیں رہی۔ دور کی بات نہیں ۱۹۶۵ئ؁ کی جنگ سے یہ بات پایہ ٔ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ مسلمان اگر شہادت کے صحیح جذبہ سے سرشار ہوں تو وہ شکست نہیںکھاسکتے خواہ باطل کی قوتیں کتنی ہی طاقتور اور معاشی لحاظ سے کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہوں۔ جس قوم میں مسلمان ہونے کی تمام صفات موجود ہوں، اس کے محکوم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اپنے وعدہ اور شان کے خلاف ہوگا۔ اس لئے حاکمیت او رمحکومیت کو اس قسم کی معاشی مضبوطی (جو معترضین کے ذہن میں ہے) سے وابستہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے او راللہ تعالیٰ کے قانون کی صداقت سے انکار کرنے کے مترادف ہے۔

دراصل محکومیت کا خدشہ سود تک ہی محدود معلوم نہیںہوتا، بلکہ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو اِسلام سے بھی شاید اسی قسم کے خدشات ہیں۔ ان کے ذہن کے کسی گوشہ میں شاید یہ خطرہ بھی جاگزیں ہے کہ مسلمان بننے سے بھی قوم معاشی لحاظ سے کمزور ہو کر کہیں محکوم نہ ہوجائے۔ اگر یہ بات ہے تو بیماری زیادہ سنگین اور خطرناک ہے۔اس رجحان کا سد ِباب ضروری ہے۔ تجارتی سود کو جائز اور ناجائز قرار دینا تو بعد کی بحث ہے پہلے تو یہ طے کرنا چاہئے کہ کہیں اسلامی نظام ہماری قوم کی آزادی کے لئے نعوذ باللہ، باعث ِمحکومیت تو نہیں بن جائے گا او ریہ کہ ہمیں اسلامی معاشی نظام کی پیروی کرنا ہے یا کسی اور نظام کی۔

یہ قطعاً درست نہیں کہ اسلامی نظام، محکومیت کے اثرات پیدا کرتا ہے۔ اس مفروضہ میں کوئی معقولیت نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اَحکام پر چلنے سے کوئی قوم محکوم ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیاجاچکا ہے، یہ تو اللہ تعالیٰ کی اپنی شانِ کبریائی کے منافی ہوگا۔ اس لئے ذرا سے غور کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس قسم کی عقلی دلیلیں سوائے خلل دماغ کے اور کچھ نہیں۔ اگر ہمارا ایمان اسلام اور اس کے نظامِ حیات پر ہے تو ا س میں سودی لین دین کی نہ ضرورت ہے نہ گنجائش ۔ چونکہ اسلامی معیشت کا سارا کاروبار سود کے بغیر چلتا ہے اس لئے جب تک ہم ذہنی طور پر اس کا اعتراف نہیں کریں گے دوسرے نظاموں کی زنجیروں سے آزاد نہیں ہوسکیں گے۔ اسلامی نظامِ حیات میں دیگر معاشی نظاموں کی پیروی ممکن نہیں۔ اگر ہمیں اسلام کے اُصولوں کی صحت پر شک ہے تو دوسرے اُصولوں کو بخوشی اپنا سکتے ہیں لیکن ان کا پیوند اسلام میں لگا کر یا اسلام کے اصولوں کو توڑنے موڑنے کے عمل کو تجدید کے پردے میں جاری رکھنا کسی طرح درست نہیں۔

خلاصہ بحث

سودی لین دین یقینی طور پر دنیا کے تمام معاشی نظاموں کو دَم توڑ دینے پر مجبور کردے گی۔ یہ صرف وقت کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں وقت کا تصور (Time Concept) بالکل مختلف ہے۔ اس کے احکام سے بغاوت کی مہلت دس بیس یا سو سال تک محدود ہونا کوئی ضروری بات نہیں ہے۔ بغاوت کے تجربات کے لئے اللہ تعالیٰ کے سامنے صدیاں بھی چنداں حقیقت نہیں رکھتیں۔ وہ اپنی مخلوق کو تجربوں کے لئے پورا پورا وقت دیتا ہے تاکہ وہ جو ممکن ہوسکے کر گزریں۔ مغرب کے بیشتر ممالک انسانی اَقدار (ایمانداری، رواداری وغیرہ) کا سہارا دے کر سودی نظام کے گرتے ہوئے ڈھانچہ کو سنبھالا دیئے جارہے ہیں، اور ہو سکتا ہے کچھ عرصہ اسی طرح چلتے جائیں۔ ہمیں یہاں اسلامی ملک ہونے کے باوجود وہ سہارا بھی میسر نہیں آسکا۔ نتیجہ یہ کہ ۲۳ سال کی قلیل مدت میں سودی نظام اپنی طبعی عمر کو پہنچنے سے قبل ہی تباہی و موت کے نازک مرحلہ میں داخل ہوگیا ہے۔

سودی نظام کی اَ خلاق سوز خرابیاں آج سے ۱۴۰۰ سال پہلے ذہن انسانی کے سامنے اتنی واضح نہ تھیں جتنی کہ آج ہیں۔ ہر ملک کا معاشی نظام ایک کھلی کتاب کی طرح ہمارے سامنے ہے۔ غورورفکر سے معلوم ہوتا ہے کہ دولت کی ناہموار تقسیم اس لئے نہیں کہ سرمایہ دار یا صنعت کار کی ذہنی کاوش اور قوتِ بازو دوسرے اَفراد سے افضل ہے بلکہ یہ تجارتی سود کا لازمی نتیجہ ہے۔ رشوت ستانی، چور بازاری اور ذخیرہ اندوزی کا دور دورہ بھی اس لئے ہے کہ نفع کو شرح سود سے بلند رکھنے کے لئے یہ ناگزیر ہیں۔ اَخلاقی اِنحطاط اور عصمت فروشی کا باعث بھی یہ ہے کہ بغیر محنت کے کمائی ہوئی دولت اپنا اظہار چاہتی ہے ، اور اس کے سامنے غربت زدہ شرافت کو دم توڑنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔ مزدور اس لئے غریب اور نادار نہیں کہ یہ اس کی تقدیر کا نوشتہ ہے بلکہ اس کا ذمہ دار سود سے حاصل کردہ وہ سرمایہ ہے جو اپنے لئے ہر قیمت پر نفع چاہتا ہے۔ دراصل موجودہ اَخلاقی، ذہنی، تمدنی اور معاشی خرابیوں کا موجب تجارتی سود ہی ہے۔ جب تک ہم اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرلیتے، اِصلاح کا کوئی دروازہ نہیں کھل سکتا۔

بلا سود بینکاری

سودی معاشرہ کی برائیوں پر غور کرنے کے بعد اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بلا سودی نظامِ بنکاری موجودہ وقت میں ممکن بھی ہے یا نہیں۔ بلاسود نظامِ بنکاری مرتب کرنے کے لئے جدید بنکاروں، ماہرین اقتصادیات اور علمائِ دین کے مشترکہ غوروفکر اور محنت کی ضرورت ہے۔ اب ہم اس نظام کا ایک مختصر لیکن کامل خاکہ پیش کرتے ہیں جو کہ طبقہ ٔ اول کی ذہنی اُلجھنوں کا مکمل جواب ہے۔ دراصل ہر نئے نظام کامرتب کرنا اور اس کا چلانا ابتدائی مراحل میں مشکل ہوتا ہے۔ لیکن اگر صحیح جذبہ اور نیک نیتی سے کوشش کی جائے تو ضرور کامیابی ہوتی ہے۔ اگر اِرادہ پختہ ہو تو بلا سود بنکاری بھی ایک قابل عمل حقیقت بن سکتی ہے۔

ایک اہم مفروضہ: بلا سود بنکاری نظام اس امر کا متقاضی ہے کہ معاشرہ اسلامی ہو اور حکومت قرآن و سنت کے مطابق کام کر رہی ہو۔ اس کے تحت سودی لین دین قابل تعزیر جرم ہو۔ حاجت مند صارفین کے لئے اجتماعی کفالت کا معقول انتظام ہو، اور سرمایہ کی ذخیرہ اندوزی کی محاصل (Taxes) کے ذریعے ہمت شکنی کی جائے گی۔

بلا سود نظام کی بنیاد

اِسلامی معاشرہ میں بنکاری کا نظام اسی طرح چلایا جاسکتا ہے جس طرح آج کل ہے۔ بنکوں کو قومی ملکیت میں لینے کی ضرورت نہ ہوگی۔ جو خدمات بنک آج کل بعوض کمیشن یا فیس کے سر انجام دیتے ہیں، وہ اسی طرح جاری رہ سکتی ہیں کیونکہ اس میں سود کا عنصر موجود نہیں ہے۔ اِن خدمات میں امانتوں کا رکھنا، لاکرز (Lockers) کا مہیا کرنا، زیورات، کاغذات، دستاویزات، سندات اور دوسری چیزوں کی حفاظت کرنا، سفری چیک (Travellers Cheques)، بنک ڈرافٹ، خطوطِ القا (Letters of Credit) جاری کرنا شامل ہیں۔ اسی طرح گاہکوں کی طرف سے خریدوفروخت، صنعتی کاروبار اور دیگر امور میں ماہرانہ مشورے دینا اور Clearing Agents کے فرائض انجام دینا بھی سودی لین دین سے پاک ہے۔ چنانچہ بنکوں کے یہ تمام کاروبار غیر سودی نظام میں بھی جاری رہیں گے۔ بنکاری سے سود کے عنصر کو نکالنے کے لئے جس بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہوگی، وہ یہ ہے کہ بنک اپنا کاروبار سود کی بجائے شراکت یا مضاربت کے اصول پر سرانجام دیں گے۔ چنانچہ اگر ہم موجودہ بنکاری نظام کو شراکت یا مضاربت کے دائرہ میں رہ کر چلاسکیں تو وہ سود سے پاک اور اِسلامی اصولوں کے مطابق ہوگا۔ عام تجارتی بنک سے لے کر سنٹرل بنک تک، حکومت کے مالی نظام سے لے کر قومی زری پالیسیوں تک، شراکت اور مضاربت کے اُصولوں کے مطابق آزاد، خود مختار اور بلاسود معیشت کا قیام ممکن ہے۔

شراکت اور مضاربت کی عملی صورتیں

شراکت میںدو یا دو سے زائد فریق کاروبار شروع کرتے ہیں۔ نفع ایک طے شدہ نسبت کے مطابق تقسیم ہوتا ہے، لیکن نقصان لگائے گئے سرمایہ (Invested Money) کی نسبت سے برداشت کرنا پڑتا ہے۔ شراکت میںہر حصہ دار اپنے حصے پر مالکانہ حقوق رکھتا ہے اور اس کو وہ اپنی مرضی کے مطابق فروخت کرسکتا ہے۔ اسلام کے مطابق معاہدئہ شراکت ایک مدتِ معینہ کے لئے کیا جاتا ہے جس کے بعد وہ سرمایہ مع نفع یا نقصان، حصہ داروں کو واپس کردیا جاتاہے۔ مضاربت میں سرمایہ ایک پارٹی یا فرد لگاتا ہے اور اس سرمایہ سے کاروبار دوسرا فرد یا پارٹی کرتی ہے۔ کاروباری فریق اپنا سرمایہ بھی مضاربت پر شامل کرسکتا ہے۔ اس میں سرمایہ لگانے والا فریق کاروبار میں حصہ دار نہیں ہوتا بلکہ کاروبار کے نفع میں ایک طے شدہ نسبت (جو شراکت کے مقابلہ میں کم ہوتی ہے) کا حقدار ہوتا ہے۔ لیکن نقصان چونکہ سرمایہ پر واقع ہوتا ہے اس لئے نقصان کو سرمایوں کی نسبت سے برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہ شراکت اور مضاربت کے اسلامی اُصول ہیں اور حکومت کے مجوزہ مالی نظام اور بلا سود بنکاری میں انہی کو مد ِنظر رکھا جائے گا۔

تجارتی بنک کی تشکیل

ہم پہلے ایک تجارتی بنک کی تشکیل کی اِسلامی صورت پیش کریں گے، اور اس کے بعد مرکزی بنک کے تحت مکمل بنکاری کا نقشہ پیش کیا جائے گا۔ موجودہ مالی نظام کے مختلف اہم عوامل مثلاً بچت (Savings)سرمایہ کاری(Capital Formation) زر کی رسد (Money Supply) اور اس کا کنٹرول اور دیگر مسائل زیر بحث آئیں گے۔ آخر میں حکومت کے مالیاتی نظام کو چلانے کے بارے میں طریق کار کا جائزہ لیا جائے گا۔

غیر سودی نظام میں تجارتی بنک بدستور قائم رہیں گے اور ان کی ذمہ داری محدود (Limited Liability) ہوگی۔ فرق صرف ان کے سرمایہ فراہم کرنے کے طریق کار میں ہوگا۔ تجارتی بنک حصہ داروں کے سرمایہ سے قائم ہوں گے۔ مزید سرمایہ عوام مضاربت یا قرض پر بنک کو دیں گے اور اس طریقہ سے بنک کا کل سرمایہ اکٹھا ہوگا یہ بنک وہ تمام خدمات (Services) جو فیس اور کمیشن کے عوض میں سرانجام دی جاتی ہیں، جاری رکھے گا۔ لیکن نئے نظام میں بنک کا سرمایہ بجائے سود پر دیئے جانے کے مضاربت یا شرکت کے اُصول پر تجارت میں لگایا جائے گا اور عوام کو چھوٹی مدت کے قرضے بھی بلا سود فراہم کئے جائیں گے۔

جن طریقوں سے یہ تمام اُمور سرانجام دیئے جائیں گے، ان کی تشریح حسب ِذیل ہے:

(1) مضاربت پر فراہمی سرمایہ

ایک تجارتی بنک حصہ داروں کے سرمایہ سے شروع کیاجائے گا۔ حصہ داروں کا مقام اور ان کے حقوق کسی وضاحت کے محتاج نہیں۔البتہ جو سرمایہ عوام بنک کو مضاربت کے اصول پر دیں گے، اس کی تشریح ضروری ہے۔ موجودہ نظام میں عوام اپنا سرمایہ بنک میں رکھتے ہیں تو بنک اُن کو سو د دیتا ہے۔ لیکن بلا سود بینکاری میں عوام کو سود کی بجائے مضاربت کی رعایت ملے گی۔ بنک اپنا روپیہ آگے تجارتی کاموں میں مضاربت کے اُصولوں پر لگائے گا۔ اس سے جو نفع حاصل ہوگا وہ بنک کے مجموعی نفع میں شامل کردیا جائے گا اور مضاربت کھاتہ داروں میں ایک مقررہ مدت کے بعد ان کے سرمایوں کے حساب سے جس شرح پر بنک کو منافع ہوا ہے، اسی شرح پر نفع تقسیم کردیا جائے گا۔ اگر بنک کو مجموعی طور پر نقصان ہوگا تو یہ نقصان مضاربت کھاتہ داروں کو اسی شرح کے مطابق برداشت کرنا پڑے گا۔ مضاربت کے طور پر رکھے ہوئے سرمایہ کو چیک کے ذریعے نہیں نکلوایا جاسکے گا اور نہ یہ رقوم چیک کے ذریعے سے دوسرے افراد کو منتقل کی جاسکیں گی۔ ان رقوم کو نکالنے کے لئے ایک مناسب عرصہ پہلے اطلاع دینی ہوگی، لیکن جب یہ نظام پوری طرح رائج ہوجائے گا تو بغیر پیشگی اطلاع کے بھی مضاربت کی کل رقم یا اس کا کوئی حصہ بنک سے نکلوانا ممکن ہوجائے گا۔ البتہ نفع یا نقصان کی شرح بہرحال ایک مقررہ مدت یعنی چھ ماہ یا ایک سال کے بعد ہی معلوم ہوسکے گی۔

مضاربت میں نفع اور نقصان کا تعین

مندرجہ بالا اُصول مثال کے ذریعے بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ فرض کیا کہ ایک تجارتی بنک دس حصہ داروں (Share holders) نے ایک ایک لاکھ کے سرمایہ سے شروع کیا۔ یعنی بنک کا اپنا سرمایہ دس لاکھ ہے، اور دس ہزار عوام نے، ۵۰۰ روپے فی کس، مضاربت کھاتے میں ۵۰ لاکھ روپے بنک میں رکھوائے۔ چنانچہ بنک کا کل سرمایہ ۶۰ لاکھ روپے ہوگیا۔ تقسیم نفع کی نسبت بنک اور مضاربت کھاتہ داروں میں اس طرح سے طے ہوئی کہ ۴؍۱ حصہ بنک کو ملے گا اور ۴؍۳ حصہ مضاربت کھاتہ داروں کا۔ تو اگر ۶۰ لاکھ روپے پر سال میں ۳ لاکھ روپے نفع ہوا تو منافع کی شرح ۵ فیصد نکلی۔ جس میں معاہدہ کی رو سے 3.75 فیصد مضاربت کھاتہ داروں کو ملے گا اور 1.25فیصد بنک (یا بنک کے حصہ داروں) کو ملے گا۔ چنانچہ ہر ۵۰۰ روپے کے مضاربت کھاتہ داروں کو 3.75فیصد کے حساب سے 18.75 روپے منافع ملے گا۔ دس ہزار مضاربت کھاتہ داروں کا منافع 18.75 X 1,87,500=10,000 روپے بنا۔ بقایا 1,12,500روپے بنک کا نفع ہوگا جو اس کے دس حصہ داروں میں بحساب 11,250 روپے فی حصہ ان میں تقسیم ہوگا۔

لیکن نقصان چونکہ ہمیشہ سرمایوں پر ہوتا ہے، ا س لئے بینک کو مجموعی طور پر نقصان کی صورت میں مضاربت کھاتہ داروں اور بنک حصہ داروں کو ایک ہی شرح سے نقصان برداشت کرنا ہوگا ۔مثلاً اگر اوپر دی ہوئی صورت میں بنک کو ۵ فیصد نقصان ہو تو ہر ۵۰۰ روپے کے مضاربت کھاتہ دار کو ۲۵ روپے نقصان ہوگا۔ یعنی مدتِ معینہ کے بعد مضاربت کھاتہ دار کو ۴۷۵ روپے واپس ملیں گے اور ہر حصہ دار بنک کو۹۵ہزار روپے۔

چنانچہ مندرجہ بالا مثال سے مضاربت کا اصول یہ واضح ہوا کہ نقصان کی صورت میں بنک کے حصہ داروں اور مضاربت کھاتہ داروں کو ایک ہی شرح سے نقصان ہوگا۔ لیکن نفع کی صورت میں بنک یا کاروباری پارٹی (جس نے اپنا سرمایہ بھی لگایا ہو) کی شرحِ نفع مضاربت کھاتہ داروں سے زیادہ ہوتی ہے۔ اوپر دی ہوئی مثال میں مضاربت کھاتہ داروں کی شرح نفع 3.75فیصد ہے۔ لیکن بنک کے حصہ داروں کی شرح نفع 1.25فیصد بن جاتی ہے۔ (ہر ایک لاکھ کے حصہ دار کو ۱۵۰،۱۱ روپے ملتے ہیں) یہ فرق اس وجہ سے ہے کہ حصہ داروں کو اپنے سرمایہ پر آنے والا حصہ بھی ملتا ہے۔ یہ انصاف کے مطابق ہے کیونکہ مضاربت پر روپیہ دینے والا صرف سرمایہ فراہم کرتا ہے، کاروبار یا بنکاری میں شریک نہیں ہوتا۔ اس لئے اس کی شرح نفع ایک ایسے شخص کی نسبت یا بنک کی نسبت جو سرمایہ لگا کر کاروبار کے چلنے کا بھی اہتمام کرتا ہے، یقینا کم ہونی چاہئے۔

(2) قرض پر فراہمی ٔسرمایہ

مضاربت کے علاوہ عوام بنک میں اپنا روپیہ قرض کی صورت میں بھی دے سکتے ہیں۔ سرمایہ کی اس مد کو ہم قرض کھاتہ کہیں گے۔ ہوسکتا ہے کچھ لوگ اپنا روپیہ مضاربت پر دینا پسند نہ کریں کیونکہ اس میں نقصان کا اندیشہ ہے، لیکن فالتو روپیہ اپنے پاس رکھنے کی بجائے بنک کو بطورِ قرض دے دیں، جس پر ان کو کوئی سود نہیں ملے گا لیکن قرض کی واپسی کی ضمانت ہوگی۔ اس ضمانت کی پشت پر مرکزی بنک اور حکومت بھی ہوگی تاکہ روپیہ بے کار گھروں میں نہ پڑا رہے بلکہ سوسائٹی کے کام آئے۔ اس ضمانت کے بعد قرض کھاتہ داروں کی بھی کمی نہ ہوگی۔ قرض کھاتہ کی ۵۰ فیصد رقم ،بنک قومی کاروبار میں مضاربت یا شرکت کے اُصول پر لگا کر نفع کما سکتا ہے لیکن اس نفع میں قرض کھاتہ داروں کا کوئی حق نہ ہوگا بلکہ یہ نفع تمام کا تمام بنک حصہ داروں کا حق ہے۔ کیونکہ قرض کی واپسی ان کی ذمہ داری ہے۔ لیکن نقصان کی صورت میں جو نقصان قرض کھاتہ کے سرمایہ پر ہوگا، وہ تمام کا تمام حصہ دار یا بنک برداشت کرے گا۔ یہ نقصان پہلے مضاربت کھاتہ داروں کا نفع و نقصان طے کرنے کے بعد ہوگا،کیونکہ مضاربت کھاتہ دار،قرض کھاتہ کے سرمایہ پر نقصان کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ قرض کی واپسی، نفع اور نقصان اس قسم پر ، صرف بنک (حصہ داروں) کی ذمہ داری ہے۔

بنک کا انتظام آج کل کی طرح بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ذمہ ہوگا اور بنک کا عملہ تنخواہ پر کام کرے گا۔ انتظامی ردّ و بدل سہولت کے مطابق کیا جاسکے گا۔

تجارتی بنک کے لئے سرمایہ کی فراہمی اور اس کے قیام کے بعد اب ہم اس چیز کی تشریح کریں گے کہ بنک اپنا سرمایہ بغیر سود کے کاروبار میںکس طرح لگائے گا، اور نفع اور کامیابی کس طرح ممکن ہوگی۔

(3) تجارتی بنک کا کاروبار

ایک بنک کے لئے نفع کمانے کی تین مدات (Sources) ہوں گی، جن میں وہ اپنا سرمایہ لگا سکے گا۔ اوّل حکومت کے جاری شدہ حصص میں (جس کی تفصیل آگے آئے گی) ، دوم شرکت کے اُصول پر ملک کی صنعتی سرگرمی میں اور سوم مضاربت کے اصول پر کاروباری طبقہ کو سرمایہ فراہم کرنے میں۔

عوام کے ساتھ شرکت

شرکت کی صورت یہ ہوگی کہ بنک کاروباری فریق کے ساتھ اپنے سرمایہ کی بنا پر ایک حصہ دار کی حیثیت سے شریک ہوگا۔ شرکت کا معاہدہ ایک مدتِ معینہ کے لئے ہوگا، جس کے بعد سرمایہ بمع نفع یا نقصان دونوں فریقوں میں (بنک اور کاروباری فریق میں) شرکت کے اُصولوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔ آج کل کاروبار ایک خاص مدت کے بعد ختم نہیں ہوجاتے بلکہ مسلسل نوعیت کے ہوتے ہیں۔ لیکن اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ حساب کتاب مقررہ مدت پر طے کرنے کے بعد شرکت کی صورت جاری رہ سکتی ہے۔ شرکت کے معاہدہ میں بنک کی ذمہ داری ا س کے سرمایہ تک محدود ہوگی۔ نفع کی تقسیم مرضی اور حالات کے مطابق طے کی جاسکتی ہے۔ لیکن یہ کسی معینہ رقم کی صورت میں طے نہیں کی جاسکتی بلکہ فیصد یا نسبت کی صورت میں مقرر ہوگی۔ شرکت سے حاصل شدہ نفع بنک کے مجموعی منافع بنکاری میں شامل ہوجائے گا۔ اسی طرح خسارہ بھی مجموعی حسابات(Accounts) میں شامل ہوگا۔

عوام کے ساتھ مضاربت

شرکت کی صورت میں بنک کو کاروبار چلانے میں عملاً حصہ لینا ہوگا۔ اس لئے اس کو بنک کی طرف سے مناسب عملہ رکھنا ہوگا۔ بیشتر صورتوں میں بنک کا عملاً حصہ لینا مشکل ہوسکتا ہے، اس لئے بنک صرف کاروبار میںہی سرمایہ لگانے پر اکتفا کرسکتا ہے۔ یہ صورت مضاربت کی ہوگی۔ اس میں اگرچہ بنک کاروبار میں مداخلت کا مجاز نہ ہوگا لیکن کاروباری فیصلوں کے بارے میں ضروری معلومات حاصل کرنے اور حسابات کی تفاصیل معلوم کرنے کا حق دار ہوگا، اور بنک کو یہ حق بھی حاصل ہوگا کہ وہ سرمایہ کی مناسب نگرانی کرے تاکہ کاروبار میں نقصان کے اِمکانات پیدا نہ ہوں بلکہ مضاربت پر سرمایہ لگانے سے پہلے کاروباری فریق کے ساتھ مناسب معاہدہ بھی کرسکتا ہے ، اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں معاہدہ فسخ بھی ہوسکتا ہے۔ اس قسم کی صورتوں کو نمٹانے کے لئے مناسب مشینری، ایک ٹریبونل کی شکل میں قائم کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ بنک، کاروباری فریق سے ضمانت بھی طلب کرسکتا ہے۔ غرضیکہ اِنتظامی پہلو سے ہر مناسب احتیاط اور کارروائی کرنے میں کوئی مضائقہ نہ ہوگا، اس کو وقتی ضروریات و حالات کے مطابق ڈھالاجاسکتا ہے۔

نفع ونقصان کی تقسیم

آج کل کے کاروبار کی صورت اتنی سادہ نہیں کہ کاروبار صرف ایک فریق اور بنک کے فراہم شدہ سرمایہ سے چلایا جاسکے، بلکہ اس میں بہت سی صورتیں ممکن ہیں لیکن اس سے مجوزہ نظام کے چلانے میں کوئی قباحت واقع نہیںہوگی۔ مثلاً ایک کاروباری فریق اپنے سرمایہ کے بغیر بنک سے مضاربت پر سرمایہ لے کر کاروبار کرسکتا ہے۔ دوسری صورت میں وہ اپنا سرمایہ بھی لگا سکتا ہے۔ تیسری صورت میں وہ اپنے سرمایہ کے علاوہ اس میں قرض کا سرمایہ بھی شامل کرسکتا ہے۔ چوتھی صورت میں اپنے اور قرض کے سرمایہ کے علاوہ اس کے چند شریک یعنی حصہ دار بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ان سب صورتوں میںبنک کا مضاربتی سرمایہ لگ سکتا ہے اور نفع اور نقصان کی تقسیم مضاربت کے اسلامی اصولوں کے تحت طے ہوسکتی ہے۔

مضاربت کی مثالیں:مناسب ہوگا اگر ان تمام صورتوں میں نفع اور نقصان کی تقسیم کی تشریح چند مثالوں کے ذریعے کردی جائے تاکہ مضاربت کے قابل عمل ہونے میں شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے۔

پہلی صورت یہ ہے کہ ایک کاروباری فریق صرف بنک کے سرمایہ سے کام کرے۔ فرض کیا کہ اس نے بنک سے ایک لاکھ سرمایہ مضاربت پر لیا۔ اگر نفع ۱۰ ہزارروپے ہوتا ہے تو نصف کاروباری فریق کو ملے گا اور نصف بنک کو، اور مضاربت کا سرمایہ بنک کو واپس مل جائے گا۔ لیکن اگر دس ہزار نقصان ہو تو یہ تمام نقصان بنک (سرمایہ لگانے والے) کو برداشت کرنا پڑے گا یعنی معینہ مدت کے بعد بنک کو ۹۰ ہزار روپے واپس مل جائے گا۔ کاروباری فریق کا نقصان یہ ہوگا کہ اس کی محنت کا کچھ حصہ نہیں ملے گا۔

دوسری صورت یہ ہے کہ کاروباری فریق کا ایک لاکھ روپیہ ذاتی ہے اور ایک لاکھ مضاربت پر بنک سے حاصل کیا ہے۔ اگر نفع ۲۰ ہزار روپیہ ہو تو برابر کے سرمایہ کی بنا پر دس ہزار نفع فریق کے سرمایہ کا حصہ ہوگا۔ بقایا دس ہزار بنک اور فریق میں نصف نصف تقسیم ہوگا۔ یعنی ۵ ہزار بنک کو اور ۵ ہزار کاروباری فریق کو۔ اس طرح سے ۲۰ ہزار کے منافع میں سے ۱۵ ہزار کاروباری فریق کا حصہ ہوگا اور ۵ ہزار بنک کا۔ اس تقسیم کی معقولیت ذرا سے غور سے واضح ہوجائے گی۔ ۲۰ ہزار خسارہ کی صورت میں نقصان برابر سرمایوں کے لحاظ سے برداشت کرنا ہوگا، یعنی ۱۰ہزار کاروباری فریق کو، ۱۰ ہزار بنک کو، اصول یہ ہے کہ نقصان سرمایوں کی نسبت سے تقسیم کیا جائے۔

تیسری صورت میں کاروباری فریق نے ایک لاکھ روپیہ قرض (بلا سود) لے کر لگایا اور ایک لاکھ بنک سے مضاربت پر لے لیا۔ اس صورت میں قرض کا سرمایہ کاروباری فریق کے اپنے سرمایہ کے مترادف ہے۔ نفع کی صورت میں تقسیم دوسری صورت کے مطابق ہی ہوگی۔ یعنی ۱۵ ہزار کاروباری فریق کا اور ۵ ہزار بنک کا۔ لیکن نقصان کی صورت میں نصف کاروباری فریق کا حصہ اور نصف بنک کا۔ چونکہ کاروباری فریق کا سرمایہ، ذاتی قرض کا تھا اس لئے اس سرمایہ پر وہ نقصان خود برداشت کرے گا اور قرض کی واپسی کا ہر حال میں خود ذمہ دار ہوگا۔

چوتھی صورت ذرا پیچیدہ ہے۔ اس صورت میں کاروباری فریق کا اپنا سرمایہ ایک لاکھ ہے۔ ایک لاکھ اس نے کسی دوست سے مضاربت پر لیا ہے اور ایک لاکھ بنک سے مضاربت پر لیاہے یعنی کاروبار ۳ لاکھ کے سرمایہ سے شروع کیا گیا ہے۔ فر ض کریں، مدتِ معینہ کے بعد ۳۰ ہزار روپیہ نفع ہوتا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ ہر ایک لاکھ پر دس ہزار روپے نفع ہواہے۔ کاروباری فریق کے ایک لاکھ سرمایہ کے عوض دس ہزار تو اس کے حصے میں اپنے سرمایہ کی وجہ سے آئیں گے۔ اس کے علاوہ دوست کے سرمایہ پر منافع کا نصف بھی اس کو ملے گا او ربنک کے نفع سے بھی نصف ملے گا۔ یعنی پانچ پانچ ہزار دوست اور بنک کا مضاربت پر استعمال کئے ہوئے سرمایہ سے ملے گا۔ دوست اور بنک کو ایک ایک لاکھ سرمایہ پر پانچ پانچ ہزار روپے نفع ملے گا۔ ۳۰ ہزار خسارہ کی صورت میں دس دس ہزار نقصان فریق، دوست اور بنک کو برداشت کرنا ہوگا۔

پانچویں صورت یہ ہوسکتی ہے کہ ایک کاروباری آدمی کا اپنا تو کوئی سرمایہ نہ ہو بلکہ اس نے شرکت پر ایک لاکھ روپیہ دوست سے لے لیا اور نفع میں برابر تقسیم کا معاہدہ کیا۔ اس کے علاوہ ایک لاکھ روپیہ بنک سے مضاربت پر لیا اور نفع برابر تقسیم کرنے کا معاہدہ کیا۔ چنانچہ اگر اس کاروبار میںدولاکھ سرمایہ پر ۲۰ ہزار نفع ہو تو سرمایہ کے لحاظ سے ۱۰ ہزار کاروباری فریق کے شریک کو ملیں گے، کیونکہ اس کا سرمایہ شرکت کے اُصول پر تھا۔ بقایا ۱۰ہزار میں سے ۵ ہزار بنک کو جائیں گے، کیونکہ یہ سرمایہ مضاربت پر تھا اور ۵ ہزار کاروباری فریق کو ملیں گے جس نے عملی طور پر کاروبار چلایا۔ اگر اس کاروبار میں۲۰ ہزار کا نقصان ہوتا تو ۱۰ ہزار بنک کے ذمہ آئیں گے اور ۱۰ ہزار سرمایہ لگانے والے شریک دوست کے۔ کاروباری آدمی کو اپنی جدوجہد کا کوئی معاوضہ نہیں ملے گا، مگر مالی طور پر اس کو کوئی نقصان برداشت نہیں کرنا پڑے گا۔

دراصل شرکت اور مضاربت کی بہت سی صورتیں ہوسکتی ہیں۔ یہاں صرف چند مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ شرکت اور مضاربت میں نفع کی نسبت پارٹیوں کی مرضی کے مطابق طے کی جاسکتی ہے۔اس پر اصولاً کوئی خاص پابندی نہیںہے، لیکن نقصان ہمیشہ سرمایہ پر واقع ہوگا۔[جب کہ محنت کرنے والے کی محنت بیکار جائے گی اور اسے سرمایہ کے نقصان میں اپنیطرف سے حصہ نہیں ڈالنا ہوگا] ان حدود کے اندر رہ کر، شرکت اور مضاربت کے معاہدے کاروباری پارٹیوں میں آپس میں اور بنک کے ساتھ جس طرح حالات اجازت دیں، کئے جاسکتے ہیں۔

(4) تجارتی بنکاری نظام

مجموعی طور پر تجارتی بنکوں کی یہ صورت ہوگی کہ بنک حصہ داروں کے سرمایہ سے شروع کئے جائیں گے۔ عوام ان میں مضاربت کے اُصول پر رقوم جمع کرائیں گے۔اس کے علاوہ جو لوگ مضاربت پرروپیہ نہ دینا چاہیں، وہ بھی بنک میںرقوم رکھ سکیں گے اور یہ بنک کے ذمہ بغیر سود کے قرضہ کے طور پر رکھی جائیں گی۔ یہ قرض کھاتہ آج کل کے کرنٹ اکائونٹ کے مترادف ہوگا۔ بنک اس طرح سے فراہم شدہ سرمایہ کو کاروبار میں استعمال کرے گا، لیکن قرض کھاتہ داروں اور مضاربت کھاتہ داروں کے مطالبات اور روزمرہ کے دوسرے اخراجات کے لئے رقوم محفوظ (Reserve) رکھنے کے بعد بنک کاروباری فریقوں کو مضاربت کے اُصول پر سرمایہ فراہم کرے گا۔ کمپنیوں کے حصص خریدے گا اور گاہکوں کی مختلف خدمات انجام دے گا۔چھ ماہ یا سال ختم ہونے پر بنک کو جو مجموعی طور پر نفع ہوگا وہ پورے سرمایہ پر تقسیم کیا جائے گا اور نفع کی فیصد معلوم کی جائے گی۔ مضاربت کھاتہ داروں کو اس شرح کے لحاظ سے نفع دے دیا جائے گا یا ان کے کھاتہ میں جمع کردیا جائے گا۔ جو نفع مضاربت کھاتہ داروں کو دینے کے بعد بچے گا، حصہ دارانِ بنک میں ان کے سرمایوں کی نسبت سے تقسیم کردیا جائے گا۔ اگر بنک کو اپنے کاروبار میں بحیثیت ِمجموعی خسارہ ہو تو کل خسارہ کل سرمایہ پر تقسیم کرکے خسارہ فی صد معلوم کیا جائے گا۔ اور پھر ہر کھاتہ دار اور حصہ دار کے سرمایہ میںاس فیصد نقصان کے مطابق، کمی کا اعلان کردیا جائے گا، قرض کھاتہ داروں کا سرمایہ بنک کے ذمہ اَمانت ہے اور وہ مدتِ معینہ کے بعد بہرصورت قرض کھاتہ داروں کو واپس کیا جائے گا۔

مندرجہ بالا نظام کے چلانے میں جدید اِنتظامی تدابیر اور طریق کار استعمال کیا جاسکتا ہے، بلکہ ضروری ہوگا۔

(5) غیر سودی قرضہ جات

بلا سود بنکاری میں، یہ تمام تجارتی بنکوں کے فرائض میں شامل ہوگا کہ وہ جہاں غیر سودی سرمایہ حاصل کریں، وہاں غیر سودی قرضہ جات بھی عوام اور کاروباری پارٹیوں کو دیں۔ تجویز کردہ نظام میںمرکزی بنک بھی غیر سودی قرضہ تجارتی بنکوں کو فراہم کرے گا۔ اس کی مفصل بحث مرکزی بنک کے تحت آئے گی۔ جو سرمایہ بنک کو بلا سود ملے گا، اس کے انتظام کا عملی طریقہ یہ ہوگا کہ کل قرضہ پر حاصل کئے گئے سرمایہ کا ۱۰ فیصد قرض کھاتہ داروں کے مطالبات پورا کرنے کے لئے، بنک محفوظ (Reserve) رکھے گا اور ۴۰ فیصد نفع آور کاموں میں لگائے گا اور بقایا۵۰ فیصد غیر سودی قرضہ دینے کے لئے مخصوص کرے گا۔ چونکہ قرض کی واپسی اِسلامی احکام کے تحت اوّلین فرائض میں داخل ہے اس لئے نئے بنکاری نظام میں رقم ڈوبنے کا کوئی احتمال نہیں ہوگا۔ تجارتی بنک جو بلا سود قرضہ مرکزی بنک سے حاصل کریں گے، اس کے لئے بھی قرضہ کی واپسی ضروری ہے۔ اگر کوئی تجارتی بنک بلاسود قرضہ عوام کو فراہم نہیں کرے گا تو اس کو مرکزی بنک سے بلاسود قرضہ نہیں ملے گا۔ بلکہ مرکزی بنک کے قرضہ کی فراہمی کی حد، تجارتی بنک کے بلاسود دیئے ہوئے قرض پر منحصر ہوگی۔

بلاسود قرض، کاروباری طبقہ کو چھوٹی مدت کے لئے دیئے جائیں گے تاکہ وہ اپنی کاروباری ضرورت کو چھ یا آٹھ ہفتہ تک پوری کرسکیں۔ ا س کے علاوہ عوام کو بھی (Over Draft) کی صورت میں بلا سود قرضہ جات مہیا کئے جائیں گے۔Over Draft کا طریقہ کار اور واپسی آج کل کی طرح ہوگی ،فرق صرف یہ ہوگا کہ سود نہیں لیا جائے گا۔ ایک خاص مقدار سے اوپر، قرضہ جات کے مقابلہ میں ضمانت کا طریقہ بھی استعمال کیا جاسکتاہے۔

بلا سود قرضہ جات کے نظام میں بلاشبہ ایسے قرضے بھی ہوں گے جو وصول نہ ہوسکیں۔ اسلام کی رو سے ایسے قرضہ جات کی ادائیگی حکومت اور معاشرہ کا فرض ہے۔ یہ زکوٰۃ سے ادا کئے جاسکتے ہیں یا حکومت کے ایک مخصوص فنڈ سے۔ اس کا طریقہ کار مرکزی بنک وضع کرے گا اور اس کی تسلی کے بعد ہی ادائیگی عمل میں آئے گی۔ ایک اسلامی معاشرہ میں اس قسم کے قرضہ جات کی رقم زیادہ نہیں ہوسکتی۔

رہا اس خرچ کا معاملہ جو بنک کو غیر سودی قرضوں کے حساب کتاب رکھنے یا دکھانے کے سلسلے میں کرنا ہوگا تو چونکہ بنک کل قرضہ کھاتہ کے ۴۰ فیصد کو نفع آور کاموں میں لگا کر نفع کمائے گا تو یہ اخراجات اس نفع میں سے نکالے جاسکتے ہیں۔ اگرچہ قرض لینے والوں سے ان اخراجات کے مطابق ایک فیس بھی لی جاسکتی ہے۔

غیر سودی قرضہ جات کی فراہمی میں ایک سوال پیدا ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ ان قرضوں کی طلب (Demand) اور رسد (Supply) میں توازن کیسے پیدا کیا جائے گا۔ کیونکہ طلب زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔ یہ توازن مرکزی بنک کی ہدایت (Direction)اور کنٹرول سے قائم رکھا جاسکتا ہے۔مثلاً اگر ایک وقت تجارتی بنک اپنے قرض کھاتہ کے سرمایہ کے ۵۰ فیصد غیر سودی قرضہ کے لئے مخصوص کر رہے ہوں اور مرکزی بنک یہ محسوس کرے کہ طلب بڑھ گئی ہے تو وہ تجارتی بنک کو ہدایت کرے گا کہ وہ بجائے ۵۰ کے ۴۰ فیصد تک قرض دیں۔ اس طرح بلا سود قرض کی رسد میں کمی آجائے گی۔ طویل ُالمیعاد (Long term)اور قلیل ُالمیعاد (Short term) قرضوں میں ہمیشہ ایک نسبت ہوتی ہے۔ مرکزی بنک اس نسبت سے طلب کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مجوزہ بنکاری کے بعد یہ تمام تفصیلات اور مسائل سامنے آتے جائیں گے اور ان کی روشنی میں ضروری ردّوبدل کیا جاسکے گا۔

یہاں یہ بتا دینا ضروری ہے کہ ہمارے اہم مفروضہ کے مطابق اسلامی معاشرہ میں کفالت (Subsistence) کی ذمہ داری حکومت پرہوگی۔ اس لئے کسی فرد کو روزمرہ کی عام ضروریات پورا کرنے کے لئے ذاتی قرض اٹھانے کی ضرورت پیش آنے کا امکان بہت کم ہے۔

(6) تجارتی ہنڈیاں

موجودہ نظام میں بل آف ایکسچینج کاڈسکائونٹ (Discount) کرنا سود لینے کے مترادف ہے۔ مجوزہ نظام میں اس کو بھی آسانی سے بدلا جاسکتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہوتا کہ بنک ہنڈی پر درج شدہ پوری رقم بغیر (Discount) کے اس کے مالک کو ادا کر دے گا۔یہ رقم ہنڈی کے عرصہ کے لئے بلا سود قرض تصور ہوگی۔ مدتِ مقررہ کے بعد ہنڈی کیش کرا لی جائے گی۔ اگر ہنڈی کیش نہ ہوسکے تو ہنڈی بیچنے والے سے رقم وصول کی جائے گی۔(۳) دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہنڈی لکھنے کی بجائے بنک سے مضاربت پر قرضہ لے لیا جائے اور جب مال فروخت ہوجائے تو بنک کو دیا ہوا سرمایہ واپس کردیا جائے۔ لیکن اگر تاجر کو مال فروخت کرنے میں خسارہ ہوگا تو یہ تمام بنک کو برداشت کرنا پڑے گا۔

مندرجہ بالا سطور میں غیر سودی نظام میں تجارتی بنکوں کو قائم کرنے اور ان کے ذریعے جدید دور کی تمام بنکاری ضروریات کو پورا کرنے کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت انتظامی تفصیلات حالات کے مطابق طے کرنے میں کوئی پابندی نہ ہوگی۔

چند اِعتراضات

اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ بنکوں کے لئے لوگوں کو مضاربت پر اور بلاسود قرض دینے کے محرکات (Motives) کیا ہوں گے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ ہمارا بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ حکومت اِسلامی ہوگی، جس میں سود قطعاً ممنوع اور قابل تعزیر جرم ہوگا، اس لئے لوگ اپنے جمع شدہ سرمایہ کو مضاربت پر لگانے میں ترجیح دیں گے۔ علاوہ ا زیں قرض کی واپسی معاشرہ اور حکومت کی ذمہ داری ہوگی، اس لئے اپنا فالتو سرمایہ بنکوں کے پاس بطورِ اَمانت رکھنے سے بھی گریزاں نہیں ہوں گے۔ کیونکہ بنک کی تحویل میں ان کی امانت محفوظ رہے گی اور ساتھ ہی ساتھ ملک کی ترقی کا باعث بھی بنے گی۔ لہٰذا اسلامی معاشرہ میں یہ تمام مسائل اتنے مشکل نہیں ہوں گے جتنے کہ موجودہ معاشرہ میں معلوم ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ کہا جاسکتا ہے کہ جو کاروباری فریق بنک سے مضاربت پر سرمایہ حاصل کریں گے، انہیں سرمایہ کا درد نہ ہوگا، کیونکہ نقصان ہوگا تو سرمایہ پر ہوگا اور بنک برداشت کرے گا۔ اس لئے وہ کاروبار میں دلچسپی نہیں لیں گے، اور چاہیں گے تو بڑی آسانی سے بنک کو دھوکا دے جائیں گے۔ اس کا جواب پھر وہی ہے کہ اگر اسلامی حکومت کے لوگ مسلمان ہیں اور ان کا طرزِ فکر اور لین دین ایک مسلمان کا سا ہے تو دھوکہ اور بے ایمانی معمول نہیں بن سکتی، اور جہاں ہوگی وہاں اس کی سزا اسلامی قوانین کے مطابق ہوگی۔ رہا دلچسپی کا سوال تو بنک کو پورا اختیار ہوگا کہ وہ پہلے کاروباری پارٹیوں کی تحقیقات کرے اور وہ مشکوک پارٹیوں سے ایسی شرط یا شرائط طے کرسکتا ہے جس سے اس قسم کے رجحانات کی حوصلہ شکنی ہو، بلکہ بنک ضمانت پر بھی اصرار کرسکتا ہے۔ غرضیکہ جو طریقے موجودہ نظام میں ہیں، ان کو استعمال کیا جاسکتا ہے، اس کے علاوہ مجوزہ نظام کے قائم ہونے سے جو غلط رجحانات سامنے آئیں گے، ان کا تدارک اسلامی قانون اور حدود میں رہ کر تلاش کیا جاسکتا ہے۔

ایک اور مشکل جو پیش آسکتی ہے وہ بنک کے حسابات مرتب کرنے کے سلسلہ میں ہے۔ چونکہ مضاربت اور قرض کھاتوں کا ہر مقررہ مدت کے بعد حساب کتاب کرنا لازمی ہوگا، اس لئے یہ کام بنکوں میں بہت بڑھ جائے گا۔ اس سلسلے میں جدید مشینوں اور آلات سے کام لیا جاسکتا ہے۔ کمپیوٹر سسٹم موجود ہیں، ایسی تمام مشکلات کا حل جدید معاشرہ میں ہے اور اگر نہ ہو تو تلاش کیا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ مضمون کے آغاز میں کہا گیا ہے کہ ہر نیا نظام اپنے ساتھ مسائل لاتا ہے لیکن ہر مشکل کا حل ڈھونڈا جاسکتا ہے۔ لہٰذا اگر نیت ایک نظام کو اَپنانے کی ہو تو اس سلسلے میں پیش آمدہ مسائل کا خاطر خواہ حل بھی تلاش کیا جاسکتا ہے۔

مرکزی بنک

کسی ملک کا نظامِ بنکاری، مرکزی بنک کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ غیر سودی نظام میں بھی مرکزی بنک ضروری ہے۔ بنکاری کا مالی نظام اس کے بغیر مرتب کرنا مشکل ہے۔مرکزی بنک غیر سودی نظام میں بھی اپنے اہم فرائض اسی طرح سرانجام دے گا جس طرح موجودہ نظام میں مثلاً وہ کریڈٹ کی فراہمی کو زر کی رسد اور طلب سے ہم آہنگ کرے گا، نقد کی رسد میں ضرورت کے مطابق کمی بیشی کرے گا، حکومت کے کرنسی نوٹ جاری کرے گا، غرضیکہ ملک کی معیشت کی تمام ضروریات کو اسی طرح پورا کرے گا جیسا کہ آج کل ہو رہی ہیں۔ مرکزی بنک یہ فرائض جس طرح غیر سودی نظام میں پورا کرے گا اس کی عملی صورتیں مندرجہ ذیل ہیں:

غیر سودی نظام میں مرکزی بنک حکومت کی نگرانی میں کام کرے گا۔ اس کا مقصد بجائے نفع کمانے کے مفادِ عامہ کا تحفظ اور مصالح عامہ کی ترویج ہوگی۔ اس کے تمام فرائض وہی ہوں گے جو موجودہ نظام میں ہیں۔ مثلا ً یہ کرنسی نوٹ جاری کرے گا، حکومت کا بنک ہوگا، بیرونی ممالک سے لین دین کا ذمہ دار ہوگا اور ملک کے تجارتی بنکوں کا بنک ہوگا، اور ان کو کریڈٹ فراہم کرے گا اور ملک کا ہر تجارتی بنک اس کے ہاں کھاتہ کھولے گا، ملک کی زری پالیسی کا نفاذ کرے گا۔

مرکزی بنک کے آلۂ کار

مندرجہ بالا مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے جو طریقہ کار استعمال کیا جائے گا، وہ آج کل سے مختلف ہوگا۔ جن اُصولوں کی بنا پر مرکزی بنک ملک کے بنکوں کو کنٹرول کرے گا اور زری پالیسیوں پر عمل درآمد کرائے گا، وہ غیر سودی نظام میں بنیادی طور پر چار ہیں :

(i) نسبت نقد ِمحفوظ (Cash Reserve Ratio)

(ii) نسبت قرض(Lending Ratio)

(iii) نسبت استقراض (Borrowing Ratio)

(iv) حکومتی حصص کی خریدوفروخت(Buying & Selling of Govt. Shares)

ہر تجارتی بنک کے لئے لازم ہوگا کہ وہ اپنے قرض اور مضاربت کھاتوں میں جمع شدہ کل سرمائے کا ایک معین فیصد حصہ نقد کی صورت میں محفوظ رکھے۔ (Cash Reserve Ratio) مرکزی بنک مقرر کرے گا اور جہاں یہ ممکن ہو، اس کا ۵۰ فیصد مرکزی بنک میں رکھاجاسکتا ہے ورنہ تجارتی بنک اپنے ہاں ہی Cash Reserve رکھ سکتا ہے۔ یعنی اگر مرکزی بنک شرح کیش ریزرو ۱۰ % مقرر کرتا ہے تو ۵% مرکزی بنک کے پاس رہے گا اور ۵% بنک کی تحویل میں تاکہ بنک قرض کھاتہ داروں کے بالخصوص اور مضاربت کھاتہ داروں کے بالعموم مطالبات پورا کرسکے۔

ہر تجارتی بنک کے لئے یہ لازمی ہوگا کہ اپنے قرض کھاتوں میں جمع شدہ کل سرمائے کا ایک معین فیصد حصہ بلا سود قرض کے طور پر دینے کے لئے آمادہ رہے او ریہ نسبت جس کو ہم قر ض دینے کی نسبت یا Lending Ratio کہیں گے، بھی مرکزی بنک مقرر کرنے کا مجاز ہوگا۔

مرکزی بنک کا یہ بھی فرض ہوگا کہ وہ تجارتی بنکوں کو زرِ نقد یا عارضی طور پر کام چلانے کے لئے قرض دے، لیکن یہ قرض تجارتی بنک کے قرض پر دیئے ہوئے سرمایوں اور Bill of Exchange یعنی بھنائی ہوئی ہنڈیوں کے عوض (Against) ہی دیا جاسکے گا۔ مثلاً اگر ایک تجارتی بنک کی بھنائی ہوئی ہنڈیوں اور اس کے دیئے ہوئے قرضوں کی مقدار ایک لاکھ روپیہ ہے تو ان کی سند پر مرکزی بنک تجارتی بنک کو پچیس یا تیس ہزار نقد آسانی سے یا بغیر کسی خطرہ کے قرض دے سکتا ہے۔ چنانچہ یہ نسبت جسے ہم قرض حاصل کرنے کی نسبت یا Borrowing Limit کہہ سکتے ہیں، مرکزی بنک مقرر کرے گا۔ مرکزی بنک کے اس نقد قرض کا منشا تجارتی بنک پر عوام کی جانب سے نقد مطالبات کو پورا کرنا ہے۔ تجارتی بنک اس سرمایہ کو اپنے کاروبار کی توسیع میں استعمال نہیں کرسکتا۔مرکزی بنک کو یہ بھی اختیار حاصل ہوگا کہ وہ Borrowing Limit مختلف ہنڈیوں کے لئے مختلف مقرر کرسکے۔ مثلاً اس کو یہ حق ہوگا کہ ایک خاص صنعت سے متعلق ہنڈی کے عوض (Against) زیادہ نقد قرض دے اور دوسری ہنڈیوں کے عوض کم قرض دے۔

مرکزی بنک، حکو متی تجارتی حصص (Govt. Shares) کی خرید و فروخت بھی کرے گا۔ تجارتی حصص کا مفہوم غیر سودی نظام میں مختلف ہوگا۔یہ حصص حکومت جاری کرے گی اور مضاربت کے اُصول پر حاصل شدہ سرمایہ پر مشتمل ہوں گے۔ یہ حصص مرکزی بنک کی وِساطت سے عوام کو بیچے جائیں گے۔ اس کی مفصل بحث مالیاتِ عامہ (Public Finance) کے تحت آئے گی۔ یہاں اس کا ذکر مرکزی بنک کے فرائض کے طور پر کیا جارہا ہے۔

مندرجہ بالا چار عوامل کی مدد سے مرکزی بنک، غیر سودی نظام میں عام بنکوں کے کاروبار اور زر کی رسد کو قابو میں رکھے گا۔ عوام کی بدلتی ہوئی طلب ِنقد (Cash demand) کے ساتھ تجارتی بنکوں کی نقد قوت کو ہم آہنگ کرسکے گا۔ افراطِ زر (Inflation) اور تفریط ِزر (Deflation) کا سدباب کرسکے گا۔ سرمایہ کاری کو حکومت کی پالیسی کے مطابق ایک میدان (Field) سے دوسرے میدان میں منتقل کرسکے گا۔ بنکوں کو نیا نقد دینے اور ان کے نقد واپس لینے کا عمل بروئے کار لاسکے گا اور کاروبار میں طویل ُالمیعاد (Long term) اور قلیل ُالمیعاد(Short Term) سرمایوں کے درمیان توازن برقرار رکھ سکے گا۔

مرکزی بنک کی کارکردگی

جس طریقہ کار سے مندرجہ بالا کام نئی معیشت میں سرانجام دیئے جائیں گے، ا س کی مختصر سی وضاحت ضروری ہے۔Cash Reserve Ratio(CRR)میں تبدیلی سے مرکزی بنک کریڈٹ میں اضافہ اور تخفیف کرسکتا ہے۔ مثلا اگر وہ CRR کو ۱۰ فیصد سے بڑھا کر ۱۵ فیصد کردے تو تجارتی بنک اپنی کریڈٹ کی سہولتیں قرض اور مضاربت پر کم کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ اس کے برعکس اگر CRR ۱۰ فیصد سے ۵ فیصد کردی جائے تو تجارتی بنک مزید سرمایہ مضاربت پر لگانے اور قرض دینے کے لئے کوشش کریں گے اور اس طرح کریڈٹ میں توسیع کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔

تجارتی بنکوںکی Lending Ratio کے ردّوبدل سے بھی مرکزی بنک معیشت کی ضروریاتِ زر اور کریڈٹ کو پورا کرسکے گا۔ قرض دراصل تھوڑی مدت (Short term) کے سرمایہ کی مانگ کو پورا کرتا ہے اور معیشت میں اس کا رشتہ (Long term) سرمایہ کاری سے ہوتا ہے۔ اگر تھوڑی مدت کے قرض کی ضروریات پوری نہ ہوں تو لامحالہ سرمایہ طویل المیعاد Long term سرمایہ کاری سے سمٹنا شروع ہوجاتا ہے اور Short term ضروریات کو پورا کرنے میں کام آتا ہے جوکہ معیشت کی ترقی کے لئے رکاوٹ بن سکتا ہے۔ ایسی صورت ِحال میں مرکزی بنک تجارتی بنکوں کی قرض دینے کی نسبت (Lending Ratio) کو نرم کرکے قرض سرمایہ کی رسد ایک یا دو ہفتہ کے لئے بڑھا سکتا ہے، اور کاروباری طبقے کی ضرورت پوری کرسکتا ہے۔ مثلاً Lending Ratio کو ۵۰ فیصد سے بڑھا کر ۵۵ فیصد کر دیا جائے تو بنک تھوڑی مدت کے زیادہ قرض فراہم کرسکیں گے۔ اس طرح Long term investment اور Short term investment کی ضروریات کو ہم آہنگ کیا جاسکتا ہے جو معیشت کی نشوونما کے لئے ضروری ہے۔ ایک غیر سودی نظام میں Short term قرضوں کی بڑی اہمیت ہوگی اور مرکزی بنک اس طریق کار سے نہ صرف کاروباری طبقے بلکہ حکومت کے لئے بھی تھوڑی مدت کے قرضہ جات فراہم کرسکے گا۔ چونکہ ایک تجارتی بنک مرکزی بنک سے قرضہ جات کی سند پر حاصل کرسکتا ہے۔ اس لئے جب اس کے اپنے دیئے ہوئے قرض بڑھ جائیں گے تو وہ مرکزی بنک سے بھی زیادہ قرض حاصل کرسکتا ہے۔

مرکزی بنک سے تجارتی بنکوں کی قرض لینے کی حد (Borrowing Limit) میں ردّوبدل سے ضرورت کے مطابق مرکزی بنک عام بنکوں کو نقد فراہم کرکے ان کے کاروبار کو سکڑنے اور زر کی رسد کو کم ہونے سے بچا سکتا ہے۔ اس طرح اگر حالات کا تقاضا یہ ہو کہ زر کی رسد کو کم کیا جائے تو (Borrowing Limit) کو گھٹا کر خاطر خواہ نتائج پیدا کئے جاسکتے ہیں۔ چنانچہ غیر سودی نظام میں (Borrowint Limit) کے عمل سے زر کی رسد (Money Supply) کو کم یا زیادہ کیا جاسکتا ہے جو آج کل شرح سود کو گھٹانے یا بڑھانے سے سرانجام دیا جاتا ہے۔

مندرجہ بالا مختصر سی بحث سے ظاہر ہے کہ سود کے بغیر بھی مالیاتی پالیسیوں پر عمل درآمد ہوسکتا ہے۔ معیشت میں کریڈٹ کی توسیع او رکمی پیدا کی جاسکتی ہے۔ مختصر یہ کہ جدید معیشت کے تمام تقاضے پورے کئے جاسکتے ہیںـ۔

غیر سودی نظام میں مالیاتِ عامہ (Public Finance)

اسلام حکومت میں آمدنی کے ذرائع اور خرچ کی مدات (Sources)علیحدہ اِسلامی اُصولوں کے تحت متعین کی جائیں گی۔ لیکن چونکہ مرکزی بنک کی پالیسیاں ہمیشہ حکومت کے اہم مقاصد کے تابع ہوتی ہیں اور ہر حکومت کو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے قرض پر سرمایہ لینے کی ضرورت پڑتی ہے، چنانچہ مالیاتِ عامہ (Public Finance) کے اس حصہ کا بلاسود نظام سے گہرا تعلق ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔لہٰذا ہم حکومت کی سطح پر، سرمایہ کی فراہمی کے بارے میں، اندرونِ ملک پیدا ہونے والے مسائل کو زیر بحث لائیں گے۔ اس سلسلے میں چند سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ حکومت عوام سے بلا سود قرض کس طریق پر لے گی اور سرمایہ کی دیگر ضروریات کوکیسے پورا کرے گی؟ اور آیا حکومت کی ضروریات کے مطابق وافر مقدار میںقرض پر سرمایہ حاصل بھی ہوسکے گا یا نہیں؟ اگر کسی وقت معیشت (Economy) میں قرض کی رسد ناکافی ہو تو اس میں اضافہ کے لئے حکومت کوکیا تدابیر اختیار کرنا ہوں گی؟

حکومت کے لئے بلاسود قرض (Public Debt)

حکومت کو بلا سود قرضہ دینے کا سب سے بڑا محرک عوام میں قربانی کا جذبہ ہے۔ اسلامی حکومت کے تحت ہر شخص میں ملک کی سلامتی، اس کی دفاعی ضروریات اور معاشی تعمیر و ترقی کا احساس پیدا ہونا ضروری ہے۔ اس احساس کے تحت اپنی ضروریات سے فاضل سرمائے کا ایک حصہ مزید نفع کی خاطر استعمال کرنے کی بجائے فی سبیل اللہ استعمال کے لئے حکومت کو دیا جاسکتا ہے۔

اس کے علاوہ معاشی محرکات بھی ہوں گے۔ جو لوگ نقصان کا خطرہ مول لینے کے لئے تیار نہ ہوں وہ غیر سودی نظامِ معیشت میں اپنا فالتو سرمایہ یا تو تجارتی بنکوں میں قرض کھاتہ میں رکھیں گے یا پھر حکومت کو بغیر سود کے قرض پر دے دیں گے۔ چونکہ حکومت کی ساکھ بہرحال تجارتی بنکوں سے اونچی ہوگی اس لئے حکومت کو قرض اٹھانے میں چنداں دِقت پیش نہیں آئے گی، اور اسلامی حکومت میں قرضے کی واپسی کی بہرحال ضمانت ہوگی۔ چنانچہ یہ احساس کہ حکومت کو قرض دے کر ایک شخص ملک و قوم کی خدمت کرکے آخرت میں اجر کا مستحق بھی ہوگا ،اس امر کا محرک اور ضامن ہوگا کہ حکومت کو بلا سود قرض سرمایہ ملتا رہے گا۔

حکومت کو قرض دینے والوں کو ٹیکسوں اور محاصل میں بھی کچھ رعایت دی جاسکتی ہے (۴)جس سے قرض سرمایہ کی رسد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ بہرحال اس امر کی ضرورت ہوگی کہ محاصل میں رعایت اس صورت اور طریق سے دی جائے کہ اس تخفیف میں سود کا شائبہ نہ ہو۔ بنیادی طور پر محاصل میں تخفیف کوئی مثبت مالی منفعت نہیں جو قرض دینے کے عوض حاصل ہو رہی ہو۔ محاصل میں تخفیف تو جو لوگ ٹیکس دیتے ہیں، ان کو ہی دی جائے گی جب کہ حکومت کو قرض وہ لوگ بھی دے سکتے ہیں جو Taxes ادا نہیں کرتے۔

غیر سودی نظام میں حکومتی قرضہ جات (Public debts) اُٹھانے کا طریقہ یہ ہوگا کہ حکومت قرض کے سرٹیفکیٹ جاری کرے گی جو کہ ڈاکخانوں، سرکاری خزانوں اور بنکوں کے ذریعے تقسیم کئے جائیں گے اور حاصل کئے جاسکیں گے۔ پھر ان ہی ذرائع سے تاریخ مقررہ پر رقم واپس لی جاسکے گی۔ مقصد یہ ہے کہ عوام کوقرض دینے اور واپس لینے میں کوئی خرچ برداشت نہ کرنا پڑے۔ قرض کی مدت، سرٹیفکیٹ پر درج ہوگی جو کہ چند ہفتوں سے لے کر تین او رپانچ سال تک ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ عندالطلب قسم کے سرٹیفکیٹ بھی جاری کئے جاسکتے ہیں، جن کی واپسی کسی وقت بھی ہوسکتی ہے۔ ان سرٹیفکیٹوں کی خرید وفروخت صرف حکومت ذرائع سے ہی سرانجام دے جائے گی۔ اگرچہ قرض سرٹیفکیٹوں کی نوعیت ہی ایسی ہوگی کہ ان کی خرید و فروخت کھلے بازار میں چنداں مفید نہیں ہوگی، تاہم پیش بندی کے طور پر ان کی عام خریدوفروخت کی اجازت نہیں ہوگی۔ البتہ ان سرٹیفکیٹوں کو بنک اور عوام کے ساتھ معاملات میں ضمانت کے طور پر استعمال کیا جاسکے گا۔ تجارتی بنک ان قرض سرٹیفکیٹوں کی بنا پر مرکزی بنک سے بھی قرض لے سکتے ہیں اورقرض کی رسد بڑھانے کے لئے اگر مرکزی بنک ان سرٹیفکیٹوں کے عوض Borrowing Limitsکو بڑھا دے تو عام بنکوں میں حکومت کو قرض دینے کا رجحان بڑھے گا، اور قرض کی رسد میں اضافہ ہوجائے گا، لیکن حکومت اپنی قرض پالیسی ایسے طریق پر معین کرے گی کہ جس سے کاروباری طبقے کی ضروریات متاثر نہ ہوں۔ اس کے علاوہ یہ پالیسی اس طرح مرتب کی جائے گی کہ کسی سال میں اسے جتنے قرضے واپس کرنے ہیں اس سے زیادہ سرمایہ قرض کے طور پر حاصل ہوجائے۔

اگر حکومت کی ضروریات عوام کے قرضوں سے پوری نہ ہوسکتی ہوں تو حکومت مرکزی بنک کے پاس اَسنادِ قرض فروخت کرے گی اور مرکزی بنک ان اَسنادِ قرض کے عوض نقد سرمایہ فراہم کرنے کے لئے نیا زَر بنائے گا۔(۵)اس طرح (Deficit Financing) یا خسارہ کے بجٹ سے کام لیا جاسکے گا۔ یہ نیا زَر نئے کرنسی نوٹ یا مرکزی بنک میں حکومت کے کھاتہ میں نئے اندراج کی صورت میں پیدا کیا جائے گا۔ حکومت کی عارضی قرضوں کی ضرورت بھی مرکزی بنک، حکومت کے جاری کردہ اَسنادِ قرض کے ذریعہ سے کرے گا۔ وہ یہ اَسناد (Certificates) تجارتی بنکوں کو فروخت کرے گا اور پھر بھی اگر حکومت کی ضرورت پوری نہ ہو تو نیا زَر اِن اَسنادِ قرض کے مساوی پیدا کرے گا۔ اس طرح اگر حکومت کا بجٹ فاضل مالیات (Surplus Budget) کا ہوگا تو حکومت مرکزی بنک سے اَسنادِ قرض واپس لے کر اسے نقد ادا کرے گی۔ یہ واپسی حکومت کے کھاتے میں درج ہوگی یا کرنسی نوٹ مرکزی بنک کو واپس کئے جائیں گے اور معیشت میں زر کی مجموعی رسد میں کمی واقع ہوگی۔ چنانچہ حکومت ان اَسناد کے ذریعے اپنی مالیاتی پالیسی (Fiscal Policy) ضرورت کے مطابق تشکیل کر سکے گی اور ان کی فروخت سے طلب مؤثر (Effective Demand) کو کم اور ان کو واپس لے کر طلب مؤثر کر بڑھا سکے گی۔

حکومت کی یہ اَسنادِ قرض (Debt Certificates) غیر سودی بنکاری نظام میں ایک اہم کردار ادا کریں گے۔ تجارتی بنک حکومت کے اَسنادِ قرض کچھ مدت کے لئے اپنے پاس رکھیں گے تاکہ وہ اپنے نقد کے تقاضوں کو ضرورت کے مطابق پورا کرسکیں۔ ہرتجارتی بنک حکومتی قرضہ Certificates اور کاروباری طبقے میں روپیہ لگانے کے درمیان ایک توازن قائم رکھے گا۔

حکومت کے لئے شرکت اور مضاربت پر سرمایہ کی فراہمی

قرض کے علاوہ اور بھی ذرائع ہیں جن کی امداد سے حکومت اپنی آمدنی کے وسیلے پیدا کرسکتی ہے۔ حکومت اپنا سرمایہ شرکت اور مضاربت کے اصول پر کاروباری طبقے کے ساتھ مل کر صنعت کاری یا دیگر منصوبوں میں لگا سکتی ہے۔ شریعت کی رو سے ایسی کوئی پابندی نہیں ہے کہ بیت ُالمال سے شرکت یا مضاربت پر سرمایہ مہیا نہ کیا جاسکے۔ لیکن حکومت شرکت اور مضاربت پر صرف اس کاروبار میں سرمایہ لگا سکتی ہے جن کی مصنوعات کھلے بازار میں فروخت کے قابل ہوں اور ان پر نفع اور نقصان کا حساب لگانا ممکن ہو۔ قومی دائرہ (Public Sector) کی وہ تمام صنعتیں جو اس نوعیت کی نہ ہوں ان میں خالص حکومت کا سرمایہ لگایا جانا چاہئے۔ چنانچہ قومی دائرے میں سرمایہ کاری کے لئے حکومت عوام سے شرکت اور مضاربت کے اصول پر سرمایہ حاصل کرسکتی ہے۔ بشرطیکہ قومی دائرے کی صنعتوں میںنفع کی شرح Private Sector کے مقابلہ میں زیادہ ہو۔ اگر حکومت یہ حالات پیدا کردے تو اُمید کی جاسکتی ہے کہ حکومت کو شرکت اور مضاربت کے تحت عوام اور بنکوں سے کثیر تعداد میں سرمایہ حاصل ہوسکے گا۔

آج کل حکومتیں سودی قرضہ سے صنعتیں چلاتی ہیں اور ان پر نفع کماتی ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ بلا سود قرضہ سے چلائی جانے والی صنعتیں نفع پر نہ چلیں۔ ان صنعتوں کی قیمت ِپیدائش (Cost of Production) یقینا کم ہوگی، اس لئے ان میں نقصان کا اندیشہ کم ہوگا۔ چنانچہ قومی دائرے میں نفع کی شرح معقول رکھی جاسکتی ہے۔ ان حالات میں عوام سے مضاربت اور شرکت پر سرمایہ حاصل کرنا مشکل نہ ہوگا۔

مضاربت پر سرمایہ حاصل کرنے کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ حکومت قومی دائرہ میں چلائی جانے والی صنعتوں کے لئے معین رقموں کے حصص معینہ مدتوں کے لئے جاری کرے گی۔ یہ حصص ایک معینہ تاریخ پر نفع اور نقصان کے ساتھ حصص کے مالکان کو واپس کردیئے جائیں گے۔ جس نسبت سے نفع حصہ داروں اور حکومت میں تقسیم ہوگا، وہ بھی ان حصص (Shares) پر درج ہوگا۔ عام طور پر حکومت کا حصہ نفع میں ۴۰ یا ۵۰ فیصد ہوگا اور باقی حصہ دار کو ملے گا۔ مضاربت کے اصول کے مطابق نقصان کی صورت میں نقصان سرمایہ پر واقع ہوگا اور حصہ داروں کو مقررہ تاریخ پر باقی ماندہ سرمایہ واپس کردیا جائے گا۔ حکومت ہر سال نئے حصص مضاربت جاری کرے گی اور ہر سال ان حصص کا سرمایہ واپس کیا جائے گا جن کی میعاد پوری ہوچکی ہو۔ اگر کسی سال حکومتی حصص مضاربت کی طلب کمزور ہو اور نیا سرمایہ فراہم نہ ہو رہا ہو تو حکومت حصہ داروں کی نفع کی نسبت کو زیادہ کرسکتی ہے۔ علاوہ ازیں مضاربت سے کمائی ہوئی رقم پر انکم ٹیکس کو نرم کرکے بھی مضاربت کے سرمایہ میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

جو صنعتیں قومی دائرے میں مضاربت پر حاصل کردہ سرمایہ سے چلائیں جائیں گی وہ قومی ملکیت سمجھی جائیں گی اور مضاربت حصہ داروں کی حیثیت ایک جاری کاروبار میں سرمایہ لگانے والوں کی ہوگی۔ مضاربت کے سرٹیفکیٹ بھی بازار میں فروخت نہیں کئے جاسکیں گے کیونکہ مضاربت کی حصہ داری صرف فراہمی سرمایہ تک محدود ہے۔ یہ حصہ دار کو کاروبار میں ملکیت کا حق نہیں دیتی البتہ مضاربت کے حصص، مرکزی بنک اور تجارتی بنک عوام سے خرید کر مقررہ تاریخ پر پیش کرکے حکومت سے نقد وصول کرسکتے ہیں۔

حکومت شراکت پر بھی عوام سے سرمایہ حاصل کرسکتی ہے۔ شراکت پر سرمایہ فراہم کرنے والے حصہ دار، کاروبار میں ملکیت کا بھی حق رکھیں گے۔ چنانچہ حکومت کے شراکت کے حصص ملکیت کی سند بھی ہوں گے۔ ایسی صنعتیں حصہ داروں اور حکومت کے نمائندوں پر مشتمل بورڈ کے ذریعے سے چلائی جائیں گی۔ شراکت پر چلائی جانے والی صنعتوں میں حصہ داروں کی ذمہ داری محدود ہوگی۔ لیکن اگر کسی صنعت میں طویل المیعاد قرضہ کا استعمال ناگزیر ہو تو اس صورت میں قرضہ کی واپسی کی ضمانت کو ملحوظ رکھتے ہوئے حصہ داروں کی ذمہ داری کو غیر محدود کرنا ضروری ہوگا۔

شرکت کے حصص پر منافع، حصہ داروں کے سرمایوں کی مقدار پر یا کسی اور مناسب بنیاد (Basis) پر طے ہوسکتا ہے کیونکہ مشترکہ کاروبار میں شرکاء کے لئے نفع میں شرکت کی مختلف نسبتیں طے کرنا شرعی طور پر بالکل درست ہے۔ شرکت کے حصص کھلے بازار میں خریدے اور بیچے جاسکیں گے۔ ایک حصہ دار اپنا حصہ جب چاہے دوسرے کے ہاتھ بیچ سکے گا اور جس قیمت پر چاہے فروخت کرسکے گا۔ چنانچہ ان حصص کی صورت آج کل تجارتی کمپنیوں کے حصص کی ہوگی اور ان کی قیمتیں گھٹتی اور بڑھتی رہیں گی۔ مرکزی بنک انہی حصص کی خرید و فروخت سے معیشت میں زر کی رسد کو کنٹرول کرے گا۔ یعنی جب وہ عوام کے پاس نقد کم کرانا چاہے گا تو یہ حصص فروخت کردے گا اور ا س کے برعکس حالت میں حصص خریدے گا۔ جو کام آج کل بنک ریٹ سے لیا جاتا ہے وہ حکومتی حصص شراکت سے سرانجام دیا جائے گا۔ اس کی تفصیل مرکزی بنک کے تحت واضح کردی گئی ہے۔ غیر سودی بنکاری میں حکومت کے حصص شراکت کافی اہمیت کے حامل ہوں گے۔ مرکزی بنک اس بات کا اہتمام کرے گا کہ ان حصص کے داموں میں ٹھہرائو پیدا کرے اور ان کی خریدو فروخت میں سٹہ بازاری کا رجحان پیدا ہونے سے روکے، نیز ان حصص کو نسبتاً طویل مدت کے لئے سرمایہ حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا جائے گا اور ان کی نفع کی شرح بھی مضاربت کے حصص سے زیادہ رکھی جائے گی۔

مضاربت اور شرکت کے حکومتی حصص میں یہ فرق ہوگا کہ مضاربت کے حصہ دار متعلقہ صنعت کے چلانے میں کوئی براہِ راست مداخلت نہیں کریں گے۔ وہ حصص کو کھلے بازار میں فروخت نہیںکرسکیں او ران کا فیصد نفع نسبتاً کم ہوگا۔ اس کے مقابلے میں شرکت کے حصہ دار، متعلقہ صنعت کو چلانے میں انتظامیہ بورڈ کی وساطت سے دخل دینے کا حق رکھیں گے، وہ اپنے حصص کی بازار میں خرید وفروخت کرسکیں گے اور مضاربت حصص کے مقابلے میں زیادہ نفع کمائیں گے۔

مرکزی بنک، مضاربت کے حصص بازار سے خرید تو سکے گا لیکن ان کو دوبارہ فروخت نہیں کرے گا۔ بلکہ مدتِ مقررہ کے بعد اس کا سرمایہ حکومت سے واپس لے لے گا۔ لیکن شراکت کے حصص کی خریدوفروخت کے ذریعے وہ رسد ِزر اور دیگر مالیاتی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے میں امداد لے گا۔ چنانچہ اگر حکومت کے مالیاتی نظام (Public Finance) کو مندرجہ بالا اُسلوب پر تشکیل دیا جائے تو نہ صرف حکومت کی مالی ضروریات پوری ہوسکیں گی بلکہ غیر سودی نظام کو چلانے میں بھی مدد ملے گی۔ جو کام آج کل بنک ریٹ کے ذریعے سے سرانجام دیا جاتا ہے، حکومتی حصص شراکت اور مرکزی بنک سے مجوزہ طریق کار سے پورا ہوجائے گا۔ اس طرح بلا سود نظام، حکومت کی مالیاتی پالیسی سے پوری طرح ہم آہنگ ہوکر ملکی معیشت کو کامیابی کے ساتھ چلا سکے گا۔ اور جدید معیشت کے تمام تقاضے بھی کماحقہ پورے ہوسکیں گے۔

بین الاقوامی لین دین (International Transaction)

عام طور پر خیال کیا جاتاہے کہ آج کل بین الاقوامی لین دین کی نوعیت ایسی ہے کہ ایک ایسا ملک جس کی معیشت غیر سودی نظام پر مبنی ہو، کا قائم رہنا مشکل ہے۔ یہ محض ایک مفروضہ ہے، ورنہ بین الاقوامی مسائل سے نپٹنا اندرونی ملک میں غیر سودی نظام قائم کرنے سے آسان ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی مسائل بھی ایک علیحدہ تفصیلی تجزیہ کے متقاضی ہیں اور اس پہلو پر شدید غوروفکر کی ضرورت ہے لیکن ایک بات بالکل واضح ہے کہ اگر کوئی ملک اندرونِ ملک بلا سود نظام قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو بین الاقوامی تقاضے آج بھی اتنی شدید نوعیت کے ہرگز نہیں جن سے کہ اسے طرزِ عمل بدلنا ناگزیر ہوجائے۔ ضرورت مضبوط فیصلہ کی ہے اور اگر نصب ُالعین اسلامی معاشرہ قائم کرنا ہو تو کوئی چیز مانع نہیں ہوسکتی۔

اسلامی معاشرہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی سنت کے تحت قائم کیا جاتا ہے۔ ایسے معاشرہ میں شریعت کی پابندی ہرچیز پر مقدم اور بالاتر مقام رکھتی ہے۔ ہر وہ چیز جو اللہ کے احکام اور اس کے رسولﷺ کی سنت سے متصادم ہو، اُس کو راستے سے ہٹا دینا اسلامی معاشرہ کے قیام و بقا کے لئے ضروری ہوجاتا ہے۔ چنانچہ بین ُالاقوامی تقاضے اس اصول سے بالاتر نہیں ہوسکتے۔ بیشتر بین الاقوامی تقاضے اسلامی حدود کے اندر رہ کر پورے کئے جاسکتے ہیں۔ تاہم اگر کچھ تقاضے ایسے ہوں جنہیں شریعت کے تابع نہ رکھا جاسکتا ہو تو ان سے مکمل گریز کی ضرورت ہوگی۔ بہرصورت بین الاقوامی تقاضے اسلامی معاشرہ کے قیام کو ناممکن نہیں بنا سکتے۔ زیادہ سے زیادہ ناگوار صورت حال یہ ہوسکتی ہے کہ ہمیں ملک کو ایک (Closed Economy) کے طور پر چلانا پڑے۔ یہ ایک چیلنج ہوگا، لیکن یہ ایسا چیلنج نہیں جسے اسلامی معاشرہ قبول نہ کرسکے۔ آج کل بھی چین اور روس کی معیشت بہت حد تک (Closed Economy) کے طور پر چلائی جارہی ہے۔ یہ کوئی انہونی صورتِ حال نہیں ہوگی بلکہ جب تک دنیا اسلامی معاشرہ کی خصوصیات سے پوری طرح واقف نہیں ہوجاتی، یہ طریق کار ناگزیر ہوگا۔ جب کسی معاشرہ کی بنیاد مروّجہ روِش سے ہٹ کر رکھی جائے تو علیحدگی ایک ضروری تقاضا ہوجاتی ہے۔ چین اور روس نے اپنے معاشرہ کو ایک نئی روش پر چلانے کے لئے علیحدہ اختیار کی۔ اگر اسلامی معاشرہ کے قیام کے لئے (Closed Economy) کا طریق کار اختیار کرنا پڑے تو گھبرانے اور سراسیمہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی یہ نئی بات ہوگی۔ کسی قوم اور حکومت کا عزم مصمم ہو تو اسلامی معاشرہ کا قیام ممکن ہے اور اس کو کامیابی کے ساتھ چلایا جاسکتا ہے۔ اگر بین ُالاقوامی مسائل کا جائزہ اس نظریہ سے لیا جائے تو ظاہر ہے کہ اسلامی معاشرہ یا غیر سودی نظام کے قیام میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آسکتی۔ تاہم ان مسائل کا جائزہ لینا ضروری ہے جو بین الاقوامی سطح پر پیدا ہوسکتے ہیں :

بین الاقوامی مسائل

بین الاقوامی سطح پر جو مسائل پیش آئیں گے وہ مندرجہ ذیل ہیں :

(i) غیر ملکی قرضہ جات اور امداد

(ii) غیر ملکی سرمایہ کاری

(iii) برآمدی اور درآمدی تجارت

(iv) زرمبادلہ کا لین دین

(v) عالمی بنک اور اس کے متعلقہ اداروں سے کاروبار

اسلامی حکومت صرف بلاسود غیر ملکی قرضہ جات ہی منظور کرے گی۔ قرض کی مقررہ مدت کے بعد واپسی کی ضمانت دی جائے گی۔ جو ممالک اس شرط پر قرض دینا چاہیں گے ان سے قرض بوقت ضرورت قبول کیا جائے گا، ورنہ اسلامی حکومت اس قسم کے قرض کے بغیر گزارا کرے گی۔ اس وقت رائے عامہ (Public Opinion) کا رجحان اس طرف ہے کہ بیرونی قرضہ جات نہ لئے جائیں اور ترقی ملک کے اندرونی وسائل کی مدد سے کی جائے۔ لہٰذا اگر بیرونی قرضہ جات سے کسی وقت ہمیں احتراز کرنا پڑے تو یہ کوئی اچنبھا نہیں ہوگا۔(۶) لیکن قیاس یہی ہے کہ بلا سود قرضہ جات بین الاقوامی سطح پر مہیا ہوتے رہیں گے۔ آج کل بھی اس قسم کے قرضہ جات دیئے جارہے ہیں۔ چین نے اور دوسرے ممالک نے پاکستان کو بلا سود قرضہ جات فراہم کئے ہیں۔ یہی صورت امداد کی بھی ہے، چنانچہ غیر سودی نظام میں بیرونی قرضہ جات اور امداد کوئی ایسی رکاوٹ پیدا نہیں کرسکتے جس سے ملک کی معیشت زیادہ متاثر ہو۔ معیشت کی تشکیل بغیر بیرونی قرضہ جات اور اِمداد کے بھی ممکن ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری (Foreign Investment) پر بھی سود کی عدم موجودگی سے کوئی اثر نہیں پڑسکتا۔ سرمایہ دار دراصل نفع کا محتاج ہے نہ کہ سود کا ۔ چنانچہ سرمایہ دار کو اگر نفع کی اُمید ہو تو ضرور اس سے فائدہ اٹھائے گا۔ بیرو نی سرمایہ ہمارے تجویز کردہ نظام میں شراکت اور مضاربت کے اُصولوں کے تحت قابل قبول ہوگا۔ مساوی سرمایہ کاری (Equity Participation) اور شراکت یعنی (Joint Venture) کے تحت بیرونی سرمایہ فراہم کیا جاسکے گا۔ اگر ملکی صنعتوں اور کاروبار میں نفع موجود ہے تو سرمایہ کی فراہمی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔

برآمدی اور درآمدی تجارت میں موجودہ طریق کار،جس میں ہنڈیوں کو سود کے مطابق بھنایا (Discount) جاتا ہے، ترک کرنا پڑے گا۔ اس کی صورت بھی وہی ہوگی جو اندرونِ ملک ہنڈیوں کے متعلق تجویز کی گئی ہے، یعنی ایک تاجر جس نے مال برآمد کیا ہے۔ وہ ہنڈی مرکزی بنک کو پیش کرکے اس کی مکمل رقم (Face Value)لینے کا مجاز ہوگا۔ مرکزی بنک کی طرف سے یہ رقم بلا سود قرض تصور کی جائے گی ۔اس کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ مال برآمد کرنے والا تاجر ہنڈی کی مکمل رقم (Face Value) بطورِ مضاربت کے بنک سے حاصل کرے۔ ا س صورت میں تاجر کو ایک طے شدہ نسبت سے نفع میں بنک کو شامل کرنا پڑے گا او ریہ لین دین مضاربت کے اصولوں کے تحت سرانجام دیا جائے گا۔ ان دونوں طریقوں سے بیرونی تجارت کی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں۔

زرِمبادلہ کا لین دین ایک فیس یعنی سروس چارج (Service Charge) کے مترادف ہے۔ مرکزی بنک، زرِمبادلہ ایک فیس کے عوض مہیا کرتا ہے چونکہ اس میں سود کا عنصر شامل نہیں ہے۔ اس لئے یہ موجودہ طریقہ پر جاری رہ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ زرِمبادلہ کی اگر کوئی مشکلات ہوں تو مال کے بدلے مال کی تجارت یعنی (Barter System) سے کام لیا جاسکتا ہے۔

آج کل بین الاقوامی سطح پر عالمی بنک اور اس کے اِدارے کام کر رہے ہیں۔ بیشتر ممالک، عالمی بنک کے ممبر ہیں۔ جس کے تحت انہیں اپنا کھاتہ عالمی بنک میں کھولنا پڑتا ہے اور بوقت ِضرورت بنک سے قرضہ جات حاصل کئے جاتے ہیں۔ عالمی بنک اور اس سے وابستہ اداروں سے قرضہ جات کی صورت بھی یہ ہوگی کہ اسلامی حکومت ان کو مضاربت پر قبول کرے گی۔ اور بجائے سود کے عالمی بنک کو نفع میں شامل کرے گی۔ چونکہ حکومت خود کوئی سود وصول نہیں کرے گی اس لئے بلا سود قرضہ کی بھی متوقع ہوگی۔ اگرچہ آغاز میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے لیکن اسلامی معاشرہ کی روش سے پوری آگاہی کے بعد، کوئی ناممکن بات نہیں کہ عالمی سطح پر بھی سود سے چھٹکارا حاصل کرنے کی تحریک وجود میں آجائے۔ اگر عالمی بنک اور دنیا کو اسلامی معاشرہ کے سمجھنے میں دِقت ہو تو اسلامی حکومت عالمی بنک کی ممبر شپ سے دستبردار بھی ہوسکتی ہے۔ یہ بھی کوئی عجیب بات نہیں ہوگی، چین اور روس عالمی بنک کی رکنیت کے بغیر اپنے اپنے طریقے سے ملک کی ترقی میں لگے ہوئے ہیں۔

بلا سود نظامِ بنکاری ممکن ہے !!

مندرجہ بالا بحث سے ظاہر ہے کہ بلا سود بینکاری نظام کا اسلامی معاشرہ میں چلانا بالکل ممکن ہے۔ یہ نظام جدید معیشت کے تمام تقاضوں کو کماحقہ پورا کرسکتا ہے۔ مالیاتی پالیسیاں (Fiscal Polices) اور حکومت کا مالیاتی نظام (Public Finance) بلا سودی نظام میں بخوبی چلایا جاسکتا ہے۔ بیشتر بین الاقوامی تقاضے بھی اسلامی حدود کے اندر رہ کر پورے ہوسکتے ہیں، ورنہ اسلامی معاشرہ اُس وقت تک (Closed Economy) کے طور پر چلایا جاسکتا ہے جب تک کہ بیرونی دنیا اسلام کے منصفانہ اصولوں سے ہم آہنگ نہیں ہوجاتی۔ ٭ ٭

[ ۲۹ ؍ستمبر ۱۹۷۰ء ؁کو شامِ ہمدرد، راولپنڈی میں پڑھا گیا...]