میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

مغرب کی اِستحصالی معیشت، سودی نظام کے ظالمانہ شکنجے میں کراہ رہی ہے۔ مغرب کے اجتماعی معاشی ڈھانچے میں بینکاری نظام کو وہی مقام حاصل ہے جو انسانی جسم میں گردشِ خون کو۔ جس طرح سرطان زدہ خونی خلئے ( (Cells پورے اِنسانی جسم کے لئے خطرات کا باعث بنتے ہیں بالکل اسی طرح مغرب کا بینکنگ سسٹم مغربی معیشت کے اجتماعی جسد میں سرطانی جڑیں پھیلا رہا ہے۔ مغرب کا دانشور ان جڑوں کے وجود سے باخبر ہونے کی کوشش کر رہا ہے، مگر یہ کہنا ابھی تک قبل از وقت ہے کہ وہ اس کے اصل اَسباب کی تہہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگا یا نہیں۔ البتہ ایک پیش گوئی قدرے وثوق سے کی جاسکتی ہے کہ آنے والے وقتوں میں مغرب میں سودی معیشت پر وہ اندھا اِعتماد اٹھ جائے گا جس کا مشاہدہ گذشتہ دو صدیوں میں عالم انسانیت کرتا رہا ہے۔ اس بات کا امکان ہے کہ سودی معیشت کی چولیں ہل جانے کے بعد اس نظام کے فریب خوردہ حامیوں کے لئے اس کی انتھک وکالت کا فریضہ سال بہ سال مشکل ہوتا جائے گا۔ اہل مغرب نے سودی نظام کا جواز خالص مادّی کاروباری اور تجارتی مفادات کو قرار دیا تھا، اس لئے اَب بھی سود گریز رجحانات کا اصل سرچشمہ اخلاقی ہدایت کی بجائے معاشی مفادات ہی ہوں گے۔

بینکاری نظام ...مختصر تاریخی پس منظر

بینکاری نظام میں نئے رجحانات اور حکمت عملیوں کی نشاندہی سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بینکاری نظام کے ارتقاء ، بینکوں کے اصل فرائض و دائرہ کار اور ان کی تنظیمی ہیئت کا مختصر جائزہ لیا جائے۔ انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا میںدرج شدہ معلومات کے مطابق بینکاری کا آغاز قدیم زمانے میں ہوا، اگرچہ تیرہویں صدی سے پہلے اس کے متعلق معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ ابتدائی زمانے کے بنک بنیادی طور پر سکوں اور سونے کی ڈلیوں (Bullions) کا کاروبار کرتے تھے۔ زیادہ تر وہ صحیح اَوزان اور کوالٹی کے سکوں کی فراہمی اور (Money-Changing) یعنی دولت کے تبادلہ کا کاروبار کرتے تھے۔ شروع شروع میں بنکوں کی ایک اور قسم ''تاجر (مرچنٹ) بنک'' کہلاتی تھی ، جو اشیاء کی نقل و حرکت اور دور دراز علاقوں میں سکوں کی ترسیل کے بغیر ادائیگیوں کا بندوبست کرتے تھے، بین ُالاقوامی سطح کے تاجر ان کی خدمات سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ ہنڈیوں کے کاروبار کا آغاز اس طرح کے بنکوں نے کیا۔ تاجروں سے موصولہ ہدایات کے مطابق یہ بنک مختلف علاقوں میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے رقوم کی ادائیگی کرتے تھے۔ یہ بات غور طلب ہے کہ اگرچہ اس زمانے میں سود (Usury) کو گناہ سمجھاجاتا تھا مگر یہ بنک کرنسی کے تبادلہ کے کاروبار میں اضافی منافع ضرور کماتے تھے، کیونکہ اس طرح کے معاملے میں نقصان کا اندیشہ پایا جاتا تھا اور اس طرح کے منافع کو اَزمنہ وسطیٰ کی سود کے خلاف پابندیوں سے متصادم نہیں خیال کیا جاتا تھا۔ اس زمانے میں کرنسی کی شرح تبادلہ کے پردے میں سود وصول کیا جاتا تھا۔ عام طور پر دوردراز علاقوں میں کرنسی کی فراہمی میں تاخیر سے کام لیا جاتا تھا اور اس تاخیر کو شرح تبادلہ میں اضافہ کے جواز کے طور پر استعمال کرکے اضافی رقم وصول کی جاتی تھی۔ یہ سود کی طرف پہلا قدم تھا، جسے 'سود' کا نام لئے بغیر اُٹھایا جاتا تھا۔ ( جلد دوم، پندرہواں ایڈیشن، ۱۹۸۲ئ، صفحہ ۷۰۰)

بینکاری کے ابتدائی مرحلے میں بنکوں کی ایک اہم سرگرمی رقوم (Deposits) اور اشیاء کی وصولی بھی تھی۔ لوگ اپنی بچتوں یا قیمتی اشیاء کو حفاظت کی غرض سے یا کسی مقام پر منتقلی کی نیت سے بنکوں میں جمع کروا دیتے تھے۔ برطانیہ میں سترہویں صدی میں بعض بنکوں نے اس طرح کے ڈیپازٹ کے کاروبار کو فروغ دیا۔ لندن کے سنارے (گولڈ سمتھ) اپنے گاہکوں کی دولت اور قیمتی اشیاء کو اپنی حفاظت میں رکھتے تھے۔ علاوہ ازیں وہ سونے کی ڈلیوں اور فارن ایکسچینج کا کاروبار کر تے تھے۔ وہ سکے ڈھال کر منافع بھی کماتے تھے۔ یہی زمانہ تھاکہ ''چیک سسٹم'' متعارف ہوا۔ تقریباً یہی دور تھا کہ بعض بنکوں نے ''نوٹ'' چھاپنا شروع کئے۔ ۱۶۶۱ء میں بنک آف سٹاک ہوم نے یورپ میں پہلی دفعہ ''نوٹ'' جاری کیا ۔ (حوالہ: ایضاً)

سود اور مسیحی اَخلاقیات

ضمنی مباحث میں ایک اور اہم نکتہ بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ مسیحی یورپ میں تمام تر سودی کاروبار اور سودی معیشت کی شکلوں کے باوجود Usuryکو اب بھی حلال اور جائز نہیں سمجھا جاتا۔ گذشتہ چند صدیوں کے دوران درحقیقت انہوں نے حیلہ جوئی، سوئے تاویل اور قیاس مع الفارق کے لطیف ہتھکنڈوں کے ذریعے 'سود' کی تعریف کو ہی بدل ڈالا ہے۔ سود کے جواز ؍عدمِ جوازکے مباحث اب تک جاری ہیں۔ ان کی اجتماعی نفسیات اور سماجی اَخلاقیات اب بھی Usury کے لفظ کو قبول کرنے میں ناگواری کا اظہار کرتی ہیں۔ شروع میں اہل یورپ ہر طرح کے Interest کو بھی Usury ہی سمجھتے تھے لیکن بعد میں انہوں نے اسے سود کی اس شکل سے مخصو ص کردیا جس میں شدید معاشی اِستحصال کا عنصر پایا جاتا ہو۔ نقدی قرضوں پر سود کو ایسی آمدنی سمجھا جاتا تھا جو بغیر کام کئے حاصل ہو جائے، لہٰذا اسے گناہ اور ممنوع قرار دیا گیا۔انسائیکلو پیڈیا آف بریٹانیکا میں لفظ Usury کی تعریف و تشریح ان الفاظ میں ملتی ہے... سود سے مراد:

''از منہ وسطیٰ میں، نقد رقم اُدھار دینے پر بھاری سود (Excessive Interest) وصول کرنے کا رواج: شروع میں تمام ''انٹرسٹ'' کو "Usury" کہا جاتا تھا۔ مگر تیرہویں صدی میں تجارت میں توسیع کے ساتھ قرضوں (کریڈٹ) کی طلبمیں اضافہ ہوگیا، جس سے Usury کی تعریف میں ترمیم کی ضرورت محسوس کی گئی۔

Usuryکے خلاف سخت ترین اعتراض رومن کیتھولک چرچ کی طرف سے وارد کیا گیا، جس نے اہل کلیسا کی سودی معاملات میں کسی قسم کی شمولیت پر پابندی عائد کردی۔ ایک پادری کسی بھی مقروض کو سود کی ادائیگی سے بری ٔالذمہ قرار دے سکتا تھا یا بستر مرگ پر پڑے کسی بھی ساہوکار پر اَخلاقی دبائو ڈال سکتا تھا کہ وہ جس سے سود وصول کرچکا تھا، اسے واپس لوٹا دے یا کم از کم وہ رقم چرچ میں جمع کرا دے۔ لیکن اس طرح کی پابندیاں معلوم ہوتا ہے، لوگوں کو روکنے میں کامیاب نہ ہوئیں۔ حتیٰ کہ چرچ کے اعلیٰ عہدیدار بھی سود پر رقوم اُدھار لینے سے باز نہ رہ سکے''

'' بہت سے یہودی ساہو کار بن گئے کیونکہ چرچ کی پابندیاں ان پر لاگو نہیں ہوتی تھیں ۔ معاشرہ میں ان کی حالت بڑی نازک تھی، اس لئے انہیں نقصان کا اندیشہ بھی شدید تھا۔ اکثر اوقات انہیں قرض لینے والوں کی طرف سے مارکٹائی کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا۔''

''تیرہویں صدی کے دوران جونہی قرضوں کی مانگ میں اضافہ ہوا، بہت سے عیسائی بھی یہودیوں سے مل کر ساہوکار بن گئے۔ سود (Interest) وصول کرنے کے حق کو زیادہ سے زیادہ صورتوں میں تسلیم کیا جانے لگا، بالخصوص ایسی صورت میں جب قرض خواہ کو نقصان کا خطرہ لاحق ہو۔ چرچ کی پابندیاں بدستور قائم رہیں، لیکن زیادہ سے زیادہ لوگوں نے ان کو قبول کرنے کی بجائے انہیں توڑنے کا 'شرف' حاصل کیا۔ '' (جلد ۹)

سود کا مسئلہ قدیم اور وسطی دور کے مغربی ماہرین معاشیات کی خصوصی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ ان کی خصوصی دلچسپی اس امر میں تھی کہ اخلاقی اعتبار سے 'سود' کی کیا حیثیت ہونی چاہئے۔ ان کے پیش نظر اصل سوال یہی تھا کہ سود کا اَخلاقی جواز کیا ہے، تقریبا ً تمام سکالرز سود کو ناپسندیدہ گردانتے تھے۔ ارسطو زر کو بنجر (Barren) سمجھتا تھا اور ازمنہ وسطیٰ کے ماہرین سود (Usury) کے شدید مخالف تھے۔ البتہ جہاںکہیں سود سے کسی ''مفید سماجی خدمت'' کی توقع ہوتی، اس کی تائید کے لئے دلائل گھڑ لئے جاتے تھے۔ ( انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا:جلد سوم، صفحہ ۸۰۱،ایڈیشن ۱۵)

البتہ جونہی کلاسیکل ماہرین معاشیات کا مکتب ِفکر سامنے آیا، سود کے متعلق اصل توجہ ''اخلاقی جواز'' کی بجائے ''میکانیکی توازن'' (Mechanical Equilibrium) کے موضوع کی جانب منتقل ہوگئی۔ کلاسیکل ماہرین معاشیات میں آدم سمتھ، ڈیوڈریکارڈو، ناسوسینئر، اور جان اسٹارٹ مل کے نام نمایاں ہیں۔ ان کی معروضات کا بنیادی نقطہ یہ تھا: کیا شرح سود یا شرح منافع کاکوئی توازنی نقطہ ہے کہ جہاں اصل شرح اس سے زیادہ یا کم ہو؟ تاکہ انہیں اس نقطہ کے قریب لایا جاسکے۔ کلاسیکل ماہرین معاشیات اس کا کوئی واضح جواب نہ دے سکے۔ وہ صرف یہ یقین رکھتے تھے کہ ''شرح سود'' براہ ِراست شرح منافع سے منسلک ہے، کیونکہ لوگ کبھی بھی زر اُدھار نہ لیں اگر انہیں ادھارلینے کی قیمت اس سے فائدہ اٹھانے کی شرح سے زیادہ ادا کرنی پڑے۔ مختلف نظریات پیش کئے گئے جن میں ''سود'' کے جواز کی شکلیں ڈھونڈی گئی۔ دورِ جدید کے معروف ماہر معاشیات جان کینز John Keynes نے Liquidixy Preference Theory (نظریہ ترجیح برائے نقدیت ) پیش کی۔ (حوالہ ایضاً)

مناسب شرحِ سود کا مسئلہ

از منہ ٔ وسطیٰ کے یورپ میںایک صارف کو دیا جانے والا قرضہ غیر پیداواری شمار کیا جاتا تھا، لہٰذا اس پر ''انٹرسٹ'' لینا سود (Usury)سمجھاجاتا تھا۔ یورپی ممالک میں سودی استحصال کے خاتمہ کے لئے قواعد و ضوابط بنائے گئے جن کی رو سے سود کی زیادہ سے زیادہ شرح کا تعین کیا گیا۔ البتہ سرمایہ دارانہ نظام کے فروغ پانے کے ساتھ ساتھ سوچ میں تبدیلی آتی گئی۔ فرانسیسی ماہر معاشیات A.R.J. Turgot اور برطانوی فلاسفر جرمی بینتھم نے'سود' کے متعلق انضباطی قواعد کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ کچھ قواعد کو واپس لے لیا گیا۔ مگر یہ بنیادی سوال لاینحل رہا کہ آخر سود کی کون سی شرح مناسب ہے۔ عدالتوں نے مقدمات کی سماعت کے دوران ذاتی قرضوں میں سخت سود کو غلط قرار دیا۔ قرض دہندہ پر سود کے نام پر ناروا بوجھ کو ہلکا کرنے کے لئے عدالت کو اختیار تھا کہ وہ معاہدہ کو منسوخ قرار دیدے۔ ۱۹۵۰ء کے عشرے میں برطانیہ اور جرمنی میں صارفین کے قرضوں پر شرح سود ۱۰ فیصد تک مقرر کی گئی۔ امریکہ کی اکثر ریاستوں میں ''سودی قوانین'' رائج رہے۔ ان ریاستوں میں صارف کو دیئے جانے والے قرضوں پر زیادہ سے زیادہ شرح ۶ فیصد تھی۔ اس طرح کے ضابطوں کا وجود ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اور یورپ اب تک ''سود'' کو غیر مشروط طور پر قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ (جلد ۵، صفحہ ۹۹)

ساہوکاروں اور عام صارفین کے درمیان کشمکش اب تک جاری ہے۔ قواعد کی بے حد مضحکہ خیز تعبیر کے ذریعے استحصال کے نئے دروازے کھولے گئے۔ امریکہ میں Time-Price Doctrine کا بڑا چرچا ہے۔ اس نظریہ کی رو سے امریکی عدالتوں نے قرار دیا ہے کہ اگر کسی شے کی نقد خرید کی قیمت ۱۰۰ ڈالر ہے، مگر وہ ادھار پر ۱۲۰ ڈالر میں فروخت کی جاتی ہے، تو یہ ''سود'' نہیں ہے، کیونکہ اس سودے میں کوئی رقم قرض نہیں دی گئی، محض اس میں وقت کا فرق ہے جو سودی قوانین کی زد میں نہیں آتا۔ ۱۹۶۰ء کے بعد سے امریکہ میں صارف کے قرضہ جات کے لئے قواعد میں ترمیم کی گئی۔ (ایضاً)

انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا کا مضمون نگار نتیجہ اَخذ کرتا ہے:

''ساہو کاروں کی جانب سے اَن پڑھ غریب لوگوں کے استحصال پر مبنی سود (Usury) کا قدیم مسئلہ اب بھی بہت سے ممالک میں اہم ہے۔ کئی صدیوں کی بحث و تمحیص کے باوجوداس مسئلہ کی اخلاقی حیثیت کا تعین کیا جانا باقی ہے'' (جلد سوم:صفحہ ۸۰۲)

یورپ میں بینکاری ...تنظیمی ڈھانچہ اور وسعت ِکار

عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو بینکاری نظام میں بہت سی قدریں مشترک ہیں، لیکن مختلف ملکوں میں کام کرنے والے بنک بعض اعتبارات سے ایک دوسرے سے مختلف بھی ہیں۔ زیادہ تر فرق ان کے تنظیمی ڈھانچوں اور تکنیک میں ہے۔ گلوبیت (Globalisation) کے بڑھتے ہوئے اَثرات اور اِبلاغی ارتباط کے زیر اثریہ فرق بتدریج کم ہو رہے ہیں...تنظیمی ڈھانچوں کی بنا پر اگر بنکوں کی درجہ بندی کی جائے تو انہیں تین اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

(1) یونٹ بینکنگ (یک دفتری بنک) : اس طرح کے بنک ایک خاص ہیڈ کوارٹر میں رہ کر کاروبار کرتے ہیں۔ فیلڈ میں ان کی شاخیں نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔ امریکہ میں ان کا رواج عام ہے۔ ۱۹۷۱ء میں امریکہ میں ۱۴۳۰۰ اِس طرح کے بنک کام کر رہے تھے، اب یہ تعداد کہیں زیادہ ہونی چاہئے۔

(2) برانچ بینکنگ (شاخ جاتی بینکاری) :اس قسم میں بہت بڑے کمرشل بنکوں نے شاخوں کا ایک وسیع جال (نیٹ ورک) پھیلا رکھا ہوتا ہے۔ مثلا انگلینڈ میں ۱۹۷۱ء میں کل چھ بڑے بنک تھے، جن کی پورے ملک میں ۱۴ ہزار سے زائد شاخیں تھیں۔ پاکستان میں بھی تقریبا ً یہی صورتِ حال ہے۔

(3) مخلوط بینکاری (Hybrid Banking) :جرمنی اور فرانس اس طرح کے بینکاری نظام کی عمدہ مثالیں ہیں۔ اس نظام میں بعض بینک تو قومی سطح پر رہ کر کام کرتے ہیں۔ ان کا وسیع نیٹ ورک ہوتا ہے۔ البتہ بہت سارے بینک مقامی یا علاقائی سطح پر کاروبار کرتے ہیں۔

جنگ ِعظیم دوم کے بعد یورپ میں بالعموم اور امریکہ میں بالخصوص بینکاری نظام ڈھانچہ جاتی ارتقاء سے گزرتا رہا ہے۔ جدید رجحان یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے بنکوں کا مسلسل اِدغام ہو رہا ہے۔ مقابلے کی شدید فضا اور مالیاتی مارکیٹ کے پھول کر کپا ہوجانے کی وجہ سے چھوٹے بنک بڑے بنکوں کا مقابلہ نہیں کرپاتے نتیجتاً ان کا وجود معدوم ہوجاتا ہے۔

قرضوں کے لین دین اور مالیاتی سودا کاری (Transactions) کو پیش نظر رکھا جائے تو بینکاری نظام کو تین واضح شعبوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

(1) ڈیپازٹ بنک(انہیں کمرشل بنک بھی کہا جاتا ہے): ان کا اصل کام یہ ہے کہ افراد یا اداروں کی جمع کردہ بچتوں کو سود یا منافع کے ساتھ دیگر اداروں کو قرض دیتے ہیں۔ موجودہ بنکاری نظام کا بیشتر حصہ اس طرح کے بنکوں پر مشتمل ہے۔

(2) سرمایہ کارانہ بنکاری (Investment Bankins) :یہ بنکوں کی وہ قسم ہے جو اپنے سرمایہ کو سود پر قرض دینے کی بجائے، براہِ راست مختلف صنعتوں میں لگاتے ہیں۔ اگرچہ یہ اپنے (Depositrors) کو مخصوص شرح پر سود ادا کرتے ہیں۔ مگر ان کا منافع خالصتاً سود پر انحصار نہیں کرتا۔ گویا یہ بنک جزوی سودی نظام پر عمل کرتے ہیں۔ سرمایہ کارانہ بنکاری ہمارے زیر نظر مضمون کی وجہ تالیف ہے۔ آئندہ سطور میں اس پر مفصل اظہار خیال کیا جائے گا۔

(3) دیگر مالیاتی ادارے: یہ بنک متفرق مالیاتی اُمور میں تخصص رکھتے ہیں۔ ان کا حجم کم ہوتا ہے مگر یہ کثیر تعداد میں کام کرتے ہیں۔ ان کا طریقہ کار روایتی کمرشل بنکوں سے ذرا مختلف ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں آئی سی پی، بینکرز ایکویٹی، این آئی ٹی وغیرہ اس طرح کے مالیاتی اداروں کی مثالیں ہیں۔

٭ مندرجہ بالا درجہ بندی کی اہمیت اپنی جگہ ہے مگر انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا میں درج شدہ مضمون (Banks and Banking) میں جدید صنعتی دنیا میں بنکاری کے نظام کو دو بنیادی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: (1) کمرشل بنک (2) سنٹرل بنک(مرکزی بنک)

کمرشل بنک زر یا متبادلاتِ زر مثلاً چیک، بل آف ایکسچینج وغیرہ کا کاروبار کرتے ہیں۔ یہ بنک متفرق مالیاتی خدمات مہیا کرتے ہیں۔ مرکزی بنک بنیادی طور پر حکومت کے بنک ہوتے ہیں۔ جیسے امریکہ میںU.S. Federal Reserve System، برطانیہ میں بنک آف انگلینڈ، پاکستان میں سٹیٹ بنک آف پاکستان وغیرہ، کسی ملک میں مالیاتی اور کریڈٹ پالیسیوں کی تشکیل کے فرائض اور بنکوں کے نظام کو کنٹرول کرنا انہی بنکوں کی ذمہ داری میں شامل ہوتا ہے۔ (برٹانیکا:ج۲، ص ۶۹۹ تا ۷۱۰)

جدید بینکاری... مشکلات اور بدلتے رجحانات

یورپ و امریکہ میں گذشتہ دس سالوں کے دوران بنکاری نظام کی مجموعی کارکردگی کو پیش نظر رکھا جائے، تو یہ با ت بلا خوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ مغرب کی تین سو سالہ پرانی سودی عمارت شدید دھچکوں کی زد میں ہے۔ گذشتہ دس برسوں میں جس قدر تسلسل اور شدت کے ساتھ یورپ و امریکہ میں مختلف نامی گرامی بنکوں کا دھڑن تختہ ہوا ہے، اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ بڑے بڑے بنک شدید بحران، اتھل پتھل اور شکست و ریخت کا شکار ہیں۔ بڑے تواتر سے کسی نہ کسی بنک کے دیوالیہ ہونے یا صفحہ ٔ ہستی سے مٹنے کی خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ گذشتہ پانچ برسوں میں مالی مشکلات کے نتیجہ میں وسیع پیمانے پر مختلف بنکوں کے اِدغام کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے۔ یہ دھڑا دھڑ اِدغام بذاتِ خود اس بات پر شاہد ہے کہ مغرب کا بینکاری نظام شدید فکری اور عملی بحران سے دوچارہے۔

مغرب کا بینکاری نظام خالصتاً سودی کاروبار کی بنیاد پر پھلتا پھولتا رہا ہے۔ بینکوں نے ہمیشہ ترقی یافتہ ممالک کے صنعتی گھوڑے کے لئے توانائی بخش خوراک (سرمایہ) مہیا کرنے کا اہتمام کیا۔ مگر ایک بات وہ بھول گئے: خوراک جس قدر بھی لذیذ، مفید اور توانائی بخش ہو، ا س کو ہضم کرنے کی صلاحیت ہمیشہ محدود ہی ہوتی ہے۔ مغرب کے کاروباری ادارے بنکوں سے اعلیٰ شرح سود پر قرض لے کر منافع کماتے رہے او راپنے منافعوں کو واپس بنکوں میں ڈالتے رہے یا نئی صنعتیں قائم کرتے رہے۔ ایک وقت آیا کہ نئی صنعتوں کا قیام بھی ممکنہ نقصان کی وجہ سے مشکل ہوگیا۔ ادھر بینکوں میں کساد بازاری کا رجحان نمایاں ہوتا چلا گیا۔ بنکوں کا وجود و ارتقاء ہمیشہ فروغ پذیر صنعت کاری کا مرہونِ منت رہا ہے۔ گذشتہ تیس برسوں میں بینکوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوگیا مگرصنعتی ترقی کی شرح میں اس رفتار سے اضافہ نہیں ہوا۔ اس صورت نے بینکوں میں شدید مقابلے کی فضا کو جنم دیا۔ غیر صحت مندانہ مقابلے نے بینکوں کو قرضوں پر شرح سود کو کم کرنے پر مجبور کردیا۔ اب انہوں نے بہت سے ایسے صنعتی یونٹوں کو بھی قرضہ جات دینے شروع کر دیئے جو بالآخر بند ہوگئے۔ صنعتوں کے اس وسیع پیمانے پر دیوالیہ پن نے کئی بنکوں کو دیوالیہ کردیا کیونکہ ان کے اِنتظامی اخراجات بدستور بڑھتے چلے گئے۔

مغرب کے بینکاری نظام کی بنیاد محض سود پر نہیں ہے۔ ان کی ترقی کا اصل راز غیر عادلانہ، جارحانہ اوربھاری شرحِ سود رہا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ جمع کنندگان (Depositors) کو کم شرح سود دے کر قرضہ لینے والوں سے بھاری شرح سود وصول کیا۔ مگر اب مالی اکتاہٹ (Saturation) کی وجہ سے کئی گنا بڑھوتری پر مبنی سود لینا ان کے لئے ممکن نہیں رہا۔

جدید بنکاری کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اکثر ممالک میں عام تجارتی بنکوں نے صنعتی ،تجارتی اور زرعی کاروبار میں شراکت کے اُصول پرسرمایہ لگانے سے اِحتراز کیا ہے۔اگرچہ بعض اَدوار میںبعض ملکوں میں اس طرف بھی رجحان رہاہے مثلاً فرانس اور سپین میں کئی بنک یہ کاروبار ۱۹۶۰ئ؁ کے عشرے سے کرتے آرہے ہیںمگر اس رجحان کو پذیرائی حالیہ برسوں میں ملی۔

مغرب کے بینکاری نظام میں نمایاں ترین تبدیلی جو مشاہدے میں آئی ہے، وہ یہ ہے کہ وہاں کمرشل بنک اپنے اصل فرائض کو چھوڑ کر سرمایہ کارانہ بینکاری کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔یعنی وہ صنعتی یونٹوں کو قرضہ دینے کی بجائے براہِ راست تجارت کر رہے ہیں۔ اس کی مختلف صورتیں سامنے آئی ہیں: یاتو بنک مکمل طور پر نئی فیکٹریاں لگا رہے ہیںیا بعض کمپنیوں کے حصص خرید رہے ہیںاور ان کی مینجمنٹ میں برابر شریک ہورہے ہیں۔ کمرشل بنکوں کے اصل فرائض کیا ہیں؟ انسائیکلو پیڈیا بریٹا نیکا کی وضاحت کے مطابق :

"A Commercial banker is a dealer in money and in substittutes for money, such as checques or bills of exchange. The basis of his business is borrowing from individuals , firms and occassionally governments. The Banker makes his pfofit by borrowing at one rate of interest and lending at a higher rate and by charging commissions for services tendered."(Vol: 2, Pages: 699-700)

''ایک کمرشل بنک زر یا متبادلاتِ زر مثلاً چیک یا بل آف ایکسچینج میں کاروبار کرتا ہے۔ اس کے کاروبار کی اصل بنیاد اَفراد، اداروں یا کبھی کبھار حکومت سے رقم اُدھار لینے پر ہے۔ایک بنک منافع اس طرح کماتا ہے کہ وہ ایک شرح سود پر رقم اُدھار لیتا ہے مگر اسے زیادہ شرح پر قرض دیتا ہے او راپنی خدمات کے عوض کمیشن بھی وصول کرتاہے''

یورپ میں تیزی سے بدلتی ہوئی بینکاری اور مالیاتی حالاتِ حاضرہ سے باخبر قارئین آگاہ ہیں کہ کمرشل بنک مذکورہ بالا روایتی فرائض کے دائرہ سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مالیاتی معاملات کے متعلق معروف اور مؤثر ترین ہفت روزہ جریدے Economistمیں مسلسل ان تبدیلیوں اور نئے رجحانات کے متعلق گذشتہ چند برسوں میں اظہارِ خیال کیا جاتا رہا ہے۔ ۱۵؍دسمبر ۱۹۹۸ء کی اپنی اشاعت میں 'اکانومسٹ' لکھتا ہے: (صفحہ ۱۵)

"Commercial bankers are caught between a rock and hard place"

'' کمرشل بنک ایک سنگلاح چٹان اور ایک پتھر یلی سخت جگہ کے درمیان گھرے ہوئے ہیں''

''اکانومسٹ'' مزید لکھتا ہے:

''شاید ہی کوئی ہفتہ گذرتا ہو کہ جن میں بین الاقوامی بینکاری کو شدید دھچکا نہ لگتا ہو۔ یہ اتھل پتھل (Upheavel) دو صورتوں میں وقوع پذیر ہوتی ہے: ایک تو یہ ہے کہ جب دو بنک آپس میں مدغم ہوتے ہیں یا ایک بنک دوسرے بنک کے حصص خرید لیتا ہے جیسا کہ جرمنی کے ڈوٹشے (Doutshe) بنک نے امریکہ کے ''بنکرز ٹرسٹ'' کو خرید لیا۔ دوسری صورت اس وقت سامنے آتی ہے جب ایک بنک کا چیف ایگزیکٹو مالی بحران کے نتیجہ میں بنک چھوڑنے پر مجبور ہوجاتاہے جیسا کہ برطانیہ کے بارکلے (Barclay) بنک کے چیئرمین مارٹن ٹیلر کے حالیہ استعفیٰ کے موقع پر سامنے آیا۔ اس سے پہلے بھی کئی چوٹی کے ایگزیکٹو مستعفی ہوچکے ہیں۔بنکوں میں اس قدر بھونچال (Shake-ups) کی اصل وجہ فنانشیل مارکیٹ میں ناہمواری اور بدنظمی ہے۔ اب بینکاری کی صنعت کے بارے میں سوال اٹھایا جانے لگا ہے کہ کیا کمرشل بنک سرمایہ کارانہ بینکاری میں کامیاب ہوسکتے ہیں؟'' (اکانومسٹ: ۵ ؍دسمبر۱۹۹۸ئ، صفحہ ۱۵)

ہفت روزہ ''اکانومسٹ'' نے مذکورہ اشاعت میں ایک مفصل سروے بعنوان "Investment banking, commercial propositions" کے عنوان سے شائع کیا ہے۔ اس میں جرمنی کے سب سے بڑے بنک "Doutshe" اور برطانیہ کے دوسرے بڑے بنک "Barclay"کے چیف ایگزیکٹو کا نقطہ نظر او ربنکوں کی بدلتی ہوئی پالیسیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ مزید برآں کمرشل بنکوں کے سرمایہ کارانہ بینکاری کی طرف روزافزوں میلان او ربدلتے تقاضوں کا بھی مفصل تجزیہ پیش کیا گیاہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ سروے کا اہم حصہ انگریزی زبان میں ہی نقل کردیا جائے۔ ''اکانومسٹ'' کے الفاظ میں:

"One theme: how to respond to the way in which the banking industry is changing. Bank's basic activity ... taking deposits and making loans to companies ... is under threat as Capital market swell. Should banks like Steel companies, simply squeeze margins out of a declining business? or should they reinvent themselves as investment banks?

'' ایک ہی خیال: بدلتی ہوئی بینکاری کی صنعت کا جواب کس طرح دیا جائے؟ ...بنکوں کا بنیادی کام (ڈیپازٹ لے کر کمپنیوں کو قرضہ دینا) سخت خطرات سے دو چار ہے کیونکہ مالی مارکیٹ پھول کر کپا ہو رہی ہیں (بڑھ رہی ہیں) ۔کیا بنکوں کو بھی سٹیل ملز کی طرح زوال پذیر کاروباری فضا میں اپنے منافع (مارجن) کوسیکٹر لینا چاہئے؟ یا پھر انہیں سرمایہ کار بنک کی حیثیت سے اپنی تشکیل نو کرلینی چاہئے''؟ (اکانومسٹ: ۱۵ ؍دسمبر ۱۹۹۸ئ، صفحہ ۹۵)

یہ سوال اتنا نیا بھی نہیںہے۔ بہت سے بنک کمرشل منطق کے تحت سرمایہ کارانہ بنکاری (براہِ راست تجارت)میں داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ۱۹۸۰ء کے ابتدائی سالوں میں امریکہ کے بعض معروف بنکوں مثلاًچیز مان ہٹن (Chase Manhattan)بنک آف امریکہ، سٹی کور (Citicorp) نے اسی پالیسی کو اَپنایا۔ ۱۹۸۵ء اور ۱۹۹۰ء کے درمیان جاپان کے بنکوں مثلاً انڈسٹریل بنک آف جاپان نے سرمایہ کارانہ بنکاری میں کامیابیاں حاصل کیں۔ یورپی بنکوں میں پیری باس (Pari-bas) حال ہی میں ڈٹشے "Doutshe" اور "Dresdner" اس میدان میں داخل ہوئے ہیں۔ جرمنی کے دیگر بنکوں میں Morgan Stanley, Goldman Sachs, Merrill Lynch اور Dean witter کا نام سرمایہ کار بنکوں میںشامل ہے۔

سرمایہ کارانہ بینکاری میں کامیاب ترین نام ''کریڈٹ سوسی'' (Credit Suissei) کا ہے۔ "T.P. Morgan" تو ایسا بنک ہے جس نے اپنا تمام کاروبار کمرشل بینکاری سے منتقل کرکے سرمایہ کارانہ بینکاری میں ڈھال لیا ہے۔ (حوالہ: ایضاً)

کمرشل بینک آخر سرمایہ کاری (تجارت) کی طرف کیوں مائل ہو رہے ہیں؟ ''اکانومسٹ'' کے خیال میں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ کارانہ بینکاری میں خطرات کے ساتھ ساتھ زیادہ اور فوری منافع کمانے کے مواقع موجود ہیں۔ مزید برآں بڑی دیر سے بینکاری کا روایتی طریقہ یعنی ڈیپازٹ لے کر قرض جاری کرنا ایک ماٹھا کام (Dull) بن گیا ہیجو اپنی کشش کھو رہا ہے۔ اب جمع کنندگان زیادہ منافع دینے والے ''باہمی فنڈز'' (Mutual Funds) کی طرف توجہ دے رہے ہیں۔ بعض بڑی کمپنیاں اب Bonds کی شکل میں بنکوں سے قرض نہیں لیتیں اور براہِ راست Debt جاری کر رہی ہیں۔ اس عمل کو ''اکانومسٹ'' نے (Dis-Intermediation) کا نام دیا ہے۔ یعنی بینکوں کا 'وچولیا' ہونے کا کردار ختم ہو رہا ہے۔ ایک اور وجہ یہ ہے کہ لوگوں میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ بنک ان سے سستی شرح سود پر رقم جمع کرکے زیادہ شرح سود پر قرض جاری کرتے ہیں۔ فنانشیل مارکیٹ میں 'لبرل' رجحانات فروغ پا رہے ہیں۔ مزید برآں ٹیکنالوجی بالخصوص انٹرنیٹ پر بینکاری نے بھی روایتی بینکاری پر اثرات مرتب کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ ( ایضا ً، صفحہ ۱۶)

مندرجہ بالا سطور میں سرمایہ کارانہ بینکاری کے متعلق بڑھتے ہوئے رجحانات کو بیان کرنے کے بعد مستقبل کے امکانات پر اظہارِ خیال کرنا اور نتائج اَخذ کرنا ضروری ہے۔ ایک بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ جدید صنعتی ممالک میں ۸۰ فیصد سے زیادہ بینکاری کا حجم صنعتی قرضوں کے اجراء کی صورت میں ہے۔ صرفی قرضہ جات Consumer Credits کا حجم نسبتاً کم ہے۔ فرض کیجئے فنانشیل مارکیٹ کے حالات وہی رہتے ہیں، جو اوپر بیان کئے گئے ہیں او رکمرشل بنکوں کا سرمایہ کاری کی طرف سفر جاری رہتا ہے او رایک وقت آتا ہے کہ بڑے بڑے کمرشل بنک ''تشکیل نو'' کے مرحلے سے گزر کر سرمایہ کار بنک (Investment Banks) کی شکل اختیار کرلیتے ہیں تو پھر سودی بینکاری پر کیا مجموعی اثرات مرتب ہوں گے؟ مالیاتی اُصولوں کے متعلق معمولی سی شدھ بدھ رکھنے والا شخص بھی بلاتامل اس کا جواب یہی دے گا کہ سرمایہ کارانہ بینکاری اپنے اثرات کے اعتبار سے بالواسطہ غیر سودی بینکاری پر منتج ہوگی۔

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا کہ امریکہ و یورپ میں کمرشل بینکوں کی براہِ راست سرمایہ کاری جزوی اعتبار سے غیر سودی بینکاری ہے کیونکہ یہ بنک اپنے جمع کنندگان (امانت داروں) کو ایک طے شدہ شرح کے مطابق سود ادا کرتے ہیں۔ مگر یہ صورت برقرار نہیں رہے گی۔ اگر سرمایہ کاری (تجارت) میں بیش بہا یا کئی گنا منافع ہوگا تو امانت داروں کی طرف سے شرح سود میں اضافہ کا مطالبہ یا دیگر لفظوں میں شرح منافع میں شراکت کا تقاضا بھی زور پکڑے گا۔ بالآخر امانت داروں اور بینکوں کے درمیان کاروباری تعلق سود کی بجائے منافع کی بنیاد پر اُستوار ہوجائے گا۔ مگر فی الوقت یہ محض ایک خیال آرائی یا پیش گوئی تک ہی محدود ہے۔ آنے والے حالات اس کی صداقت کو واضح کریں گے۔ ''باہمی فنڈز'' جیسے اداروں کا قیام پہلے ہی اس سمت میں مؤثرقدم قرار دیا جاچکا ہے۔ یاد رہے کہ ''باہمی فنڈز'' میں شراکت کی بنیاد ''منافع'' پر ہی رکھی جاتی ہے۔

یورپ میں اِسلامی بینکاری

سوئٹرزلینڈ، جرمنی، آسٹریا، فرانس، انگلینڈ اور یورپ کے دیگر ملکوں میں بعض بینکوں نے ''اسلامی بینکاری'' کی صورتوں کو متعارف کرایا ہے۔ ہمارے بعض ماہرین معاشیات مثلاً پروفیسر خورشید احمد وغیرہ نے اس کے کافی اَعداد و شمار اکٹھے کئے ہیں۔ مذکورہ بالا یورپی بینکوں نے مضاربت اور مشارکت دونوں اُصولوں کو منتخب اُمور میں بنکاری کی بنیاد بنایا ہے۔ غیرسودیبینکاری کی یہ شکلیں کیا اسلامی شریعت کی روح کے عین مطابق ہیں؟ اگرچہ ان کی شرعی حیثیت کی قطعیت کا سوال اپنی جگہ پر اہم ہے تاہم ہمارے پیش نظر صرف جدید یورپ میں بینکاری کے نئے رجحانات کی نشاندہی کا فریضہ انجام دینا ہے۔ اسلامی بینکاری کی طرف رغبت سے یورپی بینکوں نے مشرقِ وسطیٰ کے اہل ثروت تاجروں یا حکومتوں کو بھی اپنی طرف مائل کیا ہے۔ اور غالباً اصل جذبہ ٔ محرکہ مسلمان ممالک سے سرمایہ کا حصول ہی ہے۔ وجہ کچھ بھی ہو، اسلامی بینکاری یورپ کے روایتی بنکوں کے نظام پر دور رَس اَثرات مرتب کرے گی، سودی معیشت کی '' نوشتہ ٔ دیوار'' ناکامی کے بعد مغرب میں اسلامی بینکاری کے اِمکانات روشن تر ہیں۔

صرفی قرضہ جات پر شرحِ سود کے تعین کا مسئلہ

امریکہ اور یورپ میںچھوٹے صارفین کو اپنی ضرورت کی تکمیل کے لئے دیئے جانے والے قرضوں پر سود کی شرح کے تعین کا مسئلہ ہمیشہ اَخلاقی مباحث کا موضوع رہا ہے۔ اس کے لئے امریکہ اور یورپ میں سودی اِنضباطی قوانین (Usury Statues)لاگو کئے گئے۔ ۱۹۶۰ئ؁ تک امریکہ میں صرفی قرضہ جات پر زیادہ سے زیادہ شرح سود ۶ فیصد تھی۔ ۱۹۵۰ء ؁کے عشرے میں انگلینڈ، فرانس اور جرمن میں عام صرفی قرضہ جات پر ۱۰ فیصد سے زیادہ سود وصول کرنے کی ممانعت تھی مگر بعد میں سودی شرح پر یہ ریاستی قیود اُٹھا لی گئی تھیں کیونکہ بعض سودی اداروں نے واویلا مچایا کہ اس قدر کم شرح پر ان کے لئے کاروبار کرنا نقصان کا باعث بن رہا ہے۔

امریکہ میں تو یہ صورت ہے کہ گاڑیوں، ریفریجریٹر، ٹیلی ویژن او راس طرح کی تمام گھریلو اشیاء ضرورت کی خرید کے لئے بنک سے قرضہ مل جاتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق امریکہ میں ۸۰ فیصد سے زائد گاڑیاں اسی طرح کے قسط وار قرضہ جات کی پیداوار ہیں۔ گھریلو اشیاء کی خرید کے لئے قرضہ جات چھوٹے اور مختصر المیعاد ہوتے ہیں، اس لئے ان پر آج کل شرح سود ۲۰ سے لے کر ۳۰ فیصد تک بھی وصول کی جاتی ہے۔ بعض ماہرین نے اس قدر زیادہ شرح کو نامناسب قرار دیا ہے۔ اور ایک دفعہ پھر یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ صرفی قرضہ جات کی زیادہ سے زیادہ شرح کے تعین کے لئے قانون سازی کی جائے۔ اگرچہ ان قرضہ جات میں سود کے خاتمہ کے تحریک نہیں چلائی جارہی، مگر سود کی شرح میں کمی کا مطالبہ ظاہر کرتا ہے کہ لوگ سودی بینکاری کے شکنجے میں تلملا رہے ہیں او روہ اس صورتحال سے مطمئن نہیں ہیں۔ امریکی شہری قرض تو لے لیتے ہیں لیکن ان کی تنخواہیں مختلف قرضوں کی اَقساط کی ادائیگی میں ہی ختم ہوجاتی ہیں اوروہ بچت نہیں کر پاتے۔ عدمِ بچت کا اِحساس انہیں بے حد پریشان رکھتا ہے۔

افراطِ زر اور سود کا جواز؟

بینکوں میں جمع شدہ رقم پر سود کی ادائیگی کا جواز ثابت کرنے کے لئے جتنے نظریات (Theories of Interest) پیش کئے گئے، ان میں مقبول ترین نظریہ افراطِ زر کا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ افراطِ زر کی وجہ سے سرمایہ وقت گزرنے کے ساتھ اپنی قوتِ خرید یا ''مارکیٹ ویلیو'' کھو دیتا ہے۔ عقلی اعتبار سے یہ دلیل بہت وقیع او رمنطقی نظر آتی ہے۔ لیکن عملی اعتبار سے دیکھا جائے تو افراطِ زر اور شرح سود کے درمیان ٹھیک ٹھیک تناسب اور تطابق پیدا کرنا ناممکن ہے۔ کسی بھی ملک میں بنکوں نے آج تک افراطِ زر کے مطابق سود کی ادائیگی کویقینی نہیں بنایا، نہ بنا سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک جہاں افراطِ زر عملاً ایک سال میں ۲۰ فیصد تک بھی رہا ہے مگر بینکوں نے کھاتہ داروں کو منافع ہمیشہ سات یا آٹھ فیصد ہی ادا کیا ہے۔ یورپ کے بعض ممالک ایسے بھی ہیں جہاں افراطِ زر ۲ فیصد سے زیادہ نہیں تھا مگر وہاں بھی شرح سود اس سے زیادہ رہی۔

یکم جنوری ۱۹۹۹ء ؁سے مغربی یورپ کے ۱۱ ملکوں نے یورو (Euro) کو بطور مشترکہ کرنسی کے اپنا لیا ہے۔ یورپین سنٹرل بنک (ECB) نے رکن ممالک کے لئے سود کی شرح ۳ فیصد مقرر کی ہے جس کے نتیجے میں جرمنی کے سنٹرل بنک (Bundes Bank) نے اپنی شرح ۵۔۳ فیصد سے گھٹا کر ۳ فیصد کردی ہے۔ یورو ممالک میں افراطِ زر اس وقت اوسطاً ایک فیصد ہے۔(اکانومسٹ :ایضاً،صفحہ ۹۸)

اصولاً ان ممالک میں شرح سود بھی ایک فیصد ہونی چاہئے۔ گذشتہ برسوں کے دوران جاپان میں طلب ِزر میں کمی کی وجہ سے شرح سود بہت ہی کم ایک فیصد یا بعض اوقات نصف فیصد تک رہی حالانکہ وہاں افراطِ زر ۴ یا ۵ فیصد تک تھا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر کم شرح سود پر لوگ یا ادارے اپنی رقوم بینکوں میں جمع کیوں کرواتے ہیں یا نکلواتے کیوں نہیں؟ اس کا سادا سا جواب یہی ہوگا کہ لوگ محض اس خیال سے اپنی وافر رقوم بینکوں میں جمع نہیں کراتے کہ وہ اس پر سود کمائیں بلکہ بینکوں میں رقوم وہ تحفظ اور امانت کی غرض سے رکھواتے ہیں۔ کروڑوں اربوں کے کاروبار اور اضافی رقوم کو خود سنبھالنا بے حد مشکل ہے وہ اپنی رقوم بینکوں سے نکلوا کر تجارت میں اس لئے نہیں لگاتے کہ پہلے ہی یا تو ان کا اچھا خاصا سرمایہ کاروبار میں لگا ہوتا ہے یا پھر تجارت میں نقصان کے اندیشے کے پیش نظر وہ بینکوں میں رقوم کو بطورِ امانت کے رکھنے کو ترجیح دیتے ہیںـ۔

مندرجہ بالا حقائق کے بعد افراطِ زر کو بطورِ جوازِ سود کے پیش کرنے کا تصور ہوا میں تحلیل ہو کر رہ جاتا ہے ۔ جاپان جیسے ملکوں میں بینکوں میں رقوم جمع کرانے کے پس پشت 'سود' بطور جذبہ ٔ محرکہ کے اپنی اہمیت کھو چکا ہے۔ امریکہ، یورپ او رجاپان کی فنانشل مارکیٹ او ربنکوں کی صورتحال سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سودی معیشت یا سودی بینکاری معاشی ترقی کے عروج کی خاص سطح کے حصول کے بعد اپنی مرکزی اِفادیت او راَہمیت کھو دیتاہے۔موجودہ حقائق بے حد چشم کشا ہیں۔ وہ لوگ جو آج سے ۲۵، ۳۰ سال قبل غیر سودی نظام کو ناقابل عمل سمجھتے تھے، آج عملاً غیر سودی تجارت اور بینکاری کے ننگے حقائق کے سامنے اپنی محدود بصیرت اور محدود عقل کی بے بسی کا تماشا دیکھنے پر مجبور ہیں۔ آج کا سرمایہ دار اَربوں روپے بنکوں سے ایک فیصد یا اس سے کم شرح سود پر رکھنے پر مجبور ہے کیونکہ اس کے پاس متبادل سرمایہ کاری کا راستہ موجود نہیں ہے۔ مگر اب بھی اس کی عقل سودی نظام کی 'غیر اَخلاقی' حیثیت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ کیا بعید ہے کہ سودی معیشت کا پروردہ، مادہ پرست اور عقل پر اندھا انحصار کرنے والا آج کا سرمایہ دار الہامی تعلیمات کے سامنے اپنی مغرور مگربے بس عقل کو جھکا دے۔ اَخلاقی معاشرے کے قیام کا مستقبل انسان کی بے بسی کے اس اِعتراف پر ہی منحصر ہے۔

عالمی سطح پر اس وقت بنکوں کی صنعت شدید بحران کا شکا رہے۔ بین ُالاقوامی مالیاتی مارکیٹ کا نظام اس طرح مربوط ہے کہ ایک ملک کا مالیاتی بحران بہت سے ملکوں کی معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ۹۲؍۱۹۹۱ء میں امریکہ کی معیشت اور بنک شدید کساد بازاری (Recession) کا شکار تھے تو اس کا اثر یورپ اور ایشیا کی منڈیوں پر براہِ راست پڑا تھا۔ ۹۸؍۱۹۹۷ء میں مشرقی ایشیاکے ممالک تھائی لینڈ، تائیوان، فلپائن، ملیشیا، انڈونیشیا وغیرہ شدید کرنسی کے بحران سے دو چار ہوئے۔ ان کا بینکاری نظام یکسر تباہی کا شکار ہوگیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے کھربوں روپے مارکیٹ سے اُڑ گئے، ان کے اکثر بنک اور تجارتی اِدارے دیوالیہ ہوگئے۔ گذشتہ سات برسوں سے جاپان، جو خام قومی پیداوار کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے،شدید مالیاتی بحران کی زد میں ہے۔ اس کی اکانومی کا حجم تقریباً تین ٹریلین ڈالر ہے۔ ا س کے اکثر بینک تباہی کے کنارے پر کھڑے ہیں۔ ا س کے ۶۶۰ بلین ڈالر کے بنکوں کے قرضہ جات "Bad Debt" قرار دیئے گئے ہیں۔ (حوالہ ہفت روزہ ٹائم: ۲۹؍جون ۱۹۹۸ء)

جنوبی کوریا کے پانچ بڑے بنک بند ہوچکے ہیں اور سات مزید بندش کے خدشات کا شکار ہیں۔ (ٹائم: ۱۷؍ اگست ۱۹۹۸ء) اسی جنوبی کوریا کی ڈائیوو کمپنی جس نے پاکستان کا نیشنل موٹر وے بنایا ہے، یکم ستمبر ۱۹۹۹ء ؁کے اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق 'موت کا شکار'ہوگئی ہے۔ ڈائیوو صنعتوں کی ایک ایمپائر (سلطنت)تھی۔ اس کے ۲۸۸ یونٹ تھے اور اس کے ملازمین کی تعداد ۲۵ لاکھ سے زائد تھی۔

پاکستان میں ۱۴۲ بلین روپے کے قرضہ جات تقریباً ناقابل واپسی قرار دیئے گئے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کیا غیر سودی بینکاری نظام میں اس سے زیادہ نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا؟ سودی معیشت کی عالمی سطح پر ان تباہ کاریوں کے بعد جس شدت سے آج متبادل تجربات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے، پہلے کبھی نہ تھی۔ ترقی پذیر ممالک بین ُالاقوامی مالیاتی اداروں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔اصل قرضہ جات کی واپسی تو درکنار، وہ تو ان پراُٹھنے والے سود (Debt-Servicing) کی ادائیگی سے بھی قاصر ہیں۔ پاکستان کے بجٹ کا سالانہ ۳۸ فیصد اس مد میں اٹھ جاتا ہے۔ بلا سود بینکاری کے بہت بڑے مبلغ جناب ڈی۔ ایم قریشی صاحب نے ۱۹۷۰ئ؁ میں جو حسب ذیل پیش گوئی کی تھی، وہ آج حقیقت کا روپ دھار چکی ہے۔ انہوں نے اپنے مقالہ ''بلا سود بینکاری'' میں لکھا تھا :

''سودی لین دین یقینی طور پر دنیا کے تمام معاشی نظاموں کو دَم توڑ دینے پر مجبور کر دے گا۔ یہ صرف وقت کی با ت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں وقت کا تصور بالکل مختلف ہے۔ اس کے اَحکام سے بغاوت کی مہلت دس، بیس یا سو سال تک محدود ہونا کوئی ضروری بات نہیں ہے۔ بغاوت کے تجربات کے لئے اللہ تعالیٰ کے سامنے صدیاں بھی چنداں حقیقت نہیں رکھتیں۔ مغرب کے بیشتر ممالک انسانی اَقدار کا سہارا دے کر سودی نظام کو سنبھالا دیئے جارہے ہیں... مگر کب تک؟

مندرجہ بالا سطور میں مغرب میں بینکاری نظام کے بدلتے رجحانات کا محض ایک مختصر خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ راقم الحروف کسی خوش اِعتقادی یا فریب نظری میں مبتلانہیں ہے کہ مستقبل قریب میں یورپ کے سودی بینکاری نظام میں کوئی بہت بڑا اِنقلاب رونما ہونے والا ہے۔ اگر تاریخ کا سبق یہ ہے کہ چھوٹی تبدیلیاں ہمیشہ بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہوا کرتی ہیں، تو مذکورہ تبدیل ہوتے مناظر کو مستقبل کے واضح نقوش کے لئے بنیاد بنانا محض خوش فہمی بھی نہیںہے۔ ہمارے ہاں ایک طبقہ فکری محکومی اور عقلی نو آبادیت کا شکار ہے۔ وہ ہر بات کی صداقت اور اہمیت کے ثبوت کے لئے مغرب سے ثبوت پیش کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ پاکستان میں غیر سودی معیشت کو متعارف کرانے میں ایک بہت بڑی رکاوٹ یہی منفی سوچ ہے۔ اگر یہ غیر مربوط اور مختصرسامضمون ایسے اَفراد کی سوچ میں معمولی سی تبدیلی لانے کا باعث بن جائے، تو میں سمجھوں گا میری کاوش کو شرف ِقبولیت عطا ہوگیا !!

بلاسود بینکاری... چند اہم اُصول

بلاسود بینکاری کی تفصیلات کا اِحاطہ کرنا اگرچہ اس مضمون کے دائرہ بحث (Scope) سے باہر ہے، پھر بھی تجسّس پسند قارئین کی معلومات کے لئے اس کے چند اہم نکات کا تذکرہ مناسب ہوگا۔ اسلام بلا سود بینکاری کا جو متبادل نظام پیش کرتا ہے، اس کے اہم اُصول درج ذیل ہیں :

(1) اسلامی معاشرہ میں بینکاری نظام غیر سودی بنیادوں پر چلانے کے لئے بنکوں کے موجودہ انتظامی ڈھانچہ میں بہت زیادہ ردّوبدل کی ضرورت نہیں ہے۔ بنک اپنی اِن خدمات اور فرائض کو بدستور جاری رکھ سکتے ہیں جس میں سود کا عنصر شامل نہیں ہے۔ مثلاً امانتوں کا رکھنا، لاکرز کا مہیا کرنا، اہم دستاویزات و زیورات کی حفاظت، سفری چیک، بنک ڈرافٹ اور خطوطِ القاء (Letter of Credit) اور گاہکوں کو تکنیکی مشاورت کی فراہمی وغیرہ۔ البتہ جس بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہوگی وہ یہ ہے بنک اپنا کاروبار سود کی بنیاد پر انجام نہیں دیں گے۔

(2) بلا سود بینکاری کا اہم ترین اُصول یہ ہے کہ بنک اپنا کاروبار شراکت یا مضاربت کے دائرہ میں رہ کر چلا سکیں گے۔ شراکت اور مضاربت کی جزئیاتی تفصیلات پر مشتمل اب تو مفصل کتابیں موجود ہیں۔ مختصراً یہ ہے کہ شراکت میں دو یا دو سے زیادہ فریق مل کر کاروبار شروع کرتے ہیں۔ نفع کی تقسیم کے لئے پہلے سے ہی ایک نسبت طے کر لی جاتی ہے۔ البتہ شراکت کے اُصول کے تحت کئے گئے کاروبار میں نقصان لگائے گئے سرمایہ کی نسبت سے برداشت کرنا ہوتا ہے۔شراکت میں ہر حصہ دار اپنے حصہ پر مالکانہ حقوق رکھتا ہے اور وہ اس کو اپنی مرضی کے مطابق فروخت کرسکتا ہے۔ اسلام کے مطابق معاہدئہ شراکت ایک خاص مدت کے لئے کیا جاتا ہے، باہمی رضا مندی سے اس مدت میں توسیع بھی کی جاسکتی ہے۔

(3) مضاربت میں سرمایہ ایک پارٹی یا فرد لگاتا ہے اور اس سرمایہ سے کاروبار دوسرا فرد یا پارٹی کرتی ہے۔ اس میں سرمایہ لگانے والا فریق کاروبار میں حصہ دار نہیں ہوتا بلکہ کاروبار کے نفع میں ایک طے شدہ نسبت کا حقدار ہوتا ہے۔ نقصان کی صورت میں سرمایہ لگانے والے کو مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے اور محنت کرنے والے کی محنت ضائع ہوجاتی ہے، اسے سرمایہ کی صورت میں نقصان کا بوجھ برداشت نہیں کرنا پڑتا۔

(4) بلا سود بینکاری میں تجارتی بنک دو طرفہ مضاربت پر عمل کرسکتے ہیں۔ مضاربت کی ایک صورت یہ ہوگی کہ ایک بینک کھاتہ داروں سے سرمایہ جمع کرکے آگے تجارتی کاموں میں لگائے۔ اس سے جو نفع حاصل ہوگا وہ بنک کے مجموعی نفع میں شامل کردیا جائے گا۔ یہ نفع کھاتہ داروں میں ان کے سرمایوں کی نسبت کے حساب سے تقسیم کردیا جائے گا۔ اگر بنک کو نقصان ہوگا تو یہ نقصان مضاربت کھاتہ داروں کو شرحِ نقصان کے مطابق برداشت کرنا پڑے گا۔ یہاں یہ واضح رہے کہ نقصان صرف اس صورت میں ہوگا جب بنک کو اپنے مجموعی کاروبار میں نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔ کھاتہ داروں کی اِنفرادی رقوم کے حساب سے بنک کے مضاربتی کاروبار میں نفع و نقصان کا حساب رکھنا مشکل اَمر ہے۔ اس مجموعی حساب کتاب کی وجہ سے نقصان کا احتمال بے حد کم ہے۔ مضاربت کی دوسری صورت یہ ہے کہ بنک کھاتہ داروں کی جمع کردہ رقوم کو آگے تاجروں کو مضاربت کی بنیاد پر فراہم کرے جس میں نفع کی تقسیم کی نسبت کا تعین کر لیا جاتا ہے۔ نقصان کی صورت میں بنک کا سرمایہ ڈوب جائے گا اور دوسرے کاروباری فریق کی محنت ضائع جائے گی۔

(5) بنک کسی کاروباری فریق کے ساتھ اپنے سرمایہ کی بنا پر ایک حصہ دار کی حیثیت سے شریک ہوسکتا ہے۔ بنک عام طور پر شراکت کو ترجیح نہیں دیتے کیونکہ کاروبار چلانے میں انہیں عملاً حصہ لینا پڑتا ہے اور اس مقصد کے لئے انہیں مناسب اِفرادی قوت کو بھی تعینات کرنا پڑتا ہے۔ شراکت کا ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ اس صورت میں بینک تجارتی اِدارے کے انتظامی معاملات پر نگاہ رکھتے ہوئے نقصان کے اِمکانات کو کم کرسکتا ہے اور ممکنہ فراڈ یا جعل سازی کا دروازہ بھی انتظامی معاملات میں عملی دخل اندازی سے بند کیا جاسکتا ہے۔

(6) جو لوگ مضاربت پر بنک کو رقوم نہ دینا چاہیں، وہ بھی بنک میں رقوم رکھ سکتے ہیں۔ یہ رقوم بنک کے ذمہ بغیر سود کے قرضہ کے طور پر رکھی جاسکیں گی جس طرح کہ آج کل کے کرنٹ اکائونٹ کھولے جاتے ہیں۔ بنک اس طرح کے فراہم شدہ سرمایہ کو کاروبار میں استعمال کرے گا لیکن کھاتہ داروں کے مطالبات اور روز مرہ کے دیگر اخراجات کی ادائیگی کے لئے ایک خاص تناسب سے رقوم محفوظ (Reserve) بھی رکھے گا تاکہ عندالطلب ادائیگی کی جاسکے۔ اس کی عملی صورت ایک یہ بھی ہوسکتی ہے کہ بنک قرضہ پرحاصل کئے گئے سرمایہ کا ۱۰ فیصد محفوظ رکھ سکتا ہے، ۴۰ فیصد نفع آور کاموں میں لگا سکتا ہے اور بقایا ۵۰ فیصد غیر سودی قرضہ دینے کے لئے مخصوص کرسکتا ہے۔

(7) مرکزی بنک بھی دیگر بنکوں کو سرمایہ بغیر سود کے قرض کی صورت میں فراہم کرے گا۔ سود کے بغیر اس طرح کے سرمایہ کی فراہمی بظاہر خسارے کا سودا لگتا ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو مطلق خسارے کا اِمکان ہرگز نہیں ہے۔مرکزی بنک کی طرف سے دیا گیا سرمایہ جب یہ بنک تجارتی اِداروں کو آگے دیں گے تو یہ قومی آمدنی اور ترقی میں اضافہ کا باعث بنے گا۔ قومی معیشت کے فروغ پانے سے مجموعی قومی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ کاروباری ادارے حکومت کو ٹیکس کی صورت میں اضافی آمدنی مہیا کریں گے۔

مضاربت کے متعلق ایک اعتراض کا جواب

بلا سود بینکاری میں مضاربت سرمایہ کاری کی اہم ترین صورت ہے، مگر سب سے زیادہ اعتراضات یا خدشات بھی مضاربت پر ہی کئے جاتے ہیں۔ اولین اعتراض یہ وارد کیا جاتا ہے کہ اگر بینک مضاربت کی بنیاد پر تجارتی اداروں کو سرمایہ فراہم کریں گے، تو یہ تجارتی ادارے بددیانتی کا مظاہرہ کریں گے، حساب کتاب میں گڑ بڑ کے ذریعے نفع کی بجائے نقصان ہی ظاہر کریں گے، اس طرح بینکوں کا سرمایہ ڈوب جائے گا۔ مگر یہ اعتراض سطحی، کھوکھلا اور لغو ہے، جہاں تک تجارت میں دیانت کا تعلق ہے، یہ سودی بینکاری میں بھی اتنی اہم ہے جتنی کہ غیر سودی بینکاری نظام میں۔ یہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے کہ کسی بھی ملک کے تمام تجارتی اِدارے نقصان ظاہر کریں گے۔ مسلسل نقصان ظاہر کرنا تجارتی اِداروں کے اپنے مفاد میں بھی نہیں ہوتا، ایک نقصان میں چلنے والا ادارہ حصص (Shares)کی مارکیٹ میں اپنا وقار کھو بیٹھتا ہے اور ا س کے حصص کا بھائو زمین پر آ رہتا ہے۔ کوئی بھی اس کے حصص خریدنے کو تیار نہیں ہوتا، اس طرح وہ اپنے ادارے کو توسیع نہیں دے سکتا۔مزید برآں ایک ادارہ اگر ایک دفعہ ایک بنک کا مضاربتی سرمایہ واپس نہیں کرتا تو دوبارہ بنکوں سے اس کے سرمایہ لینے کے اِمکانات معدوم ہوجاتے ہیں۔

فرض کریں ایک بنک ۲۰ تجارتی اداروں کو ایک کروڑ کے حساب سے ۲۰ کروڑ روپے مضاربتی سرمایہ کے طور پر ادا کرتا ہے۔ ان میں پانچ اداروں کو اوسطاً دس فیصد نقصان ہوتا ہے، تو بینک کو مجموعی طور پر ۵۰ لاکھ روپے نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ مگر اس کے مقابلے میں بقیہ ۱۵ تجارتی اداروں کو اوسطاً ۲۵ فیصد منافع ہوتا ہے۔ اگر بینک کا مضاربتی حصہ ۵۰ فیصد منافع ہے تو اس کے منافع کا حصہ ایک کروڑ پچانوے لاکھ بنے گا۔ اگر اس میں سے ۵۰ لاکھ کا خسارہ نکال دیا جائے تو ۲۰ کروڑ کی سرمایہ کاری پر مجموعی طور پر ایک کروڑ پینتالیس لاکھ کا منافع بنک کومل جائے گا۔ اگر ۲۰ کروڑ کی یہ رقم بینک سود پر تجارتی قرضوں کی صورت میں تجارتی اداروں کو دے تو ۱۰ فیصد سے زیادہ اوسطاً شرحِ سود پر قرضہ جات دینا مشکل ہوگا ۔ تجارتی اداروں کو قرض عموماً نرم شرح سود پر دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں تو بعض تجارتی اداروں نے محض ۳ فیصد پر بنکوں سے قرضہ لے رکھا ہے۔ اس تناسب سے سود کی مجموعی رقم دو کروڑ روپے بنے گی۔ یہ بھی اس صورت میں اگر تمام تجارتی ادارے منافع میں رہیں اور بنک کو وقت پر رقم لوٹا دیں۔ اگر ان میں سے کوئی ایک ادارہ یوں دیوالیہ ہوگیا، تو بنک سود ؍منافع کی یہ شرح برقرار نہیں رکھ سکے گا ـ۔٭

٭ کتابیات: ''سود' ' از سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ...''تجارت اور لین دین کے احکام ومسائل'' از مولانا عبد الرحمن کیلانی ؒ

آخری حصہ کی تیاری میں راقم نے نیشنل بنک آف پاکستان کے سابق صدر اور صدر ضیاء الحق کے اقتصادی مشیر ڈاکٹر ڈی۔ ایم قریشی کے مقالہ ''بلاسود بینکاری'' او رڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی کتاب ''غیرسودی بینکاری ''سے استفادہ کیاہے۔

٭٭٭٭٭