گذشتہ دنوں سپریم کورٹ میں جاری سود کیس کی سماعت کے دوران بنکاری نظام کے طرفداروں نے جو متضاد اورحیران کن باتیں کی ہیں، ان سے قرآن کی حقانیت ثابت ہوجاتی ہے کہ نہ صرف سودی کاروبار میں ملوث بلکہ ان کے طرفدار بھی مخبوط الحواس ہوجاتے ہیں۔

سود کے حامیوں نے اس سوال پر بڑی بحثیں کی ہیںلیکن انٹریسٹ اور یوژری مترادف ہوں یا نہ ہوں، ہمارے لئے یہ بات اہم نہیں کیونکہ پاکستان کے آئین کے تحت تو ہم قرآن و سنت کے مطابق فیصلہ کرنے کے پابند ہیں اورقرآن وسنت میں کم یا زیادہ سود میںکوئی تفریق نہیں۔ اسی طرح شراب کے متعلق بھی بیئر یا وہسکی میںتفریق نہیں کی گئی۔ ویسے نویں صدی سے قبل تو وہسکی کا وجودہی نہ تھا،محض بیئر یا شراب تھی جو ۶ فیصد الکوحل پرمبنی ہوتی ،اس سے زیادہ تیز شراب بنانا ممکن ہی نہ تھا۔ حدیث میں اس کے لئے واضح ضابطہ مقرر کردیا گیا ہے کہ ''جس کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کرتی ہو وہ شراب ایک گھونٹ ہو ( یا کم کیوں نہ ہو) حرام ہے'' ما أسکر کثیر فقلیله حرام(جامع ترمذی) بلکہ شراب کے دوا کے طور پر استعمال کے متعلق بھی حدیث میں واضح کردیا گیاہے کہ یہ تو داء (بیماری )ہے، دوا نہیں ہے۔

سود ایک فیصد ہو یا دس فیصد یا اس سے بھی زیادہ، شریعت کی رو سے سب اسی طرح حرام ہے۔

لفظ یوژری اور انٹریسٹ

(1) اس سلسلے میں انگریزی ادب میں نوبل انعام یافتہ برٹرینڈ رسل کا کہنافیصلہ کن ہے ، آپ لکھتے ہیں:

"The most hated sort, and with the greatest reason, is usury; which makes a gain out of money itself, and not from the natural object of it. For money was intended to be used in exchange, but not to increase at interest.... Of all modes of getting wealth this is the most unnartural" (1258) (اے ہسٹری آف ویسٹرن فلاسفی از برٹرینڈرسل ۱۸۷، اے کلیرون بک، ۱۹۶۷)

'' منطقی دلائل کی بنیاد پر سب سے قابل نفرت آمدنی یوژری (سود) کی آمدنی ہے جس میں روپیہ سے نفع کمایا جاتا ہے ،ـ نہ کہ اس خرید کردہ مال سے جو قدرتی طریقہ ہے کیونکہ روپیہ تو اس لئے بنایا گیا ہے کہ اس سے خرید و فروخت کی جائے نہ کہ اس لئے کہ سود پر اس کو دے کر بڑھایا جائے ،دولت حاصل کرنے کے تمام طریقوں میں یہ سب سے زیادہ خلافِ قدرت طریقہ ہے''

پس یوژری کا مطلب تمام طریقوں سے انٹریسٹ پر روپیہ قرض دینا ہے نہ کہ بہت زیادہ شرحِ سود پر دینا جیسا کہ بعض لوگ آج کل کہتے ہیں۔

گویا برٹرینڈ رسل کے نزدیک ان دونوں الفاظ میں تفریق پیدا کرنا غلط ہے جیسا کہ آج کل بعض لوگ کر رہے ہیں، یہ دونوں ایک ہی چیز کے دونام ہیں۔

(2) یوں تو اس بارے میں برٹرینڈر سل کی شہادت کافی ہے لیکن مزید تائید کے لئے اسی موضوع پر Legal Thesaurus (قانونی الفاظ کے متردافات) نامی کتاب میں بھی دونوں کو مترادف بتایا گیا ہے، میک ملن پبلشرز سے چھپنے والی اس کتاب کا مصنف ولیم سی برٹن لکھتا ہے:

INTEREST: (Profit), noun accural, advantage, dividend, earning, faenus, gain, increment, monetary, benefit, monetary gain, premium for the use of money, profit from money loaned, usura

Assosiated Concepts: Legal rate of interest, usury

'' انٹرسٹ:(نفع) اسم،بڑھوتی،افزائش،فائدہ،کسی منفعت میں حصہ،کمائی، اضافہ، زری منافع یا مفاد ،پیسے کے استعمال کی قیمت،جائز شرح سود، ادھار لی گئی رقم پر منافع

متعلقہ تصورات: جائز شرح سود، Usury ''

اس عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ مذکورہ سب الفاظ مترادف ہیں۔ البتہ یوژری صرف شرحِ سود کے لئے مخصوص ہے جبکہ انٹریسٹ کے معنی شرح سود کے علاوہ دوسرے بھی آتے ہیں۔

(3) بائبل جس کا حوالہ ہم آگے دے رہے ہیں، اس میں عربی بائبل میں 'ربا'کے لفظ کے ترجمہ میں انٹریسٹ اور بنک انٹریسٹ کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ بائبل کی رو سے بھی ہر قسم کا انٹریسٹ، کمرشلانٹریسٹ سب حرام ہیں۔ اسی واسطے نجران کے عیسائیوں سے جب معاہدہ میں لفظ ربا استعمال ہوا تو وہ عیسائی اس کا مطلب سمجھتے تھے اور کمر شل انٹریسٹ (تجارتی سود)کوبھی خوب سمجھتے تھے۔

یوژری یا انٹریسٹ کا لفظ ...دیگر زبانوں میں

سود کا لفظ فارسی اور اردو میں استعمال ہوتا ہے، ان زبانوں میں اس کے لئے ایک ہی لفظ ہے کیونکہ چیز بنیادی طور پر تو ایک ہی ہے۔ اسکی شرح کم یا زیادہ ہونے سے اس لفظ کی اصلیت تو نہیں بدلتی۔

٭ ہندی زبان اور ہندو مذہب میں:ہندی میں سود کو 'بیاج' کہتے ہیں۔ اگرچہ بعض لوگوں کا دعویٰ ہے کہ قدیم ہندو مذہب میں سود یعنی بیاج ناجائز تھا۔ مگر بعد میں اس کو حلال قرار دے دیا گیا۔ جیساکہ قدیم ہندو مذہب میں توحید موجودتھی اور شرک ناجائز تھا مگر بعد میں سب سے زیادہ دیوتا(بناوٹی خدا) ہندو مذہب میں ہی ملتے ہیں۔ اسی طرح وقت گزرنے کے ساتھ مذہبوں میں بھی پادری، پروہت تبدیلیاں کرتے رہے ہیں۔ بہرحال ہمیں یہاں صرف لغوی بحث درکار ہے۔ اس کے لئے قانون کی کتاب منوسمرتی کا عربی ترجمہ ہمارے سامنے ہے جس میں بیاج کا ترجمہ ربا سے کیا گیا ہے او ربیاج کو دو فیصد سے پانچ فیصد تک قرار دیا گیا ہے۔ کتاب کے حاشیہ میں کہا گیا ہے کہ برہمن سے دو فیصد سود لیا جائے گا۔ کھشتری سے تین فیصد، ویش ذات والوں سے چار فیصد اور شودر سے پانچ فیصد۔ یاد رہے کہ یہ شرح ماہانہ شمار ہوتی تھی۔ اصل عربی الفاظ ملاحظہ ہوں:

142 :« فالربا إذن ھو: إثنان و ثلاثة و أربعة و خمسة في المأة علی حسب مراتب الفرق ولیس أکثر من ذلك»

گویا منوسمرتی کے مطابق ''سود کی جائز شرح ۲ سے ۵ فیصد ہوسکتی ہے، اس سے زیادہ شرح ناجائز اور حرام ہوگی''۔واضح ہواکہ ہندی زبان میں بھی اس کے لئے ایک ہی لفظ ہے، کم یا زیادہ شرح سود کے لئے یاصرفی، تجارتی و دیگر مقاصد کے لئے الگ الگ الفاظ نہیں ہیں۔

٭ عربی زبان میں رِبا:عربی سب سے وسیع زبان ہے۔ جس کا ذخیرہ الفاظ اس قدر وسیع اور دقیق ہے کہ اس میں مختلف عمر کے جانوروں کے لئے بھی مخصوص الفاظ موجود ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ تیر کے لئے پچاس اور تلوار کے لئے سو سے زیادہ الفاظ عربی میں ہیں۔ مگر سود کے لئے عربی میں صرف ایک لفظ ہے یعنی ''الرّبا''

عربی زبان کے ساتھ ساتھ شریعت میں بھی زیادہ ؍ کم شرح یا صرفی ،تجارتی مقصد یا خیرات ، شادی بیاہ کے لئے یا دیگر مقاصد کے لئے جو قرض پر سود لیا جائے، اس کے لئے الگ الگ الفاظ نہیں ہیں۔ کیونکہ سود حرام ہے چاہے قرض جس مقصد کے لئے بھی لیا جائے۔ اگر خیرات کے لئے سود پر قرض لیا جائے تو وہ بھی اسی طرح حرام ہے جس طرح صرفی یا تجارت کے لئے قرض لیا جائے۔ ایسی کوئی تفریق نہ عربی زبان میں ملتی ہے اور نہ قرآن و سنت میں ملتی ہے۔ یہ ساری باتیں عدالت کوپریشان کرنے کے لئے بنک پرستوں کی اُپچ ہیں۔

٭ انگریزی میں ربا : ربا کے لفظ کے لئے انگریزی کی مشہور طویل ترین ڈکشنری Lexicon میں ربا کا ترجمہ یوں کیا گیا ہے:

The unlawful is any loan for which one receives more than the loan, or by means of which one draws profit; [and the gain made by such means:]

ربا An excess, and an additions: (Mab:) an addition over and above the principal sum [that is lent of expended]:

ربا النسیئۃ is a term specially employed to signify profit obtained the case of a delay of payment:

''ہر وہ قرض ناجائز متصور ہوتا ہے جس پر کوئی اَصل زر سے زائد وصول کرلے یا جس کے ذریعے کوئی منافع کمائے اور وہ منافع بھی جو اسی طرح کے ذرائع سے حاصل کیا جائے ...

ربا:کوئی زیادتی یا اضافہ ((mabاصل رقم سے اوپر کچھ اضافہ (جو استعمال کے لئے قرض دی گئی ہو) ... ربا النسیئۃ: کی اصطلاح خاص طور پر ایسے منافع(اضافہ سود) کے لئے بولی جاتی ہے جو قرض وقت پر ادا نہ کرنے پر مقروض سے وصول کیا جاتا ہے ۔''

تورات ،انجیل اور قرآن کے مطابق 'رِبا' سے تجارتی سود Interestمراد ہے

٭انجیل میں ربا: ہم نے ذیل میں عربی بائبل کے الفاظ کے بالمقابل انگریزی بائبل کا ترجمہ دیا ہے۔ عربی بائبل کے لئے جدید ترین (۱۹۹۲ء کا) ایڈیشن ہمارے پیش نظر ہے جس کے متعلق دعویٰ ہے کہ اس کو لغاتِ اصلیہ سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ جبکہ انگریزی کا جدید امریکن ترجمہ استعمال کیا گیا ہے جس کے سرورق پر یہی دعویٰ ہے کہ یونانی زبان سے ترجمہ کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ انگریزی کا ایک قدیم ترجمہ بھی ساتھ دیا گیاہے:

عربی انجیل میں: «وقال له أیها العبد الشریر والکسلان عرفت أني أحصد حیث لم أزرع وأجمع من حیث لم أبذ... فکان ینبغي أن تضع فضتي عند الصیارفة فعند مجيء کنت آخذ الذي لي...» (انجیل متی:۲۵)

1. You wicked and slothful servant! You knew that reaped where have not sowed, and gather where I have not winnowed? 27 Then you ought to have invested my money with the bankers and at my coming I should have received what was my own with interest. 28 (The New Testament by Jusus Christ; Thomus Nelson & Sons, New York, 1900)

2. That I reap where sowed not, and rather where I did not scatter; 27 thou oughtest therefore to have put my money to the bankers, and at my coming I should have received back mine own with interest. 28 (New Testament by Jusus Christ; Thomus Nelson & Sons, New York 1946)

''تم مکار اور بے حس خادم !تم جانتے تھے کس نے کاٹا جو کہ بویا نہ تھا،اور جمع کرتے ہو جو میں نے نہیں چھانٹا(آلودگی سے)؟تب تو تمھیں میرا بھی پیسہ بنکاروں کے پاس جمع کروادینا چاہیے تھا اور مجھے اپنی آمد پر اپنا حصہ بمع سود وصول کرنا چاہئے تھا ۔''

یہی عبارت انجیل لوقا میں یوں بیان ہوئی ہے جس کا ایک عربی ترجمہ اور دو انگریزی ترجمے ذیل میں دئے جارہے ہیں:

«أیھا العبد الشریر عرفت أني إنسان صارم آخذ ما لم أضع وأحصد ما لم أزرع فلماذا لم تضع فضتي علی مائدة الصیارفة فکنت متی جئت أستوفیها مع ربا» (انجیل لوقا :۱۹)

1. You knew that I was a severe ... taking up what I did not lay down and reaping what I did not sow? 23 Why then did you not put my money into the bank, and at my coming I should have collected it with interest? (The New Testament by Jusus Christ; Thomus Nelson & Sons, New York 1900)

2. Thou knewest that I am an austere man, taking up that which I laid not down, and reaping that which I did not sow; 23 then wherefore gavest thou not my money into the bank, and I at my coming should have required it with interest? (New Testament by Jusus Christ; Thomus Nelson & Sons, New York 1946)

٭ تورات میں 'ربا' سے مراد کمرشل انٹرسٹ ہے

(1) لا تأخذ منه ربا ولا مرابحة بل أخش إلٰھك فیعیش أخوك معك... فضَّتَك لاتعطه بالربا و طعامَك لا تعط بالمرابحة... أنا الرب إلٰھکم الذي أخر جکم من أرض مصر لیعطیکم أرض کنعان فیکون لکم إلٰھا (لآویین: ۲۵)

(36) Take thou no interest of him of increase, but fear thy God; that thy brother may live with thee. (37) Thou shalt not give him the money upon interest not give him thy victuals for increase. (38) I am Je-ho'vah your God, who brought you forth out of the land of Egypt to give you the land of Cana'n and to be your God. (Leviticus 25,29-51)

''تم اپنے بھائی سے اضافے کے ساتھ سود وصول نہ کرو ،بلکہ ا پنے خدا سے ڈرو تاکہ تمہارا بھائی بھی تمہارے ساتھ زندگی بسر کر سکے ...تمہیں اس کو (یعنی مقروض کو)سود پر پیسہ نہیں دینا چاہیے نہ ہی خوراک ،اضافے کی شرط پر (ادھار)دینی چاہیے... میں جیہوواتمہارا خدا ہوں جس نے تمہیں سرزمین مصر سے نجات دی تاکہ تمہیں کنعان کی زمین بخشے اور تاکہ تمہارا خدا کہلائے ۔''

(2)« فغضبتُ جدا حین سمعت صراخهم وھذا الکلام فشاورت قلبی فيَّ وبکّتُّ العظماء والولاۃ وقلت لھم إنکم تأخذون الربا کل واحد من أخیه وأقمت علیهم جماعة عظیمة» (نحمیا : ۵)

(6) And I was very angry when I heard their cry and these words. (7) Then I consulted with myself, and contended with the nobles and the rulers, and said unto them, Ye exact usury, every one of his brother. And I held a great assembly against them. (Nehemiah 5.4-6.3)

''اور میں ان کی پکار اور یہ الفاظ سن کر بہت ناراض ہوا ...پھر میں نے اپنے آپ سے مشورہ کیا ،شرفاء اورحاکموں سے باز پرس کی اور ان سے کہا: 'تم میں سے ہر ایک اپنے بھائی سے سود وصول کرتا ہے ' اور ان کے خلاف ایک عظیم اجتماع کیا''

(3) «فضته لایعطیها بالربا ولا یاخذ الرشوة علی البريء الذي یصنع ھذا لا یتزعزع إلی الدھر» (مزامیر ۱۳۔ ۱۵)

(5) He that putteth not out his noney to interest, Nor taketh reward against the innocent. He that doeth these things shall never be moved. (Psalms 12.6-15.5)

''اور وہ جس نے اپنا پیسہ سود پر نہ لگایا اور نہ اس طریقے سے معصوموں کا استحصال کیا ۔لیکن جو ایسا کرتا ہے وہ کبھی مدد نہ کیا جائے گا ''

(7) Whose keepeth the law is a wise son; But he that is a companion of gluttons shameth his father.

''جو قانون کی پاسداری کرتا ہے، ایک دانا فرزند ہے مگر جو پیٹوئوں کی رقابت کرتا ہے ،وہ در حقیقت اپنے باپ کے لئے باعث ِرسوائی ہے ''

(8) He that sugmenteth his substance by interest and increase, (Proverbs 26.28-27.25)

''اور وہ ایسا شخص ہے جو سود اور ناجائز منافع کے ذریعے روزی کماتا ہے ''

نمایاں الفاظ کو دیکھیں کہ بائبل (الہامی کتب) میں انٹرسٹ، سود اور بڑھوتری تینوں ہم معنی ہیں

غرض الہامی کتب میں کہیں صرفی یا تجارتی سود کی تفریق نہیں بلکہ حدیث کی رو سے سود دینے اور لینے والا اور اس پر گواہی دینے والا برابر کے مجرم ہیں:

حدیث نبوی میں:حدیث ِمسلم ۱۵۹۹ میں ہے کہ «لعن رسول اللہﷺ اٰکل الربا و موکله و کاتبه و شاھدیه وقال کلهم سواء» یعنی ''لعنت فرمائی جناب اقدسﷺنے سود لینے والے، دینے والے، لکھنے والے اور گواہوں پر اورفرمایا کہ سب برابر ہیں ''۔اس فرمان نبوی میں صرفی یا تجارتی سود میں کہیں تفریق نہیں ملتی اورمجبوری میں بھی سود پر قرض لینے والے کو سود پر قرض دینے والے کے برابر ہی قرار دیا... یہی حکم بائبل ،تورات اور قرآن کا ہے۔

(4) (25) If thou lend money to any of my people with thee that is poor, thou shalt not be to him as a creditor; neither shall ye lay upon him interest.

''اگر تم میرے عوام میں سے کسی غریب کو قرض دو تو اس سے سود وصول کرنیوالے مت بنو ''

(5) «ھو ذا الرب یخلی الأرض و یفرغھا و یقلب وجھھا و یبدد سکانھا وکما یکون الشعب ھکذا الکاھن کما العبد ھکذا سیدہ کما الأمة ھکذا سیدتھا کما الشاریٔ ھکذا البائع کما المقرض ھکذا المقترض وکما الدائن ھکذا المدیون» (الأصحاح الرابع والعشرون)

(24) Behold, Je-ho'vah maketh the earth empty, and maketh it waste, and turth it upside down, and scattereth abroad the inhabitants thereof. 2 and it shall be, as with the peopli, so with the priest: as with the servant, so with his master; as with the maid, so with her mistress: as with the buyer, so with the seller: as with the creditor, so with the debtor: as with the taker of interest, so with the giver of interest to him. 3 (Isaiah 23.12-24.18)

''خبردار !جیہووا(خدا) نے زمین کو خالی بنایا ،اور اسے ناکارہ بنایا ،اور اسے الٹ دیا اور اس پر مخلوقات کو پھیلادیا...اور یہ ہوگا ،جیسا کہ لوگوں کے ساتھ سو ان کے مذہبی پیشوائوں (پادریوں)کے ساتھ ،جیسا کہ خادم کے ساتھ سواس کے مالک کے ساتھ ،جیسا کہ لونڈی کے ساتھ سو اس کی مالکن کے ساتھ ،جیسا کہ خریدار کے ساتھ سو بیچنے والے کے ساتھ ،جیسا کہ مہاجن کے ساتھ سو مقروض کے ساتھ ،جیسا کہ سود لینے والے کے ساتھ سو اس کے دینے والے کے ساتھ ...''

(6) (19) Thou shalt not lend upon interest to thy brother; interest of money, interest of victuals, interest of anything that is lent upon interest. (Deuteronomy 22.26-23.19)

''تم اپنے بھائی کو پیسے ،اناج یا کسی اور شے میں سے کچھ بھی سودی ادھار پر مت دو ...''

٭ بنک کے سود کی سزا تورات میں بھی موت ہے۔ رباو مرابحہ تورات میں بھی حرام ہیں:

(1) «ولم یعط بالربا ولم یأخذ مرابحة و کف یدہ عن الجور وأجری العدل الحق بین الإنسان والإنسان وسلك في فرائضي وحفظ أحکامي لیعمل بالحق فھو بارّ حَیوة یحیا یقول السید الرب»

(8) He that hath not given forth upon interest, neither hath taken any increase, that hath with drawn his hand from iniquity, hath executed true justice between man and man (Ezekiel 18.4-25)

''جس نے اپنے مال پر سود نہ لیا ،نہ کوئی اضافہ وصول کیا ہے اورنا انصافی سے اپنا پہلو بچاکر رکھا ،اس نے دو انسانوں کے درمیان انصاف قائم کیا۔ ''

(2) «وأعطی بالربا وأخذ المرابحة أفیحیا لا یحیا قد عمل کل ھذہ الرجاسات فموتا یموت دمه یکون علی نفسه...»

Has given forth upon interest and hath taken increase; shall he then live? he shall not live: he hath done all these abominations; he shall surely die; his blood shall be upon him

'' اور اس نے سود پردیااور اس پر اضافہ وصول کیا ...کیا وہ جینے کے لائق ہے؟ نہیں، وہ ہرگز نہیں جئے گابلکہ اس نے ان تمام رذائل کا ارتکاب کیا۔ وہ یقینا موت سے ہم کنار ہوگا، اوروہ اپنیخون کا خود ذمہ دار ہے۔''

(3) «ولا ظلم إنسانا ولا ارتهن رھنا ولا اغتصب اغتصابا بل بذل خبزہ للجوعان وکسا العریان ثوبا ورفع یدہ عن الفقیر ولم یأخذ ربا ولا مرابحة بل أجری»

(16) Neither hath wronged any, hath not taken aught to pledge, neither hath taken by robi bery, but hath given his bread to the hungry, and hath covered the naked with a garment; (17) that hath withdrawn his hand from the poor, that hath not received interest not increase, hath executed... (Ezekiel 18.4-25)

'' اور اس نے کسی انسان پر ظلم نہ کیا، نہ ہی کسی کی امانت میں خیانت کی، نہ کسی کا مال غصب کیا بلکہ اپنی روٹی بھوکے کو دی، ننگے کو کپڑا پہنایا اور محتاج سے اپنے (شر) کو دور رکھا... نہ اس نے کسی سے سود لیا اور نہ اس پر کوئی فائدہ حاصل کیا بلکہ اس نے مال سے انتفاع جائز کردیا۔''

سود کی مذمت ... علامہ اقبال اور محمد علی جناح کے الفاظ میں!

معاشیات او رالہامی کتب کے مذکورہ بالا ان اقتباسات سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ تمام مذاہب ، معروف فلاسفر، دانشور حضرات اور دیگر علوم اجتماعیہ کے ماہرین کمرشل انٹرسٹ یعنی بنک کے سود کی حرمت پرمتفق ہیں۔ممکن ہے کہ دولت کے غلام اور ظالم فطرت لوگوں سے اس کی تائید مل جائے۔علامہ اقبال ؒکی نظم ''لینن، خدا کے حضور'' میں اس پر خوب تبصرہ کیا گیا ہے:
یورپ میں بہت روشنی علم و ہنر ہے       حق یہ ہے کہ بے چشمہ حیواں ہے یہ ظلمات!
رعنائی تعمیر میں، رونق میں، صفا           میں گرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عمارات!
ظاہر میں تجارت ہے، حقیقت میں جوا ہے       سود ایک کا لاکھوں کے لئے مرگ مفاجات!
یہ علم، یہ حکمت، یہ تدبر، یہ حکومت!         پیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیم مساوات!

اس نظم میں علامہ اقبال ؒ لینن کی زبانی بنکوں کے سود او ردولت کی پرستش کی مذمت پیش کر رہے ہیں۔جیسا کہ ہم ابتدا میں برٹرینڈرسل کے الفاظ بھی اس معنی میں درج کر چکے ہیں۔علامہ اقبالؒ ایک او رنظم ''اسرارِ شریعت'' میں یوں فرماتے ہیں:
این بنوک این فکر چالاک یہود      نور حق از سینہ آدم ربود
تاتہ و بالا نہ گردد ایں نظام         دانش و تہذیب و دیں سوداے خام


''یہ بینک جو یہودیوں کی عیار سوچ کا نتیجہ ہیں، انسان کے سینے سے اللہ تعالیٰ کا نور نکال لیتے ہیں، جب تک یہ سودی نظام تہ و بالا نہ ہو، دانش، تہذیب اور دین کی باتیں بے سود ہیں''

جدید فلسفی نیٹشے کا نظریہ علامہ اقبال ؒایک نظم میں یوں بیان کرتے ہیں:

تاک میں بیٹھے ہیں مدت سے یہودی سود خوار جن کی رو باہی کے آگے ہیچ ہے دور پلنگ

خود بخود گرنے کو ہے پکے ہوئے پھل کی طرح دیکھئے پڑتا ہے آخر کس کی جھولی میں فرنگ

٭ محمد علی جناح ،مسلم لیگی زعماء اور عوام کے درمیان سوشل کنٹریکٹ میں سود کا خاتمہ اور صلاۃ و زکاۃ کے نظام کا قیام شامل ہے۔ اس کنٹریکٹ کی خلاف ورزی قائداعظم اور عوام سے غداری ہے۔محمد علی جناح سٹیٹ بنک کے سیشن میں تقریر کرتے ہوئے کہتے ہیں :

'' مغرب کے اقتصادی نظام نے انسانیت کے لئے ناقابل حل مشکلات پیدا کردی ہیں۔ دنیا کو تباہی سے معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔ دونوں عظیم جنگوں کی زیادہ تر وجہ یہی نظام ہے۔ مغربی اقتصادی نظریہ یا اس پر عمل ہمارے لئے سود مند نہیں ہوسکتا۔ ہمیں دنیا کے سامنے اسلام کا اقتصادی نظام پیش کرنا چاہئے۔'' ( یکم جولائی ۱۹۴۸ئ)

نواب بہادر یار جنگ نے قائداعظم کی صدارت میں تقریر کرتے ہوئے کہا

'' سودکے خاتمہ نے ربا کی بنیادیں منہدم کردیں'' ۔ پھر آپ نے خیرات اور زکوٰۃ کے فائدے گنوائے (مسلم لیگ کا پینتیسواں سیشن ، ۲۶ ؍دسمبر ۱۹۴۳ئ... کراچی فائونڈیشنز آف پاکستان مؤلفہ شریف الدین پیرزادہ: ج۲، ص۴۸۵۔۴۸۶)

برطانوی قانون میں ہر قسم کے سود کی مذمت

یہود، عیسائی،مسلم ہر تین اقوام نے ذاتی یا تجارتی سودمیں کوئی تفریق نہیں کی:

That as late as 1552 and Act of Parliament prohibited all taking of interest as a vice most odious and detestable.

''۱۵۵۲ ء کے برٹش پارلیمنٹ کے ایکٹ کے مطابق ہر قسم کا انٹرسٹ لینا سب سے زیادہ قابل نفرت برائی اور سخت نفرت انگیز جرم تھا۔''

(السٹریٹڈ انگلش سوشل ہسٹری ازجی ایم ٹریویلیان:۱، ۲۳۵مطبوعہ اے پیلکن بک۱۹۶۶ء )

٭٭٭٭٭