میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

انسان مدنی الطبع ہے جسے اپنی ضروریات کے لئے ہر آن دوسری قوتوں او رطبقات کا محتاج رہنا پڑتا ہے۔ انسانی سوسائٹی کے قدیم ترین اَدوار میں بھی ضروریات کی کفالت کے لئے کوئی نہ کوئی تبادلے کا معیار یا نمونہ موجود رہا ہے ۔ جنس کے بدلے جنس اور اشیاء کے بدلے اشیاء کے اس قدیم نظام کو معاشیات کی زبان میں بارٹر (Barter) کہتے ہیں۔ اَجناس اور اشیاء کے تبادلے سے اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کا دور بہت طویل رہا ہے۔ اس بارٹر سسٹم کی افادیت کے باوجود، اس کی عملی صورت حال میں بہت سی دشواریاں اور مشکلات موجود تھیں۔ لوگوں کو آسانی کے ساتھ اپنی مطلوبہ اشیاء نہیں ملتی تھیں نیز دو مختلف اَجناس کی قدر کے تعین اور شرحِ تبادلہ میں بھی مشکلات درپیش تھیں۔ فریقین میں سے کسی ایک کی ضرورت کی شدت بھی شرحِ تبادلہ میں تغیرات پیدا کرتی تھی۔ قدر کا تعین اور شرح تبادلہ کی قبولیت، اس پورے نظام میں ایک مشکل ترین مسئلہ رہا ہے۔ بعض اوقات معمولی درجے کی ضروریات کے لئے فریق ثانی کے پاس موجود کوئی بڑی اور ناقابل تقسیم چیز موجود ہوتی تھی جس سے باہمی تبادلے کا سلسلہ متاثر ہوتا تھا۔

تبادلہ کے اس نظام میں انہی چند در چند مشکلات نے افراد کو کسی دوسرے بہتر متبادل کی طرف متوجہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک نیا نظام وقوع پذیر ہوا۔ جسے ''نظامِ زر بضاعتی'' (Commodity Money System) کہا گیا۔ اس نظام کے تحت مختلف علاقوں میںاستعمال ہونے والی بعض مقبول اور سہل الحصول اشیاء کو 'ثمن' کا درجہ دیا گیا او ر یوں بیسیوں اشیاء ''اَثمان'' کے طور پر قبول کی جانے لگیں۔ معاشی تاریخ کا یہ دور دلچسپ اور مفید ہونے کے باوجود تمدن کے رو ز افزوں ضروریات کا مقابلہ نہ کرسکا اور یوں یہ زربضاعتی کا نظام بھی ادھورا، ناپختہ اور غیر تشفی بخش ثابت ہوا۔ اس نظام کے تحت ثمن کے طور پر استعمال ہونے والی اشیاء کو زیادہ دیر تک محفوظ رکھنا مشکل تھا اور آمدورفت اور نقل و حمل کی دشواریوں نے بھی اس کی افادیت کو کم کردیا تھا۔

انسانی ضروریات کے ان بڑھتے ہوئے دائروں نے انہیں کسی نئے ثمن کی تلاش پر مجبور کیا اور وہ ایک ایسی کرنسی کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے، جس پر زیادہ سے زیادہ اعتماد کیا جاسکے اور وہ اشیاء نقل و حمل کے اعتبار سے بھی آسان ہوں او ران کی قدر اور شرح تبادلہ پر بھی اعتماد کیا جاسکے۔ اس نوعیت کی ضرورتوں نے افراد کو دھاتوں کی طرف متوجہ کیا اور دھاتوں کے مختلف سائز کے ٹکڑوں کو زربضاعتی یا کرنسی کے طور پر استعمال کیا جانے لگا یہ نظام بھی کئی نوعیت کی مشکلات کا شکار رہا کیونکہ مختلف دھاتوں کے استعمال ہونے والے یہ ٹکڑے ابھی کسی ٹکسالی نظام سے متعارف نہ ہوئے تھے۔ ان کے وزن، حجم اور شکل میں نہ تو یکسانیت پائی جاتی تھی اور نہ ہی ان دھاتوں کی پہچان کا کوئی واضح نظام موجود تھا۔ دھاتوں سے بنی ہوئی کرنسی کے یہ ٹکڑے زیادہ تر سونے اور چاندی سے تعلق رکھتے تھے مگر ان میں اصلی او رنقلی دھات کی پہچان ایک مشکل مرحلہ تھا، نیز ان کی شرح تبادلہ میں کوئی یکسانیت نہ ہونے کی بنا پر تبادلے میں بہت سی مشکلات کا سامنا تھا۔

زرِبضاعتی (Currency) کی ان مشکلات اور دشواریوں پر قابو پانے کے لئے حکومتی اور سرکاری ذمہ داری کو محسوس کیا گیا اور یوں پہلی مرتبہ زرِ بضاعتی (Currency) کو سرکاری سرپرستی کا احساس نصیب ہوا ۔ دھاتوں سے بننے والی کرنسی کا وزن، سائز او ر شکل متعین ہونے لگی نیز اس کرنسی پر ریاستی مہر (Official Stamp) بھی لگائی جانے لگی جو اس بات کی ضمانت تھی کہ یہ کرنسی اس ریاست کی حدود میں یکساں شرح تبادلہ کے ساتھ نافذالعمل رہے۔ کرنسی کے اس دور میں سب سے نمایاں فرق یہ واقع ہواکہ قیمتی دھاتوں کے ٹکڑے وزن کی بجائے عدد میں شمار ہونے لگے اورنتیجتاً دھات کے یہ مہر شدہ ٹکڑے دوسری اشیاء اور خدمات کی خریدوفروخت میں معاوِن بن گئیـ۔

مسکوکات یا دھاتی کرنسی کا یہ دور جنوبی ایشیا کی ریاست لیڈیا کے بادشاہ کریوس کے ہاتھوں جاری ہوا۔ ساتویں صدی قبل مسیح کے یہ سکے برطانوی عجائب گھروں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ بعض ازاں یونانی ریاست میں بھی سکے رائج ہونے لگے او ران مخصوص سکوں کا نام ''دراخمہ'' رکھا گیا۔ عربوں نے اسے معر ّب کرکے اس کا نام ''دراہم'' رکھ لیاجن کا مفرد درہم ہے۔ یہ پیش نظررہے کہ عربوں کے ہاں ''درہم'' چاندی کا سکہ اور ''دینار'' سونے کا سکہ تھا۔ اس کے بعد مختلف ممالک اور سلطنتوں نے اپنے اپنے علاقے میں دھاتی کرنسی کو رواج دیا جسے ریاستی سرپرستی کی وجہ سے اعتماد اور قبول کا درجہ بھی حاصل ہوتا تھا۔ یہ بھی پیش نظر رہے کہ سکوں کے اس ابتدائی دور میں دھات کا وزن اس حقیقی قدر کو بھی ظاہر کرتا تھا، جسے ان کی حقیقی قیمت یا ثمن قرار دیا جاسکتا ہے۔ مگر انسانوں، معاشرو ں اور حکومتوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات ان سکوں کے ذریعے بھی پورا نہ ہوسکیں۔ بڑے تجارتی کاروبار کے لئے ان سکوں کی تعداد اور وزن ایک نئی دشواری کو سامنے لائے۔ تجارتی راستوں میں ان کی حفاظت بھی ایک مسئلہ تھا لہٰذا یہ دھاتی کرنسی ایک نئی ضرورت کو تلاش کر رہی تھی جو بالآخر کاغذی کرنسی کی شکل اختیار کرگئی۔

کرنسی کی تاریخ میں کاغذی کرنسی کا رواج جن خطوں میں سب سے پہلے دکھائی دیتا ہے ا ن میں چین قابل ذکر ہے۔ چین میں اس کاغذی کرنسی کا آغاز نویں صدی عیسوی میں سن تونگ (Sun Tong) نامی بادشاہ کے زمانے میں ہوا۔ کاغذی نوٹوں کا تذکرہ مارکوپولو کے سفر ناموں میں بھی ملتا ہے۔ بالآخر ان نوٹوں کی پرنٹنگ چینی اورمغل بادشاہوں کے ہاتھوں ہوئی۔ مشہور سیاح ابن بطوطہ نے بھی اپنے چین کے سفر کے دوران کاغذی نوٹوں کا مشاہدہ کیا ہے اور اس نے نو ٹوں کی شکل و صورت کے بارے میں بھی وضاحت کی ہے۔

کاغذی کرنسی کے ارتقائی مراحل کا تذکرہ معاشیات کی کتابوں میں موجود ہے۔ جن کے مطابق اس کرنسی کا پہلا مرحلہ تاجروں کے ہاں باقاعدہ نوٹوں کی بجائے ہنڈی، سند اور حوالے کی حیثیت سے ملتا ہے۔ مختلف ملکوں اور علاقوں کے تاجر کسی شخصی حوالے سے کاغذی کرنسی کے ذریعے اپنا کاروبار چلاتے تھے۔ مختلف علاقوں کے تاجروں کی تحریری ضمانتیں قابل قبول ہوتی تھیں او ریہ سلسلہ آج تک دنیا میں موجود ہے جس کی ترقی یافتہ شکل آج کی دنیا میں اوپن چیک اور ٹریولر چیک کی صورت میں معروف ہے۔

کاغذی کرنسی کا دوسرا مرحلہ صرافوں (Money Exchangers) کے ذریعے جاری ہونے والی وہ تحریری ضمانتیں ہیں جو کسی شخص کے نام پر جاری کی جاتی تھیں جن کی بنیاد پر وہ دوسرے تاجروں سے درہم یا دینار حاصل کرسکتا تھا۔ اس صورتِ حال کو سمجھنے کے لئے ہم موجودہ زمانے کے بینکوں سے جاری ہونے والے ڈرافٹ کو سامنے رکھ سکتے ہیں۔ یہ صراف دھاتی کرنسی کے عوض یہ ضمانت نامے جاری کرتے تھے جس کے باعث کچھ وقت کے لئے یہ تجارتی لین دین جاری رہا یوں یہ تحریری ضمانت نامے ایک مستقل کاغذی کرنسی کے نظام کی بنیاد ثابت ہوئے۔ معاشرے کے اندر صرافوں کی ان دستاویزات یا ضمانتی تحریروں کی مقبولیت نے ریاستوں اور حکمرانوں کو بھی اس کی طرف متوجہ کیا کہ وہ ایک یکساں سائز، شکل اور معیار کے کاغذی نوٹ جاری کریں جن پر یہ عبارت درج ہو کہ وہ حامل ہذا کو عندالطلب مطلوبہ دھاتی یا معدنی کرنسی کے سکے ادا کرنے کے پابند ہوں گے۔ ان کاغذوں پر لکھی ہوئی یہ عبارت ریاستی ساکھ کو واضح کرتی تھی مگر ان کرنسی نوٹوں پر لکھی ہوئی یہ عبارت آگے چل کر محض ایک ضمانت کا درجہ اختیار کرگئی او رعملاً اس کاغذی کرنسی کے بدل میں کوئی ریاست بھی کسی معدنی ادائیگی کی پابند نہ رہی۔ کاغذی نوٹوں پر لکھی ہوئی یہ عبارت اب محض ایک اعتباری عبارت ہے جس سے حکومتوں کی مالی ساکھ کا بھرم قائم ہے۔

بارٹر سسٹم سے کاغذی کرنسی تک کا یہ سفربہت سی دشواریوں سے دوچار رہاجس کا خلاصہ ہم یوں بیان کرسکتے ہیں کہ زر کی ادائیگیوں کا یہ باہمی نظام بارٹر کی خرابیوں اور دشواریوں کے باعث زرِ بضاعتی کے نظام میں تبدیل ہوا۔ جس میں مختلف قسم کے اَناج، گندم، چمڑہ، لوہا اور نمک وغیرہ کے ذریعے لین دین کا نظام ہوتا ہے۔ لیکن زرِبضاعتی میںجو محدودیت اور دشواریاں تھیں، اس نے وقت کے تیز دھارے کے مقابلے میں اسے بھی ناکام بنا دیا اور نتیجتاً نظامِ زرِمعدنی (Metalic Money System) وجود میں آیا جس کی شکل یہ قرار پائی کہ سونے اور چاندی کے دینار و درہم وجود میں آئے جو ابتداء ً وزن کی کامل صلاحیت رکھتے تھے اور وزن اور قیمت میں خالص سونے یا چاندی کے برابر ہوتے تھے۔ ان سکوں کی ظاہری اور حقیقی قیمت دونوں یکساں ہوتی تھیں۔ حکومتوں کا کردار اس نظامِ زرِ معدنی میںصرف اس قدر تھا کہ لوگ اپنا سونا اور چاندی یا ان کے ظروف ٹکسال میں لاتے تھے اور حکومت ان کو سکوں کی شکل میں حسب ِضرورت ڈھال دیتی تھی۔

سونے اور چاندی کے سکوں کا یہ دو دھاتی نظام بھی خاصا پیچیدہ ثابت ہوا۔ ابتدا میں ان کی قیمتیں متعین تھیں مگر مختلف شہروں میں ان کے تبادلے کی قیمتوں کے فرق نے ان کو ایک ایسی تجارت میںبدل دیا جس سے بالآخر ممالک اور مختلف براعظم بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ یورپ اور امریکہ کے درمیان سونے یا چاندی دونوں میں سے کسی ایک دھات کی کمی و بیشی اِن سکوں کی تجارت کے توازن کو بگاڑ دیتی تھی۔ نظامِ زرِ معدنی کے ان خالص سکوں میں ایک دوسری دشواری یا نقص یہ تھا کہ ان کو چرانا یا ان پر ڈاکہ ڈالنا بہت آسان تھا۔ چوری اور ڈاکے کے اس ڈر کے باعث اَفراد اور تاجر انہیں سناروں کے پاس رکھنے لگے جو اُن کی وصولی کے عوض ایک ایسی رسید جاری کرتے تھے جو قانونی وثیقے کا درجہ رکھتی تھی۔ ان وثیقہ جات کی مقبولیت اس قدر بڑھ گئی کہ یہ مختلف اشیا اور اَجناس میں ادائیگیوں کے آلات کے بطور استعمال ہونے لگے۔ بس یہی کاغذی نوٹوں کی ابتدا تھی جس کا تذکرہ ہم اوپر کرچکے ہیں۔

سترہویں صدی میں انگلستان صنعتی انقلاب کی زَد میں تھا۔ یہاں سے ان رسیدوں کا رواج پورے یورپ میں اور پھر بالآخر ساری دنیا میں مقبول ہوتا چلا گیا۔ یہی رسیدیں آہستہ آہستہ حکومتی انتظام میں بینک نوٹ کا درجہ اختیار کرگئیں۔ یہ پیش نظر رہے کہ ابتداء میں ان بینک نوٹوں کے بدلے میں سو فیصد سونا یا چاندی ضمانت کے طور پر محفوظ رکھے جاتے تھے۔ دنیا میں پہلا ملک جس نے ان رسیدوں کی بجائے بنک نوٹوں کا باقاعدہ قانونی اجرا کیا وہ سویڈن تھا جس کے 'اسٹاک ہوم بنک' نے انہیں باقاعدہ کاغذی نوٹوں کی شکل دی۔ ان نوٹوں کے عوض سونے کی سلاخیں دینے کی ضمانت بھی موجود تھی، اس لئے اسے سونے کی سلاخوں کا معیار (Gold Bullion Standard) کہا جانے لگا۔

اُنیسویں صدی کے رُبع اول کے بعد بینک نوٹوں کا رواج پوری دنیا میں عام ہوگیا تو اس اِقدام کو ممالک میں زرِ قانونی (Legal Tender) کا درجہ حاصل ہوگیا۔ اب نوٹ تجارتی بینکوں کی بجائے حکومتوں کا محکمہ مالیات جاری کرتا تھا اور یوں کاغذی کرنسی کا کاروبار براہِ راست سرکاری سرپرستی میں آکر مزید باقاعدہ مقبول اور کارآمد ہوگیا۔

اَقوام اور ممالک کی تجارتی اَغراض اور تجارتی لوٹ کھسوٹ نے ان کو باہمی جدل و پیکار میں مبتلا کردیا۔ اس جنگ آرائی نے حکومتوں کو اس لائق نہ رہنے دیا کہ وہ نوٹوں کی پرنٹنگ کے عوض خالص سونے کے ذخائر محفوظ کرتے بلکہ آہستہ آہستہ کسی معقول زرِ ضمانت کے بغیر ہی نوٹ جاری ہونا شروع ہوگئے اور ضمانتوں کا تصور کم ہوتے ہوتے بالآخر بالکل ختم ہو کر رہ گیا۔ ابتدا میں تو مرکزی بنک نے بچت کنندگان کی اس نفسیات کے پیش نظر زرِ ضمانت کے بغیر نوٹ چھاپنا شروع کئے کہ سب لوگ ایک وقت میں اپنے نوٹوں کے عوض سونے یا چاندی کا مطالبہ نہیں کریں گے۔ زرِ ضمانت کے خام ذخائر کے بغیر نوٹوں کی یہ اشاعت ''زرِ اعتباری'' (Fiduciary Money) کہلانے لگی۔ حکومتوں کی یہ مجبوری صرف نوٹوں کی حد تک محدود نہ رہی بلکہ خالص معدنی سکوں میں بھی وزن کا کامل اعتبار ختم کردیا گیا۔ ایسے سکے بنائے جانے لگے جن کی ظاہریقیمت(Face Value)اور حقیقی قیمت (Intrinsic Value) میں نمایاں فرق واقع ہوا اور اب سکے بھی علامتی زر (Token Money) کا درجہ اختیار کر گئے۔

کاغذی کرنسی آہستہ آہستہ اتنی مقدار میں شائع ہونے لگی کہ ا س کے مقابلے میں سونے کی ضمانت ممکن نہ رہی۔ حکومتوں نے بھی آہستہ آہستہ سونے کی ادائیگی کے مطالبے کو موقوف کرنا شروع کردیا۔ سب سے پہلے جنگ ِعظیم اول (۱۹۱۴ئ) کے آغاز میں انگلستان نے کاغذی کرنسی کے بدلے سونے کی ادائیگی سے اِنکار کردیا۔ لیکن عوامی دبائو پر ۱۹۲۵ء میں ۱۷۰۰ ؍پونڈ سے زیادہ رقوم کے سلسلے میں اس ادائیگی کی اجازت دے دی اور وہ بھی اس لئے کہ بنکوں میں اس رقم سے زائد کی اَمانتیں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ لیکن ۱۹۳۱ء میں سونے کی ادائیگی مطلقاً بند کردی گئی۔ اس موقع پر مختلف ممالک کے درمیان سونے کی ادائیگی کا نظام جاری رہا۔ سونے کی مبادلت کا یہ نظام بالآخر امریکہ نے ۱۵؍ اگست ۱۹۷۱ء کو ختم کردیا۔ لیکن بین ُالاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے چند ممالک کے لئے سونے کی ادائیگی کے حق کو تسلیم کیا گیا۔ نتیجتاً پوری دنیا میں زرِعلامتی خواہ وہ کاغذی کرنسی کی صورت میں ہو یا ظاہری قدر کے حامل سکے ہوں، کاروباری ضرورتوں اور ادائیگیوں کے مستقل پیمانے کی شکل اختیار کرگئے۔ ہماری حکومت پاکستان بھی ۱۹۹۴ء کے بعد مذکورہ ضمانتوں سے مبرا ہوگئی۔

جدید ماہرین معیشت بظاہر کاغذی کرنسی کی پشت پر Commidity کی ضمانت نہ ہونے کے نقصانات کو محسوس کرتے ہیں مگر حکومتوں کے مذکورہ فیصلوں کی موجودگی میں وہ اِقتدار کی ضمانتوں کے قائل ہوچکے ہیں۔ مختلف عالمی جنگوں اور اقتصادی بحرانوں کے دوران اشیا (Commidity) کی ضمانتیں نہ ہونے کے باعث کاغذی کرنسی نے جو معاشی بحران پیدا کئے ہیں یا اس سے افراطِ زر کی جو بدترین شکلیں پیدا ہوئی ہیں، ان کے لئے کسی بڑی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔مگر یہ واضح رہے کہ افراطِ زر کا فتنہ اور ہلاکت خیزی کاغذی کرنسی کے مہلکات میں سرفہرست ہے۔ بعض معیشت دانوں نے افراطِ زر کو اشاریہ بندی کے ذریعے درست کرنے کی تجویز دی ہے۔ اگرچہ اشاریہ بندی طائرانہ نظر سے ایک موزوں حل دکھائی دیتا ہے مگر حقیقتاً اس کے مفاسد بھی بہت زیادہ ہیں۔

کرنسی کی بے بنیاد حیثیت کے مہلک اثرات کی ایک جھلک

دورِ حاضر میں کاغذی کرنسی صرف ایک زرِ مبادلہ ہے جو زرِ اعتبارکے طور پر کارآمد دکھائی دیتی ہے۔ خالص معدنی سکے بھی دنیا بھرسے غائب ہوچکے ہیں اور اب کاروباری ضروریات کے لئے یا قوموں کے باہمی لین دین میں مختلف دھاتوں کے یا تو علامتی معدنی سکے ہیں یا پھر وہ کرنسی نوٹ ہیں جن کی اَساس حکومت کی ساکھ کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے۔ کاغذی کرنسی کے پس پشت کوئی معدنی ضمانت نہ ہونے کے باعث تاریخ معیشت میں مسلسل کئی بحران پیدا ہوچکے ہیں۔ انگلستان، فرانس، کولمبیا، اٹلی، جرمنی، پرتگال او ر ارجنٹائن کے بحران اسی شاخسانے کا نتیجہ ہیں۔ آج عالمی سطح پر کوئی بین ُالاقوامی قانون موجود نہیں ہے جو کاغذی کرنسی کی پشت پر کسی معدنی ضمانت کی ضرورت اور تحفظ کی ضمانت دیتا ہو۔ اس میں شک نہیں کہ بعض ممالک نے ایسے تمسکات اور معدنی ضمانتیں اپنے طور پر جمع کر رکھی ہیں۔ بعض حالات میں کسی مملکت کے سرکاری ذرائع کو بھی ضمانت تصور کیا گیا ہے ۔غرض کہ کاغذی کرنسی محض ایک زر اعتبار ہے جو اپنے اندر تبادلے کی صلاحیت کے باعث قوموں کے درمیان استعمال ہو رہا ہے اور یہی استعمال اور پبلک کی تائید اسے مقبولِ عام بنائے ہوئے ہے۔

کاغذی کرنسی کے مقبولِ عام ہونے ، سرکاری ساکھ کی موجودگی اور عوامی تائید کے باوجود یہ خود ثمن یا قیمت نہیں ہے۔ کاغذی کرنسی کے اس بین ُالاقوامی کردار کے باوجود اب یہ محض ایک مقبول زرِ مبادلہ کی حیثیت رکھتی ہے جسے حکومتوں اور ریاستوں کی سرپرستی نے مقبول بنا رکھا ہے۔ کاغذی کرنسی کی یہ عالمی صو رتحال مستقبل میں پیش آنے والے ممکنہ حالات کے باعث کئی قسم کے خطرات کو جنم دے سکتی ہے ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ کرنسی کی پشت پر مؤثر ضمانتیں نہ ہونے کے باعث اَقوام اور ممالک کی اِقتصادی صورتِ حال بہت دگر گو ں ہوچکی ہے۔ مختلف ممالک کے درمیان کرنسیوں کی شرح تبادلہ بھی ایک مستقل مسئلہ ہے جسے اِقتصادی اور سیاسی صورت حال نے پریشان بنا رکھا ہے۔ غیر ترقی یافتہ ممالک کی کرنسی ترقی یافتہ ممالک کی کرنسی کے مقابلے میں ادائیگیوں کا ایک کمزور رجحان رکھتی ہے۔

دورِ حاضر اور مستقبل کی اَقوام کی باہمی آویزش او رجنگیں جن اَسباب کی بنا پر جاری ہوں گی، ا ن میں اہم ترین سبب اور عامل مختلف کاغذی کرنسیوں کے درمیان شرحِ تبادلۂ کا فرق بھی ہوگا۔ اس بات کی پیش بینی کوئی مشکل کام نہیں ہے کہ یہ کاغذی کرنسی مستقبل میں اقوامِ عالم کے لئے ایک مستقل آزمائش اور فتنے کا باعث بن جائے گی جس سے بچنے کے لئے اقوامِ عالم کو عدل پر مبنی کسی نظامِ زر کے اصول و ضوابط کو مرتب کرنا ہوگا ۔ عالمی سطح پر کرنسیوں کے باہمی تبادلے سے چھوٹی قوموں کے احساس محرومی میں اضافہ ہو رہا ہے جو بالآخر نفرت کی اس سرد جنگ کو تعصب کی ایک خوفناک جنگ میں تبدیل کرسکتا ہے۔

کرنسی نوٹ کی شرعی حیثیت

جہاں تک ان کرنسی نوٹوں کی شرعی حیثیت کا تعلق ہے اس پر سب سے پہلے برصغیر کے علماء نے قلم اُٹھایا ہے۔ بعض فقہاء کے نزدیک کرنسی نوٹ دَین یا قرض کی دستاویز ہے جس پر عندالطلب ادائیگی کی ضمانت موجود ہے۔ ان کے جاری کنندگان کسی نہ کسی درجہ کی معدنی یا حکومتی ضمانت بھی فراہم کرتے ہیں ۔ان کرنسی نوٹوں پر اعتباری قیمت درج ہے جنہیں ان کی ذاتی قیمت تصور نہیں کیا جاسکتا، اگر حکومتوں کا اعتبار اور سرپرستی ان سے ختم ہوجائے تو یہ محض کاغذی پرزے ہیں جن کی اپنی کوئی قیمت نہیں ہے جس کی بنا پر ہم انہیںحقیقی ثمن قرار نہیں دے سکتے۔

کاغذی نوٹوں کی حیثیت کے سلسلے میں علماء اور فقہاء کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ یہ نوٹ ذریعہ اعتبار ہیں او ران پر ایک ایسی عبارت درج ہے جس کے باعث اس پر درج رقم کے مساوی عندالطلب زرِ حقیقی وصول کیا جاسکتا ہے۔ اگر اس زر اعتباری پر درج عبارتوں کی نسبت اس کی قدروقیمت کو قبول کر لیا جائے تو کرنسی نوٹوں کی اس ظاہری حیثیت سے نہ توبیع سلم ممکن ہے اور نہ ہی بیع صرف۔ کیونکہ بیع و شراء میں دونوں جانب ثمن کی موجودگی ضروری ہے جبکہ نوٹ کی یہ صورت حقیقی ثمن نہیں ہے، یہ محض کسی جنس (Commodity) کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس طرح سے کاغذی کرنسی حقیقی (Commodity) نہ ہونے کی وجہ سے اپنے اندر ایک نقص (Default)رکھتی ہے۔شرعی اعتبار سے ہم یہ بات و ثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ کاغذی کرنسی محض زرِمبادلہ ہے زرِ حقیقی نہیں۔ بیع و شراء کی اس نوعیت نے کاغذی کرنسی کو اجتہاد کے میدان میں لا کھڑا کیا ہے۔ اسی طرح سے کاغذی کرنسی کو اگر قرض کی رسیدقرار دے دیا جائے تو اس سے زکوٰۃ کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ زکوٰۃ کے لئے نقدی یا ثمن کی تملیک ضروری ہے اور کاغذی کرنسی کو اگر رسیدسمجھا جائے تویہ تملیک کی کامل شکل نہیں ہے۔ لوگوں کی جیبوں میں صرف زرِمبادلہ کی رسیدیں ہوں گی جن پر زکوٰۃ کی ادائیگی محل نظر ہے۔ کاغذی کرنسی چونکہ حقیقی عروض یا اَثمان نہیںہے جس کے باعث تجارتی اَموال کی لین دین میں بھی بہت سے شرعی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ شریعت نے زکوٰۃ کا نصاب ثمن حقیقی کی شکل میں رکھا ہے جو دینار و درہم، مال مویشی اور اَجناس کے حساب سے ہوتا ہے۔ مگر محض کرنسی نوٹ نصاب زکوٰۃ کی اس ضرورت کو پورا نہیںکرتے۔

کرنسی نوٹوں پر جن فقہاء نے زکوٰۃ کو و اجب قرار دیا ہے، ان کا استدلال یہ ہے کہ کاغذی نوٹوں کے ذریعے سے کاروباری لین دین اور اَجناس کی خرید و فروخت ممکن ہے۔ اس لئے کاغذی نوٹ بھی محل نصاب کے دائرے میں داخل ہوجاتے ہیں مگر حنابلہ کا یہ اِستدلال قوی دکھائی دیتا ہے کہ کرنسی نوٹوں کو اگر دینار و درہم یا سونے چاندی میں تبدیل نہ کیا جائے تو اس پر زکوٰۃ لاگو نہیں ہوسکے گی ۔وہ ائمہ اور فقہاء جو کاغذی کرنسی پر زکوٰۃ کے قائل ہیں، انہیں بھی بہر طور اس شرط کی پابندی کرنا ہوگی کہ وہ غیر حقیقی زرِاعتبار کو پہلے حقیقی زر ِاعتبار اور ثمن میں تبدیل کریں اور اس طرح سے کاغذی کرنسی کو پہلے سونے چاندی کی ماہیت میں تبدیل کیا جائے او رپھر اس کی بنیاد پر زکوٰۃ کی ادائیگی کا فیصلہ کیا جائے۔

بعض فقہاء نے کرنسی نوٹوں کو عروض یا سامانِ تجارت شمار کیا ہے۔ مگرنوٹوں پر لکھے ہوئے مختلف اَعداد اور ان کے اصطلاحی نام سب مجازی ہیں اور یہ اصطلاحات حقیقی نہیں ہیں۔ مختلف کاغذی کرنسیوں کا آپس میں تبادلہ اندورنِ ملک اور بیرونِ ملک بھی ہوتا ہے او ران کی خریدوفروخت بھی ہوتی ہے مگر اس تبادلے اور تجارت کے باوجود کاغذی کرنسی حقیقی معدنی کرنسی کے درجے میں داخل نہیں ہے۔ اگر یہ نوٹ حقیقی مالِ تجارت نہ ہوں تو بعض صورتوں میں ممکن ہے کہ ان پر زکوٰۃ واجب نہ ہو۔ اس ضمن میں شیخ احمد خطیب کے رسالے ''إقناع النفوس بإلحاق أوراق الأنوات بعملة الفلوس'' کا یہ اقتباس لائق توجہ ہے:

''نوٹ ایک کاغذی کرنسی ہے جو اپنے اصل ( اَثمان) کے ساتھ اس طرح رائج ہے جس طرح سونا اور چاندی اپنی قیمت کے ساتھ رائج ہیں ۔ شریعتمیں یہ بات طے شدہ ہے کہ زکوٰۃ صرف انہی اَموال پر رائج ہوتی ہے جو اَموال، اَموال زکوٰۃ ہوں، جبکہ کاغذ اَموالِ زکوٰۃ نہیں ہیں چنانچہ ثابت ہوا کہ بظاہر اس پر زکوٰۃ اس کے اصل کے اعتبار سے نہیں چنانچہ اس معاملہ میں کوئی وجہ اس کے اصل (عین) سے زکوٰۃ نکالنے کی نہیں اور نہ اس کی قیمت سے زکوٰۃ نکالنے کی ... ماسوائے تجارت کے، کیونکہ ہمارے نزدیک قیمت پر زکوٰۃ لاگو نہیں ہوتی، نہ عروضِ (اَموال) تجارت پر... پس ان تمام دلائل سے ثابت ہوا کہ نوٹ تمام احکام ظاہری و باطنی کے لحاظ سے اور نفس امر میں بھی تانبے کے سکوں کی طرح ہیں اور یہ اموالِ زکوٰۃ (قابل زکوٰۃ) میں سے نہیں کہ جو برابر برابر یا کمی بیشی کے ساتھ بیچے جائیں، قرض دیئے جائیں، کیونکہ ان میں علت ِربا نہیں پائی جاتی۔ یہ ہبہ کئے جائیں یا قرض کے طور پر دیئے جائیں یا ان میں وصیت کی جائے۔ ان میں اسی طرح تصرف کیا جائے جس طرح سونے چاندی میں کیا جاتا ہے تو ان کی حیثیت سکوں کی سی رہتی ہے۔ جس طرح سے کسی بھی سکہ ٔ رائج الوقت کی حیثیت ہوتی ہے۔''

کاغذی کرنسی کی اس بحث سے شرعی طورپریہ بات واضح ہے کہ اب ان کی حیثیت سند، حوالہ یا دستاویز کی بجائے محض ایک زرِ اعتبار یا زرِمبادلہ کی ہے۔ اس حیثیت میں یہ امر واضح رہنا چاہئے کہ کاغذی کرنسی کو کھلے بندوں نہ تو عروض کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی اعلانیہ اَثمان قرار دیا جاسکتا ہے۔ بعض فقہاء نے ان دونوں کے درمیان ایک راستہ نکالنے کی کوشش کی ہے۔ ایسے فقہاء کا موقف سمجھنے کے لئے عبدالرحمن سعدیؒ کی اس رائے کا مطالعہ لائق توجہ ہے:

''ایک چوتھا شخص جو دونوں دلائل کا تجزیہ کرے گا (یعنی اَثمان اور عروض قرار دینے کے دلائل کا) تو وہ یہ کہے گا کہ اگر کوئی ان دونوں اَقوال کا درمیانی راستہ اختیار کرے اور دونوں جانب کے دلائل کوجمع کرے اور کرنسی نوٹوں کوکرنسی (سکے) تصور کرے اور بیع نسیئہ کرنا چاہے تو وہ نہیں کرسکتا۔ بیع نسیئہ یہ ہے کہ اگر وہ دس روپوں کو بارہ روپوں کے عوض فروخت کرنا چاہئے تو یہ ممکن نہیں کیونکہ یہ سود کی ایک قسم ہے جسے ربٰوالنسیئۃ کہا جاتا ہے او رجس کے حرام ہونے کے سب مسلمان قائل ہیں۔ ربا الفضل سے منع کرنے والے بھی اس پر متفق ہیں کہ یہ سخت حرام ہے او رربا النسیئۃ میں ربا الفضل سے زیادہ گناہ ہے اور ان کے نزدیک نوٹوں کی ایک دوسرے کے بدلے خریدوفروخت جائز ہے ۔ اسی طرح ان کی نقد و نقد؍ دست و دست خریدو فروخت بھی اگرچہ مماثل ہو یا نہ ہو، جائز قرار دی ہے۔ اور ان کا حکم فلوس (سکوں) کا حکم قرار دیاہے کیونکہ ربا الفضل سے تحریم و سائل لازم آتی ہے اور کرنسی نوٹوں کا اصلی کرنسی نہ ہونا بلکہ ضرورتا ً کرنسی قرار پانا ثابت ہے۔ لہٰذا اسی بنیاد پر اس قول کو ترجیح حاصل ہے اور اس صورتِ حال پر دلائل شرعیہ کے الفاظ کی مخالفت کئے بغیر ان کے معانی کو لیا جاسکتا ہے۔''

کاغذی کرنسی کو فلوس (سکے) قرار دینے والوں میں بھی اِختلاف ہے۔ کچھ انہیں عروض قرار دیتے ہیں اور چند ایک اِسے ثمن بتاتے ہیں۔ اس میں کلام نہیں کہ کاغذی کرنسی کو دینار و درہم سے یک گونہ مشابہت حاصل ہے اور ان میں سونے چاندی کی صفات پائی جاتی ہیں۔ اس وجہ سے علما کی کثرت نے سکوں کو عرو ض یا سامان تسلیم کیا ہے۔ اس لئے اِن کے احکامات وہی ہوں گے جو سونے چاندی کے دینار و درہم کے سلسلے میں وارد ہوتے ہیں۔

اَحناف کا نقطہ نظر یہ ہے کہ کرنسی نوٹ ثمن عرفی یا اَصل کا بدل ہیں۔ فقہی اعتبار سے جو اَحکام اَصل پر لاگو ہوتے ہیں، وہ اس کے بدل پر بھی لاگو ہوں گے۔ چونکہ کرنسی نوٹ سونے چاندی کا بدل ہیں، لہٰذااس مشابہت کی بنا پر کرنسی نوٹوں پر ویسے ہی اَحکامات کا اِجرا ہوگا۔ جب ان نوٹوں کی مالیت دو سو درہم چاندی یا بیس مثقال سونے کے برابر ہوجائے تو ان پر زکوٰۃ لاگو ہوگی۔ اگر کہیں دو قسم کے نوٹ جاری ہوں جو سونے یا چاندی کے عوض یا بدلے میں جاری ہوتے ہیں تو تبادلے میں وہ دونوں کے درمیان ''تفاعل'' یا کمی بیشی کی ممانعت ہے...اس تمام بحث سے جو نتائج سامنے آتے ہیں، ان کا خلاصہ یہ ہے:

''کاغذی کرنسی پر انہی احکامات کا اجرا ہوگا جو سونے یا چاندی پر ان کی ثمنیّت کی بنا پر ہوتا ہے مگر ان کی ایک دوسرے کے تبادلے میں خریدو فروخت جائز نہیں ہوگی۔ یہ ہمارا عملی تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ عصر حاضر میں کاغذی کرنسی نے تبادلے کے اعتبار سے زرِخلقی یا سونے چاندی کی جگہ حاصل کر لی ہے اور ملکی اور بین ُالاقوامی لین دین نوٹوں کے ذریعے جاری وساری ہے۔ یوں کرنسی نوٹ اَحکام میں ثمن حقیقی کے مشابہ قرار پاتے ہیں، لہٰذا ایک ہی ملک کی کرنسی کا تبادلہ اسی ملک کی کرنسی کے ساتھ کمی بیشی کے لئے، نقد یا اُدھار جائز نہیں ہے۔

عہد ِحاضر میں ربا کا بڑاکاروبار کاغذی کرنسی کے ذریعے رواج پا رہا ہے، لہٰذا یہ کاغذی کرنسی بھی اَموالِ ربویہ کی صف میں شمار کی جائے گی۔بالآخر وہ اموالِ ربویہ جن کی علت ِرباایک ہو، ان کا باہمی تبادلہ اُدھار صورت میں قطعاً ناجائز ہے۔ کرنسی نوٹ ہر لحاظ سے ثمن اِعتباری ہیں۔ لہٰذا ثمن اعتباری کے حامل کرنسی پر وہ اَحکامات لاگو نہیں ہوسکتے جو ثمن خلقی یا حقیقی پر ہوتے ہیں۔ کاغذی کرنسی اب ملکی او ربین ُالاقوامی سطح پر واحد ذریعہ تبادلہ کی حیثیت اختیار کرچکی ہے اور اسی کے باعث ربا اور ا س کی مختلف شکلوں کا مذموم کاروبار جاری ہے۔ یوں اگر کاغذی کرنسی میں کسی درجے میں علت ِربا موجود ہوگی تو اس پر جو اَحکامات بھی لاگو ہوں وہ شرعی اعتبار سے اس کے خلاف ہوں گے۔ عالم اسلام کے فقہاء اور علماء کو عصر حاضر کی اس پیچیدگی میں ایک ایسا شرعی نقطہ ٔ نظر اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو عالم اسلام کے لئے اس کے عقائد و نظریات میں امتیاز پیدا کرسکے اور اس سے کاروبارِ زندگی میں حلت و حرمت کی حدود واضح ہوسکیں۔شرعی اعتبار سے یہ ضروری ہے کہ کرنسی کا تعلق یا اعتبار کسی ایسی جنس (Commodity) کے ساتھ قائم کیا جائے جو اس علاقے میں زرِ حقیقی کی مقبول شکل رکھتی ہو۔

یہ موضوع فنی اعتبارسے بہت نازک ہے ۔کتاب وسنت کا گہرا مطالعہ ہی اس موضوع پر اجتہاد کی وسعت کا دروازہ کھولے گا۔ تاکہ عصری معیشت میں جو مادّی کثافتیں او رالحادی جہات پیدا ہورہی ہیں ان کا ازالہ کیا جاسکے ۔ اس کیلئے پوری معیشت کی اسلامائزیشن (Islamization of Economy) ناگزیر ہے۔دورِ حاضر کا یہ معاشی چیلنج امت ِمسلمہ کے مفکرین اور اہل علم وتحقیق کو مستقل اور مسلسل دعوتِ غوروفکر دے رہا ہے ... !

٭٭٭٭٭