میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

سودی نظام کے خلاف موجودہ قانون، حکومت ، جدید معاشیات اور اسلامی شریعت کے محاذ پر ایک طویل عدالتی جنگ کئی ماہ مسلسل جاری رہنے کے بعد جولائی ۱۹۹۹ء؁ میں اختتام پذیر ہوئی۔ عرفِ عام میں اس عدالتی جنگ کو ''سود کا مقدمہ'' کا نام دیا گیا۔ لیکن جس انداز میں سپریم کورٹ کے شریعت اپلیٹ بنچ کے روبرو یہ مقدمہ لڑا گیا اور خاص کر سود مخالف فریقین نے کسی مالی طمع کے بغیر جانفشانی اور دینی جذبے کے تحت کراچی سے اسلام آباد تک، جس پرجوش انداز میں اسلامی موقف کی پیروی کی، اس کی روشنی میں، سود کے خلاف اس عدالتی جنگ کو اگر عدالتی جہاد کہا جائے تو غیر مناسب نہ ہوگا۔

پاکستان میں رائج سودی نظام کے خلاف اس تاریخی مقدمہ کی سماعت عدالت ِعظمیٰ کے فل بنچ نے کی۔ یہ بنچ مسٹر جسٹس خلیل الرحمن خان (چیئرمین) مسٹر جسٹس وجیہ الدین احمد، مسٹر جسٹس منیر اے شیخ، مسٹر جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی اور مسٹر جسٹس ڈاکٹر محمود احمد غازی پر مشتمل تھا۔

عدالت ِ عظمیٰ میں سماعت پذیر ہونے والے سود کے مقدمہ کو مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر زبردست اہمیت حاصل ہوئی:

الف۔ یہ کہ اگر سود کو حرام قرار دے دیا گیا تو یہ اپیل چونکہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے سامنے زیرسماعت ہے، اس لئے اس کا فیصلہ حتمی اور آخری ہوگا۔ اس فیصلے کے خلاف کسی بھی سطح پر دوسری کسی اپیل کا حق کسی فریق کو حاصل نہ رہے گا۔ نتیجہ یہ کہ اس مقدمے کا فیصلہ پاکستان کے دائمی قانون کی حیثیت حاصل کر لے گا اور حکومت سمیت پاکستان کے سب ادارے اس پر عمل درآمد کے پابند قرار پائیں گے۔

ب۔ یہ کہ اس فیصلے کے نتیجے میں پاکستان کے مالیاتی نظام میں نہ صرف یہ کہ انقلابی تبدیلیاں آئیں گی بلکہ وطن عزیز کے مسلمانوں کے طرز زندگی کا نقشہ بھی یکسر بدل جائے گا۔

ج۔ یہ کہ پاکستان اور عالمی طاقتوں، بالخصوص عالمی مالیاتی اداروں اور پاکستان کو قرض ؍ امداد مہیا کرنے والے ممالک کے ساتھ باہمی تعلقات میں بھی زبردست انقلاب متوقع ہوگا جس کے نتیجے میں قومی معاشی ڈھانچہ شکست و ریخت کا شکار ہوجائے گا یا پھر اس کے ملبے سے ایک نیا اور خالص اسلامی اِقتصادی نظام طلوع ہوگا۔

معزز قارئین! اس موقع پر سود کے خلاف مقدمہ کے پس منظر اور اسباب و علل کا ایک مختصر جائزہ پیش کردیا جائے تو ساری صورتِ حال کی تفہیم نسبتاً آسان ہوجائے گی۔ ۱۹۹۱ئ؁ میں وفاقی شرعی عدالت، پاکستان کے روبرو ایک مقدمہ بعنوان ''ڈاکٹر محمود الرحمن فیصل بنام سیکرٹری وزارتِ قانون اسلام آباد وغیرہ'' سماعت کے لئے پیش ہوا۔ اس مقدمے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رائج متعدد قوانین کو چیلنج کیا گیا تھا۔ جو سودی لین دین سے متعلق تھے اور استدعا کی گئی تھی کہ چونکہ قرآن و سنت میں سود کو حرام قرار دیا گیا ہے اور آئین، حکومت کو اس امر کا پابند کرتا ہے کہ وہ تمام رائج قوانین کو قرآن و سنت میں بیان کردہ اُصولوں کے مطابق ڈھالے لہٰذا ان تمام قوانین کو قرآن و سنت سے متصادم قرار دیا جائے جن میں قانونی طور پر سودی لین دین یا کاروبار کی اجازت پائی جاتی ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے فل بنچ نے جو مسٹر جسٹس تنزیل الرحمن (چیئرمین) مسٹر جسٹس ڈاکٹر فدا محمد خان اور مسٹر جسٹس عبید اللہ خان پر مشتمل تھا، ۷ ؍فروری ۱۹۹۱ء ؁سے اس مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا۔ یہ سلسلہ ۲۴؍ اکتوبر ۱۹۹۱ئ؁ تک جاری رہا۔ جس کے نتیجے میں اس مسئلے کے تمام پہلوئوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ۱۴ ؍نومبر ۱۹۹۱ئ؁ کو مسٹر جسٹس تنزیل الرحمن کی سربراہی میں وفاقی شرعی عدالت نے ۱۵۷ صفحات پر مشتمل تاریخی فیصلہ صادر کیا۔ اس فیصلے کے چند اہم نکات حسب ِذیل ہیں:

(1) عربی لفظ رِبا سے مراد ہر قسم کا سود ہے جس میں تجارتی اور صرفی دونوںسود شامل ہیں۔

(2) قرآن و سنت کے مطابق ہر طرح کا سود قطعا ً حرام ہے۔

(3) بنک کا سود بھی رِبا کی ذیل ہی میں آتا ہے لہٰذا قرآن و سنت کی روشنی میں ممنوع ہے۔ بنک کی جانب سے کھاتہ داروں کو دی جانے والی اصل زر سے زائد رقم اور قرضوں پر اصل زر سے زائد وصول کی جانے والی تمام رقوم سود ہیں اور حرام ہیں۔

(4) ربا النسیئة اور اس کی ذیل میں آنے والی تمام مالیاتی صورتیں بھی ممنوع ہیں۔

(5) افراطِ زر کے اثرات زائل کرنے کے لئے انڈیکسیشن (اشاریہ بندی) کا رائج نظام بھی سود کے ذیل میں آتا ہے لہٰذا سختی سے ممنوع قرار پاتا ہے۔

(6) روپے کی قیمت میں کمی بیشی یا اُتار چڑھائو کی صورت میں قرض کی مالیت میں اسی نسبت سے تبدیلی بھی ممنوع ہے کیونکہ اسلام کہتا ہے جتنے روپے یامقدار میں قرض لو اسی قدر گن یا ماپ کر واپس کرو۔

(7) مارک اَپ بھی سودی نظام کے لئے چور دروازہ کھولنے کے مترادف ہے لہٰذا یہ بھی ممنوع قرار پاتا ہے۔

مذکورہ بالا صورتوں میں سودی نظام کو ممنوع اور غیر قانونی قرار دینے کے بعد وفاقی شرعی عدالت نے ۲۴ کے لگ بھگ ان قوانین یا ان کی مختلف دفعات کو غیر اسلامی قرار دے کر انہیں قوانین کی کتب سے حذف کرنے کا حکم دے دیا اور حکومت کو ہدایت کی کہ وہ ۳۰ ؍جون ۱۹۹۲ء تک ان قوانین کی جگہ نئے قوانین وضع کرکے اسمبلی سے باضابطہ طور پر پاس کروانے کے بعد انہیں پاکستان بھر میں نافذ کردے۔ تاکہ قرآن و سنت کے احکامات پورے طور پر نافذہوں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سودی نظام اپنی تمام اَشکال سمیت اپنے آخری انجام کو پہنچ سکے۔

یہ تاریخ ساز فیصلہ صادر ہوتے ہی ایوان ہائے اقتدار کے ساتھ ساتھ ملک کے تمام حکومتی اور پرائیویٹ مالیاتی اداروں میںزلزلے کی سی کیفیت پیدا ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے حکومت اور دیگر تقریباً تمام اہم مالیاتی اداروں او ربنکوں کی جانب سے ۱۱۸ سے زائد اپیلوں کے ذریعے وفاقی شرعی عدالت کے مذکورہ فیصلے کو چیلنج کر دیا گیا۔

حکومت کی جانب سے اپیل پر دینی اور عوامی حلقوں کی جانب سے زبردست احتجاج اور ناپسندیدگی کا اظہا رکیا گیا اور حکومت کے خلا ف یہ تاثر ابھر کر سامنے آیا کہ تمام قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی آئینی پابندی اور آئین کے تحت نظامِ حکومت چلانے کے حلف کے باوجود حکومت خود ہی بدنیتی سے کام لے رہی ہے اور سودی نظامِ زر کو ختم کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار نہیں ہے۔ مسلسل عوامی مطالبے کے پیس نظر آخر کار حکومت کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ وہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت سود کے خلاف اپنی اپیل واپس لے لے گی۔ اس اعلان کے کچھ عرصہ بعد حکومت نے سپریم کورٹ کے شریعت اپلیٹ بنچ کے سامنے واپسی اپیل کی درخواست دائر کی۔ اس درخواست میں حکومت نے اپیل واپس لینے کی استدعا کے ساتھ ساتھ یہ موقف اختیار کیا کہ ''وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے میں اگرچہ سود کو حرام قرار دیا گیا ہے لیکن ایسے کسی متبادل نظام کا خاکہ وضع نہیں کیا گیا جو سود کے خاتمے کے بعد فوری طور پر رائج کیا جاسکے یا اس کی جگہ لے سکے، اس سلسلے میں بہت سی فنی رکاوٹوں کے علاوہ کئی پیچیدہ سوالات بھی حل طلب ہیں جن پر راہنمائی کے لئے حکومت نے استدعا کی کہ حکومت کو ایک مرتبہ پھر وفاقی شرعی عدالت سے ہدایات حاصل کرنے کے لئے رجوع کا موقعہ دیا جائے''... مذکورہ بالا درخواست کے دائر ہوتے ہی دینی حلقوں میں یہ شور بلند ہوا کہ وفاقی شرعی عدالت سے رجوع کی اجازت حاصل کرنے کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ حکومت اس مقدمے کا ایک اور طویل دور چلا کر لمبا وقت حاصل کرنا چاہتی ہے اور اگر اسے یہ اجازت مل گئی تو غیر سودی نظام کے نفاذ کا مسئلہ ایک مرتبہ پھر کھٹائی میں پڑ جائے گا۔

اس موقع پر جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے وکلاء کا ایک باقاعدہ پینل مقرر کیا۔ تاکہ درخواست کی مشروط واپسی کو روکا جاسکے۔ اس پینل میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر وکیل محمد اسمٰعیل قریشی کے علاوہ چوہدری عبدالرحمن اور راقم الحروف بھی شامل تھے جبکہ اسلامی فقہ کے ماہر اور وفاقی شرعی عدالت کے مشیر پروفیسر ریاض الحسن نوری بھی اس پینل میں بطو رِ خاص اپنی خدمات پیش کر رہے تھے۔ جب حکومت کی مذکورہ بالا درخواست عدالت کے سامنے پیش ہوئی تو جناب محمد اسمٰعیل قریشی نے اس کی پرجوش مخالفت کی اور موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کا شریعت اپلیٹ بنچ وفاقی شرعی عدالت کی نسبت وسیع اور اعلیٰ ترفورم ہے اور اگر حکومت کو بعض معاملات میں راہنمائی ہی حاصل کرنا ہے تو وہ موجودہ فورم سے حاصل کرسکتی ہے۔ قریشی صاحب نے دلائل دیتے ہوئے یہ بھی موقف اختیار کیا کہ اب جب کہ شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف بہت سی اپیلیں زیرسماعت ہیں، ان کی موجودگی میں وفاقی شرعی عدالت اپنے ہی فیصلے پر نظرثانی نہیں کرسکتی۔ معزز عدالت نے بھی اس امر کا نوٹس لیا کہ اگر حکومت کو اپیل واپس لینے کی اجازت دے بھی دی جائے تو ۱۱۸ کے قریب دیگر اپیلیں بدستور موجود رہیں گی اور ان اپیلوں میں حکومت بھی ایک ضروری فریق کا درجہ رکھتی ہے۔ لہٰذا ایک اپیل کی واپسی سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا۔ نتیجہ یہ کہ حکومت کی جانب سے اپیل واپس لینے کی درخواست کو پذیرائی حاصل نہ ہوسکی اور معزز عدالت نے حکم جاری کیا کہ مقدمہ کی زبردست اہمیت کے پیش نظر اس کی سماعت روزانہ بنیادوں پر کی جائے گی۔

معزز عدالت نے مقدمہ میں زیر تجویز بعض پیچیدہ اور اہم فقہی سوالات پر رہنمائی کے لئے فریقین کے وکلاء حضرات کے علاوہ بینکنگ کے ماہرین، معاشیاتمیں دَرک رکھنے والے سکالرز اور علمائِ کرام سے اپیل کی کہ اپنے نقطہ ہائے نظر سے عدالت کو آگاہ کریں۔ اس صلائے عام کے علاوہ معزز عدالت نے خود بھی اسلامی بنکاری سے متعلق بطور خاص ۱۲ ؍قانون دان، معاشی ماہرین کچھ سکالرز اور علماء سے رابطہ کیا کہ وہ عدالت میں آکر سود سے متعلقہ سوالات کے بارے میں اپنی رائے سے فاضل ارکان بنچ کو آگاہ کریں۔ جن کے نام یہ ہیں: ڈاکٹر وقار مسعود، ڈاکٹر ارشد زمان، عبدالجبار خاں، خالد ۔ایم اسحق ، ابراہیم سادات، ڈاکٹر نواب حیدر نقوی، ایس۔ ایم حسن، خالد مجید، صبغت اللہ، ڈاکٹر ضیا ء الدین احمد، حافظ عبدالرحمن مدنی اور ایس۔ ایم ظفر ۔

فاضل عدالت نے اپنی اور وکلاء حضرات، سکالرز اور علمائِ کرام کی سہولت کے لئے از خود بھی کچھ سوالات تیار کئے۔ یہ سوالات زیر سماعت ۱۱۸ کے قریب اپیلوں میں اُٹھائے گئے نکات کو جمع کرکے تیار کئے گئے تھے۔ ان سوالات پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی جائے تو یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ ان کے جوابات ہی دراصل سود سے متعلق اس اہم مقدمے میں بنیادی کردار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ شریعت اپلیٹ بنچ کی طرف سے جاری کردہ انگریزی زبان میں ان دس سوالات کا اُردو ترجمہ حسب ِذیل ہے:

1۔ قرآن پاک نے سود ''ربا '' کی ممانعت کردی ہے۔ اس اصطلاح سے کیا مراد ہے؟... قرآنِ پاک اور سنت ِرسولﷺ کی روشنی میں ''ربا'' کی حقیقی تعریف اور معنویت کیا ہے؟

2۔ مالیاتی لین دین کا وہ کون سا حقیقی اِمکان ہے جس پر ''ربا'' کی پابندی عائد ہوتی ہے؟ کیا ''ربا'' کی اصطلاح کا بنکوں اور مالیاتی اِداروں کو دیئے گئے قرضوں اور ان پر عائد کردہ سود پر بھی اطلاق ہوتا ہے

3۔ پاکستانی بنک اور بعض مالیاتی ادارے اپنے گاہکوں کو مارک اَپ پر دوبارہ خریداری کے معاہدوں کی بنیاد پر رقم دیتے ہیں۔ اس طریقہ کار کے تحت بنک کا گاہک یہ مراد لیتا ہے کہ وہ ایک مخصوص جنس بنک کو فروخت کرتا اور عین اسی وقت اس جنس کو مؤثر شدہ ادائیگی کی بنیاد پر زیادہ قیمت کے عوض دوبارہ خرید لیتا ہے۔ مارک اَپ کی کوئی شرح (فی صد سالانہ) کا اطلاق دوسری فروخت پر ہوتا ہے۔ کیا یہ معاہدہ ''ربا'' کے زمرے میں آتا ہے؟

4۔ کیا ''ربا ''کی حرمت کے معاملے میں ایک مسلمان اور غیر مسلم کے مابین کوئی فرق ہے؟ کیا ''ربا'' کی حرمت کا دائرہ غیر مسلموں سے لئے گئے قرضوں یا ایسے مسلم ممالک جن کے قوانین اور قومی پالیسیاں، بین ُالاقوامی مالیاتی قوانین اور پالیسیوں سے منسلک نہیں اور جو صدرِ مملکت پاکستان کے کنٹرول میں نہیں ہیں، تک بڑھایا جاسکتا ہے؟

5۔ حکومت ِپاکستان اور اس کے زیر کنٹرول بعض ادارے بانڈز اور سرٹیفکیٹس وغیرہ جاری کرکے قرضے حاصل کرتے ہیں اور ایسے سیکورٹی بانڈز کے حامل افراد کو مقررہ ہر مدت کے بعد منافع ادا کرتے ہیں۔ کیا یہ منافع ''ربا'' کی تعریف میں آتا ہے۔

6۔ یہ امر واضح ہے کہ کاغذی کرنسی افراطِ زر کی صور تحال میں اپنی قیمت کم کرنے کے رجحان کی حامل ہے۔ ایک قرض دار جو پیپر کرنسی کی اپنی مخصوص رقم اگر بطورِ قرض حاصل کرتا ہے تو جب وہ یہ رقم ایک طے شدہ مدت کے بعد اپنے قرض خواہ کو لوٹاتا ہے تو قرض خواہ افراطِ زر کی وجہ سے نقصان اُٹھا سکتا ہے۔ اگر قرض خواہ اپنے قرض دار سے اپنے نقصان کی تلافی کے لئے مزید رقم ادا کرنے کا مطالبہ کرتا ہے تو کیا یہ مطالبہ سود طلب کرنے کے مترادف قرار دیا جاسکتا ہے؟

7۔ اگر سود یا مارک اَپ کی تمام اقسام اسلامی احکامات کے خلاف قراد دے دیئے جائیں تو آپ فنانسنگ کے کیاطریقہ ہائے کار تجویز کرتے ہیں: (الف) تجارت اور صنعت کی فنانسنگ (ب) بجٹ کی خسارہ کی فنانسنگ (ج) بیرونی قرضوں کا حصول (د) اسی نوعیت کی دیگر ضروریات اور مقاصد

8۔ اگر آپ کے خیال میں سود کی تمام اقسام شرعی طور پر حرام ہیں تو حقیقت سے اس کے خاتمہ کے لئے آپ کیا طریق کار تجویز کرتے ہیں؟ کیا آپ موجودہ اقتصادی نظام کو فوراً ختم کردیں گے یا قومی معاشی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے تدریجی عمل تجویز کریں گے؟ اگر آپ تدریجی عمل کو ترجیح دیتے ہیں تو آپ اس مقصد کے لئے کیا حکمت ِعملی تجویز کرتے ہیں جو قرآن و سنت کے تقاضوں کے مطابق ہو۔

9۔ اگر سود پر مبنی تمام مالیاتی لین دین اسلامی اَحکامات کے خلاف قرار دیئے جائیں تو اس پر مبنی لین دین اور معاہدوں کا کیا حشر ہوگا، خصوصاً حکومت کو ماضی میں لئے گئے غیر ملکی قرضوں کے ضمن میں کیا طریق کار اختیار کرنا چاہئے؟

10۔ کیا قرض خواہ اس وقت منافع کی کوئی شرح اور وقت مقرر کرسکتا ہے جب قرض دار یہ کہتا ہے کہ ان شاء اللہ وہ طے شدہ وقت پر کمانے اور رقم واپس کرنے کے قابل ہوجائے گا جس میں ناکام رہنے پر ضمانتی منافع دے سکتا ہے۔ زیادہ رقم کے علاوہ بونس یا ادائیگی میں تاخیر (اگر روا رکھی گئی) کا معاوضہ طلب کرسکتا ہے ۔ نیز قرض کے سلسلہ میں رکھی گئی دیگر شرائط کو بروئے کار لاسکتا ہے؟ اگر مذکورہ منافع کے لئے انشورنس کا نظام متعارف کرایا جائے تو کیا صورت ہوگی؟

فریقین کے وکلاء کے علاوہ عدالت کی دعوت پر عدالت کی اجازت سے اسلامی بنکاری کے بہت سے ماہرین نے پاکستان اور بیرونِ ملک سے سودی نظام سے متعلق بحث میں حصہ لیا۔ جبکہ عدالت کی اجازت سے یا عدالت ہی کی دعوت پر علمائِ کرام کے نمائندوں نے بھی اسلامی شریعت کے اُصولوں اور ضوابط پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ بحث میں حصہ لینے والے دانشوروں اور وکلاء نے اجتماعی طور پر تسلیم کیا کہ اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور سودی کاروبار اللہ اور اس کے رسولﷺ سے جنگ کے مترادف ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ جدید معاشیات کے اُصولوں پر مبنی لین دین کی بہت سے اقسام اور طریقوں کے بارے میں اختلافِ رائے بھی سامنے آیا۔ سب سے زیادہ گرما گرم بحث بنکاری نظام اور بیرونی ممالک سے حاصل کئے جانے والے سودی قرضوں پر ہوئی۔

انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف اکنامکس اسلامی یونیورسٹی، اسلام آبادکے ڈائریکٹر جنرل سید طاہر نے بتایا کہ وہ گذشتہ رُبع صدی سے اسلامی بنکاری نظام پر کام کرر ہے ہیں۔ انہوں نے عدالت میں اپنی معروضات نہ صرف یہ کہ تفصیل کے ساتھ پیش کیں بلکہ اسلامی بنکاری نظام کا ایک تحریری مربوط خاکہ بھی عدالت کے سامنے پیش کیا۔ جن میں بقول ان کے ان تبدیلیوں کا واضح نقشہ موجود ہے جنہیں اپناکر موجودہ بنکوں سے سودی نظامِ زر کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ بہرحال معزز عدالت کے ایک سوال کے جواب میں سید طاہر نے بتایاکہ اس وقت دنیا بھر میں کوئی بھی بنک ایسا موجود نہیں ہے جو سو فیصداسلامی بنکاری نظام کے تحت کام کر رہا ہو۔

ڈاکٹر سید طاہر کے بعد اسلامی یونیورسٹی ہی سے وابستہ ایک اور ماہر معاشیات ڈاکٹر وقار مسعود نے اپنی معروضات کا آغاز کیا جو تقریباً ایک ہفتہ تک جاری رہیں۔ ڈاکٹر وقار مسعود نے اسلامی بنکاری کے راستے میں حائل بے شمار سودی رکاوٹوں کا جائزہ پیش کیا اور سودی نظام سے نجات حاصل نہ کرپانے کا ذمہ دار رائج الوقت قوانین اور آئین کو بھی قرارد یا۔ ڈاکٹر وقار مسعود نے بتایا کہ ملکی معیشت کی گاڑی بیرونی قرضہ جات کے بل بوتے پر چل رہی ہے۔ اور عالمی ادارے ہمیں یہ قرض صرف اور صرف سود پر دیتے ہیں۔ سود کو حرام قرار دیئے جانے کی صورت میں ہمیں مستقبل میں حاصل ہونے والے تمام قرضوں سے محروم رہ جانے کے لئے تیار ہونا چاہئے۔ مزید یہ کہ ملکی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے اقدامات بھی پہلے سے سوچ رکھنے چاہئیں۔ بصورتِ دیگر پاکستان کی بقا کو شدید خطرات لاحق ہوجائیں گے۔ انہوں نے اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا کہ سپریم کورٹ کا شریعت اپلیٹ بنچ قوانین کو تو غیر اسلامی قرار دے سکتا ہے لیکن آئین یا اس کی کچھ دفعات کو غیر اسلامی قرار دینا اس کے اختیار سے ماورا ہے۔ جبکہ وفاقی حکومت کو آئین یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ بیرونی عالمی اداروں یا ملکوں سے سودی بنیاد پر قرضے حاصل کرے اور مالی معاہدات پر دستخط کرے۔ ڈاکٹر وقار مسعود کے اس اشارے کا مقصد شاید یہ تھا کہ اگر عدالت سود کو حرام بھی قرار دے دے تو عالمی سطح پر سودی لین دین کا کاروبار حکومتی سطح پر پھر بھی جاری و ساری رہے گا۔

ڈاکٹر وقار مسعود کے بعد جدہ سے آئے ہوئے ایک پاکستانی انجینئر عبدالودود خان نے اس دعویٰ کے ساتھ اپنی معروضات پیش کیں کہ اگر ان کے فارمولے پر عمل کیا جائے تو ایک رات میں سودی نظام کا خاتمہ بھی ہوسکتا ہے اور موجودہ بنکاری نظام میں بھی کسی انقلابی تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنی تحریر کردہ ایک کمپیوٹرائزڈ کتاب بھی عدالت کے حوالے کی۔ عبدالودود خان نے سود ختم کرنے کا جو فارمولا پیش کیا وہ کچھ اس طرح تھا کہ اگر کوئی شخص ایک سال کے لئے بنک سے ایک لاکھ روپیہ قرض لینا چاہے تو وہ دس ہزار دس سال کے لئے بنک کے پاس جمع کروا دے۔ اس کے عوض بنک شخص موصوف کو ایک سال کے لئے ایک لاکھ روپیہ ادا کردے۔ ان دونوں کھاتوں کا ایک دوسرے سے نہ تو کوئی تعلق ہو اور نہ ہی ایک دوسرے سے مشروط ہوں۔ معزز عدالت نے اس تجویز پر کہاکہ اوّل تو یہ تجویز کوئی نئی نہیں ہے۔ شیخ محمود احمد مرحوم عرصہ تک اس سکیم کے داعی کی حیثیت سے سرگرم رہے ہیں۔ دوسرے یہ کہ یہ سکیم سودی نظام کے ایک بہت معمولی حصے پر لاگو کی جاسکتی ہے وہ بھی بہت محدود پیمانے پر... لہٰذا اس تجویز کو پورے سودی نظام کا اسلامی متبادل قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اس مرحلے پر معزز عدالت نے کیس کی سماعت چند روز کے لئے ملتوی کردی۔ اور اعلان کیا کہ آئندہ سماعت کے لئے بنچ کراچی میں اپنا اجلاس کرے گا۔ کراچی میں سٹیٹ بنک آف پاکستان اور دیگر بنکوں اور مالیاتی اداروں کی جانب سے جناب عبدالجبار خان، جناب ارشد زمان، جناب ابراہیم سادات، جناب خالد اسحق ایڈووکیٹ اور جدہ سے آئے ہوئے اسلامی بنکاری کے ماہر جناب عمر چھاپرا نے اپنی معروضات پیش کیں۔

عبدالجبار خان، ارشد زمان اور ابراہیم سادات نے بھی سود کو حرام تسلیم کیا۔ لیکن بنکاری نظام کی موجودہ اَشکال کے بارے میں یہ رائے دی کہ ان کی ا کثریت حرام کے زمرے میں نہیں آتی کیونکہ ان میں وہ عناصر نہیں پائے جاتے جو کسی لین دین کو سود کی تعریف یا دائرے میں لے آتے ہوں۔ معروضات کے دوران اس رائے کا اظہار بھی کیا گیا کہ جدید بنکاری کی مارک اَپ کے نام سے رائج اَشکال مثلا ً بیع مؤجل، بائی بیکیا ڈی ویلیو یشن کی تلافی کے لئے انڈیکسیشن فقہی طور پر سود کی تعریف میں نہیں آتیں لہٰذا اُنہیں بحیثیت مجموعی حرام یا ممنوع قرار نہیں دیا جاسکتا۔ البتہ اگر جزوی یا ضمنی طور پر کہیں اسلامی اصولوں سے کچھ ٹکرائو معلوم ہو تو اسے اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالا جاسکتا ہے۔

ممتاز قانو ن دان خالد اسحق نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ قرآن و سنت سودی لین دین کو حرام قرار دیتے ہیں۔ لیکن انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ اس امر کا فیصلہ کرنا اشد ضروری ہے کہ دراصل سود کی تعریف کیا ہے ؟ مزید یہ کہ اس حکمت کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے جس کی وجہ سے سود کو ناپسندیدہ اور حرام قرار دیا گیا ہے۔ خالد اسحق نے ظلم اور ضرر کے فلسفے کو تفصیل سے بیان کیا اور موقف اختیار کیا کہ سودی لین دین میں مقرر مدت اور رقم میں اضافے کے ساتھ ساتھ ظلم اور زیادتی کا عنصر شامل ہونا بھی ضروری ہے جبکہ موجودہ بنکاری نظام میں یہ عنصر عام طور پر موجود نہیں ہوتا۔ اس لئے سارے بنکاری نظام کو سودی قرار دے کر بیک قلم ممنوع قرار نہیں دیا جاسکتا۔

بین ُالاقوامی طور پر جانے پہچانے اسلامی بنکاری کے ماہر جناب عمر چھاپرا خاص طور پر جدہ سے تشریف لائے اور انہوںنے بغیر سود اسلامی بنکاری اور اسلامی نظامِ معیشت کے قیام سے متعلق اپنی معروضات اور تجاویز معزز عدالت کے سامنے پیش کیں۔ عمر چھاپرا نے واضح کیا کہ مشارکت اور مضاربت کے اِسلامی اصولوں کو جدید معاشیات کی روشنی میں ترقی دے کر بنکاری نظام میں رائج کیا جاسکتاہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے جدید معاشی نظریات، انڈیکسیشن، رو پے کی قدر میں کمی زیادتی کو پورا کرنے کے اقدامات، مارک اَپ اور بیع مؤجل جیسے مالی اقدامات کو مجموعی طور پر حرام قرار دینے کے سلسلے میں بھی اپنے تحفظات اور تجاویز کو بیان کیا اور ایک مکمل اسلامی بنک کے ان خدوخال کی طرف بھی اشارہ کیا جو وہ اسلامی بنکاری پر تحریر کردہ اپنی کتاب میں تفصیل سے بیان کرچکے ہیں۔ اس موقع پر معزز عدالت نے اظہار کیا کہ سودی نظام سے متعلق مقدمے کا فیصلہ کرنے سے قبل ان کی تحریر کردہ کتب کو بھی نگاہ میں رکھا جائے گا۔

ممتاز عالم دین، انسٹیٹیوٹ آف ہائر سٹڈیز (شریعت وقضائ) کے ڈائریکٹرمولانا حافظ عبدالرحمن مدنی صاحب نے کراچی کے بعد دوبارہ اسلام آباد میں سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے شریعت اپلیٹ بنچ سے خطاب کیا۔ آپ کی معروضات چار دن تک جاری رہیں۔ مولانا مدنی نے قرآنِ حکیم سے سود کے بارے میں نازل ہونے والے احکامات و آیات سے معروضات کا آغاز کیا۔ آپ نے سورۃ الروم سورۃ النسائ،سورۃ آلِ عمران اور سورۃ البقرۃ کے حوالے سے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے عرب معاشرے میں اس وقت رائج سود کی مختلف صورتوں کی وضاحت کی اور سابقہ شرائع کی بنا پر ابتدائے نبوت ہی سے سود کی حرمت بیان کرتے ہوئے اس کی نوع بہ نوع صورتوں کی تدریجا حرمت کا موقف اختیار کیا۔اس طرح پچھلی شریعتوں کے علاوہ بھی سود کی نئی شکلیں حرام قرار دی گئیں۔

مولانا مدنی نے آج کے دور میں رائج مارک اَپ کے حوالہ سے ناجائز حیلوں کی بھی نشاندہی کی ۔ اسی طرح ڈی ویلیوایشن کے لئے نام نہاد علاج اشاریہ بندی کی بھی تردید کی ۔ البتہ افراطِ زر کی واقعاتی خوفناک صورتحال کا اعتبار کرتے ہوئے انسدادِ سود کے لئے افراطِ زر کے علاج کے متبادل طریقوں کی طرف توجہ دلائی جو بعض ممتاز اسلامی سکالرز نے پیش کئے ہیں۔ چونکہ یہ متبادل طریقے پاکستان کی جذباتی فضا میں غیرموزوں ہیںاو ران کے بارے میںپیچیدہ سوالات اور فقہی مباحث کو سمجھنے کے لئے ایک خاص فکری سطح اور پس منظر کے طور پر اسلامی فقہی اصطلاحات کا علم ضروری ہے، شائد یہی وجہ تھی کہ کمرئہ عدالت میں موجود اخباری نمائندوں اور بعض سامعین کو مولانا مدنی کی معروضات کی تہ تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ نتیجہ یہ کہ بعض اخبارات میں ان کا مقصودصحیح طور پر شائع نہ ہوسکا او رمولانا مدنی کو اس کی وضاحت جاری کرنا پڑی۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مولانا مدنی نے انڈیکسیشن سمیت جدید بنکاری کے حیلہ پر مبنی تمام سودی طریقوں کو حرام اور ممنوع قرار دینے پر زور دیاتھا۔

کراچی کے ڈاکٹر نواب حیدر نقوی نے موقف اختیار کیا کہ سود کی ایک جامع تعریف مقرر کی جائے اور پھر اس کی روشنی میں جدید دور کے مالیاتی اِقدامات کو پرکھا جائے۔ سطحی طور پر بنکاری کی تمام اَشکال کو سودی قرار دے کر ممنوع قرار دینے سے پاکستان کی معیشت کو زبردست جھٹکے اور تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس طرح پورے اقتصادی نظام کی تباہی یا سلامتی کو نظر میں رکھتے ہوئے ہمیں ایسا فیصلہ کرنا چاہئے کہ اسلامی اصولِ اقتصاد بھی سر بلند رہے اور اقتصادی تباہی سے بھی بچا جاسکے۔

معاشیاتِ اسلامی کے پروفیسر خورشید احمد صاحب سود کے مقدمے کی سماعت کے دوران لندن سے پاکستان تشریف لائے اور نہایت مختصر نوٹس پر انہوں نے معزز عدالت کے سامنے اپنی معروضات پیش کیں۔ پروفیسر صاحب نے عالمی معاشیات کے جدید ترین تجزیہ جات کا حوالہ دیتے ہوئے تازہ ترین معاشی کتب سے ثابت کیا کہ پوری دنیا میں سودی نظامِ زر کا جہاز آہستہ آہستہ غرقاب ہو رہا ہے اور خود سودی نظام چلانے والے ایک نئے عالمی معاشی نظام کو متعارف کروانے کے بارے میں سنجیدگی سے سو چ رہے ہیں۔ پروفیسر صاحب کی رائے یہ تھی کہ موجودہ سودی نظامِ زر آئندہ نصف صدی کے اندر اندر پوری دنیا میں ناکام ہوجائے گا۔ لہٰذا ماہرین ابھی سے ایک نئے معاشی اور مالیاتی سسٹم کا خاکہ وضع کرنے کے کام پر لگ گئے ہیں اور اس سلسلے میں خاصی پیش رفت ہوچکی ہے۔ پروفیسر صاحب نے یہ خوش کن انکشاف کیا کہ عالمی ماہرین جس نئے مالیاتی نظام پر متفق ہو رہے ہیںوہ اسلامی نظامِ زر سے بہت قریبی اور حیرت انگیز مماثلت رکھتا ہے۔ پروفیسر صاحب نے بتایا کہ وہ غیر سودی بنیاد پر کام کرنے والے ایک مکمل اور جدید بنک کا خاکہ تیار کرکے حکومت ِپاکستان کو پہلے ہی پیش کرچکے ہیں۔ لہٰذا یہ مو قف کہ سود کے بغیر کسی بنک کا کامیاب ہونا ممکن ہی نہیں، بالکل غلط ہے۔ معزز عدالت کے ایک سوال کے جواب میں پروفیسر خورشید احمد نے رائے دی کہ جہاں تک سود کی بنیاد پر حاصل کئے جانے بیرونی قرضہ جات کا سوال ہے تو حکومت ان کی ادائیگی کی پابند ہے۔ جس کے لئے حکومت کو دس سال تک کا یا کوئی بھی مناسب وقت دیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح پروفیسر صاحب نے رائے ظاہر کی کہ ملک کے اندر بھی سودی نظام کے بیک جنبش قلم خاتمے کے بجائے تدریج کا راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے اور ایک سے تین سال کے اندر ملکی معیشت کو سود سے پاک کیا جاسکتا ہے۔

معروف عالم دین مولانا گوہر الرحمن نے معزز عدالت کی جانب سے جاری کئے جانے والے دس سوالات کی روشنی میں ایک مبسوط مقالہ سپردِ قلم کیا اور اپنی معروضات کے ساتھ یہ مقالہ بھی عدالت میںپیش کیا۔ آپ نے نہایت مدلل انداز میں جدید بنکاری کی اَشکال کا تجزیہ کیا اور بعثت ِمحمدی ؐکے وقت رائج مماثل اَشکالِ تجارت سے ان کا موازنہ کرتے ہوئے یہ رائے دی کہ انڈیکسیشن اور مارک اَپ وغیرہ اسلامی شریعت کی روشنی میں قطعاً حرام اور ممنوع ہیں لہٰذا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ان کا چلن ختم ہونا چاہئے۔

اسلام آباد کے وکیل ڈاکٹر محمد اسلم خاکی نے اپنی معروضات دو قسطوں میں پیش کیں۔ ان کا موقف یہ تھا کہ سود کو حرام قرار دینے کے معاملے میں سختی سے صرف قرآنی احکامات تک محدود رہنا چاہیے۔ ان کا خیال تھا کہ سنت اور حدیث کے حوالے سے بعد میں آنے والے فقہا نے گذشتہ ڈیڑھ ہزار سال میں اتنی متضاد خیالی کا مظاہرہ کیاہے کہ سب کچھ گڈ مڈ ہو کر رہ گیا ہے لہٰذا ان کی آرائ، تشریحات اور تفاسیر پر تکیہنہیں کیا جاسکتا۔ ڈاکٹر خاکی نے موقف اختیار کیا کہ فقہاء کی طرف سے سود کے مقابل پیش کردہ مشارکت اور مضاربت کے طریقے دراصل جاہلیت کے باقیات ہیں۔ جبکہ جدید معاشی نظامِ زر اور بنکاری، اسلام کے بنیادی فلسفہ تجارت بلکہ شریعت ِاسلامیہ کی تعلیمات سے کافیمطابقت رکھتے ہیں۔ لہٰذا موجودہ بنکاری نظام کو یکسر مسترد کرنے کے بجائے معمولی تبدیلیوں کے ساتھ اسے ہی مکمل طور پر اسلامائز کیا جاسکتا ہے۔

اسلامی شریعت کے پرجوش مبلغ معروف قانون دان محمد اسمٰعیل قریشی نے اپنی معروضات پیش کرتے ہوئے واضح طور پر یہ موقف اختیار کیا کہ قرآنی احکامات، سنت ِرسولِ مقبولﷺ اور احادیث مبارکہ کے مطابق سود اپنی تمام تر اَشکال کے ساتھ مطلقاً حرام قرار پاچکا ہے کیونکہممنوع شدہ سود کے کچھ حسابات اگر باقی بھی چلے آرہے تھے تو انہیں بھی اللہ کے آخری رسولﷺ نے اپنے آخری خطبہ حج میں ختم کردیا تھا۔ محمد اسمٰعیل قریشی نے جدید معاشیات کے وضع کردہ لین دین کے طریقوں کا ایک ایک کرکے تجزیہ کیا اور بیع مؤجل، بائی بیک، مارک اَپ، انڈیکسیشن، ڈی ویلیوایشن اور ڈی نامی نیشن اور بنک کمیشن سمیت تمام جدید اَشکال کو سودی نظام ہی کی توسیع قرار دیا اور ان کے بھی حرام اور ممنوع ہونے پر زور دیا۔ بعد ازاں محمد اسمٰعیل قریشی نے عدالت کی جانب سے جاری کردہ دس سوالات کے جوابات پر مبنی ایک تحریری جواب نامہ بھی داخل کیا۔ یہ جواب نامہ محمد اسمٰعیل قریشی ایڈووکیٹ، جسٹس (ریٹائرڈ) خضرحیات، چوہدری عبدالرحمن ایڈووکیٹ، پروفیسر ریاض ُالحسن نوری او ر راقم الحروف( ظفر علی راجا ایڈووکیٹ)نے تیار کیا تھا جو کہ تمام حضرات کے دستخطوں کے ساتھ سپریم کورٹ شریعت اپلیٹ بنچ کے روبرو پیش کیا گیا۔

پروفیسر محمد یحییٰ جو روزنامہ 'پاکستان' کے نمائندہ کی حیثیت سے مقدمہ کی سماعت کے دوران عام طور پر موجود رہے تھے، نے بھی عدالت سے مختصر خطاب کیا۔ انہوں نے اس حقیقت کی طر ف اشارہ کیا کہ سود کو تمام اَدیان نے ناپسندیدہ اور ممنوع قرار دیا ہے ۔ لہٰذا اسلام نے جو کہ دین فطرت ہے، سود کے فتنے کو حتمی طور پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کے لئے اسے تمام تر اَشکال اور صورتوں سمیت ممنوع قرار دے دیا۔ اس سلسلے میں قرآن اور سنت کے احکامات بالکل واضح ہیں۔ جن کا اطلاق جدید بنکاری سمیت تمام دیگر معاشی معاملات پر ہونا چاہئے او ریہی شریعت ِاسلامیہ کا تقاضا ہے۔

جمعیت علمائے پاکستان(نیازی گروپ)کے سربراہ مولانا عبدالستار خان نیازی نے اپنی معروضات پیش کرتے ہوئے قرآن و سنت کے حوالوں سے اس اَمر کا اعادہ کیا کہ اسلام نے سود کو مکمل طور پر حرام قرار دیا ہے۔ اس لئے اپنی تمام تر قدیم اور جدید اشکال میں یہ قطعاًممنوع ہے۔ انہوں نے رائے دی کہ موجودہ بنکاری نظام اسلامی قانون سے متصادم ہے۔ لہٰذا اسلامی، معاشی اور تجارتی اُصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلامی بنکاری کی تشکیل اور ترویج ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی ممالک سے سود پر قرضے حاصل کرنا بھی اسلامی حکومت کے لئے ممنوع ہے۔ لہٰذا عدالت سے استدعا کی جاتی ہے کہ جدید بنکاری میں رائج سودی اَشکال اور سود پر حاصل کئے جانے والے بین المملکتی قرضہ جات کا حصول حرام قرار دے اور پاکستان میںبسنے والے مسلمانوں کو غیر سودی اسلامی معیشت کی برکات سے مستفید ہونے کا موقع مہیا کیا جائے۔

سماعت کے دوران ایک روز اچانک ہم نے دیکھا کہ کمرئہ عدالت میں کیمرے، پروجیکٹر اور سکرین نصب کی جارہی ہے۔ معلومات کرنے پر پتہ چلا کہ کراچی کے کوئی صاحب، فلم اور سلائیڈوں کی مدد سے نظامِ زر پر لیکچر دیں گے۔ دوپہر میں چائے کے وقفے کے بعد ان صاحب کو موقع دیا گیا۔ ان صاحب کا نام نامی ذہن سے اُتر گیا ہے۔ لیکن اس قدر یاد ہے کہ یہ کسی پرائیویٹ مالیاتی ادارے کے سربراہ ہیں اور تجارتی کمپنیوں، بنکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کی ساکھ، کاروبار اور سرمائے کے تخمینہ جات تیار کرکے عالمی سطح پر ان کی درجہ بندی کرتے ہیں اور اس درجہ بندی پر بنکوں اور تجارتی اداروں میں عالمی سرمایہ کاری کا دارومدار ہوتا ہے۔ ان صاحب نے سلائیڈوں، نقشوں، گرافوں اور تخمینوں کے باہمی تقابل سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان کا نظامِ زر عالمی نظامِ زر کا ایک حصہ ہے او رپاکستان بین الاقوامی معاہدات پر دستخطوں کی وجہ سے عالمی نظام پر عمل کا پابند بھی ہے۔ ان کا موقف تھا کہ کسی بھی ملک کی معاشیات میں صرف بنکاری نہیں بلکہ اور بھی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ یہ سب کے سب عوامل ایک دوسرے سے بندھے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہیں۔ لہذا اگر سود کو ختم کرنا ہے تو صرف بنکاری کو اسلامی کرنے کے بجائے ان سب عوامل کو اسلامائز کرنا پڑے گا۔ صرف بنکاری قرضوں اور لین دین کے معاملات میں سودی چلن کو حرام قرار دے دینے سے سود ختم نہیں ہوگا۔ کیونکہ یہ سود اور بہت سی پیچیدہ صورتوں میں دیگر عوامل کے طور پر رواں دواں ہے۔ اگر معزز عدالت نے ان عوامل کو نظر میں رکھے بغیر فیصلہ صادر کیا تو پاکستان عالمی نظامِ زر سے انحراف کرنے پر مجبور ہوگا جس کے نتیجے میں ملک معاشی افراتفری کا شکار ہوجائے گا او رمہنگائی کئی درجے بڑھ جائے گی۔

سماعت کے آخری مرحلے میں حکومت کے وکیل ڈاکٹر ریاض الحسن گیلانی کے لئے وقت مخصوص کیا گیا تھا۔ لیکن ڈاکٹر ریاض الحسن گیلانی مقررہ دن عدالت کے روبرو پیش نہ ہوئے۔ لاہور اور اسلام آباد میں انہیں تلاش کیا گیا۔ لیکن ناکامی پر عدالت نے انتباہ جاری کرتے ہوئے نئے سرے سے وقت مقرر کیا۔ ڈاکٹر ریاض ُالحسن گیلانی نے اپنے دلائل کا آغاز سود سے متعلق قرآنی احکامات سے کیا اور ربا کی مختلف اقسام بیان کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ دراصل ربا القرآن ہی سود کی وہ شکل ہے جسے حرام قرار دیا جاسکتا ہے۔ ریاض الحسن گیلانی نے بعثت ِمحمدیؐ کے زمانے میںرائج سود کی اقسام کی وضاحت کی اور بہت سی اصطلاحات کی تشریح کی۔ تاکہ سود کے اصل مفہوم کی ، ان کے موقف کے مطابق تفہیم ممکن ہوسکے۔ سید ریاض الحسن گیلانی کا موقف تھا کہ جدید بنکاری میں رائج زیادہ تر اشکال کو سود کہہ کر ممنوع قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کیونکہ وہ سود کی اسلامی تعریف اور دائرے سے واضح طور پر باہر ہیں۔ تین دن دلائل جاری رکھنے کے بعد معزز وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ابھی ان کے دلائل کا صرف ایک ابتدائی حصہ مکمل ہوا ہے جبکہ تین حصے باقی ہیں۔ جن کے لئے کافی وقت درکار ہے لہٰذا آئندہ سماعت گرمیوں کی تعطیلات کے بعد کی جائے۔ لیکن عدالت نے ان کی درخواست کو منظور نہیں کیا اور واضح کیا کہ معاملے کی اہمیت اور مسلسل سماعت کے پیش نظر اتنا طویل وقفہ مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ فاضل عدالت نے معزز وکیل کی سہولت کے لئے اعلان کیا کہ عدالت اپنی گرمیوں کی چھٹیاں منسوخ کردے گی اور ان کے دلائل ختم ہونے کے بعد ہی تعطیلات کا آغاز کرے گی۔ لہٰذا وکیل موصوف کو ہدایت کی کہ وہ تیاری کرکے آئیں اور آئندہ پیر سے اپنے دلائل دوبارہ شروع کرکے انہیں اختتام تک پہنچائیں۔ لیکن وکیل موصوف اس روز عدالت میں حاضر نہ ہوئے جس پر عدالت نے اس انتباہ کے ساتھ سماعت ایک روز کے لئے ملتوی کردی کہ اگر کل بھی حکومت کے وکیل یا خود اٹارنی جنرل پیش نہ ہوئے تو ان کا حق پیروی ختم کردیا جائے گا۔

اگلے روز بھی حکومت کی جانب سے کوئی وکیل دلائل دینے کے لئے موجود نہ تھا، لہٰذا مقدمے میں حکومت کی جانب سے پیروی کا حق ختم کردیا گیا۔ اس کے باوجود انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے معزز عدالت نے ہدایت جاری کی کہ حکومت اور دیگر کوئی بھی فریق اگر مزید وضاحت کے لئے تحریری دلائل داخل کرنا چاہے تو آئندہ پندرہ روز کے اندر عدالت کے رجسٹرار کو دستی یا بذریعہ ڈاک بھجوا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس تاریخی مقدمے کی سماعت مکمل ہوئی اور فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ۔

ایک اندازے کے مطابق اس مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کے سامنے پانچ سو سے زائد کتب کے حوالہ جات پیش کئے گئے۔ جدید معاشی کتب کے بے بہا ذخیرے سے اہم اقتباسات کی نقول عدالت کے ریکارڈ پر لائی گئیں اور ڈیڑھ ہزار سال میں لکھی جانے والی قرآنی تفاسیر اور فقہی آراء کے ایک عظیم ذخیرے سے سود سے متعلق مباحث کو عدالت کے علم میں لایا گیا۔ اس کے علاوہ خود عدالت کے وضع کردہ سوالات کے ضخیم تحریری جواب نامے داخل کئے گئے۔ قرآنِ مجید کے علاوہ تقریباً دو ہزار احادیث کا مجموعہ بھی پیش کیا گیا۔ خیال ہے کہ اس سارے جمع شدہ مواد کی چھان پھٹک، معائنے، تجزیے اور عدالت کے سامنے زبانی طور پر بیان کئے گئے دلائل کے نوٹس کا جائزہ لے کر قرآن و سنت کی روشنی میں جدید معاشی اَشکال کے سودی کردار اور ان کے حلال و حرام ہونے کے بارے میں کسی فیصلے پر پہنچنے میں معززعدالت کو کئی ماہ کا عرصہ درکار ہوگا۔ سپریم کورٹ شریعت اپلیٹ بنچ کے معزز جج سماعت کے دوران خود بھی اس امر کا کئی بار اظہار اور دُعا کرچکے ہیں کہ اللہ بزرگ و برتر انہیں درست فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہم بھی دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ واقعی انہیں حکومتی دبائو، عالمی اقتصادی صورتحال اور دیگر سیاسی و سماجی اندیشہ ہائے دور دراز سے بالاتر ہو کر قرآن و سنت کے عین مطابق صحیح فیصلہ صادر کرنے کی توفیق عطا فرمائے...آمین! ٭٭