حضرت مصعبؓ بن عمیر مکے کے ایسے حسین و جمیل اور خوشرو نوجوان تھے کہ آنحضرتﷺ بھی ان کا تذكره کرتے تو فرماتے کہ:۔

''مکے میں مصعبؓ سے زیادہ کوئی حسین و خوش پوشاک اور پروردۂ نعمت نہیں ہے۔''

ان کے والدین کو ان سے شدید محبت تھی، خصوصاً ان کی والدہ خناس بنت مالک نے مالدار ہونے کی وجہ سے اپنے جگر گوشے کو نہایت ناز ونعم سے پالا تھا۔ وہ اپنے زمانہ کے لحاظ سے عمدہ سے عمدہ پوشاک پہنتے اور لطیف سے لطیف خوشبو استعمال کرتے تھے۔ حضرمی جوتا جو اس زمانے میں صرف امراء کے لئے مخصوص تھا وہ ان کے روزمرہ کے کام آتا تھا اور ان کے وقت کا اکثر حصہ آرائش و زیبائش میں بسر ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں انہیں اتنی نعمتوں سے نوازا تھا وہاں ان کے آئینۂ دل کو بھی نہایت صاف و شفاف بنایا تھا جس پر صرف ایک عکس کی دیر تھی۔ چنانچہ مکے میں توحید کی صدا بلند ہوئی اور آنحضرت ﷺ نے لوگوں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی دعوت دی تو یہ بھی شرک و بت پرستی سے متنفر ہو گئے۔ اور آستانۂ نبوت پر حاضر ہو کر اسلام کے جانبازوں میں داخل ہو گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ آنحضرتﷺ ارقم بن ابی ارقم کے مکان میں قیام پذیر تھے اور مکے کی سرزمین مسلمانوں پر تنگ ہو رہی تھی۔ حضرت مصعبؓ یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ان کی ماں اور ان کے اہلِ خاندان آنحضرتﷺ اور آپ کے پیغام کے اس قدر دشمن ہیں کہ اس کو ایک لحظہ کے لئے بھی برداشت نہیں کر سکتے لیکن نیکی رغبت اور بدی سے نفرت نے انہیں ہر چیز سے بے نیاز کر دیا اور وہ زندگی کے حقیقی مقصد کو جان کر اس کے حصول میں لگے گئے۔

حضرت مصعبؓ بن عمیر ''بہترین امت'' میں داخل تو ہو گئے لیکن کفر و شرک کی بے پناہ یلغار کے باعث ایک عرصے تک انہیں اپنے اسلام کو پوشیدہ رکھنا پڑا اور وہ چھپ چھپ کر آنحضرتﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوتے اور اسلامی تعلیمات حاصل کرتے رہے۔ ایک روز کا واقعہ ہے کہ عثمان بن طلحہ نے جو اس وقت تک مشرف باسلام نہیں ہوئے تھے، انہیں کہیں نماز پڑھتے دیکھ لیا اور جا کر ان کی ماں اور ان کے اہلِ خاندان کو خبر کر دی۔ بس پھر کیا تھا ماں اور خاندان والوں کی ساری محبت نفرت میں بدل گئی، سارے ناز و نعم ختم ہو گئے اور ''مجرم توحید'' کو قیدِ تنہائی کے مصائب و آلام کے حوالے کر دیا گیا۔ حضرت مصعبؓ ایک عرصے تک تمام اذیتیں برداشت کرتے رہے، نرم و نازک لباس میں ان کے لئے کوئی جاذبیت نہ رہی۔ انواع و اقسام کے کھانے ان کی نظروں میں ہیچ ہو گئے، نشاط افزا عطریات کا شوق ختم ہو گیا اور دنیاوی عیش و تنعم اور مادی اسباب و وسائل سے یکسر بے نیاز ہو گئے۔ اب ان کے سامنے صرف ایک ہی مقصد تھا۔ یہ وہ مقصد تھا جسے جلوۂ توحید نے ان کے دل میں روشن کیا اور تمام فانی ساز و سامان سے بے پرواکر دیا تھا۔

حضرت مصعبؓ اب زندانِ تنہائی سے تنگ آگئے، اشاعت اسلام کا جذبہ ان کے دل میں ابھرتا اور وہ اپنی اس تلخ زندگی پر سخت متاسف ہوتے ادھر کچھ دوسرے دلدادگانِ جلوۂ توحید بھی کفار کی سختیاں سہتے سہتے عاجز آگئے تھے اور کسی ایسی جائے پناہ کی تلاش میں تھے جہاں انہیں کچھ اطمینان و سکون میسر ہو۔

آنحضرت ﷺ نے انہیں مشورہ دیا کہ تم لوگ فی الحال حبشہ کو ہجرت کر جاؤ، وہاں کا بادشاہ رحمدل اور منصف مزاج ہے وہ تم کو آرام سے رکھے گا۔ یہ حکم پاتے ہی مصیبت زدہ مسلمانوں کا ایک کثیر التعداد قافلہ ہجرت کے لئے آمادہ ہو گیا جس کے رئیس حضرت عثمان بن مظعون تھے۔ حضرت عثمانؓ بن عفان اور ان کی اہلیہ محترمہ حضرت رقیہؓ بنت رسول اللہﷺ بھی اس قافلے میں تھے۔ حضرت مصعبؓ بن عمیر نے بھی ان متلاشیانِ امن و سکون کے ساتھ سرزمینِ حبشہ کی راہ لی اور اپنے آپ کو غریب الوطنی کے مصائب و آلام کے حوالے کر دیا۔

ابھی یہ لوگ کچھ ہی دن حبش میں رہے تھے کہ ان کو اہل مکہ کے اسلام کی خبر ملی اور فطرۃً وطن لوٹنے کا شوق پیدا ہوا۔ لہٰذا یہ لوگ مکہ روانہ ہو گئے۔ مگر مکے کے قریب پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہ خبر غلط تھی۔ بہرحال یہ سب کسی نہ کسی کی امان میں داخل ہو گئے اور حضرت عبداللہ بن مسعود کے علاوہ تمام حضرات مکے ہی میں ٹھہر گئے۔ ہجرت کے مصائب نے حضرت مصعبؓ بن عمیر کی ظاہری حالت میں نمایاں فرق پیدا کر دیا تھا۔ اب نہ وہ رنگ باقی رہا تھا اور نہ وہ روپ چہرے پر دکھائی دیتا تھا۔ یہاں تک کہ خود ان کی ماں کو اپنے نورِ نظر کی پریشاں حالی پر رحم آگیا اور وہ مظالم کے اعادہ سے باز آگئی۔

اس اثنا میں آفتابِ اسلام کی شعاعیں یثرب کی وادی میں پہنچ چکی تھیں اور مدینہ منورہ کا ایک معزز طبقہ مشرف باسلام ہو گیا تھا۔ مدینے کے حق پرستوں نے دربارِ نبوت میں درخواست بھیجی کہ ہماری تعلیم و تلقین پر کسی کو مامور فرمایا جائے۔ سرورِ کائنات ﷺ نے اس درخواست کو شرفِ قبولیت بخشا۔ آپ کی نگاہ جوہر شناس نے اس خدمت کے لئے مصعبؓ کو منتخب کیا اور چند زریں نصائح کے بعد انہیں مدینہ منورہ کی طرف بھیج دیا۔

حضرت مصعبؓ بن عمیر نے اس منصبِ جلیلہ پر فائز ہو کر تعلیمِ قرآن اور اشاعتِ اسلام کے سلسلے میں جو بیش بہا خدمات انجام دیں اور جس حسن و خوبی کے ساتھ عقائد و محاسنِ اسلام بیان کر کے مدینے کی فضا کو اسلام کے لئے ہموار کیا وہ اسلامی تاریخ کا ایک پورا باب ہے اور اسلامی دعوت کی آئندہ مرکزی عمارت کے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

ان کی شبانہ روز کوششوں اور انتھک محنت سے جب مدینہ منورہ میں فداکارانِ اسلام کی ایک معتد بہ جماعت پیدا ہو گئی تو انہوں نے دربارِ نبوت سے اجازت حاصل کر کے حضرت سعدؓ بن خثیمہ کے مکان میں جماعت کے ساتھ نمازِ جمعہ کی بنا ڈالی۔ پہلے کھڑے ہو کر ایک نہایت مؤثر خطبہ دیا۔ پھر خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھائی اور نماز کے بعد حاضرین کی ضیافت کے لئے ایک بکری ذبح کی گئی۔ اس طرح وہ شعار اسلامی جو روزانہ عبادتِ الٰہی کے علاوہ ہفتہ میں ایک دفعہ برادرانِ اسلام کو ایک جگہ جمع ہو کر باہم بغل گیر ہونے کا موقع دیتا ہے، خاص حضرت مصعبؓ بن عمیر کی تحریک سے قائم کیا گیا تھا اور سب سے پہلے وہی اس کے امام تھے۔

عقبہ کی پہلی بیعت میں صرف بارہ انصار شریک تھے لیکن حضرت مصعبؓ نے ایک ہی سال میں تمام اہلِ یثرب کو فدائی اسلام بنا دیا اور تحریکِ اسلامی کو ایک نئے موڑ پر لے آئے۔ چنانچہ عقبہ ثانیہ کی بیعت میں تہتر اکابر و اعیانِ مدینہ کی پرعظمت جماعت اپنی قوم کی طرف سے تجدیدِبیعت اور رسول اللہ ﷺ کو مدینہ میں مدعو کرنے کے لئے روانہ ہوئی۔ ان کے معلمِ دین حضرت مصعبؓ بھی ساتھ تھے۔ انہوں نے مکہ پہنچتے ہی سب سے پہلے آستانۂ نبوت پر حاضری دی اور اپنی حیرت انگیز کامیابی کی مفصل داستان غرض کی۔ آنحضرت ﷺ نے نہایت توجہ اور دل چسپی کے ساتھ تمام واقعات سنے اور ان کی محنت، جاں فشانی سے حد درجہ محظوظ ہوئے۔

حضرت مصعبؓ ایک عرصہ کے بعد مکہ تشریف لائے تھے لیکن ابھی تک ماں سے ان کی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ ماں نے بیٹے کے آنے کی خبر سنی تو کہلا بھیجا:۔

''اے نافرمان فرزند! کیا تو ایسے شہر میں آئے گا جس میں مَیں موجود ہوں اور تو پہلے مجھ سے ملنے نہ آئے۔''

انہوں نے نہایت بے نیازی سے جواب دیا کہ:۔

''میں رسول اللہ ﷺ سے پہلے کسی سے ملنے نہیں جاؤں گا۔''

اس کے بعد حضرت مصعبؓ جب حضورِ اکرم ﷺ سے شرف ملازمت حاصل کر چکے تو اپنی ماں کے پاس آئے اور طویل گفتگو کے بعد واپس آپﷺ کی خدمت اقدس میں چلے گئے۔ یہ ذی الحجہ کا مہینہ تھا۔ چنانچہ انہوں نے تین مہینے (ذی الحجہ، محرم، صفر) آنحضرتﷺ ہی کی خدمت میں بسر کیے اور پہلی ربیع الاوّل کو آپ سے بارہ دن قبل مستقل طور پر ہجرت کر کے مدینہ کی راہ لی۔

۲ ؁ھ سے حق و باطل، کفر و اسلام اور نور و ظلمت میں خونریز معرکوں کا سلسلہ شروع ہوا اور کفار کے فساد و بدامنی، طمع و ہوس، بغض و عدات اور تعصب و تنگ نظری کی آگ کو فرد کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ:

﴿أُذِنَ لِلَّذينَ يُقـٰتَلونَ بِأَنَّهُم ظُلِموا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ عَلىٰ نَصرِ‌هِم لَقَديرٌ‌ ٣٩﴾... سورة الحج

تو حضرت مصعبؓ بن عمیر بھی عرصۂ دغا میں نکلے اور اس شان سے نکلے کہ غزوۂ بدر میں مہاجرین کی جماعت کا سب سے بڑا پرچم انکے ہا تھ  میں تھا۔ انہوں نے میدانِ فصاحت کی طرح یہاں بھی اپنے نمایاں جوہر کا اظہار کیا۔ چنانچہ اس کے بعد غزوۂ احد پیش آیا تو اس میں بھی علمبر داری کا تمغائے شرف ان ہی کو ملا۔

شہادت:

اس جنگ میں ایک اتفاقی غلطی نے جب فتح و شکست کا پانسہ پلٹ دیا اور فاتح مسلمان ناگہاں طور سے مغلوب ہو کر منتشر ہو گئے تو یہ علمبردار اسلام اس وقت بھی یکہ و تنہانزغۂ اعدا میں ثابت قدم اور ہمت آزما رہا کیونکہ پرچم توحید کو پیچھے کی طرف جنبش دینا اس فدائی ملت کے لئے سخت عار تھا۔ غرض اسی حالت میں مشرکین کے ایک شہسوار ابن قمیۂ نے بڑ کر تلوار کا وار کیا جس سے داہنا ہاتھ شہید ہو گیالیکن بائیں ہاتھ نے فوراً علم کو پکڑ لیا۔ اس وقت ان کی زبان پر یہ آیت جاری تھی۔

﴿وَما مُحَمَّدٌ إِلّا رَ‌سولٌ قَد خَلَت مِن قَبلِهِ الرُّ‌سُلُ...١٤٤﴾... سورة آل عمران

ابن قمیۂ نے دوسرا وار کیا تو بایاں ہاتھ بھی قلم تھا لیکن اس مرتبہ دونوں بازوؤں نے حلقہ کر کے علم کو سینے سے چمٹا لیا۔ دشمن نے جھنجھلا کر تلوار پھینک دی اور اس زور سے تاک کر نیزہ مارا کہ اس کی انی ٹوٹ کر سینے میں رہ گئی اور اسلام کا سچا جانباز اسی آیت کا اعادہ کرتے ہوئے فرش خاک پر دائمی راحت اور ابدی سکون کی نیند سو رہا تھا۔ یہ صورت دیکھ کر ان کے بھائی ابو الدومؓ بن عمیر آگے بڑھے اور لوائے توحید کو سنبھالا دے کر پہلے کی طرح بلند رکھا اور آخر وقت تک شجاعانہ مدافعت کرتے رہے۔

تجہیز و تکفین:

جنگ ختم ہو گئی اور لشکر کفار اپنی موہوم فتح کے غرور باطل میں بدمست ہو کر واپس چلا گیا تو آنحضرت ﷺ حضرت مصعبؓ کی لاش کے قریب تشریف لائے۔ آپ نے کھڑے ہوئے پہلے یہ آیت تلاوت فرمائی:۔

﴿مِنَ المُؤمِنينَ رِ‌جالٌ صَدَقوا ما عـٰهَدُوا اللَّهَ عَلَيهِ...٢٣﴾....سورة الاحزاب

(اہل ایمان میں سے چند آدمی ایسے ہیں جنہوں نے خدا سے جو عہد کیا تھا اس کو سچا کر دکھایا) پھر لاش سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ:۔

''میں نے تم کو مکہ میں دیکھا تھا جہاں تمہارے جیسا حسین و خوش پوشاک کوئی نہ تھا۔ لیکن آج دیکھتا ہوں کہ تمہارے بال الجھے ہوئے ہیں اور جسم پر صرف ایک چادر ہے۔ بے شک خدا کا رسول گواہی دیتا ہے کہ تم لوگ قیامت کے دن بارگاہِ خداوندی میں حاضر رہو گے۔''

اس کے بعد نمازیانِ دینمتین کو حکم ہوا کہ:۔


''کشتگا نِ راہِ خدا کی آخری زیارت کر کے سلام بھیجیں۔''

اور فرمایا کہ:۔

''قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ روزِ قیامت تک جو کوئی ان پر سلام بھیجے گا وہ اس کا جواب دیں گے۔'' (اللھم صلّ وسلِّم علیھم)

یہ وہ زمانہ تھا کہ مسلمان نہایت عسرت و تنگ دستی کی زندگی گزار رہا تھا اور غربت و افلاس کے باعث شہیدانِ ملت کے لئے کفن تک میسر نہ تھا۔ حضرت مصعبؓ کی لاش پر صرف ایک چادر تھی، جس سے سر چھپایا جاتا تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور پاؤں چھپائے جاتے تو سر کھل جاتا تھا۔ بالآخر چادر سے چہرہ چھپایا گیا کہ حورانِ بہشتی کا شوقِ دیدار فزوں سے فزوں تر ہو جائے اور ان کے بھائی حضرت ابو الدوامؓ نے تین اور حضرات کی مدد سے سپرِ خاک کیا۔ ؎

بنا کر وند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را


اللہ أکبر! یہ وہی مصعبؓ بن عمیر تھے جن کو ابھی ہم مکے میں قبولِ اسلام سے پہلے بھی دیکھ چکے اور زبانِ صداقت و لسانِ وحی سے ان کے حسن و جمال اور ناز و نعم پروری کا حال سن چکے ہیں۔ ان کو مادی اسباب کی کیا پروا تھی؟ دنیاوی آسائش و راحت کی کون سی چیز انہیں حاصل نہیں تھی؟ وہ کونسا انسانی تکلف تھا جس کی ان سے آشنائی نہ ہو لیکن نیکو کاری کی رغبت اور خدا و رسول کی محبت نے انہیں اس مقام پر پہنچا دیا کہ آنحضرت ﷺ اس سے اس درجہ متاثر ہوئے کہ دیا اور اہلِ دنیا کی حالت پر رحم آگیا۔

ایک روز کا واقعہ ہے کہ حضرت مصعبؓ بن عمیر دربار نبوت میں حاضر ہوئے۔ حالت یہ تھی کہ جسم پر ستر پوشی کے لئے صرف کھال کا ایک ٹکڑا تھا۔ جس میں جا بجا پیوند لگے ہوئے تھے۔ صحابہ کرامؓ نے دیکھا تو عبرت سے گردنیں جھکا لیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ:۔

''الحمد للہ! اب دنیا کی تمام اہلِ دنیا کی حالت بدل جانا چاہئے۔ یہ وہ نوجوان ہے جس سے زیادہ مکے میں کوئی ناز پروردہ نہ تھا۔ لیکن نیکو کاری کی رغبت اور خداو رسول کی محبت نے اس کو تمام چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔''

٭٭٭٭٭