Mohaddis-3-Mar-1971

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

ہمارے حالات اور ہماری ضروریات کے پیشِ نظر علمِ حدیث کی نشر و اشاعت اور ترویج و خدمت کے تین اہم ذرائع ہیں:

٭ درس و تدریس

٭ تالیف و تصنیف و ترجمہ اور

٭ طباعت و اشاعت

برصغیر پاک و ہند میں ان تینوں طریقوں پر ایک مدت سے کام ہو رہا ہے۔

حدیث و سنت کی شرعی، دینی، علمی، ثقافتی اور تاریخی اہمیت اہل علم اور اصحابِ بصیرت کی نظروں سے اوجھل نہیں ہے۔ انہی وجوہ و ا سباب کی بنا پر خود آنحضرتﷺ کو بھی اپنی سنت اور حدیث کی اشاعت و ترویج بدرجۂ غایت محبوب و منظور تھی اور یہی وجہ تھی کہ آپﷺ نے فرمایا تھا:۔


«• ترکت فیکم أمرین کتاب اللہ وسنتي لن تضلوا ما تمسکتم بھما»

 (کہ میں تم میں دو چیزیں چھوڑ چلا ہوں، ایک اللہ کی کتاب اور دوسری اپنی سنت، جب تک تم ان دونوں سے وابستگی رکھو گے، گمراہ نہ ہونے پاؤ گے۔)

 ایک موقع پر یوں ارشاد فرمایا:۔

«نضر اللہ وجه امرأ من سمع ووعا وبلغ (أو کما قال)»

 یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص کے چہرے کو رونق و تابندگی عطا فرمائے جس نے میری حدیث سنی اور یاد رکھی، پھر دوسروں تک پہنچائی۔

یہاں بھی سماعت و روایتِ حدیث کے سلسلے کو قائم کرنے اور جاری رکھنے والوں کے لئے دعا فرمائی ہے۔ اس ضمن میں حزم و احتیاط کی تلقین فرماتے ہوئے مفتری اور کذاب کے عواقب سے خبردار کر دیا اور بتا دیا کہ روایت حدیث میں کذب بیانی اور افترا کی سزا دوزخ ہے۔

اسی پاک مقصد کے پیش نظر کئی صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم آنحضرتﷺ کی احادیث کو قلمبند کر کے محفوظ کر لیا کرتے تھے۔ اِسی نظریے کو سامنے رکھتے ہوئے صحابۂ کرامؓ کے بعد تابعین، تبع تابعین اور پھر بعد میں آنے والے ہر دور میں اہلِ علم و فضل نے حادیث کو اپنے اپنے حسنِ انتخاب اور ذوقِ نظر کو ملحوظ رکھ کر کتبِ احادیث کی تالیف و تدوین کی۔

جب کسی علم وفن کی نشر واشاعت کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ غیب سے اس کے سامان بھی مہیا کر دیتا ہے۔ مشیتِ الٰہی نے جب اس سرزمین کو خدمتِ حدیث اور اشاعتِ سنت کے لئے پسند فرمایا تو ابتدا سے اس کے لئے مناسب و موزوں انتظام بھی فرما دیا۔ عہدِ خلافتِ راشدہ میں مسلمانوں نے اپنے قدم اس برصغیر کی سرزمین میں رکھے۔ حضرتِ عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں مسلمانوں کا ایک فوجی دستہ بمبئی کے ساحلی علاقے تھانہ میں پہنچا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ایک وفد سندھ کے کوائف و حالات معلوم کرنے کے لئے یہاں آیا۔ بعد میں مسلمان برابر اس برصغیر میں آتے جاتے رہے۔ رجال کے تذکروں سے معلوم ہوتا ہے کہ اکثر و بیشتر قائدینِ لشکر، سپہ سالار اور ان کے کئی فوجی سپاہی رواۃ حدیث میں شمار ہوئے ہیں۔ جب خلیفہ ولید بن عبد الملکؒ کے عہد میں محمد بن قاسمؒ نے بلاد سندھ کی فتح کو ایک حد تک پایۂ تکمیل کو پہنچا دیا تو ان کے ہمراہ بہت سے اتباع التابعین اس برصغیر بالخصوص سندھ میں داخل ہوئے۔

بعد میں بہت سے اور حضرات بھی بض سیاسی اور دینی وجوہ کی بنا پر اس ملک میں آ بسے اور اپنے ساتھ علمِ حدیث بھی سرزمین ِ سندھ میں لائے۔

ان میں سے بعض نے تو حفظ و روایت میں شہرت پائی اور بعض نے تصنیف و تالیف میں نام پیدا کیا۔ اس مقدس گروہ کے نامور بزرگوں میں:۔

موسیٰ بن یعقوب،             الثفقیؒ یزید بن أبی کبشہؒ

المفضل بن المہلّبؒ           أبو موسیٰ إسرائیل بن موسیٰ البصریؒ

عمرو بن مسلم الباہلیؒ         منصور بن حاتم نحویؒ

ابراہیم بن محمد دیبلیؒ         أحمد بن عبد اللہ دیبلیؒ

أبو العباس أحمد بن محمد المنصوریؒ

خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ آخر الذکر بزرگ منصورہ کے قاضی، مقتدر عالم دیں اور صاحبِ تالیف و تصنیف تھے اور بقول بعض تمسک بالحدیث اور عمل بالسنت کے باعث لوگ انہیں امام داود بن علی ظاہری کے مسلکِ فکر کے پیروکار تصور کرتے تھے۔

امتدادِ زمانہ سے حدیث کے چرچے کم ہو گئے۔ کتاب و سنت کے متبحر علماء شاذ شاذ نظر آنے لگے۔ حدیث وسنت کے طلبہ کی تعداد بہت قلیل ہو گئی۔ سلاطینِ غزنویہ اور شاہانِ غوریہ کے عہدِ حکومت میں دیگر علوم نے زیادہ رواج پا لیا۔ طلبِ حدیث کا ذوق کم سے کم تر ہوتا چلا گیا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ لے دے کر صفانی کی مشارق الأنوار علمائے حدیث کا سرمایۂ علم ٹھہری اور اگر کسی نے بڑی ہمت کی اور مصابیح السنہ اور مشکوٰۃ المصابیح تک رسائی حاصل کر لی تو اس نے سمجھا کہ محدث کا درجہ مل گیا ہے۔ اس اندازِ فکر اور طریقِ عمل سے علم حدیث سے وابستگی اور دل بستگی کم ہو گئی۔ کتبِ صحاح ایسے اہم مصادرِ حدیث سے واقفیت نہ رہی۔ پھر یہ دور بھی آیا کہ مشکوٰۃ پڑھنے والے بھی بطورِ تبرک پڑھتے، فہم و عمل کا جذبہ سرد پڑ گیا۔

جب علمائے کرام کی توجہ کتاب و سنت سے ہٹ کر دوسرے علوم کی طرف ہو گئی۔ تو کتبِ حدیث کی جگہ کتبِ فقہ نے لے لی۔ اور وہ بھی علمی اور اجتہادی انداز میں نہیں بلکہ تقلیدی اور تدریسی انداز میں نتیجہ یہ نکلا کہ اس برصغیر میں قرآن و حدیث کے بجائے کتبِ فتاویٰ پر اعتماد و انحصار ہونے لگا۔

بایں ہمہ سر زمینِ پنجاب میں شیخ بہاء الدین زکریا ملتانیؒ (م ۶۶۶ھ) اور انکے جانشیں شیخ جمال الدین محدثؒ اور شیخ رکن الدینؒ بن شیخ صدر الدینؒ ملتان میں اور سید جلال الدین بخاریؒ مخدوم جہانیاں (م ۷۸۵ھ) اُچ میں حدیث و سنت کی شمعیں جلائے نظر آتے ہیں۔ ان بزرگوں نے اپنے اپنے حلقوں میں درسِ حدیث کو جاری رکھ کر سنت نبوی اور درس و تدریسِ حدیث کو زندہ رکھنے کی بڑی کوشش کی۔ شیخ بہاؤ الدین زکریاؒ نے تو مسنون دعاؤں کا ایک مجموعہ تالیف فرما کر ادعیۂ ماثورہ کو رواج دیا۔

اِن مساعی کے باوجود علم حدیث سے سرد مہری اور بے توجہی کی عام حالت نویں صدی ہجری کے آخر تک رہی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حالات سازگار بنا دیئے۔ کئی بزرگانِ دین حدیث و سنت کی شمعیں روشن کرنے کے لئے اس برصغیر میں تشریف لائے۔ لیکن انہوں نے احمد آباد کے علاقے کو اپنی مساعی کا مرکز بنایا۔

ان بزرگوں میں مندرجہ ذیل حضرات کے أسمائے گرامی خاص طور پر قابلِ ذِکر ہیں:۔

٭ شیخ عبد المعطی بن حسن بن عبد اللہ باکثیر المکیؒ (متوفی احمد آباد ۹۸۹ھ)

٭ شیخ احمد بن بدر الدین المصریؒ (متوفی احمد آباد ۹۹۲ھ)

٭ شیخ محمد بن أحمد بن علی الفاکہی حنبلیؒ (متوفی احمد آباد ۹۹۲ھ)

٭ شیخ محمد بن محمد عبد الرحمٰن المالکی المصریؒ (متوفی احمد آباد ۹۱۹ھ)

٭ شیخ رفیع الدین چشتی شیرازیؒ (متوفی اکبر آباد ۹۵۴ھ)

٭ خواجہ میر کلاں ہردیؒ (متوفی اکبر آباد ۹۸۱ھ)

بعض علمائے کرام نے حرمین شریفین جا کر علم حدیث حاصل کیا۔ پھر وطن واپس آکر اس مقدس علم کی نشر و اشاعت اور تعلیم و تدریس میں سرگرم عمل رہے۔ مثلاً شیخ عبد اللہ بن سعد اللہ سندیؒ اور شیخ رحمۃ اللہ بن عبد اللہ ابراہیم سندیؒ نے حجاز جا کر تحصیلِ علمِ حدیث کیا۔ واپسی پر درس و تدریس میں مشغول ہوئے اور گجرات کاٹھیاوار کے علاقے میں مدت العمر درسِ حدیث دینے کے بعد پھر حجاز کو ہجرت فرمائی اسی طرح:۔

شیخ یعقوب بن حسن کشمیریؒ (متوفی ۱۰۰۳ھ)       شیخ جوہر کشمیریؒ (م ۱۰۲۲ھ)

شیخ عبد اللہ بن شمس الدین سلطانپوریؒ     شیخ قطب الدین عباسی گجراتیؒ

شیخ محمد بن طاہر پٹنیؒ اور سید عبد الأول بن علی بن علا الحسینیؒ

اِس بابرکت گروہ کے اکابرین میں شمار ہوتے ہیں۔

شیخ محمد بن طاہر پٹنیؒ (م ۹۷۶ھ) بڑے بالغ نظر عالم اور فنونِ حدیث میں یگانۂ روزگار تھے۔ درس و تدریس اور تصنیف و تالیف کے سلسلے میں بیش بہا خدمات انجام دیں۔ غریب الحدیث میں ''مجمع البحار''، أسماء الرجال میں ''المغنی'' اور موضوعات میں ''تذکرہ'' تصنیف فرمایا۔ ان کی اَن تھک کوششوں سے علمِ حدیث کا پھر رواج ہوا اور علما ءنے اس اہم مصدرِ شریعت کی جانب پھر سے توجہ فرمائی۔

شیخ علی متقی گجراتیؒ (م ۹۷۵ھ) نے بھی قابلِ قدر اور لائقِ تحسین خدمات سر انجام دیں، لیکن ملک کے سیاسی حالات کے پیشِ نظر وہ حجاز میں جا بیٹھے اور وہیں خدمتِ حدیث میں مصروف رہے۔ آپ کی یادگار تالیف کنز العمال ہے۔

اسی طرح شیخ عبد الأول بن علی بن علاؤ الدین الحسینیؒ (م ۹۶۸؁ھ) نے اپنی دادا شیخ علاؤ الدینؒ ایسے فضیلت مآب محدث سے علمِ حدیث پڑھا اور پھر درس و تدریس کے ذریعے اس بابرکت علم کو رواج دیا۔ فیض الباری شرح صحیح البخاری اپنی یادگار چھوڑی۔ ان کے نامور تلامذہ میں شیخ طاہر بن یوسف سندی (م ۱۰۰۵؁ھ) خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں جنہوں نے برہان پور میں مدت العمر درسِ حدیث دیا اور علما کی کثیر تعداد نے ان سے استفادہ کیا۔

پھر شیخ عبد الحق بن سیف الدین البخاری دہلویؒ (م ۱۰۵۲؁ھ) کا دور شروع ہوا۔ دہلی میں مدتُ العمر درسِ حدیث دیا۔ تدریس کے علاوہ تصنیف و تالیف کے ذریعے نشر و اشاعتِ حدیث کے سلسلے میں بیش بہا خدمات انجام دیں۔

شیخ نور الحقؒ (بن شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ) متوفی ۱۰۷۲؁ھ، شیخ الإسلام شارحِ بخاری اور شیخ سلام اللہ صاحبؒ المحلی والکمالین نے بھی خدمات انجام دیں۔

شیخ احمد بن عبد الأحد سر ہندیؒ (مجدد الف ثانی) امام طریقہ مجددیہ، اور ان کے صاحبزادے محمد سعید شارحِ مشکوٰۃ کی خدمات بھی بڑی گراں قدر ہیں، بالخصوص ان کی اولاد میں فرخ شاہؒ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ:۔

''انہیں ستر ہزار احادیث متن، اسناد اور جرح و تعدیل کے ساتھ حفظ تھیں۔''

مجدد الف ثانیؒ کی اولاد میں سے سراج احمد سر ہندیؒ ثم رامپوری نے جامع الترمذی کی شرح لکھی۔ اسی طرح شیخ محمد اعظم بن سیف الدین معصومی سر ہندیؒ نے صحیح بخاری کی شرح قلمبند کی۔

اس برصغیر میں اشاعتِ حدیث کے سربراہوں میں شیخ محمد افضل سیالکوٹیؒ بھی ہیں جو شیخ عبد الأحد بن محمد سعید سرہندیؒ کے جلیل القدر رفقا اور تلامذہ میں سے تھے۔ ان سے حدیث پڑھنے کے بعد حجاز جا کر شیخ سالم بن عبد اللہ البصری المکیؒ سے تحصیلِ حدیث کی، وطن واپس آکر دہلی میں اقامت اختیار کی اور تدریسِ حدیث کے لئے زندگی وقف کر دی۔

شیخ صفۃ اللہ رضوی خیر آبادیؒ نے حجاز پہنچ کر شیخ محمد بن ابراہیم الکردیالمدنیؒ سے علم حدیث حاصل کیا اور وطن واپس آکر خیر آباد میں تدریسِ حدیث کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی۔

شیخ محمد فاخر بن یحییٰ العباسی الٰہ آبادیؒ نے شیخ محمدحیات سندی مدنیؒ سے علمِ حدیث حاصل کیا اور اس مقدس علم کی نشر و اشاعت کے لئے کمر بستہ ہو کر مصروفِ عمل ہو گئے۔

شیخ خیر الدین سورتیؒ نے بھی شیخ محمد حیات سندیؒ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا اور تحصیلِ حدیث کے بعد اپنے شہر سورت میں برابر پچاس برس درسِ حدیث دیا۔ کثیر التعدادعلما نے فیض پایا۔

پھر طائفۂ اہلِ حدیث کے سرخیل اور برصغیر پاک وہند کے محدثین کے زعیم، حکیم الأمت حضرت شاہ ولی اللہؓ بن عبد الرحیم العمری دہلویؒ (متوفی ۱۱۷۶؁) کا دور شروع ہوا۔ شاہ صاحبؒ موصوف نے حجاز پہنچ کراستاذ الاساتذہ اور شیخ الشیوخ ابو طاہر محمد بن ابراہیم الکروی المدنیؒ اور دیگر ائمۂ حدیث سے علمِ حدیث حاصل کیا۔ وطن واپس آکر دہلی میں مسندِ تدریس پر رونق افروزہوئے اور علم حدیث کی نشر و اشاعت شب و روز کوشاں رہے۔ درس و تدریس کے علاوہ تصنیف و تالیف کے ذریعے بھی خدمتِ حدیث بجا لائے۔ کتاب و سنت کے نور کو عام کر دیا۔ قرآن و سنت کی روشنی میں فقہی امور میں تطبیق پیدا کی اور آج کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کے چرچے انہی کے دم قدم کا نتیجہ ہیں۔ شاہ صاحبؒ کی اولاد میں سے شاہ عبد العزیزؒ، شاہ عبد القادرؒ، شاہ رفیع الدینؒ اور ان کے پوتے شاہ اسماعیل شہیدؒ نے علمِ حدیث کے پرچم کو چار دانگ ملک میں لہرایا اور سر بلند کیا۔

شاہ محمد اسحاقؒ بن محمد افضل العمریؒ سبط شاہ عبد العزیزؒ نے اپنے نانا شاہ عبد العزیزؒ سے علمِ حدیث حاصل کیا۔ درس و تدریس کے ذریعے خدمتِ حدیث کی اور کثیر التعداد علماء نے موصوف سے استفادہ کیا اپنے زمانے میں استاذِ شیوخِ حدیث کہلائے۔

شیخ عبد الحق بن فضل اللہ عثمانیؒ (متوفی ۱۲۷۶ھ) نے دہلی میں خاندانِ ولی اللہ کے علاوہ صنعا یمن میں جا کر سندیؒ، بہکلیؒ اور شوکانیؒ اور عبداللہ بن اسماعیل الأ سیر سے علمِ حدیث حاصل کیا اور وطن واپس آکر درس و تدریس میں مشغول ہوئے۔

شیخ عبد الغنی بن ابی سعید دہلویؒ مہاجرِ مدینہ (متوفی ۱۲۹۶؁ھ) نے شیخ اسحاقؒ سے تحصیلِ علم کے بعد حجاز جا کر شیخ عابد سندیؒ اور دیگر علمائے حدیث سے علمِ حدیث پڑھا اور واپسی پر تدریسِ حدیث کے لئے ہمہ تن مصروف ہو گئے۔ سنن ابن ماجہ کی علیقات قلمبند کیں (تعلیقات علی سنن ابن ماجہ)

مفتی عبد القیوم بن عبد الحی صدیقی برہانویؒ (متوفی ۱۲۹۹؁ھ) نے شاہ محمد اسحاقؒ سے تحصیل حدیث کی اور تدریس کے ذریعے نشر و اشاعت میں مصروف رہے۔

مولانا احمد علی بن لطف اللہ سہارنپوریؒ (متوفی ۱۲۹۷؁ھ) نے شیخ وجیہ الدین سہارنپوریؒ اور شاہ اسحاقؒ سے علم حدیث پڑھا اور درس و تدریس میں مشغول رہے۔ کتبِ حدیث بالخصوص صحیح بخاری کی صحت کا اہتمام کیا اور بڑا مفید حاشیہ لکھا۔

قاری عبد الرحمن بن محمد انصاری پانی پتیؒ (م ۱۳۱۴؁ھ) نے شیخ اسحاقؒ موصوف سے اخذِ علم کیا، مدت العمران کی صحبت میں رہے۔ درس و تدریس کے ذریعے حدیث کی بڑی خدمت کی۔

سید عالم علی نگینویؒ (م ۱۲۹۵؁ھ) بھی شاہ اسحاقؒ کے شاگرد تھے۔ مراد آباد میں مدت العمر درسِ حدیث دیتے رہے۔

سید نذیر حسین دہلویؒ (م ۱۳۲۰؁ھ) حضرت میاں صاحبؒ ان سے عرب و عجم نے حدیث سیکھی اور اپنے عہد میں اقلیم حدیث کے تاجدار ٹھہرے۔

سید حسن شاہ رامپوریؒ (متوفی ۱۳۱۲؁ھ) نے سید عالم علیؒ سے تحصیلِ حدیث کی اور رامپور میں درسِ حدیث دیتے رہے۔ کثیر التعداد علما نے استفادہ کیا۔

مولانا ولایت علی صادق پوریؒ (م ۱۲۶۹؁ھ) نے شاہ اسماعیل شہیدؒ سے پھر قاضی محمد بن علی شوکانیؒ سے تحصیلِ حدیث کی اور سنت کی اشاعت میں بڑی سرگرمی سے منہمک رہے۔ بے شمار علمائ نے ان سے حدیث پڑھی۔

مولانا قاضی محمد بن عبد العزیز جعفریؒ مچھلی شہری (م ۱۳۲۰؁ھ) نے مولانا عبد الغنی بن ابی سعید دہلویؒ سے اور شیخ عبد الحق بن فضل اللہ عثمانیؒ اور دیگر ائمۂ حدیث سے تحصیل علم کیا اور خلق کثیر نے ان سے استفادہ کیا۔

مولانا رشید احمد گنگوہیؒ (متوفی ۱۳۱؁ھ) شیخ عبد الغنیؒ مذکور سے اخذِ علم کے بعد تیس سال تک درس و تدریس میں مصروف رہے اور صحاح ستہ کو ایک سال میں ختم کراتے تھے۔ تدبر واتقان اور ضبط و تحقیق میں ان کا درس بے نظیر ہوتا تھا۔

سید نواب صدیق الحسن خاں حسینیؒ بخاری قنوجی (م ۱۳۱۷؁ھ) نے نصنیف و تالیف کے ذریعے علم حدیث کو عام کر دیا۔ کتبِ حدیث کو نشر کرنے میں بے مثال خدمات انجام دیں۔ فتح الباری، نیل الأوطار اور بہت سی دیگر کتبِ حدیث شائع کیں۔ نواب صاحب مرحوم کے احسانات سے امت عہدہ برآ نہیں ہو سکتی۔

مولانا شمس الحق بن امیر علی ڈیانویؒ شاگرد حضرت میاں صاحبؒ نے عون المعبود شرح سنن ای داؤد التعلیق المغنی علی سنن الدار قطی اور دیگر کتب کے ذریعے اشاعتِ حدیث میں بڑا حصہ لیا۔

مولانا حافظ عبد المنان صاحب وزیر آبادیؒ (م ۱۳۳۴؁ھ) شاگرد حضرت میاں صاحبؒ، نے وزیر آباد میں مدت العمر درس حدیث دیا اور بے شمار علمائ نے فیض پایا۔

مولانا سید امیر حسینؒ سہسوانی (ام ۱۲۹۱؁ھ) حافظ عبد اللہ غازی پوریؒ (م ۱۳۳۷؁ھ) مولانا محمود الحسنؒ دیو بندی (م ۱۳۳۹؁ھ) مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ، مولانا عبد الرحمٰن مبارکپوریؒ علمبردارانِ سنت و حدیث کے نامور قافلہ سالاروں میں شمارے ہوتے ہیں۔

٭٭٭٭٭