اذان ''تأذین'' (باب تفعیل) کا حاصل مصدر ہے جس کے معنی ''اعلان'' کے ہیں۔ نمازوں کے لئے جو اذان کہی جاتی ہے۔ اس سے بھی مقصد اعلان ہی ہے۔ لیکن شریعت میں جو کام دوسری عبادات کا وسیلہ ہیں وہ خود بھی عبادت ہیں جن پر ثواب ملتا ہے جیسا کہ وضو وغیرہ۔ اس لئے اگر اعلان کے لئے الفاظِ مسنونہ کی بجائے دوسرے طریقے اختیار کئے جائیں تو وہ عبادت نہ ہوں گے اور ان پر ثواب بھی نہیں ملے گا۔ اذان کے الفاظِ مسنونہ پر اجر و ثواب کی احادیث کتبِ حدیث میں بہت موجود ہیں، لیکن طوالت سے بچنے کے لئے صرف بخاری کی ایک حدیث نقل کی جاتی ہے۔

«عن أبی ھریرۃ إن رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیه وسلم: لو یعلم الناس ما فی النداء والصف الأول ثم لم یجدوا إلا أن یستھموا علیه لااستهموا علیه؛ الحدیث»

رسول اللہ (ﷺ) فرماتے ہیں کہ اگر لوگ اذان اور پہلی صف کا ثواب جانتے پھر وہ قرعہ اندازی کے بغیر اس کا موقعہ نہ پا سکتے تو وہ ضرور قرعہ اندازی سے ہی اس کا فیصلہ کرتے (کہ کون اذان کہے؟۔۔۔۔)

معلوم ہوا کہ اذان کے الفاظ مسنونہ چھوڑ کر دیگر اعلانات سے یہ فضیلتیں جاتی رہیں گی۔ نیز جب نماز کے اعلان کے بارہ میں نبیﷺ اور صحابہؓ کی بات چیت ہوئی تو اس وقت صحابہ کی طرف سے مختلف تجاویز پیش ہوئی تھی۔ کسی نے ''ناقوس'' کا ذِکر کیا، رسول اللہﷺ نے فرمایا:۔

''وہ نصاری کے لئے ہے''

کسی نے ''بوق'' کا ذِکر کیا، آپؐ نے فرمایا:۔

''وہ یہود کے لئے ہے''

کسی نے آگ بلند کرنے کا ذِکر کیا، آپؐ نے فرمایا:۔

''وہ مجوس کے لئے ہے۔''

اِس قسم کی تجاویز کے بعد مجلس برخاست ہو گئی۔

بعد ازاں عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ الانصاری نے خواب دیکھا جس میں انہوں نے ایک شخص کے پاس ناقوس دیکھ کر اس سے بیچنے کے متعلق دریافت کیا تاکہ وہ اس سے نماز کا اعلان کریں ،لیکن اس شخص نے اعلان کے لئے اس سے بہتر کلمات (اذان) سکھائے۔ جب یہ خواب رسول اللہﷺ سے ذِکر ہوئی تو آپﷺ نے نماز کے لئے یہی اذان مقرر فرما دی اور اس طرح سے یہ اذان مشروع ہو گئی۔ اس حدیث کو امام احمد، ابو داؤد، ترمذی اور ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے۔ یہی اذان حضرت عمرؓ نے بھی خواب میں سیکھی اور آپﷺ سے اس کا ذِکر کیا۔

اب اگر مقصد صرف اعلان کرنا ہی ہو تو کیا نماز کے لئے بھی اذان کی بجائے دیگر اعلانات مثلاً ''نماز تیار ہے۔'' وغیرہ امر بالمعروف کے ضمن میں آسکتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اعلان کے مقصد ہی سے شریعت نے یہ اذان مقرر کی ہے اور اہم موقعوں پر اس کا استعمال سکھایا ہے جو اعلان ہونے کے ساتھ عبادت بھی ہے۔ نبیﷺ اور خلفائے راشدین کے زمانہ میں نماز کے علاوہ سحری کے لئے اور خطبۂ جمعہ شروع ہونے سے قبل (جمعہ کی تیاری کے لئے) پہلی اذان کا ثبوت ملتا ہے۔ گویا صحابہ نے نبیﷺ سے یہی سمجھا ہے کہ اگر کوئی اہم ضرورت ہو تو اعلان کے لئے الفاظ مسنونہ کو ہی استعمال کرنا چاہئے۔

مذکورہ بالا بیان میں ضمناً حضرت عثمانؓ کا جمعہ کی پہلی اذان رائج کرنا اور پھر اس کے رواج عام پانے کی حقیقت بھی واضح ہو گئی۔ (وثبت الأمر علی ذلك) اسی طریقہ پر عمل رائج ہو گیا۔ (بخاری)

تصحیح

ماہنامہ ''محدث'' جلد ۱، عدد ۳،۲ میں مضمون عشرہ ذی الحجہ قربانی کے فضائل و احکام، اشاعت ذی القعدہ، ذی الحجہ ۱۳۹۰ھ کے ص ۳۲ سطر ۹ میں تصحیح فرمالیں۔ صحیح عبارت (سولہ باقی ماندہ حضرت علی کو دیئے کی بجائے) ۳۷ باقی ماندہ حضرت علی کو دیئے۔۔۔۔ ہے۔ (ادارہ)