نیل الاوطار / ۴۹:۲ میں فتح الباری شرح البخاری سے نقل کیا ہے کہ:۔

''بعض حنفیہ نے اذانِ سحری کی یہ تاویل کی ہے کہ یہ (اذا سحری) حقیقی اذان نہ تھی جو الفاظ مقررہ سے متعارف ہے بلکہ وہ تذکیر اور منادی کرنا تھا کما یقع للناس الیوم (جیسا کہ آج کل مروج ہے۔)''

حافظ ابن حجرؒ نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ:۔

''یہ بدعت ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس اذان کے متعلق وارد حدیثیں باہم اس کے لفظ اذان کے ساتھ ہونے کو مضبوط کر رہی ہیں اور شرعی معنی (اذان کے الفاظِ مسنونہ) مراد لینا لغوی اور مجازی معنی سے مقدم ہے۔ نیز اگر اذانِ سحری الفاظِ مسنونہ کے سات نہ ہوتی تو سامعین پر اس کے اذانِ فجر ہونے کا شبہ نہ ہوتا (جس کے زائل کرنے کے لئے وضاحت فرمائی۔)