کیا اذان کی بجائے لاؤڈ سپیکر پر اعلان درست ہے؟


ہفت روزہ ''اہلحدیث'' لاہور مورخہ ۴ دسمبر ۱۹۷۰؁ (۱/۴۷:۵) میں چند مسائل بطور سوال جواب درج ہیں۔ مفتی مولانا ابو البرکات احمد گوجرانوالہ ہیں اور جوابات کی تصدیق حضرت مولانا حافظ محمد صاحب گوندلوی نے کی ہے۔ اس وقت میں ایک جواب پر تعاقب کر رہا ہوں، جو ہدیۂ ناظرین ہے۔ (حصاری)

مسئلہ: (الف) ''رمضان المبارک میں جو سحری کی اذان کہی جاتی ہے، اس کا ثبوت کیا ہے؟

(ب) اگر اذان کی بجائے لائوڈ سپیکر پر اعلان کر کے لوگوں کو بیدار کیا جائے تو کیا یہ جائز ہوگا؟ کتاب و سنت کی روشنی میں تحریر کریں۔''

مفتی صاحب کا جواب:

''نبیﷺ کے دو مؤذن تھے۔ حضرت بلالؓ اور ابن اُم مکتومؓ۔ حضرت بلالؓ کی اذان کے متعلق علما کے درمیان اختلاف ہے کہ آیا وہ سحری کے لئےتھی یا فجر کے لئے؟ صحیح بات یہی ہے کہ وہ فجر کے لئے تھی، کیوں کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اذان سال بھر چلتی تھی، لہٰذا خاص سحری کے نام پر اذان کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ لوگوں کو سپیکر کے ذریعہ بیدار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، یہ امر بالمعروف کے ضمن میں آجاتا ہے۔''

ناظرینِ کرام!

یہ فتویٰ کتاب و سنت کی رو سے صحیح نہیں ہے بلکہ امر بالمعروف کے نام پر اذان مسنونہ کی بجائے لاؤڈ سپیکر پر اعلان کرنا بدعت ہے۔ اصل بدعت وہی ہے جو سنت کی جگہ رائج ہو جائے۔ لہٰذا اذان سحری کی بجائے درود و صلوٰۃ پڑھنا، نقارہ بجانا اور دیگر رسمی چیزیں دھونسہ، گولہ، سیٹی وغیرہ بدعت ہیں، البتہ اذانِ مسنونہ کو دور تک پہنچانے کے لئے لاؤڈ سپیکر کا استعمال درست ہے۔

میں پہلے سحری کی اذان کا ثبوت پیش کرتا ہوں پھر اس کی بجائے لاؤڈ سپیکر پر دیگر اعلانات کا بدعت ہونا ثابت کروں گا۔

«عن عائشة إن بلالا کان یؤذن بلیل، فقال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم کلوا واشربوا حتی یؤذن ابن امّ مکتوم فانه یوذن حتی یطلع الفجر» البخارى كتاب الصوم

عائشہ کہتی ہیں: حضرت بلال رات کے وقت اذان دیا کرتے تھے۔ پس رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا: تم سحری کے وقت کھاتے پیتے رہا کرو یہاں تک کہ مؤذن ابن ام مکتوم اذان دے۔ وہ طلوع فجر سے پہلے اذان نہیں دیا کرتے تھے۔

اس صحیح حدیث (قطعی الثبوت، قطعی الدلالت) سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہیں۔

(الف) عہدِ نبویﷺ میں دو مؤذن مسجد نبویﷺ میں مقرر تھے؛ ایک بلال۔۔۔ جو سحری کے وقت اذان کہتے تھے، دوسرے ابن ام  مکتوم ۔۔۔۔ جو طلوعِ فجر پر اذان دیا کرتے تھے۔

(ب) فجر سے پہلے سحری کے وقت اذان کہنا مسنون ہے اور یہ بھی کہ یہ تعامل عہدِ نبویؐ میں جاری رہا کیوں کہ لفظ ''کان یؤذن'' ماضی استمراری ہے۔

(ج) سحری کی اذان کے وقت روزہ رکھنے والے کو کھانا پینا درست ہے جب کہ فجر کی اذان سے کھانا پینا بند ہو جاتا ہے۔

(د) مسجد میں دو مؤذن (عن ابن عمر قال كان لرسول الله مؤذنان : بلال و ابن أم مكتوم-مسلم 1/125-12منه)مقرر کرنے مسنون ہیں؛ ایک سحری کے وقت اذان دینے والا، دوسرا فجر طلوع ہونے پر اذان دینے والا۔ یہ اس لئے ہے کہ دو مختلف آوازوں سے اذانِ سحری اور فجر کا امتیاز ہو جائے۔

«عن عبد اللّٰه بن عمر قال سمعت رسول اللّٰه (ﷺ) یقول: إن بلالا یؤذن بلیل فکلوا واشربوا حتی تسمعوا أذان ابن أم مکتوم»مسلم249/1

ابن عمرؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ بلالؓ تورات کے وقت اذان دیتا ہے اس لئے تم کھاتے پیتے رہو حتیٰ کہ ابن ام مکتوم کی اذان سن لو۔

« عن ابن مسعود عن النبیﷺ قال: إن بلالا یؤذن بلیل لیوقظ نائمکم ولیرجع قائمکم» امام محمد بن الحسن الشیبانی (موطا امام محمد مترجم:138) اور حافظ ابن حزم المحلی 117/2) نے وضاحت کی ہے کہ بلال﷜ سحری کے وقت اذان دیتے تھے ۔ النسائی1075/1

ابن مسعودؓ نے آپﷺ سے روایت کیا ہے کہ بلالؓ رات کو اذان کہتا ہے تاکہ سونے والے کو بیدار کرے اور قیام کرنے والا واپس لوٹ جائے۔

اس حدیث میں اذانِ سحری کا مقصد بیان کیا ہے۔

«عن عائشۃ قالت: قال رسول اللّٰه ﷺ: إذا أذن بلال فکلوا واشربوا حتی یؤذن ابن أم مکتوم قالت: ولم یکن بینھما إلا ینزل ھذا ویصعد ھذا» النسائى 74/1

عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک مؤذن اذان کہہ کر اترتا تھا تو دوسرا اذان کے لئے چڑھ جاتا تھا۔

اِس حدیث میں دو اذانوں کا درمیانہ وقفہ (مبالغۃً) ذکر ہے۔ وقت کے اندازہ سے مقصد یہ ہے کہ نبیﷺ اور ان کے صحابہؓ سحری دیر سے کھاتے تھے۔ یعنی پہلی اذان پر کھانا شروع کرتے جب کہ فوری طور پر دوسری اذانِ فجر ہو جاتی۔

«عن سمرة بن جندب قال: قال رسول اللّٰه (ﷺ) لا یمنعکم من سحورکم أذان بلال ولا الفجر المستطیل ولکن الفجر المستطیر في الأفق»مسند احمد’ مسلم

رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کہ تم کو سحری کھانے سے بلال کی اذان اور صبح کاذب جس میں سفیدی بلندی کی طرف اُٹھنے والی ہوتی ہے۔۔۔۔ نہ روکے لیکن وہ صبح۔۔۔۔۔ جس میں سفیدی دائیں بائیں پھیلتی ہے۔۔۔۔ سحری کھانے سے مانع ہے۔

اس حدیث پر امام احمدؒ نے یوں عنوان لکھا ہے۔ باب وقت السحور واستحباب تاخیرہٖ۔ یعنی سحری کا وقت اور اس کو دیر سے کھانے کا استحباب۔ اور موطا میں امام مالکؒ نے ایک باب یوں باندھا ہے۔ قدر السحور من النداء یعنی اذان کے ذریعہ سے سحری کا اندازہ۔

خبیب بن عبد الرحمٰن بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے میری پھوپھی۔۔۔۔ نے بیان کیا:۔

«کان بلال وابن أم مکتوم یؤذنان للنبي (ﷺ) فقال رسول اللہ ﷺ إن بلا لا یؤذن بلیل، فکلوا واشربوا حتی یؤذن ابن أم مکتوم؛ فکنا نحبس ابن أم مکتوم عن الأذان، فنقول کما أنت حتی نتسحر ولم یکن بین أذا نیھما إلا أن ینزل ھذا ویصعد ھذا»مسند ابى داؤد الطيالسى185/1

نبیﷺ نے دو شخص مؤذن مقرر کر رکھے تھے (جواپنے اپنے وقت پر اذان دیا کرتے تھے۔) ایک بلالؓ اور دوسرا ابن ام مکتومؓ۔ نبیؐ نے فرمایا: بلالؓ رات کو (سحری کے وقت) اذان دیتا ہے۔ تم اس وقت تک کھاؤ پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے۔ ہم ابن ام مکتوم سے کہتے، ٹھہر جا! کہ ہم سحری کھا لیں۔ دونوں اذانوں کے درمیان اتنا تھوڑا وقفہ ہوتا تھا کہ ایک اترتا تو دوسرا چڑھ جاتا۔

مولانا عبد الجلیل صاحب جھنگوی نے اپنے رسالہ اذا ن سحور کے ص ۱۰ میں امام نوویؒ سے نقل کیا ہے کہ:۔

''علما کرام نے اس کی صورت یہ بتائی ہے کہ حضرت بلالؓ فجر سے پہلے سحری کی اذان دے کر ذکر دعا وغیرہ میں مشغول رہتے تھے۔ جب دیکھتے کہ فجر ہونے کے قریب ہے تو اتر آتے اور ابن ام مکتوم کو اطلاع دیتے جو پوہ پھٹنے پر اذان دیتے۔''

پھر مولانا موصوف نے حجۃ اللہ البالغہ / ۱۹۲:۱ سے نقل کیا ہے کہ:

''امام دو مؤذن ایسے مقرر کرے جن کی آواز لوگ پہنچانتے ہوں اور لوگوں کے لئے امام اس کا تفصیلاً اعلان کر دے۔'' (ملخصاً)

«عن أبی محذورۃ قال: قال رسول اللّٰه (صلی اللّٰہ علیہ وسلم) أمناء المسلمین علی صلاتھم وسحورھم المؤذنون»السنن الكبرى للبيهقى426/1 ایک اور روایت میں ہے کہ «ألمؤذنون أمناء الله على فطرهم وسحورهم» مجمع الزوائد143/1 اور مشکوۃ میں ہے «عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم خصلتان معلقتان في أعناق المؤذنين للمسلين صيامهم وصلوتهم » رواه ابن ماجه وقال القارى سنده صحيح یہ دونوں حدیثیں ۔

رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کہ مسلمانوں کی نمازوں اور سحریوں پر امین ان کے مؤذن ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اذانِ نماز کی طرح اذانِ سحری کے لئے بھی مؤذن مقرر ہوتا ہے1، جیسا کہ عہدِ نبوی میں تھا اور یہی عمل مسنون ہے۔

اذان  مسنونہ کی بجائےلاؤڈ سپیکر پر اعلان وغیرہ بدعت ہے

نیل الاوطار ؍2:49 میں فتح الباری شرح ابخاری سے نقل کیا ہے کہ:

’’بعض حنفیہ نے اذان سحری کی یہ تاویل کی ہے کہ یہ (اذان سحری) حقیقی اذان نہ تھی جو الفاظ مقررہ سے متعارف ہے بلکہ وہ تذکیر اور منادی کرنا تھا   کما یقع للناس الیوم (جیسا کہ آج کل مروج ہے‘‘ حافظ ا بن حجر نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ : ’’ یہ بدعت ہے حقیقت یہ ہے کہ اس اذان کے متعلق وارد حدیثیں باہم اس کے لفظ اذان کے ساتھ ہونے کو مضبوط کر رہی ہیں اور شرعی معنی (اذان کے الفاظ مسنونہ ) مراد لینا لغوی اور مجا زی معنی سےمقدم ہے .نیز اگر اذان

سحری الفاظ مسنونہ کے ساتھ نہ ہوتی تو سامعین پر اس کے اذان فجر ہونے کا شبہ نہ ہوتا( جس کے زائل کرنے کے لئے وضاحت فرمائی۔


 

1.امام ابو حنیفہ  امام محمد  فرماتے ہیں :. پہلی اذان نماز فجر کے لیے نہیں ہوا کرتی تھی بلکہ دوسری غرض سے تھی جس کو نبیﷺ نے   لیرجع قائمکم يوقظ نائمكم   سے بیان فرمایا ہے مرعاۃ المفاتح ََ 1 : 444