ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • مارچ
1971
ادارہ
پاکستان۔ جس کے قیام کا مقصد ''لا إلٰہ اإلا اللہ'' کی عملی تعبیر تھا اور جسے صحیح معنوں میں نمونہ کی اسلامی ریاست اور اسلام کا مضبوط حصار ہونا چاہئے تھا۔ اول روز ہی سے لا دین قوتوں کی ہوسِ اقتدار کی بدولت اپنی اصلی راہ پر گامزن نہ ہو سکا۔ جب کبھی اصلا  ح احوال کی تھوڑی سی امید پیدا ہوئی یہ قوتیں حرکت میں آگئیں اور انہوں نے ایسے حربے استعمال کئے جن سے مقصد کا حصول تو کجا منزل اور بھی دور ہو گئی۔
  • مارچ
1971
عبدالقادر عارف حصاری
ہفت روزہ ''اہلحدیث'' لاہور مورخہ ۴ دسمبر ۱۹۷۰؁ (۱/۴۷:۵) میں چند مسائل بطور سوال جواب درج ہیں۔ مفتی مولانا ابو البرکات احمد گوجرانوالہ ہیں اور جوابات کی تصدیق حضرت مولانا حافظ محمد صاحب گوندلوی نے کی ہے۔ اس وقت میں ایک جواب پر تعاقب کر رہا ہوں، جو ہدیۂ ناظرین ہے۔ (حصاری)
  • مارچ
1971
ادارہ
نیل الاوطار / ۴۹:۲ میں فتح الباری شرح البخاری سے نقل کیا ہے کہ:۔
''بعض حنفیہ نے اذانِ سحری کی یہ تاویل کی ہے کہ یہ (اذا سحری) حقیقی اذان نہ تھی جو الفاظ مقررہ سے متعارف ہے بلکہ وہ تذکیر اور منادی کرنا تھا کما یقع للناس الیوم (جیسا کہ آج کل مروج ہے۔)''
  • مارچ
1971
ادارہ
اذان ''تأذین'' (باب تفعیل) کا حاصل مصدر ہے جس کے معنی ''اعلان'' کے ہیں۔ نمازوں کے لئے جو اذان کہی جاتی ہے۔ اس سے بھی مقصد اعلان ہی ہے۔ لیکن شریعت میں جو کام دوسری عبادات کا وسیلہ ہیں وہ خود بھی عبادت ہیں جن پر ثواب ملتا ہے جیسا کہ وضو وغیرہ۔ اس لئے اگر اعلان کے لئے الفاظِ مسنونہ کی بجائے دوسرے طریقے اختیار کئے جائیں تو وہ عبادت نہ ہوں گے
  • مارچ
1971
حافظ محمد حسین امرتسری
ماہنامہ ''محدث'' لاہور شیخ التفسیر حافظ محمدحسین روپڑی، شیخ الحدیث حافظ عبد اللہ روپڑی اور خطیب ملت حافظ محمد اسماعیل روپڑی رحمہم اللہ اجمعین کے باقیات الصالحات سے ہے۔ اس لئے ادارۂ ''محدث'' گاہے بگاہے ان کے علمی اور تحقیقی مضامین شائع کرتا رہے گا تاکہ مرحومین کا فیض جاری ہے۔ زیر نظر مضمون شیخ التفسیر حافظ صاحب مرحوم کا ایک قلمی رسالہ ہے
  • مارچ
1971
عبدالقیوم
ہمارے حالات اور ہماری ضروریات کے پیشِ نظر علمِ حدیث کی نشر واشاعت اور ترویج وخدمت کے تین اہم ذرائع ہیں:
٭ درس و تدریس
٭ تالیف و تصنیف و ترجمہ
  • مارچ
1971
سلیم تابانی
ان کے والدین کو ان سے شدید محبت تھی، خصوصاً ان کی والدہ خناس بنت مالک نے مالدار ہونے کی وجہ سے اپنے جگر گوشے کو نہایت ناز ونعم سے پالا تھا۔ وہ اپنے زمانہ کے لحاظ سے عمدہ سے عمدہ پوشاک پہنتے اور لطیف سے لطیف خوشبو استعمال کرتے تھے۔ حضرمی جوتا جو اس زمانے میں صرف امرا ء کے لئے مخصوص تھا وہ ان کے روزمرہ کے کام آتا تھا اور ان کے وقت کا اکثر حصہ آرائش و زیبائش میں بسر ہوتا تھا۔
  • مارچ
1971
عبدالرحمن عاجز
دل ہے کہ ہوا جاتا ہے قربانِ محدث          دل ہے کہ ہوا جاتا ہے قربانِ محدث
اُبھرا افق علم سے اِک اور مجلہّ        دامن میں لیے سروِ چراغانِ محدث
تنویر ہی تنویر، تبسم ہی تبسم          یہ خلد بریں ہے کہ گلستانِ محدث
  • مارچ
1971
ادارہ
ألحمد لله رب العالمین، والصلاة والسلام علی نبینا محمد وعلی آله و صحبه ومن تبع سنته إلی یوم الدین۔ وبعد ، یخطیٔ کثیرا من یظن أن الرأسمالیة والإشتراکیة نظامان إقتصادیان فحسب، ویحسب أنھما لا یبحثان أو لا یتعرضان للنواحی الأخری، کالنواحی الاجتماعیة والسیاسیة والدینیة ۔۔۔۔ الخ۔ والإشتراکیة شئیأ، لأن حقیقة کل منهما غیر مخفیة أو مستورة۔ فهی ظاهرة بل واضحة کل الوضوح فی الکتب ألتی ألفها أصحاب هذین المذهبین، فبینوا حقیقة کل منهما مفصلا وموضحا۔