بلا شن و شبہ موت بر حق ہے اور موت کا ایک وقت مقرر ہے اور تمام لوگوں کومرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔"ہرجان موت چکھنے والی ہے" لیکن اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے اور اللہ کی طرف بلانے والے داعی کی موت عام آدمی سے مختلف ہوتی ہے۔ عالم کی موت مصیبت اور غمناک ہوتی ہے۔ عالم کی موت اسلام میں ایسارخنہ اور دراڑ پیدا کر دیتی ہے۔ جو بآسانی پر نہیں کی جاسکتی ۔اللہ نے فرمایا :
﴿أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا... ﴿٤١﴾...الرعد
"کیا انھوں نے نے دیکھا اور جانا نہیں کہ ہم زمین کی طرف آتے (نظر کرتے)ہیں اور اس کے اطراف و جوانب سے اسے کم کرتے ہیں۔کہا گیا ہے کہ زمین کو اطراف سے کم کرنے سے مراد "علماء حق کی موت "ہے۔اور بخاری و مسلم  رحمۃ اللہ علیہ  نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی حدیث روایت کی ہے جس میں ہے کہ میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے سنا فرماتے ہیں ۔"یقیناً اللہ تعالیٰ علم کو بندوں کے سینوں سے نہیں کھینچےگا لیکن علم کو علماء کو فوت کرنے کے ساتھ قبض فرمائے گا۔"
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کہتے ہیں "علم کو لازم پکڑو اس کے قبض ہونے اور اٹھائے جانے سے پہلے پہلے۔۔۔اور علم کے قبض ہونے سے مراد علماء کی موت ہے۔مزید فرماتے ہیں ۔"عالم کی موت اسلام میں ایک رخنہ ہے جسے مرورلیل و نہار اور ان کا تغیر پر نہیں کرسکتا ۔"
سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ  سے پوچھا کیا کہ لوگوں کی ہلاکتکی علامت کیا ہے؟جواب دیا جب ان کے علماء فوت ہو جا ئیں ۔گزشتہ چند ماہ کے دوران امت مسلمہ متعدد ممتاز علماء کی موت کے سبب غم واندوہ سے دوچار ہے۔
جیسےعلامہ عمر محمد فلاتہ علامہ محمود طناحی علامہ شیخ صالح بن غصون شیخ سالم و خیل علامہ عبدالقادر سندی شیخ الاسلام عبد العزیز بن باز شیخ مؤرخ ادیب محمد مجذوب علامہ علی طنطاوی  علامہ فقیہ مصطفیٰ زرقاء شیخ علامہ دکتورمناع قطان (اور علامہ محقق محدث العصر  شیخ محمد ناصر الدین البانی سید ابوالحسن علی ندوی حافظ عبد القادر روپڑی مولانا عبدالروف رحمانی جھنڈانگری وغیرہ )ان کی موت ایک عظیم مصیبت اور بہت بڑا غم و صدمہ ہے۔
قدرت کا اصول ہے کہ جودنیا میں لمبا عرصہ گزارتا ہے اس پر دنیا کی خوشیاں اور مصائب آتے رہتے ہیں انہی علماء میں سے جنہوں نے گزشتہ دنوں امت کو الوداع کہا مدینہ منورہ کے ایک نامور عالم فاضل جن کی عمدہ گفتگواور نافع دروس سے دنیا مستفید ہوتی تھی علامہ فقیہ قاضی علامہ عطیہ محمد سالم ہیں جو منگل کے روز 6ربیع الثانی 1420ھ (20/جولائی 1999ء)فوت ہوئے  رحمۃ اللہ علیہ  اللہ تعالیٰ انہیں اعلیٰ جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ان کی وفات پر ان کے چاہنے والوں اور ان کے تلازہ اور طلباء میں غم کی لہر دوڑ گئی ۔مجھے (شیخ سعد کو) بھی گہرا صدمہ ہوا کیونکہ میرے ان سے قریبی مراسم تھے عموماً ان کے پاس بیٹھا کرتا اور مدینہ منورہ میں ان کے گھر میں بکثرت ان کی زیارت کا شرف حاصل کرتا میں نے ان کے علم توجیہات و نکات اور تجربوں سے بھی خوب استفادہ کیا۔
شیخ  رحمۃ اللہ علیہ  مصر میں بریرہ شرقیہ سے متصل المہدیۃ میں 1346ھ (1927ء)کو پیداہوئے اور بڑی پاکیزہ پرورش و تربیت پائی ۔بچپن  میں اپنے چچا محمد مصطفیٰ عطیہ سالم کے گرویدہ رہے اور ان کا ساتھ اختیار کیا جن کا شمار ان لوگوں میں تھا جو حصول علم میں ہر قسم کی مشکل کو خندہ پیشانی سے برادشت کرتے ہوئے اپنی سی ہر ممکنہ کوشش میں لگے رہتے۔

شیخ عطیہ جب جوانی کو پہنچے تو اللہ تعالیٰ کے حرمت اور برکتوں والے شہر کی طرف ادائیگی حج کے لیے اور مسجد نبوی کی زیارت کے لیے سفر کرنے کا شوق چرایا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی نیک خواہش پوری فرمائی اور 1364ھ(1944ء

) میں آپ کی یہ دلی خواہش پوری ہوئی ۔مدینہ منورہ میں تشریف لانے کے بعد اہل مدینہ سے میل ملاقات میں گزر بسر ہوتی۔آپ نے مسجد نبوی میں علم وتعلم کا چرچادیکھا تو تحصیل علم کے لیے مدینہ منورہ میں رہائش پذیر ہونے کا خیال دل میں  جم گیا آپ صبح کے وقت دارالحدیث میں ہو تے اور شام کو مسجد نبوی کے علمی حلقوں میں بیٹھتے ۔اس طرح طلب علم میں مگن ہوگئے اور محنت اور مشقت کی پروانہ کرتے ہوئے علمائے مدینہ سے متعدد کتب حدیث پڑھیں جن میں مؤطاامام مالک بلوغ المرام صحیح البخاری سنن ابی داؤد ،ریاض الصالحین  نیل الاوطاراور مصطلح الحدیث فرائض اور نحو وغیرہ جیسے علوم شامل ہیں ۔

آپ کے اساتذہ تو کثیر ہیں لیکن جس استاذ سے پورے اہتمام سے تحصیل علم کی ان سے علمی اثر قبول کیا اور سفر وحضر میں ان کا ساتھ اختیار کیا وہ عظیم عالم محمد امین شنقیطی سے صاحب تفسیر اضواءالبیان ہیں ان سے مختلف فنون کی بہت سی کتابیں پڑھیں جن کا شمار مشکل ہے۔۔شیخ شنقیطی سے حصول علم کا اس قدر اہتمام کیا کہ گویا ایک درسگاہ سے منسلک ہوں شیخ عطیہ اکثر اپنے کلام میں ان کا تذکرہ فرمایا کرتے۔

آپ کے شیوخ میں علامہ عبدالرحمٰن افریقی بھی ہیں جو مسجد نبوی میں مدرس تھےان کے حلقہ تلمذ میں بھی رہے اور ان کے علم سے وافر حصہ حاصل کیا۔اسی طرح معروف زاہد عالم حق کہنے والے علامہ شیخ محمد بن علی بن ترکی رابطہ عالم سلامی کے سابق جنرل سیکرٹری علامہ شیخ محمد بن علی حرکان اور علامہ عبدالرزاق عفیفی بھی آپ کے اساتذہ میں سے ہیں مذکورہ علماء کے علاوہ دیگر شخصیات سے بھی شیخ نے استفادہ کیا اور متاثر ہوئے۔۔۔دوشخصیتوں جن کا خود شیخ نے اعتراف کیا ہے سے آپ حدودمتاثرتھے۔

1۔معروف یگانہ روزگار عالم خاتمہ الحفاظ سابق مفتی اعظم سعودی عرب شیخ عبد العزیز بن باز جن کے ساتھ شیخ موصوف کو کلیہ الشریعہ اور پھر کلیہ اللغۃ میں کام کرنے کا موقع میسر آیا۔پھر مدینہ منورہ یونیورسٹی میں بھی اکٹھے رہے آپ شیخ کے منہج اور علم سے بہت متاثر تھے۔

2۔مسجد نبوی کے امام اور خطیب علامہ شیخ العزیز بن صالح شیخ عطیہ کو ان کے ساتھ عہد ہ قضاء پر کام کرنے کا موقع ملا۔مکہ سے باہر سفروں میں ان کے رفیق رہے اور عمل میں ان کے طریقہ اور تعامل سے متاثر ہوئے۔فیصلوں میں ان کی عمیق اور دور رس نظر کی خوب تعریف کرتے ۔

شیخ موصوف دیگر بہت سے علماء سے ملاقات کرتے رہتے جن میں محمد خیال شیخ عبد اللہ بن زاحم شیخ حسن شاعر شیخ عماد مغربی شیخ عبد الروف بخاری رحمۃ اللہ علیہ  اور شیخ محدث حماد انصاری رحمۃ اللہ علیہ  وغیرہ شامل ہیں۔

شیخ کی عملی زندگی:۔

تحصیل علم کے بعد منطلقہ احساء میں معہد علمی میں مدرس کے فرائض انجام دیے جہاں شیخ راشدین حنین کے گھر قیام پذیر رہے ۔ان دنوں معہد کے مدیر شیخ ادیب عبد اللہ بن خمیس تھے بعد ازاں ریاض میں المعہد العلمی سے تعلق جوڑا پھر کلیہ الشریعہ اور کلیہ اللغہ العربیہ سے منسلک ہوگئے۔جہاں اپنی تدریسی خدمات کی بنا پر نمایا ں رہے۔

اور 1381ھ (1961ء) میں جب مدینہ منورہ میں اسلامی یونیورسٹی کی ابتداء ہوئی تو موصوف کو جامعہ کے افتتاح اور چلانے میں شیخ ابن باز کی معاونت کے لیے مقرر کیا گیا اور ادارہ التعلیم  ان کے سپرد کیا گیا اور اس کے بعد جامعہ کے مختلف کالجز میں درس دیتے رہے جامعہ میں اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں رہے اسی طرح مدینہ میں موجود المعہد العالی للدعوۃ میں درس دیتے رہے جامعہ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ ریاض کے تابع ہے۔

1384ھ((1964ء) سے عدالتی امور کو سنبھالا اور مدینہ منورہ ہائی کورٹ میں جج بنے۔بعد ازاں مدینہ کی عدالتوں کے سر براہ مقرر ہوئے اور پھر اسی عہدہ فائز رہے۔

یہی شیخ محمد امین شنقیطی کا بھی زمانہ تھا شیخ شنقیطی حرم نبوی میں درس دیتے تھے موصوف ان کی عدم موجودگی میں ان کے نائب ہوتے ۔پھر موصوف اس عظیم ذمہ داری کو عرصہ تک انجام دیتے رہے لوگوں کی ایک کثیر تعدادنے ان سے فائدہ حاصل کیا۔

شیخ موصوف نے دعوت الی اللہ کے باب میں بھی عظیم خدمات اور کار ہائے نمایاں انجام دیں ۔آپ مسجد نبوی میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے ۔اور اندرون و بیرون ملک علمی مجالس اور کانفرنسوں میں شریک ہوتے تبلیغ و دعوت کی غرض سے بہت سے ملکوں کا سفر کیا ذرائعابلاغ کے بعض پروگراموں میں بھی شرکت کیا کرتے ریڈیو پروگرام نداء الاسلام میں بھی تعلق قائم کئے رکھا۔

آپ 1381ھ(1961ء)سےباقاعدہ ہر سوموار کی رات کوہفتہ وار حدیث کا پروگرام پیش کیا کرتے ۔اسی طرح ٹیلی ویژن پر سیرت کے موضوع پر آپ کی تقاریر خوب پسند کی گئیں ۔بعض دوسرے پروگراموں میں بھی شریک رہے مثلاً بدر والبدویون من اعیان علماء الحرمین وغیرہ ۔

تصنیف و تالیف کے میدان میں آپ نے مختلف علوم کی متعدد کتب کی شروح لکھیں مثلاً الموطا بلوغ المرام الرحبیہ ،رسالہ فی اصول الفقہ ،الاربعین النوویہ وغیرہ یہ تمام شروح مکتبہ الحرم الصوتیۃ (مسجد نبوی کی کیسٹ لائبریری )میں میسر ہیں جن کی تعداد ایک ہزار کیسٹس کے قریب ہے۔

اس طرح شیخ نے متعدد مفید کتب تالیف کیں جن میں چند ایک یہ ہیں ۔

تتمہ تفسیر اضواء البیان اپنی تالیفات میں آپ کو سب کو سب سے زیادہ یہی تالیف پسند تھی۔

السئوال والجواب في أيات الكتاب....وصايا ا لرسول صلي الله عليه وسلم..... عمل اهل المدينةجیسا کہ مؤطا امام مالک میں وارد ہواہے(ساتھ دیگر تین فقہی مذاہب کا بھی ذکر ہے)

في ظلال عرش الرحمن...التراويح اكثر من الف عام في مسجد النبي صلي الله عليه وسلم...مع الرسول صلي الله عليه وسلم في رمضان....نكاح المتعة في الاسلام....زكاة الحلي....تعريف عام بعموميات.....منهج الاسلام في كيفية الموخاة والتحكيم بين المسلمين.....اصول الخطابة والارشاد.....معالم علي طريق الهجرة....حكمة التشريع في تعدد الزوجات وتحديد النسل ...رمضانيات....أداب زيادة المسجد النبوي والسلام علي رسول الله صلي الله عليه وسلم.....مع الرسول صلي الله عليه  وسلم في حجة الوداع....الاسراء والمعراج(من الكتاب والسنة)...سجود التلاوة.....مباحث الدماء في الاسلام(في مجلدين 600 صفحة) فهارس التمهيد....هداية المستفيد من التمهيد(12مجلد)جس میں تمہید کو فقہی ابواب کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے اسی طرح اور بھی کئی مؤلفات اور مقالات وغیرہ ہیں ۔

شیخ  رحمۃ اللہ علیہ  کی ایک بہت بڑی لائبریری تھی جو مختلف قسم کی کتب مصنفات قدیم طبعات ،مخطوطات  اور بعض مخطوطات  کی عکسی نقول سے بھر ی پڑی تھی۔ لا ئبریری بڑی منظم اور بڑی عمدہ ترتیب دی ہوئی تھی۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ شیخ کے بیٹوں کو اس کی حفاظت کی توفیق دے اور وہ اس لائبریری سے پورافائدہ اٹھا ئیں !

موصوف  رحمۃ اللہ علیہ  صفات حمیدہ اخلاق عالیہ تواضع بلند آداب اور جودوسخا جیسی خوبیوں کے سبب ممتازتھےعلماء کے اقوال اور فقہی مذاہب اورعلماء کے اقوال کا وسیع علم رکھتے تھے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ  کے مسلک کی طرف قدرے میلان رکھتے تھےطلباء کی قدراور عزت کرتے ۔جو کام بھی آپ سے کہا جا تا اس کی تکمیل میں بخل نہ کرتے ۔ہمیشہ خیر خواہی اور نصیحت کرتے تھے۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ نے میری مسجد میں جمعہ ادا کیا خطبہ میں ،میں نے عورت کی ملازمت کے موضوع پر گفتگو کی اور ان شبہات کا ذکر کیا جو عموماً اس اٹھائے جاتے ہیں موصوف خطبہ کے بعد میرے پاس آئے اور میرے پیش کردہ موضوع کی تائید کی اور اس کی اہمیت اور اس کے خطرات کا ذکر کیا اور مجھے کہا کہ یہ موضوع بڑااہم ہے وقتاً فوقتاً اسے پیش کرتے رہنا چاہیے ۔موصوف  رحمۃ اللہ علیہ  اہل علم سے بڑا تعلق رکھتے اور ان سے ملتے جلتےرہتے تھے آپ کا دوسرے علماء کے ساتھ کتابوں اور مخطوطات کا تبادلہ جاری رہتا ۔ایک دن میں آپ کے پاس تھا کہ آپ نے وہ مخطوطہ نکالا جو نسیان (بھول چوک) کے موضوع پر عبد الغنی نابلسیکا لکھا ہوا تھا آپ سے یہ مخطوطہ محدث مدینہ علامہ حماد انصاری رحمۃ اللہ علیہ  نے مانگا تھا ۔میں اور شیخ عطیہ ان کے پاس گئے جہاں شیخ نے یہ مخطوطہ انہیں ہدیہ کردیا۔

قاضی ہونے کے ناطے شیخ موصوف مسلمانوں کے فیصلے کرنے میں بڑا اہتمام کرتے تھے ان کے حالات کا وسیع علم رکھتے ۔آپکی قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ آپ طبی ادویات بہت اچھے طریقے سے تیار کر لیاکرتے۔

اللہ تعالیٰ نے موصوف کو صالح بیٹے عطا کئے جو سب تحصیل علم میں مشغول ہیں ۔بڑا بیٹا عبد الرحمٰن ہے جس کے نام پر موصوف کی کنیت تھی اور دیگر مصطفیٰ احمد محمد اور سالم ہیں ۔ہم اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے دین پر ثابت قدی کی دعا کرتے ہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے والد کی وفات کے بعد ان کے راستے پر چلنے اور نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرما ئے۔

آخری برسوں میں شیخ بہت سے امراض وآلام میں مبتلا رہے۔ آپ  رحمۃ اللہ علیہ  مصیبت پر صبر کرنے والے اور ثواب کے امیداوار تھے حتیٰ کہ بیماری بڑھ گئی اور سوموار کے دن 6/ربیع الثانی 1420ھ کو کو روح اپنے باری کے سپرد کردی ۔اللہ تعالیٰ کی رحمت موصوف  کو اپنی آغوش میں لے اور آپکو علیین میں بلند جگہ عطا فرمائے ۔آمین!