Muhaddas-234-Feb-2000

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

قانون وراثت۔۔۔اسلام سے قبل:۔
انسانی تمدن کے احیاء بقا اور استحکام کاتعلق طریق وراثت کے ساتھ وابستہ ہے۔دنیا کے مختلف ممالک اور اقوام  میں انتقال جائیداد یا حصول جائیداد کے مختلف طریقے رہے ہیں۔جن میں وصیت کے ذریعے وراثت کا حصول ایک قدیم ترین طرز عمل ہے۔وصیت کے ان طریقہ ہائے کار میں عموماً یہ فرض کر لیا گیاتھا کہ جائیداد کا مالک خود بہتر سمجھتاہے۔کہ اس کے مرنے کے بعد اسے کس طور پر اور کن کے درمیان تقسیم ہونا چاہیے۔یوں اس طریق کار سے ظلم اور بے انصافی کی روایت مدتوں مختلف زمانوں میں جاری وساری ہیں۔اسلامی قانون سے قبل اہل  روما کے قانون وراثت کو بہت شہرت حاصل ہے۔اور آج بھی بہت سے یورپی ممال کے قوانین کا مآخذ یہی اہل روما کا قانون ہے۔قانون  روما میں بھی بنیادی طور پر وصیت کے طریق کار کو اپنایا گیا لیکن اگر کوئی فرد بغیر وصیت کئے دنیا سے ر خصت ہوجاتا تو ایسی صورت حالات میں اس کاترکہ جدی اشخاص کو منتقل ہوتاتھا۔ان میں حقیقی اولاد کو فوقیت ہوتی تھی۔اور ان کی عدم موجودگی میں یہ حصہ بھائیوں اور چچاؤں میں بھی منتقل ہوجاتاتھا۔مگر اس قانون روما کے  تحت وراثت میں آزاد شدہ اور تنبیت میں دیئے ہوئے بیتے وراثت سے محروم ہوجاتے تھے۔وہ بیٹیاں جن کے نکاح ہوجاتے  اور شوہر کے زیر اختیار زندگیاں بسر کرتیں،انہیں بھی والد کی جائیداد میں سے کوئی حصہ وصول نہیں ہوتا  تھا۔متوفی کے ورثاء میں سے خواتین کو حصہ نہیں  ملتاتھا ماسوائے حقیقی بہنوں کے  جنھیں ایک درجے میں وراثت میں شریک تصور کیا جاتا تھا۔اہل روما کے اس قانون وراثت میں بہت سی اصلاحات  ہوئیں۔بالخصوص پرٹیر اور جنٹین نےوراثت کے قدیم ر ومی اصولوں میں بہت سی تبدیلیاں کیں،وگرنہ اس سے قبل قانون روما میں وراثت کا حق محدود تھا۔جس کے باعث اصول نصفت(Equity) کا اطلاق کیا جانے لگا۔
بعثت اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت میں عربوں کے ہاں وراثت کا جو طرز عمل جاری تھا،اس میں بھی کئی طرح کی ناانصافیوں کو رواج دیا گیا تھا۔ایک طرف تو انسانی تذلیل کے کئی مناظر دیکھائی دیتے ہیں جن میں انسان کو غلام بنانےاور ان پر تشدد کرنے کے واقعات ہیں،دوسری طرف لڑکیوں کی پیدائش کو معیوب سمجھنا اور یہاں تک نفرت کا اظہار کرنا کہ انھیں  پیدا  ہوتے ہی زندہ درگور کرنے کی روایات ملتی ہیں۔تیسری طرف یتیموں کے اموال کو ناحق اپنے تصرف میں لانے کا رجحان بھی دکھائی دیتا ہے۔چوتھی طرف عورتوں کے ساتھ نازیبا طرز عمل کئی غیر اخلاقی صورتیں اختیار کرگیاتھا۔ حتیٰ کہ ان کی خریدوفروخت تک کو جائز تصور کرلیاگیاتھا۔قانون وراثت میں ترکہ صرف ان مردوں میں تقسیم ہوتاتھا جو مکمل جوان اور میدان جنگ میں لڑنے کے قابل ہوتے تھے  عورتیں بچے اور بوڑھے میراث سے کلیتاً محروم رہتےتھے۔غلاموں بیواوں اور یتیموں کے لئے د اد رسی کا کوئی قانون موجود نہیں تھا۔وراثت کے اعتبار سے یہ وہ حالات تھےجس میں شریعت اسلامیہ نے ایک ہمہ گیراور آفاقی ضابطہ وراثت عطا کیا۔
اسلام کا قانون وراثت تدریجاً نافذ ہوا:۔
یاد رہے کہ اسلامی وراثت کے یہ اصول بھی اسلام کے بہت سے دوسرے ضوابط اور قوانین کی طرح ایک اصول تدریج سے گزرے ہیں اور ان میں بھی ناسخ منسوخ کی ایک جزوی کیفیت موجود ہے۔ابتدائے اسلام میں وصیت کا اصول کارفرمارہا۔ہر شخص اپنی زندگی میں وصیت کے ذریعے اپنے وارثوں کے حصے اور حقوق متعین کردیتاتھا۔لیکن اس میں اس کی انفرادی پسند وناپسند شامل ہوتی تھی۔۔۔قرآن مجیدمیں وراثت کا یہ ابتدائی ضابطہ یوں بیان کیا گیا ہے:
﴿كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ ﴿١٨٠﴾ فَمَن بَدَّلَهُ بَعْدَ مَا سَمِعَهُ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى الَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ﴿١٨١﴾فَمَنْ خَافَ مِن مُّوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿١٨٢﴾...البقرة
" تم پر فرض کر دیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کوئی مرنے لگے اور مال چھوڑ جاتا ہو تو اپنے ماں باپ اور قرابت داروں کے لئے اچھائی کے ساتھ وصیت کرجائے، پرہیزگاروں پر یہ حق اورثابت ہے (180) اب جو شخص اسے سننے کے بعد بدل دے اس کا گناه بدلنے والے پر ہی ہوگا، واقعی اللہ تعالیٰ سننے والا جاننے والا ہے ہاں جو شخص وصیت کرنے والے کی جانب داری یا گناه کی وصیت کردینے سے ڈرے پس وه ان میں آپس میں اصلاح کرادے تو اس پر گناه نہیں، اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے" 
سورہ بقرہ کے اس ابتدائی قاعدہ وصیت کے بعد سورہ نساء میں ایک مستقل ضابطہ وراثت  پیش کیا گیا۔جس کے مطابق مورث کو پابند کیاگیا کہ وہ ایک تہائی سے زیادہ وصیت نہیں کرسکتا جب کہ باقی ماندہ ترکے کے لیے مستقل اصول اور ضوابط مقرر کردیے گئے۔یوں عہد جاہلیت کی زیادتیوں کا خاتمہ بھی کردیاگیا۔نیز و صیت میں ایک تہائی کی قیدلگاکر صلہ رحمی کے جذبات کو بھی فروغ دیا  گیا۔مگر ایک تہائی جائیداد یا ترکے میں وصیت کی یہ گنجائش وارثوں کے علاوہ دوسرے اعزاء واقربا ء اور یتیموں اور مسکینوں وغیرہ کے لیے پیدا کی گئی جن کے حصص ذوی الفروض یا مقررہ حصہ دارں کے ذیل میں نہیں آتے ہیں۔اہل سنت اسی ضابطہ وراثت پر عمل پیرا ہیں مگر اہل تشیع کےہاں ایک تہائی وصیت کے اس ضابطے میں ذو الفروض یا مقررہ حصہ داروں کو بھی شامل تصور کیا گیاہے ۔وصیت کے ابتدائی احکام کے سلسلے میں سورۃ البقرۃ کے ایک دوسرے مقام پر بھی ایک تعلیم ملتی ہے مگر یہ تلقین بھی مستقل ضابطہ وراثت کے احکامات سے قبل کی ہے جیسا کہ اکثر مفسرین کی  رائے ہے:
﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِّأَزْوَاجِهِم مَّتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ ۚ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنفُسِهِنَّ مِن مَّعْرُوفٍ ۗ وَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ﴿٢٤٠﴾...البقرة
" جو لوگ تم میں سے فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وه وصیت کر جائیں کہ ان کی بیویاں سال بھر تک فائده اٹھائیں انہیں کوئی نہ نکالے، ہاں اگر وه خود نکل جائیں تو تم پر اس میں کوئی گناه نہیں جو وه اپنے لئے اچھائی سے کریں، اللہ تعالیٰ غالب اور حکیم ہے "
قانون وراثت کے چند ضابطے:۔
سورۃ البقرہ میں وصیت کے یہ ابتدائی احکامات اس ظلم وزیادتی کے  فوری مداوا کے لئے تھے جن کا رواج جاہلیت میں ایک عمومی حیثیت اختیار کرچکا تھا مگر مستقل ضابطہ وراثت کی وضاحت کے بعد وصیت کے اس حکم کو کئی ایک شرائط کے ساتھ پابند کردیاگیا۔جس کی تفصیلات ہمیں ذخیرہ حدیث اور اسوہ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  سے ملتی ہیں۔
اولاً یہ کہ وصیت تحریری شکل میں ہونی چاہیے۔اس ضمن میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایاکہ :
"جو شخص وصیت کرنا چاہتاہے تو اسے دوراتیں بھی اس حالت میں نہیں گزارنی چاہیں کہ اس کے پاس لکھی ہوئی وصیت موجود نہ ہو"(صحیح مسلم :کتاب الوصیۃ)
ثانیاً یہ کہ وصیت کی حد ترکہ کے ایک تہائی سے زیادہ مال میں نہیں ہوسکتی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  ایک موقع پر حضرت سعد بن ابی وقاص  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی عیادت کے لئے تشریف لائےتو انہوں نے اپنے سارے مال کی وصیت کرنے کاعندیہ ظاہر کیا توطویل گفتگو کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے صرف ایک تہائی مال کی حد تک وصیت کرنے کی تلقین کی۔ایک دوسرے روایت میں ان سے یہ کہاگیا کہ" ایک تہائی کی وصیت کرو اور یہ بھی بہت ہے۔"(سنن ترمذی :کتاب الوصایا)
ثالثاً یہ کہ متوفیٰ(فوت شدہ شخص) کے ذمہ اگر کوئی اللہ کا حق واجب ہو جیسے حج،کفارہ،منت اور نذروغیرہ جس کی وہ کسی شرعی عذر کے باعث وصیت نہ کرسکا ہو تو اس کا پورا کرنا ضروری ہے۔کیونکہ مرنے  والے پر یہ اللہ تعالیٰ کا قرض ہے۔اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حقدار ہے۔کہ اس کے حق ادا کئے جائیں۔یہ بات ورثا کے لئے روح تقویٰ سے بہت قریب تر ہے۔مسلم شریف میں کتاب الوصیہ میں روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری  ماں کا اچانک انتقال ہوگیا اور وہ وصیت نہ کرسکی۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر وہ بات کرتی تو ضرور صدقہ کرتی اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اسے ثواب ملے گا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا"ہاں"۔۔۔
رابعاً یہ کہ وصیت ذوی الفروض یاشرعی حقداروں اور وارثوں کے حق میں  نہیں  کی جاسکتی۔اس ضمن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ ارشاد پیش نظر رہنا چاہیے جو آپ نے خطبہ حجۃ الوداع میں ارشاد فرمایاکہ :
"اللہ تعالیٰ بزرگ وبرترہے ،اس نے ہر صاحب حق کا حق مقرر کردیا ہے لہذا اب وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں،البتہ متوفی کی حیات کے بعدوارث باہمی رضا مندی سے ایسا کرنے کا حق رکھتے ہیں۔"
خامساً،وصیت کی حدود بہت وسیع ہیں۔یہ غیر وارثوں ،دور کے ر شتہ داروں جو ذوی الفروض میں شامل نہیں ہیں۔ یتیم پوتوں،مسکینوں ،رفاہی اداروں،دینی مدارس اور اعلائے کلمۃ الحق ک کسی کام کے بارے میں کی جاسکتی ہے۔البتہ حرام مال کی وصیت یاکسی حرام کام کے لیے وصیت کوئی شرعی یا اخلاقی وجوب نہیں رکھتی۔نیز ایسی وصیت کرنا جس سے کسی د وسرے کو تکلیف یانقصان پہنچانے کااحتمال ہو شرعا حرام ہے۔وصیت کا عمل بقائمی ہوش وحواس ہونا چاہیے۔پاگل پن،بدحواسی یا بے حوشی کے عالم  میں کی جانے والی وصیت شریعت میں معتبر  نہیں ہے۔وصیت کے احکامات کی مناسب تفصیلات کتب حدیث کے وصایا کے باب میں  تفصیل سے بیان کی گئی ہیں۔
وصیت کے احکامات کے ان تدریجی امور کے بعدشریعت نے وراثت کا ایک مستقل ضابطہ پیش کردیا جسے بہت محکم انداز میں پیش کیا گیاہے۔قرآن مجید میں اسی ضابطے کی تفصیلات یوں بیان کی گئی ہیں:
﴿لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا ﴿٧﴾وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُم مِّنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوفًا ﴿٨﴾...النساء
"ماں باپ اور خویش واقارب کے ترکہ میں مردوں کا حصہ بھی ہے اور عورتوں کا بھی۔ (جو مال ماں باپ اور خویش واقارب چھوڑ مریں) خواه وه مال کم ہو یا زیاده (اس میں) حصہ مقرر کیا ہوا ہے (7) اور جب تقسیم کے وقت قرابت دار اور یتیم اور مسکین آجائیں تو تم اس میں سے تھوڑا بہت انہیں بھی دے دو اور ان سے نرمی سے بولو"
ان دو مختصر آیات میں چھ وراثتی احکامات دیئے گئے ہیں:
1۔میراث میں مردوں کے ساتھ عورتیں بھی شامل ہی۔
2۔کم سے کم ترکہ کی صورت میں بھی میراث کو تقسیم ہونا چاہیے۔
3۔قانون وراثت منقولہ وغیر منقولہ ہر نوع کی جائیداد اورترکے پرلاگو ہوگا۔
4۔مورث کے مال میں سے تجہیز وتکفین ،قرض کی ادائیگی اور وصیت کی تکمیل کے بعد اگر کچھ بچے تو ورثا کے لئے حق وراثت پیداہوگا۔
5۔قریب ترین رشتہ دار یعنی ذوی الفروض کے وراثتی حصوں کی ادائیگی کے بعد جوترکہ بچے،اسے دو رکے  رشتہ د اروں یعنی عصبات اور  پھر ذوی الارحام میں بصورت گنجائش تقسیم کیا جائےگا۔
6۔میراث کی تقسیم کے موقع پر کنبہ یا خاندان کے محروم افراد بالخصوص یتیموں اور مساکین کا بھی لحاظ رکھاجائے۔
قانون وراثت کے اس ابتدائی اور تمہیدی ضابطے کے بعداس کی بعد کی آیات میں ذوی الفروض یعنی قریبی رشتہ داروں کے واضح حصص کو ان الفاظ  میں متعین کردیاگیا ہے۔یہ قرآن مجید کا یہ اعجاز ہے کہ احکام میراث کے اہم ترین تمدنی ضوابط کو صرف چارپانچ آیات میں سمودیاگیا ہے جن کی تفاصیل کے لیے دفاتردرکار ہیں:
﴿يُوصِيكُمُ اللَّـهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ۚ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّـهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿١١﴾ وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۚ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ وَإِن كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ ۚ فَإِن كَانُوا أَكْثَرَ مِن ذَٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَىٰ بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ ۚ وَصِيَّةً مِّنَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ ﴿١٢﴾...النساء
"اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے اور اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں اور دو سے زیاده ہوں تو انہیں مال متروکہ کا دو تہائی ملے گا۔ اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لئے آدھا ہے اور میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لئے اس کے چھوڑے ہوئے مال کا چھٹا حصہ ہے، اگر اس (میت) کی اولاد ہو، اور اگر اولاد نہ ہو اور ماں باپ وارث ہوتے ہوں تو اس کی ماں کے لئے تیسرا حصہ ہے، ہاں اگر میت کے کئی بھائی ہوں تو پھر اس کی ماں کا چھٹا حصہ ہے۔ یہ حصے اس وصیت (کی تکمیل) کے بعد ہیں جو مرنے والا کر گیا ہو یا ادائے قرض کے بعد، تمہارے باپ ہوں یا تمہارے بیٹے تمہیں نہیں معلوم کہ ان میں سے کون تمہیں نفع پہچانے میں زیاده قریب ہے، یہ حصے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کرده ہیں بے شک اللہ تعالیٰ پورے علم اور کامل حکمتوں والا ہے۔ 
تمہاری بیویاں جو کچھ چھوڑ مریں اور ان کی اولاد نہ ہو تو آدھوں آدھ تمہارا ہے اور اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے چھوڑے ہوئے مال میں سے تمہارے لئے چوتھائی حصہ ہے۔ اس وصیت کی ادائیگی کے بعد جو وه کر گئی ہوں یا قرض کے بعد۔ اور جو (ترکہ) تم چھوڑ جاؤ اس میں ان کے لئے چوتھائی ہے، اگر تمہاری اولاد نہ ہو اور اگر تمہاری اولاد ہو تو پھر انہیں تمہارے ترکہ کا آٹھواں حصہ ملے گا، اس وصیت کے بعد جو تم کر گئے ہو اور قرض کی ادائیگی کے بعد۔ اور جن کی میراث لی جاتی ہے وه مرد یا عورت کلالہ ہو یعنی اس کا باپ بیٹا نہ ہو۔ اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے اور اس سے زیاده ہوں تو ایک تہائی میں سب شریک ہیں، اس وصیت کے بعد جو کی جائے اور قرض کے بعد جب کہ اوروں کا نقصان نہ کیا گیا ہو یہ مقرر کیا ہوا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ تعالیٰ دانا ہے بردبار "
سورہ نساء کی مذکورہ آیات میں ذوی الفروض کے تمام حصوں کو وضاحت کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے۔اسی سورہ میں آگےچل کر ان قاعدوں کی توثیق اور جاہلیت کے دوسرے طریقوں کی تردید کی گئی ہے:
﴿وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ ۚ وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ ۚإِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدًا ﴿٣٣﴾...النساء
ترجمہ:۔"اور ہم نے ہراس ترکہ کے حقدار مقرر کردیے ہیں جو والدین اور رشتہ دار چھوڑیں۔اب رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہدوپیمان ہوں تو ان کا حصہ اُنھیں دو۔یقیناً اللہ ہر چیز پرنگران ہے۔"
آیت مذکورہ میں جاہلیت کےاس قاعدہ میراث کی تنسیخ کی گئی ہے جس کے مطابق لوگوں میں بھائی چارے کے تعلقات قائم ہونے پر انہیں میراث کا حقدار تصور کیاجاتاتھا۔اسی طرح منہ بولے بیٹے اور منہ بولے باپ کی وراثت کا  تصور بھی ختم کردیا۔اب زندگی میں تو وقف بیع یا ہبہ کے تحت کوئی جائیداد غیر وارث کودی جاسکتی ہے۔مگر موت کے بعد ترکے میں حقیقی وارثوں کے علاوہ کوئی دوسرا دعوے دار نہیں ہوسکتا۔سورہ مائدہ کی آیت106 اور 108 میں وصیت کرنے والے کے لیے شہادت کا ایک معیار مقرر کیا گیا جس کے مطابق مسلمانوں کی جماعت میں سے دو صاحب عدل گواہ بنائے جائیں۔البتہ حالت سفر میں وصیت کے طور پر اگردو گواہ مسلمان موجود نہ ہوں تو غیر مسلموں سے دو گواہ لینے کی اجازت دی گئی ۔احکام میراث کی یہ قرآنی تعلیمات 9ہجری میں سورہ نساء کی آیت 176 کے ساتھ ختم ہوجاتی ہیں۔جس میں کلالہ کے مسئلے پروحی کے ذریعہ پوری ہدایت دی گئی:
﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّـهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ ۚ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ ۚ وَهُوَ يَرِثُهَا إِن لَّمْ يَكُن لَّهَا وَلَدٌ ۚفَإِن كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ ۚ وَإِن كَانُوا إِخْوَةً رِّجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۗ يُبَيِّنُ اللَّـهُ لَكُمْ أَن تَضِلُّوا ۗوَاللَّـهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴿١٧٦﴾...النساء
"لوگ تم سے کلالہ کے متعلق فتوی پوچھتے ہیں۔کہواللہ تمھیں فتویٰ دیتا ہے اگر کوئی شخص بے اولاد مرجائے اور اس کی ایک بہن ہو تو وہ اس کے ترکہ میں سے نصف پائے گی اور اگر بہن بے اولاد مرے تو بھائی اس کا وارث ہوگا ۔اگر میت کی  وارث دو بہنیں ہوں تو وہ ترکے میں سے دو تہائی کی حقدار ہوگی اور اگر کئی بھائی بہنیں ہوں تو عورتوں کا اکہرا اور مردوں کا دوہرا حصہ ہوگا۔اللہ تمہارے لیے احکام کی توضیح کر تاہے تاکہ تم بھٹکتے نہ پھرو اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتاہے۔"
واضح رہے کہ میراث کی اصطلاح میں کلالہ سے مراد وہ شخص ہے جو ایک طرف لاولد ہو اور دوسری طرف اس کے باپ دادا بھی زندہ نہ ہوں۔
اسلامی قانون وراثت کی چند خصوصیات:۔
ابھی تک احکام میراث کے سلسلے میں ہم نے قرآن مجید کے جن احکامات کی تفصیل پیش کی ہے ان کے تجزیے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلام نے تمدنی استحکام اور عائلی اور خاندانی نظام کی نشوونما کے لیے یہ ایسے ابدی اور فطری احکام میراث پیش کر دیے ہیں۔جن میں ان تمام ناانصافیوں کا ازالہ کردیاگیا ہے جو اس سے قبل انسانی معاشرے میں پائے جاتے تھے۔وراثت کا یہ علم اس قدر اہمیت اور فضیلت رکھتاہے کہ شریعت میں اسے علم الفرائض کا ایک مستقل نام دیا گیاہے۔حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس علم کو سیکھنے اور سکھانے کی تلقین کی ہے اور اسے نصف علم کے برابر قرار دیاگیاہے۔۔۔۔۔
سنن ابی داود کی ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ہے:
"علم تین ہیں اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ زائد ہے:ان میں پہلا آیات محکمات کا علم ہے،دوسرا سنت قائمہ کا اور تیسرا انصاف کے ساتھ میراث کی تقسیم کا ہے۔"
اسلامی ریاست کے لئے میراث کے ان قواعد اور احکام پر عمل درآمد کرانا بہت ضروری ہے۔خلیفۃ المسلمین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے 18 ہجری میں شام کا ایک سفر اس غرض سے اختیار کیا کہ وہاں پر طاعون عمواس میں جو لوگ وفات پاگئے ہیں۔ان کے ترکے کومیراث شرعی کے طور پر تقسیم کیا  جاسکے،ہمارے محدثین اور فقہاء نے اس علم پر مستقل کتابیں تصنیف کی ہیں۔اور اس ضمن میں جو مسائل پیدا ہوئے ہیں ،ان پر فتاویٰ اور اجتہاد کی صورت میں ایک عدیم المثال علم کی بنیاد رکھی ہے۔ان اُمور سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرے اور اسلامی تمدن کی نشو نما کے لئے احکام میراث کا علم اور اس پر عمل ایک ناگزیر صورت ہے ۔اسلامی قانون وراثت کی بہت سی خصوصیات اور امتیازات ہیں جن کا واضح نقشہ اس سے پہلے تاریخ عالم میں دیکھائی نہیں دیتا۔ہم ان امتیازات کا بھی مختصر جائزہ پیش کرتے ہیں:
بعثت اسلام سے قبل مختلف تہذیبوں اور اور معاشرے میں عورت کے وجود کو ناپاک اور کم تر تصور کیاجاتاتھا۔میراث میں اس کا حصہ تو کجا بعض معاشروں میں وہ خود ترکہ کی ایک شے تصور کی جاتی تھی۔بزرگوں کے انتقال کے وقت خاندانی عورتوں کو بھی تقسیم کر لیاجاتا تھا اور اسے وہ تہذیب یاتمدن کے لئے کوئی معیوب امر تصور نہیں کرتے تھے۔اسلام نے  نہ صرف عورت کو ہر حالت میں ترکے کا حقدار ٹھہرایا ہے۔بلکہ ایک امتیاز یہ بھی عطا کیا کہ احکام میراث میں اس کے حصے کاتعین کرکے پھر دوسروں کے حصص کی بات کی گئی ہے۔البتہ عورتوں کی مختلف معاشرتی حیثیتوں کے اعتبار سے ترکے میں ان کی نسبت مختلف  رکھی گئی ہے جس میں حکمت اسلامی کی معاشرتی تعلیم کا ایک حسن نمایاں ہوتاہے۔
اسلام سے قبل مرنے و الے کے ترکے جائیداد میں غیر مستحقین کو بھی وارث تصور کیا جاتا تھا جس سے حقیقی ورثا محروم ہوجاتےتھے۔اسلام نے غیر وارثوں کے لیے ایک تہائی کی وصیت کو تو برقرار رکھا ہےمگر بقیہ جائیداد کے لئے کڑے شرعی قواعد مقرر کردیے ہیں جن کا ذکر ہم پہلے کرچکے ہیں۔اس طرح سے متبنیٰ اولاد اور احباب کے لیے وصیت اورہبہ کی شکل تو قائم کی گئی ہے مگر انہیں مستقل میراث کے حقدار نہیں ٹھہرایا گیاہے۔
بعض معاشروں ،ممالک اور قوموں میں اولاد میں سے بڑے بیٹے کاحق تو تسلیم کیا گیاہے مگر دوسرے اعزاء کو اس کے رحم وکرم پر چھوڑ دیاجاتا ہے۔اس سے خانگی اور عائلی زندگی میں کئی نوعیت کی قباحتیں پیداہوتی ہیں۔اسلام نے تو رحم مادر میں مووجود بچے کے ورثے کا حق بھی محفوظ کردیاہے۔اس سے احترام آدم کی بہترین پیدا کی گئی ہے۔قواعد میراث            میں چھوٹے بڑے مرد و عورت حتیٰ کہ مفقود الخبر،ولد الزنا،ولد الملاعنہ اورخنثیٰ کی میراث کی بھی وضاحت کردی گئی ہے۔
احکام میراث کے اس عمل سے صدیوں سے اسلامی معاشرہ ایک مستحکم خاندانی نظام میں پرویا ہوادکھائی دیتاہے اس سے کسی معاشرے اور ریاست میں معاشی حسن بھی پیدا ہوتاہے۔کیونکہ احکام میراث سے جاگیرداری نظام کے خاتمے میں مدد ملتی ہے۔نیز ارتکاز دولت کے رجحانات بھی کمزور پڑتے ہیں۔وراثت اور ترکے کی تقسیم سے چھوٹے یونٹ وجود میں آتے ہیں جس سے پیدائش کے عمل میں افزائش اور تیزی پیدا ہوتی ہے۔یہ قواعد گردش ودولت کو وجود میں لاتے ہیں جس سے قوم اور ملک کے مجموعی معاشی عمل میں قوت اور استحکام  پیدا ہوتا ہے۔
اسلامی میراث کے ذریعے معاشرتی استحکام اور تہذیبی اور تمدنی عروج بھی نصیب ہوتاہے۔اس سلسلے میں شریعت نے موانع میراث کی جو تفصیل پیش کی ہے۔اس سے اس ضابطے کے مزید حکیمانہ  پہلو ہمارے سامنے آتے ہیں۔شریعت نے جہاں حقداروں کے حصوں کاتعین کردیا وہاں پر غلاموں، ناحق قتل عمد اور شبہ عمد کاارتکاب کرنے والوں ،اختلاف مذہب،اختلاف مملکت ،ارتداد اور اشتباہ وارث ومورث کی صورت میں جائز حصہ داروں کو بھی وراثت سے محروم کردیاہے۔
اسلام کے ان احکام میراث کا علم ایک مسلمان اور اسلامی ریاست کے ذمہ داران کے لیے ناگزیر ہے بعض اوقات اپنی لاعلمی کے باعث ہم میراث کے شرعی حقداروں کو محروم کردیتے ہیں۔نافرمان اولاد کو عاق تو کیا جاسکتا ہے مگر متوفیٰ کے ترکے سےانہیں محروم نہیں کیا جاسکتا۔مختلف بیویوں سے اولاد کی کمی بیشی کی صورت میں بھی قواعد میراث میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ہمارے ہاں عموماً عورتوں کی وفات پر ان کے ترکے کوتقسیم کرنے کامزاج اور رواج نہیں ہے۔نیز ہم ترکے میں کسی متوفی سے متعلقہ تمام جائیداد منقولہ وغیر منقولہ گھریلو سازوسامان کو پیش نظر رکھتے ہیں۔یتیم پوتے کی وراثت کے موضوع پر ہم شریعت کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہوتے حالانکہ دادایا دادی ان کے لیے ہبہ یا وصیت کا پورا پورا استحقاق رکھتے ہیں۔بعض قوموں میں نسلی تعصب کے باعث بیٹا یا بیٹی اکثر کسی دوسری قوم میں شادی کرلے تو ہم اس کو ترکے سے محروم رکھتے ہیں۔حالانکہ اس کا کوئی شرعی جواز موجود نہیں۔
اس مضمون میں ہماری یہ کوشش رہی ہے کہ مسئلہ میراث کی شرعی اہمیت کے پیش نظر اس کے مختلف پہلوؤں پر مختصراً  روشنی ڈال دی جائے۔اسلام میں ترکے کے نوعیت،مستحقین میراث کی تفصیل،موانعات،میراث اور احکام وراثت سے بے خبری کے نتائج پر یہاں اجمالا گفتگو کی گئی ہے جس سے بخوبی یہ اندازہ ہوجاتاہے۔کہ اسلام کا یہ وراثتی اور اس کی تعلیم کس قدر عظیم الشان خصوصیات اورامتیازات کی حامل ہے۔حق تعالیٰ ہمیں احکام وراثت کو سمجھنے اور اس کے موافق عمل کرکے اپنے معاشرے،تمدن اور خاندانی نظام کو مستحکم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔آمین!