"محدث"کی ہمیشہ یہ کو شش رہی ہے کہ عصری مسائل پر دینی نقطہ نگاہ کو اجاگر کیا جائے اور اس سلسلے میں اٹھنے والے مختلف النوع سوالات کا شافی جواب دنیا کے سامنے پیش کیا جا ئے ۔یہی وہ بنیادی محرک ہے جس کے تحت عصر حاضر پیچیدہ مسائل کا خالص علمی  اور فکری سطح پر تجزیہ اور اس مسائل پر مختلف نقطہ ہائے نظر کا تقابلی جائزہ پیش کرنا محدث نے اپنے علمی اور صحافتی فرائض میں شامل کر رکھا ہے ہم اللہ بزرگ و برتر کےتہ دل سے شکرگزار ہیں کہ اہل علم و دانش کے ساتھ ساتھ دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلے ہوئے محدث کے قارئین ہماری کا رکردگی کو پسند کی نگاہ سے دیکھتے ہیں

پاکستان میں گذشتہ چند برسوں سے سود کے خلاف اعلیٰ عدالتی سطح پر دینی حلقوں کی جانب سے قانونی جہاد جاری تھا اس سلسلے کی آخری قانونی جنگ سپریم کورٹ آپ پاکستان کے شریعت اپلیٹ بنچ کے سامنے در پیش تھی۔ اس اعلیٰ ترین عدالت کے سامنے سود کے حق میں دائرکردہ اپیلوں میں جدید معاشیات کی روشنی میں نہایت اہم سوالات اٹھائے گئے۔ محدث کے مدیر اعلیٰ نے معزز عدالت میں بہ نفس نفیس پیش ہو کر نہ صرف یہ کہ حرمت سود پر اپنے دلائل دیے ۔بلکہ محدث کا ایک مبسوط  سودنمبر بھی تر تیب دیا گیا ۔اس خصوصی اشاعت میں سود اور سودی معیشت سے متعلق سوالات کا علمی فکری اور دینی سطح پر جائزہ لیا گیا اور جدیدترین عصری تقاضوں کے روشنی میں مسائل کے حل کی نشان دہی کی گئی۔

یہ امر باعث صد اطمینان ہے کہ قانونی دینی اور علمی حلقوں نے محدث کے سود نمبر کو گرم جوش پذیرائی سے نوازا اور بیرون ملک و اندرون ملک ہر جگہ سے بے شمار خطوط کے ذریعے ہماری حوصلہ افزائی کی گئی۔عدلیہ کی تاریخ میں کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جنہیں دنیائے قانون میں ایک سنگ میل قراردیا جاسکتا ہے۔۔۔کچھ فیصلے ایسے بھی ہوتے ہیں جو قوموں کی زندگی کو انقلاب آشنا کر دیتے ہیں جبکہ شاذ شاذ کوئی ایسا منفرد فیصلہ بھی سامنے آتا ہے جو عدلیہ اور قوم کے لیے باعث افتخار ہونے کے ساتھ ساتھ پوری دنیا پر اپنے اثرات مرتب کرتاہے 23دسمبر1999ء(14/رمضان المبارک 1420ھ)بروز جمعرات کو ایک ایسا ہی یاد گار فیصلہ صادر کیا گیا ۔اس روز سپریم کورٹ آف پاکستان کے شریعت اپلیٹ بنچ نے متفقہ  طور پر قرار دیا کہ تجارتی اور صرفی ہر طرح کے لین دین پر معاشرےمیں جاری سود کی تمام اشکال قرآن و سنت سے متصادم ہونے کے باوصف حرام اور ممنوع ہیں ۔سپریم کورٹ نے یہ بھی قرار دیا کہ حکومتی سطح پر حاصل کردہ ملکی اور بین الاقوامی سودی قرضے بھی اسی ذیل میں آتے ہیں لہٰذا اس کا چلن بھی اسلامی تعلیمات کی روسے ناجائز ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ آٹھ سودی قوانین کو مارچ 2000ء تک تبدیل کر کے قرآن وسنت کے سانچے میں ڈھال لے جبکہ بقایا تمام سودی قوانین کو ختم یا تبدیل کرنے کے لیے 30جون 2001ء تک کی مہلت دے دی گئی ہے۔

اس فیصلے کے صادر ہوتے ہی بہت سے نئےمباحث اور مسائل سامنے آنے لگے ہیں ۔قبل ازیں وفاقی شرعی عدالت نے مارک اَپ کی پاکستان میں رائج اشکال کوسود پر مبنی قراردے کر ممنوع ٹھہرایا تھا ۔سپریم کورٹ کے شریعت اپلیٹ بنچ نے بھی اگر چہ وفاقی شرعی عدالت سے اتفاق کیا ہے لیکن مارک اَپ کے نظام سے سود کا عنصر خارچ کر کے اسے اپنی تجویز کردہ شکل میں زیر عمل لانے کو جا ئز قرار دیا ہے( جس پر تفصیلی تبصرہ کا حق ہم محفوظ رکھتے ہیں) عدالت عظمیٰ نے بیرون ملک سے لیے جانے والے سودی قرضوں کو بھی اسلامی قانون سے متصادم قرار دے دیا ہے اس طرح اس فیصلے کی سب سے بڑی زدان بین الاقوامی قرضوں پر پڑی ہے جو حکومت اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں سے حاصل کرتی ہے۔

سود پر مبنی بین الاقوامی قرضوں کے غیر اسلامی قرار پاجانے کے بعد حکومتی ماہرین معیشت کو ایک چیلنج کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور وہ کوئی ایسا حل تلاش کرنے میں مصروف ہیں جو عدالتی معیارپر بھی پورا اترے اور عالمی مالیاتی اداروں کے لیے بھی قابل قبول ہو۔دوسری طرف سود کے حرام قرار پاجانے کے فوراً بعد وزارت خزانہ نے پرانے قرضوں کی ری شیڈولنگ کے نام پر ان قرضوں کی ادائیگی کے سلسلے میں نئے معاہدات کئے ہیں ۔یہ امر افسوس ناک ہے کہ ان نئے مالیاتی معاہدات میں بھی سودی بنیاد کو قائم رکھا گیا ہے اس کے علاوہ حکومت پاکستانی بنکوں اور دیگر مالیاتی کمپنیوں کی جانب سے بھی عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر صدق دل سے لبیک کہنے کی قابل اعتماد شہادتیں ابھی تک کسی ٹھوس صورت میں سامنے نہیں آئیں ۔اس سہل نگاری کے سبب عوامی سطح پر دو طرح کے شکوک دلوں میں پرورش پارہے ہیں ایک تویہ کہ پاکستانی کمپنیوں کو یقین ہے کہ مستقبل قریب میں اس فیصلے پر عملدرآمد کا کوئی امکان نہیں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے خیال میں کو ئی متبادل غیر سودی قابل عمل نظام موجود نہیں ہے۔دوسرے یہ کہ خود حکومت کے ماہرین معاشیات اس معاملے میں سنجیدہ نہیں ہیں جس کا ثبوت اب تک قرض کے تیرہ نئے بین الاقوامی معاہدے ہیں جو سپریم کورٹ کا واضح اور دوٹوک فیصلہ آنے کے بعد کئے گئے ہیں اور ان میں سود کی ادائیگی ایک بنیادی اور لازمی شرط کے طور پر موجود ہے۔

بین الاقوامی معاشی تعلقات سے قطع نظر سپریم کورٹ نے ملکی بنکاری کا ڈھانچہ تبدیل کرنے مروجہ بیع مؤجل کے رائج نظام میں تبدیلی لاکر اسے اسلامی بینکاری کی حدودمیں لانے پٹہ داری سسٹم کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے اور اس میں سود کی لعنت کو خارج کرنے تجارتی دائرے میں بل آف ایکسچینج،

ایل سی اور پر امیسری نوٹ کی رائج اشکال کو تبدیل کرنے قرض یاادائیگی رقم کی دستاویزات کی خرید و فروخت کو اسلامی مالیاتی مارکیٹ سے خارج کرنے اور انعامی بانڈز کی پوری سکیم کو ایک میوچل فنڈ میں بدل دینے کے علاوہ قانون حصول اراضی کے سودی ضوابط کو اسلامی بنانے کے علاوہ بارہ کے لگ بھگ بڑے سودی قوانین و ضوابط کو جان 2001ء تک ختم کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ لیکن حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں اس سر گرمی کا مظاہرہ سامنے نہیں آیا جس کی توقع کی جارہی تھی۔

اس سلسلے میں ہماری گزارش یہ بھی ہے کہ حکومت کی ذمہ داری اپنی جگہ ۔۔۔سودی نظام معیشت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے  کے لیے اسلامی بینکاری کے تمام ماہرین قانون دانوں مفکرین اور علماء کرام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔صحیح اور سچا اسلامی معاشرہ قائم کرنے کی ذمہ داری امت مسلمہ کے ہر فرد پر عائد ہو تی ہے۔ اہل علم و دانش کا اولین فرض ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے اس تاریخ ساز فیصلے کا باریک بینی سے مطالعہ کریں اور عدالت عظمیٰ نے جن قوانین کو خلاف اسلام قراردیا ہے نہ صرف یہ کہ ان کے متبادل قوانین و ضوابط تجویزکریں بلکہ عدالت نے بینکاری نظام میں جن تبدیلیوں کی ہدایات دی ہیں اسلامی معیشت کی روشنی میں ان کا قابل عمل خاکہ بھی پیش کریں ۔یہ صرف عدالت عظمیٰ یا حکومت ہی کی مدد نہیں ہوگی۔بلکہ خود اسلام کی بھی ایک عظیم خدمت ہوگی۔

بارش کے پہلے قطرے کے طور پر ہم محدث کا سود نمبر تو پیش کر چکے ہیں اور شریعت سمحاء کی موسلادھار بارش سے پہلے اپنی شبنم پاشی یا ہلکی پھوار کے لیے"اسلامی معیشت نمبر"نکالنے کا پروگرام بنارہے ہیں جسے اہل علم و دانش اور معاشی ماہرین کے پرزور علمی تعاون سے ہی جلد منظر عام لا یا جا سکتا ہے
اللہ بزرگ و برتر سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سود کی لعنت کو مکمل طور پر ملک بدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔آمین!(ڈاکٹر ظفر علی راجا)