ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • فروری
2000
ظفر علی راجا
"محدث"کی ہمیشہ یہ کو شش رہی ہے کہ عصری مسائل پر دینی نقطہ نگاہ کو اجاگر کیا جائے اور اس سلسلے میں اٹھنے والے مختلف النوع سوالات کا شافی جواب دنیا کے سامنے پیش کیا جا ئے ۔یہی وہ بنیادی محرک ہے جس کے تحت عصر حاضر پیچیدہ مسائل کا خالص علمی  اور فکری سطح پر تجزیہ اور اس مسائل پر مختلف نقطہ ہائے نظر کا تقابلی جائزہ پیش کرنا محدث نے اپنے علمی اور صحافتی فرائض میں شامل کر رکھا ہے ہم اللہ بزرگ و برتر کےتہ دل سے شکرگزار ہیں کہ اہل علم و دانش کے ساتھ ساتھ دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلے ہوئے محدث کے قارئین ہماری کا رکردگی کو پسند کی نگاہ سے دیکھتے ہیں
  • فروری
2000
ثنااللہ مدنی
سسرالی محرم عورت سے زنا پر کیا بیوی سے نکاح ٹوٹ جائے گا؟
حلالہ کی شرعی حیثیت
غیر شرعی عدالتوں کے  فیصلوں کی حیثیت
شادی شدہ عورت کا خاوند کے گھر کے باہر قیام
سوال:ایک آدمی نے اپنی حقیقی بہو کے ساتھ زبردستی زنا کیا اور اس کے بعداقرار جرم بھی کرلیا؟ سوال  یہ ہے کہ کیا وہ عورت اپنے خاوند کی ابھی تک بیوی ہے یا کہ نہیں،اگر نہیں تو کیوں؟(محمد اختر،ریاض)
جواب:مسئلہ ہذا میں اہل علم کا سخت اختلاف ہے۔لیکن راجح بات یہ ہے کہ زنا کے ذریعے حرمت ثابت نہیں ہوتی ہے۔سنن ابن ماجہ میں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی حدیث میں ہے "لايحرم الحرام الحلال" یعنی حرام کے ارتکاب سے حلال شے حرام نہیں ہوتی۔اس کی سند کے بارے میں حافظ ابن حجر  فرماتے ہیں۔"واسناده اصح من الاول"(فتح الباری 156/9) کہ پہلی سند سے اس کی سند زیادہ صحیح ہے۔
  • فروری
2000
عبدالجبار شاکر
قانون وراثت۔۔۔اسلام سے قبل:۔
انسانی تمدن کے احیاء بقا اور استحکام کاتعلق طریق وراثت کے ساتھ وابستہ ہے۔دنیا کے مختلف ممالک اور اقوام  میں انتقال جائیداد یا حصول جائیداد کے مختلف طریقے رہے ہیں۔جن میں وصیت کے ذریعے وراثت کا حصول ایک قدیم ترین طرز عمل ہے۔وصیت کے ان طریقہ ہائے کار میں عموماً یہ فرض کر لیا گیاتھا کہ جائیداد کا مالک خود بہتر سمجھتاہے۔کہ اس کے مرنے کے بعد اسے کس طور پر اور کن کے درمیان تقسیم ہونا چاہیے۔یوں اس طریق کار سے ظلم اور بے انصافی کی روایت مدتوں مختلف زمانوں میں جاری وساری ہیں۔اسلامی قانون سے قبل اہل  روما کے قانون وراثت کو بہت شہرت حاصل ہے۔اور آج بھی بہت سے یورپی ممال کے قوانین کا مآخذ یہی اہل روما کا قانون ہے۔قانون  روما میں بھی بنیادی طور پر وصیت کے طریق کار کو اپنایا گیا لیکن اگر کوئی فرد بغیر وصیت کئے دنیا سے ر خصت ہوجاتا تو ایسی صورت حالات میں اس کاترکہ جدی اشخاص کو منتقل ہوتاتھا۔ان میں حقیقی اولاد کو فوقیت ہوتی تھی۔
  • فروری
2000
محمد یونس
قرآن حکیم ہدایت کا ایک لازوال اور ابدی سرچشمہ ہے جو زندگی کے ہر میدان  میں انسان کی راہنمائی کرتا ہے۔موجودہ دور میں ماحولیاتی آلودگی سے انسانیت پریشان ہے اور اس سے نجات پانے کی متلاشی ہے۔پیش نظر مضمون میں یہ دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ آلودگی انسانی زندگی کے لیے کس حد تک مضرت رساں ہے؟تاکہ اس سے دامن بچایا جاسکے۔۔۔
رجس یارجز کی لغوی بحث:۔
قرآن حکیم میں آلودگی کی تعبیر رجز اور رجس سے کی گئی ہے۔یہ دونوں اصل میں ایک ہی لفظ کی دو شکلیں ہیں۔اصل کے اعتبار سے ان میں اضطراب اور ارتعاش کا مفہوم پایاجاتاہے۔گندگی اور نجاست کو دیکھ کر طبیعت اور مزاج میں چونکہ سنسنی اور اضطراب کی سی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اس لیے گندگی اور نجاست پر ان کا اطلاق ہونے لگا۔اس سے بڑھ کر عذاب کے معنی میں بھی ان دو کلمات کو استعمال کیا گیاہے،کیونکہ عذاب سے بھی دلوں میں کپکی  اور اضطراب پیدا ہوتا ہے۔
  • فروری
2000
محمد اسحٰق زاہد
الصارم البتار في التصدي للسحرة الأشرار

( زیر نظر تحریر جادو کے بارے میں ایک اہم کتابچہ کااردو ترجمہ ہے۔جسے ایک تجربہ کار صاحب علم نے عربی میں تحریر کیاہے،اس کتاب میں قرآن وسنت سے واضح استدلال کے علاوہ جادو کے توڑ کے اسلامی طریقوں پر بھی کافی وشافی تفصیل موجود ہے۔جس بناء پر اس کو کافی پسند کیا گیاہے۔اور عربی میں اس کے دسیوں ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔
ادارہ محدث کے دیرینہ رکن حافظ محمد  اسحاق زاہد(کویت) نےاس کا سلیس ترجمہ کرکے واقعتاً اہم کمی پوری کی ہے کیونکہ ہمارے ہاں جادو کے بڑھتے ہوئے رجحان کے بالمقابل شرعی رہنمائی کے لئے مناسب اُسلوب واستدلال میں کوئی موزوں کتاب اردو میں د ستیاب نہیں تھی،محدث میں چند اقسام میں اس کتاب کا مسلسل  ترجمہ نذر قارئین ہے۔(ح۔م)
  • فروری
2000
مولانا حافظ ابو الحسن محمد سیالکوٹی ۔
(102بجلی آسمانی برسر دجال قادیانی۔
مولانا محمد اسماعیل علی گڑھی رحمۃ اللہ علیہ ۔ 
(103)القول الصریح تکذیب مثیل المسیح : 1309ھ صفحات44۔
اس کتاب میں مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیح کی تکذیب کی گئی ہے اور آیات قرآن میں تحریفات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
مولانا مصلح الدین اعظمیٰ رحمۃ اللہ علیہ  
(104) ختم نبوت کی حقیقت عقل و نقل کی کسوٹی پر صفحات 16۔یہ رسالہ مرزا بشیر احمد قادیانی کی کتاب "ختم نبوت کی حقیقت "کے جواب میں ہے ۔
(105)مرزا غلام احمد قادیانی اپنے عقائددعاویٰ اور تصنیفات کے آئینہ میں: صفحات 16،اس  میں مرزاقادیانی کے عقائد کو اس کی تصنیفات کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے ۔
(106) مدلل جواب :1978ء،صفحات12۔
  • فروری
2000
عبدالرشید عراقی
بلا شن و شبہ موت بر حق ہے اور موت کا ایک وقت مقرر ہے اور تمام لوگوں کومرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔"ہرجان موت چکھنے والی ہے" لیکن اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے اور اللہ کی طرف بلانے والے داعی کی موت عام آدمی سے مختلف ہوتی ہے۔ عالم کی موت مصیبت اور غمناک ہوتی ہے۔ عالم کی موت اسلام میں ایسارخنہ اور دراڑ پیدا کر دیتی ہے۔ جو بآسانی پر نہیں کی جاسکتی ۔اللہ نے فرمایا :
﴿أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا... ﴿٤١﴾...الرعد
"کیا انھوں نے نے دیکھا اور جانا نہیں کہ ہم زمین کی طرف آتے (نظر کرتے)ہیں اور اس کے اطراف و جوانب سے اسے کم کرتے ہیں۔کہا گیا ہے کہ زمین کو اطراف سے کم کرنے سے مراد "علماء حق کی موت "ہے۔اور بخاری و مسلم  رحمۃ اللہ علیہ  نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی حدیث روایت کی ہے جس میں ہے کہ میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے سنا فرماتے ہیں ۔"یقیناً اللہ تعالیٰ علم کو بندوں کے سینوں سے نہیں کھینچےگا لیکن علم کو علماء کو فوت کرنے کے ساتھ قبض فرمائے گا۔"
  • فروری
2000
عطاء اللہ صدیقی
1999ء جسے بیسویں صدی کا آخری سال قرار دیا جا رہا ہے۔ ملت اسلامیہ کے لیے عام الحزن ثابت ہوا کہ اسے یکے بعد دیگر متعدد نابغہ ہائے عصر اور اساطین علم و ادب کے داغ ہائے مفارقت سہنے پڑے ۔ان میں تین گراں قدر ہستیاں تو ایسی ہیں کہ جن کی رحلت نے ملت اسلامیہ کو علمی اعتبار سے فی الواقع یتیم اور ویران کر کے رکھ دیا ہے ۔جون 99ء میں سعودی عری کے مفتی اعظم سماحۃالشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز کے سانحہ ارتحال سے ملت اسلامیہ ایک عظیم عالم دین اور مدبر سے محروم ہوگئی2/اکتوبر کو علمائے سلف کی یادگار فخر روزگار علامہ محمد ناصر الدین البانی کے انتقال کی صاعقہ اثر خبر نے پورے عالم اسلام کو محزون و ملول کردیا ۔