عصر حاضر کے تقاضوں کی روشنی میں!

زیر نظر مقالہ میں تعددِ ازواج کی حکمتوں میں اگرچہ جنسی ضرورتوں کو زیادہ اُجاگر کیا گیا ہے، کیونکہ عام لوگ نکاح کو صرف ایک جنسی ضرورت ہی سمجھتے ہیں، حالانکہ اسلام میں 'نکاح' خاندانی نظام کی بنیاد ہے جو مہذب معاشرہ کی بنیادی اکائی ہے۔ اگر کوئی صاحب نکاح (شادی) اور سفاح(معاشقہ) کے دیگر پہلوئوں بالخصوص سماجی پہلوئوں پر بھی قلم اُٹھائے تو آج اس کی بڑی اہمیت ہے۔مغربی معاشرے اسی فرق کو ملحوظ نہ رکھنے کی بنا پر 'سفاح' (جنسی بے راہ روی) کو اختیار کرکے خاندانی ادارہ کو تباہ کربیٹھے ہیں۔ (محدث)

دنیا میں اس وقت دو زبردست مگر متضاد رجحانات بے حد مقبول ہیں:ایک طرف اس عالم رنگ وبو میں ایسے عوامل اور محرکات میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے، جوکہ نفس انسانی کو جنسی طور پر ہیجان زدہ کررہے ہیں۔ عریاں تصاویر، بلیو پرنٹس، گندی فلمیں،تفریح کے نام پر عیاشی اور اس جیسا لٹریچر دھڑا دھڑ نوخیز نسل میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ خاتونِ خانہ کو پردے سے نکال کر بے حجاب کردیا گیا ہے، اب بنت ِحوا عریاں رہنے کو ترقی اور جدت پسندی سمجھتی ہے۔ اس عریانی اور فحاشی کے دیگر اثرات کے علاوہ سب سے بڑا اثر (Effect)یہ ہے کہ آدم کے بیٹے نفسا نیت اورہوس پرستی کے پتلے بنتے جارہے ہیں۔ شہوانیت کا بھوت ان کے سروں پر چڑھ کر ناچ رہا ہے۔اوران کیلئے صرف ایک ہی شریک ِحیات Life Partner تک محدود رہنا ناکافی ہو چکا ہے۔ دوسری طرف شادی کے مقدس بندھن سے تنفر بڑھتا جارہا ہے۔ اسے آزادی کے راستے میں رکاوٹ سمجھا جارہا ہے۔ اوراگر شادی ہے بھی تو صرف ایک بیوی تک محدود ہونے (Monogamy)کا رجحان ہے، ایک سے زائد بیویاں رکھنے کاتصور دنیا میں تیزی سے زوال پذیر ہے۔ انسا ئیکلوپیڈیا برٹانیکا اس رجحان کی یوں عکاسی کرتا ہے :

"Industrilization, Mass education and the general prestigue of westren ways throughout the premodren world causing polygamy to wane" (1)

''صنعتی ممالک، ذرائع معلوماتِ عامہ اور مغربی ممالک کاعمومی ٹھہرائو اور پوری دنیا میں جدید تر رجحانات کے تحت تعددِ ازواج کا رجحان زوال پذیر ہے۔ ''

وحدتِ زوج کا تصور نہ صرف ترقی یافتہ ممالک میں رواج پذیر ہے بلکہ دنیا کے دیگر بڑے مذاہب بھی بالعموم اسی تصور کے حامل ہیں، موجودہ عیسائیت اور ہندومت کے متعلق انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں ہے :

"Monogamy ..... as prevails in the roman catholic and Hindue prescriptions for marriafe"(2)

''رومن کیتھو لک اور ہندو صرف ایک بیوی کی اجازت دیتے ہیں ...''

درج بالادونوں تصورا ت متضاد ہیں، ایک طرف ہیجان خیزی او رمقوی راغبانہ محرکات دوسری طرف شہوت سے مغلوب مرد کے لئے صرف ایک بیوی تک محدود رہنا، حالانکہ اگر ایک سے زیادہ بیویوں کی اجازت ہو تو یہ مسئلہ جائز اور فطری صورت میں بھی حل ہو سکتا ہے، مگر ایسا نہیں ہے۔ جس کا نتیجہ یہی ہے کہ نفس پرست لوگ ایک بیوی سے بڑھ کر حرام کاری کرتے ہیں، اور اب تو اسے نام نہاد ترقی یافتہ ممالک میں کوئی عیب بھی شمار نہیں کیا جاتا۔ نفسانی آوارگی کے جو معاشرتی، اخلاقی، جسمانی اور روحانی نقصانات ہیں، وہ مسلمہ ہیں مگر وہ اپنی جگہ ایک الگ موضوع ہے، افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہمارے ہاں مسلمان کہلانے والے بعض جدت پسند ایسے بھی ہیں جو اہل مغرب سے مرعوبیت میں حقائق کا ادراک کیے بغیر فرنگیوں وغیرہ کی نقالی ہی کا سوچتے ہیں۔ یہ لوگ جو بزعم خویش اپنے آپ کو حقوقِ انسانی کے دعویدار بھی سمجھتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ تعددِ ازواج سے عورتوں کے حقوق پر زد پڑتی ہے، کبھی ان کو مردوں کی بالادستی نظر آتی ہے، کبھی مرد کو چار اور عورت کو ایک تک محدود کرنا ان کو غیر مساویانہ لگتا ہے اورکبھی تعددِ ازواج کو یہ ترقی کی راہ میں حائل سمجھتے ہیں۔ مزید برآں ایک اور طبقہ جو اسلام کے مسلمہ اُصولوں کی نفی کرکے اسلام سے غداری کا 'فریضہ' سر انجام دے رہاہے، وہ تعددِ ازواج کے مسئلے کو اس بنا پر ردّ کرتے ہیں کہ یہ ان کی خام عقل کے موافق نہیں ہے، اس بارے میں آیاتِ قرآنی کی تاویلات اور احادیث ِصحیحہ کا انکار کیا جاتا ہے۔ ایک سرکردہ منکر ِحدیث مسٹر پرویز لکھتا ہے کہ

''قرآن میں وحدتِ زوج (یعنی ایک وقت میں ایک بیوی)کا اُصول بیان ہوا ہے۔ ایک کی موجودگی میں دوسری نہیں لائی جاسکتی۔ باقی رہی سورۃ النساء کی آیت جس میں ایک سے زائد نکاح کرنے کا ذکر ہے تو یہ جنگ وغیرہ کے نتیجے میں بیواؤں اوریتیموں کی کثرت ہوجائے تو ایسے معاشرتی حالات کی مجبوری کے ساتھ مشروط ہے۔'' (۳)

الغرض اس مسلمہ حقیقت کا انکار کیا جاتا ہے کہ ایک سے زیادہ بیویاں ایک مرد نہ رکھے اور اس معاملے کا منفی انداز میں ڈھونڈرا پیٹا جارہا ہے، حالانکہ یہ محض خام خیالی ہے۔ حقیقت کیا ہے ؟آئیے قطعی دلائل کی روشنی میں اس مسئلے کا جائزہ لیتے ہیں ...

تعددِازواج کا تاریخی پس منظر

سب سے پہلے ہم یہ واضح کئے دیتے ہیں کہ تعددِ ازواج کا انکا رفقط دورِ حاضرکا ایک فتنہ ہے، وگرنہ خاتم النّبیین ﷺکی بعثت سے ہزاروں سال قبل بھی اللہ کی طرف سے آدم ؑ کے بیٹوں کو ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت تھی۔ مختلف جلیل القدر پیغمبروں اور اُمم سابقہ کے حالات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی اُمتوں اورسابقہ شرائع میں تعددِ ازواج کی باقاعدہ اجازت تھی اور اس پر عمل بھی تھا۔

سابقہ انبیا ٓء کے ہاں کثرتِ ازواج

٭ سیدنا نوح ؑ کی شریعت میں مردوں کو ایک سے زائد نکاح کی اجازت تھی، اولادِ نوح ؑ میں لَمَک ایک ایسا شخص تھا، جس کی بیویوں کا ذکر بائبل میں ہے، ملاحظہ فرمائیے : ''اور لمک دو عورتیں بیاہ لایا، ایک کانام 'عدہ'اور دوسری کانام 'ضلہ'تھا۔ (۴)

یا د رکھئے کہ بائبل کے مندرجات غیرمسلم اہل کتاب کے لئے سب سے معتبر حوالہ ہیں، ان کو اپنا موجودہ قانون اس تناظر میں دوبارہ دیکھنا چاہیے۔

٭ ابراہیم ؑ خلیل اللہ جو کہ محمد ﷺ فداہ أبی وأمی کے جد ِامجد ہیں اوریہود ونصاری دونوں کو دعویٰ ہے کہ ہم آلِ ابراہیم ہیں، بلکہ اپنے تئیں دونوں اُنہیں اپنا ہم مذہب قرار دیتے ہیں؛ جاننا چاہیے کہ ابوالانبیا نے چار نکاح کیے تھے، حافظ ابن کثیر علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :

''حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑکی دوسری بیوی حضر ت حَاجِرَ قبطیہ مصریہ کے بطن سے ان کی اولاد میں سب سے پہلے حضرت اسماعیل ؑپیدا ہوئے، پھر ان کی پہلی بیوی حضرت سارہ کے بطن سے حضرت اسحق پیدا ہوئے ...قنطورا کے علاوہ حجون بنت ِامین سے بھی عقد کیا۔ ''(۵)

درج بالا عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ حَاجِرَ و سارہ ایک ہی وقت میں سیدنا ابراہیم ؑ کے نکاح میں رہیں۔ ابراہیم ؑ کے حَاجِرَوسارہ سے نکاح کی تائید بائبل کی کتاب پیدائش کے باب نمبر ۱۶کی آیت نمبر۲سے بھی ہوتی ہے، جہاں مذکورہ واقعہ ذکر ہے، اگر چہ بائبل حَاجِرکو لونڈی شمار کرتی ہے۔

٭ بنی اسرائیل جناب یعقوب ؑکی اولاد ہیں۔ یہود ونصاریٰ کو جاننا چاہیے کہ ان کے جد ِاعلیٰ نے خود 'تعدد ِازواج'پر واضح طور پر عمل کیا۔ بائبل کتابِ پیدائش اور دیگر مقامات کے مطالعہ سے واضح ہے کہ یعقوب ؑ نے اپنے ننھیال یعنی ماموں 'لابن'کے ہاں رہ کر بیس ۲۰برس تک بکریاں چرائیں او ران کی دو بیٹیوں 'لیاہ 'اور 'لاخل'سے شادی کی، نیز ان کی دو لونڈیو ں 'زلفا'اور 'بلیا'سے بھی مصاحبت کی۔ (۶)

سیدنا یعقوب ؑ کی ازدواجی زندگی سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی شریعت میں جمع بین الأختین یعنی ایک مرد کے ساتھ دو بہنوں کا بیک وقت نکاح بھی ممنوع نہ تھا او رخود یعقوب ؑ نے اس پر عمل بھی کیا۔

٭ اسی طرح بائبل میں تفصیل کے ساتھ ذکر ہے کہ اسحق ؑ کے دوسرے بیٹے 'عیسو'اپنے بیٹے اسمٰعیل کے ہاں چلے گئے، وہاں ان کی صاحبزادی سے شادی کی نیز اس کے علاوہ بھی کئی شادیاں کی۔(۸)جن میں 'بیری حتی 'کی بیٹی 'یہودتھ'اور 'ایلون'کی بیٹی 'بشاتھ'سے بیاہ کیا۔(۹)

٭ بنی اسرائیل ہی کے دو اور جلیل القدر پیغمبرداود اور سلیمان علیہما السلام ہیں جوکثرتِ ازواج کی بنا پر مشہور ہیں۔ اگرچہ یہود ی ان کا شمار سلاطین میں کرتے ہیں۔ مفسر قرآن خازن داؤد ؑکے متعلق لکھتے ہیں «کا ن لداؤد تسع وتسعون امرأة...الخ »(۱۰) ''داؤد ؑ کی نناوے بیویاں تھیں۔ ''

نیز بائبل کی کتاب تواریخ نمبر۱، باب نمبر۳میں ان کی نو بیویوں کے اسماء اوران سے جنم لینے والوں کے اسما بھی تفصیل سے مذکو رہیں ۔

٭ سیدنا سلیمان ؑکے متعلق صحیح حدیث میں ہے : ''قال رسول الله ﷺ: «قال سليمان لأطوفنّ الليلة علی تسعين امرأة...الخ» (۱۱( اس سے معلوم ہوا کہ سلیمان ؑکی نناوے بیویاں تھیں۔

جب کہ بائبل کتاب سلاطین، اوّل میں ہے ـ ''سلیمان ان ہی کے عشق کا دَم بھرنے لگا اور اس کے پاس سات سو شہزادیاں اس کی بیویاں اورتین سو حرمیں تھیں...الخ''(۱۲)

٭ ان کے علاوہ سیدنا موسی ؑبھی ہیں۔ جن کی شریعت کی اتباع کا دعو یٰ یہود ونصاری کرتے ہیں۔ بائبل میں ان کی دو شادیوں کا واضح ذکر ہے، کتابِ خروج میں ہے: ''اورموسیٰ اس شخص کے ساتھ رہنے کو راضی ہوگیا، تب اُسنے اپنی بیٹی صفورہ موسیٰ کو بیاہ دی۔ ''(۱۳)

دوسری شادی کا ذکر 'گنتی' میں ہے : ''اورموسی ؑنے ایک کو شی عورت سے بیاہ کرلیا۔''(۱۴)

جب کہ ایک محقق لکھتے ہیں ''اورموسیٰ ؑکی بھی چار بیویاں تھیں۔ ''(۱۵)

ہندؤوں کے ہاں کثرتِ ازواج

٭ خودہندوؤں کی تاریخ سے بھی پتہ چلتا ہے کہ ان کے بعض سرکردہ راجے اپنے حرم میں دو دو بہنوں کو شامل کیے رکھتے تھے، سری کرشن جی مہاراج کے عہد کے معروف راجہ 'کنسن' نے راجہ 'جرا سندہ'کی دو بہنوں سے شادی کی اور اسی شادی کی وجہ سے راجہ کنس کی حمایت میں جراسندہ نے جنگ بھی کی۔ (7)

٭ ہندو جو آج کل صرف ایک بیوی کے قائل ہیں،اپنے مذہبی پیشرؤوں کے بارے میں واضح کیوں نہیں کرتے کہ وہ کثرتِ ازواج کے قائل وفاعل تھے، ملاحظہ فرمائیے رام چندر جی کے والد کا قصہ : ''سری رام چندر جی کے والد راجہ وسرتھ کی تین بیویاں تھیں: نمبر۱، رانی کو شیلیا جو سری رام چندر جی کی والدہ تھیں۔ نمبر۲،رانی سمترا جو سری لچھمن کی والدہ تھیں۔ نمبر۳، رانی کیکئی جو بھرت جی کی والدہ تھیں... ''(۱۶)

نیز سری کرشن جی مہاراج جن کی بڑی عقیدت ہے ـ۔ان کے بارے میں دیکھئے : ''سری کرشن جی کی اٹھارہ بیویاں تھیں اور راجہ پانڈو کی دو بیویاں تھیں ''(۱۷) ان حوالہ جات سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے عالی مرتبت انبیا اور بانیانِ مذاہب اور بڑے لوگ کثرتِ ازدواج پرکار بند رہے اور اس امر کی شہادت قرآن، حدیث اور بائبل میں تفصیل کے ساتھ ملتی ہے ـ۔ان تفصیلات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایک سے زیادہ شادیاں کرنا نہ تو فطرتِ انسانی کے خلاف ہے اورنہ ایسا عمل ہے جس کی نظیر گزشتہ اقوام میں نہ ملتی ہو بلکہ مختلف مذاہب کو ماننے والی اقوام ایک سے زیادہ شادیاں کرتی رہی ہیں۔

تفریط کی بعض دیگر صورتیں

مزید برآں تاریخ ِعالم کے مطالعہ سے عیاں ہوتا ہے کہ جاہل قوموں نے دیگر مذہبی اور معاشرتی معاملات کی طرح تعددِ ازواج کے معاملے میں بھی افراط وتفریط سے کام لیا۔

ہندوؤں کی معتبر مذہبی کتاب مہا بھارت ہے، جس میں کوروں او رپانڈوں کی لڑائی کا ذکر ہے، جس میں کرشن جی مہاراج نے پانڈوں کا ساتھ دیا، کیونکہ یہ مظلوم تھے۔ یہ پانچ بھائی تھے، جن کی ایک مشترکہ بیوی تھی جس کانا م 'دروپدی 'تھا جسے کورے اُٹھا کر لے گئے تھے، یہ پانڈے مشترکہ بیوی رکھنے والے ہندؤوں کے ہیرو ہیںـ۔مشترکہ بیوی رکھنے کا تصور کتنا بے ہودہ ہے ؟اور یہ ہندو مت ہی میں قابل قبول ہوسکتا ہے، مگر تعد دِ ازواج پر آج کل خواہ مخواہ اعتراض کیا جاتا ہے ۔

جبکہ عرب دورِ جاہلیت میں اس فطری قانون میں دو طرح کی تبدیلیاں کرچکے تھے :

1. انہوں نے بیویوں کی کثرت کی کوئی حد مقرر نہ کی تھی۔

2. ایک شوہر جس طرح کثرت سے بیویاں رکھتا تھا، اسی طرح بعض اوقات ایک بے حیا عورت اپنے کئی 'بعول'رکھتی تھی۔ محمد حنیف ندویؒ لکھتے ہیں : ''اسلام سے پہلے کثرتِ بعول اورکثرتِ ازواج کی بلا تعیین اجازت تھی یعنی مرد جس قدر چاہتے عورتیں نکاح میں رکھتے اور اسی طرح عورتیں جس قدر چاہتیں، خاوند بنالیتیں۔ ''(۱۸)

حاصل کلام یہ ہے کہ

ا ۔ تعددازواج کا ثبوت تاریخ انسانی کے ابتدائی دور سے لے کر بعثت ِخاتم النّبیین ا تک تسلسل سے ملتا ہے۔

ب۔ تعدد ازواج کا ثبوت اسلام کے علاوہ دیگر اَدیان کی تاریخ سے بھی ثابت ہے۔

ج۔ جاہل اقوام نے اسلام سے قبل اس اجازت کو افراط وتفریط کا شکار بنا رکھا تھا۔

د۔ شریعت ِمحمدی نے تعدد ازواج کامسئلہ نئے سرے سے پیش نہیں کیا۔

ھ۔ ہماری شریعت میں اسے صرف معتدل اوربہترین Releifکرتے ہوئے پیش کیا گیا ہے۔

علامہ قرطبی لکھتے ہیں :

«کان الرجل في الجاهلية يتزوج العشرة فما دون ذلك فأحل الله جل ثناءہ أربعا ثم الذي يصير إلی أربع»(۱۹) ''آدمی جاہلیت میں دس یا کم وبیش عورتوں سے شادی کرتا۔ اللہ نے چار حلال برقرار رکھیں پھر اس پر ان کو چلادیا ۔''

گویا اسلام نے معتدل راستہ چار بیویوں تک کی اجازت کو قرار دیا ہے، ایسا کیوں ہے اور اس کے دلائل کیا ہیں ؟اب آپ ان کا مطالعہ فرمائیے :

شریعتِ محمدیؐ میں تعدد ازواج کی حیثیت

نکاح ایک مقدس بندھن ہے، اللہ نے اسے مؤمن کے لئے عفت وعصمت کو بچانے کا ذریعہ بنایا ہے، یہ لاپروائی والاکام نہیں ہے بلکہ سنجیدگی کا طالب ہے، چنانچہ شریعت نے نوجوانوں کو نکاح پر اُبھارا ہے، اور ایک مرد کو چار تک بیک وقت بیویاں رکھنے کی اجازت بھی دی ہے، اور ساتھ ہی یہ لازم قرار دیا ہے کہ وہ چاروں کے درمیان عدل وانصاف برتے۔ اگر خاوند انصاف نہیں کرسکتا تو اسے فقط ایک نکاح تک محدود رہنا چاہیے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿وَإِن خِفتُم أَلّا تُقسِطوا فِى اليَتـٰمىٰ فَانكِحوا ما طابَ لَكُم مِنَ النِّساءِ مَثنىٰ وَثُلـٰثَ وَرُ‌بـٰعَ ۖ فَإِن خِفتُم أَلّا تَعدِلوا فَو‌ٰحِدَةً أَو ما مَلَكَت أَيمـٰنُكُم ۚ ذ‌ٰلِكَ أَدنىٰ أَلّا تَعولوا ٣ ﴾... سورة النساء ''اور اگر تم ڈرو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف نہ کرسکوگے تو تم نکاح کرو جو اچھی لگیں تمہیں عورتوں میں سے دو، دو۔ تین، تین۔ چار، چار... سو اگر تم ڈرو کہ تم انصاف نہ کروگے تو صرف ایک ہی (کافی ہے) یا جو مالک ہیں تمہارے دائیں ہاتھ، یہ زیادہ قریب ہے کہ تم نا انصافی نہ کرو۔ ''

اس آیت کی سب سے عمدہ تفسیرسیدہ عائشہ ؓ سے مروی ہے، آپ ؓ واضح کرتی ہیں کہ

''اس آیت سے مراد وہ یتیم بچیاں ہیں، جو کسی شخص کی کفالت میں ہوتیں اوران کے مال کی رغبت میں وہ ان سے شادی کرلیتا اور ان کی صحبت کا صحیح حق ادانہ کرتا اورنہ ہی ان کے مال میں انصاف کرتا، ایسے شخص کو اللہ کا حکم ہے کہ وہ یتیموں کے علاوہ دیگر عورتوں سے نکاح کرلے، دو سے تین سے یا چار سے ''(۲۱)

مسٹر غلام احمد پرویز اور تعددِ ازواج: گویا یہ آیت اس امر کی صراحت کرتی ہے کہ بجائے یتیم بچیوں کے ساتھ دھوکہ دہی کرو، بہتر ہے کہ ان کے علاوہ دیگر عورتوں سے شادی کرلو اورساتھ ہی اس کی حد بندی کردی یعنی زیادہ سے زیادہ چار تک۔ انصاف کی شرط جہاں یتیم لڑکیوں کے بارے میں ہے، وہاں یہی شرط دیگر عورتوں کے بارے میں بھی ہے کہ زیادہ نکاح کی اجازت انصاف سے مشروط ہے۔اہم بات یہ ہے کہ اس آیت سے واضح ہے کہ یتیم بچیوں کے ساتھ زیادتی کا تدارک ہو، مگر مسڑ پرویز اس کا غلط مطلب پیش کرتے ہیں، ان کا خیال یہ ہے کہ

''تعددِ ازواج کے متعلق قرآنِ کریم میں صرف یہی آیت ہے اورمشروط ہے: ﴿وَإِن خِفتُم أَلّا تُقسِطوا فِى اليَتـٰمىٰ﴾کی شرط کے ساتھ...الخ(۲۲)

اس کی مزید وضاحت یوں کرتے ہیں کہ ''اگر کبھی کسی وجہ سے معاشرہ میں ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں مثلاً جنگ کی وجہ سے ۔۔۔بیوہ عورتوں اورجو ان لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہوجائے اوران کے مسئلے کا کوئی اطمینان بخش حل نہ ملتا ہو تو اسلامی حکومت وحدتِ زوج کے اُصولی قانون میں استثنا کرکے اس کی اجازت دے سکتی ہے کہ ایک وقت میں ایک سے زیادہ چار تک شادیاں کرلی جائیں ...الخ(۲۳)

مذکورہ خیال آرائی محض کج فہمی ہے، نہ ہی یہ بات درست ہے کہ قرآن میں تعددِ ازواج کی صرف یہی آیت ہے اورنہ ہی یہ امر واقعہ ہے کہ تعددِ ازواج کا مسئلہ اضطراری حالات سے مشروط ہے۔ مذکورہ آیت کے علاوہ سورۃ النساء ہی میں دوسرے مقام پر ارشاد ہے :

﴿وَلَن تَستَطيعوا أَن تَعدِلوا بَينَ النِّساءِ وَلَو حَرَ‌صتُم ۖ فَلا تَميلوا كُلَّ المَيلِ فَتَذَر‌وها كَالمُعَلَّقَةِ ۚ وَإِن تُصلِحوا وَتَتَّقوا فَإِنَّ اللَّهَ كانَ غَفورً‌ا رَ‌حيمًا ١٢٩﴾... سورة النساء''تم سے یہ تو کبھی نہ سکے گا کہ اپنی تمام بیویوں سے ہرطرح عدل کرو، گو تم اس کی کتنی ہی خواہش وکوشش کرلو۔ اس لئے بالکل ایک ہی کی طرف مائل ہو کر دوسری کو ادھر لٹکتی ہوئی نہ چھوڑو اوراگر تم اصلاح کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بے شک اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت اور رحمت والا ہے۔'' اس آیت سے بالکل واضح ہے کہ اپنی بیویوں کے درمیان حتیٰ الامکان عدل وانصاف کرنا چاہیے، اگر ایک سے زائد بیویاں نہ ہوں تو اس حکم کا کیا مطلب ہے ؟حافظ ابن کثیر علیہ الرحمہ اس آیت کی تفسیر میں رسولِ عربی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حدیث نقل کرتے ہیں

''آپ ﷺکا فرمان ہے جس کی دو بیویاں ہوں پھر وہ بالکل ایک ہی کی طرف جھک جائے تو قیامت کے دن اللہ کے سامنے اس طرح آئے گا کہ اس کا آدھا جسم ساقط (فالج زدہ )ہوگا۔ ''(۲۵)

مولانا ابوالاعلیٰ مودودی ؒرقمطراز ہیں : ''یہ آیت تعددِازواج کے جواز کو عدل کی شرط سے مشروط کرتی ہے، جو شخص عدل کی شرط پوری نہیں کرتا مگر ایک سے زیادہ بیویاں کرنے کے جواز سے فائدہ اٹھاتا ہے، وہ اللہ کے ساتھ دغا بازی کرتا ہے۔ ''(۲۶)

مذکورہ بالا صراحت سے واضح ہے کہ ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کامسئلہ ایک سے زیادہ مقامات پر قرآنِ کریم میں بیان کیا گیا ہے، نیز قرآن نے اس اجازت کو عدل کی شرط کے ساتھ مشروط کیا ہے۔

٭ اب آئیے دوسرے اعتراض کی طرف کہ تعددِ ازواج کا حکم اضطراری حالات کے لئے ہے اور ﴿وَإِن خِفتُم أَلّا تُقسِطوا فِى اليَتـٰمىٰ فَانكِحوا﴾ سے مشروط ہے، مولانا مودودی اس کا جواب یوں دیتے ہیں ''ان تمام مقاما ت پر شرطیہ الفاظ کو اگر شرطِ حکم قرار دے لیا جائے تو اس سے شریعت کی صورت ہی مسخ ہوکر رہ جائے گی، مثال کے طور پر دیکھئے عرب کے لوگ اپنی لونڈیوں کو پیشہ کمانے پر زبردستی مجبور کرتے تھے، اس کی ممانعت ان الفاظ میں فرمائی گئی ﴿لا تُكرِ‌هوا فَتَيـٰتِكُم عَلَى البِغاءِ إِن أَرَ‌دنَ تَحَصُّنًا...٣٣ ﴾... سورة النور" کیا اس آیت کا یہ مطلب لینا صحیح ہوگا کہ یہ حکم صرف لونڈیوں سے متعلق ہے اور یہ کہ لونڈی اگر خود زنا سے نہ بچنا چاہتی ہو تو اس سے پیشہ کرایا جاسکتا ہے ؟''(۲۷)

گو یا مولانا کی صراحت یہ ہے کہ سورۃالنساء کی آیت نمبر۳میں شرطیہ الفاظ ﴿وَإِن خِفتُم أَلّا تُقسِطوا فِى اليَتـٰمىٰ فَانكِحوا﴾شرطِ حکم کا فائدہ نہیں دیتے ہیں، اور یہی مطلب صحیح ہے۔ اب مزید وضاحت مولانا امین احسن اصلاحی ؒ کی ملاحظہ فرمائیے، وہ فرماتے ہیں :

''یہاں بعض لوگوں کے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہوگا کہ اسلام میں تعدد ازواج کی اجازت مطلق نہیں ہے بلکہ یتیموں کی مصلحت کے ساتھ مقید ہے۔ بلکہ یہ ہے کہ یتامی کی مصلحت کے نقطہ نظر سے تعددِ ازواج کے اس رواج سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی گئی ہے جو عرب میں تھا۔البتہ اس کو چار تک محدود کردیا گیا ہے، اگر مقصود تعددِ ازواج کو یتیموں کی مصلحت کے ساتھ مقید کرنا ہے تو اس کے لئے اسلوبِ بیان اس سے بالکل مختلف ہوتا ...الخ''(۲۸)

گویا اس آیت سے واضح ہے کہ تعددِ ازواج کے اُصول کو معاشرتی مصلحت کے لئے استعمال کیا جائے نہ کہ نظر یۂ ضرورت کے تحت اجازت کا غلط مفہوم لیا جائے، اور قرآن کی آیات کے مفہوم کو بگاڑنے کی مذموم کوشش کی جائے۔

تعددِ ازواج احادیث کی روشنی میں

کوئی مانے یانہ مانے، مگر اہل اسلام اورامت ِمحمدی میں شامل تمام فقہاء ومحدثین اس امر پرمتفق ہیں کہ نبی آخر الزماں ﷺکا فرمان ہی قرآنِ کریم کی سب سے معتبر اورمستند تشریح وتفسیر ہے، جو معنی آیت الٰہی کا حدیث متعین کردے، وہ ہی دینی وتشریعی مفہوم قابل قبول اورمعتبر ہوگا، رسولِ اکرم ﷺاور صحابہ کرام ؓ نے اپنے قول وفعل سے ثابت کردیا کہ اسلام میں چار شادیوں کی مرد کے لئے اجازت ہے۔ جس میں نہ حالات کی تخصیص ہے اورنہ ہی کوئی اور اضطراری کیفیت کی شرط ہے، بلکہ علیٰ العموم یہ ایک فضیلت والاکام اور حصولِ ثواب واجر کامعاملہ ہے، آئیے اس ضمن میں وارد مشہور احادیث سے واقفیت حاصل کرتے ہیں :

٭ غیلان بن أمیۃ الثقفي اسلام لائے تو ان کے عقد میں دس بیویاں تھیں ان کو رسول اللہ ﷺنے حکم دیا : «اخترمنهن أربعا وفارق سائرهن»(۲۹) ''ان میں سے چار کو چن لے اور (باقی )تمام کو جداکردے۔ ''

یہ حدیث موطا ٔامام مالک، نسائی، اوردار قطنی میں بھی موجود ہے، جب کہ جلال الدین سیوطیؒ فرماتے ہیں کہ ''یہ حدیث مزید کتب ِحدیث میں بھی ہے مثلاً سنن ابن ماجہ 'مصنف ابن ابی شیبہ 'مسند احمد 'سنن بیہقی وغیرہ میں بھی موجو د ہے۔(۳۰)

گویا یہ حدیث نہ صرف صحیح ہے بلکہ کثرتِ طرق سے مروی ہے اورکتب ِاحادیث میں متعدد بار منقول ہے۔ اس حدیث کا حکم واضح ہے کہ ایک مرد ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ چار بیویاں رکھ سکتا ہے۔

٭ الحارث بن قیس ؓ جن کو قیس بن حارث بھی کہتے ہیں، فرماتے ہیں کہ جب میں نے اسلام قبول کیا تو میری آٹھ بیویاں تھیں میں نے خود ان کی بابت رسول اللہ ﷺسے ذکر کیا تو آپ ﷺنے حکم دیا : «اخترمنهن أربعا »(۳۱) ''اِن میں سے چار کو چن لو ''

یاد رہے کہ یہ حدیث صحیح ہے، اور اس کی سنن ابی داود میں ایک سے زیادہ اسناد منقول ہیں ...اس حدیث سے بھی تعددِ ازواج کی اجازت کا حکم واضح ہے۔

٭ نوفل بن معاویہ الرملی ؓ کہتے ہیں کہ جب میں اسلام لایا تو میری پانچ بیویاں تھیں تو میں نے اس بارے میں رسول اللہﷺسے سوال کیا تو آپ ﷺنے فرمایا :«فارق واحدة وأمسك أربعا»(۳۲) ''چار، کو روکے رکھو اور ایک کو جدا کردو۔ ''

ان درج بالا مشہور ومعروف صحیح احادیث سے درج ذیل نتائج واضح ہیں :

1. تعددِ ازواج کی احادیث صحاحِ ستہ اور دیگر کتب ِاحادیث میں کثرت سے منقول ہیں۔

2. محدثین نے اس مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر کتب ِاحادیث میں اس کے جواز پر مبنی الفاظ کے ساتھ باقاعدہ اَبواب ترتیب دئے ہیں۔

3. ان احادیث کی روشنی میں مرد کو ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ چار بیویاں رکھنے کی اجازت ہے۔

خلفائے راشدین او رتعددِ ازواج

صحابہ کرام نے رسول اللہﷺکے احکامات اورسنن کی بے مثال اطاعت کی ہے، صحابہ کرام ہمارے لئے اطاعت کے نمونے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ اکثر صحابہ نے ایک سے زائد شادیاں کی ہیں، جن کی مکمل تفصیل کتب ِتاریخ، اسماء الرجال اورکتب ِطبقات میں موجو د ہے۔ صحابہ کرام میں سے خلفائے راشدین کا عمل صحابہ کی ایسی نمایندگی ہے، جس کی تائید صحابہ کرام نے کی۔ ذیل میں ہم تعددِازواج کے حوالے سے خلفا کا عمل نقل کرتے ہیں:

سیدنا ابوبکر صدیق ؓنے ایک سے زیادہ شادیاں کیںـ،اور مرتے دم تک وہ تعددِ ازواج پر عمل پیرارہے ،ان کی ایک بیوی کانام حبیبہ بنت ِخارجہ ہے۔ یہی وہ خاتون ہیں، جوکہ مقام سنح میں مقیم تھیں، اور جس دن وفاتِ رسول ﷺہوئی؛ ابوبکر، رسول اللہ ﷺسے اجازت لے کر ان ہی کے پاس گئے۔ (۳۳) ان کی حضرت ابوبکر ؓسے ایک بیٹی اُمّ کلثوم بھی پیدا ہوئیں، مگر وفاتِ صدیق ؓ کے بعد۔ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں : (أم کلثوم) مات أبوھا وھي حمل(۳۴) مزید لکھتے ہیں : ''أمها(أي أم أم کلثوم بنت أبي بکر صديق)حبيبة بنت خارجة وضعتها بعد موت أبي بکر''(۳۵)

''ان کی والدہ یعنی ام کلثوم بنت ابوبکر صدیق کی والدہ کااسم گرامی حبیبہ بنت خارجہ ہے، انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق کی وفات کے بعد ام کلثوم کو جنم دیا...''

4. گویا یہ بیوی بھی آخر دم تک ساتھ رہیں۔ جب کہ ایک دوسری بیوی اسماء بنت عمیس ہیں، یہ بھی آخر وقت تک صدیق اکبر کی زو جہ رہیں، بلکہ یہ بھی منقول ہے کہ خلیفہ اوّل کی وصیت تھی کہ وفات کے بعد مجھے اسماء بنت عمیس ؓغسل دیں، حافظ ابن حجر لکھتے ہیں

«ثم ذکر من عدة أوجه أن أبابکر الصديق أوصی أن تغسله امرأته أسماء بنت عميس» (۳۶) ''مختلف طرق سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر نے وصیت کی تھی کہ ان کی بیوی اسماء انہیں غسل دے'' گویا ثابت ہواکہ خلیفہ اوّل مرتے دم تک ایک سے زیادہ شادیاں کئے رہے۔

٭ خلیفہ ثانی امیر المومنین سیدنا عمر ؓ بھی مرتے دم تک ایک سے زائد بیویاں رکھنے کے قائل ہی نہیں بلکہ فاعل بھی رہے، ان کی وفات کے وقت دو بیویوں کی موجودگی کا ثبوت پیش خدمت ہے: یعنی عاتکہ بنت ِزید اوراُمّ کلثوم بنت ِعلیؓ۔ عاتکہ بنت ِزید وہ خاتون ہیں جو عشرہ مبشرہ میں شامل جناب سعید بن زید ؓ کی ہمشیرہ ہیں، انہوں نے شہادتِ عمرؓ کے وقت باقاعدہ مرثیہ کہا جس کے اشعار بہت مشہور ہوئے۔

«ثم استشهد عمر فرثته بالأبيات المشهورة»(۳۷) جب کہ دوسری بیوی سیدہ اُمّ کلثوم بنت ِعلی کے بارے میں حافظ ابن حجر واضح لکھتے ہیں :

''لما تأیّمت اُمّ کلثوم بنت علي عن عمر... الخ'' (۳۸)

''جب اُمّ کلثوم بنت ِعلی عمر سے بیوہ ہوئیں ...''

٭ سیدنا علی ؓ نے پے درپے نو شادیاں کیں، جن سے اولاد واحفاد بھی ہوئے (۳۹)جب کہ ان کے بیٹے حضرت حسنؓ تو کثرت سے شادیاں کرنے میں مشہور ہوئے، حتیٰ کہ حضرت علی ؓ کو اہل کوفہ کو کہنا پڑا کہ تم میرے بیٹے حسنؓ کو لڑکیا ں نہ دیا کرو ... الخ (۴۰)

خلفاے راشدین کا طرزِ عمل تمام صحابہ کی تائید ہی سے تھا۔ کسی صحابی سے بھی منقول نہیں ہے کہ اُس نے اس معاملے میں کبھی اختلاف کیا ہو۔ صحابہ کرام کا اس معاملے پر اجماع تھا، نہ صرف صحابہ کرام کا بلکہ بعد میں آنے والے تابعین اور اہل علم کا بھی اس امر پر اتفاق ہے۔

اِجماعِ اُمت

قرونِ اولیٰ اور بعد ازاں اہل کا اس امر پر اجماع رہا ہے کہ مرد ایک سے زیادہ شادیاں کرسکتا ہے، جن کی ایک وقت میں آخری حد چار بیویوں کی ہے۔ شمس الدین السرخسی لکھتے ہیں : ''ولم ينقل عن أحد في حياة رسو ل اللهﷺ ولابعدہ إلی يومنا ھذا أنه جمع بين أکثر من أربع نسوة نکاحًا''(۴۱) ''رسول اللہ ا کی زندگی میں کسی ایک سے بھی منقول نہیں ہے اورنہ ان کے بعد آج تک ثابت ہے کہ کسی نے چار سے زائد عورتوں کو نکاح میں جمع کیا ہو ۔''

ابو عبد اللہ القرطبی لکھتے ہیں : «وھذا كُلِّهِ جَهْل باللسان وَاَلَّيْسَةَ ومخالفةلإجماع الأمة إذ لم يسمع عن أحد من الصحابة ولا التابعين أنَّهُ لاجمع في عصمته أکثر من أربع»(۴۲) '' جو اقوال وآرا چار سے زائد نکاح کے بارے میں ہیں) وہ تمام لغت ِعرب وسنت سے لاعلمی کی وجہ سے ہیں اوراُمت کے اِجماع کے مخالف ہیں۔ کیونکہ نہ کسی صحابی سے سنا گیا ہے اورنہ کسی تابعی سے کہ اس نے اپنے حرم میں چار سے زائد بیویاں جمع کی ہوں۔'' بعض روافض کا خیال ہے کہ مرد بیک وقت نو تک عورتیں جمع کرسکتا ہے۔ محدثین وفقہا اس کی تردید تو ضرور کرتے ہیں، مگر چار تک کے جواز میں کسی کا کوئی بھی قطعاًاختلاف نہیں ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں : (باب لا يزوج أکثر من أربع) أما حکم الترجمة فبالإجماع إلا قول من لا يعتد بخلافه من رافضي ونحوہ '' (۴۳) صحیح بخاری میں باب ہے کہ کوئی چار سے زائد بیویاں نہیں رکھ سکتا) لیکن عنوان کا حکم بالا جماع ثابت ہے مگر رافضی وغیرہ کہ جن کے اقوال کسی شمار میں نہیں ہیں۔ امام خازن لکھتے ہیں ''وأجمعت الأمة علی أنه لايجوز لأحد أن يزيد علی أربع نسوة''(۴۴)

''اور اُمت کا اس امر پر اجماع ہے کہ کسی کو جائز نہیں کہ وہ چار عورتوں سے زائد رکھے۔''

ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں : ''أجمع أھل العلم علی ھذا ولا نعلم أحدا خالفه إلاشيئا يحكي عن القاسم بن إبراهيم أنه أباح تسعا لقول الله ﴿فَانْكحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاء مَثْنٰى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ﴾ والواو للجمع ولأن النّبي مات عن تسع وھذا ليس بشيء لأنه خرق للإجماع وترك للسنة ''(۴۵) ''اہل علم کا اس امر پر اجماع ہے اور ہم نہیں جانتے کہ کسی نے اس کی مخالفت کی ہو مگر جو کچھ قاسم بن ابراہیم سے بیان کیا جاتا ہے کہ اس نے نو کی اجازت دی ہے اس وجہ سے کہ اللہ کا فرمان ہے (فاَنْکَحُوْا ... الخ) اس میں دو۲ اورتین۳ اورچار۴ (کل نو۹ہوئے ) واؤ جمع کے لئے ہے اور اس وجہ سے بھی کہ رسول اللہ جب فوت ہوئے تو ان کی نو بیویاں تھیں ...(مگر )یہ قول ودلیل کوئی حیثیت نہیں رکھتے کیونکہ یہ اجماع کے مخالف اور خلافِ سنت ہیں۔ '' گویا بعض روافض کا شاذ قول ہے کہ نو تک اجازت ہے مگر چار تک اجازت کا معاملہ پوری طرح متفق علیہ ہے۔

تعدّدِ ازواج کی حکمت

اللہ کا ہر حکم قطعی اور واجب الاطاعت ہوتا ہے، چاہے اس کی حکمت انسان کو سمجھ آئے یانہ آئے، اسی طرح رسول اللہ ﷺ کا ہر فرمان اورسنت واجب الاطاعت ہے اگرچہ منکرین کی درایت کی رسائی اس تک ہو یا نہ ہو۔ اس کے باوجود اللہ کا شکر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے احکام کی حکمتیں اپنے بندوں پر واضح کردیتا ہے۔ مرد کے لئے چار شادیوں کی اجازت بھی ایسا معاملہ ہے، جس کی حکمت وفلسفہ کو اہل علم نے مختلف انداز سے واضح کیا ہے۔

تعدد ازواج کے دو پہلو ہیں : (۱1 ذات پر اثرات (2)تمدن پر اثرا ت

ان دونوں حوالوں سے مفکرین نے اس مسئلے کی عقدہ کشائی کی ہے۔ ذاتی حوالے سے یہ جاننا چاہیے کہ اللہ نے مرد کو طاقتور بنایا ہے، اور عورت سے زیادہ طاقت عطا فرمائی ہے۔ جو لوگ عورت کی خواہش نفسانی کو مرد سے زیادہ خیال کرتے ہیں ان کی تردید حافظ ابن قیم علیہ الرحمہ ان پر زور الفاظ کے ساتھ کرتے ہیں : ''قولهم أن الله جعل للمرأة شهوة تزيد علی ... الخ'' ''ان کا کہنا کہ اللہ نے عورت کی شہوت مرد سے سات گناہ زیادہ رکھی ہے۔ حافظ کہتے ہیں کہ اگر معاملہ ایسا ہی ہوتا تو اللہ تعالیٰ مرد کو چار بیویاں اور جتنی چاہے لونڈیاں رکھنے کی اجازت نہ دیتے اور عورت کو پابند نہ کرتے کہ وہ ایک آدمی سے آگے نہ بڑھے۔ حالانکہ اس کے لئے تقسیم اوقات میں چوتھائی حصہ آتا ہے۔ حاشا، اللہ کی حکمت یہ نہیں ہے کہ وہ معذور ومجبور پر مزید تنگی کرے او راس کے حرج میں وسعت کرے۔ '' (۴۴)

گویا حافظ ابن قیم کی صراحت یہی ہے کہ اگر اللہ نے مرد کو چار بیویوں کی اجازت دی ہے تو وہ اس کا اہل ہے، وگرنہ نا اہل ہونے کی صورت میں اسے قطعاً اجازت نہ ملتی۔

٭ دوسری و جہ مرد کے لئے تعد د ازواج کی حافظ ابن قیم ؒیہ بیان کرتے ہیں : «وأيضافإن طبيعة الذکر الحرارة وطبيعة الأنثی البرودة وصاحب الحرارة يحتاج من الجماع فوق ما يحتاج إليه صاحب البرودة»(۴۷) ''او راسی طرح مرد کی طبع گرمی والی ہے اور عورت کی طبیعت ٹھنڈی ہے۔ گرمی والے کو بنسبت ٹھنڈی طبیعت والے کے، زیادہ مجامعت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ''

لہٰذا مرد اپنی طبیعت کی ضرورت کے تقاضے کے پیش نظر زیادہ بیویاں رکھ سکتا ہے، نیز مرد کی طاقت وحرارت کے بارے حافظ ابن قیم کے مزید دلائل إعلام الموقعین ۲؍۱۰۵میں ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں ۔

تنوع پسندی

اس پر مزید قابل توجہ امر یہ ہے کہ مرد بالطبع تنوع پسند ہے او روہ ایک سے زائد بیویوں کا خواہشمند رہتا ہے ـ،علامہ محمد حنیف ندویؒ اس فطری تقاضے کی روشنی میں اہل یورپ کے بارے میں لکھتے ہیں : ''مرد بالطبع تنوع پسند ہے او ریہی وجہ ہے کہ یورپ میں وحدتِ زوج کی سکیم کامیاب نہیں رہی '' (۴۸) مرد کا یہی فطری رجحان ہے، جس کی شاہ ولی اللہ تعددِ ازواج کے حوالے سے نشاندہی فرماتے ہیں

''فالإکثار من النساء شيمة الرجال وربما يحصل به المباهاة فقدرالشارع بأربع ''(۴۹) ''پس زیادہ عورتیں رکھنا آدمیوں کی طبیعت ہے، او ربعض اوقات یہ اظہارِ فخر کے لئے ہوتا ہے، چنانچہ شارع نے اسے چار تک محدود کردیا ۔''

غرض یہ کہ اللہ نے مرد کی فطرت کے عین مطابق اسے کثرتِ ازواج کی اجازت دی۔ مگر چار تک ہی پابند بھی کردیا۔

خارجی محرکات

عورت بنیادی طور پر خاتونِ خانہ ہے، جب کہ مرد معاشرے میں آزاد گھومنے والا شخص ہے۔ عورت کی نگاہ گھر کی چار دیواری میں محدود رہتی ہے، جب کہ مرد کو معاشرے میں دیگر ایسی اشیاء واجناس سے ملاقات ہوتی ہے، جو کہ اس کے شہوانی جذبات کو بھڑکادیتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر عرض کیا کہ مرد غلبہ شہوت والا او رزیادہ حرارت والافرد بھی ہے اوراوپر سے جب معاشرے میں اسے ہر طرف مہیجاتِ نفسانیہ سے واسطہ پڑتا ہے تو اس کے لئے پھر ایک بیوی ناکافی ہوجاتی ہے۔

مولانا مودودی کہتے ہیں : ''ایک طرف تو آپ مغرب کی اندھی تقلید میں فحش لٹریچر، عریاں تصاویر، شہوانی موسیقی اور ہیجان انگیز فلموں کا سیلاب ملک میں لارہے ہیں، جو لوگوں کے صنفی جذبات کو ہر وقت بھڑکاتا رہتا ہے۔ دوسری طرف آپ مخلوط تعلیم کو رواج دے رہے ہیں،'ثقافت'کے پروگرام چلا رہے ہیں، روز بروز عورتوں کو ملازمتوں میں کھینچ رہے ہیں۔ جس کی بدولت بنی سنوری عورتوں کے ساتھ مردوں کے اختلاط کے مواقع بڑھتے جارہے ہیں۔ اس کے بعد آپ کے تازہ اقدامات یہ ہیں کہ تعددِ ازواج پر آپ نے ایسی پابندیاں لگانا شروع کردی ہیں جن سے وہ عملاً نا ممکن نہیں تو دشوار ضرورہو جاتا ہے۔ ''(۵۰)

ہمارے معاشرے میں خواہشاتِ نفس کو بڑھکایا جاتا ہے او رجب نفس کو تیار کیا جاتا ہے پھر ایک ہی شادی کا پابند کیا جاتا ہے، حالانکہ فی زمانہ نفسانی خواہشات میں اضافے کے محرکات کی وجہ سے مرد کو ایک سے زائد شادیوں کی ضرورت ہے۔

تحفظ ِعصمت

اسلام حیا کا مذہب ہے اورعصمت وعفت کی حفاظت کا درس دیتا ہے، نکاح کے ذریعے مرد وعورت اپنی پاک دامنی کی حفاظت کرتے ہیں، مگر بعض اوقات ایسا ہوتاہے کہ عورت اپنی مخصوص ممانعات کے باعث خاوند کے لئے تسکین کا باعث نہیں ہوتی، تب خاوند کیا کرے اور اپنی عصمت کی حفاظت کیسے کرے؟ صبر اچھا ہے، مگر معاملہ اگر صبر وبرداشت سے باہر ہو رہا ہو تو پھر ؟اس معاملے کا حل تعددِ ازواج ہے۔

حافظ ابن قیم ؒ فرماتے ہیں : ''ثم من الناس من يغلب عليه سلطان ھذہ الشهوة فلا تندفع حاجته بواحدةفانطلق له ثانية وثالثة ورابعة ''(۵۱) ''پھر لوگوں میں سے وہ لوگ بھی ہیں جن پر اس شہوت کا غلبہ چھاجاتا ہے، تو ان کی ضرورت ایک بیوی سے پوری نہیں ہوتی تو اس کیلئے دوسری اورتیسری اور چوتھی بیوی کرنے کی اجازت ہے ''

شاہ ولی اللہ ؒ لکھتے ہیں : ''ولا يمكن أن يضيق في ذلك کل تضييق (أي الا قتصار علی زوجة واحدة) فإن من الناس من لايحصنه فرج واحدة ''(۵۲) ''اور یہ ممکن نہیں کہ اس معاملے میں مکمل تنگی کی جائے (یعنی ایک ہی بیوی کا قانون رکھا جائے) یقینا لوگوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کی عصمت کے تحفظ کے لئے ایک بیوی ناکافی ہے ''

مرد اس معاملے میں مجبور ہو جاتا ہے، مگر اہل مغرب نے قانون یک زوجی Monogamyلاگو کررکھا ہے، چنانچہ ایسے ممالک کے مرد دوسری بیوی تو نہیں کرتے مگر اپنی ضرورت کے موافق اضافی داشتہ یا داشتائیں ضرور رکھ لیتے ہیں۔ مولانا مودودیؒ کہتے ہیں :

''اس قانونی پابندی کانتیجہ ہر جگہ یہی ہوا ہے کہ آدمی کی جائز بیوی تو صرف ایک ہی ہوتی ہے مگر حدودِ نکاح سے باہر وہ عورتوں کی غیر محدود تعداد سے عارضی مستقل ہر طرح کے ناجائز تعلقات پیداکرتا ہے۔''(۴۳) مزید فرماتے ہیں : ''آپ قانونی تعددِ ازواج کو قبول کرتے ہیں یا غیر قانونی تعددِ ازواج کو... ''(۵۴)

اہل مغرب کے عمل سے اس سوال کا جواب تو یہی ہے کہ وہ غیر قانونی تعددِ ازواج کو من حیث القوم اختیار کرچکے ہیں، ذرا اس بارے میں مولانا کا زبردست اعتراض ملاحظہ فرمائیے : ''مغربی قومیں جو ایک سے زائد بیوی رکھنے کو ایک قبیح وشنیع فعل او رخارج از نکاح تعلقات کو (بشرطِ تراضی طرفین )حلال وطیب یا کم از کم قابل در گزر سمجھتی ہیں،جن کے ہاں بیوی کی موجودگی میں داشتہ رکھنا تو جرم نہیں مگر اس داشتہ سے نکاح کرلینا جرم ہے۔ ''(۵۵)

مردانہ برتری کا تقاضا

اللہ تعالی نے بہت سے معاملات میں مرد کو عورت پر برتری عطاکی ہے، مرد کا حق وراثت عورت سے دوگنا ہے، گواہی میں مرد عورت سے قوی ہے، حکومت وامامت کا اہل اسے گردانا گیا ہے 'وقت ِپیدائش بیٹے کے دو جب کہ بیٹی کی طرف سے ایک جان کا عقیقہ کیا جاتا ہے، حافظ ابن قیم علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کا معاملہ بھی ایسا یہی ہے : ''فکان من تفضيله الذکر علی الأنثی أن خص بجواز نکاح أکثر من واحدة''(۵۶) ''مذکر کی مؤنث پر فضیلت میں سے ہی یہ معاملہ بھی ہے کہ مرد کو ایک سے زیادہ نکاح کرنے کی خصوصیت حاصل ہے۔ ''مزید لکھتے ہیں کہ ''عورت اورمرد اگرچہ عمل مجامعت کی لذت میں برابر کے شریک ہیں۔ لیکن چونکہ نفقہ وسکنی مرد کے اوپر عائد ہوتا ہے، تو اس اضافی بوجھ کے باعث اسے اجازت ہے کہ وہ ایک سے زائد عورتیں رکھ سکتا ہے۔'' (۵۷)

مزید برآں إعلام الموقعین میں فرماتے ہیں کہ ''اللہ نے مردوں کو نبوت ورسالت، خلافت وامارت، حکومت وجہاد کے ساتھ ساتھ عورت پر قوام بناکر فضیلت دی ہے، اورمرد اِن کٹھن امور کی انجام دہی کے لئے زبردست محنت کرتا ہے جب کہ عورت صرف گھر میں سکون کے ساتھ رہتی ہے تو مردوں کا حق ہے کہ ان کی دل لگی کے لئے اگر ایک سے زائد عورتوں کی ضرورت ہو تو پوری ہو'' (۵۸)

الغرض یہ معاملہ بھی مرد کی فضیلت کا ہے اور ربّ ِکریم کی عطا ہے؛ وہ جسے چاہے، برتری دے۔

کثرتِ نسل

اُمت ِمحمدیہ قیامت کے دن سب اُمتوں سے بڑی ہوگی 'اور اس پر ہمارے پیغمبر فخر کریں گے، ہمارے لیے یہی حکم ہے کہ اُمت میں اضافے کی فکر کریں۔ایسی عورتوں سے شادی کریں جن سے بکثرت نسل پھیلے، اگر مرد کی ایک سے زائد بیویاں ہوں گی 'اورسب سے اولاد ہو تو مرد کی نسل کس قدر زیادہ ہوگی۔ کم ازکم چار گنازیادہ بنسبت اس شخص کے جس کی صرف ایک ہی بیوی ہو۔بدائع الفوائد میں کثرتِ ازواج کا ایک اہم مقصد یہ بھی بیان کیا گیا ہے ''وأيضا ففي التوسعة للرجل يكثر النسل الذي ھو من أھم مقاصدالنکاح''(۵۹) ''اسی طرح زیادہ شادیاں کرنے سے آدمی کی نسل کثرت سے ہوتی ہے جو کہ نکاح کے اہم مقاصد سے ہے۔ ''

شاہ ولی اللہ کے الفاظ اس ضمن میں ملاحظہ فرمائیے : ''وأعظم المقاصد التناسل والرجل يكفي لتلقيح عدد كثير من النساء ''(۶۰)

''اورنکاح کے مقاصد میں سے سب سے بڑا مقصد نسل بڑھانا ہے 'اور ایک آدمی بہت زیادہ عورتوں کو بار آور کرنے کے لئے کافی ہے۔ ''

ایک مرد کئی عورتوں کو بارآور کرسکتا ہے۔ ڈاکٹر محمد آفتاب خاں لکھتے ہیں کہ ''مرد کے مادہ منویہ میں کروڑوں زندہ حیوانی خلئے ،کرم منی ہوتے ہیں جن میں سے صرف ایک حیوانی خلیہ cell بیضے کے ساتھ ملتا ہے۔'' (۶۱)

عورت کی مثال کھیت کی سی ہے، کھیت میں ایک وقت میں ایک ہی طرح کے بیج ڈالے جا سکتے ہیں جب کہ مرد کے پاس بیج ہیں جو ایک سے زیادہ کھیتوں میں ڈالے جاسکتے ہیں۔ بنابریں ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ بقولِ محمد حنیف ندوی : ''عورت ایک آلہ تولید ہے جس کی کثرت میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ''(۶۲)

تمد نی ضرورت

مرد اس قابل ہے کہ ایک سے زیادہ بیویوں کا بوجھ اٹھا سکے، یہ صرف اس کے ذاتی حوالے سے ہی نہیں بلکہ بسااوقات تمدن کے وسیع تر مفاد کے لئے ضروری بھی ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ نے اسی جانب رہنمائی فرمائی ہے کہ تعددِ ازواج کے جواز کو یتیموں اور بیوائوں کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کیا جائے۔ سورۃالنساء کی آیت نمبر ۳ میں اسی تمدنی افادیت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور اسی آیت کے حوالے سے امین احسن اصلاحی فرماتے ہیں: ''اس سے ایک معاشرتی مصلحت میں فائدہ اٹھانے کی طرف رہنمائی فرمائی گئی ہے، لیکن معاشرتی مصلحت صرف ایک یتیموں کی ہی مصلحت نہیں ہے بلکہ اور بھی مصلحت ہوسکتی ہے پھر کوئی وجہ نہیں کہ اس سے فائدہ اٹھانے کی ممانعت ہو۔'' (۶۳)

اگر کسی کے اوپر جنگ مسلط کردی جائے اور شہدا کی تعداد بڑھنے لگے تو یتیموں اور بیوائوں کی کفالت کے لئے تعددِ ازواج پر عمل ناگزیر ہوجاتاہے اور مسلمان قوم میں تو جہاد قیامت تک جاری ہے۔ پھر اس جواز کی افادیت بھی قیامت تک جاری رہے گی۔ (ان شاء اللہ)

اس کے علاوہ اس جواز سے کتنے بڑے بڑے فائدے اٹھائے جاسکتے ہیں، اس کی صرف ایک مثال محمد حنیف ندوی کے قلم سے یوں بیان ہوتی ہے:

''ملکی حالات بعض دفعہ مجبور کردیتے ہیں کہ کثرتِ ازواج کی رسم کو جاری کیا جائے۔ جیسے یورپ میں جنگ ِعظیم کے بعد۔ کیا ان حقائق کی روشنی میں کثرتِ ازدواج کی اجازت نہ دینا انسانیت پر بہت بڑاظلم نہیں...؟''(۶۴)

الغرض نسل انسانی کے بقا کے لئے ایسا کرنا بہت ضروری بھی ہوجاتا ہے۔

انقلابی تدبیر

ہندوستان جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں۔ ان کو ندوی صاحب کامشورہ ہے کہ وہ تعدد ازواج اور کثرتِ تناسل پر عمل کریں۔ ان شاء اللہ مسلمان اقلیت سے اکثریت میں تبدیل ہوجائیں گے او ریہ بڑی تبدیلی صرف چند دہائیوں میں عین ممکن ہے۔ملاحظہ فرمائیے مولانا کی رائے :

''ہندوستان میں اگر مسلمان کثرتِ ازدواج پرعمل کرنے لگیں تو صرف پچاس سال کے بعد اقلیت بغیر کسی تبلیغ کے مبدل بہ اکثریت ہوجائے۔''(۶۵)

درحقیقت یہی وہ خطرہ ہے جس سے ڈر کر تمام دنیا کے کفار اور کفار کے مسلمان نما ایجنٹ تعدد ازدواج کے خلاف زہر اگلتے ہیں، کیونکہ اس وقت صرف اسلام پر عمل کرنے والے اسے اپنائے ہوئے ہیں اور اگر یہ رواج بڑھ گیا تو ہندوستان تو ایک طرف پوری دنیا میں کفار مسلمانوں کے مقابلے میں اقلیت میں آجائیں گے۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کو وحدتِ زوج اور محدود بچوں کامشورہ دیتے ہیں اوراپنی مغربی اقوام کو منتیں کرتے ہیں کہ زیادہ بچے پیدا کرو۔

اگر کسی تمدن میں قانون صرف ایک بیوی رکھنے کا ہو تو وہاں لازماً بے راہ روی پھیلے گی۔ دیارِ مغرب اس کی واضح مثالیں ہیں۔ جہاں کھلی شہوانیت کی حوصلہ افزائی ہے اور پابندیٔ یک زوجی بھی، وہاں پھر مرد دیگر عورتوں سے ناجائز تعلقات استوار کر رہے ہیں۔ وہ اقوام اخلاقی بدحالی کا شکار ہیں۔ کنواری مائوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ا س کی نسبت (Ratio) دن بدن معاشرے میں بڑھ رہی ہے۔ ناجائز بچے کثرت سے ہو رہے ہیں۔ نسب نامے کم ہور ہے ہیں۔ خاندان مٹ رہے ہیں۔ مزید برآں حرامی بچے لاوارث ہوتے ہیں جن کی ذمہ داری کوئی قبول نہیںکرتا۔ یہ ذمہ داری بھی ریاست کو اٹھانا پڑتی ہے۔نتیجۃً ریاست کو دشواریوں کا سامنا ہے۔

آپ اندازہ لگائیں کہ کہ اگر کسی معاشرے میں ناجائز بچوں کی تعداد زیادہ ہوجائے جن کا کوئی وارث نہ ہو۔ جو شتر بے مہار کی طرح معاشرے میں زندگی گزاریں۔ ان کی اخلاقی تربیت کے لئے کسی باپ کی ذمہ داری نہ ہو، تو یہ بچے معاشرے کے جرائم کی نرسری بن جاتے ہیں اور یہ بڑے ہو کر چونکہ باضابطہ رشتہ داری کرنے کی پوزیشن میں نہیںہوتے لہٰذا جنسی اباحیت پھیلاتے ہیں۔ مغربی معاشرے میں اب یہ عام ہے۔ جہاں انہوں نے مادّی، سائنسی ترقی کی ہے، وہاں اخلاقی طور پر ان کا دیوالیہ تقریباً نکل چکا ہے اور یہ پہلو ایسا ہے جس کا انجام تباہی کے سوا کچھ نہیں۔اگر اہل مغرب نے بھی تعددِ ازواج کے قانون کو اپنایا ہوتا اور عورت کو چار دیواری میں رکھا ہوتا تو کم از کم اتنی خطرناک صورتحال نہ ہوتی۔

لیکن وہ تو اس کے برعکس یہ چاہتے ہیں کہ ''ہم تو ڈوبے ہیں صنم تمہیں بھی لے ڈوبیں گے!'' وہ اہل اسلام کو ورغلانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں او راپنی ترقی کے نام پر انہیں بھی اباحیت و عریانیت اپنانے کے پرزور دعوت دے رہے ہیں اور اب تو امداد بھی ایسی آزادی کے ساتھ مشروط کر رہے ہیں تاکہ ان میں بھی گند پھیلے اور یہ ہمارے مقابلے میں آنے کے قابل نہ رہیں۔ کیونکہ اسلحہ کتنا ہی کیوں نہ ہو، اگر بندہ نفسانی خواہشات کا غلام ہو تو کبھی بھی غالب نہیںآسکتا۔ایسی صورتحال کے تدارک کے لئے ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اس کا بہترین حل تعدد ِازواج کا جواز ہے۔ دیکھئے یہی حقیقت مولانا مودودیؒ 'تفہیم القرآن' میں بیان کرتے ہیں: ''بعض حالات میں یہ چیز ایک تمدنی اور اخلاقی ضرورت بن جاتی ہے۔ اگر اس کی اجازت نہ ہو تو پھر وہ لوگ جو ایک عورت پر قانع نہیں ہوسکتے، حصارِ نکاح سے باہر صنفی بدامنی پھیلانے لگے جاتے ہیں جس کے نقصانات تمدن و اخلاق کے لئے اس سے بہت زیادہ ہیں جو تعددِ ازواج سے پہنچ سکتے ہیں۔''(۶۶)

صرف چار ہی کیوں؟

اسلام سے قبل صورتحال اتنی دِگرگوں تھی کہ لوگ جتنی چاہتے بیویاں رکھتے۔ یہ حالت نہ صرف عرب کے جاہلوں کی تھی بلکہ دیگر اَدیان کے مذہبی راہنمائوں کے متعلق آپ جان چکے ہیں کہ وہ بھی کثرتِ ازواج پرکاربند تھے اور یہ بات ان کی شرائع میں رائج تھیں۔ مگر ایسا معاملہ تھاکہ بالعموم بیویوں کے درمیان اس سے انصاف نہیں ہوپاتا۔ چنانچہ شریعت ِمحمدیہ میں اس عمومی اجازت کو چار تک محدود کر دیا گیا تاکہ مرد اپنی بیویوں کے درمیان آسانی سے انصاف کرسکے۔ حافظ ابن قیم إغاثۃ اللھفان میں لکھتے ہیں: ''ومنع من تجاوز أربع زوجات لکونه ذريعة ظاھرة إلی الجور وعدم العدل بينهن وقصر الرجال علی الأربع فسحة لهم في التخلص من الزنا...الخ''(۶۷) ''اور چار بیویوں کی حد سے تجاوز کرنے سے منع کیا گیا، کیونکہ چار سے تجاوز کرنا ان کے درمیان واضح ذریعہ تھا ظلم اور نا انصافی کی طرف اور مردوں کو چار بیویوں تک محدود کر دیا تاکہ ان کو زنا سے چھٹکارے میں آسانی رہے۔''

شاہ ولی اللہ ؒ فرماتے ہیں کہ ''تین سے آگے کثرت کی حد شروع ہوجاتی ہے۔ تین راتوں سے زیادہ عورت خاوند سے دور رہے تو کثرتِ دوری کہلائے گی۔ اس لئے شریعت نے چار بیویوں تک کی اجازت دی کہ زیادہ سے زیادہ تین راتوں کی تنہائی کے بعد عورت کی اپنے خاوند سے شب بسری ممکن ہو۔(۶۸)

اور یہی وہ مناسب توضیح ہے جس کی تائید ابن قیم إعلام الموقعین میں بایں الفاظ فرماتے ہیں: ''ولرجوعه إلی الواحدة بعد صبر ثلاث عنها والثلاث أول مراتب الجمع''(۶۹) ''تین راتوں کے بعد پہلی بیوی کے بعد پلٹ آنا کیونکہ تین 'جمع' کا پہلا درجہ ہے۔''

اسکے علاوہ چند خوبصورت حکمتیں اور بھی بیان کی جاتی ہیں، مولانا اشرف علی تھانوی کا خیال ہے کہ ''آدمی جب کسی عورت کو نکاح میں لائے گا تو کم از کم یہ عورت اس کے لئے تین ماہ تک کافی ہے۔ کیونکہ حمل کی شناخت کم از کم تین ماہ تک مقدر ہے۔ دورانِ حمل عورت سے صحبت سے جنین پر برا اثر پڑنے کا اندیشہ ہے اور عورت بھی اپنی خواہش نفس سے توجہ ہٹاکر بچے کی طرف مبذول کر دیتی ہے۔ لہٰذا اس عورت کو آرام دے۔ اس کے بعد دوسری عورت سے نکاح و صحبت ہو تو تین ماہ بعد وہ بھی اسی کیفیت والی ہوگی۔ اس کے بعد تیسری بیوی سے پھر تین ماہ تک اگر تعلق قائم رکھے تو کل نو ماہ ہوئے، ابھی پہلی بیوی فارغ نہ ہوئی، لہٰذا چوتھی بیوی کی ضروت ہوگی اور اس کے تین ماہ بعد پہلی بیوی بچے سے فارغ ہوچکی ہوگی۔ لہٰذا اس کا دورانیہ پھر سے شروع ہوسکتا ہے۔ چوتھی کے بعد پانچویں کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ اوّل بیوی اس کے قابل ہوچکی ہوگی، اسی طرح بار ی باری سب بیویاں اس کی صحبت کے قابل ہو کر دوبارہ بچہ جننے کے عمل کے لئے تیار ہوسکتی ہیں او ریہ اس شخص کے لئے کافی تعداد ہے جس کی جنسی خواہش بڑھی ہوئی ہو۔ تاریخ اسلام شاہد ہے کہ عرب جو کہ اس خواہش میں بڑھے ہوئے تھے، ان کے لئے یہ تعداد مناسب رہی۔(۷۰)

اسی سے ملتی جلتی ایک توضیح اور بھی ہے کہ مزاج انسانی کی چار قسمیں ہیں بلکہ ظاہری موسم بھی چار قسم کے ہوتے ہیں۔ گویا جو چار مزاجوں سے لطف اندوز ہوا، اس کو مزید کی ضرورت نہیں بلکہ تکمیل شد۔ غرضیکہ مختلف حکما نے مختلف وجوہات بارے ذہن رسائی کی ہے۔ مگر امر فیصل یہی ہے کہ وجہ معلوم ہو یا نہ ہو، یہ اجازتِ الٰہی سے ہے لہٰذا اس پر عدمِ اتفاق حرام ہے۔

قرآن وسنت نے آزاد عورتوں سے نکاح کی حد مقرر کی ہے، مگر لونڈیاں رکھنے کی کوئی حد مقرر نہیں کی۔ اس وجہ سے کہ یہ بھی عام اَموال کی طرح ایک مال کی قسم ہے جسے بیچا اور خریدا جاسکتا ہے۔ اسے وہ حقوق حاصل نہیں جوبیوی کو حاصل ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان میں حد بندی نہیں کی گئی۔ (۷۱)البتہ اسلام نے غلام آزاد کرنے کی ترغیب دی او رلونڈیاں بنانے کے عمل کی حوصلہ شکنی کی۔ چنانچہ آج اہل اسلام میں ان کا رواج نہیں رہا۔ اس حوالے سے اس معاملے پر غوروخوض کی مزید کی گنجائش نہیں رہی کیونکہ اب یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے جو درپیش ہو۔

عورت کیلئے صرف ایک خاوند کیوں؟

اس امر پر صرف مسلمانانِ عالم ہی نہیں بلکہ دنیا کی تمام مہذب اَقوام متفق ہیںاور ساری تاریخ میں متفق رہی ہیںکہ عورت کا خاوند ایک ہونا چاہئے۔ البتہ جاہل اور بے راہرو قوموں کو اس سے مستثنیٰ کیا جاتا ہے۔ آج کل کچھ شیطانی فکر رکھنے والے لوگ اس بات پر بھی معترض ہیں کہ مرد کو اگر چار عورتوں کی اجازت ہے تو عورت کو چار مردوں کی اجازت کیوں نہیں؟ اس کیوں کا جواب محققین نے چند پہلوئوں سے دیا ہے :

اشتباہِ نسل:الشیخ فرید الدین عطار لکھتے ہیں کہ یہی مذکورہ سوال ایک دفعہ ابوحنیفہ نعمان بن ثابت سے کیا گیا۔ سوال کرنے والی عورتیں تھیں۔ آپ سوال سن کر اُلجھن میں پڑ گئے اور کہا کہ اس کا جواب کسی اور وقت دوں گا اور اس اُلجھن میں گھر کے اندر تشریف لے گئے۔ آپ کی صاحبزادی حنیفہ نے اُلجھن کی وجہ دریافت کی تو آپ نے اپنی اُلجھن یعنی عورتوں کا سوال پیش کردیا۔ یہ سن کر صاحبزادی نے عرض کی کہ اگر آپ اپنے نام کے ساتھ میرے نام کو بھی شہرت دینے کا وعدہ کریں تو میں عورتوں کو اس کا جواب دے سکتی ہوں۔ جب آپ نے وعدہ کر لیا تو صاحبزادی نے کہا کہ عورتوں کو میرے پاس بھجوا دیجئے۔ چنانچہ جب عورتیں آگئیں تو صاحبزادی نے ایک ایک پیالی ہر عورت کے ہاتھ میں دے کر کہا کہ اپنی اپنی پیالی میں تم سب تھوڑا تھوڑا اپنا دودھ ڈال دو جب انہوں نے ایسا کیا تو ایک بڑا پیالہ ان کو دے کر کہا کہ اب سب پیالیوں کا دودھ اس میں ڈال دو اور جب عورتوں نے یہ عمل بھی کردیا تو کہا کہ اب تم سب اس پیالے سے اپنا اپنا دودھ نکال لو... تو عورتوں نے کہا کہ یہ تو ناممکن ہے۔ تب صاحبزادی نے کہا کہ جب کئی شوہروں کی شرکت تمہاری اَولاد میں ہوگی تو تم یہ کیونکر بتلاسکو گی کہ یہ اولاد کس شوہر کی ہے؟ اس جواب سے وہ عورتیں ششدر رہ گئیں اور امام صاحب نے اسی دن سے ابوحنیفہ کی کنیت اختیار کرلی...الخ''(۷۲)

اگرچہ یہ واقعہ کئی پہلوئوں سے تنقیدی مطالعے کا محتاج ہے۔ خصوصاً شبلی نعمانی جنہوں نے سیرۃ النعمان لکھی ہے، وہ اس کتاب میں بڑی شدو مد سے انکار کرتے ہیں کہ امام موصوف کی اولاد میں سے کسی بیٹی کا نام حنیفہ نہ تھا اور نہ ہی کنیت کا باعث کوئی بیٹی تھی۔ (۷۳)اسی طرح یہ واقعہ مشکوک ہے۔ مگر جس فلسفے اور دینی امر کی حکمت کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے، وہ بالکل درست ہے کہ اگر عورت کو ایک سے زیادہ خاوندوں کی اجازت ہو تو نسب نامے خلط ملط ہوجائیں گے۔

حضرت شاہ ولی اللہؒ بھی اسی طرف اشارہ فرماتے ہیں : ''إنما کان لعارض راجح وھو خوفه اشتباہ الأنساب''(۷۴) ''بیشک ایسا واضح اعتراض کی وجہ سے ہے جو کہ نسب ناموں کی مشابہت کا خوف ہے۔''

حافظ ابن قیم فرماتے ہیں: ''وضاعت الأنساب'' (۷۵) ''اگر عورت کو زیادہ خاوندوں کی اجازت دی جاتی تو نسب نامے ضائع ہوجاتے''

عملاً دیکھئے کہ کیا آج کل یورپ و مغرب میں نسب نامے گم نہیں ہو رہے تو یہ ایک بڑی وجہ ہے عورت کو ایک خاوند تک محدود کرنے کی۔

صنفی کمزوریاں:مرد کو اللہ نے عورت کے مقابلے میں زیادہ قوی بنایا ہے۔ جبکہ عورت کو فطری طور پر چند تعذرات درپیش ہیں اور وہ ہر ماہ چند ایام ایسی مخصوص حالت میں گزارتی ہے کہ مرد کے قابل نہیں ہوتی۔ نیز عورت خواہ کیسی ہی زورآور ہوجب وہ حاملہ ہوجاتی ہے تو ا س کی توجہ مردانہ کشش کی بجائے جنین کے تحفظ کی طرف منتقل ہوجاتی ہے۔ چنانچہ ایک عورت ایک مرد کو مکمل نہیں۔ کجا یہ کہ ایک عورت کو چند مردوں کے لئے کافی سمجھ لیا جائے۔ خلاصۃً محمد حنیف ندوی کہتے ہیں: ''عورت کی صنفی کمزوریاں اور بیماریاں بجائے خود تعددِ ازواج کی دعوت ہیں۔''(۷۶)

فسادِ عالم:مرد عورت کے معاملے میں رقیب برداشت نہیں کرتا۔ شروع تاریخ سے ہابیل وقابیل کے قصے سے لے کر آج تک کتنی مثالیں موجود ہیں۔ کتنے قتل صرف اسی رقابت و غیرت کی بنا پر ہوئے۔ اور کتنے گھر صرف ایک عورت کے مختلف چاہنے والوں کی باہمی لڑائی سے اُجڑے ہیں۔ اگر اس احمقانہ خیال کو مان لیا جائے کہ عورتوں کو بھی کثرتِ بعول کی اجازت ہونی چاہئے تو پھر دنیا کے نقشے پر فساد ہی فساد ہوگا، قتل و غارت ہوگی اور عشق کی خاطر خون بہے گا۔ کیا اس قسم کی باتیں کرنے والے دنیا کو تباہ کرنے کا حیلہ کئے بیٹھے ہیں؟ حافظ ابن قیم لکھتے ہیں :

''ولو أبيح للمرأة أن تکون عند زوجين فأکثر، لفسد العالم وضاعت الأنساب وقتل الأزواج بعضم بعضا وعظمت البلة واشتدت الفتنه وقامت سوق الحرب علی ساق... الخ''(۷۷) ''اور اگر عورت کو جائز ہو کہ وہ دو خاوند کرے یا اس سے زیادہ تو دنیا میں فساد برپا ہوجائے اور نسب نامے ضائع ہوجائیں اور خاوند ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کردیں اور بہت بڑی آزمائش کھڑی ہوجائے اور فتنہ زبردست ہو اور لڑائی مار کٹائی کا بازار پوری تندہی سے گرم ہوجائے... ''

الحمد للہ، عورت کو ایک شوہر تک محدود رکھنا اللہ کی بڑی رحمت اور کرم نوازی ہے۔ یہ تو دنیا پر اللہ کی خاص رحمت پھیلانے والااُصول ہے۔ جس سے عالم کی بقا ہے او رحق بات تو یہ ہے کہ اللہ کا ہر حکم رحمتوں بھرا ہے اور انسانی مفاد میں ہے۔ بندے کو خواہ مخواہ الجھن میں نہیں پڑنا چاہئے۔ ہماری دانائی اس حکیم کے سامنے کچھ بھی تو نہیں۔

ماحصل

اہل مغرب، یورپ اور ان جیسی تہذیب رکھنے والے ممالک جنسی اِباحیت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ وہاں صنفی خواہش اور تلذذ کو بھڑکانے والے محرکات و عوامل کو دن بدن پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ جس کی وجہ سے اپنے شوہر یا بیوی کے علاوہ دیگر خواتین و حضرات سے بھی ناجائز تعلق رکھنا نہ صرف عام ہے بلکہ اب کوئی معیوب امر بھی نہیں سمجھا جاتا۔ البتہ بیوی کی موجودگی میں کوئی داشتہ سے نکاح کرے تو اسے بہت معیوب سمجھتے ہیں۔قانونی تعدد اَزواج کو برا خیال کیا جاتا ہے جبکہ غیر قانونی تعددِ ازواج کا عام رواج ہے۔

ان ممالک کے لوگ بچوں کو پالنا مصیبت سمجھتے ہیں کیونکہ بچے ان کی زندگی کی رنگینیاں غارت کردیتے ہیں۔ لہٰذا ایک تو ان ممالک میں قلت ِاولاد اور آبادی میں کمی کا مسئلہ درپیش ہے۔ دوسرا اگر بچے ہیں بھی تو ان میں حرامی بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ مزید برآں ناجائز بچوں اور کنواری مائوں کی تعداد میں مسلسل ہو شربا اضافہ ہو رہا ہے۔ نتیجۃً وہاں نسب نامے گم ہو رہے ہیں، خاندان سکڑ چکے ہیں۔ جنسی درندے تمام اخلاقیات کو پامال کرکے تہذیب و تمدن کا بیڑاغرق کر رہے ہیں۔ ناجائز بچے جن کا کوئی وارث اور ذمہ داری قبول کرنے کو کوئی تیار نہیں ہوتا، وہ معاشرے میں مزید آزادی سے گند ڈال رہے ہیں۔ یہ ایک اور خطرناک صورتحال ہے!!

ضرورت تو یہ تھی کہ سنجیدہ لوگ اس گندگی کی صفائی کا کچھ بندوبست کرتے، لیکن اہل مغرب نے مزید ڈھٹائی کامظاہر کرتے ہوئے اپنے اس معاشرتی عکس کو روشن خیالی، جدت پسندی اور ترقی کا نام دیا ہے اور چاہتے ہیں کہ باقی دنیا بھی ان ہی کی طرح ہوجائے۔ تاکہ اس دنیا کے حمام میں سب ہی ننگے اور نکٹے ہوں اور کوئی بھی ان کی طرف انگلی اٹھانے کی جرات نہ کرسکے۔ خصوصاً اسلامی تہذیب اور مسلمان تو انہیں بہت ہی کھٹکتے ہیں کیونکہ اسلام حیا کا سبق سکھاتا ہے۔ غیر محرم سے تعلقات کو زنا اور گناہِ کبیرہ شمار کرتا ہے۔ نیز مسلمان بچوں سے نفرت بھی نہیں کرتے اور اسلام اس شخص کو جسے تسکین کے لئے ایک بیوی کافی نہ ہو، دوسری، تیسری اور چوتھی بیوی کرنے کی اجازت بھی دیتا ہے۔ تاکہ معاشرے میں ناجائز تعلقات پیدا کرنے کا جواز ہی باقی نہ رہے۔ بلکہ اگر کبھی جنگ وغیرہ کے نتیجے میں مردوں کی تعداد کم ہوجائے تو یتیموں اور بیوائوں کو اس اجازت کے ذریعے معقول سہارا مل سکے یا اس کے علاوہ بھی ملک و قوم کی جب بھی خدمت کے لئے، اس جواز کی ضرورت ہو، اسے استعمال میں لایا جائے۔

تعددِ ازواج کی اجازت کے اسلامی اصول سے دنیا کے کافر بہت خوفزدہ ہیں کیونکہ وہ اب وحدتِ زوج اور قلت ِاولاد کا اصول اپنا چکے ہیں۔ جبکہ تعددِ ازواج سے مسلمان کثرت سے اور تیزی سے اپنی نسل کو بڑھا سکیں گے۔ ان کو خطرہ ہے کہ اگر مسلمان کی آبادی بڑھنے کی یہی صورتحال رہی یا اس سے بھی تیز ہوگئی تو کہیں ہم اقلیت اور مسلمان دنیا کی اکثریت نہ بن جائیں۔ بغیر کسی جنگ و انقلاب کے مسلمان دنیا پرچھا جائیں گے۔ بلکہ بقول محمد حنیف ندوی ''اگر صرف ہندوستان کے مسلمان تعددِ ازواج کے اصول کو اپنا لیں تو بغیر کسی خاص محنت کے صرف پچاس برس میں وہ ہندوستان کی اکثریت میں تبدیل ہوجائیں گے۔''... اور یہ امر بھی مسلمہ ہے کہ جو مسلمان زنا سے بچیں اور کردار و ایمان کی حفاظت کریں، دنیا کے کافروں کو خطرہ بھی ان ہی سے ہے۔

دنیا کے کافر لوگ چاہتے ہیں کہ ان خطرات کا سدباب ہو۔ اہل اسلام میں بھی فحاشی پھیلے، ان کو بچے کم پیدا کرنے کی ترغیب دو۔ اسی شرط کے ساتھ امداد دو۔ اسی ضمن میں وہ تعدد ازواج کے قانون کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ کھلم کھلا اس کے خلاف بولتے ہیں۔ منکرین حدیث اور نام نہاد حقوقِ انسانی کے ڈھنڈورچی اس معاملے میں پیش پیش ہیں۔ انہوں نے ناپاک جسارت کرتے ہوئے اسے اسلام سے خارج کرنے کی مذموم کوشش کی... حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ چار بیویوں کی اجازت اٹل ہے۔ جب سے انسان دنیا پر آئے ہیں، آج تک نسل انسانی اس پر عمل پیرا ہے۔ مذاہب ِعالم کی مقدس کتب اپنے پیغمبروں اور مقدس ہستیوں کے بارے میں ناقل ہیں کہ وہ اس پر کاربند رہے۔ خود رسول اللہ ﷺنے اس پر عمل کیا۔ قرآن و حدیث نے اہل ایمان کو چار بیویوں کی اجازت دی ہے۔ اور تمام اُمت کا آج تک اس جواز پر اجماع رہا ہے۔ خلفائے راشدین مرتے دم تک اس پر عامل رہے۔

یہ اجازت ضروری ہے تاکہ مغلوب الشھوة نہ زنا کرے اور نہ معاشرے میں اخلاقی اقدار کو پامال کرے تاکہ ہمارا معاشرہ ان قباحتوں سے محفوظ رہ سکے جو اہل کفر کو درپیش ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اجازت کو بخوشی نہ صرف قبول کیا جائے بلکہ عامل کے لئے حائل مشکلات کا ازالہ ہو اور اسلام نے جن شرائط کے ساتھ اجازت دی ہے، ان شرائط کے ساتھ اس کو رواج بھی دیا جائے خصوصاً وہ ممالک جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں، وہ بچے زیادہ پیدا کریں اور تعددِ ازواج کے اُصول پر ضرور عمل کریں۔ اللہ تعالیٰ سب کی عصمت کا محافظ ہو۔ آمین !

حوالہ جات
1- Encyclopedia Britannica Vol: VIII,P.97 (Root Polygamy), 2- Do Vol:VI, P.1002.

۳۔غلام احمد پرویز، قرآنی قوانین، عنوان تعددِ ازواج، ص ۵۸،۵۷، طبع طلوعِ اسلام ٹرسٹ لاہور

۴۔کتاب مقدس (بائبل) پیدائش، باب نمبر ۴، آیت نمبر ۱۹، صفحہ ۸، طبع بائبل سوسائٹی لاہور

۵۔حافظ اسماعیل ابن کثیر، البدا یۃ والنھایۃ (اردو) نفیس اکیڈمی کراچی، ج اوّل ص ۲۳۴،۲۳۳

۶۔بائبل، پیدائش، باب نمبر ۳۱، آیت نمبر ۴۷؍۳

۷۔غلام رسول چودھری، مذاہب ِعالم کا تقابلی مطالعہ، علمی کتب خانہ لاہور، ص ۱۵۸

۸۔بائبل، پیدائش، باب نمبر ۲۶ آیت نمبر ۳۴ ۹۔ایضا

۱۰۔الخازن علی بن محمد، تفسیر الخازن، طبع دارالکتب العربیہ پشاور، ج۴؍ ص۳۵، زیر آیت ۴۳؍۳۸، سورۂ ص ٓ

۱۱ـ۔ ایضاً ج۴ ؍ص ۴۱ ۱۲۔بائبل، سلاطین اوّل، باب نمبر ۱۱، آیت نمبر ۳، صفحہ ۳۴۰

۱۳۔بائبل، خروج، باب نمبر ۲، آیت نمبر ۲۱ ۱۴۔بائبل، گنتی، باب نمبر ۱۲، آیت نمبر ۱، ص ۱۳۷

۱۵۔عبدالعلیم ماہر، سیرتِ نبوی کا ازدواجی پہلو، ماہنامہ السراج، جھنڈا نگر نیپال، ۱۹۹۶ئ، جلد۳، شمارہ۳، ص۲۱ ۱۶۔ایضا ً

۱۷۔سیرتِ نبوی کا ازدواجی پہلو، ماہنامہ السراج، ج۳، ش ۳، ص ۲۱

۱۸۔محمد حنیف ندوی، سراج البیان فی تفسیر القرآن ، ملک سراج دین پبلشرز، لاہور، ج اوّل، ص۱۸۲، زیر آیت ۳؍۴ نساء

۱۹۔طبری ابن جریر، جامع البیان عن تاویل آی القرآن المعروف تفسیر طبری، طبع مصطفی البابی الحلبی بمصر، ج۳، ص۲۳۴

۲۰۔القرآن: النسائ: ۳ ۲۱۔صحیح مسلم، الجامع الصحیح البخاری، کتاب النکاح: باب لایتز وج اکثر من اربع حدیث نمبر ۵۰۹۸

۲۲۔قرآنی قوانین (مذکور) ص۵۸ ۲۳۔ایضا ص ۵۷ ۲۴۔القرآن: النسائ: ۱۲۹

۲۵۔حافظ ابن کثیر، تفسیر ابن کثیر (اردو) کا رخانہ تجارت کتب کراچی، ج اول ص ۱۱۲، زیر آیت ۱۲۹؍۴

۲۶۔مودودی ابوالاعلیٰ، تفہیم القرآن، مکتبہ تعمیر انسانیت، لاہور، جلد اول، ص۳۲۱، زیر آیت ۳؍۴

۲۷۔مودودی ابوالاعلیٰ، مسئلہ تعدد ازواج، اسلامک پبلی کشنز لمیٹڈ لاہور، ص ۱۰۔۹

۲۸۔ امین احسن اصلاحی، تدبر قرآن تفسیر، فاران فائونڈیشن لاہور، جلد دوم، ص ۲۵۳، زیر آیت ۳؍۴

۲۹۔الجامع الترمذی، کتاب النکاح، باب ماجاء فی الرجل یسلم و عندہ عشر نسوۃ

۳۰۔السیوطی، جلال الدین، در منثور فی تفسیر الماثور، طبع بیرت ج۲ ص۱۱۹

۳۱۔سنن ابی دائود، کتاب الطلاق، باب من اسلم و عندہ نساء اکثر من اربع

۳۲۔مسند الشافعی، کتاب النکاح، دارالکتب العلمیہ بیروت، کتاب النکاح، الباب الثالث فی الترغیب فی التزوج: ۲؍۱۶

۳۳۔ابن ہشام، سیرتِ ابن ہشام (اردو) طبع شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور، جلد دوم، ص۸۰۲

۳۴۔ابن حجر الحافظ العسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، دارالکتب العلمیہ بیروت، ج۸ ص ۴۶۷

۳۵۔ ایضا ً ۳۶۔ ایضاً ج ۸، ص ۱۶ ۳۷۔ایضاً ۸؍۲۲۸ ۳۸۔ایضاً ۸؍۴۶۵

۳۹۔اکبر شاہ خان نجیب آبادی، تاریخ اسلام، نفیس اکیڈمی کراچی، ج۳ ص ۴۴۵ ۴۰۔ایضاً ج۳ ص۴۵۴

۴۱۔السرخسی شمس الدین، المبسوط، طبع بیروت، باب النکاح فی العقود المتفرقہ، المجلد الثالث جزء الخامس، ص ۱۶۱

۴۲۔القرطبی، تفسیر الجامع لاحکام القرآن، طبع ندارد، المجلد الخامس، ص۱۷ زیر آیت ۳؍۴

۴۳۔ابن حجر الحافظ العسقلانی، فتح الباری، طبع مکتبہ السلفیہ مدینہ منورہ، کتاب النکاح، ج۹، ص ۱۳۹

۴۴۔تفسیر الخازن (مذکور) ۱؍۳۴۳ ۴۵۔ابن قدامہ مقدسی، المغنی ویلیہ الشرح الکبیر، دارالکتب بیروت، ج۷ص ۴۳۶

۴۶۔ابن قیم الجوزیہ، بدائع الفوائد، ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ مصر، ج۴ ص۴۱

۴۷۔ایضاً ۴۸۔تفسیر سراج البیان (مذکور) ۱؍۱۸۲

۴۹۔ شاہ ولی اللہ، حجۃاللہ البالغہ، مکتبہ السلفیہ لاہور، مبحث فی صفۃ النکاح (المحرمات) ج۲، ص۱۳۲

۵۰۔مسئلہ تعدد ازواج (مذکور) ص۳۲

۵۱۔ابن قیم الجوزیہ، اعلام الموقعین، مکتبہ الکلیات الازہریۃ مصر، فصل قصر عدد زوجات علی اربع، ج۲، ص۱۰۳

۵۲۔حجۃ اللہ البالغہ (مذکور) ۲؍۱۳۲ ۵۳۔مسئلہ تعدد ازواج، ص۳۲ ۵۴۔ایضاً

۵۵۔ایضاً ۵۶۔بدائع الفوائد (مذکور) ۴؍۶۱ ۵۷۔ایضاً ۵۸۔اعلام الموقعین (مذکور) ۲؍۱۰۵

۵۹۔بدائع الفوائد، ۴؍۶۱ ۶۰۔حجۃ اللہ البالغہ، ۲؍۱۳۳

۶۱۔محمد آفتاب خان ڈاکٹر، قرآن حکیم اور علم الجنین، ادارۂ مطبوعات سلیمانی لاہور، ص۵۵

۶۲۔تفسیر سراج البیان، ۱؍۱۸۲ ۶۳۔تدبر قرآن (مذکور) ۲؍۲۵۳ ۶۴۔تفسیر سراج البیان، ۱؍۱۸۲

۶۵۔ایضاً ۶۶۔تفہیم القرآن ۱ ؍۳۲۱

۶۷۔ابن قیم الجوزیۃ، إغاثۃ اللھفان، دارالکتب العربی، بیروت، فصل فی سد الذرائع، جلد اوّل، ص ۵۰۱

۶۸۔ حجۃ اللہ البالغہ، ۲؍۱۳۳ ۶۹۔ اعلام الموقعین، ۲؍۱۰۳

۷۰۔سلطان احمد راہی، اسلام کا نظریۂ جنس، الفیصل ناشرانِ کتب لاہور، ص ص ۱۰۱۔۱۰۰ ۷۱۔اعلام الموقعین، ۲؍۱۰۴ ۷۲۔فرید الدین عطار الشیخ، تذکرۃ اولیاء (اُردو) نذیر سنز پبلشرز اردو بازار لاہور، ص ص ۵۳۔۱۵۲

۷۳۔شبلی نعمانی، سیرۃ النعمان، طبع مدینہ پبلشنگ کمپنی، کراچی، ص ۳۴ ۷۴۔حجۃ اللہ البالغہ، ۲؍۱۳۳

۷۵۔اعلام الموقعین ۲؍۱۰۵ ۷۶۔تفسیر سراج البیان، ۱؍۱۸۲ ۷۷۔اعلام الموقعین ۲؍۱۰۴
نوٹ

٭نواب صدیق حسن خان ؒنے مجموعی طور پر مذکورہ بالا روایات اور اس مفہوم کی دیگر احادیث کو شواہد کی بنا پر 'حسن' کے درجہ میں قرا ردیا ہے، جبکہ بعض دیگر علما مثلاً دارقطنی، شوکانی اور ابن عبدالبر وغیرہ نے ان پر ضعف کا حکم بھی لگا یا ہے، شیخ محمد ناصر الدین البانی نے ان روایات پر بالتفصیل اپنی کتا ب ( ارواء الغلیل: ص ۱۸۸۳ تا ۱۸۸۶) میں بحث کی ہے ، جن میں سے بعض کو انہوں نے بھی صحیح قرار دیا ہے۔ مزید تفصیل کے لئے اس بحث کی طرف مراجعت مفید ہوگی۔ ادارہ

٭ جنس 'انسان' ہونے کے لحاظ سے انسان کی دونوں اصناف (مردو عورت) کے امتیازات کے طور پر یہ خصوصیات کہنا زیادہ مناسب تعبیر ہے۔ مرد کو عورت پر انتظامی فضیلت حاصل ہے جس طرح حمل وحضانت میں عورت کی فضیلت۔ ورنہ مرد وزن انسان ہونے کی حیثیت سے برابر ہیں اور ان کے حقوق بھی یکساں... (محدث)