قومی آزادی و خود مختار ی شدید قسم کے تعصب اور بے لچک اَنا کا تقاضا کرتی ہے۔ اس کی مثال شخصی غیرت و حمیت سے دی جاسکتی ہے۔ جب کوئی شخص ایک بار کسی ضرورت، کسی مجبوری، کسی مصلحت یا کسی خوف کے باعث اپنی کھڑکیوں کے پٹ کھو ل دیتا ہے یا اپنے چوبارے کی چقیں اٹھا دیتا اور پڑوسیوں کے آوارہ خو لڑکوں کی تاک جھانک کو ناگزیر سمجھ کر گوارا کرلیتا ہے تو پھر حجاب اُٹھتے چلے جاتے ہیں۔ ایک مرتبہ اپنی اَنا مار لینے اور اپنی خودی کو سلا دینے کی لت پڑ جائے تو پھر ذلت و رسوائی کی کوئی سی پستی دل میں ملال پیدا نہیں کرتی۔ بے آبرو ہوجانے کا سب سے شرمناک مقام وہ ہوتا ہے جب انسان اپنی بے چارگی کو اپنی 'دانائی' سے تعبیر کرنے لگتا اور اپنی بےحمیتی کو حقیقت پسندی اور حکمت شعاری کی قبا پہنانے لگتا ہے۔ یہ فیصلہ ہر شخص کے اپنے معیارِ غیرت اور اپنے تصورِ انا پر منحصر ہے کہ اس کا پیمانۂ صبر کس وقت لبریز ہوتا اور وہ کس مرحلے پر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اس لمحے کے بعد ا س کا مر جانا، بے حمیتی کی زندگی سے کہیں بہتر ہے۔اسی طرح قوموں کا اجتماعی ضمیر اس امر کا تعین کرتا ہے کہ وہ حالات کے جبر ناروا کے سامنے کس حد تک اپنا سرجھکا دے اور کس موڑ پر سینہ تان کر کھڑی ہوجائے!!

امریکہ کے52-B طیارے نے ہماری مغربی سرحد پرایک پانچ سو پاؤنڈ وزنی بم گرایا جس سے مولوی حسن وزیر کے مدرسے کو شدید نقصان پہنچا۔ سردیوں کی چھٹیوں کے باعث مدرسہ طلبا سے خالی تھا ورنہ نہ جانے کتنے معصوم بچے اس بم کا لقمہ بن جاتے۔ یہ اشتعال، بارڈر پر تعینات ایک پاکستانی سکاؤٹ کی گستاخی کا ردعمل بتایا جاتا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے دو پاکستانی اہلکاروں کے جاں بحق ہونے کی خبر بھی دی ہے، ہم خاموش ہیں۔ واردات کا اعتراف اور انکشاف امریکی فوج کے ترجمان اورامریکی ذرائع ابلاغ نے کیا ہے۔ ہماری سرکار کا کہنا ہے کہ ''کوئی خاص بات نہیں۔''

ادھر جیکب آباد کے قریب ایک جاسوس امریکی طیارہ گر کر تباہ ہوگیا۔ قبل ازیں اس طرح کے چار طیارے مختلف مقامات پر گر چکے ہیں۔ اس پر بھی ہم خاموش ہیں۔ محب ِوطن حلقوں کو یہ تشویش کھائے جارہی ہے کہ ہماری فضاؤں میں ٹڈی دل کی طرح منڈلاتے یہ جاسوس طیارے (جو بغیر پائلٹ کے چلتے ہیں) اگر کسی دن ہماری حساس تنصیبات سے آ ٹکرائے تو کیا بنے گا؟

ڈاکٹراحمد جاوید خوا جہ اور اس سے قبل ڈاکٹر عامر عزیز کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ ہماری جاں بہ لب آزادی و خود مختاری کا ایک پہلو ہے۔ ہمارے ہوائی اڈوں، ہماری فضاؤں اور ہماری انٹیلی جنس انفارمیشن کا امریکی مقاصد کے تابع ہوجانا اس سیاہ بختی کا دوسرا پہلو ہے اور تیسرا پہلو یہ ہے کہ ؎

نہ کوئی حرفِ شکایت نہ احتجاج کی لے جو سر جھکا ہے تو خوں میں کوئی شرر کیسا؟

ہمارے اندر اشتعال کا اُبال تو خیر کیا اٹھتا، ا حتجاج کی کوئی چنگاری بھی نہیں سلگ رہی۔ جمہوریت کے برسرکار آنے کے بعد بھی ہماری آواز میں توانائی نہیں آرہی۔ امریکہ میں پاکستانیوں کی تذلیل اور "INS" کے تحقیر آمیز ضابطوں کی جکڑ بندی پر بھی ہم نے کچھ اس انداز سے ردِعمل دکھایا کہ کہیں کسی کھردرے لفظ سے جبیں یار پر کوئی شکن نہ آجائے۔ انسانی حقوق کا کمیشن ہمارے اس اندازِ احتجاج پر انگشت بدنداں ہے!!

ہمارے لئے بے چارگی اور بے بسی کا یہ رسوا عہد اسی دن مقدر ہوگیا تھا جس دن صدر مشرف نے کولن پاول اور رچرڈ آرمیٹج کے تیار کردہ سات مطالبات، کسی بحث، کسی ترمیم کے بغیر منظور کرلئے تھے۔ بش ایٹ وار (Bush at war) کے مصنف باب وڈورڈز کے مطابق ان سات مطالبات کی تفصیل یہ ہے :

1. پاکستان اپنی سرحدوں سے جاری 'القاعدہ' کے آپریشنز فی الفور بند کردے۔ طالبان کو ہر قسم کے اسلحہ اور سازوسامان کی سپلائی روک دے اور اسامہ کی کسی بھی قسم کی امداد سے ہاتھ کھینچ لے۔

2. امریکہ کو بلا روک ٹوک یہ حق دیا جائے کہ وہ پاکستان کی فضائی حدود اور زمینی رابطوں کو استعمال کرسکے۔

3. پاکستان کے تمام بحری ہوائی اڈوں اور سرحدات کو حسب ِضرورت استعمال کا حق دیا جائے۔

4. ہر قسم کی انٹیلی جنس نیز نقل و حرکت کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں۔

5. پاکستان بلا تاخیر گیارہ ستمبر کے حملوں کی مذمت کرے۔ داخلی طور پر دہشت گردوں سے تعاون کے تمام رستے بند کردے نیز امریکہ اور اس کے دوستوں اور اتحادیوں کے خلاف ہر قسم کی کارروائیوں کا سد ِباب کرے۔

6. طالبان کو پٹرول اور ہر قسم کے ایندھن کی سپلائی فی الفور بند کردی جائے۔ پاکستان سے کسی بھی رضاکار یا طالبان کے حامی کوادھر جانے کی اجازت نہ دی جائے اور اسامہ بن لادن کا نیٹ ورک ختم کرنے میں ہماری مدد کی جائے۔

7. طالبان سے سفارتی تعلقات منقطع کرلئے جائیں۔''

باب وڈ ورڈز کے مطابق کولن پاول کو حیرت انگیز مسرت ہوئی کہ صدر مشرف نے نہ صرف ساتوں مطالبات تسلیم کرلئے بلکہ بھرپور مدد کا یقین بھی دلایا۔ اس وقت وائٹ ہاؤس کے سچویشن ہال (Situation Hall) میں قومی سلامتی کونسل کا اجلاس ہورہا تھا۔ کولن پاول دوڑا دوڑا وہاں پہنچا۔ اس نے وفور جذبات سے لرزتی آواز میں کہا ... '' میں اس وقت آپ کو وہ کچھ بتانا چاہتا ہوں جو آج میں نے پاکستان کو بتایا ہے۔'' اس کے بعد پاول نے بآوازِ بلند فخریہ لہجے میں ساتوں نکات پڑھے۔ پھر وہ رکا مسکرایا اور بولا ... ''معزز اراکین کونسل! صدر مشرف نے یہ سارے مطالبات مان لئے ہیں!! ''

جارج بش کا چہرہ گلنار ہوگیا اور اس نے کہا ... ''اس کا مطلب ہے تم نے جو چاہا، پالیا!! ''

جب کوئی طاقت کسی آزاد اور خود مختار ملک سے جو چاہے پالے تو پھر لڑھکنے کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔ اب اس فہرست مطالبات میں ایف بی آئی کے چھاپے اور جانے کیا کیا کچھ شامل ہوچکا ہے۔ کولن پاول کو ہرگز یہ توقع نہ تھی کہ اس قدر آسانی کے ساتھ اس کی جھولی بھر دی جائے گی اور آج عالم یہ ہے کہ امریکہ کی سرزمین پر سب سے زیادہ ناپسندیدہ شہری 'پاکستانی' ہے۔مشرقی سرحد پر بم گر رہے ہیں۔ امریکی جاسوس طیارے فضاؤں میں غول در غول گھوم رہے ہیں۔ اس کی منہ زور ایجنسیاں ہماری خواب گاہوں کی حرمت پامال کررہی ہیں۔ کیا پالیسیوں کے تسلسل پر اصرار کرنے والی جمالی حکومت، عوامی جذبہ و احساس کی ترجمانی کرسکے گی؟ کیا عوام کے منتخب نمائندوں کی پارلیمنٹ قومی آزادی و خود مختاری کے لئے کوئی توانا کردار ادا کرسکے گی؟ کیا پاکستان کی آبرو اور سرزمین وطن کی حرمت بھی کوئی متنازعہ معاملہ ہے؟

مدرسہ پر بمباری کے اس تازہ واقعہ سے ملتے جلتے واقعات کی ایک فہرست ہے، جن میں ہماری قومی خود مختاری کی قربانی دی جارہی ہے۔ اس تابعداری پر بھی امریکہ بہادر خوش نہیں، نت نئے تقاضے روز بروز سامنے آرہے ہیں۔ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے ساتھ بدترین سلوک روا رکھا جارہاہے، رجسٹریشن کے لئے قطاریں لگ چکی ہیں اور اور ان کی خود داری مستقل خطرے میں ہے۔ واقعات کا وہ کونسا تسلسل ہے جس کے نتیجے میں آج یہ منظرنامہ ہمارے سامنے ہے، ان واقعات کی طرف مختصر اشارہ درج ذیل ہے :

چند روز قبل ایک انگریزی اخبار میں ایک پاکستانی نوجوان کی کہانی شائع ہوئی ۔یہ نوجوان نیویارک کی ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا۔ ۱۱؍ ستمبر کے بعد اس کا ایک بھائی امریکہ میں قتل ہوگیا۔ اس کا ایک اور بھائی بھی نفرت کا نشانہ بنا۔ پھر اسے دھمکیاں ملنے لگیں۔ تمام تر قانونی دستاویزات کے باوجود اس کا امریکہ میں رہنا مشکل ہوگیا۔ ایک صبح اس نے اٹیچی کیس اٹھایا اور کینیڈا کی سرحد پر آگیا۔ اب وہ پناہ لینے کی کوشش میں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ میں نے کم و بیش ایک سو مزید پاکستانیوں کو امریکہ سے نقل مکانی کرکے پناہ کی تلاش میں کینیڈا کی سرحد پر دیکھا۔ آئی این ایس کے شکنجے نے کم و بیش دو لاکھ پاکستانیوں کو شدید ذہنی اذیت سے دوچار کررکھا ہے۔ یہ سب کچھ اس بے لوث تعاون اور مخلصانہ خدمت گزاری کا صلہ ہے جو ہم نے گیارہ ستمبر کے بعد سے یارانِ سفید فام کے لئے وقف کررکھی ہے۔

فریب مسلسل: ہم ا س لمحے سے فریب ِمسلسل کا شکار ہیں جس لمحے پندرہ ماہ قبل واشنگٹن سے آنے والے ایک ٹیلی فون نے اسلام آباد کے اعصاب پررعشہ طاری کردیا تھا۔

ہم نے کہا: ''اڈّے نہیں دیں گے۔'' اور دے دیئے۔

ہم نے کہا کہ طالبان کے خلاف ثبوت کافی نہیں اور دو دن بعد اعلان کیاکہ ''مستند اور کافی ثبوت مل گئے ہیں۔ ''

ہم نے کہا کہ افغانستان کے خلاف جنگ مختصر ہوگی۔ واشنگٹن غرایا ''کون کہتا ہے جنگ مختصر ہوگی؟''

ہم نے عرضی گزاری کہ ''رمضان المبارک کے ماہِ مقدس میں بم نہ برسائے جائیں۔'' جواباً امریکیوں نے سحر و افطار کے وقفوں کے دوران اور عیدالفطر کے دن بھی بموں کی بوچھاڑ جاری رکھی۔

ہم نے کہا :''امریکہ افغانستان میں زیادہ دیر نہیں ٹھہرے گا'' جواب آیا ''ہم افغانستان میں صدیوں ٹھہر سکتے ہیں۔''

ہم نے کہا :''ماڈریٹ طالبان سے بات ہوسکتی ہے۔'' امریکہ بولا ''کوئی طالبان ماڈریٹ ہو ہی نہیں سکتا۔''

ہم نے کہا: ''کابل پرشمالی اتحاد کی حکومت ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہوگی۔'' ایک ہفتے بعد واشنگٹن سے تار آیا: ''کابل میں شمالی اتحا دکی حکومت بن گئی ہے، اسے تسلیم کرو۔''

ہم نے قوم کو خبر دی ''ہمارے ایٹمی اثاثے نظر بد سے محفوظ ہوگئے ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ ہرروز ہمارے ایٹمی پروگرام کی بدچلنی کی نئی کہانی تراشنے لگے۔

ہم نے کہا :''صدر امریکہ نے یقین دلایا ہے کہ کشمیر کی تحریک ِحریت کو دہشت گردی میں شمار نہیں کیا جائے گا۔'' ادھر سے اعلان جاری ہوا کہ ''کشمیر میں دہشت گردی بند کرو۔''

ہم نے کہا:''یہ اہل کشمیر کی اپنی جدوجہد ہے۔'' وہاں سے تلخ لہجے میں کہا گیا ''پاکستان فی الفور دراندازی بند کرے!''

ہم نے کہا کہ ''بھارت کی سات لاکھ فوج نہتے کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہی ہے۔ ادھر سے حکم آیا:''حافظ سعید اور اظہر مسعود کو زنجیر ڈالو، ان کی تنظیموں پرپابندی لگاؤ، ان کا نان و نفقہ بند کرو۔''

ہم نے کہا:'' مقبوضہ کشمیر میں الیکشن کا ڈھونگ ناقابل برداشت ہے، امریکہ بھارت کو سمجھائے۔'' امریکہ نے ہمیں سمجھاتے ہوئے کہا: ''یہ انتخابات بڑی اچھی پیش رفت ہے، مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف پہلا اہم قدم ہے۔''... کیسے کیسے زخم ہیں کہ ہم نے پھولوں کی طرح سینے پرسجا رکھے ہیں۔ صبح شام ان پھولوں کی مسحور کن خوشبو سے مست رہتے ہیں!!

اب نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ ہماری سرحد کے اندر بم گرا، ہمارا مدرسہ نشانہ بنا۔ پانچ سو پونڈ وزنی بم نے ہماری زمین پر گھاؤ لگایا۔Bـ52طیارے نے ہمارے ایک جوان کے تعاقب میں اُڑان بھری۔ امریکی فوج نے کہا ''ہمیں من مانی کرنے کا حق حاصل ہے۔ '' پھر اس بات کو کم از کم تین امریکی عہدیداروں نے دہرایا۔ ابھی تک امریکہ نے اپنا بیان واپس نہیں لیا۔ آخری اعلان یہ ہوا ہے کہ ''ہمیں پاکستانی عوام کے مظاہروں کی کچھ پرواہ نہیں، ہم حکومت سے معاملہ کرتے ہیں۔'' ہم نے خود ہی کولن پاول کے ایک تخیلاتی بیان سے اپنے آپ کو تسلی دے لی ہے۔ اس کے بعد میجر جنرل راشد قریشی نے کہا تھا: ''جی ہاں! بم پاکستانی علاقے میں گرا ہے۔'' پھر انہوں نے کہا کہ ''ڈیورنڈ لائن غیر واضح سی سرحد ہے کچھ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ افغانستان کہاں ہے اور پاکستان کہاں؟ اس لئے تحقیقات کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ بم کس طرف گرا؟ '' آتش مزاج اور شعلہ بیان وزیراطلاعات شیخ رشید احمد نے بڑی لجاجت سے وضاحت کی ہے کہ ''ہم نے امریکہ سے کوئی احتجاج نہیں کیا، ایسی خبریں بے بنیاد ہیں۔ بندہ امریکہ کا زخمی ہوا، اس نے کوئی احتجاج نہیں کیا تو ہم کیوں کریں؟'' گویا ہماری سرزمین پردانستہ بم گرانا، اسے مبنی برحق قرار دینا اور آئندہ کے لئے بھی یہ عمل دہرانے پر اصرار کرنا کوئی قابل توجہ بات ہی نہیں!!

آج کل ہم وارداتِ عشق کی ایک نئی وجدانی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔ اس کیفیت کے طفیل ہم اپنی پسپائی اور رسوائی کو بھی فتح و کامرانی سے تعبیر کرنے لگے ہیں۔ ساری دنیا سے کشمیر کے بارے میں اپنے موقف کو منوا لینے کے بعد بھارتی افواج کا ہماری سرحدوں سے ہٹ جانا بھی ہماری فتح ہے۔ ہمارے سکاؤٹ کے تعاقب میں پاکستان پر بم گرانے کے بعد امریکہ کا احتجاج نہ کرنا بھی ہماری کامیابی ہے۔

امریکہ اور شمالی کوریا: امریکہ نے ایسے رویے کا مظاہرہ جب شمالی کوریا سے کیا تو انہوں نے اسے قومی اَنا کے خلاف تصور کیا ... شمالی کوریا میں دس لاکھ انسان نعرہ زن ہوئے۔ اس لئے کہ ان کی قیادت نے قومی انا سے ہم آہنگ فیصلہ کیا۔ ان کو بھی وہی امریکہ دکھائی دے رہا ہے جو ہمیں نظر آرہا ہے۔ ان کے سامنے بھی وہی جارج بش ہے جس کے آسیب نے ہماری نیندیں حرام کررکھی ہیں۔ انہیں بھی خونخوار عفریت کا وہ اسلحہ خانہ دکھائی دے رہا ہے جس کے تصور نے ہمارے اعصاب پررعشہ طاری کررکھا ہے۔ اس کے باوجود ان کا وزیراعظم دس لاکھ افرادکے سامنے گرجا :

''امریکیو! جان لو، ہم اپنے فیصلے خود کریں گے۔ اگر جنگ کے بادل ہماری سرزمین تک آگئے تو پھر ہماری فوج اور ہمارے عوام امریکہ نامی ملک کو کرۂارضی سے مٹا کر دم لیں گے۔ پھر دنیا دیکھے گی کہ جنگوں کے دیوتا کا کیا حشر ہوتا ہے اور برائی کی اصل جڑ کو ہم کس طرح اکھاڑ پھینکتے ہیں۔ ''

اور اگلے دن سرکاری ٹیلی ویژن نے کہا

''ہم پر پابندیاں لگائی گئیں تو آگ کا دریا امریکہ کو بہا لے جائے گا۔''

کل تک کہا جاتا تھا کہ طالبان اُجڈ اور بے لچک ہیں۔ عالمی سیاست کے تقاضوں کو نہیں سمجھتے۔ امریکہ کے سامنے سر اٹھا کر کھڑا ہونے کی ایسی حماقت کررہے ہیں جو خود کشی کے مترادف ہے لیکن امریکی جنگی مشین لمبی عباؤں، بھاری پگڑیوں اور گھنی داڑھیوں کو نابود نہ کرسکی!!

چنگاریاں پھر سے سلگ اٹھی ہیں اور آتش فشاں دہکنے لگا ہے، شمالی کوریا نہ اُجڈ ہے نہ بنیاد پرست۔ کمال سنگ کے بیٹے نے کسی اکوڑہ خٹک سے فیض حاصل نہیں کیا لیکن دنیا کے ہرخطے میں عزت اور ذلت کے پیمانے یکساں ہوتے ہیں!!

شمالی کوریا کے تھپڑ سے گال سہلاتے ہوئے امریکہ کس خجالت سے کہہ رہا ہے ''ہم شمالی کوریا سے مذاکرات نہیں، بات کریں گے۔'' مجروح انائیں ایسے ہی بہانے تراشا کرتی ہیں اور پھر ویت نام کی جنگ کے بعد لاس اینجلس میں سب سے بڑا مظاہرہ ہوا ہے۔ امریکیوں کا مظاہرہ ان کے ہاتھوں میں کتبے تھے:

''اصل دہشت گرد جارج بش ہے۔''

''وہ غلطی نہ دہراؤ جو تمہارے باپ نے کی تھی۔''

''ہم تمہارے مویشی نہیں!''

اب یہ مظاہرے واشنگٹن اور سان فرانسسکو کا رخ کرنے والے ہیں!!

فضا بدل رہی ہے لیکن ہم خود اپنے دباؤ میں ہیں، اس دباؤ کانتیجہ یہ ہے کہ خارجی دباؤ میں اضافہ ہورہا ہے۔ گیارہ ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد سے اب تک ہم نے امریکی مطالبات کے سامنے کہیں کھڑے ہوجانے او رکوئی بند باندھنے کی کوشش نہیں کی۔ نرم ترین الفاظ میں بھی یہ پیغام دینے کی جسارت نہیں کی کہ 'بہت ہوچکی!' اب ہماری سپراندازی، بے چارگی میں بدل چکی ہے۔

بھارت نے کشمیر کے حوالے سے ایسی کامیابیاں حاصل کرلیں جن کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ نئی دہلی میں امریکی سفیر بلیک ول نے اپنے گھر پر بھارتی امریکیوں کو ضیافت دی اور تالیوں کی گونج میں کہا

''ہماری جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک بھارت میں دہشت گردی ہمیشہ کیلئے ختم نہیں ہوجاتی۔ ہم صدر مشرف پر دباؤ ڈالتے رہیں گے کہ وہ کشمیر میں دراندازی بند کریں۔ کشمیر میں گڑبڑ کرنے والے حریت پسند نہیں قاتل اور دہشت گرد ہیں۔ ہم انہیں اسی نام سے پکاریں گے۔''

۱۱؍ ستمبر ۲۰۰۱ء سے پہلے صدر مشرف کے بارے میں امریکی انتظامیہ کا رویہ انتہائی کھردرا تھا۔ صدر کلنٹن کو امریکہ میں مقیم پاکستانیوں نے بڑی مشکل سے قائل کیا کہ وہ دورئہ جنوبی ایشیا کے دوران پاکستان کو مکمل طور پر نظر انداز نہ کریں۔ وہ پانچ دن بھارت گزارنے کے بعد پانچ گھنٹوں کے سٹاپ اوور کے لئے اس انداز سے پاکستان آئے کہ ہر پاکستانی کا سرشرم سے جھک گیا۔ انہوں نے حکم صادر کیا کہ جنرل مشرف ایئر پورٹ پر نہ آئیں۔ ایوانِ صدر میں صرف صدر تارڑ استقبال کریں۔ کوئی استقبالیہ تقریب نہ ہو۔ جنرل مشرف کسی جگہ صدر کلنٹن کے پہلو میں نہ دکھائی دیں۔ امریکی عملہ ہلکان ہورہا تھا کہ کہیں صدر کلنٹن اور جنرل مشرف کی ہاتھ ملاتے کوئی تصویر نہ بن جائے۔ پھر ٹون ٹاور گرے اور سب کچھ بدل گیا۔ جب جنرل پرویز کسی لمحے کسی امریکی عہدیدار کو فون کرسکتے تھے۔ امریکہ سے دعوتیں آنے لگیں۔ وائٹ ہاؤس میں ضیافتیں ہونے لگیں۔ ان کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر تصویریں بننے لگیں۔ صدر بش انہیں اپنا دوست قرار دینے لگے۔ ایسا کیوں ہوا؟

یہ ذاتی سطح پر جنرل مشرف کے لئے خوابناک آسودگی اور احساس کامرانی کا نیا دور تھا۔ اس پذیرائی کو عطیہ غیبی سمجھتے ہوئے وہ امریکہ کی خوشنودی میں بہت دور نکل گئے۔ اس دوران انہوں نے پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا لیکن اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنی حکمت ِعملی پر نئے سرے سے غور کریں۔ قومی حکومت بن چکی ہے۔ وہ موڑ آچکا ہے کہ پاکستان اپنے اجتماعی ضمیر کی توانا آواز پوری قوت کے ساتھ اٹھائے۔ کسی تصادم، کسی محاذ آرائی کے بغیر امریکہ کو بتادیا جائے کہ چودہ کروڑ پاکستانیوں کی سوچ کیا ہے۔ اسے یہ باور کرا دیا جائے کہ ہم مزید تذلیل کے لئے تیار نہیں۔ اب ایف بی آئی کے گرگوں کو واپس بلا لیا جائے۔ ہم ایک ذمہ دار اور ہوشمند قوم ہیں۔ ہمارے ایٹمی پروگرام کو نشانۂ تمسخر نہ بناؤ بھارت کی آغوش میں بیٹھ کر واجپائی کی زبان بولنا چاہتے ہو تو ہم سے راہ ورسم نہ رکھو اس ضمن میں قومی اسمبلی کو ایک مدلل اور پرعزم قرار داد منظور کرنی چاہئے۔ متحدہ مجلس عمل کو بھی اپنے طرزِ عمل پرنظرثانی کرنا ہوگی۔ وہ ابھی تک ان کے جذبات و احساسات کی سچی ترجمانی نہیں کرسکی جن کے ووٹ لئے تھے۔ صدر مشرت کی وردی اور ایل ایف او پر لاحاصل غزل سرائی کو کچھ دیر کے لئے معطل رکھتے ہوئے اسے پاکستان کے وقار اور اہل پاکستان کے افتخار کی جنگ لڑنی چاہئے۔ مسلم لیگ (ق) اور اس کے اتحادیوں کو بھی اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔

سورج سوا نیزے پر کھڑا ہے اور دہکتی دھوپ خواب گاہوں سے آن لگی ہے۔ قوم کے جذبوں کو زبان دینے اور اس کی اجتماعی قوت کے بھرپور اظہار کی فیصلہ کن گھڑی آگئی ہے۔ امریکہ کو یہ بتانے کا وقت آن پہنچا ہے کہ یہاں چودہ کروڑ عوام بھی بستے ہیں اور وہ صرف حکومتوں سے معاملہ کرکے من مانی نہیں کرسکتا۔ عوامی قوت کی فولادی فصیل ہی امریکی او ربھارتی عزائم سے دفاع کی ضمانت ہے۔ یہ کام وہ لوگ نہیں کرسکتے جو اپنی سرزمین پربم گرتا دیکھ کر نیا جغرافیہ لکھنے بیٹھ جاتے ہیں، یہ کام شاہینوں کو خاکبازی کا سبق دینے والوں کا بھی نہیں ؎

تنش از سایہ بادل تدروے لرزہ می گیرو چو شاہیں زادہ اندر قفس بادانہ می سازو

''جب شاہینوں کی اولاد پنجرے میں بند دانہ دنکا چگ لینے کی عادی بنا دی جائے تو چکوروں کی پرچھائیں پڑنے سے بھی اس کے بدن پرکپکپی طاری ہوجاتی ہے۔''

٭٭٭٭٭