میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

قرآنِ مجید کے ترجمہ و تفسیر کی ضرورت ہر دور میں رہی ہے۔ اورعلماے اسلام نے اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے نہایت قیمتی اور قابل قدر کام کیا ہے۔صحیح فہم قرآن کے لیے چند مسلّمہ بنیادی اُصول ہیں جن کا علم ضروری ہے ، ذیل میں بالاختصار یہ اُصول بیان کئے جاتے ہیں:

1. قرآنِ مجید کو سمجھنے سے قبل آدمی اپنے دل و دماغ کو ان تصورات اور تعصّبات سے بالکل خالی کردے جو اُس نے پہلے سے قائم کررکھے ہیں، ورنہ وہ قرآنی عبارات میں اپنے ہی خیالات پڑھتا رہ جائے گا اور اُسے اس کتاب ِ ہدایت سے کوئی رہنمائی میسر نہ آسکے گی۔

2. قرآن کی تفسیر خود قرآن سے کی جائے گی۔ اس مسلّمہ قاعدے کو اپنایا جائے کہ «القرآن یفسر بعضه بعضًا» کہ قرآن کا ایک حصہ اس کے دوسرے حصے کی تفسیر کردیتا ہے۔ مثال کے طور پر سورہ البقرۃ میں ہے:

﴿وَإِذ قُلنا لِلمَلـٰئِكَةِ اسجُدوا لِءادَمَ فَسَجَدوا إِلّا إِبليسَ أَبىٰ وَاستَكبَرَ‌ وَكانَ مِنَ الكـٰفِر‌ينَ ٣٤ ﴾... سورة البقرة

''اور یاد کرو جب ہم نےفرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے جھک جاؤ تو وہ جھک گئے مگر ابلیس نہ جھکا۔ اُس نے انکار کیا او رتکبّر کیا اور وہ کافروں میں سے ہوگیا۔''

اس مقام پر یہ شبہ ہوتا ہے کہ شاید ابلیس فرشتوں میں سے کوئی فرشتہ تھا لیکن سورۃ الکہف میں اس کی وضاحت ہے کہ وہ جنوں میں سے ایک جن تھا، کوئی فرشتہ نہ تھا:

﴿وَإِذ قُلنا لِلمَلـٰئِكَةِ اسجُدوا لِءادَمَ فَسَجَدوا إِلّا إِبليسَ كانَ مِنَ الجِنِّ فَفَسَقَ عَن أَمرِ‌ رَ‌بِّهِ...٥٠﴾... سورة الكهف

''اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے جھک جاؤ، تو وہ سب جھک گئے ، مگر ابلیس نہ جھکا۔وہ جنوں میں سے تھا۔ اس نے اپنے ربّ کے حکم کی نافرمانی کی۔''

3. قرآن کی تفسیر حدیث و سنّت کے مطابق کی جائے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا یہ فرضِ منصبی تھا کہ تلاوتِ آیات کے علاوہ آپﷺ قرآن کی تعلیم بھی دیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

﴿لَقَد مَنَّ اللَّهُ عَلَى المُؤمِنينَ إِذ بَعَثَ فيهِم رَ‌سولًا مِن أَنفُسِهِم يَتلوا عَلَيهِم ءايـٰتِهِ وَيُزَكّيهِم وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتـٰبَ وَالحِكمَةَ وَإِن كانوا مِن قَبلُ لَفى ضَلـٰلٍ مُبينٍ ١٦٤﴾... سورة آل عمران

''بے شک اللہ نے ایمان والوں پر احسان کیا کہ اُنہی میں سے ان کے پاس ایک رسول بھیجا جو اُن کو اللہ کی آیتیں سناتا، اُن کو پاک کرتا اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے جبکہ اس کی بعثت سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے۔''

دوسرےمقام پر فرمایا گیا کہ نبیﷺ کی بعثت کا ایک مقصد وحئ الٰہی کی 'تبیین' ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حضورﷺ قرآنِ مجید کا مدعا بیان کریں، اس کی مراد واضح کریں اور اس کی تشریح فرمائیں:

﴿وَأَنزَلنا إِلَيكَ الذِّكرَ‌ لِتُبَيِّنَ لِلنّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيهِم وَلَعَلَّهُم يَتَفَكَّر‌ونَ ٤٤﴾... سورة النحل

''او رہم نےآپﷺ کی طرف ذکر یعنی قرآن نازل کیا تاکہ آپؐ اس چیز کو لوگوں پر واضح کردیں جو اُن کی طرف اتاری گئی اور تاکہ وہ غوروفکر کریں۔''

یہی وجہ ہے کہ جب قرآنِ مجید کی یہ آیت نازل ہوئی:

﴿الَّذينَ ءامَنوا وَلَم يَلبِسوا إيمـٰنَهُم بِظُلمٍ أُولـٰئِكَ لَهُمُ الأَمنُ وَهُم مُهتَدونَ ٨٢﴾... سورة الانعام

''جو لوگ ایمان لائے اوراُنہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہیں کیا، صرف اُن کے لئے امن و سلامتی ہے او روہی ہدایت پر ہیں۔''

تو صحابہ کرام گھبرا گئے کہ ہم میں سے کون ہے جس سے کبھی ظلم سرزد نہ ہوا ہو تو کیا ہم کو امن و ہدایت اورجنّت نصیب نہ ہوگی؟ تو اس پر حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم نے قرآن کی یہ آیت نہیں پڑھی :﴿إِنَّ الشِّر‌كَ لَظُلمٌ عَظيمٌ ١٣﴾... سورة لقمان

''بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔''

اس آیت میں ظلم سے مراد شرک ہے۔ اس کے بعد صحابہ کرام کو اطمینان حاصل ہوگیا۔ اس طرح نبیﷺ نے قرآن کے مدعا کی وضاحت فرما دی۔

4. صحابہ کرام کے مستند اقوال کی روشنی میں قرآن کی تفسیر کی جائے گی۔ صحابہ کرام کے تفسیری اقوال کو اس لیے ترجیح حاصل ہے کہ وہ خود صاحبِ وحی رسول اللہ ﷺ سے قرآن سنتے تھے، اپنی نمازوں میں اُسے دہراتے تھے۔ کچھ پوچھنا ہوتا تو حضورﷺ سے براہِ راست پوچھ لیتے تھے ۔ حتیٰ کہ وقوعہ وحی کے گواہ ہونے کے ناطے نازل ہونے والی آیت کے مفہوم اور سیاق وسباق کو وہ بخوبی سمجھتے تھے۔ اُنہوں نے خود نبیﷺ سے قرآن سیکھا اور سمجھا تھا۔ ان میں بعض صحابہ کرام ایسے تھے جو فہم قرآن کے ماہرین شمار ہوتے تھے۔ ان کی اس خوبی کی تصدیق و تصویب (Confirmation) خود حضورﷺ نے فرمائی تھی؛ جیسے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور عبداللہ بن عباسؓ ۔یہ محض عقیدت کی بات نہیں ہے بلکہ بالکل فطری حقیقت ہے کہ جن لوگوں نے کتاب کا مطلب خود صاحبِ کتاب سے سمجھا ہو اُن کے فہم کو بعد والوں کے فہم پر ترجیح ہونی چاہیے۔

افسوس بعد کے لوگوں نے صحابہ کرام کے بارے میں یہاں تک کہہ دیا کہ : ''سلف ایمان میں قوی ہیں مگر علم میں خلف کا طریقہ قوی ہے۔''

حالانکہ صحابہ کرام کے بارے میں خود حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا یہ قول ہے:

«من كان منكم متأسيا فليتأس بأصحاب محمد ﷺ فإنهم کانوا أبرّ هذه الأمة قلوبًا، و أعمقها علمًا، و أقلّها تكلفا، و أقوام هديا، وأحسنها حالاً، قوما اختارهم الله لصحبة نبیه ﷺ وإقامة دینه، فأعرفوا لهم فضلهم، واتبعوهم في آثارهم، فإنهم کانوا على الهدي المستقیم»

''جس شخص نے کسی کی پیروی کرنی ہو تو وہ محمد رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی پیروی کرے کیونکہ پوری اُمّت میں اُن کے دل سب سے زیادہ نیک تھے۔ اُن کا علم سب سے زیادہ گہرا تھا۔ وہ بہت کم تکلّف کرتے تھے او رنیکی کرنے میں سب سے بڑھ کر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کو اپنے نبیﷺ کی صحبت کے لیے اور اپنے دین کو قائم کرنے کے لیے چُن لیا تھا۔ لہٰذا اُن کے مقام و مرتبے کو پہچانو اور اُن کے نقش قدم پر چلو کیونکہ وہ سیدھی راہ پر تھے۔''

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ خود جلیل القدر صحابی تھے اور بعد کے لوگ اُن سے بڑھ کر صحابہ کرام کے بارے میں جاننے والے نہیں ہوسکتے۔صحابہ کرام کے اکثر تفسیری اقوال تفسیر طبری، تفسیر قرطبی ، تفسیر ابن کثیر اور تفسیر المحرر الوجیز لابن عطیہ جیسی کتبِ تفسیر میں مل جاتے ہیں۔ لیکن ان اقوال میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی آیت کی تفسیر میں بظاہر اختلاف پایا جاتا ہے لیکن اصل میں وہ ایک ہی قول ہوتا ہے جسے مختلف انداز میں بیان کیا ہوتا ہے۔ یہی بات حافظ ابن کثیر نے اپنی مشہور تفسیر کے دیباچے میں لکھی ہے:

«فتذکر أقوالهم في الآیة فیقع في عبارتهم تباین في الألفاظ، یحسبها من لاعلم عنده اختلافًا فیحکیها أقوالًا، ولیس کذلك، فإن منهم من یعبر عن الشيء بلازمه أو بنظیره، ومنهم من ینص على الشيء بعینه، والکل بمعنى واحد في أکثر أماکن فلیتفطن اللبیب لذلك»

''اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی آیت کی تفسیر میں جب ان (صحابہ کرام ) کے اقوال بیان کیے جاتے ہیں اور اُن کے الفاظ میں بظاہر اختلاف نظر آتا ہے تو ناواقف شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس بارے میں کئی مختلف اقوال ہیں، حالانکہ حقیقت میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔ بلکہ کسی نے ایک چیز کی تعبیر میں ا س کے لازمی یا مُرادی معنیٰ لیے ہوتے ہیں، کسی نے اس کی نظیر یا مثال پیش کی ہوتی ہے او رکسی نے اصل چیز ہی کو بیان کیا ہوتا ہے۔ مگر سب کے ایک ہی معنیٰ ہوتے ہیں۔ لہٰذا عقل مند آدمی کو اس بارے میں دھیان کرنا چاہیے۔''

5. قرآن کی تفسیر اجماعِ اُمّت کے مطابق کی جائے گی۔ کسی قرآنی لفظ یا آیت کی ایسی کوئی تفسیر نہیں کی جاسکتی جو اجماعِ قطعی کے خلاف ہو۔ اس کا سبب ظاہر ہے کہ جن اُمور پر اُمّت متفق ہے اُن کی پیروی میں ہدایت ہے او ران کی خلاف ورزی میں گمراہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَمَن يُشاقِقِ الرَّ‌سولَ مِن بَعدِ ما تَبَيَّنَ لَهُ الهُدىٰ وَيَتَّبِع غَيرَ‌ سَبيلِ المُؤمِنينَ نُوَلِّهِ ما تَوَلّىٰ وَنُصلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَساءَت مَصيرً‌ا ١١٥﴾... سورة النساء

''جو شخص رسول ﷺ کی مخالفت کرے او رمسلمانوں کا راستہ چھوڑ کر کسی او رراستے پر چلے جبکہ اس پر صحیح راستہ واضح ہوچکا تھا تو اُسے ہم اُسی طرف پھیر دیں گے جدھر وہ خود پھر گیا او راسے جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہے۔''

اس آیت میں مسلمانوں کے راستے یا طریقے کو صحیح قرار دیا گیا ہے او راس کے خلاف چلنے پر دوزخ کی وعید ہے۔ اب جس چیز پر مسلمان متفق ہوجائیں گے وہی اُن کا راستہ اور طریقہ ہے او ریہی اجماعِ اُمّت ہے جس کی خلاف ورزی گمراہی بھی ہے اور دوزخ میں جانے کا سبب بھی۔ابن ماجہ کی ایک حدیث ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:

«إن اُمّتي لا تجتمع على ضلالة»

''بےشک میری اُمّت گمراہی پر کبھی متفق نہ ہوگی۔''

اس حوالے سے حضرت عبداللہ بن مسعود کا یہ قول ہے:

«ما رأه المسلمون حسنًا فهو عند الله حسن»

''جس بات کوسب مسلمان اچھا سمجھیں، وہ اللہ کے ہاں بھی اچھی ہے۔''

اس تفصیل سے واضح ہوجاتا ہے کہ اجماعِ اُمّت کا راستہ ہدایت کا راستہ ہے اوراس کی خلاف ورزی کرنا گمراہی ہے۔ لہٰذا کسی اجماعِ قطعی کے خلاف جو تفسیر کی جائے گی، وہ ہدایت کی بات نہ ہوگی بلکہ گمراہی کی چیز ہوگی جس سے بچنا ضروری ہے۔

6. فہم قرآن کے لیے عربیّت یعنی عربی زبان کا پورا لحاظ رکھا جائے۔ قرآنی الفاظ و محاورات کے وہی معنیٰ مراد لئے جائیں جو نزولِ قرآن کے وقت لیے جاتے تھے کیونکہ قرآن اپنے دور کے عربوں کی فصیح و بلیغ زبان میں اُترا ہے۔ مشہور ماہر لغت ابوزکریا الفرّا کا قول ہے کہ «إن لغة القرآن أفصح أسالیب العربیة علىٰ الإطلاق»

''بے شک قرآن کی زبان نہایت اعلیٰ فصیح عربی اُسلوب میں ہے۔''

لیکن اس حوالے سے ایک مشکل یہ ہے کہ دنیا کی دوسری زبانوں کی طرح عربی زبان بھی وقت کے ساتھ ساتھ بہت حد تک تبدیل ہوچکی ہے۔ یہاں تک کہ اب اُس کے بیشتر الفاظ اُن معنوں میں استعمال ہی نہیں ہوتے جن معنوں میں وہ قرآنِ مجید میں آئے ہیں جیسے قوم، فرقہ، فقہ، فاسق، فطور، تاویل، تفصیل، دلیل، وسیلہ، لبن اور سیارہ وغیرہ۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں کے بعض اُردو تراجم میں دانستہ یا نادانستہ قرآنی الفاظ کے وہ معنیٰ لے لئے گئے ہیں جو اُردو زبان میں مستعمل ہیں، جبکہ عربیّت کی رُو سے وہ معنی مراد لینا ہرگز درست نہیں ۔مثال کے طور پر 'وسیلہ' کا لفظ ہے جو قدیم عربی اور قرآن و حدیث کی زبان میں 'قرب' کے معنوں میں آتا ہے مگر اُسے'ذریعے' اور'واسطے' کے معنوں میں لے کر شرک و گمراہی کا دروازہ کھول دیا گیا ۔ حد یہ ہے کہ ایک مشہور مترجم ومفسّر نے قرآن کے الفاظ ﴿وَلَنُذيقَنَّهُم مِن عَذابٍ غَليظٍ ٥٠﴾... سورة حم السجدة" کا ترجمہ: ''اور اُنہیں ہم بڑے گندے عذاب کامزا چکھائیں گے۔''کر دیا ہے جو کہ 'عربیت' کے سراسر خلاف ہے۔

اس تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ صحیح فہم قرآن کے لیے عربیت کا لحاظ رکھنا بنیادی شرط ہے۔ اس عربی زبان کا ذوق اور اس میں ملکہ و ممارست ضروری ہے جس میں قرآنِ عظیم نازل ہوا ہے۔ اس کے لیے ابتدائی اسلامی دور کے علمی و ادبی سرمائے سے مدد لینی چاہیے او رقدیم مستند عربی لغات سے بھی استفادہ کرنا چاہیے۔ اس كے علاوہ 'ادبِ جاہلی' کا مطالعہ بھی ناگزیر ہے۔

لیکن اس ضمن میں یہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہیےکہ قرآن مجید کے وہ الفاظ جو دینی اصطلاحات (Terms) کے طور پر آئے ہیں اُن کے لغوی یا کوئی اور خود ساختہ اصطلاحی معنیٰ مراد نہیں لیے جاسکتے۔ اُن کا صرف وہی مفہوم لیا جائے گا جو صاحبِ وحی، معلّم قرآن اور شارع ﷺ نے متعین فرما دیا ہے۔ جیسے حج، عمرہ، اقامتِ صلوٰۃ و زکوٰۃ، صوم، ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ وغیرہ

7. قرآن مجید کی سورتوں اور آیتوں کی تفسیر اُن کے شانِ نزول کے لحاظ سے کی جائے گی۔

فہم قرآن کے لیے شانِ نزول کی بڑی اہمیت ہے، شانِ نزول (یا سببِ نزول) سے مراد وہ خاص پس منظر (Back Ground) اور مخصوص حالات و واقعات ہیں جن میں قرآن کی بعض سورتوں اور آیتوں کا نزول ہوا ہے۔ اس طرح کے قرآنی مقامات کو اُن کا شانِ نزول جانے بغیر نہ تو صحیح طور پر سمجھا جاسکتا ہے او رنہ اُن کی درست تفسیر ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر سورۃ البقرۃ میں ہےکہ

﴿إِنَّ الصَّفا وَالمَر‌وَةَ مِن شَعائِرِ‌ اللَّهِ ۖ فَمَن حَجَّ البَيتَ أَوِ اعتَمَرَ‌ فَلا جُناحَ عَلَيهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِما ۚ وَمَن تَطَوَّعَ خَيرً‌ا فَإِنَّ اللَّهَ شاكِرٌ‌ عَليمٌ ١٥٨﴾... سورة البقرة

''بےشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ اس لیے جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں کہ وہ ان دونوں (پہاڑیوں) کے درمیان سعی کے چکر لگا لے اور جو کوئی شوق سے کوئی نیکی کرے تو اللہ قدردان اور سب کچھ جاننے والا ہے۔''

اس آیت کے ظاہری الفاظ سےمعلوم ہوتا ہے کہ حج او رعمرے میں صفا او رمروہ کے درمیان سعی کرنا ضروری نہیں ہے۔ کوئی شخص سعی کرے یا نہ کرے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے بلکہ ہر عمرے یا حج میں سعی کرنا واجب اور ضروری ہے۔اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ جاہلیت کے دور میں مشرکین نے ان دونوں مقامات پر دو بُت... اِساف اور نائلہ... رکھے ہوئے تھے۔ ان بتوں کی موجودگی میں مسلمانوں کو سعی کرنے میں تامل(Hesitation) ہوا تو فرمایا گیا کہ ان بتوں کی موجودگی میں بھی سعی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ پھر جب نبیﷺ نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی فرمائی تو اب یہ سعی واجب اور ضروری ٹھہری۔

یاد رہے کہ شانِ نزول کے بارے میں مفسرین اور علماے اُصول کا ایک متفقہ قاعدہ یہ ہے: "العبرة بعموم اللفظ لا بخصوص السبب"

مطلب یہ ہے کہ قرآنی الفاظ کے عام ہونے کا اعتبار کیا جائے گا او راسے کسی موقع کی وجہ سے خاص نہیں سمجھا جائے گا۔ دوسرے الفاظ میں اسے یوں کہا جاسکتا ہے کہ جن آیات کا کوئی خاص شانِ نزول ہوتا ہے اُن کے حکم کو صرف اسی موقع کے لیے مخصوص یا محدود نہیں سمجھا جائے گا بلکہ اس حکم کو عام قرار دیا جائے گا۔ یہ نہیں کہا جائے گا کہ چونکہ فلاں آیت فلاں شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس لیے اس کے بارے میں جو حکم آیا ہے وہ بھی اسی شخص کے ساتھ خاص ہے بلکہ وہ حکم عام او رسب کے لیے ہوسکتا ہے۔

مثال کے طور پر سورۃ المجادلۃ میں 'ظہار' کے بارے میں جو آیتیں نازل ہوئی ہیں وہ اگرچہ دو مخصوص میاں بیوی کے حق میں نازل ہوئی ہیں لیکن ظہار کا حکم عام ہے۔ صرف انہی میاں بیوی کے لیے مخصوص یا محدود نہیں ہے بلکہ اس کا اطلاق (Application) دوسرے لوگوں پر بھی ہوگا۔

البتہ شانِ نزول کے حوالے سے ایک مشکل پیش آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ تفسیر کی کتابوں میں بعض اوقات ایک ہی سورت یا آیت کے کئی مختلف شانِ نزول لکھے ہوتے ہیں، جبکہ حقیقت میں اُس کا ایک ہی شانِ نزول ہوتا ہے۔ لیکن صحابہ کرام او رتابعین جب یہ دیکھتے تھے کہ فلاں آیت یا سورت کے حکم کا اطلاق اُس جیسے کسی اور واقعے پر بھی ہوتا ہے تو وہ اس دوسرے واقعے کوبھی اُسی آیت کا شانِ نزول قرار دیتے تھے۔ اس طرح ایک ہی آیت یا سورت کے بعض اوقات کئی کئی شانِ نزول ہوجاتے تھے۔

اس بارے میں امام بدر الدین زرکشی اپنی کتاب 'البرہان فی علوم القرآن' میں لکھتے ہیں:

«وقد عرف من عادة الصحابة والتابعین أن أحدهم إذا قال: نزلت هذه الآیة في کذا فإنه یرید بذلك أن هٰذه الآیة تتضمّن هٰذا الحکم، لا أن هذا کان السبب في نزولها»

''صحابہ و تابعین کی یہ عام عادت ہے کہ جب وہ کہتے ہیں کہ فلاں آیت فلاں بارے میں نازل ہوئی ہے تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ وہ آیت اس حکم پر مشتمل ہے۔ یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ بات واقعی اس آیت کے نزول کا سبب ہے۔''

بہرحال تفسیری کتب میں موجود کئی مختلف شانِ نزول والی آیتوں یا سورتوں کا اصل شان نزول معلوم کرنا خاصا دشوار کام ہوتا ہے اور اس میں ایک مفسّر کے لیے بڑا امتحان ہوتا ہے کہ وہ غور و فکر اور تحقیق کرکے اصل شانِ نزول معلوم کرے۔ اس سلسلے میں اُن کتابوں کا مطالعہ بہت مفید ہے جو خاص اسی موضوع پر لکھی گئی ہیں جیسے امام واحدی کی 'اسباب النزول' وغیرہ۔

8. فہم قرآن کے لیے ناسخ و منسوخ آیات کی پہچان ضروری ہے۔ نسخ کے اصل معنیٰ تو کسی چیز کو ہٹانے، دور کرنے اور زائل کرنے کے ہیں لیکن اصطلاح میں اس کی تعریف یہ کی گئی ہے:

«رفع الحکم الشرعي بدلیل شرعي متاخر»

''کسی بعد کی شرعی دلیل کے ذریعے پہلے کےشرعی حکم کا اُٹھ جانا یا باقی نہ رہنا۔''

گویا پہلے سے موجود کسی شرعی حکم کی جگہ کوئی نیا شرعی حکم آجانے کو نسخ کہتے ہیں۔ پھر پہلا شرعی حکم 'منسوخ' اور اس کی جگہ لینے والا نیا حکم اُس کا 'ناسخ' کہلاتا ہے۔ اس کے بعد منسوخ حکم پر عمل نہیں ہوگا بلکہ اس کے ناسخ حکم پر عمل کیا جائے گا او راسی کے مطابق فتویٰ بھی دیا جائے گا۔یاد رہے کہ نسخ میں قرآن کی کسی آیت کا صرف حکم منسوخ ہوتا ہے ،مگر آیت بدستور قرآن کا حصہ رہتی ہے او راُس کی تلاوت بھی کی جاتی ہے۔مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَقرَ‌بُوا الصَّلو‌ٰةَ وَأَنتُم سُكـٰر‌ىٰ...٤٣﴾... سورة النساء

''اے ایمان والو! نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ۔...''

یہ پہلا حکم تھا کہ شرابی کو نماز کی طرف آنا ممنوع اور حرام ہے،اس کے سوا دوسرے اوقات میں شراب نوشی منع نہ تھی۔

مگر پھر سورۃ المائدۃ میں یہ حکم آگیا کہ

﴿ يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِنَّمَا الخَمرُ‌ وَالمَيسِرُ‌ وَالأَنصابُ وَالأَزلـٰمُ رِ‌جسٌ مِن عَمَلِ الشَّيطـٰنِ فَاجتَنِبوهُ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ ٩٠﴾... سورة المائدة

''اے ایمان والو! شراب، جؤا ، بتوں کے آستانے اور تیروں سے فال لینا، یہ سب گندے کام ہیں شیطان کے، لہٰذا ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔''

اس آیت کے حکم کے نتیجے میں شراب نوشی مستقل طور پر ہمیشہ کے لیے ممنوع اور حرام قرار دی گئی۔گویا پہلے شراب پی کر نماز کے قریب جانا منع او رحرام تھا، اب شراب نوشی ہمیشہ کے لیے ممنوع اور حرام ٹھہری۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہیں گے کہ پہلے حکم میں نمازوں کے سوا دوسرے اوقات میں شراب پی لینے کی جو اجازت تھی، وہ اس دوسرے حکم سے منسوخ ہوگئی۔

تفسیر بالراے سے کیا مراد ہے؟

ایک حدیث میں تفسیر بالرائے کی مذمت کی گئی ہے۔ لیکن تفسیر بالرائے میں لفظ 'رائے' کا مطلب سمجھنے میں بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ اس لیے ہم اس پر تفصیل سے گفتگو کریں گے۔جامع ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:

«... ومن قال في القرآن برأیه فلیتبوأ مقعده من النار»

امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔

''... اور جس نے قرآن کے بارے میں اپنی رائے سے کچھ کہا تو وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے۔''

لیکن اس حدیث سے پہلے امام ترمذی نے یہ حدیث بھی نقل کی ہے کہ عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«من قال في القرآن بغیر علم فلیتبوأ مقعده من النار» امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے۔

''جس نے علم کے بغیر قرآن کے بارے میں کوئی بات کہی وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے۔''

اس دوسری زیادہ مضبوط حدیث نے پہلی حدیث کے لفظ «برأیه»(اپنی رائے سے) کا مطلب واضح کردیا ہے کہ اس سے مراد «بغیر علم» (علم کے بغیر) ہے۔ گویا تفسیر بالرائے ایسی تفسیر کو کہا جائے گا جو علم کے بغیر کی جائے۔

خود امام ترمذی نے «برأیه» والی حدیث کی وضاحت میں لکھا ہے کہ

''اس سے مراد علم کے بغیر اپنے جی سے قرآن کی تفسیر کرنا ہے جوکہ قابل مذمت ہے۔ رہا علم کی رُو سے تفسیر کرنا تو یہ بالکل درست اور جائز ہے کیونکہ اس طرح کی تفسیر مشہو رتابعین مجاہد، قتادہ اور دوسرے اہل علم نے بھی کی ہے اوران لوگوں کے بارے میں یہ بدگمانی نہیں ہوسکتی کہ خدانخواستہ وہ لوگ علم کے بغیر محض اپنے جی سے قرآنِ مجید کی تفسیر کرتے تھے۔''

اس سے معلوم ہوا کہ حدیث میں 'رائے' کا لفظ اپنے لغوی معنوں میں نہیں ہے بلکہ ایک اصطلاح کے طور پر آیا ہے جس کا مطلب ہے : ''علم کے بغیر قرآن کی من مانی تفسیر کرنا۔'' گویا ایسی تفسیر کرنا جس میں کوئی شخص یہ نہ دیکھے کہ قرآن کیا کہتا ہے بلکہ یہ دیکھے کہ اُس کی اپنی خواہش یا پہلے سے قائم کی ہوئی کوئی رائے کیا چاہتی ہے او رکسی طرح قرآن کو کھینچ تان کر اس کے مطابق کرلیا جائے۔ گویا یہ حالت ہو کہ
؏ خود بدلتے نہیں، قرآن کوبدل دیتے ہیں

اس سے واضح ہوا کہ تفسیر بالراے کا یہ مطلب لینا صحیح نہیں ہے کہ قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے عقل و بصیرت سے کام نہ لیا جائے۔ اگریہی مطلب ہوتا تو پھر قرآن کا سمجھنا سمجھانا ہی فضول او ربے کار ہوتا۔ حالانکہ خود قرآن ہمیں بار بار غوروفکر کرنے اور عقل و بصیرت سے کام لینے کی دعوت و ترغیب دیتا ہے:

﴿ أَفَلا يَتَدَبَّر‌ونَ القُر‌ءانَ أَم عَلىٰ قُلوبٍ أَقفالُها ٢٤﴾... سورة محمد

''کیا پھر یہ لوگ قرآن پر تدّبر نہیں کرتے، یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔''

حقیقت یہ ہے کہ صحابہ و تابعین بھی اپنے علم او راپنی عقل و بصیرت سے کام لے کر قرآن کی تفسیر بھی کرتے تھے او راس سے مختلف احکام و مسائل نکالنے کے لئے اجتہاد بھی کرتے تھے۔ بعد کے مفسرین کرام نے تفسیر بالرائے کی دو قسمیں قرار دیں:

ایک ،تفسیر بالرائے محمود اور دوسری، تفسیر بالرائے مذموم

تفسیر بالرائے محمود یہ ہے کہ قرآن کو سمجھنے میں عقل و بصیرت او راجتہاد و استنباط سے بھی کام لیا جائے او ریہ پسندیدہ طریقہ ہے۔ اگرچہ ایسی صورت میں تفسیری اختلاف بھی پیدا ہوسکتا ہے جو ایک فطری امر ہے او ربالکل جائز ہے کیونکہ اس سے شریعت میں تنوع اور وسعت پیدا ہوتی ہے۔

تفسیر بالرائے مذموم یہ ہے کہ یہ نہ دیکھا جائے کہ قرآن کا منشا کیا ہے اور وہ کیا چاہتا ہے بلکہ صرف یہ دیکھا جائے کہ ہماری اپنی خواہش یا پہلے سے کوئی ٹھیرائی ہوئی بات کیا چاہتی ہے اورقرآن کی عبارت اوراس کے مضمون کو کس طرح کھینچ تان کر اپنی خواہش یا اپنے پہلے سے قائم نظریے کے مطابق کرلیا جائے۔ یہ طریقہ مذموم، ناپسندیدہ او رحرام ہے۔ ایسی تفسیر کرنے والے کے لیے دوزخ کی وعید آئی ہے۔

تفسیر بالرائے مذموم کی بعض صورتیں

تفسیر بالرائے مذموم کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں، مثلاً:

1. اپنی خواہش یا اپنے کسی خاص نظریے یا مخصوص فکر کو لے کر اُس کے مطابق قرآن کی تفسیر کرنا۔ اس میں یہ نہ دیکھ جائے کہ خود قرآن کیا کہتا ہے بلکہ قرآن کی معنوی تحریف کرکے اُسے اپنی خواہش، اپنے نظریے اور مخصوص فکر کے مطابق ڈھال لیا جائے۔ یہ ایک من مانی تفسیر ہے جو کبھی عربیت کے خلاف کی جاتی ہے اور کبھی قرآن کی بات کو اس کے اصل سیاق و سباق(Context)سے ہٹا کر کی جاتی ہے۔

2. فرقہ پرستی کے تعصّب سے تفسیر کرنا تاکہ قرآن کو اپنے مخصوص فرقے کے عقائد ونظریات کے مطابق ڈھال لیا جائے۔ اس طرح کی تفسیر کے نمونے فرقہ پرستوں کی تفسیروں میں عام مل جاتے ہیں۔

3. قادیانیوں نے جو کہ غیر مسلم ہیں، اپنے غیر اسلامی عقائد و اعمال کو قرآن کے مطابق ثابت کرنے کے لیے تفسیر بالرائے مذموم کا ارتکاب کیا ہے۔

4. بعض صوفیا نے اپنے گمراہانہ تصورات و نظریات (جیسے وحدت الوجود وغیرہ) اور بعض باطنی احوال واِردات پر مبنی قرآن کی 'اشاری تفسیر' کی ہے جو کہ تفسیر بالراے مذموم کے ضمن میں آتی ہے۔

5. دورِ جدید کے بعض مفسرین جب سائنسی حقائق کی بجائے سائنسی نظریات (Theories) کے مطابق تفسیر کرتے ہیں تو وہ بھی تفسیر بالراے مذموم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ جیسے ڈارون(Darwin) کےنظریۂارتقا(Evolution Theory) کو قرآنی تعلیمات کے مطابق ثابت کرنے کی کوشش کرنا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سائنسی نظریات وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں او رکبھی غلط ثابت ہوتے ہیں، اس لئے ان کے مطابق تفسیر کرنے سے قرآنِ مجید کی حقانیّت اور صداقت پر حرف آسکتا ہے۔البتہ وہ سائنسی او رطبعی حقائق جو تجربے (Experiments) اور مشاہدے (Observations) سے ثابت ہیں، اُن کے مطابق تفسیر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ جیسے زمین کا گول ہونا وغیرہ۔

6. کسی خاص مسلک و مذہب کے تعصّب میں مبتلا ہوکر اس کی بے جا حمایت و طرف داری کے لیے کی گئی تفسیر بھی تفسیر بالراے مذموم ہے۔

7. یہودیوں کے وہ بے سروپا قصے اور اُن کی مذہبی داستانوں کی خرافات جسے اصطلاح میں 'اسرائیلیات' کہا جاتا ہے، کےمطابق تفسیر کرنا بھی تفسیر بالرائے مذموم ہے۔

8. مغربی تہذیب سے مرعوب ہوکر اُس کے سانچے میں قرآنی تعلیمات کو ڈھالنا بھی تفسیر بالراے مذموم ہے۔اس طرح کی تفسیر کے نمونے سرسید احمد او رجناب غلام احمد پرویز جیسے لوگوں کی کتبِ تفسیر میں موجود ہیں۔

9. زمانۂ حال میں 'فراہی مکتبِ فکر' کے نام سے ایک نیا گمراہ فرقہ وجود میں آیا ہے جو دراصل مغربی تہذیب سے مرعوب و مسحور ہے۔ ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ وہ بھی اہل سنّت میں سے ہیں مگر ان کے عقائد و نظریات اہل سنت کے بالکل خلاف ہیں کیونکہ وہ:

٭ قرآن مجید کی صرف ایک ہی قراء ت کو صحیح مانتے ہیں اوراس کی دوسری تمام قراءتوں کے منکر ہیں۔

٭ مرتد کے لیے سزائے قتل کو نہیں مانتے۔

٭ شادی شدہ زانی کے لئے رجم یعنی سنگساری کی حد کا انکار کرتے ہیں۔

٭ صرف اللہ تعالیٰ او رآخرت پر ایمان لانے کو نجات کے لیے کافی سمجھتے ہیں۔

٭ ان کے نزدیک سنّت وہ نہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ کے قول و فعل اور تقریر و تصویب پر مشتمل ہے بلکہ وہ اس کا تعلق سیدنا ابراہیم سے جوڑتے ہیں۔ پھر اس کے ثبوت کے لیے اجماع اور تواتر کی شرط لگاتے ہیں۔

٭ ان کی رائے میں کوئی رسول کبھی قتل نہیں ہوا۔ (حالانکہ ایسا سمجھنا قرآن کے نصوص کو جھٹلانا ہے)

٭ اجماع قطعی کے حجت ہونے کے قائل نہیں ہیں۔

٭ اس کے علاوہ اور کئی قسم کے گمراہانہ تصورات رکھتے ہیں۔

پھر جہاں تک قرآن فہمی کا تعلق ہے یہ لوگ قرآنِ مجید کو بھی انسانوں کی لکھی ہوئی کتابوں کی طرح کی ایک کتاب سمجھتے ہوئے پہلے اس کی تمہید اور مقدمہ تجویز کرتے ہیں، پھر قرآن کو اپنے کچھ خاص عنوانات دے کر اسے سات ابواب یاگروپس (Groups) میں تقسیم کرتے ہیں اور آخر میں کچھ سورتوں سے اس کا اختتامیہ ظاہر کرتے ہیں۔ تمام سورتوں کو جوڑا جوڑا(In Pairs) مانتے ہیں۔ سورۃ النصر کومکی سورت قرار دیتے ہیں او راس اپنی اختراع 'فلسفہ نظم قرآن' کا نام دیتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے ایجاد کردہ 'نظم' کے اس فلسفے کو سمجھے بغیر کوئی شخص قرآن کو سمجھ نہیں سکتا۔

حالانکہ بات سیدھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں انسانوں کی لکھی ہوئی کتابوں جیسی وضعی و منطقی ترتیب او رمضامین کا ربط ڈھونڈنا ایسا ہی فضول کام ہے جیسے کوئی شخص کسی قدرتی چمن کو دیکھ کر اس میں مصنوعی باغ کی سی روشیں اور قطاریں تلاش کرے یا کرّہ زمین کے مختلف پہاڑی سلسلوں اور اُن کی چوٹیوں میں ربط و نظم کی جستجو کرے۔

یہ انسانی نفسیات ہے کہ وہ ایک ہی موضوع پر مسلسل سوچ بچار نہیں کرسکتا۔ وہ ایک دائرے سے دوسرے دائرے او رایک موضوع سے دوسرے موضوع کی طرف منتقل ہوتا رہتا ہے۔ اسی فطری مناسبت سے قرآن مجید کے مضامین میں بھی تنوّع پایا جاتا ہے۔

قدیم اہل عرب کے شعرا کے قصیدوں میں اور اُن کے خطبا کے خطبوں میں بھی کتابی اور منطقی ترتیب نہیں ہوتی تھی بلکہ ان کے مضامین میں بھی تنوع اور رنگا رنگی ہوتی تھی اور قرآن مجید اُنہی کے اُسلوب میں نازل ہوا ہے۔ جس میں بعض مقامات پر مضامین میں کچھ مناسبت تو ہوتی ہے مگر فلسفہ نظم نہیں ہوتا۔

اس اُمت کے محقق علما کبھی 'نظم قرآن' کے کو تفسیر قرآن میں حجت قرار دینے کے قائل نہیں رہے۔ اس لیے فراہی مکتب فکر کے حاملین کی تفسیری کتب بھی تفسیر بالراے مذموم کے ذیل میں آتی ہیں۔تیرہویں صدی ہجری کے مجدّد او رمجتہد، امام شوکانی اپنی شہرۂ آفاق تفسیر'فتح القدیر' میں 'نظم قرآن' کے نظریے کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

«اعلم أن کثیرًا من المفسرین جاءوا بعلم متکلف، وخاضوا في بحر لم یکلفوا سباحته، واستغرقوا أوقاتهم في فن لا یعود علیهم بفائدة، بل أوقعوا انفسهم في التکلم بمحض الرأي المنهي عنه في الأمور المتعلقة بکتاب الله سبحانه، و ذلك أنهم أرادوا أن یذکروا المناسبة بین الآیات القرآنیة المسرودة على هذا الترتیب الموجود في المصاحف، فجاءوا بتکلّفات، وتعسّفات یتبرأ منها الانصاف، ویتنزه عنها کلام البلغاء فضلاً عن کلام الربّ سبحانه، حتی أفردوا ذلك بالتصنیف، وجعلوه المقصد الأهمّ من التألیف، کما فعله البقاعي في تفسیره...»

''جاننا چاہیے کہ بعض مفسرین ایک ایسے علم کے پیچھے پڑگئے جس میں تکلّف ہی تکلّف تھا۔ وہ ایک ایسے سمندر میں غوطے لگاتے رہے جس میں تیرنے کے وہ مکلف ہی نہ تھے۔ اُنہوں نے ایک بے فائدہ فن میں اپنا وقت صرف کیا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے معاملے میں تفسیر بالرائے مذموم کے مرتکب ہوئے۔ وہ ساری عمر موجودہ قرآنی ترتیب کی آیات میں باہمی ربط اور نظم ڈھونڈتے رہے۔ بالکل غیر منصفانہ انداز میں اُنہوں نے اللہ سبحانہ کے کلام کو اس قسم کے تصنع اوربے جا تکلّفات کا حامل قرار دے دیا جن سے انسانی فصیح و بلیغ کلام بھی مبّرا او رپاک ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اس حوالے سے اُنہوں نے کتابیں تصنیف کرلیں اور اس کام کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا ۔ بقاعی نے اپنی تفسیر میں یہی کچھ کیا ہے... ''

اس کے بعد امام شوکانی مذکورہ بحث کو سمیٹتے ہوئے آخر میں لکھتے ہیں:

«... ولنکتف بهذا التنبیه علىٰ هذه المفسدة التي تعثر في ساحاتها کثیر من المحققین، وإنما ذکرنا هٰذا البحث في هذا الموطن، لأن الکلام هنا قد انتقل مع بني إسرائیل بعد أن کان قبله مع أبي البشر آدم علیه السلام، فإذا قال متکلف: کیف ناسب هذا ما قبله؟ قلنا: لا کیف: »

''اور ہم اس فتنے سے، جسے بعض محققین (Researchers) پھیلا رہے ہیں، لوگوں کو خبردار کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے ہم نے اس مقام پر جہاں ابوالبشر آدم کے واقعے کے بعدبنی اسرائیل کا واقعہ شروع ہوتا ہے، یہ بحث چھیڑی ہے تاکہ جب کوئی 'ربطی' (یا 'نظمی') یہ سوال اُٹھائے کہ ان دونوں واقعات میں باہمی ربط کیا ہے؟ تو ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ : کوئی ربط نہیں ہے۔''

اس سے معلوم ہوا کہ امام شوکانی نظم قرآن اور ربط ِ آیات کے فلسفے کے سخت خلاف تھے او روہ اسے ایک فتنہ اور مفسدہ سمجھتے تھے۔

امام شاہ ولی اللہ دہلوی بھی'نظم قرآن'کے قائل نہ تھے اور وہ قرآنِ مجید کو ایک 'مرتب' کتاب نہیں مانتے تھے۔ وہ اپنی کتاب 'الفوز الکبیر' میں لکھتے ہیں:

''حکمت دریں باب موافقت مبعوث الیہم است در لسان و اُسلوبِ بیان۔ تا نزول قرآن درمیان عرب ہیچ کتابے نہ بود۔ نہ کتابِ الٰہی نہ مؤلف بشر۔ و ترتیبے کہ حالا مصنّفین اختراع نمودہ اند، عرب آں رانمی دانستند ۔ اگر ایں را باور نمی داری قصائد شعرائے مخضر مین را تامل کن و رسائل آنحضرت و مکاتیب عمر را بر خواں۔ تا ایں معنی روشن شود۔ پس اگر خلاف طور ایشاں گفتہ شود بحیرت درمانند۔ و چیز ے ناآشنا بگوش ایشاں مشوش سازد۔ و نیز مقصود نہ مجرد افادہ است بلکہ افادہ مع التکرار والاستحضار۔ و ایں معنی در غیر مرتب اقویٰ و اتم است''

''(قرآن کے غیر مرتّب ہونے میں) حکمت یہ ہے کہ ایسا اس کے مخاطبین کے لحاظ سے ہے۔ دراصل قرآن کے نزول کے وقت عربوں کے پاس کوئی کتاب نہ تھی۔ نہ الہامی او رنہ کسی انسان کی لکھی ہوئی۔ لہٰذا جو ترتیب آج کتابوں کے مصنفوں نے اختیار کی ہے، اہل عرب اس سے بالکل ناواقف تھے۔ اگر ان شاعروں کا کلام دیکھا جائے جنہوں نے اسلام کا زمانہ پایا۔ یا اگر نبیﷺ کے خطوط اورحضرت عمرؓ کے خطوط کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت پوری طرح واضح ہوجاتی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے۔ اگر قرآن کی ترتیب کے لیے کوئی ایسا انداز اختیار کیا جاتا جس سے اہل عرب واقف نہ ہوتے تو وہ اس قرآن کو سن کر اجنبیت (Strange ness) محسوس کرتے۔ ان کا ذہن اُلجھ کر رہ جاتا وہ صاف صاف باتیں بھی سمجھ نہ پاتے۔ لیکن قرآن کا مقصد ان کو صرف کوئی بات سمجھا دینا یا کسی واقعے کی خبر پہنچا دینا نہ تھا بلکہ اس کا مقصود یہ تھا کہ تمام باتیں اُن کے ذہن نشین کی جائیں۔ یہ مقصد صرف اسی صورت میں حاصل ہوسکتا تھا، جب ہر بات اچانک غیر متوقع طو رپر سامنے آئے۔ سننے والا اسے سن کر چونک اُٹھے وہ اس پر پوری توجہ دے، تاکہ وہ بات اس کےدل و دماغ پر نقش ہوجائے۔''
حوالہ جات

سورۃ البقرۃ: 34

سورۃ الکہف:50

سورۃ آل عمران: 164

سورۃ النحل: 44

سورۃ الانعام: 82

سورۃ لقمان: 13

صحیح بخاری: 32

جامع بیان العلم وفضلہ، از امام ابن عبدالبر:2؍198

سورۃ النساء: 115

سنن ابن ماجہ: 3950

سورۃ حٰم السجدة: 50

سورۃ البقرۃ: 158

صحیح بخاری: 4495

البرہان فی علوم القرآن: 1؍31، 32

مناہل العرفان 2: 127

سورۃ النساء 4: 43

سورۃ المائدۃ: 90

جامع ترمذی: 2951

جامع ترمذی: 2950

سورۃ محمد: 24

ہم اپنی مطبوعہ کتاب 'فتنہ غامدیت کا علمی محاسبہ' میں اس گروہ کے جملہ گمراہ کن عقائد و نظریات پر مفصل تنقید کرچکے ہیں۔

'مسئلہ نظم قرآن اور فراہی؍غامدی مکتبِ فکر' پر تفصیلی موقف کے لئے 'محدث' کی مجلس ادارت کے رکن ڈاکٹر حافظ انس نضر مدنی کے مقالہ پی ایچ ڈی 'جمہور مفسرین اور مولانا فراہی کے اُصول تفسیر کا تقابلی جائزہ' میں اسی موضوع کے لئے مخصوص باب کا مطالعہ مفید ہوگا۔

فتح القدیر ا ز امام شوکانی:ص60، 61 طبع 2001ء ریاض

فتح القدیراز امام شوکانی:ص60، 61 طبع 2001ء ریاض