شیخ الکل فی الکل شمس العلما، استاذالاساتذہ سید میاں محمد نذیر حسین محدث دہلوی حسینی حسنی بہاروی ہندی(۱) برصغیر پاک وہند کی عظیم المرتبت شخصیت ہی نہیں بلکہ اپنے دور میں شیخ العرب و العجم، نابغہ روز گار فردِ وحید تھے۔ آپ کی حیات و خدمات کا احاطہ ایک مضمون میں ناممکن ہے۔ بلاشک و شبہ اب تک عظیم اہل قلم نے اپنی تحریروں میں حضرت محدث دہلوی کی حیات وصفات کے کئی پنہاں گوشے نمایاں کئے ہیں۔ زیرنظر مضمون میں بھی خدماتِ حدیث کی تاریخ میں جھانکنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاریخ کے دامن میں کتنی جلیل القدر شخصیات ہیں جو اپنی ذات میں انجمن تھیں، انہوں نے زندگی کے ہر شعبے میں گرانقدر خدمات انجام دیں جو ہماری تاریخ کا بیش قیمت سرمایہ ہے۔ بالخصوص خدمت ِحدیث کے حوالہ سے برصغیر پاک و ہند کے عظیم مجتہد، امام وفقیہ، مفسر ومحدث سید میاں محمد نذیر حسین حسنی حسینی ہندی بہاروی دہلوی جن کا سلسلہ نسب حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ملتا ہے۔

سلسلہ نسب

سید محمد نذیر حسین بن جواد علی بن عظمت اللہ بن اللہ بخش بن محمد بن ماہ رو بن محبوب بن قطب الدین بن ہاشم بن چاند بن معروف بن بدھن بن محمد بن محمود بن داؤد بن فضل بن فضیل بن ابوالفرح بن حسن عسکری بن نقی بن علی تقی بن موسیٰ رضا بن موسیٰ کاظم بن جعفر صادق بن محمد باقر بن زین العابدین علی بن حسین بن علی بن ابی طالب(۲) آپ ۱۲۲۵ھ کو سورج گڑھا (بہار) میں پیدا ہوئے۔(۳)

ابتدائی تعلیم

آپ نے سولہ برس کی عمر میں قرآن مجید سورج گڑھا کے فضلا سے پڑھا، پھر الہ آباد چلے گئے جہاں مختلف علما سے مراح الارواح، زنجانی، نقود الصرف، جزومی، شرح مائۃ عامل، مصباح ہزیری اور ہدایۃ النحو جیسی کتب پڑھیں۔(۴)

پھر آپ نے ۱۲۴۲ھ میں دہلی کا رخ کیا۔ وہاں مسجد اورنگ آبادی محلہ پنجابی کٹرہ میں قیام کیا۔ اسی قیام کے دوران دہلی شہر کے فاضل اور مشہور علما سے کسب ِفیض کیاجن میں مولانا عبدالخالق دہلوی، مولانا شیرمحمد قندھاروی، مولانا جلال الدین ہروی اور مولانا کرامت علی صاحب ِسیرتِ احمدیہ قابل ذکر ہیں۔ یہاں آپ کا قیام پانچ سال رہا۔(۵) آخری سال ۱۲۴۶ھ کو استادِ گرامی مولانا شاہ عبدالخالق دہلوی نے اپنی دختر نیک اختر آپ کے نکاح میں دے دی۔ اس نکاح میں خاندانِ ولی اللّٰہی کے فرزند ِنبیل شاہ محمد اسحاق محدث دہلوی اور ان کے بھائی شاہ محمد یعقوب دہلوی بھی شریک ِخاص ہوئے۔(۶)

میاں صاحب محدث دہلوی نے شاہ محمد اسحق محدث دہلوی سے بیش قیمت علمی خزینے سمیٹے۔ آپ معرفت ِحدیث و معانی اور شرح و تفسیر کے میدان میں ایک اعلیٰ مقام پر جاپہنچے۔ معضلات و مشکلات ومطابقت کی علمی گتھیاں سلجھانے کی واقفیت ِتامہ حاصل کی۔ اپنے شیخ کی صحبت ِصالح میں عمرعزیز کے تیرہ سال صرف کئے اور ان سے وہ فیوضِ کبیرہ سمیٹنے میں کامیاب ہوئے جہاں تک کوئی دوسرا تلمیذ نہ پہنچ سکا۔ جب حضرت شاہ محمد اسحق دہلوی شوال ۱۲۵۸ھ کو حج بیت اللہ کے ارادے سے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے تو اپنے تلمیذ ِرشید حضرت میاں صاحب کو مسند ِحدیث پر بیٹھا کر گئے بلکہ تعلیم نبویؐ اور سنت ِرسول اللہؐ کے لئے انہیں سرزمین ہند میں اپنا خلیفہ قرار دیا۔ پھر اپنے دست ِمبارک سے سند ِحدیث لکھ کر دی۔ تدریس حدیث و افتاء کی اجازت مرحمت کرنے کے ساتھ خلوصِ قلب سے برکت کے لئے دعا کی۔(۷)

پھر یقینا فیوض وبرکات نازل ہوئیں اور رحمت کی برکھا برسی، عرب و عجم سے آنے والے کتنے ہی تشنگانِ علم حدیث نے اپنی علمی پیاس بجھائی۔ حضرت میاں صاحب اس گلشن حدیث کی تقریباً ساٹھ سال آبیاری کرتے رہے۔

خطابات اور القاب

میاں صاحب:علماء وطلبہ کی طرف سے آپ کو میاں صاحب کا لقب ملا۔کیونکہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے خانوادئہ علمیہ سے تعلق رکھنے والے علما کو میاں صاحب کے نام سے پکارا جاتا تھا اور ویسے بھی یہ لقب ہندوستان میں عزت کانشان تھا۔ اسی لئے آپ کو بھی میاں صاحب کا لقب ملا اور یہ آپ کے نام پر غالب آگیا۔(۸)

شیخ الکل فی الکل:جب حضرت میاں صاحب حج کے ارادے سے ۱۳۰۰ھ کو مکہ مکرمہ تشریف لے گئے تو وہاں عرب وعجم کے علماء و فضلا کی کثیر جماعت نے آپ سے استفادہ کیا اور سند ِحدیث حاصل کی۔ ثانیاً آپ علومِ آلیہ و عالیہ میں شیخ العرب و العجم تھے، چنانچہ ان دو حوالوں سے آپ کو شیخ الکل فی الکل کے لقب سے مخاطب کیا گیا۔(۹)

شمس العلما:حضرت میاں صاحب کو حکومت ہند کی طرف سے شمس العلماء کا خطاب ملا۔ لیکن آپ ذاتی طور پر میاں صاحب کے لقب کو زیادہ پسند کرتے تھے اس لئے کہ اس میں انکساری کے ساتھ ساتھ آباء و اجداد کے ساتھ روحانی تعلق تھا جواس مسند ِحدیث پر جلوہ افروزی کرچکے تھے۔(۱۰)

مشہور تلامذہ

جب حضرت میاں صاحب مسند ِحدیث پر جلوہ افروز ہوئے تو آپ سے استفادہ کرنے کے لئے مشرق و مغرب سے علم حدیث کے طلب گار بھاگے چلے آئے۔ اندرون و بیرونِ ہند سے عربی و عجمی طلبہ کی قطاریں لگ گئیں۔ حبشہ، افریقہ، جزائر، جاوا، سماٹرا، تیونس، کابل، غزنی، قندھار، بخارا، بلخ، یاغستان، ایشیائے کوچک، ایران، خراسان اور دوسرے مقامات سے حدیث کے طلبگار کھنچے چلے آئے جن کی تعداد ایک لاکھ پچیس ہزار سے متجاوز ہے لیکن یہاں چند تلامذہ کا تذکرہ اختصار سے نذرِ قارئین ہے :

حافظ محمد بن بارک اللہ لکھوی: صاحب ِتفسیر محمدی( ۱۲۲۱ھ تا ۱۳۱۱ھ) :علم و عمل کا یہ آفتاب ضلع فیروز پور کے گاؤں لکھو کے میں مولانا بارک اللہ لکھوی کے آنگن میں طلوع ہوا جس نے پنجاب کے طول وعرض میں ضو فشانیاں کیں۔ حافظ محمد لکھوی نے سن شباب میں پہنچ کر تحصیل علم کے لئے دور دراز کے سفر کئے۔ دیگر کبار شیوخ سے استفادہ کے ساتھ دبستانِ دہلوی میں شیخ الکل فی الکل میاں محمد نذیر حسین محدث دہلوی کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے اور وہاں سے حظ ِثمین لے کر واپس پلٹے اور موضع لکھوکے میں مدرسہ محمدیہ کے نام سے درسگاہ کا آغاز کیا جس میں تشنگانِ دین حنیف کو سیراب کیا۔ کامیاب تدریس کے ساتھ تصنیفی شعبہ میں بھی گرانمایہ خدمات انجام دیں۔سات ضخیم جلدوں میں 'تفسیر محمدی' کے نام سے پنجابی زبان میں قرآن پاک کی تفسیر لکھی۔ تفسیر قرآن کے علاوہ بھی کتابیں تالیف کیں، خصوصاً 'احوال الآخرۃ' اور 'زینۃ الاسلام' مقبولِ عام اور پنجاب کے ہر گھر کی زینت بنیں۔(۱۱) مدرسہ محمدیہ آج بھی اوکاڑہ شہر میں جامعہ محمدیہ کے نام سے حضرت مولانا معین الدین لکھوی کی سرپرستی میں مہرتاباں کی طرح اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔

مولانا شمس الحق ڈیانوی :صاحب ِعون المعبود (۱۲۷۳ھ تا ۱۳۲۹ھ):مولانا شمس الحق ڈیانوی عظیم آبادی کا شمار کبار علما میں ہوتا ہے۔ انہوں نے مقتدر شیوخ حدیث سے استفادہ کیا، بعدمیں حضرت سید میاں صاحب اور علامہ شیخ حسین بن محسن انصاری یمانی خزرجی سے اپنی علمی پیاس بجھائی۔ مکمل سیرابی کے بعد دین حنیف کی ترویج و اشاعت، قرآن و حدیث کی تعلیم و تدریس اور تعلیماتِ اسلام کی تصنیف وتالیف کو مقصد ِحیات بنا لیا۔ ان سے قابل ذکر اہل علم نے استفادہ کیا جبکہ تالیفی میدان میں ان کی خدماتِ جلیلہ ناقابل فراموش ہیں۔ خصوصاً سنن ابی داوود کی عربی شرح 'عون المعبود' چار جلدوں میں اور ابوداود کی دوسری نامکمل شرح غایۃ المقصود کی صورت میں انہوں نے جو ورثہ چھوڑا ،وہ رہتی دنیا تک چشمہ فیض کا کام کرتا رہے گا۔(۱۲)

مولانا عبدالرحمن مبارکپوری، مؤلف تحفۃ الاحوذی(۱۲۸۳ھ تا۱۳۵۳ھ) :علامہ ابویعلی محمد عبدالرحمن مبارکپوری ضلع اعظم گڑھ (ہند) کی مردم خیز بستی مبارکپور میں حکیم حافظ عبدالرحیم کے گھر پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم والد ِگرامی سے حاصل کی جو کہ حضرت میاں صاحب کے ہی فیض یافتہ تھے۔ بعد ازاں حضرت میاں صاحب، علامہ حسین بن محسن انصاری، قاضی محمد بن عبدالعزیز مچھلی شہری اور حافظ محمد عبداللہ غازی پوری سے کسب ِفیض کیا۔ تمام عمر کتاب و سنت کی خدمت میں صرف کردی۔ مختلف موضوعات پر کتابیں لکھیں جبکہ جامع ترمذی کی چار ضخیم جلدوں میں عربی میں شرح 'تحفۃ الاحوذی' ان کے علم و فضل کا شاہکار ہے۔ علماء کی کثیر جماعت نے ان سے استفادہ کیا۔(۱۳)

مولانا محمد حسین بٹالویؒ (۱۲۵۶ھ تا۱۳۳۸ھ):مولانا محمد حسین بٹالوی نے سن شعور میں پہنچ کر تحصیل علم کے لئے دور دراز کے سفر کئے۔ حضرت میاں صاحب دہلوی، مفتی صدر الدین دہلوی اور مولانا نورالحسن کاندھلوی سے اخذ ِعلم کیا۔ تمام عمر عزیز خدمت ِقرآن و حدیث کے لئے وقف کردی۔ تبلیغ دین، تدریس حدیث، اشاعت السنۃ اور تصنیف و تالیف میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ قادیانیت، چکڑالویت اور فتنۂ انکار حدیث کے لئے شبانہ روز محنت کی۔ بایں سلسلہ متعدد کتابیں تالیف کیں۔ مرزاغلام احمد قادیانی کے خلاف پہلا تحریری فتویٰ بھی آپ نے ہی شائع کیا۔ مولانا بٹالوی دشمنانِ اسلام کے لئے سیف ِبے نیام تھے۔ جنہوں نے کسی مداہنت و مصلحت کے بغیر اپنی تبلیغی، تدریسی، تقریری اور تحریری سرگرمیوں کو تادمِ ارتحال جاری و ساری رکھا۔(۱۴)

حافظ عبداللہ محدث غازی پوری (۱۲۶۰ھ تا۱۳۳۷ھ):مولانا حافظ عبداللہ قصبہ میو ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین نقل مکانی کرکے اعظم گڑھ سے غازی پور منتقل ہوگئے۔ بارہ سال کی صغر سنی میں قرآنِ مجید حفظ کرلیا۔ حضرت میاں سید محمد نذیرحسین محدث دہلوی کے علاوہ مولانا رحمت اللہ لکھنوی اور مفتی محمد یوسف لکھنوی سے بھی کسب ِفیض کیا۔ حضرت میاں صاحب نے فرمایا:

''میرے پاس دو عبداللہ آئے ہیں: ایک عبداللہ غزنوی اور دوسرے عبداللہ غازی پوری...''

حضرت غازی پوری کا شمار ماضی کے فحول علما میں ہوتا ہے۔ ۱۹۰۶ء میں 'آل انڈیا اہلحدیث کانفرنس' معرضِ وجود میں آئی تو حضرت غازی پوری صدر اور مولانا ثنا ء اللہ امرتسری ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے۔ جب مسند ِحدیث پہ متمکن ہوئے تو مولانا عبدالسلام مبارکپوری، مولانا عبدالرحمن مبارکپوری، مولانا محمد سعید بنارسی اور سید محمد داود غزنوی جیسے مقتدر علما نے ان سے اکتساب کیا۔(۱۵)

حافظ عبدالمنان وزیرآبادی (۱۲۶۷ھ تا ۱۳۳۴ھ): استادِ پنجاب حافظ عبدالمنان وزیرآبادی کی نو سال میں بینائی جاتی رہی جبکہ بارہ سال کی عمر میں ماں کے سایۂ عاطفت سے محروم ہوگئے۔ اوائل عمری میں دل شکستہ ہونے کی بجائے حوصلہ مندی سے دین حنیف کے علم کے حصول کے لئے کرولی، جہلم، مالایار، جونا گڑھ، بھوپال اور دہلی جیسے دور افتادہ علاقہ جات کا کٹھن سفر کیا اور دبستانِ دہلی میں حضرت میاں صاحب سے فیض یابی کے بعد اپنے وطن مراجعت کی تو وزیرآباد میں 'دارالحدیث' کے نام سے مسند ِحدیث سجائی۔ تدریس حدیث کی مہک نے فضا کو اس قدر معطر کیا کہ دور دراز سے طالبانِ حق کھنچے چلے آئے۔ مستفید ہونے والوں میں مولانا ثناء اللہ امرتسری، مولانا حافظ محمد ابراہیم میرسیالکوٹی، مولانا محمد علی لکھوی، حافظ محمد محدث گوندلوی، مولانا محمد اسماعیل سلفی اور مولانا محمد باقر،جھوک دادو خاص طور پر قابل ذکر ہیں حضرت حافظ وزیر آبادی خدمت ِحدیث کی بنا پر'استادِ پنجاب' کہلائے۔(۱۶)

مولانا محمد ابراہیم آرو ی (۱۲۶۴ھ تا ۱۳۱۹ھ):مولانا محمد ابراہیم آروی بھی حضرت میاں صاحب کے تلامذہ میں سے ایک اہم نام ہے جنہوں نے حصولِ علم کے لئے دور دراز کے سفر کئے۔ دبستانِ دہلی کے علاوہ علی گڑھ، دیوبند اور سہارنپور کے شیوخ الحدیث اور اساتذئہ ادب سے تمام دینی علوم و فنون میں مہارتِ تامہ حاصل کی۔ تحصیل علم کے بعد آرہ اور دوسرے علاقوں میں شمع علم کو فروزاں کیا۔ مولانا آروی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔(۱۷) مولانا آروی تبلیغ دین میں ید ِطولیٰ رکھتے تھے۔ ۱۹۰۴ء میں 'آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس' کے قیام کے بعد تبلیغ کیلئے جو خصوصی وفد تشکیل دیا گیا، اسمیں مولانا آروی سرفہرست تھے۔

قاضی طلا محمد پشاوری (۱۲۲۷ھ تا ۱۳۱۰ھ):قاضی طلا محمد کا شمار ہندوستان کے مشہور شعراء میں ہوتا ہے۔ پشاور کے ایک معزز و متمول گھرانے میں ان کی ولادت ہوئی۔ سن شعور میں پہنچے تو حصولِ علم کیلئے طویل سفر اختیار کئے۔ حضرت میاں صاحب ، سید عبداللہ غزنوی، مولانا محمد حسین بٹالوی اور دیگر فحول علما سے کسب ِفیض کیا۔ تحصیل علم کے بعد تبلیغ و تدریس اور تصنیف و تالیف میں مشغول ہوگئے۔ چند اہم کتابیں منصہ شہود پر آئیں۔ عربی شاعری میں خاص مقام حاصل کیا۔ ان کا کلام 'دیوان القاضی طلا محمد البشاوری' کے نام سے لاہور سے شائع ہوا ہے جس پر تحقیق و تقدیم پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد اظہر نے کی ہے۔(۱۸)

امام سید عبدالجبار غزنوی (۱۲۶۸ھ تا ۱۳۳۱ھ):مولانا سید امام عبدالجبار غزنوی اور ان کے والد گرامی سید عبداللہ غزنوی صاحب ِکرامات بزرگ تھے اور دونوں ہی دبستانِ دہلی کے فیض یافتہ تھے بلکہ مولانا عبدالجبار غزنوی کے دیگر بھائیوں نے بھی اسی چشمہ صافی سے اپنی تشنہ کھیتی کو سیراب کیا۔دہلی سے مراجعت کے بعد مولانا عبدالجبار غزنوی نے امرتسر میں مسند ِحدیث سجائی اور اکناف و اطراف کے طالبانِ حق کو فیض یاب کیا۔ خانوادئہ غزنویہ کی یادگار آج بھی 'دارالعلوم تقویۃ الاسلام' کی صورت میںلاہور میں موجود ہے جسے بعد میں سید محمد داود غزنوی، پروفیسر سید ابوبکر غزنوی اور ان کی اولاد و احفاد نے بصورتِ شمع دین فروزاں رکھا۔(۱۹)

مولانا عبدالجبار عمرپوری (۱۲۷۷ھ ):مولانا عبدالجبارعمرپوری کا شمار حضرت میاں صاحب کے خاص فیض یافتگان میں ہوتا ہے۔ تحصیل علم کے بعد مختلف مقامات پر تدریسی فرائض انجام دیئے۔ تصنیف و تالیف سے بھی شغف تھا۔ عربی شاعری میںطبع آزمائی کی، مولانا عبدالحئ لکھنوی نے 'نزہۃ الخواطر' میں ان کے چند عربی اشعار نقل کئے ہیں۔(۲۰)

مذکورہ شخصیات کے علاوہ سید حسین بن میاں صاحب، حضرت سید عبداللہ غزنوی اور ان کے پانچ بیٹے، مولانا امیرالحسن اور ان کا بیٹے امیراحمد سہسوانی، مولانا سعادت حسین بہاروی، مولانا رفیع الدین شکرانوی، مولانا تلطف حسین ، محی الدین پوری ثم عظیم آبادی، مولانا نوراحمد ڈیانوی، مولانا اسد علی اسلام آبادی، مولانا قاضی محفوظ اللہ پانی پتی، مولانا احمد دہلوی، مولانا بخش احمد قاضی پوری، مولانا سلامت اللہ اعظم گڑھی، مولانا ابوعبدالرحمن پنجابی، میاں غلام رسول قلعوی، مولانا محمد طاہر سلہٹی اور مولانا عبدالعزیز بن احمداللہ رحیم آبادی بھی قابل ذکر شخصیات ہیں۔(۲۱) مذکورہ تمام شخصیات نے دین حق کے لئے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ان مقتدر فحول علما نے تبلیغی، تدریسی، تصنیفی اور اشاعتی میدان میں آنے والے متلاشیانِ حق کے لئے وہ انمٹ نقوش چھوڑے ہیں جو رہتی دنیا قائم رہیں گے۔

تلامذہ بیرونِ ہند:دبستانِ دہلی سے فیضیاب ہونے کے لئے سرزمین ہند ہی نہیں بلکہ بیرونِ ہند دیگر ممالک و علاقہ جات سے بھی طالبانِ حق نے کسب ِفیض کیا: کابل:شیخ عبدالحمید، شیخ اخوان، شیخ شہاب الدین، شیخ عبدالرحیم...باجوڑ:مولوی زین العابدین ...یاغستان:مولوی محمدحسین...بخارا:ملا رجب علی...سمرقند:ملا جلال الدین...غزنی:ملاشہاب الدین ... قوقند:ملا نورالدین قہستانی، ملا عبدالنور، ملا میر عالم...ہرات:ملا عزیز الدین، ملا سید محمد...حجاز:شیخ عبدالرحمن بن عدن نعمانی...جزیرہ حبشان: شیخ اسحق بن عبدالرحمن، شیخ علی بن قاضی، عبداللہ بن سعد بن عبدالعزیز حدیہش، قاضی محمد بن ناصربن مبارک، قاضی سعد بن عتیق، شیخ محمد بن ابراہیم...سوڈان:شیخ عبداللہ بن ادریس الحسینی (۲۲)

تلامذہ سے آپ کی شفقت

حضرت میاں صاحب محدث دہلوی شیخ العرب والعجم ہونے کے باوجود کبھی انہیں بڑا ہونے کا زعم نہیں ہوا اور نہ ہی انہوں نے کبھی تفوقِ علمی کا اظہار کیا بلکہ عجز و انکساری کرنے والے بالخصوص اپنے تلامذہ سے اخلاق و اخلاص سے لبریز برتاؤ کرتے۔

ایک دفعہ سردی کے موسم میں آپ کے پاس لحاف آئے: آپ نے سب تقسیم کردئیے تو عشاء کے بعد ایک طالب علم آیا اور کہنے لگا کہ کسی وجہ سے کہیں گیا ہوا تھا، تقسیم کے وقت محروم رہ گیا۔ اب مجھے بھی ضرورت ہے۔ حضرت میاں صاحب نے سردی کی وجہ سے اپنے جسم پر جو لحاف اوڑھ رکھا تھا، اتار کر اس طالب علم کو دے دیا۔ آپ کا یہ عمل اس آیت ِکریمہ کا مصداق تھا

﴿وَيُؤثِر‌ونَ عَلىٰ أَنفُسِهِم وَلَو كانَ بِهِم خَصاصَةٌ...٩﴾... سورة الحشر

آپکے پاس جو کچھ آتا تھا طلبہ، غربا اور مساکین میں تقسیم کردیتے تھے۔ کبھی آپ نے دولت کا لالچ کیا اور نہ جمع کی۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے دہلی میں اَسّی سال بسر کئے، ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ حدیث ِرسولؐ پڑھائی ، پڑھنے والوں میں غریب بھی تھے امیر بھی ،غنی بھی تھے تونگر بھی ،تاجر بھی تھے اور اہل ثروت بھی ۔ لیکن ساری زندگی اپنا مکان نہیں بنایا۔ ایک کمرے کے مکان میں رہتے تھے اور وہ بھی کرایہ کا تھا ۔

حضرت میاں صاحب کے بارے میں اہل علم و دانش کے ہاں یہ واقعہ تو زبان زد عام ہے کہ جب مولانا سید عبداللہ غزنوی امرتسر سے حدیث پڑھنے کے لئے دہلی گئے تو اپنے سامان سمیت سٹیشن پر کھڑے تھے کہ کوئی مزدور یا قلی مل جائے جو سامان اُٹھا کر مسجد تک لے جائے۔ اسی اثنا میں حضرت میاں صاحب آگئے، آپ نے سامان اُٹھایا اور منزل تک لے گئے۔ سید عبداللہ غزنوی نہیں جانتے تھے کہ سامان اٹھانے والا کون ہے۔ منزل پر پہنچ کر خدمت کی) کھانا کھلایا جب فارغ ہوئے تو سید غزنوی نے پوچھا کہ بھائی حضرت میاں صاحب سے ملاقات کب اور کیسے ہوگی؟ میاں صاحب نے جواب دیا ، جناب خادم کو میاں محمد نذیرحسین کہتے ہیں، اس پر سید غزنوی بڑے متعجب ہوئے اور خلوصِ نیت سے دعا کی۔

٭ اسی طرح کا ایک اور واقعہ ہے کہ شیخ پنجاب حافظ عبدالمنان وزیرآبادی جو حضرت میاں صاحب کے تلمیذ ِرشید مگر نابینا تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ دورانِ تعلیم ایک دن میں قضاء حاجت کے لئے نکلا میرے راستے میں ایک بیل تھا، وہ سینگ مارتا تھا مجھے علم نہیں تھا جب میں قریب پہنچا تو ایک آدمی آیا اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے بیت الخلا کی طرف لے گیا۔ پھر استنجا کے لئے مٹی کے ڈھیلے دیئے پھر واپس مسجد میں لاکر چھوڑ دیا تو دیکھنے والوں نے پوچھا کہ جاتے ہوئے تمہیں بیل کے سینگ سے کس نے بچایا اور بیت الخلا کون لے کر گیا، میں نے کہا نہیں، تو انہوں نے کہا یہ سارا کام حضرت میاں صاحب نے کیا ہے۔

صحیح بخاری سے محبت

امیرالمؤمنین فی الحدیث محمد بن اسمعٰیل بخاری کی تالیف جامع صحیح بخاری کتب ِحدیث میں ممتاز ومنفرد مقام رکھتی ہے۔ قرآن مجید کے بعد صحیح بخاری معتمد ترین کتاب ہے۔بایں وجہ حضرت میاں صاحب صحیح بخاری سے بڑی محبت کرتے تھے۔ دورانِ تعلیم آپ نے تین مرتبہ بخاری شریف پڑھی۔ پہلی مرتبہ مولانا سید عبدالخالق دہلوی سے، دوسری مرتبہ مولانا شاہ محمد اسحق دہلوی سے اور تیسری مرتبہ آپ نے پھر حضرت شاہ محمد اسحق محدث دہلوی سے جامع صحیح بخاری پڑھی۔

جہاں تک شاگردوں کو پڑھانے کا تعلق ہے تو خود میاں صاحب کو بھی یاد نہیں کہ کتنی مرتبہ انہوں نے بخاری شریف پڑھائی۔ جب ۱۸۵۶ء میں جنگ ِآزادی کا آغاز ہوا تو دہلی میں زیادہ شور شرابہ تھا چونکہ دہلی شہر دارالحکومت تھا، اس لئے یہاں زیادہ آگ برسائی گئی۔ بہت لوگ شہر چھوڑ کر چلے گئے لیکن حضرت میاں صاحب مسلسل حدیث کی تعلیم دیتے رہے۔سید عبداللہ غزنوی بھی ان دنوں پڑھتے تھے، کمالِ استقامت و محبت ِحدیث کہ آپ نے اپنا مشن جاری رکھا۔ انگریز نے غلبہ پانے کے بعد ظلم و بربریت کی انتہا کردی۔ بالخصوص اہل حدیث افراد کو چن چن کر ظلم کا نشانہ بنایا گیا، جائیدادیں ضبط کی گئیں۔ کالا پانی کی سزائیں دی گئیں۔ وہابی کہا گیا باغی گردانا گیا لیکن ان کے پایۂ استقلال میں لغزش نہیں آئی۔

میاں صاحب کا عزم و استقلال

۱۸۵۷ء کی جنگ ِآزادی میں اہل ہند کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکے۔ جبکہ انگریز نے غلبہ پایا اور اپنا تسلط جما لیا تو جبر و استبداد کی انتہا کردی۔ ہندوستان کے غیور شہریوں کی جائیدادیں ضبط ہوئیں، پابند سلاسل کرکے جیلوں میں پھینکا گیا۔ کئی سرفروشوں کے سر تن سے جدا کردیئے گئے۔ مگر ضمیر فروشوں کو انعامات و اکرامات سے نوازا گیا۔ انہوں نے بھی انگریز سامراج فرمانروا کا قرب اور خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ضمیر فروشی کی انتہا کردی۔ ان میں سے ایسے بھی عاقبت نااندیش تھے جنہوں نے علماء حق پرست کے خلاف سازشیں کیں، ایسا ہی ایک سازشی گروہ انگریز بہادر کو کہتا ہے کہ برصغیر میں انگریزوں کے خلاف جنگ ِآزادی میں حصہ لینے والوں میں 'وہابی' پیش پیش تھے اور ان کا سرغنہ میاں نذیرحسین محدث دہلوی جو حدیث پڑھا کر برانگیختہ کرتا ہے، چنانچہ اس جرمِ حریت کی پاداش میں حضرت میاں صاحب کو راولپنڈی جیل میں قید کردیا گیا جہاں انہوں نے ایک سال گزارا لیکن جیل میں بھی مطالعہ وتدریس حدیث کو جاری رکھا۔

جب حضرت میاں صاحب حج کے ارادہ سے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے تو وہاں آپ کی عزت و تکریم مخالف برداشت نہ کرسکے انہوں نے شریف ِمکہ حاکم حجاز نورپاشا کے سامنے شکایت کی کہ میاں محدث دہلوی کا تعلق وہابی نجدیوں کے ساتھ ہے اور یہ لامذہب یعنی کسی معین امام کی تقلید نہیں کرتاہے۔ اس بنا پر حاکم حجاز نے میاں صاحب کو طلب کرلیا تو آپ نے بیان دیا کہ میرا مذہب کتاب و سنت پر مبنی ہے تمہارے پاس لگائے گئے الزامات کے ساتھ میرا کوئی تعلق نہیں میں تو کتاب و سنت کا داعی ہوں اور اسی کی دعوت و تبلیغ کرنے والا ہوں۔ جب حاکم حجاز نے سنا تو تمام الزامات سے آپ کو باعزت و تکریم بری کردیا۔آپ عقیدہ صحیحہ کے حامل ہونے کے ساتھ بے خوف ولی کامل بھی تھے کیونکہ ولی وہ ہوتا ہے جس کو خوف و حزن دامن گیر نہیں ہوتا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿أَلا إِنَّ أَولِياءَ اللَّهِ لا خَوفٌ عَلَيهِم وَلا هُم يَحزَنونَ ٦٢﴾... سورة يونس

٭ ایک رات حضرت میاں صاحب عشاء کی نما زادا کرنے کیلئے گھر سے نکلے تو رستہ میں تلوار سے مسلح ایک شخص ملا جو قتل کرنا چاہتا تھا،میاں صاحب نے فرمایا کہ میرا تعلق بنی فاطمہ سے ہے تو مجھے قتل نہیں کرسکتا۔ جب یہ الفاظ اسکے کانوں پر پڑے تو اس پر اس قدر لرزہ طاری ہوا کہ اسکے ہاتھ سے تلوار گر پڑی حتیٰ کہ وہ شخص پیٹ درد میں مبتلا ہوا۔ گھر پہنچا تو سارا واقعہ گھر والوں کو سنایا اور اسی رات شدتِ درد و مرض میں انتقال کرگیا۔ اس واقعہ نے یہ بھی ثابت کیا کہ ربّ کائنات کس طرح خدامِ حدیث کی حفاظت فرماتا ہے۔

٭ مخالفین نے تو یہاں تک کہا کہ حضرت میاں صاحب نے حضرت شاہ محمد اسحق محدث دہلوی سے پڑھا ہی نہیں، اس بارے میں علامہ سید سلمان ندوی ناظم ندوۃ العلما،لکھنو نے اپنی تالیف'حیاتِ شبلی' میں لکھا ہے کہ

میں نے نواب صدیق حسن خان قنوجی کے مسودات میںپڑھا ہے کہ حضرت میاں صاحب نے ۱۲۴۶ھ میںحضرت شاہ صاحب سے صحیح بخاری، صحیح مسلم حرف بحرف پڑھی جبکہ مولوی محمد گل کا بلی، مولوی عبداللہ سندھی، مولوی نوراللہ سردانی اور حافظ محمد فاضل سورتی آپ کے ساتھ تھے اور ہدایہ وجامع الصغیر پڑھی تو مولانا بہاء الدین دکنی، قاضی محفوظ اللہ پانی پتی، نواب قطب الدین خاں دہلوی اور قاری اکرام اللہ وغیرہ ساتھی تھے۔ کنز العمال اکیلے میں نے پڑھی۔ سنن ابی داود، سنن ابی ماجہ، سنن نسائی، جامع ترمذی اور موطا ٔامام مالک مکمل پڑھی اور شیخ الآفاق حضرت شاہ محمد اسحق محدث دہلوی سے سند ِاجازہ بھی حاصل کی۔(۲۳)

اہل علم و فن و اہل فکرونظر پر الزامات لگا کر اپنا قد اونچا کرنے والے قوم کے رہبروں کے بارے میں کسی عربی شاعر نے کہا :
إذا کان الغراب دليل قوم    سيهديهم طريق الهالکينا

طہارت و عبادت

حضرت میاں صاحب محدث دہلوی ہمہ وقت باوضو رہتے بلکہ شب زندہ دار تھے۔ رات کو تہجد پڑھنا آپ کا معمول تھا۔ آپ رات کا دوسرا حصہ عبادت میں مشغول رہتے پھر فجر کی نماز سے پہلے قبلہ کی طرف بیٹھ کر وِردو وظائف میں مشغول ہوجاتے اور نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد درسِ قرآن مجید دینا بھی آپ کا معمول تھا۔ درسِ قرآن کے بعد تدریس کا سلسلہ شروع ہوتا جو دن کے گیارہ بجے تک جاری رہتا، نمازِ ظہر کی ادائیگی کے بعد دوبارہ تدریس حدیث کا سلسلہ شروع ہوتا جو مغرب کی نماز تک جاری رہتا۔ نماز میں خشوع و خضوع و بکاء اس قدر ہوتا کہ آپ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوجاتے۔ جس طرح حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أن تعبدللہ کأنك تراہ فإن لم تراہ فإنه یراك» (الحدیث) یہ معمولات آپ کے عام دنوں کے تھے۔رمضان المبارک میں تو عبادات میں اور بھی اضافہ کردیتے۔ عبادات کے ساتھ صدقہ و خیرات میں بھی یدطولیٰ رکھتے تھے۔ غربا کو کھانا کھلانا اور نادار طلبہ کو کتابیں خرید کر دینے میں آپ کا ثانی نہیں تھا۔ ؎ یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا

سانحۂ ارتحال:محدث العصر، استاذ العلما، شیخ الکل فی الکل میاں محمد نذیر حسین دہلوی نے ۱۰؍رجب ۱۳۲۰ھ، ۱۳؍اکتوبر ۱۹۰۲ء کو نمازِ مغرب کے بعد دارِفانی کا سفر اختیار کیا اور ان کے جسد ِعنصری کو شیدی پورہ قبرستان دہلی میں سپرد خاک کیا گیا۔(۲۵)

حضرت میاں صاحب کی وفات کو عیسوی تقویم کے لحاظ سے پورے ۱۰۰ سال گزر چکے ہیں۔
حوالہ جات

۱۔مولانا عبدالحئ لکھنوی، نزہۃ الخواطر، ص۸؍۴۹۸... مولانا محمداشرف سندھو،البشری بسعادۃ الدارین بلوکی

۲۔مولاناابویحییٰ امام خاں نوشہری، تراجم علماء حدیث ہند،مکتبہ اہلحدیث کراچی

۳۔مولاناعبدالجبارفریوائی، جمہود المخلصۃ ،ص ۸۰ ۴۔میاں نذیرحسین دہلوی،معیار الحق، ص ۴۴۶

۵۔محمد عزیز سلفی، حیات شمس الحق و اعمالہ ،ص۲۴۶ ۶۔سیدعبداللہ غزنوی، ص ۱۳۴

۷۔محدث دہلوی ،معیار الحق، ص ۴۵ ۸۔مولانا نوشہروی ،تراجم علماء حدیث ہند، ص ۱۰۱،کراچی

۹۔محدث دہلوی،معیار الحق، ص۴۴۳ ۱۰۔شیخ محمد اکرام،موج کوثر، ص ۶۹،ثقافت اسلامیہ، لاہور

۱۱۔مولانامحمدابراہیم خلیل،فیوض المحمدیہ، مکتبہ عزیزیہ حجرہ شاہ مقیم ۱۲۔مولاناعبدالحئ لکھنوی،نزھۃ الخواطر، ص۱۸۱،کراچی

۱۳۔ڈاکٹرعبدالغفورراشد،ہفت روزہ 'الاعتصام'،لاہور ۱۴۔مولانا لکھنوی،نزہۃ الخواطر، ص۸؍۴۲۹،کراچی

۱۵۔مولانا نوشہروی،تراجم علماء حدیث ہند، ۴۵۵،کراچی ۱۷۔مولانا لکھوی،نزھۃ الخواطر، ص۸؍۴،کراچی

۱۶۔مولانا منیراحمدسلفی،حافظ عبدالمنان وزیرآبادی ،حیات وخدمات،ص ۸۴،فاران اکیڈمی لاہور

۱۸۔ڈاکٹرظہوراحمداظہر،دیوان القاضی طلا محمد البشاوری، ص۱۶،مجمع العربی لاہور

۱۹۔مولانا عبدالحئ لکھنوی،نزھۃ الخواطر، ص۸؍۲۱۸،کراچی ۲۰۔مولانا عبدالحئ لکھنوی،نفس المصدر، ص ۸؍۲۱۷،کراچی

۲۱۔ڈاکٹرعبدالغفور راشد،اہلحدیث منزل بہ منزل، ص ۶۰،لاہور ۲۲۔حضرت محدث دہلوی،معیار الحق، ص۴۵۱،مکتبہ نذیریہ لاہور

۲۳۔سیدسلمان ندوی،حیاتِ شبلی، ص۱؍۲۶ ۲۴۔القرآن ا لکریم ۲۵۔سیدمیاںنذیرحسین ،معیار الحق،مکتبہ نذیریہ، لاہور