... دہشت گردی کسے کہتے ہیں؟ کیا دین اسلام میں اس کا کوئی تصور ہے...؟

جنوبی افریقہ کے رِچ اَم کُھن ڈو، نیویارک ٹائمز کے سرج شِمے مان، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا راروائن کے مارک لیوائن، معروف صحافی رے بکا سکاروف اور مارک ڈیری، افسانہ نگار رچرڈ فورڈ، کوئنز کالج اور گریجویٹ سینٹر کولم، بیایونیورسٹی کے پروفیسر جان جیریسی، اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسیٹ) کے رکن عزمی بشارہ، فرانس کے مشہور فلسفی جین برکمونٹ، لاطینی امریکہ کے ناول نگار ایڈوارڈو گلیانو، میسا چوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پروفیسر نوم چومسکی، ہندوستان کی انگریز ناول نگار ارون دھتی رائے، ترکی کے ناول نگار ادرحان پامک، مصر کی ڈاکٹر نوال سعداوی، برطانیہ کے صحافی رابرٹ فسک، ایران کے محسن مخمل باف، یونیورسٹی آف ٹیکساس آسٹن امریکہ کے راہل مہاجن اور امریکی فری پریس کے کرسٹوفر بولن کی مطبوعہ تحریروں کے بعض اقتباسات سے ان دو سوالوں کا جواب درج ذیل سطور میں ملاحظہ فرمائیے...

دہشت گردی اور اس کے ممکنہ مفاہیم

بے گناہ شہریوں کے خلاف طاقت کے ایک ایسے استعمال یا استعمال کی دھمکی کو دہشت گردی سے تعبیر کیا جاتا ہے جو کسی سیاسی یا معاشرتی تبدیلی لانے کی غرض سے ہو۔ کسی حکومت کو دھمکانے، خوف زدہ کرنے اور اپنے سیاسی اور معاشرتی مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے اس حکومت کی شہری آبادی یا اس کے کسی حصے کی جان و مال کے خلاف یا تشدد کا غیر قانونی استعمال 'دہشت گردی' ہے۔

حیاتیاتی، کیمیائی یا جوہری ترکیبوں کے علاوہ سیاسی بنیاد پر کیے جانے والے قتل، دہشت گردی ہیں۔ ان تمام جنگی جرائم کودہشت گردی شمار کیا گیا ہے، جن کا دنیا کی اکثر حکومتوں خاص طور پر بڑی طاقتوں نے ارتکاب کیا ہے۔

دہشت گردی یا دہشت گرد کے الفاظ کو پہلی مرتبہ مارچ ۱۷۷۳ء سے جولائی ۱۷۹۴ء تک فرانسیسی حکومت کے برپا کیے ہوئے عہد ِدہشت کے لیے استعمال کیا گیا۔حکومت مخالف سرگرمیوں کے اظہار کے لیے دہشت گرد کا لفظ ۱۸۶۶ء میں آئر لینڈ اور ۱۸۸۳ء میں روس کے حوالے سے تحریری شکل میں آیا۔

دہشت زدگی کی سب سے عام کارروائی وہ اذیت ہے، جو حکومتیں خود اپنے شہریوں کو پہنچاتی ہیں۔

ہتھیاروں کی روز افزوں عالمی تجارت نے جو ہر سطح پر تشدد کو تیز کر تی ہے، ایسے لوگوں کی شکایتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جنہیں تشدد کے خلاف شکایت ہے۔

۱۹۳۰ء؁ سے ۱۹۴۰ء؁ کی دہائیوں میں زیر زمین کام کرنے والے یہودیوں کو دہشت گر دکہا جاتا تھا۔

ہمارے چاروں اطراف موجود یہ دنیا اپنے آپ کو ان اصطلاحات اور تصورات کے ذریعہ بیان کرنے لگی ہے جن کے مفہوم سے ہم پوری طرح واقف نہیں ، دہشت گردی کا تصور بھی ایسا ہی لفظ ہے۔ اس میں پنہاں درد و اذیت کا ہم تصور کر سکتے ہیں مگر اس اصطلاح کا مفہوم کیا ہے؟

دہشت گردی کی اصطلاح کی کوئی عالمی طور پر متفقہ تعریف نہیں ہے مگر اس میں بار بار دہرائے جانے والے چند موضوعات ہیں، جن میں مندرجہ ذیل شامل ہیں:

تشدد جو سیاسی یا سماجی مقصد کے تحت ہو ،خوف زدہ کرنے کی کوشش ہو اور اس عمل کا رخ شہریوں اور دوسرے ایسے لوگوں کی طرف کر دیا جائے جو لڑائی میں شریک نہیں ہیں۔ دہشت گردی سیدھے سادھے تشدد سے بڑھ کر ہے، جس میں صرف دو فریقین کی ضرورت ہوتی ہے، ایک جارحیت کرنے والا اور دوسرا اس کا شکار (Victim)۔ دہشت گردی کے لیے ایک تیسرے فریق کی بھی ضرورت پڑتی ہے ، جو ان تمام واقعات سے مرعوب یا خوف زدہ ہو جائیں جو جارحیت کے شکار کے ساتھ پیش آرہے ہیں۔

دہشت گردی کی کارروائی کا ایک اہم درجہ ان کارروائیوں پر مشتمل ہے، جن پر عمل درآمد یا جن کی ہدایت و منصوبہ بندی، براہ راست یا بالواسطہ طور پر ریاست کی طرف سے کی گئی ہو یا پھر ریاست نے اجازت دے دی ہو، چاہے اس ریاست کی اپنی فوج یا پولیس براہِ راست ملوث نہ ہو، مگر یہ بعض قاتل دستوں کو تفویض کر دی گئی ہو۔

اپنے طریقے اور مقصد میں دہشت گردی، انسانی عمل، قانون اور تصادم کے اُصولوں کی خلاف ورزی ہے، اس کا مقصد ہے حادثاتی و سرسری سفاکی کے مظاہرے کے ذریعے سے ہمت کو توڑنا، غیر انسانی بنانا، تذلیل کرنا اور خوف زدہ کرنا۔

دہشت گرد کون؟

ایک شخص کے نزدیک جو 'دہشت گرد' ہے، وہ دوسرے کے نزدیک 'مجاہد ِحریت' ہے۔اور یہ حقیقت ہے کہ ۱۹۸۰ء کے عشرے میں جب ڈک چینی جیسے سیاست دان نیلسن منڈیلا کو دہشت گرد قرار دے رہے تھے، اس وقت امریکی حکومت اسامہ بن لادن اور اس کے ساتھیوں کو جنگ ِ آزادی کے سپاہی قرار دے کر ان کی تعریف کر رہی تھی۔

لیکن اس بات کی نشان دہی اب بھی نہیں کی جا سکتی کہ کون دہشت گرد ہے اور کون نہیں؟ فلسطین کے رہنما یاسر عرفات دہشت گرد تھے اور اب وہ دہشت گرد نہیں۔ آئرلینڈ کی سن فین (Sinn Fein) کے جیری آدمس اور جنوبی افریقہ کے نیلسن منڈیلا دہشت گرد تھے اور اب وہ بڑے عظیم مدبر اور رہنما ہیں۔ کم از کم تین اسرائیلی وزرائے اعظم یا تو خود اپنے اعتراف کے مطابق دہشت گرد تھے یا ان پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام قانونی طور پر لگایا جا سکتا تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے سب سے نئے حلیف، روس کے صدر ولاڈی میر پوٹین آج بھی چیچنیا میں ایک ایسی غلیظ جنگ لڑ رہے ہیں، جسے شہریوں کے خلاف بہیمانہ مظالم کی وجہ سے دہشت گردی سے تعبیر کیاجاسکتا ہے۔

۳۰سال قبل چومسکی نے ہمیں یاد دلایا تھا کہ قومی تحفظ کے نام پر اذیت اور دہشت گردی کے آلات استعمال کرنے والی حکومتوں کی دو تہائی تعداد امریکہ کی گاہک ہیں۔

اگر ہم اس اُصول پر توجہ دیں کہ دہشت گردوں کو تحفظ اور مالی مدد کون مہیا کر رہا ہے تو ہمیں ایک بار پھر مغربی طاقتیں، مشرقِ وسطی اور جنوب میں ان کے حلیف ہی ملزم نظر آئیں گے۔

صرف ۱۹۹۳ء سے ۱۹۹۷ء تک امریکی حکومت نے روئے زمین پر عملاً ہر قوم کو ایک سو نوے ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا یا اس کی منظوری دی یا بلاقیمت بانٹ دیا۔ یہی صورتِ حال چھوٹے پیمانے پر سوویت یونین کی بھی تھی۔ لاطینی امریکہ، افریقہ،ایشیا، مشرقِ وسطیٰ غرض کوئی بھی جگہ ہو، جہاں کہیں بھی دہشت گرد حکومتیں دہشت گردی میں مشغول رہی ہیں، وہ ان دونوں اعلیٰ طاقتوں اور ہمارے جی8- کے حلیفوں کے تعاون کے بغیر پنپ ہی نہیں سکتی تھیں۔ہمیںیہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ صلیبی جنگوں اور عدالتی احتساب، دونوں کی اجازت براہِ راست کلیسا سے ملی تھی۔

دہشت گرد ی کے بارے میں اعداد وشمار

۱۹۶۸ء سے جب سے امریکی حکومت نے اس قسم کے اعداد و شمار رکھنے شروع کیے، دنیا بھر میں دہشت گردی کی سات ہزار سے زیادہ بم باری کی وارداتیں ہو چکی ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ۳۰ نامزد بیرونی دہشت گرد تنظیموں کی اور ۱۴ دوسری دہشت گرد تنظیموں کی فہرست بنا کر رکھی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ۱۹۸۰ء سے ۱۹۹۹ء تک کے عرصے میں دہشت گردی کی کارروائیاں فی سال ۳۰۰ سے ۵۰۰ تک رہی ہیں۔ یہ بات تعجب خیز ہے کہ دہشت گردی کی تمام کارروائیوں کا دو تہائی حصہ تجارتی اداروں کے خلاف رہا ہے اور یہ تعداد سفارت کار ، فوجی یا سرکاری ملازم یا جائیداد سے پانچ گنا زیادہ رہی ہے۔ مزید برآں اگرچہ ذرائع ابلاغ پر دہشت گردی کی خبروں میں غلبہ مشرقِ وسطیٰ کا رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ۱۹۹۹ء میں لاطینی امریکہ اور روس کے بعد سب سے زیادہ حملے مغربی یورپ نے برداشت کیے ہیں اور ان میں سب سے زیادہ مقبول طریقہ 'بمباری' کا رہا ہے۔ اس کے بعد آتش گیر بم باری، اغوا، آتش زنی اور ہائی جیکنگ کا نمبر آتا ہے۔

بہرحال امریکی محکمہ خارجہ کے اعداد و شمار گمراہ کن ہیں کیونکہ کسی حادثے کو بین الاقوامی دہشت گردی کے زمرے میں صرف اس وقت شامل کیاجاتا ہے، جب اس میں ایک سے زیادہ ملکوں کے شہری یا علاقے شامل ہوں۔ اسی طرح ملکوں کے اندر کوئی ایسی دہشت گردی جس سے غیر ملکی شہریوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے، شمار میں نہیں لائی جاتی۔

طاقتور جماعت کے تشدد کے تجربے نے تاریخی طور پر مظلوموں کو دہشت گردوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ مار کھانے والے بچے، بڑے ہو کر پُرتشدد سزائیں دینے والے والدین بن جاتے ہیں۔ یہی کچھ لوگوں اور قوموں کے ساتھ ہوتا ہے، جب ان کو مار پڑتی ہے تو وہ جواب میں ہاتھ اٹھانے لگتے ہیں، اکثر یہ ہوتا ہے کہ ریاستی دہشت گردی، اجتماعی دہشت گردی کو جنم دیتی ہے۔

جب حکومت دہشت گردی پر اتر آتی ہے تووہ بہت بڑی مثال قائم کرتی ہے، مارک سی ہمیشہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ انقلابی دہشت گردی، معاشرتی اور نفسیاتی انتخاب پر مبنی ہوتی ہے۔

دہشت گرد تبدیل ہوتے رہے ہیں، کل کا دہشت گرد آج کا ہیرو ہے۔

ہم دہشت گردی کی وضاحت نہیں کر سکتے لیکن یہ مغربی اقدار کے لیے خطرہ ہے، یہ انسانیت کے لیے بھی خطرہ ہے... دہشت ایک گہرا اور مسلط ہو جانے والا خوف ہے۔

غیر آئینی جبر و استبداد...یہ اصطلاح صحیح ہے کیونکہ یہ دہشت گردی کا صحیح رخ دکھاتی ہے، چاہے وہ حکومت کرے یا غیر سرکاری لوگ۔۲۵؍اکتوبر ۱۹۸۴ء کو جارج شلز نے جو اس وقت امریکہ کے وزیر داخلہ (سیکرٹری آف سٹیٹ) تھے، نیو یارک پارک ایونیو کے سناگوگ میں دہشت گردی پر ایک طویل تقریر کی۔ یہ تقریر سات صفحات پر مشتمل تھی لیکن اس میں ایک جگہ بھی لفظ دہشت گردی کی وضاحت نہیں کی گئی تھی۔ ہم جو کچھ اس سے سمجھ سکے، وہ یہ تھا :

تعریف نمبر1: ''جدید وحشیانہ پن کو دہشت گردی کہتے ہیں''

تعریف نمبر2: ''دہشت گردی دراصل سیاسی تشدد کی ایک شکل ہے''

تعریف نمبر3: ''دہشت گردی مغربی تہذیب کے لیے ایک دھمکی کا نام ہے''

تعریف نمبر4: ''دہشت گردی مغربی اخلاقی اقدار کے لیے ایک خطرہ ہے''

آپ نے غور کیا کہ ان سب وضاحتوں سے صرف ہمارے جذبات کو اُبھارا جاتا ہے، یہ لوگ دہشت گردی کی تعریف بیان نہیں کرتے، اس لیے کہ تعریف بیان کرنے کا مطلب ہے، تجزیے، گرفت یا کسی قسم کی مستقل مزاجی سے وابستگی۔ یہ دہشت گردی، سرکاری مواد کی دوسری خصوصیت ہے۔

تیسری خصوصیت یہ ہے کہ تعریف کے فقدان کے باوجود سرکاری حکام، عالمی معیار کی گفتگو سے باز نہیں آتے۔چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ طاقت صرف عالمگیر نہیں ہوتی بلکہ ہمہ گیر ہوتی ہے، ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ کہاں حملہ کریں، ہمارے پاس یہ معلوم کرنے کے ذرائع ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس معلومات حاصل کرنے کے آلات بھی ہیں، ہم سب کچھ جانتے ہیں۔ شلز نے کہا:

''ہم آزدی کے لیے لڑنے والوں اور دہشت گردوں کے درمیان فرق جانتے ہیں۔ ہم چاروں طرف نظر ڈالیں تو بتا سکتے ہیں کہ کون کیا ہے؟''

5۔ سرکاری رویے سے اسباب معلوم نہیں ہوتے۔ آپ یہ نہیں جان سکتے کہ کسی کے دہشت گرد بننے کی کیا وجہ تھی؟ دہشت گرد ہم سے صرف ہمدردی کی توقع کرتے ہیں۔

6۔دہشت گردی کے خلاف اخلاقی نظریہ بڑا مختلف ہوتاہے۔ ہم ان گروہوں کو دہشت گرد گردانتے ہیں، جنہیں ہماری سرکار ناپسند کرتی ہے اور ان کی تعریف کرتے ہیں جنہیں ہمارے افسران پسند کرتے ہیں۔ لہٰذا ذرائع ابلاغ پر دہشت گردی کی وہی نظریاتی چھاپ ہوتی ہے۔ یہ نقطہ نظر دوست حکومتوں کی دہشت گردی سے بھی صرفِ نظر کرتا ہے، جس کی ذاتی طور پر میرے لیے بہت اہمیت ہے۔

بدقسمتی سے تاریخ 'طاقت' کو پہچانتی ہے، کمزوری کو نہیں۔ لہٰذا تاریخی اعتبار سے غالب گروہوں کی پہچان زیادہ آسان ہے۔ اس حصے کا میرا آخری نکتہ یہ ہے کہ امریکہ کی سرد جنگ کی پالیسی نے دہشت گردی کو مسلسل ہوا دی ہے۔ ساموزا، باتستا، یہ سب دہشت گرد امریکہ کے دوست رہے ہیں۔ یہ آپ جانتے ہیں اور اس کا سبب بھی جانتے ہیں۔ ہم اور آپ مجرم نہیں ہیں!!

سرکاری دہشت گردی نجی بھی ہو سکتی ہے، حکومت اپنے مخالفین کے قتل کے لیے بعض افراد کو معاوضے پر رکھتی ہے...سب سے زیادہ مہنگی دہشت گردی حکومت کی دہشت گردی ہے... اس کے بعد مذہبی دہشت گردی کا نمبر آتا ہے۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو بیسویں صدی میں یہ دہشت گردی نسبتاً کم ہوئی ہے... اس کے بعد بیماری کی دہشت گردی؛ ایک تحقیق کے مطابق ۵۰ فی صد دہشت گردی کسی سیاسی وجہ کے بغیر کی گئی تھی... محض جرائم اور مجرمانہ ذہن اس کے محرک بنے!

ہمارے دور کے فلسطینی دہشت گرد، جو سب سے بڑے دہشت گرد کہلاتے تھے، ۱۹۴۸ء میں ان کو وطن سے محروم کر دیا گیا۔ ۱۹۴۸ء سے ۱۹۶۸ء تک وہ دنیا کی ہر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے رہے۔ انہوں نے ہر ملک کے دَر پر دستک دی، لیکن انہیں بتایا گیا کہ ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور عرب ریڈیو کے ذریعے انہیں چلے جانے کا حکم دیاگیا، کوئی شخص سچائی سننے کو تیار نہیں تھا۔ آخر کار انہوں نے دہشت گردی کا ایک نیا طریقہ ایجاد کیا، وہ ان کا اپنا ایجاد کردہ تھا اور وہ تھا جہازوں کو اغوا کرنا۔

زیادہ تر لوگ ابھی تک اس بات پر حیرت کے صدمے میں ہیں کہ وہ اُنیس افراد، جنہوں نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاورز اور پینٹاگون کا ایک حصہ تباہ کر دیا، درمیانی طبقے کے تعلیم یافتہ اور اعلیٰ تربیت یافتہ افراد تھے۔ انہوں نے امریکہ کے مختلف حصوں میں موجود فلائٹ سکولوں سے طیارے اُڑانے کی تعلیم حاصل کی تھی۔ یہ حملہ اس قدر راز داری کے ساتھ اور غیر معمولی 'ہتھیاروں' کے ذریعے کیا گیا کہ سپر پاور کی ساری خفیہ ایجنسیاں بھی اس المیے کو روک نہ سکیں۔ یہ اغوا کنندگان کوئی اَن پڑھ، انتہائی مایوس اور ناراض نوجوان نہیں تھے، جو اپنے جسموں سے چند بم باندھ کر کسی شاپنگ مال میں داخل ہوجائیں ،جیسے کہ اور جگہ ہوا ہے۔ جو لوگ ان اُنیس افراد کو جانتے تھے، وہ ان کو 'عام'،'اوسط درجے کے' اور 'صحیح دماغ' سمجھتے تھے اور کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ وہ ایسے ہولناک کاموں کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں گے۔

پچھلے تیس سال میں سلسلہ وار قتل اور قتل انبوہ کی سب سے بڑی تعداد ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ہے۔ 'انسان کا شکار' نامی کتاب میں مصنف ایلیٹ لیٹن نے نکتہ اٹھایا ہے کہ

''تناسب کے اعتبار سے امریکہ، دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ قاتل پیدا کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان قاتلوں کے ذاتی، سیاسی اور مذہبی نظریات ہوں مگر یہ نہ تو کسی منظم سیاسی یا مذہبی جماعت کے رکن ہوتے ہیں اور نہ ان کی سرگرمیاں کسی پارٹی کے ایجنڈے کا حصہ، جیسا کہ آج کل دہشت گردوں کے ساتھ ہوتا ہے۔''

دہشت گرد دراصل تضاد کی علامت ہیں، بیک وقت کمزور بھی ہیں اور بہت طاقتور بھی۔ وہ گمنام بھی رہنا چاہتا ہے اور یہ بھی چاہتا ہے کہ اپنی برادری کی تاریخ میں ہیرو بن کر رہے...موت کی اہمیت کی پیمائش اس زندگی کی اہمیت سے کی جاتی ہے، جو ختم ہو چکی ہے۔قیمتی زندگی کو گھٹیا بنا دیا گیا۔

امریکہ او ردہشت گردی

سوویت یونین اور عالمی سوشلسٹ نظام کے زوال کے بعد امریکہ بلا شرکت غیرے، دنیا کی واحد سپر پاور بنا ہوا تھا۔ سوویت یونین کے حصے بخرے ہو جانے سے اور مشرقی یورپ کی سوشلسٹ جمہوریائوں کے ختم ہوجانے کے بعد امریکہ کو عالمی سیاست اور دہشت میں کھلا میدان ملا ہوا تھا اور اسے کسی بھی سمت میں کوئی بھی قدم اٹھانے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اس مطلق العنان اور بے لگام طاقت کا مالک بن جانے کے بعد امریکہ پالیسی ساز دنیا کے مختلف خطوں میں اپنی پالیسیوں میں توازن اور احتیاط کا مظاہرہ کرتے، جو خود ان کی اپنی بقا اور استحکام کے لیے بھی یکساں طور پر ضروری تھا، لیکن انہوں نے طاقت کے نشے میں سب کچھ بھلا دیا اور ان معروضی حقائق کو سمجھنے کی کبھی کوشش نہیں کی، جو امریکہ کو دنیا کے ایک بہت بڑے حصے میں سیاسی علیحدگی کی طرف لے جارہے تھے اور اس کے لیے ناپسندیدگی اور استرداد کے جذبات کو ہوا دے رہے تھے۔

عالمی سامراجی طاقت کی حیثیت سے امریکہ کے سیاسی اور معاشی اثر و نفوذ میں اصل اضافے کا آغاز دوسری عالمی جنگ کے بعد سے ہوا۔ یہ امریکہ ہی تھا جس نے تاریخ انسانی کی سب سے بڑی دہشت گردی کا ارتکاب کیا اور اس وقت جب کہ ناتسی اور ان کے ایشیائی اتحادی جنگ ہار رہے تھے اور ان کی فتح کے سارے راستے مسدود ہو چکے تھے، ناگا ساکی اور ہیرو شیما پر ایٹم بم مار کر لاکھوں بے گناہ جاپانی شہریوں کو، جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے، موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ساری دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ جاپان کی سر زمین پر امریکی حکام کی یہ کارروائی صرف ظالمانہ ہی نہیں، بلکہ قطعاً غیر ضروری بھی تھی، کیوں کہ ناتسی اور ان کے اتحادی میدان چھوڑ کر بھاگ رہے تھے۔

سی آئی اے کا کردار

سی آئی اے وہ امریکی ادارہ ہے جو ملک کے اندر بہت کم اور ملک کے باہر بہت زیادہ کام کرتا ہے اور اس ادارے کا بنیادی کام یہ رہا ہے کہ سامراجی مفادات کے تحفظ اور حصول کی غرض سے دنیا بھر میں بالعموم اور تیسری دنیا کے ممالک میں بالخصوص، ہر طرح کی سازشوں کے جال بچھائے جائیں۔ اگر ضروری ہو تو نا پسندیدہ حکمرانوں اور سیاسی لیڈروں کو قتل کیا جائے، ان کے خلاف مقامی تنخواہ دار ایجنسیوں کے ذریعے تحریکیں چلائی جائیں، انہیں کسی نہ کسی طور پر اقتدار سے محروم کیا جائے اور ان کی جگہ اپنے پسندیدہ اور تنخواہ دار حکمرانوں کو بدنصیب قوموں کے سروں پر مسلط کر دیا جائے۔ سوویت یونین اور عالمی سوشلسٹ نظام کے زوال کے وقت تک کی امریکی سی آئی اے کی تاریخ ایسے خوفناک اور روح فرسا واقعات سے بھری پڑی ہے۔ امریکہ نے دنیا کے ہر ملک کی قومی آزادی کی تحریک کی بھرپور مخالفت کی اور اسے ناکام بنانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ امریکی پالیسی سازوں کا سیاہ نامہ اعمال ایسے ہی واقعات سے بھرا پڑا ہے۔ سی آئی اے نے ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک کو ہمیشہ اپنی شکار گاہ سمجھا۔ تیسری دنیا کا کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں ہے جس کے بے گناہ عوام کے خون کے چھینٹے امریکی حکمرانوں کے دامن پر موجود نہ ہوں۔

۱۹۵۶ء میں جب اسرائیل کو آگے بڑھا کر برطانیہ اور فرانس نے مصر کی قوم پرست حکومت کا خاتمہ کرنے اور نہر سویز پر اپنے غاصبانہ قبضے کو برقرار رکھنے کی غرض سے مصر پر حملہ کیا تو امریکہ اس کارروائی میں حملہ آوروں کے ساتھ تھا۔

کوریا اور ویت نام میں امریکہ برسہا برس تک مقامی باشندوں کے خون کی ہولی کھیلتا رہا اور ان دونوں چھوٹے اور کمزور ممالک کی جدوجہد آزادی کے بدترین دشمن کا کردار ادا کرتا رہا۔

ٹیکنالوجی کی شکست:یہ بات ثابت ہو گئی کہ سیکورٹی کا کوئی بھی نظام ایسا نہیں ہے، جسے ناکام نہ بنایا جا سکے۔ جدید ترین ٹیکنالوجی نے جہاں انسان کو عظیم ترین تحفظ فراہم کیا ہے، وہیں اس عظیم ترین تحفظ کا توڑ بھی فراہم کیا ہے، کیوں کہ ٹیکنالوجی تو انسانی ذہن کی پیداوار اور دریافت ہے اور انسان کو اپنی تخلیق، اپنی پیداوار اور اپنی دریافت پر مکمل عبور اور غلبہ حاصل ہے۔ وہ اسے جس طرح سے چاہے، استعمال کر سکتا ہے جس طرح دنیا میں آج تک ایسی کوئی تجوری نہیں بن سکی جسے چور اور ڈاکو کھول یا توڑ نہ سکیں، کیوں کہ اگر تجوریاں بنانے والا انسانی دماغ ہوتا ہے تو وہی انسانی دماغ تجوریاں کھولنے اور توڑنے کی تکنیک بھی تلاش کر لیتا ہے۔ اسی طرح آج تک سیکورٹی کا کوئی ایسا نظام نہیں بن سکا جو صد فی صد کامیاب ہو، کیونکہ سیکورٹی کا نظام بنانے والا بھی انسان ہوتاہے اور اس میں نقب لگا کر اس کو توڑ دینے والا بھی انسان ہی ہوتاہے۔

امریکی حکومت ملک کی اندرونی سیکورٹی پر کتنی رقم خرچ کرتی ہے؟ کتنے لوگ موجود ہیں جو رات دن اس کام میں مصروف رہتے ہیں اور ان کو ریاست کے سارے وسائل پر دسترس حاصل ہوتی ہے، لیکن نتیجہ...؟ تمام تر احتیاطی تدابیر کے باوجود چار چار طیارے ایک ساتھ اغوا کر لیے جاتے ہیں، اغوا کنندگان بڑے اطمینان اور بے خوفی کے ساتھ طیاروں میں داخل ہو جاتے ہیں، وہ اپنے ساتھ تیز دھار والے ہتھیار لانے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں اور پھر ان اغوا شدہ طیاروں کو پچاس پچاس ٹن پٹرول سے بھرے ہوئے بموں کی طرح دنیا کی مضبوط ترین عمارتوں سے ٹکرا کر ہزاروں انسانوں کو مار ڈالتے ہیں۔

یہ بات ہم امریکیوں کی سمجھ میں کب آئے گی کہ جب تک ہم دنیا کو اپنے ہی مفادکی غرض سے چلاتے رہیں گے ہمیں کسی نہ کسی کے انتقام کا نشانہ ضرور بننا پڑے گا۔ جب تک ہم اپنے انداز کی دہشت گردی چلاتے رہیں گے، اس وقت تک کوئی جنگ بھی دہشت گردی ختم نہیں کر سکتی۔

امریکہ کا دوغلا کردار

ہمیں امریکہ کی حمایت کا دم بھرنے والے عرب ملکوں کے طرزِ عمل پر افسوس ہوتا ہے کیونکہ جب ان کے خلاف دہشت گردی ہوتی ہے تو وہ مغرب کو نظر نہیں آتی۔ عرب ممالک طویل عرصہ سے امریکہ اور برطانیہ سے کہہ رہے ہیں کہ دہشت گردوں کو سیاسی پناہ نہ دیں مگر مغربی جمہوریتوں نے ان کی کوئی بات نہیں مانی۔ اسامہ ان کے ملکوں میں گھومتا پھرتا رہا ہے مگر اس وقت وہ ان کا آدمی تھا۔ اس کے برعکس جب دہشت گرد مغربی ملکوں پر حملے کرتے ہیں تو عرب ملکوں کو دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی اتحاد میں شامل ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ وہ مجبوری کے تحت اتحاد میں شامل ہو جاتے ہیں، جس کا اعلان ان کا ترجمان شکایت کے لہجے میں کرتے ہوئے کہتا ہے... ''لیکن افغانستان میں حکومت سے کون تعاون کرتا ہے؟''

دہشت گردی کے خلاف جنگ نفرت کی آگ کو مزید بھڑکائے گی کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عراق، فلسطینی عوام اور دنیا بھر میں ظلم و تشدد اور جبر و استحصال کے شکار لوگ، امریکہ کی نظروں سے اوجھل ہیں۔

٭ یہ بات بہت جلدی بھلا دی جاتی ہے کہ اسامہ بن لادن کو تربیت دینے والے اور ہتھیار فراہم کرنیوالے امریکی ہی تھے، جو اب اس بات کا کھلے بندوں اعتراف کرتے ہیں کہ وہ افغانستان کو استعمال کر رہے تھے تا کہ سوویت روس کے استحکام کو نقصان پہنچا سکیں اور وہ یہ کام افغانستان پر روسی حملے سے بھی پہلے سے کر رہے تھے۔ کتنے لوگ اس کھیل میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں؟ جسے سابق صدر کارٹر کے مشیر زبگنیو برزینسگی نے 'شطرنج کی بساطِ عظیم' قرار دیا تھا اور کتنے ہی دہشت گرد ہیں؛ ایشامیں، بر اعظم وسطی امریکہ میں بلقان ریاستوں میں اور مشرقِ وسطیٰ میں جو 'آزاد دنیا' کے استعمال کے بعد کھلے چھٹے پھر رہے ہیں۔

٭ جرمن سائنس دان ورنر وان برائون 'شر'تھا جب اس نے وی ٹو راکٹ ایجاد کیے، جو ہٹلر نے لندن پر برسا دیے، مگر اس دن مجسمہ خیر میں تبدیل ہو گیا، جب اس نے اپنی مہارت امریکہ کی خدمت میں پیش کر دیں۔

٭ صدام حسین خیر تھے اور ان کے کیمیائی ہتھیار بھی اچھے، جو وہ ایرانیوں اور کردوں کے خلاف استعمال کر رہے تھے۔ پھر وہ شر بن گئے، ان کو 'شیطان' بھی کہا گیا۔ جب امریکہ نے، جس نے ابھی پانامہ پر حملہ کیا ہی تھا، عراق پر دھاوا بول دیا، اس لیے کہ عراق نے کویت پر حملہ کیا تھا۔ والد بزرگوار بش، شر کے خلاف اس جنگ کے ذمہ دار تھے۔ جو انسانی اور ہمدردانہ جذبہ ان کے اس خاندان سے مخصوص ہے، اس سے کام لیتے ہوئے انہوں نے ایک لاکھ سے زیادہ عراقیوں کوہلاک کر ڈالا، جن کی غالب اکثریت شہریوں کی تھی۔

'شیطان' جہاں تھا، اب بھی وہیں ہے، مگر انسانیت کا یہ اوّل نمبر دشمن اب پیچھے چلا گیا ہے اور دشمن نمبر دو کے درجے پر پہنچ گیا ہے۔ دنیا کے آزار کا نام اب اسامہ بن لادن ہے۔ وہ دہشت گردی کے بارے میں جو کچھ جانتا ہے، اسے سی آئی اے نے سکھایا ہے۔ بن لادن، جس سے امریکہ نے محبت کی اور مسلح کیا، افغانستان میں کمیونزم کے خلاف 'آزادی کے مجاہدین' میں سے تھا۔ والد بزرگوار بش اس وقت نائب صدر تھے، جب صدر ریگن نے کہا تھا کہ یہ ہیرو ''امریکہ کے بنیاد گزار آبائو اجداد کا اخلاقی نعم البدل ہیں۔'' وہاٹ ہائوس کی اس رائے سے ہالی وڈ کو بھی اتفاق تھا، ان دنوں 'ریمبو 3' کی فلم بندی ہو رہی تھی، افغان مسلمان خیر تھے، پسر بش کے عہد میں... محض تیرہ سال بعد، اب وہ بدترین شر بن گئے ہیں!!

ہنری کسنجر ان پہلے لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اس المیے پر یہ کہہ کر ردّ عمل ظاہر کیا کہ ''دہشت گردوں جتنے ہی مجرم وہ لوگ بھی ہیں جو انہیں تعاون، معاشی امداد اور محرک فراہم کرتے ہیں۔'' انہوں نے اُن الفاظ میں اعلان کیا، جو صدر بش نے چند گھنٹوں بعد دہرا دیے۔ اگر یہ بات درست ہے تو سب سے پہلے جس پر بم پڑنا چاہیے، وہ کسنجر خود ہیں۔ وہ جتنے جرائم کے گناہ گار ہیں، ان کی تعداد بن لادن اور باقی دنیا کے دہشت گردوں سے کہیں زیادہ ہے اور بہت زیادہ ملکوں میں کئی امریکی حکومتوں کے لیے کام کرتے ہوئے انہوں نے'تعاون، معاشی امداد اور محرک' فراہم کیا۔ اس ریاستی دہشت گردی کے لیے جو انڈونیشیا، کمبوڈیا، قبرص، ایران، جنوبی افریقہ، بنگلا دیش میں برپا ہوئی اور جنوبی امریکی بر اعظم کے ان ملکوں میں بھی جو 'پلان کونڈور' کی غلیظ جنگ کا نشا نہ بنے!!

دہشت گرد ی کی مختلف صورتیں

دہشت گردی کی مختلف صورتوں کے درمیان بہت مماثلت ہے...... دستکاری والی دہشت گردی اور اعلیٰ ترین ٹیکنولوجیکل سطح کی دہشت گردی، مذہبی کٹر پنتھیوں کی دہشت گردی اور مارکیٹ کے کٹر پنتھی، بے یار و مددگار لوگوں کی دہشت گردی اور طاقتور لوگوں کی دہشت گردی، پاگل جنونیوں کی دہشت گردی اور وردی پوش پیشہ وروں کی دہشت گردی۔ ان سب میں قدرِ مشترک انسانی زندگی کے لیے حقارت ہے۔ ہزاروں شہریوں کا قتل جو ٹریڈ سینٹر کے ٹوئن ٹاورز کے ملبے تلے دَب کر مارے گئے، جب وہ ریت کے محل کی طرح ڈھیر ہو گئے اور گواٹے مالا کے دو لاکھ باشندوں کا قتل، جس کی اکثریت 'دیسی' تھی، جو جل کر بجھ گئے اور دنیا کے کسی ٹی وی یا اخبار نے ان کی طرف توجہ نہ کی۔ گواٹے مالا کے ان لوگوں کو کسی انتہا پسند مسلمان نے موت کے گھاٹ نہیں اتارا تھا بلکہ ان دہشت گرد سپاہیوں کے ہاتھوں وہ موت کے گھاٹ اُترے تھے جن کو امریکہ کی ایک حکومت کے بعد دوسری حکومت سے 'تعاون، معاشی امداد اورمحرک' حاصل ہوا۔

بن لادن کی ملک بدری سے متعلق امریکی مطالبات پر طالبان کا ردّ عمل اتنا معقول رہا ہے

کہ وہ خود طالبان کے کردار اور رویے سے لگّا نہیں کھاتا۔ انہوں نے کہا ہے کہ

ثبوت لائیں، تب ہم اسے آپ کے حوالے کر دیں گے! ''

وہ ان کئی وجوہات میںسے ایک کاتذکرہ بھی کرتی ہیں جن کے باعث متذکرہ فریم ورک واشنگٹن کے لیے قابل قبول نہیں۔ فرض کریں کہ ایران، کارٹر اور ریگن انتظامیہ کے اعلیٰ سطح کے افسران کی ملک بدری کا مطالبہ کرتا اور ان جرائم کے ثبوت پیش کرنے سے انکار کر دیتا، جن کا الزام وہ ان پر دھرنے جا رہا تھا اور ان کے جرائم چاہے واقعی ایک حقیقت ہوتے۔ یا فرض کریں کہ نکاراگوا اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ کرتا، جسے اب 'دہشت گردی کے خلاف جنگ' کی قیادت کرنے کے لیے تعینات کر دیا گیا ہے۔ ایک ایسا شخص جس کا ریکارڈ یہ ہے کہ اس نے ہنڈوراس کی صحیح معنوں میں ایک جاگیر کے مشیر اعلیٰ کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں اور جہاں وہ ان ریاستی دہشت گردوں کے مظالم سے یقینا آگاہ تھا، جن کی وہ پشت پناہی کر رہا تھا اور جو اس دہشت گردانہ جنگ کے اُمور کی بھی دیکھ بھال کر رہا تھا، جس کے لیے عالمی عدالت اور سلامتی کونسل نے امریکہ کی مذمت کی (ایک ایسی قرار داد میں جسے امریکہ نے ویٹو کر دیا) اور اس طرح کی گئی دوسری مثالیں ہیں۔ کیا امریکہ خواب میں بھی ان مطالبات کاجواب دینے کا سوچ سکتا ہے جبکہ کوئی ثبوت بھی پیش نہ کیا گیا ہو یا اگر کافی ثبوت پیش کر بھی دئیے گئے ہوں۔

گزشتہ ۵۰۰ سال میں کیا ہوتا رہا؟ یورپ اور اس کے بغل بچہ شمالی امریکہ اور بحر الکاہل کے ممالک باقی دنیا کو سینکڑوں برس سے فتح کرتے چلے آرہے ہیں اور وہ بھی کسی خوشگوار طریقے سے نہیں۔ ان برسوں میں کانگو نے بلجیم کے ایک کروڑ افراد کو قتل نہیں کیا، معاملہ اس کے اُلٹ تھا۔ ہندوستان نے انگلستان پر حملہ نہیں کیا، الجزائر نے فرانس پر چڑھائی نہیں کی۔ جب ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے فلپائن فتح کیا تو امریکیوں نے سینکڑوں ہزاروںافراد قتل کر دیے مگرفلپائن نے امریکہ پر دھاوا نہیں بولا۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی قومی سرزمین (میں 'قومی سرزمین' کی بات کر رہا ہوں، جاپان نے تو اس کی دونوں آبادیوں پر بمباری کی تھی) ۱۸۱۲ء کی جنگ کے بعد سے کبھی خطرے کا شکار نہیں ہوئی، جب برطانیہ نے واشنگٹن کو جلا کر راکھ کر دیا تھا۔ یورپ میں بھی قاتلانہ جنگیں ہوتی رہی ہیں، لیکن یہ یورپی خود تھے جو ایک دوسرے کو حیران کن رفتار سے ذبح کرتے رہے۔ سترہویں صدی کی ایک جنگ میں جرمنی کی ایک تہائی آبادی ہلاک کر دی گئی تھی اور بیسیویں صدی کے بارے میں توکچھ بتانے کی ضرورت ہی نہیں۔ لیکن ہوتا یہی رہا کہ بندوقیں ہمیشہ ہم سے دوسری طرف ہی رخ کیے رہیں۔ اب پہلی مرتبہ اتنی قابل ذکر سطح پریہ ہوا ہے کہ بندوقوں کارخ ہماری طرف ہے، اس لیے صدمے کی بات تو یہ ہے اور اسی باعث ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم ہیں کون اور ہم نے کیا کیا ہے!!

فرض کریں آپ امریکہ کے کسی صدر کو انصاف تک پہنچانے کے لیے عدالتی کارروائی کی بات کریں، وہ بھی تو ہولناک دہشت گردانہ اقدامات کے مجرم ہیں۔ اس سب کا ایک رستہ موجود ہے، اس سلسلے میں نظائر موجود ہیں۔ ۸۰ء کی دہائی میں نکاراگوا، امریکہ کے ایک پرتشدد حملے کا نشانہ بنا، جس میں لاکھوں ہزار لوگ مارے گئے۔ ملک کافی حد تک تباہ کر دیا گیا اور ہو سکتا ہے کہ اب اس کے اثرات سے کبھی نہ نکل سکے۔ اس ملک پر اس حملے کے جو اثرات ہوئے وہ اگلے روز نیویارک میں پیش آنے والے سانحوں سے شدت میںکہیں بڑھ کر تھے۔ نکارا گوا والوں نے واشنگٹن میں بم دھماکے کرا کے جواب نہیں دیا، وہ عالمی عدالت گئے، جس نے انکے حق میں فیصلہ دیااور امریکی مداخلت کو 'طاقت کا غیر قانونی استعمال' قرار دے کر اسکی مذمت کی۔ 'طاقت کا غیر قانونی استعمال' کا مطلب ہے بین الاقوامی دہشت گردی۔ عدالت نے امریکہ کو آئندہ اس عمل سے باز رہنے اور کافی تعداد میں زرِ تلافی ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔

اقوام متحدہ سے، جو اب اپنی اہمیت کھو کر محض ایک بے اثر مخفف رہ گئی ہے، ان ہوائی حملوں کی رسمی اجازت لینے تک کا تکلف نہیں کیا گیا۔ (جیسا کہ میڈلین البرائٹ نے ایک بار کہا تھا ''امریکہ کے لیے جب ممکن ہوتا ہے تو وہ سب کے ساتھ مل کر کار روائی کرتا ہے اور جب وہ ضروری سمجھتا ہے تو تن تنہا کارروائی کرتا ہے۔'') دہشت گردوں کے خلاف 'شہادتوں' کو اتحاد میں شامل دوست ملکوں کو دکھایا گیا۔ ان دوست ملکوں نے ایک دوسرے سے مشورہ کرنے کے بعد اعلان کیا کہ اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ یہ شہادتیں کسی عدالت کے لیے قابل قبول ہوں گی یا نہیں؟ اس طرح صدیوں کے عرصے میں وضع کیے جانے والے عدالتی طریق کار کو لمحے بھر میں کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا گیا۔

افغانستان پر بمباری واشنگٹن اور نیویارک میں ہونے والے واقعات کا بدلہ نہیں ہے، یہ دنیا کے لوگوں کے خلاف کی جانے والی دہشت گردی کی ایک اور کارروائی ہے۔ ہلاک کیے جانے والے ایک ایک فرد کو واشنگٹن اور نیویارک میں مارے جانے والوں کی مجموعی تعداد میں شامل کیا جانا چاہیے۔

امریکہ ... ایک خونخوار ریاست

دوسری جنگ عظیم کے بعد کے عرصے میں امریکہ نے جن ملکوں سے جنگ کی اور جن پر بمباری کی، ان کی فہرست یہ ہے:

چین (۴۶؍۱۹۴۵ء، ۵۳؍۱۹۵۰ء)، کوریا (۵۳-۱۹۵۰ء)، گوانٹے مالا (۱۹۵۴ء، ۴۹-۱۹۶۷ء)، انڈونیشیا (۱۹۵۸ء)، کیوبا (۶۰-۱۹۵۹ء)، بلجین کانگو (۱۹۶۴ء)، پیرو (۱۹۶۵ء)، لائوس (۷۳-۱۹۶۴ء)، ویت نام (۷۳-۱۹۶۱ء)، کمبوڈیا (۷۰-۱۹۶۹ء)، گریناڈا (۱۹۸۳ء)، لیبیا (۱۹۸۶ء)، ایل سلواڈور (۱۹۸۰ء کا پورا عشرہ)، نکارا گوا (۱۹۸۰ء کا پورا عشرہ)، پانامہ (۱۹۸۹ئ)، عراق (۹۹-۱۹۹۱ء)، بوسنیا (۱۹۹۵ء)، سوڈان (۱۹۹۸ء)، یوگوسلاویہ (۱۹۹۸ء) اور اب افغانستان(۲۰۰۲ء)...!

یقینا دنیا کا یہ آزاد ترین ملک تھکنے کا نام نہیں لیتا۔ لیکن وہ کس قسم کی آزادی ہے جس کا پرچم یہ ملک بلند کر رہا ہے؟ اپنی سرحدوں کے اندر فکر، مذہب اور اظہار کی آزادی، تخلیقی اظہار، غذائی عادات اور (کسی حد تک) جنسی ترجیحات کی آزادی اور ا س کے علاوہ بھی کچھ نہایت شان دار اور مثالی چیزوں کی آزادی۔ لیکن اپنی سرحدوں کے باہر تسلط قائم کرنے، تذلیل کرنے اور غلام بنانے کی آزادی... جو عموماً امریکہ کے اصل مذہب یعنی 'آزاد تجارت' کے فروغ کے لیے ہے۔ اس لیے امریکہ جب اپنی کسی نئی جنگ کو لامتناہی انصاف یا پائیدار آزادی کا نام دیتا ہے تو ہم تیسری دنیا کے لوگ خوف سے لرز اٹھتے ہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ کچھ لوگوں کے لیے لامتناہی انصاف کا مطلب کچھ دوسرے لوگوں کے ساتھ لامحدود ناانصافی ہو گا اور جو شے کچھ لوگوں کے لیے پائیدار آزادی ہے، وہ دوسروں کیلئے پائیدار غلامی ثابت ہو گی۔

دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد، دراصل دنیا کے امیر ترین ملکوں کا گٹھ جوڑ ہے۔ دنیا کا تقریباً تمام اسلحہ یہی ملک تیار اور فروخت کرتے ہیں۔ دنیا میں بڑے پیمانے پر ہلاکت پھیلانے والے... کیمیائی، حیاتیاتی اور ایٹمی ہتھیاروں کے سب سے بڑے ذخیرے ان ہی ملکوں کے پاس ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ جنگیں ان ہی ملکوں نے لڑی ہیں۔ یہی جدید تاریخ میں نسل کشی ، غلامی ، نسلی تطہیر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بیشتر واقعات کے ذمہ دار ہیں اور انہوں نے بے شمار آمروں اور مطلق العنان حکمرانوں کو حمایت،مالی تعاون اور اسلحے کی مدد فراہم کی ہے۔ ان ملکوں نے تشدد کے عمل کی پرستش کر کے اسے تقریباً اُلوہی درجہ بخش دیا ہے۔ طالبان اپنے تمام تر گناہوں کے با وجود اس گروہ میں شامل ہونے کی اہلیت نہیں رکھتے۔

بیس برس کے عرصے میں سوویت یونین اور امریکہ نے مل کر ۴۵ بلین ڈالر کی مالیت کا اسلحہ افغانستان میں جھونکا ہے۔ قرونِ وسطیٰ کے اس معاشرے میں جدید دور کی اگر کوئی شئے پہنچی ہے تو وہ یہی جدید ترین اسلحہ ہے۔ذرا اس منظر نامے کو اُلٹ کر دیکھنے کی کوشش کیجئے، تصور کیجئے کہ طالبان حکومت نیویارک شہر پر بمباری کرتی ہے، متواتر یہ بات کہتے ہوئے کہ اس کا اصل ہدف امریکی حکومت اور اس کی پالیسیاں ہیں اور فرض کیجئے بمباری کے درمیانی وقفوں میں طالبان، افغان پرچم سے سجے ہوئے غذائی پیکٹ گراتے ہیں، جن میں نان اور کباب موجود ہیں۔ کیا نیویارک کے بھلے لوگ اس بات پر کبھی افغان حکومت کو معاف کر سکیں گے؟ خواہ وہ کتنے ہی بھوکے ہوں، خواہ وہ اسے کھانے پر مجبور ہی کیوں نہ ہو جائیں۔ وہ اس توہین، اس ذلت کو کس طرح فراموش کر سکیں گے؟ نیویارک کے میئر روڈی جیولیانی نے ایک سعودی شہزادے کی طرف سے بھیجا جانے والا ایک کروڑ ڈالر کی امدادی رقم کا چیک لوٹا دیا... کیوں کہ اس کے ساتھ مشرقِ وسطی میں امریکی پالیسی کی بابت ایک دوستانہ مشورہ بھی منسلک تھا۔ کیا خود داری ایک ایسی عیاشی ہے، جو صرف دولت مندوں کے لیے مخصوص ہے...؟

طیش کو مٹانے کے بجائے بھڑکانے کی یہی کوششیں ہیں جو دہشت گردی کو پیدا کرتی ہیں۔ نفرت اور انتقام ایک ساتھ باہر آجائیں تو پھر واپس جا کر اپنے صندوق میں بند ہونے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہر 'دہشت گرد' یا اس کے 'حامی' کے ہلاک ہونے کے نتیجے میں اس بات کا خاصا امکان موجود ہے کہ اس کی جگہ مستقبل میں کئی دہشت گرد پیدا ہوں گے۔

ایک لمحہ کے لئے اس حقیقت پر غور کیجئے کہ دنیا ابھی تک 'دہشت گردی' کی کوئی قابل قبول تعریف متعین نہیں کر سکی ہے۔ جو شخص ایک ملک کے لیے دہشت گرد ہے، وہ دوسرے ملک کے نزدیک مجاہد آزادی ہے۔ اس پورے معاملے کی تہہ میں تشدد کی بابت دنیا کا دوہرا رویہ کار فرما ہے۔ ایک بار تشدد کو جائز سیاسی حربے کے طور پر تسلیم کر لینے کے بعد دہشت گردوں (باغیوں یا آزادی کے مجاہدوں) کے اخلاقی اور سیاسی طور پر قابل قبول ہونے کی بات ایک دشواراور اوبڑ کھابڑ رستے پر سفر کے مترادف ہو جاتی ہے۔ امریکی حکومت نے دنیا کے مختلف خطوں میں بڑی تعداد میں باغیوں اور شر پسندوں کو رقم، ہتھیار اور پناہ فراہم کی ہے۔ سی آئی اے اور پاکستانی آئی ایس آئی نے مجاہدین کو تربیت اور اسلحے سے لیس کیا، جنہیں ۱۹۸۰ء کے عشرے میں سوویت مقبوضہ افغانستان کی حکومت 'دہشت گرد' تصور کرتی تھی۔ صدر ریگن نے ان کے ساتھ گروپ فوٹو بنوایا تھا اور انہیں امریکہ کے بنیاد گزار رہنمائوں کے مساوی قرار دیا تھا۔

افغانستان پر امریکی یلغار ... حقیقت کیا ہے؟

کار لائل گروپ دفاعی شعبے میں سرمایہ کاری کرتا ہے اور فوجی تنازعات اور اسلحے پر کیے جانے والے اخرجات کے ذریعے منافع کماتا ہے۔ جس کے زیر انتظام ۱۲؍بلین ڈالر کا سرمایہ ہے۔

یاد رکھیے، صدر جارج بش (جونیئر) اور نائب صدر ڈَک چینی دونوں نے اپنی دولت امریکی تیل کی صنعت میں کام کر کے کمائی ہے۔ ترکمانستان میں، جو افغانستان کی شمال مغربی سرحد پر واقع ہے، دنیا کے تیسرے سب سے بڑے گیس کے ذخیرے اور تیل کے چھ ارب بیرل کے ذخیرے موجود ہیں۔ گیس اور تیل کے یہ ذخائر، ماہرین کے کہنے کے مطابق، امریکہ کی توانائی کی ضروریات کو اگلے تیس سال تک (اور کسی ترقی پذیر ملک کی ضروریات کو کئی صدیوں تک) پورا کر سکتے ہیں۔ امریکہ نے تیل کو ہمیشہ اپنے سلامتی کے معاملات میں شامل کیا ہے اور اس کی حفاظت کے لیے ہر قسم کے اقدامات کو جائز سمجھا ہے۔ ہم میں سے کم ہی لوگوں کو اس بات پر شبہ ہو گا کہ خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ کی فوجی موجودگی کا تعلق انسانی حقوق کی بابت اس کی تشویش سے بہت کم اور تقریباً مکمل طور پر تیل کے شعبے میں اس کے اسٹرٹیجک مفاد سے ہے۔

اسٹرٹیجک، فوجی اور اقتصادی وجوہ سے یہ امریکی حکومت کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ اپنے عوام کو یہ باور کرائے کہ آزادی، جمہوریت اور امریکی طرزِ زندگی سے ان کی وابستگی خطرے کی زد میں ہے۔ صدمے، غم اور غصے کے موجودہ ماحول میں اس تصور کو مقبول بنانا آسان کام ہے۔ تاہم، اگر یہ تصور حقیقت پر مبنی ہوتا تو بات سمجھنا سخت دشوار ہے کہ حملے کے لیے امریکہ کی اقتصادی اور فوجی بالادستی کی علامات، یعنی ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون، کو کیوں منتخب کیا گیا، ان کے بجائے مجسمہ آزادی پر حملہ کیوں نہ کیا گیا؟ کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ حملے کا محرک امریکی آزادی اور جمہوریت نہیں بلکہ وہ تاریخی حقائق ہوں جن کی رو سے امریکہ نے ہمیشہ (امریکہ سے باہر) آزادی اور جمہوریت کے عین ضد... یعنی فوجی اور معاشی دہشت گردی، انتشار، فوجی آمریت، مذہبی شدت پسندی اور ناقابل تصور نسل کشی... کی عملی طور پر حمایت کی ہے؟... امریکی عوام کے لیے، جو ابھی ابھی اتنے بڑے صدمے سے دوچار ہوئے ہیں، بلاشبہ اس بات کا سامنا کرنا بہت دشوار ہے کہ وہ اپنی آنسو بھری آنکھیں دنیا کی طرف اُٹھائیں اور انہیں دنیا کی آنکھوں میں بے اعتنائی دکھائی دے۔ یہ بے اعتنائی نہیں ہے، یہ محض تعجب کی غیر موجودگی ہے۔ اس بات کا گھسا پٹا شعور ہے کہ جو کچھ دوسروں کے ساتھ کیا جاتا ہے، وہ بالآخر اپنے ساتھ بھی پیش آتا ہے۔ امریکی عوام کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ نفرت کا ہدف وہ نہیں بلکہ ان کی حکومت کی پالیسیاں ہیں۔ ان کو اس بات پر ذرا بھی شبہ نہیں ہو سکتا کہ ان کے غیر معمولی موسیقاروں، ادیبوں، اداکاروں، ان کے شان دار کھلاڑیوں اور ان کی فلموں کو دنیا بھر میں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔ ۱۱؍ستمبر کے حملوں کے بعد ان کے آگ بجھانے والوں، جان بچانے والوں اور عام سرکاری اہلکاروں نے جس حوصلے اور وقار کے ساتھ اپنے فرض انجام دئیے، اس سے ہم سب متاثر ہوئے ہیں!!

۱۹۹۶ء میں میڈلین البرائٹ سے، جو اس وقت امریکی وزیر خارجہ تھی، قومی ٹیلی ویژن پر یہ سوال کیا گیا تھا کہ جو پانچ لاکھ عراقی بچے امریکہ کی جانب سے لگائی گئی اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں، ان کے بارے میں وہ کیا محسوس کرتی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ یہ ایک بے حد دشوار انتخاب ہے لیکن ساری چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے، اس کا خیال ہے کہ یہ امریکی مقاصد کے حصول کی مناسب قیمت ہے۔ یہ جواب دینے پر البرائٹ کو اس کی ملازمت سے برطرف نہیں کیا گیا۔ وہ امریکی حکومت کے خیالات اور احساسات کی نمائندگی کرتے ہوئے بدستور دنیا بھر کے دورے کرتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ عراق پر لگائی گئی پابندیاں بدستور برقرار ہیں، بچے اب بھی ہلاک ہو رہے ہیں!!

امریکی حکومت کے لیے یہ سوچنا بھی انتہائی لغوبات ہے کہ وہ تشدد اور جبر میں اضافہ کر کے دنیا سے دہشت گردی کو ختم کر سکتی ہے۔ دہشت گردی صرف علامت ہے،مرض نہیں۔ دہشت گردی کا کوئی ملک نہیں ہے۔ وہ کوک، پیپسی اور نائیک کی طرح ایک بین الاقوامی، گلوبل کاروبار ہے۔ گڑ بڑ کا ذرا سا اشارہ ملنے پر دہشت گرد اپنا کاروبار سمیٹ کر اپنی فیکٹریوں کو کسی دوسرے ملک میں منتقل کر سکتے ہیں۔ بالکل ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کی طرح...!!

حال ہی میں کسی نے کہا تھا کہ اگر اسامہ بن لادن کا وجود نہ ہوتا تو امریکہ کو اسے ایجاد کرنا پڑتا۔ لیکن ایک طرح سے اسے امریکہ نے ہی ایجاد کیا ہے۔ وہ ان جہادیوں میں سے ہے جو ۱۹۷۹ء میں افغانستان میں سی آئی اے کا آپریشن ہونے کے کچھ عرصے بعد وہاں پہنچے تھے۔ بن لادن کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اسے سی آئی اے نے پیدا کیا اور اب وہ ایف بی آئی کو مطلوب ہے۔

لیکن در حقیقت اسامہ بن لادن کون ہے؟ بلکہ مجھے سوال دوسرے طریقے سے پوچھنا چاہیے، درحقیقت اسامہ بن لادن کیا ہے؟ یہ امریکہ کا خاندانی راز ہے، یہ امریکی صدر کا خفیہ ہمزاد ہے، ان تمام چیزوں کا وحشی توام جو تہذیب یافتہ اور خوب صورت ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ دنیا کو امریکی خارجہ پالیسیوں نے...گن بوٹ ڈپلومیسی، ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے، پوری دنیا پر تسلط کے بھونڈے پن سے ظاہر کیے ہوئے عزائم، غیر امریکی لوگوں کی جانوں سے پُرتحقیر بے نیازی، امریکہ کی وحشیانہ فوجی مداخلتوں، آمرانہ اور ظالم حکومتوں کو ملنے والی امریکی حمایت اور غریب ملکوں کی معیشت پر ٹڈی دل کی طرح حملہ کرنے والے بے رحم امریکی ایجنڈے نے... دنیا کو جس فالتو پسلی کی بے مصرف حیثیت بخش دی ہے، اسامہ بن لادن کو اسی فالتو پسلی سے تخلیق کیا گیا ہے۔

جنگی نعرے، قوم پرستانہ تقریریں اور تیز و تند طوفانی حملے، اکثر اپنا اُلٹ ہی رخ اختیار کرتے ہیں۔ افہام اور تفہیم میں اضافے کے بجائے، مغرب کے کئی حالیہ اقدامات، رویے اور پالیسیاں بڑی تیزی کے ساتھ دنیا کو امن سے دور لیے جار ہی ہیں۔ ان میں ویز ا کی وہ پابندیاں بھی شامل ہیں جو مغربی یورپ کے کئی ممالک نے یورپی اتحاد سے باہر کے ملکوں پر عائد کر دی ہیں۔ قانون میں سختی کے وہ اقدامات بھی جو مسلمانوں اور غریب اقوام کے باشندوں کی نقل و حمل کو روک دیں گے۔ اسلام اور ہر غیر مغربی چیز کی بابت شکوک و شبہات، جارحانہ اور سوقیانہ زبان، جو پوری کی پوری اسلامی تہذیب کو دہشت اور مذہبی جنون کا علمبردار سمجھتی ہے۔ استنبول کے ایک فلاکت مارے بوڑھے کو کیاچیز ایک لمحے کے غصے میں نیو یارک پر دہشت گردی کے حملے کی توثیق پر اکساتی ہے یا اسرائیلی جارحیت سے بیزار آ جانے والے ایک فلسطینی نوجوان کو ان طالبان کی مدح پر مائل کرتی ہے، جو عورتوں پر تیزاب اس لیے پھینک دیتے ہیں کہ وہ چہرہ کھلا رکھتی ہیں۔ یہ اسلام نہیں ہے، جسے احمقانہ طور پر مشرق اور مغرب کے درمیان تصادم قرار دیا گیا ہے، نہ یہ غربت ہے۔ یہ بیچارگی کا وہ احساس ہے جس کا خمیر ذلت اور بربادی سے اُٹھتا ہے، اپنی بات سمجھا سکنے اور دوسروں تک اپنی آواز پہچانے میں ناکامی سے اٹھتا ہے۔

تیل کی جنگ

مذاہب کے بیک وقت سیاسی، معاشی، سماجی اور تہذیبی نظریات ہوتے ہیں، جن کو ان کی روحانی جہات سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ جسم اور روح کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا اور کسی بھی ملک میں سیاست کو مذہب سے کاٹ کر علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ پچھلے چند ہفتوں میں یہ حقیقت جس طرح آشکار ہوئی ہے، وہ کسی اندھے کو بھی نظر آ سکتی ہے۔ بش ، بلیر، بن لادن اور پوپ، ایک ہی زبان بول رہے ہیں۔ یہ سب خدا کا نام لے رہے ہیں اور تیل کے بارے میں سوچ رہے ہیں!!

افغانستان سے جنگ شروع کرتے ہوئے صدر بش کی تقریر سے مذہب برس رہا تھا، وہ 'بدی' اور شیطان (بن لادن) سے جنگ شروع کر رہے تھے، جس کا مقصد ابدی انصاف کا حصول تھا۔ گیارہ برس قبل ان کے والد، بڑے بش نے اس وقت کے 'ابلیس' صدام حسین کے خلاف خلیج میں 'نیکی' کی جنگ لڑی تھی اور پوپ کے دورۂ ازبکستان کو بھی نہ بھولیے، کیسپین کے خطے میں وہ دوسرے ممالک بھی گئے، افغانستان پر حملے کے لیے روحانی راستہ ہموار کرنا تھا، جس کے بعد اسے خطے کے وافر تیل کے ذخائر پر اختیار قائم ہو گا۔

ہمارے خطوں میں خدا کا نام جنگ کے اصل سبب کو چھپانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ اصل سبب تیل ہے۔ افریقہ میں 'خدا' کا لفظ ہیروں کی پردہ پوشی کرتا ہے۔ بڑے بش نے خلیج میں تیل کی جنگ کویت کو 'ابلیس' سے آزاد کرانے کی جنگ کا نام دیا، چھوٹے بش افغانستان میں تیل کی جنگ کو 'دہشت گردی کے خلاف جنگ' اور 'عورتوں کو شیطان سے نجات دلانے کی جنگ' کا نام دے رہے ہیں، لیکن امریکہ کی تیل کی پالیسیاں چھپائی نہیں جا سکتیں۔

سوویت یونین کے زوال کے بعد ترکی سے لے کر چین تک درمیان پڑنے والے ممالک حریصانہ شکاری نگاہوں کی زد میں ہیں۔ امریکہ کو اگر واحدبالاتر عالمی قوت بنے رہنا ہے تو عرب خطوں اور کیسپین خطوں کے توانائی کے ذرائع پر قبضہ تو کرنا ہی پڑے گا۔ کیسپین کے ذخائر پر قبضہ کر کے عرب ذخائر کا نعم البدل بھی مل سکتا ہے۔ ہمارے خطے میں جب سے تیل دریافت ہوا ہے، خدا کا نام تیل کے لیے ہی استعمال ہو رہا ہے۔ مابعد جدیدیت دور کے لوگوں نے خدا کی جگہ تہذیب اور ثقافت کو دی تھی، اسی لیے 'تہذیبوں کے تصادم' کے نظریے نے جنم لیا۔ یاد کیجیے کہ 'خدا' دراصل 'تیل' کی جگہ استعمال ہو رہا ہے۔ چوں کہ تیل عرب میں تھا، لہٰذا اسلام اور مغرب میں تہذیبی تصادم تو ہونا ہی تھا۔

۱۹۳۲ء میں کویت، بحرین اور سعودی عرب میں تیل دریافت ہونے کے بعد سے تیل کے حصول کی یہ کشمکش جاری ہے۔ امریکہ اور سابق سوویت یونین کے مابین کشمکش کایہ اہم حصہ تھا۔ یہ کوئی تہذیبوں کا تصادم نہیں تھا۔ ۱۹۴۸ء میں امریکہ اور برطانیہ نے تیل پر اختیار قائم رکھنے کے لیے اسرائیل کی ریاست کے قیام میں مدد دی۔ مصر، ایران، شام،عراق اور سعودی عرب میں تیل پر امریکی اختیار کی ہر مزاحمت کو ختم کرنے کیلئے، سی آئی اے سرگرم رہی۔ شام میں ۱۹۴۹ء کا اور ایران میں ۱۹۵۳ء کے انقلابات یاد کیجیے، اسکے بعد ۱۹۶۲ء اور ۱۹۷۳ء کی جنگیں ہوئی۔ ان جنگوں میں میرے گائوں کے کتنے جوان مارے گئے تھے؟ مگر اتنے برس میں ایک بار بھی میں نے جنگ کے سبب کیلئے 'تیل' کا لفظ نہیں سنا، صرف خدا کا نام سنا۔

بش، افغانستان میں ریڈ کراس اور شہریوں پر بم برساتے ہیں اور کروڑوں مسلمان انہیں دہشت گرد سمجھتے ہیں۔ بن لادن، ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر حملہ کرتے ہیں اور مسلمان انہیں مجاہد آزادی قرار دیتے ہیں۔ مہذب امریکی، جیسے سینیٹر جرمی ہیل مز، مجوزہ بین الاقوامی ٹریبونل کو اس شرط پر قبول کرنے کو تیار ہیں کہ امریکہ اس کے دائرئہ اختیار میں شامل نہ ہو۔ میڈلن البرائٹ جیسی مہذب خواتین کے خیال میں ہر ماہ پانچ ہزار عراقی بچوں کی موت، امریکی عیسائی اقدار اور تیل کے تحفظ کے لیے قابل قبول ہیں۔

حسب ِمعمول ہمیں بتایا گیا کہ افغانی ہمارے دشمن نہیں ہیں، یہی ہم نے اس وقت کہا تھا جب ۱۹۹۱ء میں عراق پر بمباری کی تھی اور یہی ہم نے اس وقت کہا تھاجب ۱۹۸۵ء میں لیبیا پر بمباری کی تھی اور یہی امریکیوں نے اس وقت کہا تھا جب انہوں نے ۱۹۸۲ء میں لبنان پر گولہ باری کی تھی اور یہی فی الحقیقت ہم نے مصریوں سے کہا تھا جب ہم نے ۱۹۵۶ء میں نہر سوئز کی وجہ سے ان پر بمباری کی تھی۔ مگر کیا اسلامی دنیایہ مان لے گی؟ اور اکیسویں صدی کی تاریخ کے اس بے آسرا لمحے پر ایک حاشئے کے طور پر، کیا ہم کوئی عدالتی نظام یا عدالتیں یا قانون قائم کر رہے ہیں، اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کہ برے لوگوں کو قانون کی طرف سے سزا مل سکے؟ یہی وہ واحد جواب ہے جو اگلے چند دن میں ہمارے رہنمائوں کی طرف سے نہیں ملنے والا!!

۱۹۹۲ء میں افغانستان کی آبادی دو کروڑ تھی۔ سوویت یونین حملے کے بعد سے اب تک ۲۵؍لاکھ افغان براہِ راست یا بالواسطہ طور پر جنگ کا شکار ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ لوگ یا میدان جنگ میں کام آئے یا فاقوں اور بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث مر گئے۔ دوسرے الفاظ میں ہر سال ایک لاکھ پچیس ہزار افغان مرتے رہے، ہر گھنٹے چودہ افغان موت کا شکار ہوئے، اسی طرح ہر پانچ منٹ پر ایک افغان مر جاتا ہے یا مار دیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے روسی جوہری آبدوز کے غرق ہونے کی خبر لوگوںتک پل پل پہنچائی، بامیان میں بدھ کے مجسّمے کی تباہی کی خبر لوگوں تک وسیع پیمانے پر پہنچائی مگر گزشتہ بیس برس میں ہر پانچ منٹ پر ایک افغان کی موت کی خبر کیلئے عالمی ابلاغ کے پاس وقت نہیں تھا۔

مال ودولت اور وسائل جیتنے کی جنگ

مذہبی بنیاد پر دہشت گردی کے تصور کو فروغ دینے کا مقصد وسط ایشیائی ریاستوں کے تنازعے کے اہم پہلوئوں کو چھپانا ہے۔ انصاف اور جمہوریت کی خاطر جنگ کے صدر بش کے بلند بانگ دعوے، در حقیقت بحیرۂ اخضر کے طاس (Caspian Basin) پر پھیلے ہوئے ۸ ٹریلین ڈالر مالیت کے تیل اور گیس کے ذخائر پر امریکی اختیار کو مستحکم کرنا ہے۔

۱۹۹۱ء میں بش سینئر کے 'آپریشن ڈیزرٹ سٹارم' کا مقصد جنوبی عراق میں واقع رومیلا میں تیل کے ذخائر تک رسائی حاصل کرنا تھا اور جنگ کے خاتمے کے بعد اس ذخیرے کو کویت کے علاقے میں شامل کر لیا گیا۔ اسکی مدد سے کویت میں قائم امریکی اور برطانوی تیل کمپنیوں کو تیل کی دگنی پیداوار حاصل ہونے لگی۔

کوسووا میں ٹریپکا کانوں کا سلسلہ، یورپ کی ان کانوں میں سے ہے جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں۔ پچھلے سال اس پر جارج سوروس اور بانارڈکچز کی کمپنیوں نے قبضہ کر لیا۔ یہ دونوں نئے عالمی نظام (نیو ورلڈ آرڈ) کے وہ دو ارکان ہیں جنہوں نے سربیا کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا تھا۔

اسی طرح افغانستان کے خلاف جارحیت بھی بحیرۂ اخضر (کیسپین) میں یہودی تاجروں کے قیمتی معدنی وسائل کو تحفظ دینے کے لیے کی گئی ہے۔ افغانستان ایک وسط ایشیائی ریاست ہے، جس کی جغرافیائی حدود مشرقِ وسطیٰ، دوسری وسط ایشیائی ریاستوں اور بر صغیر پاک و ہند سے ملتی ہیں۔

وسط ایشیا میں تیل کے وسیع ذخائر موجود ہیں، جنہیں اب تک دریافت کیا جانا باقی ہے۔ ان میں ۶۔۶ٹریلین کیوبک میٹر قدرتی گیس کے ذخائر بھی ہیں، جن پر تاجروں کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

۲۰۰۰ء کے انتخاب میں صدر بش کی انتخابی مہم میں سب سے زیادہ چندہ دینے والی کمپنی ایٹرون نے 25 ارب ڈالر مالیت کی ما وارائے اخضر (Trans-Caspian)گیس پائپ لائن کی فیزبلٹی رپورٹ تیار کر لی ہے۔ اس گیس پائپ لائن کی تعمیر کے معاہدے پر ترکمانستان اور دو امریکی کمپنیوں، بیچل اور جرل الیکٹرک سروسز نے ۱۹۹۹ء میں دستخط کیے تھے۔

شمالی اتحاد، جسے امریکہ نے افغانستان کے بیشتر علاقے میں اقتدار سونپ دیا، دہشت گردوں کا ٹولہ ہے، جو اذیت رسانی، شہریوں کے قتل اور عورتوں کی عصمت دری کی شہرت رکھتا ہے۔ امریکہ خود کئی دہشت گردوں کا ٹھکانا ہے، جیسے جزائر غرب الہند میں ہیٹی کا عمانوئیل کونسٹنٹ، کیوبا کے کئی باشندے اور ہنری کسنجر۔ وہ دہشت گردوں کے لیے تربیتی کیمپ بھی چلا رہا ہے، جس کا نام ہے دی اسکول آف ایمیریکاز ویسٹرن ہیمسفیر انسٹیٹیوٹ فار سیکورٹی کو آپریشن۔ سیاسی مقاصد کے لیے شہریوں کو خطرے میں مبتلا کر کے ریاستی دہشت گردی کا مرتکب ہو رہا ہے۔

جب اس وقت کی سیکرٹری داخلہ میڈلین البرائٹ ۱۲؍مئی ۱۹۹۶ء کو (ٹی وی پروگرام) 'ساٹھ منٹ' میں آئیں تو لیزلی سٹال نے عراق کے خلاف پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ پانچ لاکھ بچے (نصف ملین) مر چکے ہیں۔ میرا مطلب ہے کہ یہ ہیرو شیما میں مرنے والے بچوں سے زیادہ تعداد ہے اور آپ جانئے کہ یہ قیمت زیادہ تو نہیں تھی '' ls the price worth it?'' البرائٹ نے اس تعداد پر اعتراض نہیں کیا اور جواب دیا کہ ''میرے خیال میں یہ انتخاب بہت مشکل ہے، مگر یہ قیمت ... ہم سمجھتے ہیں کہ یہ قیمت زیادہ نہیں تھی'' یہی دہشت گردی کا فلسفہ ہے۔ جن لوگوں نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے ٹکرا کر طیارے تباہ کر دیے، انہوں نے تقریباً چار ہزار لوگوں کو مار ڈالا، اس لئے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بالا دستی پر برہم ہیں۔ امریکی حکومت نے عراق میں پانچ لاکھ بچوں کے مارے جانے میں مدد دی کہ یہی بالادستی قائم رہ سکے۔

یہ اقتباسات ان تحریروں اور تقریروں کے ہیں جو غیر پاکستانیوں کی ہیں، ان میں سے اکثر غیر مسلم ہیں اور ان میں وہ بھی شامل ہیں جو خود امریکی ہیں۔ دہشت گردی کے حوالے سے یہ اقتباسات یہی بتاتے ہیں کہ سبھی حکومتیں اور حکمران کسی نہ کسی طرح ان افعال کے محرک یا مرتکب یا معاون ہیں جنہیں دہشت گردی کہا جاتا ہے۔ کہیں یہ کام اپنے ملک کی برتری کے لئے ہے تو کہیں سیاسی یا اقتصادی فوقیت کے لئے ہیں۔ کہیں کسی ملک و قوم کو نیست و نابود کرنے کے لئے ہے تو کہیں صرف انہیں ہر طرح اپنا محکوم اور غلام رکھنے کے لئے ہے۔ کہیں نفرتیں پیدا کرنے کے لئے ہے تو کہیں امن و امان ختم کرنے کے لئے ہے۔کہیں مذہب کی آڑ میں ہے تو کہیں مذہب کے خلاف۔ کہیں تعصبات کے اور کہیں طبقات کے حوالے سے ہے اور ان اقتباسات سے تو یہ بھی مترشح ہے کہ اس کے آئینی یا غیر آئینی، قانونی یا غیر قانونی، اخلاقی یا غیر اخلاقی، مذہبی اور غیر مذہبی ہونے کے جواز کا انحصار بھی من مانی پر ہے۔ دنیا میں موجود کسی عدالت یا کسی آرگنائزیشن کا فیصلہ بھی اس کے حوالے سے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ جو جتنا زبردست ہے، اتنا ہی وہ زبردستی کا حق رکھتا ہے، خواہ وہ زبردستی جائز ہو یا ناجائز!!

دہشت گردی کی واضح اور آسان تعریف ہرگز ناممکن نہیں بلکہ مشکل بھی نہیں، لیکن اس تعریف کے مطابق کسی حکومت یا حکمران کا استثنیٰ اس تعریف کا قتل عمد ہو گا اور بظاہر یہ ممکن نہیں کہ دنیا بھر کے تمام ممالک اور ان کی حکومتیں کسی معاملے کی ایک تعریف پر متفق ہو جائیں۔ اقوامِ متحدہ کے نام سے قائم ادارے کا احوال پوشیدہ نہیں۔

توہین رسالت کے قانون کو غیر مسلم کسی طور پر بھی قبول کرنے کو تیار نہیں حالانکہ اس کی اہمیت ان کے لئے بھی غیر معمولی ہے۔ راہبائیں (نن) جو لباس پہنتی ہیں وہ مقدس مانا جاتا ہے مگر مسلم خاتون کا سر ڈھانکنا اور حیا دار لباس معترضہ ٹھہرایا جاتا ہے۔ عیسائی مرد و عورت اگر صلیب (کراس) کا نشان گلے میں ڈال کر بر سر عام رہیں، گلے میں اسی صلیب کی علامت کے لئے ٹائی باندھیں یا بو لگائیں، سر عام سینے پر کراس بنانے کے لئے انگلیاں گھمائیں تو اسے ہر گز ناروا نہیں سمجھا جاتا لیکن مسلمان کو دینی و شرعی صورت و سیرت اور لباس و اَعمال پر معترضہ قرار دیا جاتا ہے۔ چرچ کی عمارت پر گھنٹیاں بجیں تو درست ہیں، مسجد سے اذانوں کی آوازیں بلند کی جائیں تو اسے انہیں ملکوں میں سماعت پر بوجھ، نیند کش اور معترضہ قرار دیا جاتا ہے۔ دوغلے اور دہرے معیار اور سلوک کی نہ جانے کتنی مثالیں ہیں جو ان ملکوں میں نمایاں نظر آتی ہیں جو انسانی آزادی اور انسانی حقوق کے علمبردار کہلاتے ہی نہیں، دعویدار بھی بنتے ہیں۔ انسان کی تعریف اب ہر حکومت کے نزدیک وہی مقبول ہے جو ان کی خود ساختہ ہے، انسانیت کی درجہ بندی اور حقوق طے کرنا بھی ان کی اپنی اپنی کابینہ کے دائرہ اختیار میں ہیں!!

کبھی یہی لوگ ظلم و ستم، جور و جفا اور جبر استبداد کے خلاف احتجاج اور جدوجہد کو انسانی حقوق میں شمار کرتے ہیں اور پھر یہی لوگ حقدار کو مجرم قرار دیتے ہیں۔ نہ وہ اپنی پہلی رائے کو غلطی گردانتے ہیں نہ ہی دوسرے فیصلے کو غلط جانتے ہیں!!

ان اقتباسات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ محصولات کا جبری نظام اور غلط پالیسیاں وغیرہ بھی دہشت گردی ہی کا ایک روپ ہیں۔ یوں اب کون ہے جو دہشت گردی کو عارضی اور مستقل دو مرحلوں میں تقسیم کرے اور حکومتوں، حکمرانوں کو مستقل دہشت گرد قرار دے؟

یہ بحث گورکھ دھندہ ہے۔ انسان، انسان سے اُلجھتا رہا ہے۔ ہابیل اور قابیل کا واقعہ ہی بتا دیتا ہے کہ صرف طبعی اور من مانی خواہشات ہی کی پیروی کسی کو انسانیت کی عظمت سے گرا کرشیطانی گراوٹ میں پہنچا دیتی ہے۔ دین و ایمان سے پوری طرح وابستہ کبھی اس گراوٹ میں نظر نہیں آتے۔ خالق عقل ہمارا معبودِ کریم ہے۔ انسانی قوانین میں سقم ہوتا ہے، خدائی فرامین میں نہیں۔ یوں ہم بلاشبہ بلاخوفِ تردید کہتے ہیں کہ اسلام اور دہشت گردی دو متضاد و متصادم باتیں ہیں۔ کوئی مسلمان کہلانے والا اسلامی تعلیمات کو فراموش کر کے دہشت گردی میں ملوث ہوجائے، یہ تو ممکن ہے لیکن دین اسلام سے دہشت گردی کا کوئی تصور کسی طرح وابستہ کیا جائے، یہ ناممکن ہے۔

دہشت گردی او راسلامی تعلیمات

اسلام اور ایمان، ان دونوں الفاظ میں سلامتی اور امن واضح ہے اور اسلام میں عدل و انصاف کو ہر سطح پر بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ عدل کے متضاد الفاظ 'ظلم و ستم 'ہیں اور اسلام میں ظلم و ستم کی کسی طرح کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسلام اپنے وابستگان کو یہ واضح تعلیم و ہدایت دیتا ہے کہ کسی قوم کی عداوت و دشمنی بھی تمہیں اس بات پر نہ اکسائے کہ تم ناانصافی کرو۔ اہل کتاب کا یہ احوال تھا کہ ان کے علماء و قاضی رشوتیںلے کر مذہبی شرعی احکام کو بدل دیتے تھے، غریب و امیر کے لیے ان کا سلوک یکساں نہ تھا۔ اسلام نے رشوت لینے اور دینے والے دونوں کو جہنم کا مستحق بتایا ہے اور احکام میں امیر و غریب کا فرق نہیں رکھا۔

فتح مکہ کے دوران بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی، بڑے خاندان کی عورت تھی، حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے لوگوں نے کہا کہ رسولِ کریم ﷺ کی بارگاہ میں سفارش کرو کہ اسے معاف کر دیا جائے۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما سفارش کرنے آئے تو رسول کریم ﷺ کو یہ سفارش ناگوار گزری، جلال میں فرمایا کہ بنی اسرائیل کی تباہی اسی لیے ہوئی کہ ان کا کوئی صاحب ِثروت بڑے خاندان کا فرد جرم کا مرتکب ہوتا تو اس سے وہ مؤاخذہ نہ کرتے، نہ ہی اسے سزا دیتے، وہی جرم کوئی نادار اور کمزور شخص کرتا تو اسے سخت سزا دیتے۔ کیا تم حدودِ الٰہیہ میں دخل دیتے ہو؟ اللہ تعالیٰ کی قسم!یہ جرم اگر میری بیٹی سے بھی سرزد ہوتا تو اس پر بھی شرعی حد جاری کی جاتی۔[سنن نسائی]

اسلامی تعلیمات میں واضح ہے، رسول کریم ﷺ نے فرمایا: خبردار جس نے ذمی کافر پر ظلم کیا یا اسے نقصان پہنچایا، اس کی طاقت سے زیادہ اس سے کام لیا یا اس سے کوئی تھوڑی سی چیز بھی بغیر اس کی رضا کے لی تو کل قیامت کے دن میں ایسے شخص سے جھگڑوں گا۔[ابو داود]

٭ جس نے کسی ذمی کافر کو اذیت پہنچائی تو میں اس کا مخالف ہوںاور جس کا میں مخالف ہوا قیامت کے دن اس کی مخالفت ہو گی۔[تاریخ بغداد]

٭ اسلام میں سختی اور تکلیف پہنچانے کی اجازت نہیں۔[ابن ما جہ]

٭ اسلام میں نہ ضرر ہے نہ نقصان پہنچانا ہے، جس نے نقصان پہنچایا، اللہ اس کو نقصان میں مبتلا کرے گا اور جس نے کسی کو مشقت میں ڈالا، اللہ تعالیٰ اسے مشقت میں مبتلا کرے گا۔[مسند احمد]

٭ جس کے پاس مومن کی تذلیل کی جائے، پھر وہ اس کی مدد پر قادر ہونے کے باوجود اس کی مدد نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن سر عام رسوا کرے گا۔[مسند احمد]

٭ جو کسی جان دار (انسان یا جانور) کو مُثلہ کرے (شکل و صورت یا حلیہ بگاڑے) اس پر اللہ تعالیٰ، ملائکہ اور بنی آدم سب کی لعنت ہے۔[بخاری]

٭ مجھے لوگوں سے نیک برتائو کے لیے مبعوث کیا (بھیجا) گیا ہے۔[جامع صغیر]

٭ زمین والوں پر رحم کرو، اللہ تعالیٰ تم پر مہربانی کرے گا۔[ابو دائود]

٭ خبردار! بے جا تشدد کرنے والے ہلاک ہوئے، تین بار یہی جملہ دہرایا۔[مسلم]

٭ فتنہ سو رہا ہے، اس کے جگانے والے پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔[کنز العمال]

٭ بے شک قیامت کے دن تمہیں حقوق والوں کو ان کے حق ادا کرنے ہوں گے، یہاں تک کہ منڈی بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے لیا جائے گا کہ اسے سینگ مارے۔ [مسلم]

٭ جو دھوکا دے، وہ ہم میں سے نہیں۔[مسلم]

٭ لوگوں پر ظلم و تعدی نہ کرے گا مگر حرامی یا وہ شخص جس میں کوئی رگِ ولادت زنا کی ہو۔[کنز العمال]

٭ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب ہو گا۔[صحیح بخاری]

٭ جو (کسی کی) ایک بالشت زمین غصب کرے گا، قیامت کے دن زمین کے ساتوں طبقوں تک اتنا حصہ توڑ کر اس کے گلے میں پھندا ڈالا جائے گا۔[مسلم]

٭ جو دیدہ دانستہ کسی ظالم کے ساتھ اسے مدد دینے چلا، وہ اسلام سے نکل گیا۔[جامع صغیر]

٭ ایک عورت جہنم میں گئی، (صرف) ایک بلی کے سبب کہ اس نے اسے باندھے رکھا تھا، بلی کو نہ خود کھانا دیا، نہ اسے چھوڑا کہ زمین کا گرا پڑا یا جو جان ور اس کو ملتا، کھا لیتی۔[بخاری]

احادیث ِنبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) میں اتنی کثرت سے ایسے مضامین ہیں جو ایک عام ذہن والے کو بھی یہ بآسانی باور کروا دیتے ہیں کہ دین اسلام کی تعلیمات و ہدایات میں انسانی زندگی کے لئے وہ بہترین رہنمائی ہے جو نہایت خوش گوار اور خوش حال، پُرامن اور پُرمسرت زندگی کی ضمانت ہے، راستی و آشتی، سلامتی و عافیت، راحت و رحمت اور ہر طرح فوز و فلاح کی ضمانت ہے۔ وہ دین جو نماز کے لئے وضو میں مسواک پر زیادہ اَجر سناتا ہے کہ منہ سے بدبو تک نہ آئے تاکہ مسجد میں ساتھ کھڑے ہونے والے دوسرے نمازی کو کراہت محسوس نہ ہو، وہ دین جو حلال جانور کو بھوکا پیاسا ذبح کرنے سے منع کرتا ہے، وہ دین جو رہ گزر سے کانٹے دور کرنے پر ثواب بتاتا ہے تا کہ راہ چلنے والوں کو دشواری نہ ہو، وہ دین جو جانور کی جان محض تلف کرنے کے لئے شکار کو پسند نہیں کرتا اور کسی جان کا بھی مُثلہ کرنے (صورت و حلیہ بگاڑنے) کی سختی سے ممانعت کرتا ہے، وہ دین جو کسی کی عزت، جان، مال کے ناحق معمولی سے نقصان کو گناہ بتاتا ہے، وہ دین جو غیبت کو زنا جیسی برائی سے زیادہ سخت بتاتا ہے ، وہ دین جو انسانی زندگی کی اتنی واضح اہمیت بیان کرتا ہے کہ جس نے ایک جان بچائی گویا اس نے تمام لوگوں کو بچا لیا اور جس نے ناحق ایک جان کو مارا گویا اس نے سب کو مارا، اس پاکیزہ اور سلامتی والے دین سے دہشت گردی کا تصور ہرگز ہرگز وابستہ نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام میں فی سبیل اللہ جہاد بہت اہم ہے لیکن اسلام فتنہ و فساد نہیں ہے، بلکہ فتنے کو قتل سے زیادہ سنگین قرار دیا گیا ہے۔

اسلام وہ معاشرہ تعمیر کرتا ہے جس میں ایک انسان دوسرے کا خیر خواہ اور معاون ہے، تعصبات اور عناد سے ہر فرد کو دور رکھتا ہے۔ کسی سے محبت ہو تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کریم ﷺ کے لئے ہو اور بغض ہو تو وہ بھی اللہ اور اس کے رسول کریم ﷺ کے لئے ہو۔ فکر و عمل میں رضائے الٰہی و رضائے رسول ﷺ ہی بنیاد ہو۔

وہ اقتباسات جو دہشت گردی کے حوالے سے متعدد مطبوعہ تحریروں سے نقل کئے گئے ہیں، ان کے بعد آپ نے چند احادیث ِنبوی (ﷺ) بھی ملاحظہ کیں، آپ خود بتائیے کہ آپ کا وجدان گواہی نہیں دیتا ہے کہ دنیا کو جائے عذاب بنانے والے وہی لوگ ہیں جو خدائی فرامین اور دینی تعلیمات و ہدایات سے دور ہیں اور فی سبیل الشیطان مشغول ہیں۔

بیداری کا وہ لمحہ جو حقائق آشکار کرتا ہے، جب کسی کی زندگی میں آتا ہے، انقلاب آفریں ثابت ہوتا ہے۔ کاش یہ دنیا خونی انقلاب کی بجائے اسی روحانی انقلاب کی طرف بڑھے، ہمیں کسی انتظار میں وقت نہیں گزارنا چاہیے، جو سانسیں اور ساعتیں میسر ہیں، ان میں اپنی توانائیاں نیکی و بھلائی میں لگاتے ہوئے خود کو گفتار و کردار سے ہر شر اور شریر کے لئے دیوار بنا دینا چاہیے۔ یاد رہے، اس دیوار کی تعمیر اور پختگی صرف ایمان اور تقویٰ سے مشروط ہے!! [ نور الحبیب ... اگست ۲۰۰۲ء]

٭٭٭٭٭