اسلامی عبادات میں یہ پہلا رکن بلکہ رکن عظیم ہے جس کی ادائیگی امیر و غریب، بوڑھے و جوان، مرد و عورت اور بیمار و تندرست سب پر یکساں فرض ہے۔ ایسی عبادت کہ جس کا حکم کسی بھی حالت میں ساقط نہیں ہوتا۔ ایمان لانے کے بعد مسلمان سے اولین مطالبہ ہی یہ ہے کہ وہ نماز قائم کرے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے: ﴿إِنَّنى أَنَا اللَّهُ لا إِلـٰهَ إِلّا أَنا۠ فَاعبُدنى وَأَقِمِ الصَّلو‌ٰةَ لِذِكر‌ى ١٤﴾... سورة طه"بے شک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، میری ہی بندگی کرو اور میری یاد کے لئے نماز قائم کرو۔''

ہرنبی کی تعلیم میں اور ہر آسمانی شریعت میں ایمان لانے کے بعد پہلا حکم نماز ہی کا رہا ہے۔ اسی لئے شریعت ِاسلامیہ جو کہ آخری شریعت ہے، میں نماز کی شروط و ارکان، سنن و آداب اور مفسدات ومکروہات کی وضاحت کا اس قدر اہتمام کیا گیاہے کہ اتنا التزام اور کسی عبادت میں نہیں۔چنانچہ صرف قرآن حکیم ہی میں نماز کا ذکر اکانوے دفعہ کیا گیا ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نماز کا بیان شروع کرتے ہوئے فرماتے ہیں: '' معلوم ہو کہ نماز اپنی عظمت ِشان اور مقتضائے عقل و فطرت ہونے کے لحاظ سے تمام عبادات میں خاص امتیاز رکھتی ہے اور خدا شناس انسانوں میں سب سے زیادہ معروف اور نفس کے تزکیہ وتربیت کے لئے سب سے زیادہ نافع ہے اور اسی لئے شریعت نے اس کی فضیلت، اس کے اوقات کی تعیین و تحدید، شروط وارکان، آداب و نوافل اور رخصتوں کے بیان کا وہ اہتمام کیا ہے کہ جو عبادات کی کسی دوسری قسم کے لئے نہیں کیا گیا اور انہیں خصوصیات و امتیازات کی بنا پر نماز کودین کا عظیم ترین شعار اور امتیازی نشان قرار دیا گیا ہے۔'' (حجۃ اللہ البالغہ:قسم دوم ، ص ۳۳۹)

علاوہ ازیں نماز کی افضلیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آپﷺ کی آخری وصیت بھی نماز اور غلاموں کے متعلق تھی۔ (الرحیق المختوم از شیخ صفی الرحمن مبارکپوری: ص ۶۱۸)

ترکِ نماز :نماز کا ترک کرنا یا اس کے ادا کرنے میں غفلت برتنا بلاشبہ کبیرہ گناہوں سے ہے۔ اہل بصیرت سے یہ بات مخفی نہیں ہے کہ دین اسلام میں نماز کی ادائیگی کی کس قدر تاکید و تلقین کی گئی ہے اور صرف اسی پر اکتفا کرنے کی بجائے قرآن پاک نے اس ہولناک انجام اور زبردست رسوائی کا بھی خوف دلایا ہے کہ جس سے تارکین نماز دوچار ہوں گے۔چنانچہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے: ''ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے گروی ہے مگر دا ہنی طرف والے (نیک لوگ) کہ وہ باغ ہائے بہشت میں ہوں گے اور پوچھتے ہوں گے (آگ میں چلنے والے گناہگاروں سے) کہ تم دوزخ میں کیوں پڑے؟ وہ کہیں گے کہ ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہیں تھے۔'' (المدثر: ۳۸ تا۴۳)

اس کے علاوہ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: «بين العبد وبين الکفر ترك الصلوٰة»''بندے اور کفر کے درمیان (حد ِفاصل) نماز کا ترک کرنا ہے۔(صحیح مسلم)

ترکِ نماز کے متعلق اس قدر شدید تہدید و تخویف ہی کی بنا پرامام مالکؒ اور امام شافعیؒ کے نزدیک تارکِ صلوٰۃ کو قتل کردینا چاہئے۔ امام اعظم ابوحنیفہؒ اور اہل کوفہ میں سے ایک جماعت اور امام مزنی ؒ کے نزدیک تارکِ صلوٰۃ کافر تو نہیں لیکن قابل تعزیر ضرور ہے کہ اسے قید کردیا جائے یہاں تک کہ وہ نماز پڑھنے لگے۔(تفصیل کے لئے : التمہید لابن عبدالبر: ۴؍۲۳۵تا۲۴۰ اور نیل الاوطار شرح منتقی الاخبار ازعلامہ شوکانی: ۱؍۳۱۵،۳۱۶)

اسلام دین فطرت ہے۔ ا س کا مطلب یہ ہے کہ ہر وہ کام جو دین اسلام کے مطابق اور سنت ِنبویؐ سے ہم آہنگ ہے، وہی فطرت کے عین مطابق ہے اور جو کام دین کے خلاف ، سنت ِنبوی سے متضاد ہے وہ فطرت کے خلاف ہے۔اس لئے کوئی کام خواہ کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو، لیکن ہے سنت کے خلاف، تو اللہ کے ہاں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ لیکن اگر کوئی کام خواہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو، البتہ ہے سنت کے مطابق تو اللہ کے ہاں وہ عمل پہاڑ سے زیادہ بھاری ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہمارا ہر عمل سنت کے سانچے میں ڈھلاہو۔ نماز کی اہمیت کے پیش نظر یہاں ہم ان چند کوتاہیوں کا تذکرہ کریں۔ جن کے متعلق علم نہ ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ نما زصحیح طریقہ سے ادا نہیں کرپاتے او رنماز کے ثواب سے محروم رہ جاتے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ

''بندہ اکمل طریقہ سے نماز کو ادا کرتا ہے وہ آسمان کی طرف چڑھ جاتی ہے اور روزِ قیامت چمکتے ہوئے سورج کی طرح اس سے کہے گی: اللہ تیری حفاظت کرے جیسے تو نے میری حفاظت کی۔ اگر نماز مکمل طریقہ سے ادا نہیں کی ہوگی تو وہی نماز کپڑے کی طرح لپیٹ کر ا س کے منہ پر مار دی جائے گی او ر وہ نماز اس سے کہے گی: اللہ تجھے برباد کرے جیسے تو نے مجھے برباد کیا۔)''مسند الشامیین: ۱؍ ۲۳۹ والطبرانی فی الاوسط)

اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ اس کی صحیح طریقے سے ادائیگی ہو۔ چنانچہ سطورِ ذیل میں نماز کی چند ایسی اہم کوتاہیاں مجملاً بیان کی جاتی ہیں کہ جن کے متعلق علم نہ ہونے کی وجہ سے بیشتر لوگ صحیح طریقے سے نماز ادا نہیں کرپاتے۔ واللہ الموفق

1۔ نماز کی طرف بھاگ کر آنا

بعض لوگ مسجد کی طرف بھاگ کر آتے ہیں حالانکہ شریعت ِاسلامیہ میں ا س کی ممانعت ہے اور اسلام نے یہ سہولت دی ہے کہ جتنی نماز مل جائے پڑھ لو اور جو رہ جائے، اسے پورا کرلو۔حضرت ابوہریرہؓؒ سے روایت ہے :« قال رسول اللهﷺ إذا أقيمت الصلوٰة فلا تأتوها وأنتم تسعون ولکن ايتوها وانتم تمشون وعليکم السکينة فما أدرکتم فصلوا وما فاتکم فأتموا» ''آپﷺنے فرمایا کہ جب اقامت ہوجائے تو تم نماز کی طرف دوڑتے ہوئے نہ آئو بلکہ چلتے ہوئے (باوقار طریقے سے) آئو اور تم پراطمینان لازم ہے۔ سو جو ملے پڑھ لو اور جو گزر جائے اسے (امام کے سلام پھیرنے کے بعد) مکمل کرلو۔'' (صحيح البخاري کتاب الأذان: باب ما أدرکتم فصلوا وما فاتکم فأتموا، ترمذي: أبواب الصلاة: باب في المشي الی المسجد)

اس حدیث میں نماز کی طرف دوڑ کر آنے کی ممانعت کا حکم عا م ہے اور وہ شخص بھی اس میں شامل ہے جسے تکبیر اولیٰ کے گزر جانے کا خوف ہو۔ لہٰذا کسی بھی حالت میں دوڑ کر مسجدکی طرف آنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ امام ابن عبدالبرؒ نے بھی اسی مسلک کواختیار کیا ہے۔ (التمہید: ۲۰؍۲۳۳)

2۔ صف بندی نہ کرنا

(1) اکثر لوگ نماز کے دوران صف میں آگے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں یعنی صف بالکل سیدھی نہیں ہوتی۔ یہ بہت قبیح حرکت ہے اور آپ ﷺنے اس کے متعلق بہت شدید وعید فرمائی ہے ۔چنانچہ حضرت نعمان بن بشیرؓ بیان کرتے ہیں: «کان رسول اللهﷺ يسوي صفوفنا حتیٰ کأنما يسوي بها القداح... الخ» (صحیح مسلم)

'' آپﷺ ہماری صفیں اس طرح سے برابر (سیدھی) کیا کرتے تھے کہ گویا تیر بھی ان صفوں سے سیدھا کیا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ ہم بھی آپ ﷺسے (صفوں کے برابر کرنے کی اہمیت) سمجھ گئے۔ ایک دن آپ ﷺ (اپنے حجرہ سے) تشریف لائے اورنماز کے لئے کھڑے ہوگئے اور قریب تھے کہ تکبیر تحریمہ کہتے کہ ایک آدمی کا سینہ صف سے کچھ نکلا ہوا آپ ﷺ نے دیکھ لیا۔ یہ دیکھ کر آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: اے اللہ کے بندو! اپنی صفیں سیدھی کرلو وگرنہ اللہ تمہارے درمیان اختلاف ڈال دے گا۔''

(2) اکثر لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل کرنہیں کھڑے ہوتے جس کی وجہ سے درمیان میں خلا پیدا ہوجاتا ہے اور ا س خلا کے متعلق آپ ﷺنے فرمایا ہے: «رصوا صفوفکم وقاربوا بينها وحاذوا بالأعناق فو الذي نفسي بيده...الخ» (سنن أبي داود،کتاب الصلاة: باب تسویة الصفوف)

''اپنی صفیں ملی ہوئی رکھو( آپس میں خوب مل کرکھڑے ہو) اور صفوں کوقریب رکھو (یعنی دو صفوں کے درمیان اس قدر فاصلہ نہ ہو کہ ایک صف اور آجائے) نیز اپنی گردنیں برابر رکھو (یعنی صف میں تم میں سے کوئی بلند جگہ پر کھڑا نہ ہو بلکہ ہموار جگہ پر کھڑا ہو)۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے میں شیطان کو بکری کے کالے بچے کی طرح تمہاری صفوں کی کشادگی میں گھستے دیکھتاہوں۔''

3۔ نیت کا زبان سے کرنا

جملہ اعمال کاانحصار نیت پر ہے جس کی تائید آپﷺ کی اس حدیث سے ہوتی ہے: «إنما الأعمال بالنيات وإنما لکل امرء ما نوی» یعنی ''اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہرمرد (وعورت) کے لئے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے''(صحیح بخاری)۔ اس لئے تمام اعمال میں اور بالخصوص نماز میں نیت کرنا ضروری ہے اس بات کی تعیین کے ساتھ کہ نماز ظہر کی ہے یا عصر کی یا کوئی اور۔ لیکن اکثر لوگ نیت کے الفاظ زبان سے ادا کرتے ہیں جیسے ''ا س امام کے پیچھے میں نماز پڑھ رہا ہوں، اتنی اتنی رکعات فلاں نماز کی وغیرہ'' یہ طریقہ درست نہیں کیونکہ نیت دل سے ارادہ کرنے کا نام ہے۔(کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ: ۱؍۲۰۹) اسی بناپر اکثر علماءنے زبان کے ساتھ نیت کرنے کو بدعت شمار کیا ہے کیونکہ اس کا کرنا نبی اقدس ﷺ اور صحابہ کرامؓ سے ثابت نہیں اور نہ ہی تابعین و ائمہ اربعہ نے اسے مستحب قرار دیاہے جیسا کہ ملا علی قاری حنفیؒ نے حافظ ابن قیم ؒ کے حوالہ سے بیان کیا ہے۔

4۔ نماز میں ٹخنے ڈھانپنا

دورانِ نماز دونوں ٹخنوں پر کپڑا لٹکانایعنی ٹخنوں کا چھپ جانا ایسا معاملہ ہے کہ جسے ہم روزمرہ زندگی میں عام دیکھتے رہتے ہیں۔ نمازیوں کی اکثریت اس بات کا التزام نہیں کرتی کہ نماز میں ٹخنوں پر سے کپڑا ہٹا ہوا ہونا چاہئے۔اگرچہ بالخصوص دورانِ نماز ٹخنوں کے ننگے کرنے کے متعلق کوئی صحیح روایت وارد نہیں ہوئی لیکن عام زندگی میں ٹخنوں کو چھپانے کے متعلق آپﷺ نے بہت شدت سے وعید فرمائی ہے۔ ابوہریرہؓ سے روایت ہے: «قال النبيﷺ ما أسفل من الکعبين من الإزار ففي النار» ''آپ ﷺ نے فرمایا جو کپڑا ٹخنے سے نیچے ہوگا، وہ (اپنے پہننے والے کو ) دوزخ میں لے جائے گا'' (صحیح بخاري کتاب اللباس :باب ما أسفل من الکعبین فھو في النار)

جب عام زندگی میں اس قدر سخت تنبیہ ہے تو نماز میں تو بدرجہ اولیٰ ا س کا گناہ اور سخت ہوگا۔ بہرکیف اس کی نماز ہوجائے گی، یہی مسلک سعودی عرب کے مفتی ا عظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز کا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں : «صلاة المسبل صحیحة ولکنه آثم» (مجموعہ فتاویٰ : ۲؍۱۹۳)

''نماز میں کپڑا لٹکانے والے کی نماز تو ہوجائے گی لیکن وہ گناہ گار ہوگا۔''

5۔ مقتدی کا نماز شروع کرنا اور امام کی متابعت نہ کرنا

جب امام رکوع یا سجدہ میں ہو اور کوئی (مقتدی) آکر نماز شروع کرے تو اکثر لوگ تکبیر تحریمہ کہہ کر پہلے ہاتھ باندھتے ہیں اور پھر تکبیر کہہ کر جس حالت میں امام ہوتا ہے، اس میں شامل ہوجاتے ہیں۔

اگرچہ اس طرح کرنا بھی جائز ہے، تاہم بہتر یہ ہے کہ مقتدی تکبیر کہہ کر اس حالت میں شامل ہوجائے جس میں امام ہے، ہاتھ باندھنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے علاوہ اگر ہاتھ باندھ کر شامل ہو توپھر مندرجہ ذیل حدیث سے مطابقت نہیں رہتی جسے حضرت علیؓ اور معاذ بن جبلؓ نے روایت کیا ہے کہ «قال رسول اللهﷺ إذا أتی أحدکم الصلوٰة والإمام علی حال فليصنع کما يصنع الإمام» (جامع ترمذی) '' آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص (جماعت میں شریک ہونے کے لئے) نماز شروع کرے اور امام کسی حالت (قیام، رکوع یا سجدہ) میں ہو تو جو کچھ امام کررہا ہے وہی کچھ اسے کرنا چاہئے۔''

اگرچہ اس حدیث کی سند میں ضعف ہے، تاہم علما کا اس پر عمل ہے اور مولانا عبیداللہ رحمانی ؒنے بھی اسے شواہد کی بنا پر قابل عمل قرار دیا ہے۔ (مرعاۃ المفاتیح: ۴؍۹۹)... یہی مسلک علامہ نواب محمد قطب الدین خان دہلوی نے ابن ملک ؒ کابھی نقل فرمایا ہے۔ دیکھئے 'مظاہر حق' شرح مشکوٰۃ المصابیح: ۱؍۵۰

نیز مقتدی کے لئے مستحب ہے کہ وہ مسجد میںداخل ہوتے ہی امام کے ساتھ جماعت میں شامل ہو اور اس کے قیام کی طرف لوٹنے کا انتظار نہ کرے۔

6۔ رکوع و سجود کی ادائیگی میں جلدی کرنا

نماز کا اعتدال و اطمینان سے پڑھنا فرض ہے یوں کہ ہر ہڈی اور جوڑ اپنے مقام پر واپس آجائے۔ جو شخص اس کاالتزام نہیں کرے گا، اس کی نماز صحیح نہیں ہوگی۔ کیونکہ جس شخص کی نماز میں اعتدال و طمینان نہیں تھا، اسے آپ ﷺ نے بار بار مکمل اطمینان و سکون سے ادائیگی ارکان کا حکم دیا۔

چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے «أن النبي ﷺ دخل المسجد فدخل رجل فصلیٰ ثم جاء فسلم علی النبي فرد عليه النبيﷺ فقال ارجع فصل فإنك لم تصل... الخ» (صحيح البخاري: باب أمر النبيﷺ الذي لا يتم رکوعه بالإعادة)

''آپ ﷺ مسجد میں تشریف لائے تو اتنے میں ایک شخص آیا، اس نے نماز پڑھی پھر آپ ﷺ کوسلام کیا۔ آپﷺنے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ جا پھر نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ گیا اور (پھر) نماز پڑھی۔ پھر آکر آپﷺ کوسلام کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: جا نماز پڑھ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ تین بار یہی ہوا۔ آخر وہ کہنے لگا: قسم اس ذات کی جس نے حق کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا !میں اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا، مجھے سکھلایئے۔

تو آپﷺ نے فرمایا کہ جب نما زکے لئے کھڑا ہو تو تکبیر کہہ ، پھر جتنا قرآن تجھے یاد ہو اور آسانی سے پڑھ سکے وہ پڑھ ، پھراطمینان سے رکوع کر، پھر سر اٹھا یہاں تک کہ سیدھا کھڑا ہوجائے، پھر اطمینان و سکون سے سجدہ کر، پھر سجدے سے سر اٹھا اور اطمینان سے بیٹھ، پھردوسرا سجدہ اطمینان سے ٹھہر کر ادا کر اور اسی طرح ساری نماز پڑھ۔''

مندرجہ بالا حدیث سے نماز کی ادائیگی مکمل اطمینان و سکون سے کرنے کا علم ہوتاہے، تاہم آپ ﷺ نے خصوصیت کے ساتھ رکوع و سجود کومکمل طمانیت سے کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ابوقتادہؓ سے روایت ہے : «قال رسول اللهﷺ أشر الناس سرقة الذي يسرق من صلاته... الخ»

''آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے بُرا چور وہ ہے جو اپنی نما زمیں چوری کرتا ہے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا یارسول اللہﷺ! کوئی شخص اپنی نماز میں چوری کیسے کرسکتا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کے رکوع اور سجود پورے نہیں کرتا (یا فرمایا کہ) وہ رکوع اور سجود میں اپنی کمر سیدھی نہیں کرتا۔'' (مسند امام احمد بن حنبل)

7۔ امام سے قبل حرکت کرنا

من جملہ ان اغلاط کے جن سے پرہیز کرنے کی بہت تاکید کی گئی ہے، امام سے پہلے حرکت کرنا بھی ہے۔ اکثر لوگ امام سے پہلے ہی سجدہ یا رکوع میں چلے جاتے ہیں اور امام کے سراٹھانے سے قبل ہی سر اٹھا لیتے ہیں۔ یہ نہایت قبیح حرکت ہے اور اس پر آپ ﷺنے بہت شدید وعید فرمائی ہے ،حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے:« عن النبيﷺ قال أما يخشی أحدکم أو ألا يخشی أحدکم إذا رفع رأسه قبل الإمام أن يجعل الله رأسه حمار أو يجعل الله صورته صورة حمار» '' آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم میں سے جو امام سے پہلے اپنا سراٹھاتا ہے اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کا سر گدھے کا کردے یا اس کی صورت گدھے کی سی کردے۔''(صحیح بخاري باب إثم من رفع رأسه قبل الاإمام وسنن أبي داود، کتاب الصلوٰة)

مذکورہ روایت سے صریحاً یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ نماز میں امام کی متابعت لازم ہے اور اسی لئے جمہور علما کے نزدیک امام سے قبل حرکت کرنے والا گناہ گار ہوگا چہ جائیکہ اس کی نماز ہوجائے۔ جبکہ عبداللہ بن عمرؓ، امام احمدؒ اور ظاہریہ کے نزدیک جو شخص قصداً امام کی متابعت سے اعراض کرے گا اور رکوع و سجود میں امام سے پہلے جائے گا تو اس کی نماز ہی نہیں ہوگی۔

تاہم جو شخص بھول کر امام سے پہلے رکوع یا سجدہ میں سے سر اٹھالے تو اس کے لئے مسنون یہ ہے کہ وہ پھر رکوع یا سجدہ میں چلا جائے جیسا کہ امام مالکؒ کا مسلک ہے۔

ایک عبرت آموز واقعہ: امام سے پہلے حرکت کرنا کس قدر بُرا فعل ہے، ا س کی تائید اس عبرتناک واقعہ سے بھی ہوتی ہے جسے ملا علی قاری حنفی ؒ نے یوں نقل کیا ہے کہ ایک محدث طلب ِعلم اور حصولِ حدیث کے لئے دمشق کے ایک مشہور محدث کے پاس پہنچے اور اس سے درس لینا شروع کردیا مگر طالب ِعلم کے لئے حصولِ حدیث کے دوران یہ واقعہ بہت عبرتناک بنا رہا کہ استاد اس پوری مدت میں کبھی بھی اس کے سامنے نہیں آیا۔ درس کے دوران ان دونوں کے مابین ایک پردہ حائل رہتا تھا۔ طالب علم کو بہت شوق تھاکہ وہ جس سے درسِ حدیث لیتاہے، اس کی زیارت بھی کرے۔

جب کافی عرصہ گزر گیا تو ایک روزاستاد نے درمیا ن میں حائل پردہ اٹھادیا اور یہ دیکھ کر اس طالب علم کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ وہ جس کے علم و فضل کا اس قدر شہرہ تھا اپنے انسانی چہرے سے محروم تھا اور اس کا منہ گدھے کے منہ جیسا تھا۔ اس استاد نے طالب علم سے کہا: اے میرے بیٹے! تم نماز میں امام سے پہل کرنے سے بچنا کیونکہ جب میں نے یہ حدیث سنی کہ ''کیا تم میں سے جو امام سے پہلے اپنا سر اٹھاتا ہے اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ اس کا سر گدھے کا کردے یا اس کی صورت گدھے کی سی کردے۔'' تو میں نے ایسا ہونے کو بعید از امکان سمجھا اور امام سے پہلے حرکت کی جس کا نتیجہ تمہارے سامنے ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح: ۳؍۹۸) (واقعہ کی صحت؟؟)

نیز یہ ایک ناقابل فہم بات ہے کہ جب مقتدی کا سلام پھیرنا امام کے ساتھ ہے تو پھر دورانِ نماز امام سے پہلے حرکت کرنے کاکیا مقصد ہوا؟

(بعض لوگ نماز میں قراء ت کرتے ہوئے بھی امام سے پہل کرجاتے ہیں ، اس کا جواز ؟؟؟)

8۔ رکوع و سجود میں امام کی موافقت نہ کرنا

بعض لوگ جب فرض نماز امام کے پیچھے ادا کرتے ہیں تو امام جب رکوع یا سجدے سے سراٹھاتا ہے تو وہ کافی دیر بعد رکوع یا سجدے سے سراٹھاتے ہیں حتیٰ کہ امام دوسرے سجدے میں جاچکا ہوتا ہے اور وہ ابھی پہلے سجدے سے سراٹھا رہے ہوتے ہیں، یہ فعل درست نہیں۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ مقتدی کے جملہ افعال امام کے بعد ہونے چاہئیں لیکن امام کی اقتدا سے غافل رہنا نماز کے وجود کو خطرے میں ڈالنا ہے جو بہرصورت درست نہیں۔ لہٰذا اس سے پرہیز ضروری ہے اور اس سارے عمل کا محرک یہ ہے کہ رکوع و سجود میں تسبیحات کی تعداد متعین ہے یعنی کم از کم تین بار، اس سے زیادہ پانچ ، سات یا نو بار، جس شخص کی تسبیح اس تعداد کے اوپر نیچے ہوتی ہے وہ تب تک اپنا سر نہیں اٹھتا جب تک کہ وہ ان میں سے کسی ایک کو پورا نہ کرلے حالانکہ تسبیحات کے لئے کوئی عدد مقرر نہیں، حسب ِاستطاعت پڑھی جاسکتی ہیں۔امام شوکانیؒ فرماتے ہیں: «ولا دليل علی تقييد الکمال بعدد معلوم بل ينبغي الاستکثار من التسبيح علی مقدار تطويل الصلاة من غير تقيد بعدد»

''تسبیحات مقرر کرنے کی کوئی دلیل نہیں بلکہ نماز کی طوالت کے حساب سے بغیر مقرر کئے تسبیحات کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہئے۔'' (نیل الاوطار، کتاب الصلاۃ: ۲؍۲۵۶)

(بعض ائمہ بہت جلدی کرتے ہیں اور مقتدی ابھی اپنی بنیادی تکبیرات بھی پوری نہیں کرپاتا، مستقل امام کے لئے ہدایات بھی شامل کی جائیں یا اس کا اضافہ یہاں کیا جائے ۔ حسن؟؟؟)

9۔ آنکھیں بند کرکے نماز پڑھنا

قرآن حکیم میں صرف نماز کی فرضیت وغیرہ کا بیان ہے، احکام کا تذکرہ نہیں۔ لہٰذانماز کی ادائیگی کے لئے ہم سو فیصدی حدیث ِنبوی کے محتاج ہیں۔ اس لئے جو بات آپ ﷺ سے ثابت نہیں،اس سے ہمیں بھی احتیاط لازم ہے۔انہی امور میں آنکھیں بند کرکے نماز پڑھنا بھی شامل ہے۔ معلوم نہیں اس سے لوگ کون سے خشوع(۶) کے حصول کو ممکن بناتے ہیں حالانکہ آپﷺسے بڑھ کر کون خشوع کرنے والا ہوگا؟ جب نبیﷺ ہی سے ایسا کرنا ثابت نہیں تو اس سے لازماً پرہیز کرنا چاہئے۔

البتہ ان حالات میں فقہا نے آنکھیں بند کرکے نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے جب نمازی کے پاس غیر ضروری حرکات و سکنات ا س کی نماز میں خلل انداز ہوں۔ یہ خیال کہ نماز میں آنکھیںبند کرنے کا سبب خیالات و وساوس کا آنا ہے، بے بنیاد ہے کیونکہ اگر خیالات غیر اختیاری ہوں تو ان پر اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی مؤاخذہ نہیں۔ ا س لئے وہ نماز جو آنکھیں کھول کر اتباعِ سنت میں پڑھی جارہی ہے اور اس میں غیر اختیاری خیالات بھی آرہے ہیں، اس نماز سے بدرجہا افضل ہے جو آنکھیں بند کرکے پڑھی جارہی ہے اور اس میں خیالات نہیں آرہے۔ اس لئے کہ پہلی نماز نبی کریمﷺ کی اتباع میں اد کی جارہی ہے جب کہ دوسری نماز اتباعِ رسولﷺ میں نہیں ہے۔( صفۃ صلاۃ النبی ﷺ از البانی ؒ: ص ۸۹)

مولانا محمد تقی عثمانی کا میلان بھی اسی جانب ہے۔ (دیکھئے 'بدعت؛ ایک سنگین گناہ' :ص ۲۳ تا۲۶)

10۔ سجدوں میں پائوں کا ملانا

اکثر لوگ سجدوں میں پاؤوں کوایک دوسرے سے دور رکھتے ہیں حالانکہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ نبیﷺ سجود میں اپنی ایڑیوں کو ملایا کرتے تھے۔ (صحیح ابن خزیمہ، کتاب الصلاۃ: باب ضم العقبین فی السجود)... اس لئے اس کی بھی تصحیح کرنی چاہئے کہ سجدوں میں دونوں پائوں کی ایڑیاں ایک دوسری سے ملی ہوئی ہوں۔

11۔ سجدوں میں ہاتھوں کی انگلیوں کا کھلا ہوا ہونا

اکثر لوگ سجدہ میں اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو کھلا ہوا رکھتے ہیں، یہ طریقہ خلافِ سنت ہے۔ انگلیاں باہم ملی ہوئی ہونی چاہئے۔ چنانچہ آپﷺ جب سجدہ کرتے تو آپﷺ کے ہاتھوں کی انگلیاں ملی ہوئی ہوتی تھیں۔ (صحیح ابن خزیمہ)

12۔ دورانِ نماز تمام اعضاکا قبلہ رخ نہ کرنا

شاید یہ سب سے اہم غلطی ہے جس کا ارتکاب نمازیوں کی اکثریت کرتی ہے۔ جو لوگ دورانِ نماز بالکل سیدھے قبلہ رخ پائوں رکھتے ہیں، ان کی تعداد انگلیوں پر شمار کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح ان لوگوں کی تعداد بھی جو اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو سجدہ میں بالکل سیدھی رکھتے ہیں۔ چنانچہ اس کا ہم بکثرت مشاہدہ کرتے ہیں کہ اکثریت کے اعضا شمالاً جنوباً ہوتے ہیں نہ کہ قبلہ کی طرف۔ یہ امر خلافِ استجاب ہے جس کی تصحیح ضروری ہے۔ حضرت ابوحمید ساعدیؓ سے روایت ہے:« کان رسول اللهﷺ إذا قام إلی الصلوٰة استقبل القبلة ...»(ابن ماجہ، باسناد صحیح )

'' آپﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنا رخ قبلے کی طرف کرتے۔ اس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ جب چہرے کا رخ قبلہ کی جانب ہوگا تو لا محالہ باقی اعضا بھی اسی جانب ہوں گے۔ ''

نیز اس کی تائید حضرت عائشہؓ کی روایت کردہ اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں آپﷺ سجدے میں اپنے دونوں پاؤوں کا انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف کئے ہوئے تھے۔ (صحیح ابن خزیمہ)

13۔ نماز باجماعت کے ہوتے ہوئے نوافل و سنن کی ادائیگی

اس مسئلے سے اکثر لوگوں کو واسطہ پڑتا ہے، اسی لئے ہم مساجد میں کثرت سے اس کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ نماز کی اقامت ہوچکی ہوتی ہے، اس کے باوجود لوگ نوافل و سنن بالخصوص فجر کی دو سنتوں میں مشغول ہوتے ہیں۔ ا س مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر فقہا نے اسے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ہم مختصراً اسے بیان کرتے ہیں۔ اقامت کے بعد نوافل و سنن کی ادائیگی کی دو صورتیں ہیں :

1. وہ لوگ جو نوافل و سنن (سنتیں چاہے فجر کی ہوں یا عصر کی ) پڑھ رہے ہوں اور نماز باجماعت کی اقامت کہہ دی جائے تو اس صورت میں نمازی جس حالت (قیام، رکوع یا سجدہ) میں ہو، فورا ً اپنی نماز کوسلام پھیر کر ختم کرے اور امام کے ساتھ نماز باجماعت میں شامل ہو۔ اس کی دلیل نبی اکرم ﷺکی یہ حدیث ہے: «عن أبي هريرة قال: قال رسول اللهﷺ إذا أقيمت الصلوٰة فلا صلاة إلا المکتوبة» یعنی ''حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا کہ جب (فرض) نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو پھراس کے سوا اور کوئی نماز نہیں۔'' (صحیح مسلم کتاب صلاۃ المسافرین)

شیخ ابن باز اور مولانا عبیداللہ رحمانی کا یہی مسلک ہے۔(فتاویٰ : ۴؍۳۷۶ و مرعاۃ المفاتیح: ۳؍۵۰۱)

2. وہ لوگ جوفجر کی پہلی دو سنتیں نہ پڑھ سکے ہوں اور جب وہ مسجد میں داخل ہوں تو نماز کی اقامت کہی جاچکی ہو، ایسی حالت میں بھی وہ امام کے ساتھ جماعت میں شریک ہوں۔ اس کی دلیل بھی مندرجہ بالا سطور میں ذکر کی گئی حدیث ہی ہے اور نمازِفجر کی ادائیگی کے بعد اگر وہ سنتوں کی قضا کرنا چاہیں تو انہیں فرائض کے فوراً بعد پڑھ لیں اور اگر ممکن نہ ہو تو طلوعِ آفتاب کے بعد پڑھ لیں۔ امام شافعی، ابن حزم اور ابراہیم نخعی رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔

حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ اس شخص کو مارتے تھے جو اپنی انفرادی نماز میں مشغول ہوتا تھا اور اقامت ہوچکی ہوتی تھی۔ (مرعاۃ المفاتیح: ۳؍۴۹۵)

14۔ بغیر کسی عذر کے فرض نماز کی گھر میں ادائیگی

یہ مسئلہ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس کا اندازہ ہم بغیر کسی عذر کے فرض نماز کی گھر میں ادائیگی کرنے والے افراد کی کثرت سے لگا سکتے ہیں۔ عوام الناس کی کثیر تعداد اس معاملے میں غفلت و سستی کا شکار ہے، صرف اس بنا پرکہ وہ اسے ایک معمولی مسئلہ خیال کرتے ہیں۔ چنانچہ واضح ہو کہ اسلام کے تمام اوامر و نواہی حکمت و فلسفہ سے معمور ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ملت ِاسلامیہ کو ایک بھی ایسا حکم نہیں دیا جس میں فوز و فلاح کے اَن گنت پہلو مضمر و پوشیدہ نہ ہوں۔ بالکل یہی معاملہ نما زباجماعت کا ہے جس کے فوائد وثمرات پر غوروفکر اور تدبر کے بجائے اس کی اہمیت و افادیت سے صرفِ نظر کیاجارہا ہے جو کہ ایک افسوسناک امر ہے۔

اس تفصیل سے قطع نظر کہ نما زباجماعت کے کس قدر فوائد ہیں، یہ پہلو قابل غور ہے کہ جو شخص نماز کی ادائیگی بطورِ رسم کرتا ہے، وہ مسجد میں کم ہی نظر آتا ہے اور اکثر و بیشتر گھر ہی میں نماز کی ادائیگی کرلیتا ہے۔ جبکہ وہ شخص جو اللہ کے حکم کی تعمیل کے ساتھ ساتھ نماز کے فوائد کا طالب بھی ہوتا ہے، نما زباجماعت پر مداومت و ہمیشگی کرتا ہے، اگرچہ کسی شرعی عذر کے بغیر اکیلے نماز پڑھنے والے کی نماز تو ہوجاتی ہے۔ (تفصیل کے لئے :تمام المنۃ ازالبانی: ص۲۷۷ اور تیسیر العلام: ۱؍۱۳۶) مگر ایسی عبادت سے کیا حاصل جو آپﷺکے حکم سے اعراض کرتے ہوئے ادا کی جائے۔

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ نما زباجماعت کی تاکید و تلقین میںجو احادیث وارد ہوئی ہیں ان میں سے چند ایک نقل کردی جائیں جو طوالت کا باعث تو ہوں گی مگر مسئلہ کی اہمیت اس کی متقاضی ہے:

1. حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

''قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، میں نے ارادہ کیا کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں اور جب یہ جمع ہوں جائیں تو نماز کے لئے اذان کہنے کا حکم دوں اور جب اذان ہوجائے تو لوگوں کو نماز پڑھانے کے لئے کسی شخص کو مامور کروں اور میں ان کو پیچھے چھوڑ کر ان لوگوں کے پاس جائوں جو (بغیر کسی عذر کے) جماعت میں حاضر نہیں اور ان کے گھر جلادوں۔ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ جماعت میں نہ آنے والوں میں سے اگر کسی کو یہ معلوم ہوجائے کہ اسے گوشت کی ایک موٹی ہڈی ملے یا دو اچھے گھر ملیں گے تو عشا کی نماز میں ضرور آئے۔'' (صحیح البخاری ،کتاب الاذان: باب وجوب صلاۃ الجماعۃ)

2. حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک نابینا شخص (عبداللہ بن امّ مکتومؓ ؛مرعاۃ المفاتیح : ۳؍۴۸۷) آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یارسول اللہﷺ! میرے لئے کوئی ایسا رہبر نہیں جو مسجد تک میری رہنمائی کرے، پھر اس نابینا نے آپﷺ سے درخواست کی کہ انہیں گھر میں نماز پڑھ لینے کی رخصت دی جائے، آپ ﷺ نے انہیں اجازت مرحمت فرما دی۔ جب وہ مجلس نبویؐ سے لوٹے تو آپﷺ نے انہیں بلوایا اور پوچھا کہ کیا تم نمازکی اذان سنتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں! تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تب تمہارے لئے مسجد میں نما زکے لئے حاضر ہونا ضروری ہے۔ (صحیح مسلم، سنن نسائی)

3. حضرت ابوالدردائؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

''جس بستی اور جس جنگل میں تین آدمی ہوں اور جماعت سے نماز نہ پڑھتے ہوں تو ان پر شیطان غالب رہتا ہے۔ لہٰذا تم جماعت کو اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ بھیڑیا ا س بکری کو کھا جاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو کر تنہا رہ جاتی ہے۔'' (مسند احمد، سنن ابی داود، سنن نسائی، صحیح ابن خزیمہ، باسناد ٍصحیح)

4. حضرت عبداللہ بن عباسؓ راوی ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ''جو شخص اذان کہنے والے یعنی مؤذن کی اذان سنے اور اس کی تابعداری (یعنی مسجد میں پہنچ کر جماعت میں شریک ہونے سے) اسے کوئی عذر نہ روکے... لوگوں نے پوچھا کہ عذر کیا ہے؟ فرمایا: خوف یا بیماری... تو اس کی نماز بغیر جماعت کے قبول نہیں ہوتی۔''

5. ابوالاحوصؓ نے کہا کہ عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایاکہ ''ہم نے دیکھا کہ نماز باجماعت سے صرف وہی منافق پیچھے رہ جاتے تھے جن کا نفاق معلوم اور کھلا ہوتا تھا (یعنی جن لوگوں کا نفاق پوشیدہ تھا، وہ بھی جماعت سے نماز پڑھتے تھے) یا بیمار رہ جاتے تھے۔ اور ان میں سے بھی جوچلنے کی طاقت رکھتا، وہ دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر آتا اور نماز میں ملتا تھا۔'' ا س کے بعد ابن مسعودؓ نے فرمایا کہ ''بے شک آپ ﷺنے ہمیں ہدایت کے طریقے سکھائے ہیں اور ہدایت کے ان طریقوں میں سے ایک طریقہ اس مسجد میں(جماعت سے) نماز پڑھنا ہے جس میں اذان دی جاتی ہو۔''

(صحیح مسلم، کتاب المساجد: باب فضل صلاة الجماعة)

امام غزالی بیان کرتے ہیں کہ سعید ابن مسیبؒ فرماتے تھے کہ ''بیس برس گزر گئے، جب بھی مؤذن اذان دیتا ہے، میں خود کو مسجد میں پاتا ہوں۔''

(احیاء علوم الدین از غزالی : ۱؍۲۷۴، کتاب اسرار الصلوٰۃ)

سطورِ بالا میں ذکر کئے گئے آثار ہی کی بنا پر امام احمد حنبل، عطا، اوزاعی، ابن ثور، ابن منذر، ابن خزیمہ اور ابن حبان رحمہم اللہ کے نزدیک نماز باجماعت فرضِ عین ہے۔ داود ظاہری نے مبالغہ کیا اور کہا کہ جماعت نماز کے لئے شرط ہے۔ امام شافعیؒ کے نزدیک نما زباجماعت فرضِ کفایہ ہے جب کہ حنفیہ اور مالکیہ کے نزدیک یہ سنت ِمؤکدہ ہے۔

قریب کے علما میں شیخ عبدالعزیز بن بازؒ اور شیخ محمدناصر الدین البانی ؒ کے نزدیک نماز باجماعت واجب ہے۔ (مجموعہ فتاویٰ : ۴؍۳۴۹ تا ۳۵۵) و تمام المنۃ: ص۲۷۵ تا ۲۷۷)

دین اسلام میں والدین کی اطاعت و فرمانبرداری امر مسلم ہے، جس سے فرار کسی صورت بھی ممکن نہیں۔ ا س کے باوجود اسلاف میں سے بعض ائمہ نے فرمایا کہ جماعت کے ترک کرنے میں والدین کی اطاعت جائز نہیں یعنی اگر وہ اپنی اولاد سے کہیں کہ نماز باجماعت چھوڑ دو تو اس میں ان کی فرمانبرداری جائز نہیں جیسا کہ امام بخاریؒ نے اپنی صحیح کے ترجمۃ الباب میں ذکر کیا ہے: «باب وجوب صلوٰة الجماعة وقال الحسن: إن منعته أمه عن العشاء في الجماعة شفقة لم يطعها» ''نماز باجماعت کے واجب ہونے کے بیان میں اور حسن بصریؒ نے کہا کہ اگر کسی کی ماں اس کو شفقت کی وجہ سے عشا کی نما زباجماعت پڑھنے سے روکے تو وہ اس کی اطاعت نہ کرے۔

(مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ کیجئے، مرعاۃ المفاتیح: ۳؍۵۱۲)

مندرجہ بالا بحث فرائض کے متعلق تھی جب کہ سنن و نوافل وغیرہ کی بغیرکسی عذر کے گھر میں ادائیگی افضل ہے جس پر مختلف روایات دلالت کرتی ہیں۔مزید تفصیل کے لئے :معارف السنن: ۴؍۱۱۰، از مولانا محمدیوسف بنوری اور أوجز المسالک إلی موطأ مالک:۳؍۲۴۴ تا ۲۴۶، از مولانا محمد زکریا کاندھلوی

٭ البتہ چند حالات میں جماعت سے پیچھے رہنا جائز ہے :

1. شدید سردی اور بارش کی حالت میں۔ ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ دورانِ سفر بارش کی ٹھنڈی رات مؤذن کو حکم دیتے کہ وہ اعلان کرے:«صلوا في رحالکم» '' اپنے اپنے خیموںمیں نماز پڑھ لو۔'' (متفق علیہ)

ایک روز بارش ہورہی تھی تو ابن عباسؓ نے مؤذن سے کہا کہ أشهد أن محمدا رسول الله کے بعد حي علی الصلوٰة نہ کہنا بلکہ یہ کہنا کہ صلوا في بیوتکم ''اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو'' لوگوں نے اس بات کو ناپسند جانا تو ابن عباسؓ نے فرمایا کیا تم اس بات پر تعجب کرتے ہو۔ حالانکہ یہ کام تمام کائنات سے افضل پیغمبر نے خود کیا تھا۔ یقینا جماعت واجب اور حق ہے کہ اس بات کو ناپسند جانتاہوں کہ تمہیں گھروں سے نکالوں کہ تمہیں کیچڑ اور پھسلن میں چلنا پڑے۔ (بخاری و مسلم)

سیدسابق ؒ فرماتے ہیں : اسی طرح اگر شدید گرمی ہو یا آندھی اور طوفان ہو۔ شدید اندھیرا ہو یا دشمن کا خوف ہو تو تب بھی جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا واجب نہیں۔

ابن بطالؒ فرماتے ہیں کہ علما کا اس بات پراجماع ہے کہ شدید بارش ، تاریکی، آندھی اور اس طرح کی دیگر صورتوں میں جماعت سے پیچھے رہنا جائز ہے۔ (فقہ السنۃ: ۱؍ ۲۳۵)

2. کھاناحاضر ہو: جیسا کہ ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

''اگر کوئی آدمی کھاناکھانے میں مشغول ہو تو وہ جلدی نہ کرے بلکہ اپنی ضرورت پوری کرے، خواہ نماز کھڑی ہوچکی ہو۔'' (بخاری)

3. تیسری صورت یہ ہے کہ آدمی کو قضائے حاجت کی ضرورت ہو۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ ''کھانا حاضر ہو تو نماز جا ئز نہیں اور نہ اس صورت میں کہ آدمی پیشاب یا پاخانہ کو روکے ہوئے ہو۔'' (مسلم)

15۔ سورۃ فاتحہ کی دو دو ، تین تین آیات بغیر وقفہ کے تلاوت کرنا

بعض امام جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ کی دو دو ، تین تین آیات ایک ہی سانس میں پڑھ جاتے ہیں۔ یہ طریقہ سنت ِنبویؐ کے خلاف ہے، چنانچہ حضرت اُم سلمہؓ سے روایت ہے کہ ''رسول اللہ ﷺ اپنی قراء ت میں ہر آیت کو الگ الگ کر کے پڑھتے تھے۔ آپؐ الحمد للہ رب للعالمین پڑھتے پھر ٹھہر جاتے۔ پھر الرحمن الرحیم پڑھتے پھر ٹھہر جاتے۔ پھر مالک یوم الدین پڑھتے۔'' ( ۶؍۳۰۲ ، الترمذی ۲۹۲۸)

امام دانی الملتقی۵؍۲ میں اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ ائمہ اور قرائِ سلف کی ایک جماعت آیات پر قطع (مراد ہر آیت پر رکنا) کو مستحب سمجھتے تھے اور امام حاکم، ؒدار قطنیؒ اور ذہبیؒ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ۔( زاد المعاد ۱؍۲۰۷)

پھر بعض امام خصوصاً نمازِ تراویح میں اس قدر تیز قراء ت کرتے ہیں کہ مقتدی بمشکل ہی سمجھ پاتا ہے کہ امام صاحب کی زبان سے کیا الفاظ نقل رہے ہیں۔ یہ طریقہ خلافِ سنت ہونے کے علاوہ قرآن تعلیمات کے بھی خلاف ہے ۔چنانچہ قرآن میں حکم ہے: ﴿وَرَ‌تِّلِ القُر‌ءانَ تَر‌تيلًا ٤﴾... سورة المزمل" ''کہ قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کیجئے۔''

16۔ سگریٹ نوشی کے بعد مسجدمیں آنا

اسلام نے اشیائِ خوردونوش میں سے ہر اس چیز کے استعمال کی ممانعت کی ہے جس کے اثرات نوعِ انسانی کے لئے مفید نہ ہوں۔ چنانچہ اسلام کی حرام کردہ اشیاے خوردونوش میں موجود نقصانات کی تحقیق بخوبی ہوچکی ہے جس کا تفصیلی ذکر علامہ ڈاکٹر یوسف قرضاوی نے اپنی کتاب الحلال والحرام في الإسلام میں کیا ہے۔ بلاشک و شبہ انہی ممنوع اشیا میں عصر حاضر کی ایک نئی ایجاد 'سگریٹ' ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق یہ کینسر کا باعث ہونے کے علاوہ ایک سگریٹ پینا گیارہ منٹ زندگی کو کم کردیتا ہے۔ یہ اور ان جیسی دوسری وجوہات ہی کی بنا پر علماے عرب کا اس کی حرمت پراتفاق ہے، جن میں شیخ عبدالعزیز بن بازؒ (سابق مفتی اعظم سعودی عرب) اور ڈاکٹر یوسف قرضاوی وغیرہ شامل ہیں۔ مسلمانوں کا اس نقصان دہ شے کو بے دریغ استعمال کرنا ایک تکلیف دہ حقیقت ہے۔(۱۲)

اس کے استعمال پر مستزاد یہ کہ لوگ سگریٹ نوشی کے فوراً بعد مسجد میں نماز کے لئے آجاتے ہیں اور ان کے منہ سے ان کی بدبو خارج ہورہی ہوتی ہے۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے :

«أن النبيﷺ قال في غزوة خيبر: من أکل من هذه الشجرة يعني الثوم فلا يقربن مسجدنا» (اللؤلؤ والمرجان از محمد فوادعبدالباقی: ۱؍۱۵۸ ، حدیث نمبر: ۳۳۱)

''آپ ﷺ نے غزوئہ خیبر میں فرمایا کہ جو شخص اس درخت یعنی لہسن میں سے کھائے وہ ہماری مسجد کے پاس نہ آئے۔''

دوسری حدیث حضرت جابر بن عبداللہؓ سے مروی ہے کہ

«ان النبی ﷺ قال: من أکل ثوما أوبصلا فليعتزلنا أو قال فليعتزل مسجدنا وليقعد في بيته »(اللؤلؤ والمرجان :حدیث ۳۳۳)

''نبی کریم ﷺنے فرمایاکہ جو شخص لہسن یا پیاز کھائے، وہ ہم سے یا ہماری مسجد سے الگ رہے اور اپنے گھر بیٹھا رہے۔'' (وہیں نماز پڑھ لے)

درحقیقت مندرجہ بالا احادیث سے مراد یہ ہے کہ ہر وہ چیز جس کی و جہ سے نمازیوں اور مسجد میں موجود فرشتوں کو تکلیف پہنچتی ہو، کھاکر مسجد میں آنا منع ہے جیسا کہ مولانا انور کشمیری ؒ اور شیخ عبداللہ بن عبدالرحمن (صاحب ِ'تیسیر العلام' )کا مسلک ہے۔ (فیض الباری : ۲؍۳۲۰و تیسیرالعلام :۱؍۲۷۰ )

اگر مبالغے پرمحمول نہ کیا جائے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ (کچے) لہسن اور پیاز کی بدبو سگریٹ کی بدبو سے کئی گنا کم ہے۔ لہسن اور پیاز کی بدبو تو وقتی ہوتی ہے جبکہ سگریٹ کی بدبو مستقل ہوتی ہے جس کا تجربہ کسی سگریٹ نوش کے پاس بیٹھنے والے کو بآسانی ہوسکتا ہے جبکہ اسے سگریٹ پئے کافی گھنٹے گزر چکے ہوں۔ چنانچہ اوّل تو ہر شخص سگریٹ پینے سے بچے، وگرنہ مسجد میں آتے وقت ایسا انتظام کرے کہ اس کا منہ سگریٹ کی بدبو سے بالکل پاک ہو۔ معروف سعودی مفتی ڈاکٹر صالح بن غانم سدلان کی بھی یہی رائے ہے۔ (صلاۃ الجماعۃ: ص ۳۸ )

لہسن اور پیاز کے متعلق مندرجہ بالااحادیث سے کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ ان کا کھانا حرام ہے ۔ یہ بالکل حلال ہیں، ہاں چند مخصوص حالات میں ان کے کھانے کی ممانعت ہے یعنی مسجد جانے سے قبل جیساکہ ذکر ہوا۔(فیض الباری : ۲؍۳۲۰ و فتح الباری : ۲؍۴۳۶، نسخہ از محمدفواد عبدالباقی)

17۔ عورت اور مرد کی نماز میں فرق کرنا

رسول اللہﷺ تمام مکلّفین خواہ انس ہوں یا جن، مرد ہوں یا عورت، سب کی طرف مبعوث کئے گئے۔ لہٰذا آپ تمام اُمور میں مرد و عورت سب کے لئے یکساں ہادی اور قابل اتباع ہیں۔ آپ کی ادا کردہ نماز سب کے لئے اسوہ ونمونہ ہے اور اس میں سب کے لئے ایک جیسے احکام ہیں الا یہ کہ نبی کریمﷺ نے خود مرد اور عورت کے درمیان تفریق کردی ہو۔ اب نماز جو اسلام کا دوسرا بڑارکن ہے، کو دیکھتے ہیں کہ اس میںرسول اللہﷺنے کیا فرق بتایا ہے؟ تتبع سے پتہ چلتا ہے کہ سوائے چند اُمور کے اور ان کا تعلق بھی نماز کے افعال سے نہیں ہے۔ مثلا ً نماز میں مرد اور عورت کے ستر میں فرق ہے۔ اسی طرح جب امام بھول جائے تو مرد کے لئے تسبیح ہے اور عورت کے لئے تالی بجانا(تصفیق) ہے۔ اس کے علاوہ کوئی فرق صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ جواحادیث فرق کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں وہ ضعیف اور موضوع ہیں جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔نماز کی کیفیت کے بارے میں جتنی احادیث ہیں، وہ مرد اور عورت کے بارے میں مطلق او رعام ہیں، ان کو بلادلیل مقید یا خاص کرنا درست نہیں ہے۔ لہٰذا عورت کے لئے نماز کا طریقہ وہی ہے جو مرد کے لئے ثابت ہے۔ کیونکہ رسول اللہﷺ کا یہ فرمانِ عام ہے:

«صلوا کما رأيتموني أصلي»(بخاری: ۶۳۱) تم ایسے نماز پڑھو جیسے تم نے مجھے پڑھتے دیکھا

اور کسی صحیح حدیث سے مرد وعورت کی نماز میں تخصیص نہیں ہوتی۔

18۔ رکوع کی رکعت کو رکعت شمار کرنا

رکوع کی رکعت کو رکعت شمار کرنابہت بڑی غلطی ہے۔ کیونکہ قیام، نماز کا رکن ہے اور اسی طرح سورۃ فاتحہ پڑھنا بھی ضروری ہے ۔چنانچہ ایک رکعت میں دو فرائض کو چھوڑنے والے کی رکعت کیسے ہوجائے گی۔ جہاں تک ابوبکرہ کی روایت کا الفاظ ہیں تو اس کے لفظ لا تعد میں متعدد احتمال ہیں۔ لہٰذا اس کو دلیل نہیں بنایا جاسکتا۔

19۔ رکوع کے بعد حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ نہ پڑھنا

نمازیوں کی اکثریت ربنا لک الحمد کے بعد مذکورہ کلمات نہیںکہتے۔ حالانکہ یہ الفاظ صحیح حدیث سے ثابت ہیں۔ حضرت رفاعہ بن رافع ازرقی ؒ فرماتے ہیں کہ

''ہم ایک روز نبی ﷺکے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔ جب آپؐ نے رکوع سے سر اٹھایا تو «سمع الله لمن حمده» فرمایا: پیچھے ایک آدمی نے کہا: «ربنا لك الحمد، حمداً کثيرا طيباً مبارکا فيه» جب آپؐ نے سلام پھیرا تو پوچھا: یہ کلمات کس نے کہے ہیں؟ اس آدمی نے کہا: یارسول اللہﷺ! میں نے کہے ہیں۔ تو آپؐ نے فرمایا: میں نے تیس فرشتوں کو دیکھا ہے، ان میں سے ہرایک کی کوشش تھی کہ وہ دوسروں سے پہلے اس کا ثواب لکھ کر اللہ کے دربار میں پیش کرے۔''

(صحیح بخاری:۷۹۹)

طوالت کے خوف سے چند اہم کوتاہیوں کی نشاندہی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نماز میں کوتاہیوں کی اصلاح کی جائے تاکہ سنت رسول ﷺ کے مطابق نماز کی ادائیگی ہوسکے۔ واللہ الموفق
حوالہ جات

(۱) لفظ الصلوٰۃ قرآن کریم میں ۹۹مرتبہ آیا ہے مگر نماز کے معنی میں ۹۱ مرتبہ ہے۔ دیکھئے: المعجم المفہرس لألفاظ القرآن الکریم از محمد فواد عبدالباقی۔ مادّہ ص ل و

٭ جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ پیغمبر علیہ السلام کا فرمان ہے :

''الذي تفوته صلوٰةالعصر فکأنما وتر أھله وماله''(بخاری: ۵۵۲)

''جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی، اس کا اس قدر نقصان ہوا تویا اس کا اہل و عیال اور مال ومتاع سب کچھ برباد ہوگیا''

اور ایک دوسری حدیث حضرت بریدہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ انے فرمایا: ''من ترك صلوٰة العصر فقد حبط عمله '' (بخاری: ۵۵۳) ''جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی اس کے تمام اعمال غارت ہوگئے۔'' (محدث)

٭ اسی طرح علامہ ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ'' زبان سے نیت کرنا دین اور عقل دونوںکے خلاف ہے۔ دین کے خلاف اس لئے کہ یہ بدعت ہے اور عقل کے خلاف اس لئے کہ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی کھانا تناول کرنا چاہتا ہے تو وہ کہے میںنیت کرتا ہوں اپنے ہاتھ کو اس برتن میںرکھنے کی۔ میں اس سے ایک لقمہ لوں گا پھر اس کو منہ میںرکھوں گا۔ پھر اس کو چباؤں گا۔ آخر اسے نگل لوں گا تاکہ میں سیر ہوسکوں۔ یہ تمام باتیں احمقانہ اور جاہلانہ ہیں۔ کوئی عقلمند اس قسم کی حرکت نہیں کرے گا، کیونکہ نیت کرنا اس امرکا غماز ہے کہ نیت کرنے والے کوامر واقعہ کا پورا پورا علم ہے۔ جب آدمی کو پتہ ہے کہ وہ کیا کررہا ہے تو پکی بات ہے کہ ا س نے اس کا م کی نیت بھی ضرورکی ہوگی۔ واقعہ کاعلم ہونے کے باوجود کسی کام کو بغیر نیت کے کرنا عقلی اعتبار سے اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح علم کے بغیر نیت کا حصول بھی ناممکن ہے اور ائمہ کا اس بات پر

اتفاق ہے کہ زبان سے نیت کرنا مشروع نہیں ہے۔ بلکہ جو شخص اس کام کو بار بار کرے، اس کے خلاف تادیبی کارروائی کرنا بھی ضروری ہے تاکہ اسے اس بدعت کے ارتکاب اور لوگوں کو اپنی اونچی آواز سے پریشان کرنے سے روکا جاسکا۔'' (فتاویٰ ابن تیمیہ:۱؍ ۲۳۲) ... اس کے بعد فرماتے ہیں کہ'' زبان سے نیت کرنا بالاتفاق بدعت ہے، قطعاً مستحب نہیں ہے۔ کیونکہ یہ کام نہ رسول اللہ  نے کیا اور نہ خلفائے راشدینؓ نے کیا۔''

امام ابن قیم ؒ فرماتے ہیں کہ: نبی ؐ جب نما زکے لئے کھڑے ہوتے تو بس اللہ اکبر کہتے اور اس سے پہلے کچھ نہ کہتے اور نہ الفاظ کے ساتھ اس طرح نیت کرتے کہ'' نیت کرتا ہوں فلاں نماز کے لئے، منہ طرف خانہ کعبہ کے، چار رکعات نماز فرض، فرض اللہ تعالیٰ کے ، پیچھے اس امام کے۔ یہ ساری باتیں بدعت کے زمرہ میں آتی ہیں۔کسی نے اس کے متعلق بسند صحیح کوئی چیزنقل نہیں کی۔ حتیٰ کہ کسی ضعیف مسند یا مرسل روایت میں بھی ان میں سے ایک لفظ بھی مروی نہیں ہے۔ بلکہ کسی صحابی سے بھی یہ الفاظ منقول نہیں اور نہ ہی تابعین اور ائمہ اربعہ میں سے کسی نے اس کو مستحسن قرار دیا ہے ۔بعض متاخرین کو نما زکے متعلق امام شافعیؒ کے اس قول سے دھوکہ لگا کہ نماز روزہ کی طرح ہی ہے اور کوئی شخص بغیر ذکر و اذکار کے نما زمیں داخل نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ ذکر سے مراد الفاظ کے ساتھ نیت کرنا ہے، حالانکہ امام شافعی ؒکی مراد ذکر سے تکبیر تحریمہ کے علاوہ کچھ نہیں۔ وہ اس کام کوکیسے مستحب قرار دے سکتے ہیں جس کو نبیؐ نے کسی نما زمیں نہیں کیا او رنہ ہی خلفاء اربعہ اور صحابہ کرامؓ میں سے کسی نے کیا۔ یہ تھی صحابہؓ کی سیرت اور ان کا طریقہ۔اگر ہمیں اس کے متعلق ایک لفظ بھی مل جاتا تو سرآنکھوں پررکھ کر اسے تسلیم کرلیتے۔ ان کے طریقہ سے زیادہ کامل طریقہ اور کوئی نہیں ہوسکتا اور سنت وہی ہے جو انہوں نے صاحب ِشریعت محمد اسے حاصل کی۔'' (زاد المعاد: ص ۲۰۱)

اسی طرح صحیح مسلم کی روایت ہے کہ کان رسول اللہ ﷺ یستفتح الصلوٰة بالتکبیر

کہ ''نبیؐ اپنی نماز کو تکبیر تحریمہ سے شروع کرتے تھے'' (مسلم :۱۱۱۰)

علامہ ناصرالدین البانی فرماتے ہیں کہ ''اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ ؐ''نیت کرتا ہوں واسطے نماز کے'' وغیرہ الفاظ سے نماز شروع نہیں کرتے تھے۔ لہٰذا یہ بالاتفاق بدعت ہے، بعض نے بدعت ِحسنہ اور سیئہ کا فرق بیان کیاہے۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ عبادت کے معاملہ میں ہربدعت گمراہی ہے کیونکہ نبیؐ کی حدیث کل بدعة ضلالة وکل ضلالة في النارکا عموم اسی بات کا متقاضی ہے۔'' (صفۃ صلوٰۃ النبیؐ:۷۶) (محدث)

(۲) مرقاۃ المفاتیح از ملا علی قاری حنفی: ۱؍۴۱، شیخ عبید اللہ رحمانی، شیخ عبدالعزیز بن باز اور علامہ محمد ناصر الدین البانی رحمہم اللہ کا بھی یہی مسلک ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے مرعاۃ المفاتیح: ۳؍۸۶، صفۃ صلاۃ النبیﷺ از محمد ناصرالدین البانی: ص۸۶، اور کیفیۃ صلاۃ النبیﷺ ازشیخ عبدالعزیز بن باز، ص۵

(۳) اس باب میں ایک روایت بیان کی جاتی ہے: عن أبي هریرة قال بینما رجل یصلي مُسبلا إزارہ إذ قال له ... الخ (سنن أبي داود، کتاب الصلاة: باب الإسبال في الصلوٰة) یعنی ''حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص چادر لٹکائے نماز پڑھ رہا تھا۔ سرورِکائنات ا نے (یہ دیکھ کر)اس سے فرمایا کہ جائو اور وضو کرو۔ وہ شخص گیا اوروضو کر آیا۔ ایک شخص نے آپ اسے عرض کیا کہ یارسول اللہ ا! آپؐ نے اس شخص کووضو کرنے کا حکم کیوں دیا؟ (حالانکہ وہ باوضو تھا) آپ ا نے فرمایا کہ وہ اپنی چادر لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا اور جو شخص چادر لٹکائے ہوئے ہو، اللہ تعالیٰ اس کی نماز قبول نہیںکرتے۔

لیکن اس روایت میں ضعف ہے کیونکہ اس کے رواۃ میں سے ایک راوی ابوجعفر ہے جوغیر معروف ہے۔ اس لئے نماز میں چادر لٹکانے کا گناہ اپنی جگہ لیکن اس کے لئے اس روایت سے استنباط نہیں کیا جاسکتا۔ روایت کی تخریج کے لئے دیکھئے تنقیح الرواۃ فی تخریج أحادیث المشکوٰۃ: ۱؍۱۳۷، ناشر المجلس العلمی السلفی لاہور

(۴) دیکھئے نیل الاوطار از شوکانی: ۲؍۲۷۲تا ۲۷۷ ... حنفیہ کے نزدیک نماز میں اعتدال و اطمینان فرض نہیں، واجب ہے۔ یعنی اگر نماز سکون و اطمینان سے نہ پڑھی جائے تو اگرچہ نماز ہوجائے گی لیکن واجب کو ترک کرنے کا گناہ ہوگا۔ دیکھئے کتاب الفقہ علی المذاہب الأربعہ از عبدالرحمن الجزیری: ۱؍۲۳۴، کتاب الصلاۃ

(۵) ان کا نام خلاد بن رافع تھا جیسا کہ امام شوکانی ؒ نے ابن ابی شیبہ کے حوالہ سے بیان کیا۔ (نیل الاوطار:۲؍۲۷۳)

(۶) خشوع اور خضوع دو الگ الگ معنی والے الفاظ ہیں۔ خضوع کہتے ہیں دل کی عاجزی و انکساری کوجب کہ خشو ع ظاہری عاجزی و فروتنی کا نام ہے۔

٭ بعض نے اسے مکروہ کہاہے۔بعض نے مطلقاً جواز کا فتویٰ دیا ہے، کیونکہ کراہت کے سلسلے میں مروی حدیث صحیح نہیں ہے۔ ابن قیمؒ نے اس بارے میں بحث کرتے ہوئے آخر میں فرمایا ہے :

''یہ کہنا درست ہوگا کہ آنکھوں کو کھولنا اگرچہ خشوع و خضوع میں خلل انداز نہیں ہوتا او ریہی افضل ہے۔ لیکن اگر نمازی کے اردگرد کی آرائش و زیبائش، سجاوٹ اور سامانِ زینت اس کی نماز اور خشوع و خضوع میں خلل انداز ہوں یا اس کے علاوہ جن چیزوں کی وجہ سے دل الجھن او رتشویش کا شکار ہو تو اس صورت میں آنکھیں بند کرنا، قطعاً مکروہ نہیں بلکہ بایں صورت کراہت کی بجائے استحباب کا فتویٰ دینا شریعت کے اُصولوں اور اس کے مقاصد کے زیادہ قریب ہے۔'' (محدث)

(۷) فجر کی سنتوں کی قضا کے مسئلے میں علما نے اختلا ف کیا ہے۔ چنانچہ امام ابوحنیفہ اور قاضی ابو یوسف رحمہما اللہ کی رائے میں جس شخص کی فجر کی سنتیں رہ جائیں اور وہ فرض ادا کرلے تو ایسی صورت میں سنتوں کی قضا نہ طلوعِ آفتاب سے پہلے ہے اور نہ طلوعِ آفتاب کے بعد۔ لیکن اگر سنتیں اور فرض دونوں ہی رہ جائیں تو پھر وہ فرضوں کے ساتھ زوالِ آفتاب سے پہلے قضا پڑھی جائیں گی۔ امام محمدؒ کی رائے میں محض سنتوں کی قضا بھی کی جاسکتی ہے مگر طلوعِ آفتاب کے بعد سے زوال تک۔ حنفیہ ہی میں سے ابن الملکؒ کی رائے کے مطابق فجر کی سنتوں کی قضا نمازِ فجر کے بعد طلوعِ آفتاب سے قبل کی جاسکتی ہے۔ یہی مسلک امام شافعیؒ کا ہے اور اہل حدیث کا رجحان بھی اسی جانب ہے۔

مزید توضیح کے لئے دیکھئے: أوجز المسالک الی موطا مالک از مولانا محمد زکریا کاندھلوی ؒ : ۲؍۳۸۲ تا ۳۸۴، مظاہر حق شرح مشکوٰۃ المصابیح از علامہ نواب محمد قطب الدین خان دہلوی: ۱؍۶۹۵ ، ۶۹۶

(۸) امام ابوحنیفہؒ کا اس بارے میں مسلک یہ ہے کہ جو شخص مسجدمیں داخل ہو اور نما زِ فجر کی اقامت ہوچکی ہو تو اگر تو اسے اُمید ہو کہ وہ نمازِ باجماعت کے ساتھ دوسری رکعت پالے گا پھر تو وہ فجر کی سنتیں پڑھ لے مگر مسجد سے باہر اور اگر اسے دونوں رکعتوں کے گزر جانے کا خوف ہو تو پھر وہ امام کے ساتھ شامل ہو اور سنتوں کی ادائیگی بعد میں نہ کرے۔ مولانا انور کشمیری ؒ نے امام صاحب ؒ کا یہی مسلک بیان کیا ہے۔ دیکھئے فیض الباری علیٰ صحیح البخاری: ۲؍۱۹۷، ۱۹۸

(۹) اسی بناء پرامام نوویؒ فرماتے ہیں کہ بغیر کسی عذر کے اکیلے نماز پڑھنے والے سے نماز کی فرضیت تو ساقط ہوجائے گی مگر اس کے ثواب سے وہ محروم رہے گا جیسے اگر کوئی شخص غصب کی ہوئی زمین پر نماز پڑھے تو اس کے ذمہ سے نماز کی فرضیت تو ساقط ہوجائے گی مگر اسے نما ز کا ثواب نہیں ملے گا تفصیل کیلئے ملاحظہ کیجئے: مرقاۃ المفاتیح از ملا علی قاری حنفی: ۳؍۶۰

(۱۰) سنن ابی داود۔ عموم کے لحاظ سے یہی چند ایک عذر ہیں جن کی وجہ سے اکیلے نماز پڑھی جاسکتی ہے یعنی بیماری کی انتہائی شدت، جان ، مال اور عصمت وغیرہ کا خطرہ اور بارش کے اوقات میں اباحت ہے۔ دریں اثنا خود ساختہ اعذار کی بنا پر نماز باجماعت ترک نہیں کی جاسکتی کیونکہ جو شخص بھی نماز باجماعت چھوڑتا ہے، اسے کوئی نہ کوئی عذر تو لازمی درپیش ہوتا ہے مگر دین اسلام میں من مانی تاویلات سے احتراز کرنا چاہئے اور فاسد وجوہ کی بنا پر نما زباجماعت کو نہیں چھوڑنا چاہئے۔

(۱۱) احناف کی کتب فقہ میں جماعت سے متعلق دو قسم کے اقوال ملتے ہیں، سنت مؤکدہ کے اور واجب کے، مگر واجب کا قول ہی راحج ہے اور اکثر محققین احناف کا مسلک بیان کیا گیا ہے، دیکھئے مظاہر حق جدید از نواب قطب الدین خان دہلوی: ۱؍۷۰۰ دیگر ائمہ کے مذاہب سے آگاہی کے لئے دیکھئے، فتح الباری لابن حجرعسقلانی: ۲؍۱۶۰

(۱۲) سگریٹ نوشی کے مکمل نقصانات کا بیان اور اسے حلال یا مکروہ ثابت کرنے والے دلائل کا تجزیہ ایک علیحدہ مضمون کا محتاج ہے تاہم کچھ تفصیل کیلئے دیکھئے: توجیہات إسلامیہ لاصلاح الفرد والمجتمع از شیخ محمد بن جمیل زینو: ص۱۶۵ تا۱۶۸ اور حرمت ِسگریٹ ازمولوی عبدالوحید مکی

محدث کا زرِسالانہ ادا نہ کرنے والوں سے گذارش

محدث کا سابقہ شمارہ 'فتنۂ انکار حدیث' پر خصوصی اشاعت تھا، تین سو صفحات پر تین ماہ (اگست ،ستمبر اور اکتوبر ۲۰۰۲ئ) کے بالمقابل یہ شمارہ ادارئہ محدث نے اپنے قارئین کو پیش کیا۔اس شمارے کو بڑی پذیرائی ملی اور اب تک معروف اہل علم وقلم کی مبارکبادیں موصول ہورہی ہیں، جس پر ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں !!

یاد رہے کہ جن حضرات کے ذمہ محدث کا زرِسالانہ گذشتہ چھ ماہ سے واجب الادا ہے، یعنی مارچ ۲۰۰۲ء سے انہوں نے زرِتعاون ادا نہیں کیا، انہیں یہ خصوصی شمارہ نہیں بھیجا گیا۔ جب کہ باقی قارئین کو بطورِ خاص کورئیر سروس کے ذریعے ۱۲؍اکتوبر کو ارسال کیا جا چکا ہے۔جن کو اب تک نہ ملا ہو، وہ فوری طور پر خط ؍ فون کے ذریعے ادارہ سے منگوائیں۔

ہماری اپنے قارئین سے مؤدبانہ گذارش ہے کہ وہ اپنے ذمہ واجبات ادا کریں تاکہ انہیں اشاعت ِخاص سمیت آئندہ بھی محدث کی باقاعدہ ترسیل جاری رکھی جاسکے۔ بصورتِ دیگر نومبرکے علاوہ دسمبر اور جنوری کے آئندہ دو شماروں کی ترسیل کے بعد ان کے نام مستقل طور پر ڈاک فہرست سے مجبوراً کاٹ دئیے جائیں گے۔

محدث خالصتاً ایک دینی جریدہ ہے، جس پر لاکھوں روپے کے اخراجات اٹھتے ہیں اور ادارہ کو یہ نقصان اہل خیر کے تعاون سے ہی پورا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے دینی جریدہ کو مفت وصول کرنا مالی خیانت ہے، اور اس کا تعارف کرانا، اسے خریدار مہیا کرنا یقینا بڑا کارِ ثواب ہے۔اگر آپ رمضان میں ایک خریدار کا اضافہ کریں گے تو اس سے محدث کی آواز میں دوگنا اضافہ ہو گا۔اُمیدہے ہمارے قارئین رمضان المبارک میں اپنا دست ِتعاون بڑھائیں گے !! ادارہ

جیسا کہ قارئین کو بتایا جاچکاہے، سابقہ شمارہ ۴ ماہ کی ضخامت کا حامل ہونے کے باوجودقانونی تقاضوں کی تکمیل کیلئے

۲ ماہ (اگست اور ستمبر۲۰۰۲ئ) کے بالمقابل دیا گیا، جبکہ موجودہ شمارہ ۸۰ صفحات کے ساتھ دوماہ (اکتوبر اور نومبر) کاہے۔