٭سوال: دوران حمل عورتیں مٹی کھاتی ہیں،ایسا کرنا حرام ہے یا مباح ؟عام مٹی اور گاچنی مٹی دونوں کا ایک ہی حکم ہے؟ نیز روزے کی حالت میں مٹی کھانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟

جواب: امام شوکانی ؒ نے فتح القدیر میں آیت ﴿هُوَ الَّذى خَلَقَ لَكُم ما فِى الأَر‌ضِ جَميعًا...٢٩ ﴾... سورة البقرة" سے استدلال کیا ہے کہ مٹی کھانا حرام ہے۔ گاچنی چونکہ مٹی کی ایک قسم ہے لہٰذا وہ بھی حرام ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مٹی انسانی صحت کے لئے شدید مضرہے ،اس لئے بھی اس کا کھانا غیر درست ہے۔ علامہ عجلونی ؒنے کشف الخفاء(ج ۱؍ص۱۷۴) میں اس کی حرمت کے متعلق چند احادیث نقل کی ہیں لیکن یہ سب ضعیف ہیں... جب مٹی کھانا حرام ہے تو ظاہر ہے کہ مٹی کھانے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔

٭سوال : اگر کسی نے کھجور کی گٹھلی ، کنکری، لوہا ، لکڑی، چمڑے کا ٹکڑا وغیرہ نگل لیا تو کیا اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا؟

جواب:فقیہ ابن قدامہ ؒاپنی کتاب المغنی (ج۴؍ ص۳۵۲،۳۵۳) میں فرماتے ہیں کہ ہر وہ شئ جو پیٹ میں داخل ہو، اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے،کیونکہ یہ کھانے کے مشابہ ہے۔ مذکورہ چیزیں بھی اسی حکم میں ہیں۔

٭ سوال: 'آگے' یا 'پیچھے' بذریعہ حقنہ کوئی دوا ڈالنے سے روزہ ٹوٹے گا یا نہیں؟

جواب: المغنی (ج ۴؍ ص۳۵۳) میں ابن قدامہ ؒ فرماتے ہیں کہ «أو مايدخل إلی الجوف من الدبر بالحقنة» حقنہ کے ذریعہ جو دوا پیٹ میں داخل ہو، اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

٭سوال:کسی شخص کو خود بخود قے آئی اور اس نے سمجھا کہ شائد خود بخود قے آنے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے،اس غلط فہمی کی وجہ سے اس نے دانستہ جماع کرلیا تو کیا اس پر کفارہ واجب ہے یا نہیں؟

جواب:اس صورت میں کفارہ واجب نہیں، ایک مرفوع روایت میں ہے: «إن اﷲ تجاوز عن أمتي الخطأ والنسيان وما استکرھوا عليه» ''بے شک اللہ تعالی نے غلطی، بھول اور اور جبر سے ہونے والے کاموں سے درگزر فرمادیا ہے۔ '' (فتح الباری :ج۹؍ص۳۹۰)

اسی طرح قرآنِ مجید میں ہے: ﴿رَ‌بَّنا لا تُؤاخِذنا إِن نَسينا أَو أَخطَأنا...٢٨٦ ﴾... سورة البقرة ''اے اللہ !اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کر لیں تو ہمارا مؤاخدہ نہ کرنا ۔''

٭سوال :مالکیہ کے نزدیک اگر کسی شخص نے پانی، تیل یا کوئی بھی چیز آنکھ، ناک یا کان میں ڈالی یا سر میں تیل ڈالا یا سر اور پاؤں پر مہندی لگائی اور مذکورہ چیز اندر ہی اندر حلق تک پہنچ گئی،حلق میں سرمہ یا تیل یا مہندی وغیرہ کا ذائقہ محسوس ہوا تو کیا اس سے قضا اور کفارہ میں سے کچھ واجب ہوگا یا نہیں؟

جواب: صحیح بات یہ ہے کہ مذکورہ اشیا کے استعمال سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ ملاحظہ ہو صحيح بخاری باب اغتسال الصائم اور «باب قول النبيﷺ إذا توضأ فليستنشق بمنخرہ الماء»

٭سوال : روزہ کی حالت میں اگر مشت زنی کرنے سے انزال ہوجائے تو کیاکفارہ واجب ہے؟

جواب: مشت زنی سے اِنزال شہوت سے ہو تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے ،کیونکہ یہ صورت شہوت کے بیدار کرنے میں اس بوسے کی طرح ہوگی، جس سے انزال ہو اور بلا شہوت خارج ہونے میں کوئی شئ واجب نہیں۔ ( المغنی: ج ۴ ،ص۳۶۳)

٭سوال: کسی معقول ضرورت کے بغیر قبل یا دُبر میں انگلی داخل کرنے سے روزہ فاسد ہوتا ہے یا نہیں۔اُنگلی باہر نکالنے کے بعد اگروہ تر حالت میں تھی تو کیا اس سے حکم میں کوئی فرق پڑے گا یا نہیں ؟

جواب: 'قبل 'یا 'دبر 'میں محض انگلی داخل کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہاں البتہ اگر شہوت کو بیدار کرنا مقصود ہو اور بالفعل اِنزال بھی ہوجائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا ،محض انگلی کے تر ہونے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

٭سوال: بغیر کسی شرعی احترام کے محض ازراہِ محبت ، قبر کا بوسہ لینے کا کیا حکم ہے ؟ویسے یہ سجدے کے مشابہ معلوم نہیں ہوتا۔

جواب:قبر کا بوسہ اس لئے منع ہے کہ شریعت میں اس کا جواز ثابت نہیں ہے ،اور پھر ظاہر ہے کہ قبر کا بوسہ لینا سجدہ کے مشابہ ہے ،جس کی ممانعت میں کوئی شبہ نہیں۔

٭سوال :دانستہ جماع کرنے سے قضا اور کفارہ دونوں واجب ہوجاتے ہیں۔ کیا یہ صرف ماہ رمضان کے روزے سے مخصوص ہے اور نفلی روزہ کی حالت میں جماع کرنے سے صرف قضا واجب ہوگی؟

جواب:یہ صرف رمضان کے ساتھ خا ص ہے۔ المغنی :ج۴،ص۳۷۸ میں ہے«ولا تجب الکفارة بالفطرفي غيررمضان في قول أهل العلم وجمهورالفقهاء» اہل علم اور جمہور فقہا کے نزدیک رمضان کے علاوہ افطار کی صورت میں کفارہ واجب نہیں۔''

٭سوال:ماہِ رمضان میں جماع کے علاوہ کسی اور طریقے سے دانستہ روزہ توڑنے سے تو صرف قضا واجب ہوتی ہے ،لیکن جماع کے ساتھ روزہ توڑنے سے ، قضا کے ساتھ کفارہ کا حکم کیوں ہے؟

جواب:اس شخص نے رمضان کے مبارک مہینہ میں معصیت کا ارتکاب کر کے رمضان کی حرمت کو پامال کیا اور اپنے نفس کو برباد کیا ہے ،اس بنا پر اس کا مداوا کفارہ کی صورت میں رکھا گیا ہے تاکہ پاک صاف ہوجائے۔

٭سوال: جو شخص رمضان کے قضا روزے رکھ رہا ہے اور اس قضا روزہ کی حالت میں اس نے جماع کرلیا ،حنفیہ کے نزدیک اس پر کفارہ نہیں ہے ، تو کیا ان کا یہ کہنا درست ہے ؟

جواب: واقعی اس صورت میں کفارہ واجب نہیںہوگا،کیونکہ کفارہ کا تعلق ماہِ رمضان سے ہی ہے نہ کہ قضائِ رمضان سے۔ (المغنی:ج۴،ص۳۷۸)

٭سوال: کیا شافعیہ کا یہ کہنا درست ہے کہ چونکہ مسافر کو رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے، لہٰذا اگر اس نے سفر کی حالت میں روزہ رکھا اور پھر جماع کے ذریعے اسے توڑا ، یا کسی نابالغ نے روزہ توڑا تو ان دونوں پر کفارہ نہیں ہوگا؟

جواب:رمضان میں افطار کی صورت میں مسافر پر کفارہ واجب نہیں ہے۔ (المغنی: ج۴ ،ص۳۴۸) نابالغ کے روزرہ توڑنے کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ اس کا روزہ توڑنا بھی بلا جماع کے ہے۔

٭سوال: کیا مالکیہ اور حنفیہ کا یہ کہنا درست ہے کہ نابالغ بچی سے جماع کرنے سے اگر اِنزال نہ ہو تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ نیز بتائیے کہ نابالغ بچی کے ساتھ جماع کرنے سے اِنزال ہوجائے تو کفارہ بھی واجب ہوگا یا صرف قضا؟

جواب: رمضان میں نٰابالغ بچی کے ساتھ جماع کرنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا ،کیونکہ دخول حاصل ہے۔جو مسلک اس کے خلاف ہے وہ مرجوح ہے۔اسی طرح محض دخول سے ہی کفارہ واجب ہوجاتا ہے،خواہ انزال ہو یا نہ ہو ،جیسا کہ حد ِزنا بھی محض دخول سے قائم ہوجاتی ہے۔ (المغنی: ج۴،ص۳۷۵)

٭سوال: مذاہب ِاربعہ میں رمضان المبارک میں دن کے وقت روزہ نہ رکھنے والے پر بھی روزہ توڑنے والے اُمور سے باز رہنا واجب ہے، جس شخص کا روزہ نہیں اسے کھانے پینے وغیرہ سے اضافی گناہ ہونے کی کیا و جہ ہے؟

جواب:سائلہ نے یہ صورت عمومی طور پر ائمہ اربعہ کی طرف منسوب کی ہے ،حالانکہ یہ ان لوگوں کے ساتھ خاص ہے جن پر روزہ واجب ہو اور اس کے باوجود وہ روزہ نہ رکھیں ۔ایسے لوگوں کو ائمہ کے نزدیک، روزہ توڑنے والی چیزوں سے باز رہنے کا پابند بنانا، محض رمضان کے احترام کی خاطر ہے، اس کے علاوہ کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ (المغنی :ج۴،ص۳۸۷ تا۳۸۹)

٭سوال: حدیث ہے کہ '' جس شخص نے رات کو روزے کی نیت نہ کی، اس کا روزہ نہیں۔'' اس کے باوجود کیا بعض فقہا کا ایسے شخص کو جماع کی و جہ سے کفارے کا حکم دینا درست ہے؟

جواب: اس حالت میں کفارے کا حکم انہوں نے اس لئے دیا ہے کہ (نیت کے بغیر رکھا ہوا روزہ بھی) صورۃ ً روزہ ہی ہے۔