291-Aug 2005

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

جاويد احمد غامدى كے زير نگرانى سرگرم حلقہ اشراق كى تحقیق و تنقيد اور دلچسپیوں كا مركز ايسے مسلمہ اُمورہيں جن كے بارے ميں اُمت ِمسلمہ ميں چودہ صديوں سے عمومى طور پر اتفاقِ رائے پايا جاتا ہے- چونكہ عالمى سطح پر سپر قوتوں كے ايجنڈے كے مطابق اسلام اور مغربى تہذيب كى كشمكش ميں ايسے بعض مسلمات كو ہدفِ تنقيد بنايا جارہا ہے، اس لئے مسلمانوں كى طرف سے اس جارحيت كا مناسب دفاع كرنے كى بجائے اس حلقہ نے يہ آسان راہ اختيار كى ہے كہ شریعت ِاسلاميہ كى نصوص ميں پائے جانے والے بعض احتمالات كو يا ائمہ اسلاف كے بعض اقوال كو سياق و سباق سے جدا كركے ان سے من مانا مطلب كشيد كر ليا جائے- حلقہ اشراق كا مسلماتِ اسلاميہ كے ساتھ يہ رويہ علم وتحقیق كے ميدان ميں ذہنى مرعوبيت اور فكرى ہزيمت كا آئينہ دار ہے !!

ممتاز علمى ماہنامے 'محدث' ميں گاہے بگاہے غامدى صاحب كے ايسے افكار پر تبصرہ بهى شائع ہوتا رہتاہے- حال ہى ميں عورت كى امامت كے مسئلہ پر جب 'اشراق' نے اُمت مسلمہ سے ہٹ كر ايك بالكل نرالا موقف شائع كيا تو بطورِ خاص 'محدث' كے جون 2005ء كے شمارے ميں اس كو موضوعِ بحث بناياگيا اور نامور علماء كرام كے قلم سے ان كى فاسد تاويلات كى قلعى كہولى گئى- جن حضرات نے اس شمارے كا بالاستيعاب مطالعہ كيا ہے وہ بخوبى جانتے ہيں كہ محدث كا يہ شمارہ تحقیقى اعتبار سے كس پايہ كا ہے اوراس ميں كس قدر معيارى اور متوازن اُسلوب ميں غامدى حلقہ كے دلائل كى حقيقت پيش كركے نفس مسئلہ پر قرآن و حديث سے اسلامى موقف كى وضاحت كى گئى ہے- حلقہ اشراق كے پاس ان ميں كسى ايك دليل كا بهى علمى جواب تو نہيں تها، ليكن اُنہوں نيحسب ِروايت اصل مسئلہ پر قرآن وسنت كے مستند دلائل كوبحث كى بنياد بنانے كى بجائے كچھ نئے شگوفے چهوڑنے شروع كرديے- اگر علمى تحقيق كايہى ڈھنگ رہے كہ سابقہ اعتراضات كى وضاحت كى بجائے نئے سوالات پيدا كر ديے جائيں تو اس سے بحث طول تو پكڑ سكتى ہے، نتيجہ خيز ہرگز نہيں ہو سكتى- چنانچہ اشراق كے شمارئہ جولائى ميں 'محدث' كے اس شمارے كے بارے ميں دومضامين كے ذريعے اسى قسم كے بعض نئے شبہات پيدا كر كے امامت ِزن كے مسئلہ كو دهندلانے كى ناكام كوشش كى گئى ہے- زير نظر مضمون ميں اشراق كے ايسے ہى بعض مغالطات كى وضاحت كى گئى ہے :

جناب خورشيد عالم كے پيش كردہ مغالطے
(1) محدث كے اس شمارے پر سب سے بڑا اعتراض يہ اٹهايا گيا ہے كہ اس ميں شائع ہونے والے مختلف مضامين ميں ايك ہى موقف اختيار نہيں كيا گيا بلكہ مقالہ نگاروں كاآپس ميں اختلاف ہے- اس لئے جواب كى بهى كوئى خاص ضرورت نہيں !
جناب خورشيد عالم كا يہ اعتراض صرف اپنے موقف پر اصرار كرنے كى ايك ناروا كوشش ہے- تنوع كو تضاد بنا كر پيش كرناعلمى ديانت كے منافی ہے- موصوف كى سارى زندگى درس وتدريس ميں گزرى ہے ، اس كے بعد اگر وہ تنوع او رتضاد كے فرق كو ملحوظ نہ ركهيں تو يہ امر باعث ِحيرت ہے- بطورِ مثال سيرت النبى كے موضوع پر ہونے والے جلسے ميں ہر مقرر نبى كريم ﷺكى ذاتِ گرامى كے بارے ميں اپنے خيالات وجذبات مختلف انداز سے پيش كرتا ہے اور آپ كى عظمت يا اُمت كے ساتھ شفقت كو ہر ايك نئے ڈھنگ سے بيان كرتا ہے، جبكہ تمام كا مقصد نبى كريم ﷺكى شانِ رسالت كو ہى اجاگر كرنا ہوتا ہے- اس طرح ہونے والى تمام تقارير پر اگر كوئى من چلا يہ الزام عائد كردے كہ تمام مقررين نبى ﷺكى ايك ہى اُسلوب سے شان بيان كريں تب ہى آپ كى عظمت ثابت ہوگى تو اس اعتراض كو آپ كيا حيثيت ديں گے ؟

حقيقت يہ ہے كہ ايك ہى موضوع كو مختلف پہلووں سے پيش كرنا ايك طرف تواس كى صداقت كاواضح ثبوت ہوتاہے، دوسرى طرف اس سے يہ بهى پتہ چلتا ہے كہ ہر شخص كو اپنى بات پيش كرنے كى آزادى بهى حاصل ہے، گويا كوئى من گهڑت موقف وہاں دهرايا نہيں جارہا-البتہ تمام محققین كا مقصد ومدعا اور نتيجہ وخلاصہٴ بحث اگر ايك دوسرے كے متضاد ہو تو ايسى صورت ميں اسے ضرور 'تضاد' كہا جانا چاہئے۔

يہى صورتحال 'محدث' ميں شائع ہونے والے امامت ِزن كے مضامين كى ہے- ان مضامين ميں كسى ايك مضمون سے بهى اگر يہ بات ثابت ہوتى ہے كہ كوئى ايك محقق بهى امامت زن كا قائل ہے تو جناب پروفيسر صاحب كا اعتراض قبول، اور اگر سب مضمون نگاروں كے دلائل كا نتيجہ اور مدعا يہ ہے كہ مردوں كے ليے عورت كى امامت كى اسلام ميں كوئى گنجائش نہيں تو پهراس تنوع كو تضاد باور كرا كے قارئين كو كيوں كر دهوكہ ديا جاسكتاہے ... ؟

حديث ِاُمّ ورقہ  كى صحت وضعف
(2) پروفيسرخورشيد عالم صاحب كو اس امر پر بهى اعتراض ہے كہ حضرت اُمّ ورقہ كى حديث كے صحت وضعف پر تمام مقالہ نگارانِ محدث كا آپس ميں اتفاق نہيں ہے۔

ليكن پروفيسر موصوف كا يہ اعتراض قطعاً درست نہيں- اُنہوں نے جانتے بوجھتے اُمت مسلمہ كے متفقہ موقف كے بارے ميں اپنے قارئين كو اُلجھانے كى كوشش كى ہے حالانكہ اُنہوں نے اپنے مضمون ميں خود اس حديث كى متعدد اسناد بيان كى ہيں-در اصل جن اہل علم نے اس حديث پر ضعف كا حكم لگايا ہے، وہ اس كى كسى كمزور سند كى بنا پر حديث كو ضعيف قرار دے رہے ہيں،جبكہ جن دوسرے اہل علم نے اس حديث كو صحيح قرار ديا ہے ، وہ ديگر اسانيد كے ذريعے اس متن كو حاصل ہونے والى تقويت كى بنا پر ايسا كررہے ہيں-متعدد اسناد والى ايسى حديث كو ہى حسن لغيرہكہتے ہيں- فن حديث سے آگاہ لوگ اس امر كو بخوبى جانتے ہيں كہ بہت سى اسناد اپنے 'توابع' يا 'شواہد' مل جانے كى بنا پر قابل اعتبار ہوجاتى ہيں۔

آسان الفاظ ميں اس بات كو سمجھنے كے لئے اسلام كا اُصولِ شہادت سامنے ركهيے-مثلاً اكیلى عورت اگر گواہى دے تو وہ گواہى نامكمل ہوتى ہے، اگر اس كے ساتھ دوسرى عورت شريك ہوجائے تو ايسى صورت ميں دو ناقص مل كر ايك پختہ شہادت كے قائم مقام ٹھہرتى ہيں- اس بات كو قرآنِ كريم ميں يوں ذكر كيا گيا ہے :
فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَ‌جُلَيْنِ فَرَ‌جُلٌ وَامْرَ‌أَتَانِ مِمَّن تَرْ‌ضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَن تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ‌ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَ‌ىٰ...﴿٢٨٢﴾...سورۃ البقرۃ
"اگر دو مرد نہ ہوں تو ايك مرد اور دوعورتيں كافى ہيں جنہيں تم گواہوں ميں سے پسند كرو، يہ كہ ايك عورت بھٹكگئى تو دوسرى اس كو ياد دلادے۔"

محترم پروفيسر صاحب عمرگزيدہ بزرگ ہيں- اہل حديث علما كى ہم نشینى كے دعوے دار ہونے كے باوجود اگر فن حديث كى اتنى موٹى سى بات تك ان كا ذہن نہيں پہنچ پايا تو يہ امر باعث ِحيرت ہے- اُميد ہے كہ اس وضاحت كے بعد 'محدث' كے مقالہ نگاروں كا حديث اُمّ ورقہ كى صحت و ضعف ميں پيش كيا جانے والا اختلاف ...جو محض اعتبارى ہے،حقيقى نہيں...ان كے خلجان كو دور كر دےگا۔

(3) يہاں اس امر كى نشاندہى بهى ضرورى ہے كہ اہل اشراق كے استدلال كا مركز و محور حديث ِامّ ورقہ ہے جس كے بارے ميں ان كے موقف ميں داخلى تضاد پايا جاتا ہے-ان كے موقف كى تمامتر بنياد چونكہ يہى حديث ہے، جس ميں ايك احتمال پر ہى ان كے استدلال كى سارى عمارت كهڑى ہے كہ يہاں أہل دار(گهر والوں)كا لفظ استعمال ہوا ہے جس ميں مرد و زن دونوں شامل ہوسكتے ہيں لہٰذا حضرت امّ ورقہ اپنے تمام گهر والوں كى امامت كرايا كرتى تهيں۔

صحاحِ ستہ ميں يہ حديث صرف سنن ابو داود ميں مروى ہے، اور اس كى جو سند يہاں بيان ہوئى ہے، بعینہ اسى سند سے سنن دار قطنى ميں بهى اس حديث كى عبارت ميں (نساء أهل دارها)كى صراحت آگئى ہے كہ اُمّ ورقہ اپنے اہل دار كى عورتوں كى امامت كراتى تهيں-

اشراق كے محققین پر تعجب ہوتاہے كہ ايك ہى سند سے آنے والى جس حديث (ابو داود) سے ان كے موہوم احتمال كا شائبہ پيدا ہو رہا ہے، اس كو تو وہ قبول كرتے ہيں ليكن اسى سند سے آنے والى حديث(دار قطنى) ميں اس احتمال كے ختم ہو جانے كى وجہ سے پیچھا چهڑانے كے لئے اس كو ضعيف قرار دينے سے بهى نہيں چوكتے بلكہ اس اضافہ كو غلط طور پر امام دار قطنی كى من گهڑت زيادتى قرار دے رہے ہيں- عدل وانصاف كا تقاضا تو يہ ہے كہ اگر وہ ايك ہى سند سے ملنے والے محتمل متن كو صحيح تسليم كرتے ہيں تو اسى متن كے دوسرے حصے ميں آنے والى صراحت كو بهى قبول كريں، ليكن ايك كو قبول كركے دوسرے كو ردّ كردينا ديانت وامانت كے تقاضوں كے صريح منافى ہے !!

ميرے نزديك يہ بهى فن حديث سے ناواقفيت كى دليل ہے۔ محدثين جب روايت كرتے ہيں تو بعض اوقات ان كى مرويات متنوع الفاظ ميں ہوتى ہيں جو ايك دوسرے كے مفہوم كى تائيد كرتى ہيں،جس طرح ايك واقعہ كے متعدد گواہ الفاظ كے فرق كے ساتھ مفہوم ميں ايك دوسرے كى تائيد وتكميل كا باعث ہوتے ہيں۔

ديانتدارانہ تحقيق كا تقاضا يہ ہے كہ پروفيسر موصوف يا تودونوں متون كو صحيح مانيں يا دونوں كو ضعيف تصور كريں- ابوداود اور دار قطنى دونوں كى روايات صحيح ماننے كى صورت ميں اگر سنن ابوداود سے مردوں كے لئے عورت كى امامت كا احتمال پيدا ہوگا تودار قطنى كى روايتسے اس كے مفہوم كا تعين بهى خود ہى ہوجائے گا، بصورتِ ديگر دونوں متون كو ضعيف سمجهنے سے يہ سوال آغاز سے پيدا ہى نہيں ہوگا-يہى بات مولانا ارشاد الحق اثرى نے 'محدث' ميں اپنے شائع شدہ مضمون ميں كہى ہے :
"جب سنن ابوداود اور مسند احمد وغيرہ ميں وليد كى يہ روايت قابل اعتبار ہے تو يہاں بهى اس روايت كا انكار درست نہيں۔"1

(4) حديث ِنبوى كے بارے ميں محدثين كى عظيم الشان خدمات كا اعتراف اہل علم كے ہاں يوں كيا جاتا ہے :
أهل الحديث هم أهل النبي وإن لم يصحبوا نفسه،أنفاسه صحبوا
"حديث ِنبوى كى خدمت كرنے والے نبى كريم ﷺ كے اہل وعيال ہی ہيں- اگرچہ آپ كے بنفس ِنفيس ہم نشين نہ بن سكے تاہم آپ كے سانسوں (ارشادات) سے ضرور بارياب ہوگئے-"2

ان مايہ ناز محدثين ميں ايك عظيم امام دارقطنى بهى ہيں جنہيں مشہور موٴرّخ ومفسرامام طبرى نے امير المومنين فى الحديث كا لقب ديا ہے اور خطيب بغدادى نے انہيں اپنے وقت كا امام اور نابغہ روزگار 'محدث' قرار ديا ہے- جو لوگ اللہ كے دين كى خدمت كے لئے دن رات اپنے آپ كو وقف كرتے ہيں، اللہ تعالىٰ ان كے درجات كو بلند كرتے اور ان كى عزت كے دفاع كى ذمہ دارى خود پورى كرتے ہيں۔

پروفيسر خورشيد عالم نے اپنے من گهڑت موقف كے راستے ميں حائل ہونے والے نبى كريم ﷺ كے فرمان كو امام دارقطنى كے اپنى طرف سے اضافہ شدہ الفاظ قرار دے كر اس عظيم محدث كى شان ميں نہايت ناروا جسارت كا ارتكاب كيا ہے۔

سنن دار قطنی كى تاليف كو ہزار سال سے زائد عرصہ گزر جانے كے باوجود آج تك كسى امام فقيہ ومحدث نے ان الفاظ كو امام دارقطنى كے اپنے الفاظ قرار نہيں ديا، ليكن اس ديدہ دليرى كا نتيجہ يہ ہے كہ پروفيسر خورشيد عالم نے اپنے جوابى مضمون ميں خود نبى كريم ﷺ كى طرف ايسے الفاظ كى نسبت كا ارتكاب كر دياہے، جس كا وجود بهى نہيں ہے- پروفيسر صاحب اپنے مضمون ميں نبى كريم ﷺ كے يہ الفاظ درج كرتے ہيں :
"سنن دار قطنى ميں ايك جملے كا اضافہ ہے جو حديث كى كسى كتاب ميں مروى نہيں، وہ جملہ ہے: (كانت توٴم)"3

جبكہ يہ الفاظ سنن دار قطنى ميں كہيں بهى موجود نہيں- نبى كريم ﷺ سے خود ساختہ الفاظ منسوب كرنے كى وعيد سے اہل علم بخوبى واقف ہيں- ميرا خيال يہ ہے كہ پروفيسر صاحب كے قلم سے حديث نبوى كے حوالہ سے وارد ہونے والا يہ 'جملہ' محدثين پر ان كے ايك ناروا الزام كى سزا ہے- اگر پروفيسر صاحب اس اضافے پر مصر ہيں تو اُنہيں ان الفاظ كا ثبوت پيش كرنا چاہئے، ورنہ اس بارے اپنى معذرت كو شائع كرنا چاہئے تاكہ وہ نبى كريم ﷺ كى مذكورہ بالا وعيدكے مستحق ہونے سے بچ سكيں۔

(5) پروفيسر خورشيد عالم نے اپنے جوابى مضمون كے آغاز ميں حضرات علماے كرام كو آڑے ہاتهوں ليتے ہوئے بعض طنزيہ جملے تحرير كئے ہيں- ان كو محدث كے اُن مقالہ نگاروں سے بهى بڑا شكوہ ہے جنہوں نے ان كے مغالَطوں اور غلط بيانيوں كى نشاندہى كى ہے۔

جہاں تك طنزيہ جملے استعمال كرنے كا تعلق ہے تو يہ پروفيسر صاحب كى مجبورى ہے- پيپلز پارٹى سے پرانى وابستگى كے ناطے ان كا يہ لب ولہجہ باعث ِتعجب نہيں- ان كے ناقدانہ رويے اور متشددانہ طرزِ عملكى ان كے ساتھ رہنے والے كئى نمازى اكثر شكايت كرتے رہتے ہيں- يوں بهى مختلف مضامين ميں اپنے ناقدين كے ساتھ ان كا يہ جارحانہ اُسلوب ان كى شناخت بنتا جارہا ہے۔

اُنہيں اپنى كج فہمیوں كى نشاندہى كرنے پر شكوہ كرنے كى بجائے بالخصوص مولانا ارشاد الحق اثرى كے اعتراضات كا دلائل كے ساتھ جواب دينا چاہيے تها- جہاں ترجمے ميں ان كى ھیرپھیر كى نشاندہى كى گئى ہے، وہاں اس كى وضاحت كرنا چاہئے تهى- ليكن ان سے ان كا جواب تو بن نہ پڑا اور اپنى اصلاح پر شكرگزار ہونے كى بجائے وہ اُلٹا نشاندہى كرنے والے پر برس پڑے- اس موضوع پر مزيد خامہ فرسائى سے قبل ہمارا اُنہيں مشورہ يہ ہے كہ اپنى سابقہ غلط بيانيوں كى تلافى كركے علم وتحقيق كے ميدان ميں آئيں- شريعت ِاسلاميہ كى وضاحت بڑى ذمہ دارى اور ديانتدارى كى متقاضى ہے !!

پروفيسر صاحب نے اپنے جوابى مضمون كے آغاز ميں ادارئہ اشراق سے اپنے تعلق كى وضاحت كرتے ہوئے ڈاكٹر اسرار احمد كے 'قرآن كالج' ميں اپنى كئى برسوں پر محيط تدريس كا بهى حوالہ ديا ہے- يہاں قرآن كالج سے 5 مئى 2005ء كو اپنى فراغت كا تذكرہ كرتے ہوئے بهى اُنہوں نے صداقت وامانت كا ساتھ چهوڑ ديا ہے- پروفيسر موصوف اس كى وجہ اپنى كبرسنى كو قرار ديتے ہيں جبكہ واقعاتى حقائق يہ ہيں كہ اس فراغت سے عين پانچ روز قبل يكم مئى كو 'اشراق' ميں ان كا امامت ِ زن پر وہ متنازعہ مضمون شائع ہوچكا تها جس سے اس سارى بحث نے جنم ليا- اس كے ساتھ ہى انہى دنوں ان كا دوسرا ناقابل رشك كارنامہ جس ميں اُنہوں نے عورت كے چہرے كے پردے كے عدمِ وجوب اور مردوزن كے اختلاط كے جواز پر دادِ تحقيق دى ہے، بهى تيارہوكر 'اشراق' كى زينت بننے كے لئے منتظر تها۔ ياد رہے كہ ايك نئے انحراف كى بنياد بننے والا يہ مضمون اگست 2005ء كے اشراق ميں پورى تفصيلات كے ساتھ 'نقطہ نظر' كے كالم ميں شائع ہوچكا ہے، جس كا شافى جواب بهى كسى صاحب ِعلم كى توجہ كا منتظر ہے۔
پروفيسر صاحب نے اپنے جوابى مضمون ميں يہ بهى تحرير كيا ہے كہ ميں نے ايسے مضامين كو صرف اپنے حلقہ تدريس (قرآن كالج) ميں ہى اپنے ساتهى اساتذہ يا طلبہ كو پڑھ كر سنايا تها۔
پروفيسر موصوف كى اس 'باعزت' فراغت كے پس پردہ اِن مضامين كى اشاعت كا كيا كردار ہے، كوئى بهى سمجھ دارمعمولى غور وفكر سے اس نتيجہ پر پہنچ سكتا ہے۔

(6) پروفيسر خورشيد كى شخصى كوتاہياں اپنى جگہ ليكن علم وتحقيق كے ميدان ميں جس 'منتخب اخلاقيات' پر آپ عمل پيرا ہيں، ا س كے مظاہرآپ كے جوابى مضمون ميں بهى موجود ہيں-

تحقيق كا مسلمہ اُصول ہے كہ كسى بات يا شخصيت كے قول كا حوالہ اس كى اپنى كتاب سے ديا جائے- ثانوى مراجع سے نقل كئے جانے والے حوالے تحقيق كے ميدان ميں معتبر خيال نہيں كئے جاتے- پروفيسر موصوفنے اپنے مضمون ميں فقہا كے موقف كا تذكرہ كرتے ہوئے جابجا ثانوى مراجع پر اعتماد كيا ہے-جب كہ ان فقہا كى اپنى تصنيفات بهى موجود ہيں جہاں سے ان كا يہ موقف ثابت نہيں ہوتا- مولانا ارشاد الحق اثرى حفظہ اللہ نے جب ان كا حقيقى موقف ان كى اصل كتاب سے درج كيا اور فقہا كى بات كا سياق و سباق بهى پيش كيا تو اس كے باوجود پروفيسر صاحب بداية المجتھد پرہى اعتماد كرنے پر مصر ہيں- ظاہر ہے كہ ان فقہا كى اپنى كتب كى موجودگى ميں ثانوى مراجع كى طرف توجہ كى ضرورت نہيں۔

دوسرى طرف محترم حافظ صلاح الدين يوسف نے كويت سے شائع ہونے والے انسائيكلوپيڈيا الموسوعة الفقہية سے ايك حوالہ درج كيا، اور ساتھ ہى اس امر كا اشارہ بهى ديا كہ ايسے وقيع انسا ئيكلوپيڈيا كى بات كو يوں آسانى سے نظر انداز كرنا درست نہيں بلكہ يہاں جن ايڈيشنوں كا حوالہ ديا گيا ہے، ان كى تصديق حاصل كرنا ہوگى تو يہى پروفيسرصاحب حافظ صاحب كے اس طرزِ عمل كو جسارت قرار دينے سے نہيں چوكتے- محترم حافظ صاحب كى ذكركردہ يہ عبارت اگر انسا ئيكلوپيڈيا كے محولہ صفحہ (ج6/ص204) پر نہ ہو، تب تو اس كو جسارت قرار ديا جائے ليكن اگر يہ بات وہاں موجود ہے اور كوئى اس كو جھٹلا نہيں سكتا تو پهر اس كو جسارت قرار دينا چہ معنى دارد !

اگر يہى جسارت ہے تو پهر پروفيسر خورشيد عالم كا سارا مضمون اسى جسارت پر قائم ہے- كيونكہ بداية المجتهد كے جس موقف كا وہ حوالہ دے رہے ہيں، مصنف كى اصل كتاب ميں اس كا كوئى وجود نہيں-پروفيسر موصوف كے ايسے دلائل حادثہ نہيں بلكہ ان كى روز مرہ عادت ہے، ليكن دوسروں كو وہ ثانوى مراجع سے استفادہ كا حق دينے كے لئے قطعاً تيار نہيں۔

پروفيسر صاحب كى ايسى ہى ايك دلچسپ جسارت ماہنامہ 'حكمت ِقرآن' كے اپريل 2005ء ميں ان كے شائع شدہ خط ميں ملاحظہ كى جاسكتى ہے- حكمت ِقرآن ميں ان كے مضمون 'شوال كے چہ روزے' پرتبصرہ كرتے ہوئے 'السندہ' كے مدير مولانا عبدالحى ابڑو نے لكها ہے :
من صام رمضان شهر بعشرة أشهر وصام ستة أيام بعد الفطروذلك تمام سنة
"اس حديث كو امام احمد نے مسند ميں روايت نہيں كيا، جيسے پروفيسرموصوف نے لكها ہے بلكہ يہ دارمى اور ابن ماجہ ميں ہے- يہ الفاظ دارمى كے ہوسكتے ہيں، ابن ماجہ كے الفاظ اس سے مختلف ہيں۔" 4

اس اعتراض كے جواب ميں پروفيسر خورشيد عالم لكھتے ہيں :
"تبصرہ نگار كى يہ بات كہ "اس حديث كو امام احمد نے روايت نہيں كيا" بالكل غلط ہے، كتاب الروض المربع (ج3/ص448) كے حاشيہ پر ہے كہ اس حديث كو امام احمد، ابوداود اور ترمذى نے تين طريقوں سے روايت كيا ہے۔" 5

جبكہ امرواقعہ يہى ہے كہ حديث كے مذكورہ بالا الفاظ بعينہ مسند احمد ميں كہيں مذكور نہيں- البتہ 9كتب ِحديث ميں اس مفہوم كى 18 /احاديث اور اس سے ملتے جلتے الفاظ پائے جاتے ہيں جن ميں صحيح مسلم، سنن ابوداود ، سنن ترمذى، سنن ابن ماجہ ، مسند احمد اور سنن دارمى شامل ہيں- يہاں پروفيسر موصوف كا ثانوى مراجع پر اعتماد اور اصرار كركے تبصرہ نگار كو 'بالكل غلط' كى وعيد سنانا بلاو جہ ہے-

جناب خورشيد عالم كو جاويد احمد غامدى سے وہى نسبت ہے جو رفيع اللہ شہاب كو آنجھانى غلام احمد پرويز سے تهى اور دونوں كا اُسلوبِ استدلال بهى تقريباً يكساں ہے كہ كتب ِفقہ سے نادر مسائل كے اختلافات اُچهال كر انحراف كى راہيں وا كى جائيں، خواہ اس كے لئے اصل عبارت يا اس كے ترجمے كے ساتھ كچھ بهى كرنا پڑے۔

ادارئہ اشراق كے مغالطات پر ايك نظر
جولائى 2005ء كے 'اشراق'كى ادارتى تحرير ميں يہ امر خوش آئند ہے كہ ادارئہ اشراق كو پروفيسر خورشيد عالم كے مضمون ميں بيان كردہ موقف سے اتفاق نہيں- يہى وجہ ہے كہ وہ اسے 'نقطہ نظر' كے كالم ميں جگہ دے كر اپنى ادارتى ذمہ دارى سے برى ہونے كا بهى دعوىٰ كرتے ہيں- يوں تو ادارئہ اشراق كا موقف پروفيسر خورشيد عالم سے مختلف نہيں جس كے دلائل آگے پيش كئے جا رہے ہيں ليكن بظاہر ان كا اِس موقف كى ذمہ دارى قبول كرنے سے انكار ہى حق كى حقانيت كى ايك روشن دليل ہے !!

(1) ادارہ اشراق نے اپنے پہلے پيرا گراف ميں جاويد احمد غامدى كا امامت ِزن كے بارے ميں تين سطرى موقف پيش كيا ہے، اتنے مختصر موقف ميں بهى 'داخلى تضاد' پايا جاتا ہے- يہ موقف آپ بهى ملاحظہ فرما ليں :
" اسے حرام تو قرار نہيں ديا جاسكتا، اس لئے كہ قرآن وسنت ميں اس كى كوئى صراحت نہيں ہے- بلكہ اُمّ ورقہ كى حديث سے استثنائى حالات ميں بظاہر اس كا جواز معلوم ہوتا ہے- تاہم يہ اس روايت كے يقينا منافى ہے جو مسلمانوں ميں ہميشہ سے قائم رہى ہے- اور وہ اس كے حق ميں ہيں كہ يہ روايت قائم ر ہنى چاہئے۔"6

جناب غامدى كا يہ موقف 'مصلحت آميز ابہام' كا شكار ہے۔وہ ايك طرف تو مسلمہ دينى روايات كے مخالف ايك موقف كو اپنانے كى ہمت نہيں كرپارہے اور دوسرى طرف لبرل اور آزاد خيال طبقہ كى حمايت سے بهى محروم نہيں ہونا چاہتے۔

جناب غامدى سے بصد ادب التماس ہے كہ اگر وہ اپنے موقف كے بارے ميں اس قدر ہى پراعتماد ہيں تو اُنہيں جرأت كے ساتھ اس كو اپنانا چاہئے- حق بالكل واضح ہوتا ہے، اس ميں 'يہ بهى ٹهيك ہے اور وہ بهى غلط نہيں' كى بجائے دليل وبرہان كى قوت سے واضح موقف كا اظہار كيا جاتا ہے- امامت ِزن كے مسئلے پر ان كے دو ٹوك موقف كى تشنگى ابهى تك موجود ہے !

(2) اِشراق كے اداريے ميں يہ ذكر كيا گيا ہے كہ اشراق ميں امامت ِزن كے مسئلے پر دو مضامين موجود تهے، ايك اشراق كے ريسرچ فيلو جناب ساجد حميد كا، جس ميں امامت ِزن كے ناجائز ہونے كا موقف پيش كيا گيا تها اور دوسرا 'اشراق' كے معاصر ادارے 'قرآن كالج' كے پروفيسر خورشيد عالم كا، جسے اشراق كى زينت بنايا گيا ہے۔

كيا وجہ ہے كہ ادارہ كے ريسرچ فیلو كى تحقيق كو نظر انداز كركے اس موقف كو شائع كرنے ميں دلچسپى لى گئى جس ميں سارى اُمت ِمسلمہ سے بالكل ايك الگ موقف پيش كيا گيا ہے- اس سلسلے ميں اور كچھ نہيں تو ادارئہ اشراق كا 'حسن انتخاب' ضرور كار فرما ہے اور يہ حسن انتخاب 'اشراقى مقاصد'كا مظہرہے- كيا يہ 'حسن انتخاب' ادارئہ اشراق كى موقف كى صاف چغلى نہيں كها رہا ؟ چاہے اس سے اشراق والے لاكھ اظہارِ براء ت كريں...!

(3) اشراق كے اداريے ميں اس بات كو بڑے شد ومد سے اُچهالا گيا كہ 'نقطہ نظر' كے كالم ميں شائع ہونے والى آرا سے ادارے كا اتفاق ضرورى نہيں-اوّل تو اس امر كا دعوىٰ كرنے كا استحقاق وہ رسائل وجرائد ركهتے ہيں جو ہمارے ممدوح مجلے'محدث' كى طرح اپنے رسالے ميں نماياں جگہ پر اس امر كا اظہار ضرورى خيال كرتے ہيں كہ
ادارے كا مقالہ نگار كى آرا سے متفق ہونا ضرورى نہيں!

اشراق ايك مخصوص طرزِفكر كا نمائندہ اور اس كى نشرواشاعت كا باقاعدہ ترجمان ہے، اس نے اس امر كى كبهى ضرورت محسوس نہيں كى- جہاں تك امامت ِزن كے بارے ميں شائع شدہ مضمون كا تعلق ہے تو جب اس پر كڑى تنقيد ہوئى تو 'اشراق' نے اس كو نقطہ نظر كے كالم كا استحقاق قرار دے ڈالا۔

رسائل وجرائد كے مسلمات سے ہميں بهى كچھ آگاہى ہے اور اس بارے ميں مغالطہ آرائى سے بهى ہم ہوشيار ہيں- كسى بهى جريدے ميں كسى مضمون كى اشاعت كا يہ لازمى مطلب ليا جاتا ہے كہ اس مضمون كے مندرجات سے ادارہ مجلہ كا كسى نہ كسى حد تك اتفاق ہوتا ہے، وگرنہ ايسے قابل اعتراض مضمون كى اشاعت پر حكومت متعلقہ جريدہ كو كيوں موردِ الزام ٹھہراتى اور اس كى كاپياں ضبط كرنے كے احكامات صادر كرتى ہے ... ؟

يوں بهى اگر حكومت گرفت نہ كرے تو ہر مسلمان اللہ تعالىٰ كے سامنے اپنى ذمہ دارى پر جواب دہ ہے- قرآن كريم كى رو سے "جو لوگ برى باتوں كو شائع كرتے ہيں ، روزِ قيامت ان كے لئے دردناك عذاب ہے۔" (النور:19)

اس لحاظ سے نقطہ نظر كے كالم ميں شائع ہونے والے مضامين سے اشراق كى بالكليہ براء ت كا اظہار، ميدانِ صحافت كا ايسا لطيفہ ہے، جسے كوئى بهى ذى ہوش تسليم نہيں كرسكتا- يہ ضرور كہا جاسكتا ہے كہ مضمون كے مندرجات سے ادارہ كا كلى اتفاق ضرورى نہيں، ليكن اس كے بڑے حصے اور مركزى موقف سے اس كو شائع كرنے والا جريدہ برىٴ الذمہ نہيں ہوسكتا۔

'اشراق' كو اس گنجائش سے استفادہ كى ضرورت اس لئے پيش آئى ہے كہ اگر اس بات كو تسليم كرليا جائے تو آئنده بهى ايسے ہى مختلف متنازعہ موضوعات پر عوام كى رائے سازى كا موقع اُنہيں ميسر رہتا ہے- مسلماتِ اسلاميہ سے انحراف حلقہ اشراق كى رِيت رہى ہے، اور اس كے لئے ايسے چور دروازے كهلے ركهنا ان كى مجبورى ہے- يہى وجہ ہے كہ اگست2005ء كے 'اشراق' ميں پروفيسر خورشيد عالم كا ہى 'چہرے كے پردے كے عدمِ وجوب اور مردو زن كے اختلاط' كے موضوع پر ايك اور مضمون 'نقطہ نظر' كے كالم ميں شائع كيا گيا ہے- ايسے تجدد پسند نظريات كى اشاعت كا مقصد 'نقطہ نظر' كے كالم كے ذريعے ہى پورا كيا جا سكتا ہے- عوام ميں ايسے منحرف خيالات كى لگاتار نشرواشاعت كے بعد ان كے ردّعمل كے پيش نظر حلقہ 'اشراق' اپنے موقف اور حكمت ِعملى ميں موزوں تبديلى كرتا رہتا ہے۔

اہل 'اشراق' اگر اپنے 'نقطہ نظر' كے دعوىٰ ميں سچے ہيں كہ يہاں ايسے مضامين شائع كئے جاتے ہيں جن سے ان كا كسى بهى درجے ميں اتفاق ضرورى نہيں تو پهر وہ ہمارا زير نظر مضمون بهى اسى كالم ميں لفظ بلفظ شائع كريں تاكہ ان كے موقف كى حقيقت كهل كر سامنے آسكے- ورنہ آئندہ اُنہيں ايسے خود ساختہ استحقاق كو استعمال كرتے ہوئے محتاط رہنا ہوگا-

(4) 'اشراق' نے محدث ميں شائع شدہ بعض دعووں كو 'موضوع' قرار ديا ہے- اشراق كے اداريہ نگار نے ايك خالص علمى بحث كو شخصى واقعات ميں اُلجھانے اور اصل موضوع كو نظرانداز كرانے كى كوشش كى ہے- ضرورت اس امر كى تهى كہ اشراق ميں اس موضوع كے حوالے سے اُٹهائے گئے سوالات كے شافى جواب پر محنت كى جاتى ليكن اس كے بجائے موضوع كو اپنے مركز و محور سے ہٹانے كے لئے يہ ڈھنگ اپنايا گيا- سنجيدہ اور علمى اُسلوب كا تقاضا تو يہ ہے كہ شخصيات اور واقعات كو موضوعِ بحث بنانے كى بجائے نظريات پرگفتگو كى جائے كيونكہ نظريات ہى وہ حركى خاصيت ركهتے ہيں جن سے مستقل اثر ليا جاتا ہے- شخصيات كے برعكس نظريات ہى دائمى ہوتے ہيں !!

جناب غامدى كى سركارى ايوانوں سے قربت كى داستانيں ہر باخبر شخص كے علم ميں ہيں، دلائل سے تو ان باتوں كو ثابت كيا جاتا ہے جن كو قبول كرنے ميں كسى كو كوئى شك وشبہ ہو- محدث ميں حلقہ اشراق كے بارے ميں جو حقائق پيش كئے گئے ہيں، ان كى اسناد المَورد سے مستفيد ہونے والوں تك متصل پهيلى ہوئى ہيں- ان 'اسناد' كا تذكرہ كيا جائے تو اس ميں بہت سے ذمہ دار لوگوں كے نام آنے كا انديشہ ہے جو يوں كهلے عام موضوعِ بحث بننا پسند نہيں كرتے اور ہم بهى ايسے استفادہ كرنے والوں كا سلسلہ منقطع نہيں كرنا چاہتے- يہ بهى ياد رہے كہ جس فن حديث پر طنز كيا گيا ہے، اس ميں تو عادل راوى كى مستند بات پر يقين كيا جاتا ہے- پهر بهى اگر كسى كو اطمينان نہ ہو تو وہ بذاتِ خود ملاقات كركے ايسے واقعات كى سند معلوم كرسكتا ہے جيسا كہ راقم كے جاننے والے بعض احباب نے كيا-

جہاں تك 'محدث'كا تعلق ہے تواس ميں ايسے واقعات كو اصل دليل كى بجائے حلقہ اشراق كے مرض كى ايك علامت كے طور پر پيش كيا گيا ہے- اشراق نے اصل موضوع سے توجہ ہٹانے كے لئے دو طويل عبارتوں كو شائع كيا ہے ليكن اصل وجہ استدلال كو شائع نہ كرنے ميں ہى عافيت سمجھى ہے- اشراق كا اس پيرا گراف كو دانستہ حذف كرنا جو اس سارے تذكرے كا حاصل تها، اپنے اندر خاص معنويت ركهتا ہے- وہ پيرا گراف حسب ِذيل ہے :
"بظاہر ايسى سرگرمياں كسى تنظيم كے لئے شرمندگى كى بجائے باعث ِافتخار ہونى چاہئيں ليكن جب حلقہ اشراق كے پيغام اور ان كى تحقيقات كا مركزى نقطہ تلاش كيا جاتاہے تو وہ تمام تر ايسے ايشوز ہيں جو عالمى استعمار كے خلافِ اسلام ايجنڈے كى تبلیغ كرتے ہيں- اشراق كى تحقيق كى تان بهى انہى كى ہم نوائى پر آكر ٹوٹتى ہے۔

اب يہ بات كوئى ڈھكى چھپى نہيں ہے كہ عام اسلامى تحريكوں كے برعكس جناب غامدى اسامہ بن لادن كو دہشت گرد، طالبان كو ظالم اور امريكى اقدامات كو برحق سمجھتے ہيں-ان كى نظر ميں فلسطينى عوام كا كردار بهى دہشت گردانہ ہے -جہاد كو وہ منسوخ تو نہيں كہتے ليكن جہاد كے لئے جن شرائط كو وہ پيش كرتے ہيں، اس كے بعد عملاً جہاد كا حكم منسوخ ہوجاتاہے- عورت كا پردہ اور حجاب، تصوير ومجسمہ سازى كو جائز قرار دينا، رقص و سرود كا جواز بلكہ نبى كريم وصحابہ كرام پر رقص وسرود ديكهنے كا الزام عائد كرنا، سياسى طور پر بيت المقدس كو يہوديوں كے حوالے كردينا وغيرہ ان كے ايسے ہى علمى وتحقیقى كارنامے ہيں۔" 7

آج بهى حلقہ اشراق كے بظاہرخوشنما اُسلوب پر جانے كى بجائے ان كے مقصد اور كارناموں كا جائزہ ليا جانا چاہئے كيونكہ درخت كو ہميشہ اس كے پھل سے پہچانا جاتا ہے- اس درخت كى خوشنمائى پر جانے كى بجائے اس كے نتائج فكر كو اسلام كى ميزان ميں توليں تو ان كى ٹهيك ٹهيك تصوير كا بخوبى علم ہوجائے گا۔

حلقہ اشراق كا اسلام كے نام پر يہ كرداراس وقت اكثر دينى حلقوں كے لئے شديد تشويش كا باعث بنا ہوا ہے- اس سلسلے ميں مختلف مكاتب ِفكر كے ايك حاليہ اجتماع كا حوالہ دينا مناسب ہوگا- يہ اجتماع مولانا عبد الروف ملك صدر 'متحدہ علما كونسل' نے حلقہ 'اشراق' كے ايسے ہى ناپسنديدہ كارناموں كے بارے ميں اہل علم كو متوجہ كرنے كے لئے گڑهى شاہو، لاہور ميں 10جولائى 2005ء كو طلب كياجس ميں لاہور كے منتخب اہل علم اور بعض اداروں كے منتظمین بهى شريك تهے- يہاں خطاب كرتے ہوئے مختلف مقررين نے 'اشراق' كے اس تجدد پسندانہ كردار كو شديد تنقيد كا نشانہ بنايا اور ان كے بارے ميں علماے كرام كو اپنى ذمہ دارى ادا كرنے كى طرف توجہ دلائى- ياد رہے كہ اس اجتماع كے شركا نے 'محدث' كے امامت ِزن پر خصوصى شمارے كو تمام مكاتب ِفكر كى طرف سے تازہ اشراقى انحراف كا مشتركہ دفاع قرار ديتے ہوئے خراجِ تحسين پيش كيا اور اس كاوش كو خوب سراہا۔

مولانا عبد الرء وف ملك نے اس مجلس ميں 'روشن خيالى اور اعتدال پسندى' پر صدر پرويز مشرف كى ايك مجوزہ كانفرنس كے بارے ميں شركا كو آگاہ كيا كہ اس مجلس ميں جناب جاويد غامدى روشن خيالى كے سركارى موقف كى حمايت پر تقرير كريں گے- ايك مقرر جو ايك دن قبل ہى اسلام آباد سے اس اجتماع كے لئے تشريف لائے تهے، اُنہوں نے يہ بتا كر تمام شركا كو حيران كرديا كہ يہ مجلس جس كا مولانا عبدالرؤف ملك تذكرہ كررہے ہيں، منعقد ہوچكى ہے اور جنا ب خورشيد نديم اس مجلس ميں شريك تهے اور اُنہوں نے اس مجلس كى روداد مجھ سے خود بيان كى ہے- اُنہوں نے بتايا كہ بطورِ خاص اس مجلس ميں چودهرى شجاعت حسين كو بهى شريك كيا گيا تها كيونكہ وہ صدر پرويز مشرف كے لبرل خيالات كى حمايت ميں پس وپيش كرتے ہيں۔

'اشراق' كے كردار كے بارے ميں يہ فكر مندى نئى نہيں- ماضى ميں بهى اس كا يہ رويہ دين سے وابستہ لوگوں كے لئے شديد ذ ہنى اذيت كا باعث رہا ہے- اگر كسى كو جاويد غامدى كے 'افكارِ عاليہ' كے بارے ميں ذرا سا بهى شك ہو تو وہ نائن اليون كے كچھ ہى دنوں بعد امريكہ كى ہم نوائى ميں ديے جانے والے ان كے انٹرويو كا لفظ بلفظ مطالعہ كر لے، يہ انٹرويو 28/ اكتوبر2001ء كے روزنامہ پاكستان كى 'زينت' بنا- افغان قوم پر امريكہ كى ہولناك بمبارى كے دوران يہ انٹرويو مسلم اُمہ كے زخموں پر نمك چهڑكنے كے مترادف ہے- چند قابل ذكر جملے ملاحظہ ہوں :

امريكہ كى طرف سے افغانستان پر حملہ جائز ہے، مگر بهارتى افواج كے خلاف مجاہدين كے حملے ناجائز ہيں اور 'دہشت گردى' كى تعريف ميں آتے ہيں۔
سوال: ہمارے ہاں تو امريكہ كے افغانستان پر حملے كو دہشت گردى قرار ديا جاتا ہے- تو اُنہوں نے نہايت بے حسى سے جواب دياكہ "آپ اسے دہشت گردى نہيں كہہ سكتے-"
جناب غامدى نے ايك سوال كا جواب ديتے ہوئے فرمايا: "جس اسلام كو ميں جانتا ہوں ، اس ميں جہادى كلچر كى كوئى گنجائش نہيں ہے۔"
ان كے اس جواب سے حيران ہوكر صحافى نے پوچها كہ آپ تو وہى بات كررہے ہيں جو بش اور ٹونى بلير كررہے ہيں؟ اس پر غامدى صاحب نے كہاكہ
"ميں حضرت محمد ﷺ كى بات كررہا ہوں اور مجهے بہت خوشى ہے كہ آج ان كى بات دوسرے لوگوں نے بهى شروع كردى ہے-"
جاويد غامدى كے بقول :" ميرے نزديك يہ دہشت گردى اور امن كى جنگ ہے۔"

اس كے بعد بهى غامدى صاحب كے بارے ميں اخبارات ميں كئى مضامين شائع ہوتے رہے، جن ميں بطورِ خاص 'امريكہ كے وكيل' كے عنوان سے 7 تا 9 نومبر2001ء كو روزنامہ پاكستان ميں ہى 3 قسطوں ميں شائع ہونے والا مضمون كافى چشم كشا ہے- روزنامہ 'انصاف' ميں 'جاويد غامدى كے افكارِ تازہ' كے عنوان سے بهى ايك مضمون متعدد قسطوں ميں شائع ہوا اور بعد ميں بهى يہ سلسلہ جارى ہى رہا- كيا يہ بات غور طلب نہيں كہ اشراق ميں كشمير اور فلسطین كے مظلوم مسلمانوں كى حمايت ميں كبهى كوئى قابل ذكر مضمون جگہ نہيں پاسكا-' امريكہ كے وكيل ' نامى مضمون كا ايك اقتباس ملاحظہ ہو:
"جاويد غامدى كے سينے ميں وہ دل نہيں ہے جو مسلمانوں كے دكہ كومحسوس كرسكے- پورے انٹرويو ميں امريكہ كى مذمت تو كجا، مسلمانوں سے ہمدردى كا بهى ايك لفظ موجود نہيں ہے۔ "

ماضى قريب كے ہفت روزہ 'زندگى' ميں جناب جاويد غامدى كا ايك انٹرويو اجمل نيازى نے كيا تها جو 1997ء ميں شائع ہوا، اس كا مطالعہ بهى قارئين پر ان كى شخصيت كے بہت سے اَسرار كهول سكتا ہے- حلقہ اشراق كبهى اپنے كردار كے بارے ميں غور كى زحمت گوارا كرے تو اسے 'زبانِ خلق كو نقارئہ خدا' سمجهتے ہوئے ضرور سوچنا چاہئے!!

'امريكہ كى وكالت ، تجدد پسندى اور مسلماتِ اسلاميہ سے انحراف' حلقہ اشراق كا ايسا مرض ہے جو مزيد علامتوں اور دلائل كا محتاج نہيں- مضمون كى طوالت كے خوف سے اس تذكرے كو يہيں پر سميٹا جاتا ہے- اللہ تعالىٰ ہميں اسلام كى خدمت كى توفيق عطا فرمائے- آمين!

حوالہ جات
1. محدث، جون 2005ء، ص 37
2. صفة الصلاة از شيخ البانى:  ص44
3. 'اشراق': جولائى 2005ء، ص 48
4. حكمت ِقرآن: ص 59
5. حكمت ِقرآن: ص 60
6. 'اشراق' : جولائى 2005ء، ص 2
7. محدث: جون2005ء، ص12