263-Aug-Sep-2002

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

برصغیر میں فتنۂ انکارِ حدیث کے ظہور پذیر ہونے کے بعد ان کے عقائد و نظریات کا جائزہ لینے اور حجیت ِحدیث، عظمت و اَہمیت ِحدیث، تاریخ ِحدیث جیسے مختلف موضوعات پر لٹریچر کی تیاری میںبڑی تیزی سے اضافہ ہوا۔ ایک طرف منکرین حدیث ، ردّ ِحدیث میں ورق سیاہ کرتے رہے، حدیث ِنبوی ﷺ کے بارے میں شکوک و شبہات اور اعتراضات پھیلانے کے لئے رسائل و جرائد میں مضامین اور کتابیں پھیلائی گئیں۔ اس کے بالمقابل حدیث ِرسول کی حجیت کے قائل اہل علم حضرات نے اس کی تردید میں خوب لکھا۔ رسائل وجرائد میں مضامین کے علاوہ اعلیٰ تحقیقی معیار پر کتابیں تحریر کی گئیں۔ منکرین ِحدیث کے ردّ میں تحریر کردہ کتابوں کی ایک فہرست حاضر خدمت ہے جس میں اَلف بائی ترتیب ملحوظ رکھی گئی ہے اور نام کے آخر میں بریکٹ میں مقامِ طباعت اور سن ِطباعت کو بھی درج کر دیا ہے :

1۔ آئینہ پرویزیت (مکمل چھ حصے) [از مولانا عبدالرحمن کیلانی ، (لاہور ، ۱۹۷۸ء)

مولانا کیلانی مرحوم نے اپنے خالص علمی، معلومات اور قدرے فلسفیانہ رنگ میں ۹۸۴ صفحات پر مشتمل یہ کتاب تحریر کی ہے۔ اس ضخیم کتاب میں پرویزیت کا جامع انداز میں پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے۔

حصہ اَول : معتزلہ سے طلوعِ اسلام تک...حصہ دوم :طلوع اسلام کے مخصوص نظریات... حصہ سوم : قرآنی مسائل...حصہ چہارم : دوامِ حدیث...حصہ پنجم : دفاعِ حدیث...حصہ ششم :طلوعِ اسلام کا اسلام

2۔اتباعِ سنت [از سید بدیع الدین شاہ راشدی، (حیدر آباد سندھ، ۱۹۷۹ء)

مقامِ سنت اور اتباعِ سنت کے فوائد پر بحث ہے۔

3۔اِتباعِ سنت کے مسائل [از محمد اقبال کیلانی، (لاہور ، ۱۹۷۹ء)

سنت کی فضیلت و اہمیت کیساتھ ساتھ منکرین حدیث کے بعض اعتراضات کا شافی جواب ہے۔

4۔إثبات الخبر فی ردّ منکری الحدیث والأثر ـ[از حافظ عبدالستار حسن (اسلام آباد، ۸۹ء)

منکرین حدیث کے اعتراضات اور ان کے جوابات پر مشتمل یہ رسالہ مولانا عبدالغفار حسن صاحب کی مرتب کردہ 'عظمت ِحدیث' نامی کتاب میں صفحہ ۸۷ تا ۱۲۸ تک پھیلا ہوا ہے۔

5۔احادیث ِصحیح بخاری و مسلم کو مذہبی داستانیں بنانے کی ناکام کوشش

(از مولانا ارشاد الحق اثری، (فیصل آباد، ۱۹۹۸ء)

جناب حبیب الرحمن صدیقی کاندھلوی صاحب کی کتاب 'مذہبی داستانیں اور ان کی حقیقت' نے فتنہ اِنکارِ حدیث کو ہوا دینے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اس کتاب میں موضوع روایات کے ساتھ ساتھ بخاری و مسلم کی احادیث پر بھی ہاتھ دکھایا گیا ہے۔ بخاری و مسلم کے روحانی فرزند جناب اَثریؔ نے اپنی کتاب میں کاندھلوی صاحب کے مبلغ ِعلم اور علمی خیانتوں کا خوب پردہ چاک کیا ہے۔ اس کے علاوہ مشکل پسند شاعر جناب عبدالعزیز خالد اور تمنا عمادی کی اَحادیث ِبخاری پر لب کشائی کی نقاب کشائی بھی کی ہے۔

6۔ أحادیث الصحیحین بین الظن والیقین [از حافظ ثناء اللہ الزاہدی ،(امارات)

'خبر واحد علم ظنی کا فائدہ دیتی ہے'... یونانی فلسفے سے متاثر اس گمراہ فکر کا علمی انداز میں اچھوتا اور اوّلین جواب ہے۔ صدیوں سے مسلمہ اُصول کی عقلی و نقلی تردید کی جرأت کرنے اور اس کا صحیح حق ادا کرنے میں جناب حافظ صاحب خوب کامیاب رہے ہیں اور نئی فکری رہنمائی کا فریضہ کماحقہ سرانجام دیا ہے۔

7۔ احکامِ شریعت میں حدیث کا مقام [از مولانا محمد اسماعیل ؒ سلفی،(ملتان)

8۔اسلام میں سنت کا مقام [از مولانا عبدالغفار حسن، (کراچی)

9۔اسلام میں سنت و حدیث کا مقام (حصہ دوم) [از ڈاکٹر مولانا احمد حسن ٹونکی)

مصطفی حسن سباعی کی السنة ومکانتھا في التشریع الإسلامي کا ترجمہ ہے۔

10۔اسلام میں کتا ب و سنت کا مقام [ازمولانا عبدالسلام کیلانی، (لاہور، ۱۹۹۲ء)

کتاب و سنت کے اصلی ماخذ دین ہونے پر علمی روشنی ڈالی ہے۔

11۔اسلامی آئین کی تشکیل اور سنت (مقالات) [اسلام آباد، ۱۹۸۳ء]

مولانا محمد حنیف ندویؒ نے اپنے مقالے 'اسلامی آئین کی تشکیل اور سنت' میں اپنے خاص ادبی اور فلسفی رنگ میں قرآن سے سنت کا غیر منفصل رشتہ ثابت کیاہے۔

اسی کتاب میں، مولانا ارشاد الحق اَثری نے اپنے مقالے 'خبر واحد کا مفہوم اور مقام' میں اپنے خاص علمی اور تحقیقی انداز میں خبر واحد کی قطعی افادیت کو پیش کیا ہے۔

12۔ہفت روزہ 'الاعتصام' (حجیت ِحدیث نمبر) [جلد نمبر ۷، شمارہ ۲۸۔۲۹(لاہور، ۱۹۵۶ء)

انکارِ حدیث یا انکارِ سنت ، حجیت ِحدیث، تدوین حدیث، فتنۂ انکارِ حدیث کا عقلی اور تاریخی تجزیہ جیسے اہم مقالات کے علاوہ فتنہ انکارِ حدیث پر منظوم کلام بھی پایا جاتا ہے۔

13۔ اقبال اور منکرین ِحدیث [از پروفیسر محمد فرمان(گجرات)

14۔امام بخاریؒ پر بعض اعتراضات کا جائزہ [از مولانا ارشاد الحق اثری، (فیصل آباد، ۱۹۹۹ء)

منکرین حدیث کے گروہ سے باہر بیٹھ کر ان کی بولی بولنے والے مولانا حبیب اللہ ڈیروی کے صحیح بخاری پر اعتراضات کا محققانہ اور محدثانہ جواب ہے۔ اور یوں منکرین حدیث یا ان کے ہم نوا لوگوں کے ہاتھوں سب سے زیادہ ہدفِ تنقید بننے والی مظلوم کتابِ حدیث کے دفاع کا حق ادا کیا گیا ہے۔

15۔انکارِحدیث (ایک فتنہ، ایک سازش) [از پروفیسر محمد فرمان، (گجرات ۱۳۸۳ھ؍۱۹۶۴ء)

16۔انکارِ حدیث حق یا باطل [از مولانا صفی الرحمن اعظمی، (بنارس، یو پی ۱۹۷۸ء)

17۔انکارِ حدیث یا انکار رسالت [ازسید معین الدین (سکندر آباد)

18۔انکارِ حدیث کے نتائج [ ازمولانا محمد سرفراز خان (لاہور)

19۔ اہتمام المحدثین بنقد الحدیث سنداً ومتناً[ازڈاکٹر محمد لقمان سلفی، (ریاض، ۸۷ء)

اس کتاب میں صفحہ ۴۵۷ و ما بعد پر برصغیر میں فتنہ انکار حدیث کے نشر و ارتقا پر بڑی تفصیلی اور علمی بحث پائی جاتی ہے۔

20۔ اہمیت ِحدیث [ازسید محمد اسماعیل مشہدی بن مولانا محمد شریف شاہ صاحب گھڑیالوی(حافظ آباد)

سید محمد اسماعیل مشہدی کی اہل حدیث کانفرنس، ملتان (۱۳۷۶ھ) میں حجیت ِحدیث کے موضوع پر تقریر ہے۔ جو مولانا محمد یحییٰ صاحب حافظ آبادی کی کاوِش سے طبع ہوئی تھی۔ آج کل حافظ محمد شریف مدیر مرکز السنۃ فیصل آباد طبع نو کے لئے اس پر نظرثانی فرما رہے ہیں۔ دعا ہے یہ کتاب جلد از جلد پھر سے شائقین کے ہاتھوں تک پہنچے کیونکہ موضوع اور معلومات کے لحاظ سے بڑی مفید اور جامع کتاب ہے۔

21۔برقِ اسلام [ازمولانا محمد شرف الدین محدث دہلوی(خانیوال)

22۔ برصغیر پاک وہند میں احیائِ سنت کی مساعی ( از حافظ عبدالرحمن مدنی،۱۹۹۹ء)

«إطلاعة علی جهود علماء السنة والحديث فی شبه القارة الهندية»:عربی زبان کا یہ مقالہ مدیراعلیٰ'محدث' لاہور نے مراکش میں شاہ حسن دومؒ کے زیر اہتمام ہر سال رمضان المبارک میں منعقد ہونے والے 'دروسِ حسنیہ' کے سلسلہ میں پیش کیا۔ جس میں دنیا بھر سے ممتاز اہل علم؍دانشور شرکت کرتے ہیں اور شاہی محل میں شاہ مراکش کی صدارت میں چیدہ چیدہ علما اور زعمائِ مراکش کی ایک تعداد بھی موجود ہوتی ہے ۔ یہ مقالہ برصغیر پاک وہند کی 'تحریک ِاہل حدیث ' کے ارتقا کے پس منظر میں شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور کتاب وسنت سے براہِ راست وابستگی کے مشن کو فروغ دینے والے کبار 'خدامِ سنت ' کی مختصر جھلکیوں پر مشتمل ہے ۔غالباً یہ اسلامی مغربِ اقصیٰ میں تیرھویں اور چوھودیں ہجری کے ممتاز علما کا سرکاری سطح پر پہلا تعارف ہے۔

23۔ بصائر السنۃ [از مولانا سید محمد امین الحق، (شیخوپورہ، ۱۹۵۵ء)

حجیت ِحدیث کتاب کا ضابطہ اطاعت اور رسالت ِمآب علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیغمبرانہ حیثیت، اتباعِ قرآن و حدیث کا باہمی ربط، تدوین حدیث نیز منکرین حدیث کے اعتراضات کے مسکت جواب کی حامل کتابِ ہذا کا حصہ اوّل دستیاب ہوا، حصہ دوم تک رسائی نہ ہوسکی۔

24۔ پرویز کا اسلام [ازمنشی عبدالرحمن خان (کراچی)

متاثرین ِپرویز کو راہِ ہدایت دکھانے کی غرض سے عقائد و افکارِ پرویز پر جستہ جستہ نگاہ ڈالی ہے۔

25۔ پرویز نے کیا سوچا ؟ [از ڈاکٹر سبطین لکھنوی (کراچی)

غلام احمد پرویز صاحب کے عقائد و افکار کا تفصیلی نقشہ ان کے لٹریچر سے باحوالہ پیش کیا گیا ہے۔

26۔ تاریخ اہل حدیث [مولانا حافظ محمد ابراہیم سیالکوٹی، (لاہور، ۱۹۵۳ء)

تاریخ اہلحدیث کا دوسرا حصہ (صفحہ ۲۹۰ تا ۳۰۶) کتابت ِحدیث و تدوین حدیث کے حوالے سے لکھا گیا ہے اور اس میں مولانا میر صاحب نے اس پہلو پر خوب محققانہ اور مؤرخانہ انداز میں منکرین حدیث کا ردّ کیاہے۔

27۔ تاریخ تدوین حدیث [ازمولانا ہدایت اللہ ندوی، (اوکاڑہ، ۱۹۵۷ء)

28۔ تاریخ حدیث [از ڈاکٹر غلام جیلانی برق، ( لاہور، ۱۹۸۸ء)

ڈاکٹر صاحب نے اپنے انکار حدیث والے موقف سے رجوع کے بعد اپنی سابقہ تحریروں کے ازالہ و کفارہ کے طور پر یہ کتاب تحریر کی ہے۔ کتب ِحدیث کی کتابت و تدوین کے حوالے سے بزبانِ اُردو تاریخی اعتبار سے بڑی جامع معلومات یکجا کردی ہیں۔ جن کے مطالعہ کے بعد منکرین حدیث کے اس اعتراض کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ احادیث تیسری صدی مدوّن کی گئی ہیں، لہٰذا ان کا اعتبار نہیں۔

29۔ تحقیق معنی السنۃ وبیان الحاجۃ إلیہ [ازسید سلیمان ندوی (قاہرہ، ۱۳۷۷ھ)

مترجم: عبدالوہاب دہلوی...سنت کا معنی و مفہوم، فہم قرآن میں اس کی ضرورت کے علاوہ وحدتِ اُمت ِمسلمہ میں اس کے اہم کردار کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے۔

30۔ تدوین حدیث [از مولانا مناظر احسن گیلانی (کراچی، ۱۴۰۷ھ)

حدیث کی شرعی حیثیت، حدیث کی دینی اہمیت و ضرورت، تدوین و حفاظت کے علاوہ ان شکوک وشبہات کا نہایت اطمینان بخش جواب دیا ہے جن کی وجہ سے بعض لوگ حجیت ِحدیث کا انکار کرتے ہیں۔

31۔ تردید ِپرویزیت [ازمولانا ظفر احمد عثمانی(لاہور)

32۔ تفہیم اسلام [ از مسعود احمد ، بی ایس سی، (کراچی ۱۴۰۷ھ؍۱۹۸۷ء)

جناب ڈاکٹر غلام جیلانی برق صاحب کی بطورِ منکر ِحدیث معروف کتاب ' دو اسلام'کا بہترین جواب ہے۔ حجیت ِحدیث، تدوین ِحدیث جیسے موضوعات کے علاوہ منکرین حدیث کے اعتراضات وشبہات کا انتہائی احسن انداز میں قرآن و حدیث کے بھرپور دلائل سے محکم و مدلل جواب ہے۔ یہ ایسی عمدہ اور پرتاثیر کتاب ہے کہ 'دو اسلام' کا مصنف بھی اسے پڑھ کر اپنے گمراہ عقیدہ پر قائم نہ رہ سکا اور اخیر عمر میں حدیث ِنبوی کی طرف رجوع کرکے اپنی عاقبت سنوارنے کی کوشش کرگیا۔ کتابِ ہذا کے آخر پر مصنف 'دو اسلام' کا خط شائع کیا گیا ہے جس میں مصنف 'دو اسلام'نے اپنے ناشر کو آئندہ 'دواسلام' شائع کرنے سے منع کردیا۔ والله يهدي من يشاء إلى صراط مستقيم!

33۔ جماعت ِاسلامی کا نظریۂ حدیث [از مولانا محمد اسماعیل سلفی، (لاہور، ۱۹۷۰ء)

34۔ جمع القرآن والأ حادیث (ذخائر المواریث فی الدلالۃ علی ثبوت جمع القرآن والأحادیث) [از مولانا ابوالقاسم محمد خان سیف محمدی بنارسی، (لاہور ۱۰۳۶ھ)

دوسرے باب میں(صفحہ ۳۴ تا ۵۶) اس امر کا ثبوت ہے کہ احادیث ِنبویہ آخری زمانۂ رسالت اور عہد ِصحابہ میں کتابی صورت میں جمع کی جاچکی تھیں، نہ کہ دوسری صدی ہجری میں مدوّن ہوئیں۔ پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف ظفر(انچارج سیرت چیئر، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور) کی تخریج و تعلیق اور خوبصورت کمپیوٹر کمپوزنگ کا حامل مسودہ برائے طبع تیار ہے۔

35۔ جہانِ کہن بجوابِ جہانِ نو [ از مولانا فضل احمد غزنوی(حیدر آباد)

احادیث جزوِ دین ہیں، حجت ِدین ہیں۔ وحی ہیں، اَبدی ہیں۔ شطحیات و اباطیلِ برق اور منکرین حدیث کا ردّ خود قرآن سے پیش کیا ہے۔

36۔ حجیت ِحدیث [از شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیلؒ سلفی، (لاہور، ۱۹۸۱ء)

حجیت ِحدیث کے اثبات اور منکرین حدیث کے افکار کے اِبطال پر قابل فخر کتاب ہے۔ یہ کتاب معلومات کی وسعت، افکار کی ندرت و پختگی، خصم کی بیخ کنی اور گوشمالی کے ساتھ ساتھ دعوتی اسلوب کا شاہکار ہے۔

37۔ حجیت ِحدیث [ازعلامہ ناصر الدین البانی؍ شیخ الحدیث محمد اسماعیل سلفی ؒ(بنارس، ۱۹۸۵ء)

اس میں آٹھ رسائل ہیں۔ اور علامہ ناصر الدین البانی کے درج ذیل رسائل شامل مجموعہ ہیں :

1. اسلام میں سنت ِنبوی کا مقام، صرف قرآن پر اکتفا کی تردید!

2. عقائد میں حدیث ِآحاد سے استدلال واجب ہے۔ مخالفین کے شبہات کا جواب (ترجمہ مولانا عبدالوہاب حجازی کا ہے۔)

3. عقائد و احکام کے لئے حدیث ایک مستقل حجت (ترجمہ بدرالزمان نیپالی) مولانا محمد اسماعیل سلفی صاحب کے رسائل در مجموعہ ہذا

4. حدیث کی تشریعی اہمیت

5. جماعت ِاسلامی کا نظریۂ حدیث

6. سنت، قرآن کے آئینہ میں

7. حجیت ِحدیث آنحضرت کی سیرت کی روشنی میں

8. مسئلہ درایت و فقہ راوی کا تاریخی و تحقیقی جائزہ

38۔ حجیت ِ حدیث [از افاضاتِ مولانا بدر عالم میرٹھی، (لاہور ۱۹۷۹ء)

39۔ حجیت ِحدیث [از مولانا محمد ادریس کاندھلوی(لاہور)

نفس مضمون پر لاجواب کتاب ہے، دلائل و ترتیب کے اعتبار سے بہت عمدہ کاوش ہے۔

40۔ حجیت ِحدیث و اتباعِ رسول [ازمولانا ثناء اللہ امرتسری (امرتسر، ۱۹۲۹ء)

41۔ حجیت ِحدیث اور فتنۂ انکارِ حدیث [از فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز)

ترجمہ از عبدالمنعم عبدالباقی ... (مقام طباعت : ملتان)

ترجمہ ثانی بنام 'فتنہ انکار حدیث اور اسلام' از ابومحمد عبدالستار حماد (مقام طباعت : میاں چنوں)

'فتنہ پرویزیت کا تعارف' کے عنوان سے جناب عبدا لستارحماد نے اس فتنہ کا خوب ردّ پیش کیا ہے۔

42۔ حجیت ِحدیث (بجواب حقیقت ِحدیث از ڈاکٹر قمرزماں (گوجرانوالہ) باہتمام مولانا خالد گھرجاکھی

حجیت ِحدیث کے ساتھ ساتھ بعض احادیث پر اعتراضات کے جوابات بھی ہیں۔

43۔ حجیت ِسنت (عبدالغنی عبدالخالق) [ازترجمہ محمد رضی الاسلام ندوی، (اسلام آباد۱۹۹۷ء)

موضوع اور موادِ کتاب کی افادیت کے پیش نظر ادارئہ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد نے اس ضخیم کتاب کا اردو ترجمہ شائع کرنے کا اہتمام کرکے عظیم خدمت سرانجام دی ہے۔

44۔ حدیث اور قرآن [از سیدابوالاعلیٰ مودودی(کراچی)

45۔حدیث رسول کا تشریعی مقام [ ازڈاکٹر مصطفی سباعی (فیصل آباد)] ترجمہ: پروفیسر غلام احمد حریری

انکارِ حدیث کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کردینے والی کتاب ہے۔

46۔حدیث رسول کا قرآنی معیار [از مولانا محمد طیب (لاہور، ۱۹۷۷ء)

47۔حدیث ِرسول کی تشریعی اہمیت [ مولانا محمد اسماعیلؒ سلفی، (لاہور، ۱۹۸۱ء)

48۔حدیث قرآن کی تشریح کرتی ہے ! [ ازمحمد رفیق چوہدری(لاہور)

49۔ حفاظت و حجیت ِحدیث [از مولانا محمد محترم فہیم عثمانی (لاہور، ۱۹۷۹ء)

حدیث کی حفاظت اور اس کی حجیت سے متعلق تمام شکوک و شبہات کا نہایت اطمینان بخش جواب دیا گیا ہے۔

50۔ خود انصاف کیجئے! بجواب 'خود فیصلہ کیجئے !' [ازمسعود احمد، بی ایس سی(کراچی)

صحیح بخاری کی بعض احادیث پر اعتراضات کا تفصیلی اور لاجواب کر نے والا جواب ہے۔

51۔درسِ صحیح بخاری [محدث العصر حافظ محمد گوندلویؒ، (لاہور، ۱۹۹۲ء)

جگہ جگہ اس گمراہ فکر کا خالص محدثانہ انداز میں بلندپایہ فکری ردّ پایا جاتا ہے۔

52۔دلیل الفرقان بجواب اہل القرآن [از مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ (امرتسر، ۱۹۰۶ء)

عبداللہ چکڑالوی کے رسالے 'برہان الفرقان' کا ردّ ہے۔ چکڑالوی نے نما زِپنجگانہ کی کیفیت، کمیت اور ہیئت کا ثبوت ازروئے قرآن دینے کا تکلف کیا تو شیخ الاسلام امرتسری نے حجیت ِحدیث پر مناسب شاندار بحث فرمائی۔

53۔دوامِ حدیث [از محدث العصر حافظ محمد گوندلویؒ، (بحوالہ درسِ بخاری، صفحہ ۲۷)

غلام احمد پرویز کی کتاب 'مقام حدیث' کا مدلل و مسکت جواب ہے۔

54۔زوابغ فی وجہ السنۃ قدیماً وحدیثاً [ازصلاح الدین مقبول احمد (کویت، ۱۹۹۴ء)

برصغیر میں فتنۂ انکار سنت کے بارے میں مضمون ص۹۱ تا ۱۰۷ پھیلا ہوا ہے۔

55۔ السنۃ [ازمحمد بن نصر المروزی (سانگلہ ہل)

دفاع عن السنۃ کے جذبے کے تحت یہ کتاب سید عبدالشکور اَثری صاحب نے شائع کی تھی۔ ماہنامہ محدث ،لاہور( جلد ۱، عدد ۱۰) میں مولانا عبدالسلام کیلانی کی طرف سے امام مروزی اور ان کی کتاب ہذا کے تعارف کے علاوہ قسط وار ترجمہ شائع ہونے کا اعلان بھی ہے۔

56۔ سنت اور اتحادِ ملت [ازمولانا عبدالغفار حسن ،(فیصل آباد)

منکرین حدیث کے شرانگیز شو شے 'سنت باعث ِاختلاف ہے!' کا علمی اور تاریخی جواب ہے۔

«السنة حجّتھا ومکانتھا في الإسلام والرد علی منکریھا» [ازڈاکٹر لقمان سلفی، (مدینہ ،۱۹۸۹ء)

57۔ منکرین حدیث کے 'مرکز ملت' جیسے نظریات کی قلعی کھولی گئی ہے۔

58۔سنت ِخیر الانام [ازپیر محمد کرم شاہ الازہری(کراچی)

پیر صاحب نے اپنے خاص علمی اور ادبی رنگ میں ڈوب کر یہ کتاب تحریرکی ہے اور بعض مباحث کے بارے میں اپنے خاص مسلک سے ہٹ کر خالص تحقیقی انداز میں قلم اٹھایا ہے۔

59۔سنت ِرسول [ ازملک غلام علی (لاہور)

شیخ مصطفی السباعی کی السنة ومکانتھا فی التشریع الإسلامی کا تیسرا ترجمہ ہے۔

60۔سنت کا تشریعی مقام [ مولانا محمد ادریس میرٹھی(کراچی)

یہ شیخ مصطفی سباعی کی السنةومکانتھا في التشریع الإسلامی کا چوتھا ترجمہ ہے۔

61۔سنت ِرسول کیا ہے اور کیا نہیں ہے؟ [ ازمحمد عاصم حداد، (لاہور، ۱۹۹۱ء)

سنت کا ماخذ، وحی، اتباعِ سنت کی فرضیت ، احکام میں سنت کا قرآن کے ساتھ مقام اور تاریخ تدوین سنت جیسے اہم موضوعات پر معلومات کے علاوہ منکرین حدیث کے بعض شبہات کا بہترین ردّ ہے۔

62۔سنت قرآن حکیم کی روشنی میں [از مولانا عبدالغفار حسن (فیصل آباد)

63۔سنت قرآن کے آئینہ میں [ازشیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیلؒ سلفی (فیصل آباد)

64۔ السنۃ النبویۃ ومکانتھا فی ضوء القرآن [ازڈاکٹر حبیب اللہ مختار، (کراچی۸۶ء)

فتنۂ انکارِ حدیث کا آغاز و ارتقائ، قرآن و سنت کا باہمی تعلق جیسے مختلف موضوعات کے علاوہ منکرین حدیث کے اعتراضات کے جواب پیش کئے ہیں۔

65۔ سنت کی آئینی حیثیت [ ازسید ابوالاعلیٰ مودودی، (لاہور ۱۹۶۳ء)

سنت کی آئینی حیثیت درحقیقت ترجمان القرآن، لاہور( ج ۵۶، عدد۶، ستمبر ۱۹۶۱ئ) کے 'منصب رسالت نمبر'کی کتابی شکل ہے۔ اس کتاب میں سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب نے اپنے مخصوص تفہیمانہ اور داعیانہ انداز میں منکرین حدیث کے عقائد و افکار کا جائزہ اور اعتراضات کا شافی جواب پیش کیا ہے۔

فتنہ انکارِ حدیث کے رد میں کتاب کی اہمیت اور برادر ملک ترکی میں ضرورت کے پیش نظر راقم الحروف نے اپنے ترک دوست ڈاکٹر درمش بلغر کے ساتھ ترکی ترجمہ پیش کیا تھا۔ جو کہ ۱۹۹۷ء میں قونیہ سے "Sunnet'in Anayasal Konumu" کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ (وللہ الحمد)

66۔صحیفہ ہمام بن منبّہ [از اضافی دیباچہ پروفیسر غلام احمد حریریؒ، (فیصل آباد)

صحیفہ ہمام بن منبہ بذاتِ خود منکرین حدیث کی قوی تردیدہے۔ کیونکہ اس کی طبع سے اس مغالطے ''احادیث تیسری صدی میں تدوین ہوئیں!'' کا ٹھوس تاریخی ردّ ہوگیا ہے۔ مترجم جناب پروفیسر غلام احمد حریری نے اضافی دیباچے میں فتنۂ انکار حدیث کی اصلیت واضح کی ہے۔ تدوین حدیث کے حوالے سے ان کا منہ بند کیا ہے۔

67۔شوقِ حدیث (حصہ اول) [ازمولانا محمد سرفراز احمد خان صفدر (گکھڑ ، گوجرانوالہ، ۱۹۵۰ء)

حفظ و تدوین حدیث کے بارے میں تاریخی معلومات مہیا کرنے کے علاوہ منکرین حدیث کے اعتراضات کا بھی جا بجا جائزہ لیا گیا ہے۔

68۔ صیانۃ الحدیث [ ازمولانا عبدالرؤف رحمانی جھنڈا نگری، (گوجرانوالہ، ۱۹۸۶ء)

منکرین حدیث کے اعتراضات کا جامع مانع تاریخی و تحقیقی جواب ہے۔ کتابِ ہذا میں اس قدر مواد جمع کردیا گیا ہے کہ دریا کوزہ میں بند نظر آتا ہے۔

69۔صحیح قرآنی فیصلے [ازمولانا فضل احمد غزنوی، (لاہور)

پرویز کی کتاب 'قرآنی فیصلے' کا دندان شکن جواب ہے۔

70۔صحیح مقام حدیث [ازمولانا فضل احمد غزنوی (حیدر آباد، سندھ)

پانچ قرآنی آیات سے ثابت کیا ہے کہ احادیث حجت ِدین ہیں۔ اسلام میں تشریعی حیثیت رکھتی ہیں۔ نیز قرآن کی طرح حدیث کا ذمہ اللہ نے لیاہے۔ اس دعویٰ کو بھی ستر آیاتِ قرآنیہ سے ثابت کیا ہے۔

71۔پندرہ روزہ 'صحیفہ اہل حدیث' حدیث نمبر[ (کراچی، ۱۹۵۲ئ) جلد ۳۲، عدد۱۱تا۱۸)

حجیت ِحدیث، تدوین حدیث سے لے کر انکارِحدیث تک ہر طرح کے مضامین شامل اِشاعت ہیں۔

72۔علوم الحدیث [ازڈاکٹر صبحی صالح] ترجمہ : پروفیسر غلام احمد حریری، (فیصل آباد، ۱۹۸۱ء)

حرفِ آغاز کے تحت لکھے گئے صفحات میں برصغیر میں فتنۂ انکار حدیث پر عمدہ تبصرہ ہے۔ اس کے علاوہ کتاب میں حجیت ِحدیث اور تدوین حدیث جیسے اہم مباحث پر تفصیلی معلومات پائی جاتی ہیں۔

73۔علوم الحدیث و حجیت حدیث [از حافظ عبدالمنان نور پوری (غیر مطبوعہ)

حضرت حافظ صاحب نے اپنے مخصوص مسکت اور دوٹوک انداز میں منکرین حدیث کے اعتراضات کی خوب خبر لی ہے ۔ جوابات میں محدثانہ رنگ غالب ہے۔

«فتنة إنکار السنة في شبه القارة الھندیة الباکستانیة» [اعداد : د ؍سمیر عبدالحمید ، (مکتبہ دارالسلام)

74۔ فی الحال مکتبہ دارالسلام نے عربی میں خدمت ِطبع سرانجام دی ہے۔ اللہ کرے اس عمدہ کتاب کا ترجمہ بھی جلد آجائے تاکہ علماء کے علاوہ عوام الناس بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

75۔فہم حدیث [ازحافظ عبدالقیوم ندوی(کراچی)

عظمت ِحدیث کا ناقابل انکار دلائل سے ثبوت فراہم کیا گیا ہے۔ نیز فتنہ انکار حدیث کے ظہور پذیر ہونے میں جماعت ِاہلحدیث کا بھی کوئی گناہ ہے، اس بے ہودہ اعتراض کا بھی ردّ کیاہے۔

76۔قرآن اور عورت [ازپروفیسر محمد دین قاسمی (کراچی)

کج فہمی کی بنا پر منکرین حدیث ہمیشہ عورت کے بارے اسلامی تعلیمات خاص طور پر احادیث ِنبوی کو ہدفِ تنقید بناتے رہتے ہیں اور اس بہانے احادیث ردّ کرنے کی راہ نکالتے رہتے ہیں۔ محترم قاسمی صاحب نے عقلی دلائل کے علاوہ جدید تحقیقی رپورٹوں کی مدد سے قرآن و سنت کا عورت کے بارے میں صحیح موقف ثابت کیا ہے۔

77۔قرآن و حدیث [ ا زمحمد طیب قاری، (کراچی ۱۳۷۸ھ)

78۔ القرآنیون و شبھاتھم حول السنۃ [از خادم حسین الٰہی بخش (طائف، ۱۹۸۹ء)

منکرین حدیث کے عقائد و نظریات اور اعمال و اطوار کے بارے میں بہترین جامع انداز میں تحلیلی مواد کو محیط ہے۔ یہ کتاب اہل عرب کو اس فتنہ سے آگاہی کے علاوہ اس کی خباثتوں سے محفوظ رکھنے میں بھی عمدہ کردار ادا کرسکی ہے۔

79۔قضیۃ الحدیث فی حجیۃ الحدیث [ ازمولانا ابوالقاسم بنارسی(دربھنگہ)

مکتبہ سلفیہ کی طرف سے 'مشعل راہ' نامی کتاب میں صفحہ ۱۶۱ تا ۱۸۷ یہ مضمون پایا جاتا ہے۔ جس میں ابوالقاسم صاحب نے رسول اللہ ﷺ کی مختلف پیشین گوئیوں کی علمی صداقت سے حجیت ِحدیث پر اچھوتا استدلال پکڑا ہے اور منکرین حدیث کو یوں راہِ ہدایت دکھائی ہے۔

80۔ کتابت ِحدیث [ مولانا سید منت اللہ شاہ رحمانی(لاہور)

منکرین حدیث کے جواب میں حدیثوں کی ترتیب و تدوین کی تاریخ پر ایک جامع مقالہ ہے۔

81۔کتابت ِحدیث تا عہد ِتابعین [ ازمولانا محمد خالد سیف (لاہور)

کتابت و تدوین حدیث کا تاریخی جائزہ نیز کتابت ِحدیث سے منع والی روایت پر بھی ایک نظر ڈالی ہے۔ اصولِ حدیث و محدثین کے حوالے سے اس کی حیثیت واضح کی ہے اور یوں منکرین حدیث کے اس عمومی اعتراض کا رد کردیا گیا ہے کہ احادیث تیسری صدی میں تحریر کی گئی ہیں۔

82۔کتابت ِحدیث، عہد نبوی میں [ ازمولانا سید ابوبکر غزنوی ؒ،(لاہور)

''احادیث تیسری صدی میں لکھی گئیں!'' اس اعتراض کا ردّ اس کتاب کا ماحصل ہے۔

83۔مسئلہ انکارِ حدیث کا تاریخی و تنقیدی جائزہ [ ازڈاکٹر فضل احمد، (کراچی، ۱۹۹۰ء)

84۔مشکلات الحدیث النبویۃ [از علامہ عبداللہ قصیمی]

ترجمہ بنام 'بینات' از مولانا محمد نصرت اللہ مالیر کوٹلوی، (لاہور ۱۳۷۴ھ؍ ۱۹۵۵ء)

منکرین حدیث کی طرف سے بعض احادیث پر اعتراضات کا مسکت جواب ہونے کی بنا پر مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان نے عربی متن اور ترجمہ ہر دو کی الگ الگ طبع کا اہتمام کیا ہے۔

85۔ مصباح الحدیث [ ازڈاکٹر حمید اللہ عبدالقادر ،(لاہور)

حجیت ِحدیث کے دلائل اور منکرین حدیث کے ردّ پر عمدہ مضمون، ص۴ تا ۲۶ پھیلاہوا ہے۔

86۔ مطالعہ حدیث [از علامہ حنیف ندوی، (لاہور ۱۹۷۹ء)

منکرین حدیث کی ہم نوائی کا شوق پورا کرنے والوں کو راہِ ہدایت دکھانے کی غرض سے ندوی صاحب نے یہ کتاب تحریر کی ہے۔ گھر کا بھیدی ہونے کے ناطے یہ کتاب اپنے مقصد میں بے مثال ہے۔

87۔ مفتاح الجنۃ فی الاحتجاج بالسنۃ [ازحافظ جلال الدین السیوطی)

اردو ترجمہ بنام : حجیت ِسنت ِمحمدیہ ﷺ ترجمہ: مولانا خالد گھرجاکھی (گھرجاکھ، ۱۹۸۶ء)

ادارئہ احیاء السنہ گھرجاکھ نے فتنۂ انکار حدیث کے حوالے سے کتاب کی افادیت کے پیش نظر عربی متن اور ترجمہ الگ الگ شائع کرکے عمدہ خدمت سرانجام دی ہے۔

88۔مقالاتِ دائود غزنویؒ [ ازعلامہ حنیف ندوی، (لاہور ۱۹۷۹ء)

تاریخ جمع و تدوین احادیث ِرسول اکرم ﷺ کے بارے میں ص ۴۰۱ تا ۴۲۹ مقالات موجود ہیں۔

89۔مقالاتِ محمود [از مولانا محمود احمد میرپوریؒ)] مرتبہ: ثناء اللہ سیالکوٹی، (برطانیہ، ۱۹۹۶ء)

فتنۂ انکار حدیث کے عنوان کے تحت میرپوری مرحوم کا مقالہ، ص ۵۵ تا ۱۰۹ پھیلا ہوا ہے۔

90۔مقامِ حدیث [ازمولوی محمد علی، (لاہور، ۱۹۳۲ء)

نفس مضمون پر عمدہ کتاب ہے، اگرچہ مصنف کفریہ عقائد کا حامل ہے۔

91۔مقامِ حدیث [از(ادارئہ طلوع اسلام) (لاہور ، ۱۹۹۲ء)

سرورق پر مصنف؍ مصنّفین کا نام درج نہیں۔ جبکہ غلام احمدپرویز اور حافظ محمد اسلم جیراج پوری صاحب وغیرہ کے مضامین شامل اشاعت ہیں۔ جو لوگ اپنا نام ظاہر کرنے کی جرأت نہیں رکھتے وہ اپنے عقائد میںکس قدر درست ہوں گے ۔نیز سرورق پر لکھا ہے۔

''احادیث کس طرح مرتب اور جمع ہوئیں اور ہم تک کس طرح پہنچیں۔ دین میں اس کی کیا حیثیت ہے اور قرآن وحدیث کا باہمی تعلق کیا ہے۔ ان مباحث کے متعلق تفصیلی گفتگو اور جامع معلومات''

کتاب کے نام کی طرح یہ تعارفی کلمات بھی سراسر ابلیسی و تدلیسی حربہ ہیں۔ کیونکہ ساری کتاب مقامِ حدیث گرانے اور جمع و تدوین حدیث کو جھوٹ ثابت کرنے میں تحریر کی گئی ہے۔ کتابِ ہذا کا مطالعہ کرتے وقت اسکے مقصد ِتحریر کو ضرور سامنے رکھنا چاہئے کیونکہ یہ ساری کتاب کلمۃ حق أرید بہا الباطل کا مظہر ہے۔

92۔ مقامِ حدیث مع ازالہ شبہات [ ازفیض احمد ککروی (ملتان)

حجیت ِحدیث، کتابت حدیث جیسے مختلف عنوانات پر تفصیلی بحث کے بعد منکرین حدیث کے ۱۰ شبہات کا عمدہ جواب، ص ۸۷ تا ص ۱۲۰ پر پایا جاتا ہے۔

93۔مقامِ سنت [ شاہ محمد جعفر ندوی پھلواری، (لاہور، ۱۹۵۹ء)

94۔مقامِ سنت [ازعلامہ مشتاق احمد چشتی ، (لاہور ۱۳۹۸ھ؍۱۹۷۸ء)

سنت کی تشریعی حیثیت او رمنکرین حدیث کے کئی ایک اعتراضات کا تحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

95۔مکانۃ الحدیث في التشریع الاسلامی [ازمحمد بن عبداللہ شجاع آبادی (ملتان)

المعروف بہ ' حدیث ِرسولؐ اور پرویز'

96۔مناظرہ مابین مولوی عبداللہ چکڑالوی و اہل قرآن ـ[ ازمولانا محمد ابراہیم میرؒسیالکوٹی]

مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی صاحب کے دستخط بتاریخ ۱۴؍ جولائی ۱۹۰۶ء موجود ہیں۔

97۔نصرۃ الباري في بیان صحۃ البخاري [ مولانا عبدالرؤف جھنڈا نگری، (گوجرانوالہ، ۱۹۸۲ء)

سنت کی نصرت و حمایت میں لکھی جانے والی یہ کتاب منکرین حدیث کی سب سے بڑی ہدفِ تنقید 'صحیح بخاری' کے بارے اشکالات سے نجات کا بڑا مواد رکھتی ہے۔

98۔دلائل التوثیق المبکر للسنۃ والحدیث [ازڈاکٹر امتیاز احمد]

عربی ترجمہ : ڈاکٹر عبدالمعطی امین قلعجی (قاہرہ ۱۴۱۰ھ؍۱۹۹۰ئ)... یہ عربی ترجمہ دراصل ایڈن برگ یونیورسٹی میں ۱۹۷۴ء میں لکھے جانے والے پی ایچ ڈی مقالہ "The Significance of Sunnah and Hadith and thier Early Documentation" کا ہے۔ جسے ڈاکٹر امتیاز احمد نے پیش کیا تھا۔ اصل انگریزی مقالہ بھی قابل مطالعہ ہے۔

99۔دراسات في الحدیث النبوی و تاریخ تدوینہ [ از ڈاکٹر مصطفی اعظمی ، (بیروت، ۱۹۹۲ء)

یہی مقالہ ڈاکٹر صاحب نے پہلے انگریزی زبان میں Studies is Early Hadith Litrature کے نام سے لکھاتھا جو امریکہ سے ۱۹۷۸ء میں شائع ہوا۔ بعد ازاں جس کا عربی ترجمہ بھی انہوں نے کرلیا۔انگریزی مقالہ میں ۵۰ اور عربی ایڈیشن میں ۵۲ صحابہ کرامؓ کے احادیث تحریر کرنے کے بارے تاریخی مواد جمع کیا گیاہے۔صحابہ کرامؓ کے علاوہ تابعین اور تبع تابعین کی کثیر تعداد کے بارے بھی معلومات درج ہیں۔

100. An essay on

"The Sunnah: Its Importance, Transmission, Development & Revision"

by Dr. S.M.Yusuf, (Lahore, 1980)

............٭......٭............

نوٹ: محترم مقالہ نگار نے اس سلسلہ میں اہم کتب کی نشاندہی کردی ہے ، جس پر وہ داد کے مستحق ہیں۔ محدث کے فاضل قارئین کے علم میں اگر اس کے سوا دیگر کتب آئیں تو اس سے ادارہ محدث کو مطلع کریں تاکہ آئندہ شماروں میں وہ تکمیلی فہرست بھی شائع کردی جائے۔

گومل یونیورسٹی، ڈیرہ اسمٰعیل خان کے اسلامیات لیکچررڈاکٹر عبد اللہ نے بھی ۱۹۹۴ء میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ عربی میں 'برصغیر میں فتنۂ انکار حدیث کے لٹریچر کا تنقیدی جائزہ' کے موضوع پر پر اپنا پی ایچ ڈ ی کا مقالہ مکمل کیا ہے۔ اس میں بھی انہوں نے ۱۰۰ کے لگ بھگ کتب کا تعارف او ردیگر اہم مباحث کو پیش کیا ہے۔

موجودہ فہرست سے بہتر استفادہ کے لئے ذیل میں ادارئہ محدث کی طرف سے اس کے مزید دو تکمیلی اشاریہ جات ترتیب دیے گئے ہیں۔ جس میں یہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے کہ ہر کتا ب کو ایک مخصوص نمبر دے کر تکمیلی اشاریہ میں صرف ان نمبروں کو درج کرنے پر اکتفا کیا گیا ہے۔ پہلی فہرست مصنّفین کے اعتبار سے ہے جس میں الف بائی ترتیب ملحوظ رکھی گئی ہے اور دوسری فہرست موضوع وار ہے۔اُمید ہے کہ اس طرح یہ مضمون زیادہ مفید ہوجائے گا۔ (حسن مدنی)

1. فہرست کتب باعتبار مصنّفین کتاب نمبر

ابراہیم میر سیالکوٹی،مولانا محمد ۲۶،۹۶ ابو القاسم بنارسی ، مولانا ۷۹

ابو القاسم محمد خان ،مولانا ۳۴ ابو بکر غزنوی، سید ۸۲

احمد حسن ٹونکی،مولانا ۹ ادارہ 'الاعتصام' ۱۲

ادارہ 'صحیفہ اہلحدیث' ۷۱ ادارہ 'طلوعِ اسلام' ۹۱

ادریس کاندھلوی، مولانامحمد ۳۹ ادریس میرٹھی،مولانامحمد ۶۰

ارشاد الحق اثری،مولانا ۵،۱۴ اسمٰعیل سلفی، مولانا محمد ۷،۳۳،۳۶،۴۷،۶۳

اسمٰعیل مشہدی، محمد ۲۰ افضل احمد غزنوی ۳۵

اقبال کیلانی، محمد ۳ امتیاز احمد ۹۸

امین الحق ،سید محمد ۲۳ ایس ایم یوسف ۱۰۰

بدر عالم میرٹھی ،مولانا ۸۷ بدیع الدین شاہ ،مولانا ۲

ثنا ء اللہ الزاہدی ،مولانا ۶ ثناء اللہ امرتسری ،مولانا ۴۰،۵۲

ثناء اللہ سیالکوٹی ،مولانا ۸۹ جعفر شاہ ندوی پھلواری ... ۹۳

جلال الدین سیوطی، علامہ ... ۸۷ حبیب اللہ مختار ،مولانا ... ۶۴

حمید اللہ عبدالقادر، ڈاکٹر... ۸۵ حنیف ندوی ، ،مولانا محمد ۱۱،۸۶،۸۸

خادم حسین الٰہی بخش، ڈاکٹر... ۷۸ خالد سیف ، مولانا محمد ... ۸۱

رفیق چوہدری ،مولانا ... ۴۸ سبطین لکھنوی ،ڈاکٹر ... ۲۵

سرفراز خان صفدر ،مولانا ... سلیمان ندوی ،مولانا محمد ... ۲۹

سمیر عبدالحمید، ڈاکٹر ... ۷۴ شرف الدین محدث ،مولانا ... ۴۷

صبحی صالح، علامہ ... ۷۲ صفی الرحمن اعظمی ،مولانا ... ۱۶

صلاح الدین مقبول احمد ،مولانا ... ۵۴ طیب ،قاری محمد... ۴۶،۷۷

ظفر احمد عثمانی ،مولانا ... ۳۱ عاصم الحداد ،مولانا ... ۶۱

عبدالرحمن خان، منشی... ۲۴ عبدالرحمن کیلانی ،مولانا ۱

عبدالرحمن مدنی ،مولانا ... ۲۲ عبدالرئوف رحمانی ،مولانا ... ۶۸،۹۷

عبدالستار حسن ،مولانا ... ۴ عبدالسلام کیلانی ،مولانا ... ۱۰

عبدالعزیز بن باز ،شیخ ... ۴۱ عبدالغفار حسن ،مولانا ... ۸،۵۶،۶۲

عبدالغنی عبدالخالق ،مولانا ... ۴۳

2. فہرست کتب باعتبارِ موضوع

حدیث وسنت کی اہمیت: ۲،۳،۷،۸،۹،۱۰،۱۱،۲۰،۲۹،۴۰،۴۴،۵۶،۶۲،۶۳،۶۴،۹۳،۹۴

حجیت ِحدیث:۴،۱۱،۱۹،۳۷،۸۵،۸۸،۸۹،۹۸،۹۹

تردید فتنۂ انکار حدیث: ۴،۱۲،۱۵،۱۶،۱۷،۱۸،۲۳،۳۵،۳۶،۳۸،۳۹،۴۰،۴۱،۴۳،۴۵،۴۹،۵۷،۶۱،۶۲ ۶۳ ،۶۴،۶۵،۶۸

تاریخ ؍ تدوین حدیث:۲۷،۲۸،۳۰،۳۴،۴۹،۶۶،۸۱،۸۲،۸۳

صحت ِبخاری ومسلم:۵،۶،۱۴،۵۰،۵۱،۹۷

درایت ِحدیث:۱۹،۳۳،۳۷