263-Aug-Sep-2002

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

'اصولِ حدیث' کی رو سے حدیث اور سنت دو مترادف اصطلاحات ہیں جن سے مراد نبی اکرم ﷺ کے اقوال و افعال اور تقریرات ہیں، گویا حدیث یا سنت قرآنِ کریم کی عملی تفسیر اور بیان و تشریح کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کو نازل کرکے اس کے احکامات کی عملی تطبیق کے لئے نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو نمونہ قرار دیا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

﴿لَقَد كانَ لَكُم فى رَ‌سولِ اللَّهِ أُسوَةٌ حَسَنَةٌ...٢١﴾... سورة الاحزاب ''بے شک رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ میں آپ کے لئے بہترین نمونہ اور اُسوہ ہے۔''

اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے قرآنی احکامات کی تفصیل اور عملی تفسیر لوگوں کے سامنے پیش کی تاکہ اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق قرآنی تعلیمات پر عمل کیا جاسکے۔

نبی اکرم ﷺ کو نسل انسانی ہی سے مبعوث کرنے کی غرض و غایت بھی یہی ہے کہ لوگوں کے لئے آپ کی اقتداء و اتباع ممکن ہوسکے۔ ارشادِ ربانی ہے:﴿قُل لَو كانَ فِى الأَر‌ضِ مَلـٰئِكَةٌ يَمشونَ مُطمَئِنّينَ لَنَزَّلنا عَلَيهِم مِنَ السَّماءِ مَلَكًا رَ‌سولًا ٩٥﴾... سورة الإسراء

''اے پیغمبر! فرما دیجئے کہ اگر زمین پر فرشتے چلتے پھرتے اور رہتے بستے ہوتے تو ہم بھی ان کے پاس کسی آسمانی فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے۔''

چنانچہ رسول یا نبی کا کام صرف لا کر کتاب تھما دینا یا پڑھ کر سنا دینا ہی نہیں بلکہ اس کی تفہیم اور عملی تطبیق پیش کرنا بھی اس کے فرائض میں شامل ہے اور اُسوہ کا مفہوم بھی یہی ہے۔

'اُسوہ' کا مفہوم

اُسوة یا اِسوة عربی زبان کا لفظ ہے اور أسَا سے مصدر ہے جس کا مطلب القدوۃ یعنی قابل اقتدا چیز ہے۔ عرب کہتے ہیں:«فلان يأتسی بفلان أي يرضی لنفسه ما رضيه ويقتدي به وکان في مثل حاله»کہ ''فلاں نے فلاں کو اُسوہ بنایا یعنی اس نے اپنے متقدیٰ اور آئیڈیل کی پسند کو اپنی پسند سمجھا اور ہر حال میں اس کی نقل کرنے کی کوشش کی''۔ اور«ولي في فلان أسوة أي قدوة» کہ ''فلاں میرا اُسوہ یعنی آئیڈیل ہے۔'' (لسان العرب : لفظ أسا ۱۴؍۳۴ )

امام راغب فرماتے ہیں:«هي الحالة التي يکون الإنسان عليها في اتباع غيره»

''کسی کو اُسوہ بنانے سے مراد انسان کی وہ حالت ہے جس میں وہ اپنے مقتدیٰ کی پیروی کے وقت ہوتا ہے۔'' (المفردات فی غریب القرآن، ص۶۸)

لہٰذا لغت ِعرب میں 'اُسوہ ' سے مراد کسی کے اقوال و افعال اور عملی زندگی ہے۔

طلوعِ اسلام کے سربراہ مسٹر پرویز 'اُسوئہ حسنہ' کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

'' جو شخص رسول اللہ ﷺ کے ارشاد یاکسی عمل کی صداقت سے انکار کرتا ہے، میرے نزدیک وہ مسلمان ہی نہیں کہلا سکتا۔ اس لئے کہ حضور ﷺ کے ارشادات و اعمال سے وہ ماڈل ترتیب پاتا ہے جسے خدا نے 'اُسوۂ حسنہ' قرار دیا ہے۔ اُسوۂ حسنہ سے انکار نہ صرف انکارِ رسالت ہے بلکہ ارشادِ خداوندی سے انکار ہے۔ اس انکار کے بعد کوئی شخص کیسے مسلمان رہ سکتا ہے۔'' (مضمون'سوچا کرو' :ص۱۱)

قارئین ذرا غور فرمائیے،'اُسوۂ حسنہ'کے مفہوم کی تعیین میں چنداں فرق نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پرویز صاحب نے یہ بیان سادہ لوح مسلمانوں کو فریب میں مبتلا کرنے کے لئے دیا ہے؟ جیسا کہ طلوعِ اسلام کی روش ہے کہ ماہنامہ 'طلوع اسلام' کے ٹائٹل پر 'بخاری و مسلم'کی حدیث درج ہوتی ہے اور مندرجات سب کے سب احادیث کے ردّ میں ... یا پھر واقعتا ان کا یہی عقیدہ ہے!! ؟

اگر واقعتا ان کا یہی ایمان ہے تو پھر ہم سوال کرنے کی جسارت کریں گے کہ چلو آپ کے بقول آپؐ کے ارشادات تو ہوئے قرآنِ کریم کی شکل میں ہیں ،لیکن آپؐ کے اعمال کون سے ہیں؟ ان کا پتہ کیسے چلے گا؟ کیونکہ آپ کے بقول احادیث تو آپ ﷺ سے دو صدیاں بعد میں لکھی گئیں ہیں؟ احادیث کے بارے میں ایسا منفی رویہ رکھنے کے بعد جناب پرویز کے اِس فرمان کا کیا بنے گا... !!

''جو شخص رسول اللہ ﷺ کے ارشاد یا کسی عمل کی صداقت سے انکار کرتا ہے میرے نزدیک وہ مسلمان ہی نہیں کہلا سکتا۔''

قرآن و حدیث میں باہمی ربط

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حدیث ِرسولِ مقبول ﷺ قرآنِ پاک کا بیان اور تفسیر ہے۔ دونوں آپس میں لازم و ملزوم اور من جانب اللہ ہیں اور ان میں سے کسی ایک کا انکاردوسرے کے انکار کے مترادف ہے۔ اس لئے کہ قرآنِ کریم کو نازل کرنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ اس کے احکام پر عمل کیا جائے اور جب تک اس دستورِ کامل کے جامع الفاظ کی تشریح نہیں کی جائے گی تب تک اللہ کی منشا کے مطابق اس پر عمل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ قرآن کی تشریح و توضیح کی چند ممکنہ صورتیں ہوسکتی ہیں :

پہلی صورت: ہرشخص کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ اپنی مرضی سے اس کی تشریح کرے، لیکن یہ نظریہ کئی لحاظ سے ناقابل قبول ہے: اس سے بعثت ِانبیاء و رسل علیہم السلام کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے... ایسا کرنے سے اُمت بے شمار گروہوں میں بٹ جائے گی جو کہ روحِ اسلام کے منافی ہے۔ جیسا کہ منکرین حدیث نماز کے سلسلے میں باہم مخالف اور بھانت بھانت کی بولیاں بولتے ہیں، حالانکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ﴿وَاعتَصِموا بِحَبلِ اللَّهِ جَميعًا وَلا تَفَرَّ‌قوا...١٠٣﴾... سورة آل عمران ''اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق اس کے احکام پر عمل نہیں ہوسکے گا اور گمراہی پھیلے گی... ﴿وَأَنَّ هـٰذا صِر‌ٰ‌طى مُستَقيمًا فَاتَّبِعوهُ...١٥٣ ﴾... سورة الانعام" کا وجود ہی ختم ہوجائے گا ،ہر ایک اپنی راہ کو مستقیم قرار دے گا اور اپنی عقل کو عقل کل سمجھ کر نیا طرزِ جنوں ایجاد کرلے گا۔

دوسری صورت: یہ ہے کہ قرآن کی توضیح و تشریح نبی اکرم ﷺ اپنے دور میں اپنی ذاتی مرضی سے کریں اور آپ کے بعد جو بھی مسلمانوں کا امام یا سربراہ یا 'مرکز ِملت'ہو وہ اپنی مرضی سے کرے، لیکن یہ نظریہ بھی کئی لحاظ سے گمراہ کن ہے :

(1) خود قرآنِ کریم اس نظریے کو غلط قرار دیتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کو قرآن کی من مانی تعبیرکا اختیار ہو۔ چنانچہ ارشاد ِباری تعالیٰ ہے:

﴿وَما يَنطِقُ عَنِ الهَوىٰ ٣ إِن هُوَ إِلّا وَحىٌ يوحىٰ ﴿٤﴾... سورة النجم ''اور وہ (یعنی نبی اکرم ﷺ ) اپنی مرضی سے کوئی بات نہیں کہتے۔ ان کی بات تو صرف وہی ہوتی ہے جو اُتاری جاتی ہے۔''

اسی طرح جب نبی اکرم ﷺ نے کسی وجہ سے شہد نہ کھانے کی قسم کھا لی تو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر ﷺ کو یہ تنبیہ فرمائی: ﴿يـٰأَيُّهَا النَّبِىُّ لِمَ تُحَرِّ‌مُ ما أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ ۖ تَبتَغى مَر‌ضاتَ أَزو‌ٰجِكَ ۚ وَاللَّهُ غَفورٌ‌ رَ‌حيمٌ ١﴾... سورة التحريم''اے نبی (ﷺ )! جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے حلال کردیا ہے، آپ اسے کیوں حرام کرتے ہیں؟... کیا (اس لئے کہ) آپ اپنی ازواجِ مطہرات کی رضا چاہتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔''

(2) اس نظریہ سے اطاعت ِرسول اللہ ﷺ کا تصور ہی ختم ہوجاتا ہے اور پرویز کے اس نظریہ کے مطابق توواجب الاطاعت رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس نہیں بلکہ 'مرکز ِملت' یعنی وقت کی حکومت واجب الاطاعت قرار پاتی ہے۔بلکہ وہی اللہ اور رسول ﷺ دونوں کا درجہ رکھتی ہے۔چنانچہ پرویزصاحب لکھتے ہیں :

''یہ تصور قرآن کی بنیادی تعلیم کے منافی ہے کہ اطاعت اللہ کے سوا کسی اور کی بھی ہوسکتی ہے حتیٰ کہ خود رسول کے متعلق واضح اور غیر مبہم الفاظ میں بتلا دیا گیا کہ اسے بھی قطعاً یہ حق حاصل نہیںکہ لوگوں سے اپنی اطاعت کرائے۔ لہٰذا اللہ اور رسول سے مراد وہ مرکز ِنظامِ اسلامی ہے جہاں سے قرآنی احکام نافذ ہوں۔'' (معراجِ انسانیت: ص۳۱۸)

اور اسی کتاب کے صفحہ ۳۲۳ پر لکھتے ہیں: ''اس لئے مرکز ِملت کو قرآن کریم میں 'اللہ اور رسول' کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔''

قارئین! خود اندازہ فرمائیے کہ جب انسان اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق قرآن کی تفسیر کرتا ہے تو باقی احکام تو اپنی جگہ، خود اطاعت ِالٰہی اور اطاعت ِرسول اللہ ﷺ کے تصور کو ہی بدل دیتا ہے اور مرکز ِملت یعنی سربراہانِ اسلامی مملکت کو ہی اُلوہیت اور رسالت کے مقام پر فائز کردیتا ہے۔

یہ نظریہ سرے سے ہی غلط ہے ۔ نبی اکرم ﷺ کی رسالت عالمگیر ہے اور آپ قیامت تک کے لئے مطاع و مقتدیٰ ہیں اور آپ کا اُسوئہ حسنہ قیامت تک کے لئے واجب الاتباع ہے۔

تیسری صورت :تیسری اور صحیح صورت یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کی منشا اورحکم کے مطابق قرآنِ کریم کی تبیین و تفسیر فرمائیں اور اس کا عملی نمونہ لوگوں کے سامنے پیش کریں۔ جیسا کہ امام شاطبیؒ فرماتے ہیں:

«فکان السنة بمنزلة التفسير والشرح لمعاني أحکام الکتاب» (الموافقات۴؍۱۰) ''گویا کہ حدیث کتاب اللہ کے اَحکام کی شرح و تفسیر ہے۔''

ویسے بھی معمولی سی عقل کا حامل شخص بھی آسانی سے یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ صاحب ِکلام ہی مرادِ کلام سے زیادہ واقف ہوتا ہے۔ اس کے مقتضی، مفہوم اور اسرارو رموز اور مقصود و مطلوب وہ خود بیان کرے تو تب ہی اس کی منشا کے مطابق تعمیل احکام ممکن ہوگی۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے دستورِ ابدی (قرآنِ کریم) کو نازل کرکے اس کے قوانین کی تمام شقوں کی توضیح بھی نبی اکرم ﷺ کو سکھادی تھی تاکہ اُمت کے لئے قانونِ الٰہی کی کسی شق میں ابہام باقی نہ رہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

﴿وَأَنزَلنا إِلَيكَ الذِّكرَ‌ لِتُبَيِّنَ لِلنّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيهِم وَلَعَلَّهُم يَتَفَكَّر‌ونَ ٤٤﴾... سورة النحل ''اور ہم نے آپ ﷺ پر 'ذکر' اس لئے نازل کیا تاکہ آپؐ لوگوں کو اس کے مطالب و مفاہیم بیان کریں اور تاکہ وہ غور و فکر کریں۔''

آیت ِمبارکہ میں لفظ لِتُبَیِّنَ کی 'ل' غایت کے لئے ہے یعنی نبی اکرم ﷺ کی بعثت کی غرض وغایت قرآنی احکام کی تبیین اور وضاحت ہے۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ 'بیان' قرآن سے الگ چیز کا نام ہے اور اسی کو 'حدیث' کہا جاتا ہے۔

نیز ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿هُوَ الَّذى أَنزَلَ إِلَيكُمُ الكِتـٰبَ مُفَصَّلًا...١١٤﴾... سورة الانعام

''اللہ وہ ذات ہے جس نے آپکی طرف ایسی کتاب نازل کی جس کی تفصیل بیان کردی گئی ہے'۔'

اس آیت ِمبارکہ میں لفظ مُفَصَّلًا عربی گرامر کی رو سے اَلْکِتَابُ سے حال بن رہا ہے ہے اور حال وذو الحال میں مغایرت ہونے کے قاعدہ سے پتہ چلتا ہے کہ 'تفصیل' اور 'الکتاب' دو الگ چیزیں ہونی چاہئیں اور وہ دوسری شے 'حدیث' ہے۔

نیز دونوں آیاتِ کریمہ سے واضح اور ظاہر ہے کہ کتاب کی تبیین و تفصیل بھی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ مزید برآں قرآنِ کریم میں اس کی صراحت بھی موجود ہے۔ سورۃ القیامہ میں ہے: ﴿ثُمَّ إِنَّ عَلَينا بَيانَهُ ١٩﴾... سورة القيامة ''پھر اس کی تشریح بھی ہمارے ذمہ ہے۔''

گرامر کی رو سے آیت میں لفظ ثُمَّ تراخی کے لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے قرآن اتارا اور پھر اس کا بیان اتارا یعنی حدیث بھی اللہ کی طرف سے ہے ۔ اور سورئہ ہود میں ہے:

﴿الر‌ ۚ كِتـٰبٌ أُحكِمَت ءايـٰتُهُ ثُمَّ فُصِّلَت مِن لَدُن حَكيمٍ خَبيرٍ‌ ١﴾... سورة هود

''یہ کتاب جس کی آیات محکم کی گئی ہیں اور پھر حکیم خبیر (اللہ تعالیٰ) کی طرف سے ان کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔''

اس آیت ِمبارکہ سے چند چیزیں ثابت ہوتی ہیں:

1. کتاب اللہ کی آیات دو طر ح کی ہیں:

(i) محکمات: مثلاًاوامر و نواہی اور حلال و حرام وغیرہ سے متعلق آیات۔

(ii) متشابہات: مثلاً حروفِ مقطعات اور اللہ تعالیٰ کی صفاتِ جلیلہ سے متعلق آیات وغیرہ۔ چنانچہ فرمان ِالٰہی ہے: ﴿مِنهُ ءايـٰتٌ مُحكَمـٰتٌ هُنَّ أُمُّ الكِتـٰبِ وَأُخَرُ‌ مُتَشـٰبِهـٰتٌ...٧﴾... سورة آل عمرن

''قرآنِ کریم کی کچھ آیات محکم ہیں (اور )وہی اصل کتاب ہیں ...اور کچھ متشابہ ۔''

2. آیاتِ محکمات کے بارے میں فرمایا گیا ہے: ''فُصِّلَتْ'' یعنی ان کی تفصیل بیان کردی گئی ہے اور آیاتِ متشابہات کے بارے میں ارشاد ہے: ﴿وَما يَعلَمُ تَأويلَهُ إِلَّا اللَّهُ﴾ کہ ''ان کی حقیقت اللہ کو معلوم ہے۔'' ہم ان کی حقیقت جاننے کے مکلف نہیں، ہمارا فرض بس ان پر ایمان لانا ہے ۔

لہٰذا یہ دعویٰ از خود دم توڑ گیا کہ قرآنِ کریم میں ہر چیز کی تفصیل موجود ہے اور حدیث کے ذریعے اس کی تفصیل معلوم کرنے کی ضرورت نہیں۔

اب رہی یہ بات کہ آیاتِ محکمات کی تفصیل کہاں ہے؟ تو مذکورہ آیات اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ ان کی تفصیل خود اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ پر اُتاری اور آپؐ نے صحابہ کو بیا ن فرمائی جو کہ آپ کے فرامین کی شکل میں محفوظ ہے۔

لیکن جو لوگ اس بات کو نہیں مانتے ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ پھرقرآن کریم کے اس دعویٰ : ﴿ثُمَّ إِنَّ عَلَينا بَيانَهُ ١٩﴾... سورة القيامة"اور﴿ثُمَّ فُصِّلَت﴾کا کیا مطلب؟اس دعویٰ کے مطابق وہ بیان اور تفصیل کہاں ہے؟

مثلاً ﴿أَقيمُوا الصَّلو‌ٰةَ﴾ کا ہرمسلمان کو حکم ہے۔ نماز کی ہیئت، رکعات اور جزئیات کی وضاحت کہاں ہے کہ ہم کیسے ،کتنی او رکب نماز ادا کریں؟

٭ اسی طرح ﴿ءاتُوا الزَّكو‌ٰةَ﴾ کا حکم ہے، اب زکوٰۃ کے نصاب، مقدار اور کس پر زکوٰۃ ہے کس پرنہیں ... اس کی تفاصیل قرآ نِ کریم میں کہاں ہیں؟

٭ اسی طرح ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿قُل لا أَجِدُ فى ما أوحِىَ إِلَىَّ مُحَرَّ‌مًا عَلىٰ طاعِمٍ يَطعَمُهُ إِلّا أَن يَكونَ مَيتَةً أَو دَمًا مَسفوحًا أَو لَحمَ خِنزيرٍ‌ فَإِنَّهُ رِ‌جسٌ أَو فِسقًا أُهِلَّ لِغَيرِ‌ اللَّهِ بِهِ...١٤٥﴾... سورة الانعام

''کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں ،میں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا بجز اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور ہو یا بہتا لہو یا سور کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں یا کوئی گناہ کی چیز ہو کہ اس پر اللہ کے علاوہ کسی اور کا نام لیا گیا ہو ۔''

اور انہی چیزوں کا ذکر سورۃ المائدۃ کی آیت۳میں بھی کیا گیا ہے،اسی طرح سورۃ المائدۃ میں ہے:

﴿أُحِلَّت لَكُم بَهيمَةُ الأَنعـٰمِ...١﴾... سورة المائدة ''تمہارے لئے چوپائے (چرنے والے جانور )حلال کردیئے گئے ہیں ۔''

لغت میں بھیمۃ الأنعام کا اطلاق اونٹنی، اونٹ، گائے، بیل، بکری، بکرا، بھیڑ اور مینڈھا پر ہوتا ہے اور تفسیر قرآن میں بھی انہی چیزوں کاذکر ہے۔

اگر احادیث حجیت نہیں ہیں تو مندرجہ ذیل سوالات کا جواب ہمیں کہاں سے ملے گا؟

1. قرآنِ کریم نے میتۃ یعنی از خود مر جانے والے جانور کو حرام قرار دیا ہے؟ اب منکرین حدیث سے سوال ہے کہ مچھلی جب پانی سے باہر آتی ہے تو مر جاتی ہے، بالخصوص 'فریز'کی ہوئی مچھلیاں۔ تو اس کا کیا حکم ہے ۔ اگر حلال کہتے ہو تو پھر اس کو قرآن سے ثابت کیا جائے یا حرام ہونے کا فتویٰ دیا جائے۔

اگر اس کی حلت کو قرآن سے ثابت نہیں کر سکتے توپھرنبی کریم ﷺ کے اس فرمان کو مان لو :

«أحلّت لنا ميتتان: السمك والجراد » (مسند احمد :۲؍۷۹، فتح الباری: ۹؍۶۲۱)

'' اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے دو مردار حلال قرار دیئے ہیں: مچھلی اور مکڑی''

2. مردہ جانور، خون، خنزیر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا جانور حرام قرار دیا گیا ہے اور بھیمۃ الأنعام کو حلال۔

اب بتائے کہ کتا، بلی، گیدڑ، شیر، چیتا، ہاتھی، ریچھ، شکرا اور چیل حلال ہیں یا حرام؟ قرآنِ کریم میں ان کی وضاحت کہاں ہے؟ جبکہ قرآن کریم میں ہے کہ

﴿قُل لا أَجِدُ فى ما أوحِىَ إِلَىَّ مُحَرَّ‌مًا عَلىٰ طاعِمٍ يَطعَمُهُ...١٤٥﴾... سورة الانعام

''میں مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کئے ہوئے جانور کے علاوہ قرآن میں کھانے والوں کے لئے کوئی چیز حرام نہیں پاتا''

3. لہٰذا اگر قرآن میں ہر چیز کی تفصیل ہے اور احادیث پر آپ کو یقین نہیں ہے تو قرآن سے ان جانوروں کو حرام ثابت کریں یا پھر ان کے حلال ہونے کا فتویٰ دیں؟ ورنہ اس حدیث کی حجیت کو تسلیم کرلیں :

«کل ذي ناب من السباع وکل ذي مخلب من الطير»(مسند احمد: ۱؍۳۳۲، ۴،۱۹۳)

''ہر کچلی والا جانور اور ہر پنجے سے شکار کرنے والا پرندہ حرام ہے۔''

4. پرویز صاحب کا دعویٰ ہے کہ :

''جو احادیث قرآن کے خلاف نہیں، میں انہیں صحیح سمجھتا ہوں۔'' (شاہکارِ رسالت، ص۴۹۷)

اس بنا پرپرویزی فکر کے حاملینسے ہمارا سوال یہ ہے کہ جن احادیث ِمبارکہ میں نماز اور زکوٰۃ کی تفاصیل موجود ہیں، وہ قرآنِ کریم کی کس آیت ِمبارکہ کے خلاف ہیں؟ اگر وہ احادیث قرآن کے خلاف نہیں تو پرویز نے ﴿يُقيمونَ الصَّلو‌ٰةَ﴾کا درج ذیل مفہوم کہاں سے لیا ہے؟

''اس مقصد کے لئے یہ لوگ اس نظام کو قائم کرتے ہیں جس میں تمام افراد قوانین خداوندی کا اتباع کرتے جائیں۔'' (مفہوم القرآن: ۱؍۳)

یعنی 'اقامت ِصلوٰۃ' سے مراد ایک نظام قائم کرنا ہے، رکوع و سجود اور قیام و قعود پر مشتمل نمازمراد نہیں ہے ۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ

''قرآنِ کریم کی خاص اصطلاح 'اقامت ِصلوٰۃ' ہے جس کے عام معنی نماز قائم کرنا یا نماز پڑھنا کئے جاتے ہیں۔ لفظ صلوٰۃ کا مادہ 'ص ل و' ہے جس کے بنیادی معنی کسی کے پیچھے پیچھے چلنے کے ہیں اس لئے صلوٰۃ میں قوانین خداوندی کے اتباع کامفہوم شامل ہوگا۔ بنابریں اقامت ِصلوٰۃ سے مفہوم ہوگا ایسے نظام یا معاشرے کا قیام جس میں قوانین ِخداوندی کا اتباع کیا جائے۔ '' (مفہوم القرآن: جلد اول، ص۷)

جب ایک چیز کے مفہوم کا تعین خود صاحب ِقرآن نے کردیا ہے تو پھر اپنی طرف سے اس مفہوم کے خلاف ایک نیا نظریہ پیش کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ اسی طرح 'زکوٰۃ'کے بارے میں لکھتے ہیں:

''زکوٰۃ کا مروّجہ مفہوم یہ ہے کہ اپنی دولت میں سے ایک خاص شرح کے مطابق روپیہ نکال کر خیرات کے کاموں میں صرف کیا جائے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس میں بھی زکوٰۃ کے قرآنی مفہوم کی ایک جھلک پائی جاتی ہے ،لیکن قرآنِ کریم نے اسے ان خاص معانی میں استعمال نہیں کیا۔''

(مفہوم القرآن، جلد اوّل، ص۷)

ان تصریحات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پرویز کا یہ دعویٰ کہ ''جو شخص رسول اللہ ﷺ کے ارشاد یا کسی عمل کی صداقت سے انکار کرتا ہے میرے نزدیک وہ مسلمان ہی نہیں کہلا سکتا۔'' اسی طرح اس کا یہ کہنا کہ ''جو احادیث قرآن کے خلاف نہیں، میں انہیں صحیح سمجھتا ہوں۔''محض دھوکہ دہی پر مبنی ہے۔

مذکورہ تمام دلائل یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ قرآن کی طرح حدیث بھی وحی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے آخری منتخب پیغمبر ﷺ پرنازل ہوئی ہے۔

قرآنِ کریم کی طرح حدیث بھی محفوظ ہے؟

بدیہی سی بات ہے کہ قرآن کریم کی حفاظت کا مقصدتب ہی پورا ہوگا کہ اس کی تشریح و توضیح بھی محفوظ ہو کیونکہ مقصود تو عمل کرنا ہے اور معروف قاعدہ ہے:« وما لا يتم الواجب إلا به فهو واجب»

''جس کے بغیر واجب کی تکمیل نہ ہو، وہ خود بھی واجب ہوتاہے۔ ''

اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن و سنت (حدیث) دونوں کو قیامت تک کے لئے محفوظ کرنے کا انتظام فرمایا ہے ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ﴿إِنّا نَحنُ نَزَّلنَا الذِّكرَ‌ وَإِنّا لَهُ لَحـٰفِظونَ ٩﴾... سورة الحجر ''بے شک ہم نے ذکر اتارا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں''

یہاں اللہ تعالیٰ نے لفظ قرآن اور الکتاب کی بجائے لفظ 'الذکر' استعمال کیا ہے جو حدیث کو بھی شامل ہے کیونکہ قرآنِ مجید میں یہ لفظ نبی ﷺ کے لئے بھی استعمال ہوا ہے جیسا کہ سورۃ الطّلاق کی آیت ﴿أَنزَلَ اللَّهُ إِلَيكُم ذِكرً‌ا ١٠ رَ‌سولًا يَتلوا عَلَيكُم...١١﴾... سورة الطلاق" میں رسول 'ذکر' سے بدل ہے۔

یہی سبب ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے سوا کائنات میں کوئی فرد و بشر ایسا نہیں جس کی کامل سیرت اور سوانح حیات محفوظ ہوں ۔ جو اس بات کی بین دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی سنت کی حفاظت کی ہے ۔

کیا موضوع روایات گھڑ لینا اس بات کو مستلزم ہے کہ حدیث غیرمحفوظ ہے؟

اگر کسی کے بعض موضوع روایات کو گھڑ لینے سے پوری احادیث ِمبارکہ کو ترک کرنا لازم آتا ہے تو پھر توقرآن کریم کی آیات بھی گھڑنا ثابت شدہ ہے، کیا اسے بھی غیر محفوظ سمجھا جائے۔چنانچہ یہ امر تاریخی طور پرثابت شدہ ہے کہ مسیلمہ کذاب نے اپنی طرف سے کچھ عبارات وضع کرکے یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ قرآن ہے جو مجھ پر نازل ہوا ہے۔ (البدایہ والنہایہ:۵؍۱۵)

اسی طرح ۱۹۹۹ء میں انٹرنیٹ پربعض لوگوں نے قرآن کے مشابہ عبارات بنا کر انہیں 'سورۃ المسلمون' اور 'سورۃ التجسد' کے نام سے شائع کیا تھا۔ (دیکھئے مجلہ الوعی عدد ۱۳۳ ، صفر ۱۴۱۹ھ)

تو کیا اس سے قرآن پاک کی صداقت پر کوئی حرف آیا ہے؟ ہرگز نہیں، کیونکہ قرآن کے ماہرین اور حفاظ نے فوراً اس کی تردید کی۔

اسی طرح اگر کسی نے موضوع روایات بنا لی تھیں تو ان سے حدیث کی صداقت پر کوئی حرف نہیں آتا کیونکہ محدثین کرام نے لوگوں کو ان وضعی اور من گھڑت روایات سے متنبہ کردیا ہے۔ اسی لئے جب حضرت عبداللہ بن مبارکؒ کے سامنے اس خطرے کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا تھا:

« تعيش لها الجهابذة » (الباعث الحثیث، تدریب الراوی)

کہ'' ماہرین حدیث موجود ہیں جو لوگوں کو موضوع روایات سے آگاہ کریں گے۔''

کیا احادیث، نبی ﷺ کی وفات کے کافی عرصہ بعد لکھی گئیں؟

مسٹر پرویز لکھتے ہیں:

''یہ کوششیں رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بہت عرصہ بعد شروع ہوئیں۔ مثلاً ان مجموعوں میں سب سے زیادہ مستند مجموعہ امام بخاری کا سمجھا جاتا ہے، وہ حضور ؐ کی وفات کے دو اڑھائی سو سال بعد مرتب ہوا تھا۔ یہ مجموعے کسی سابقہ تحریر ی ریکارڈ سے مرتب نہیں ہوئے تھے۔ زبانی روایات جمع کی گئی تھیں۔'' (اسبابِ زوالِ اُمت، ص۶۳)

اس بیان سے چند چیزیں سامنے آتی ہیں:

٭ احادیث دیر سے مرتب ہوئیں۔ ٭ سابقہ ریکارڈ نہیں تھا زبانی جمع کی گئیں۔ ٭ سب سے پہلے امام بخاری ؒ نے احادیث جمع کیں۔

قارئین! پرویز صاحب نے سادہ لوح مسلمانوں کو بڑے پرکشش انداز میں فریب میں مبتلا کرنے کی کوشش کی ہے۔ذرا غور فرمائیے کہ کیا دیر سے کسی چیز کو مرتب کرکے پیش کرنا عیب ہے؟ اگر عیب ہے تو پھر فرمائیے کہ قرآنِ کریم میں کتنے ہزار سال بعد گذشتہ اُمم کے واقعات ہمارے سامنے بیان کئے گئے؟

اور دوسری بات کہ کیا کسی چیز کا تحریری ریکارڈ نہ ہونا اور صرف حفظ اور یاد ہونا اس چیز کی اہمیت کو ختم کر دیتا ہے؟

ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ اپنے قائدین کی ہر ہر اَدا کو حفظ کر لیتے ہیں توکیا نبی اکرم ﷺ پہ جان فدا کرنے والے صحابہ کرامؓ جنہیں اپنے تو اپنے ، گھوڑوں تک کے نسب نامے اور کارنامے بھی ازبر تھے اور وہ عرب جنہیں اپنے حافظے پر ناز تھا،کیا وہ اپنے محبوب پیغمبر ﷺ کے الفاظ کو یاد نہ رکھ سکے ہوں گے؟ اور پھر نبی ﷺ کی یہ ترغیب بھی تھی کہ«نضرالله امرأ سمع مقالتي فوعاها»(ترمذی ۲۶۵۸، مسند احمد ۴؍۸۰) اور پھر نبی اکرم ﷺ بالاہتمام صحابہ ؓ کو احادیث ِمبارکہ یاد کرواتے تھے اور صحابہ کرام اس اعتقاد کے ساتھ احادیث یاد کرتے کہ وہ قرآنِ کریم کی تفسیر ہیں اوران کے بغیر قرآن پر عمل کرنا ناممکن ہے۔حضرت براء بن عازبؓ سے مروی ہے کہ

مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رات کو سوتے وقت یہ دعا پڑھنے کی تلقین فرمائی : «اللهم أسلمت وجهي إليك وفوضت أمري إليك وألجات ظهري إليك رغبة ورهبة إليك لا ملجأ ولا منجأ منك إلا إليك، آمنت بکتابك الذي أنزلت وبنبيك الذي أرسلت» فرماتے ہیں: میں نے چاہا کہ اس دعا کو آپ کے سامنے دہرائوں تاکہ اچھی طرح یاد ہوجائے تو میں نے ساری دعا آپؐ کو ہوبہو سنا دی، صرف ''بنبیک'' کی جگہ ''برسولک'' کہہ دیا تو آپؐ نے فرمایا: ''لا وبنبیك الذي أرسلت'' کہ ایسے نہیں بلکہ ویسے پڑھو جیسے میں نے آپ کو سکھایا یعنی ''بنبيک'' (صحیح البخاری مع الفتح : ۱۱؍۱۲، حدیث ۶۳۱۱)

اس روایت سے چند باتیں سامنے آتی ہیں :

٭ نبی اکرم ﷺ اپنی احادیث ِمبارکہ ٰنہایت اہتمام کے ساتھ صحابہ کرامؓ کو سکھاتے تھے۔

٭ صحابہ کرام ؓ کا حافظہ اتنا مضبوط تھا کہ جو کچھ سنتے، فوراً احفظ ہو جاتا ۔

٭ صحابہ کرامؓاحادیث سننے کے آپ ﷺ سے تصحیح کروایاکرتے تھے ۔

٭ صحابہ کرامؓ نہایت اہتمام سے نبی اکرم ﷺ کے الفاظ کو ازبر کرنے کی کوشش کرتے او ر خودنبی اکرم ﷺ بھی صحابہ سے اس کا اہتمام کروایا کرتے ۔اگر بنبیک کی جگہ رسولک کہہ بھی دیا جاتا تو خلاف واقعہ نہ تھا ،کیونکہ آپ ﷺ نبی بھی تھے اور رسول بھی۔ چونکہ اللہ کی طرف نازل شدہ الفاظ بنبیک تھے ،اس لئے آپ ﷺ نے وہی الفاظ سکھائے۔٭

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ

''ہم تقریباً ساٹھ آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس ہوتے اور آپ ﷺ ہمیں احادیث سکھاتے۔ پھر جب آپ تشریف لے جاتے تو ہم آپس میں مذاکرہ کیا کرتے تھے اور جب ہم فارغ ہوتے تو وہ احادیث ِپاک ہمارے دلوں پہ نقش ہوچکی ہوتی تھیں۔'' (الفقیہ والمتفقہ)

اور حضرت علیؓ اپنے شاگردوں سے فرمایا کرتے تھے:

«تذاكروا الحديث ؛ فإنكم إلا تفعلوا يندرس»(الفقیہ والمتفقہ)

''احادیث کا مذاکرہ کیا کرو (یعنی ایک دوسرے کو سنا کر یاد کیا کرو)۔ اگر ایسا نہیں کرو گے تو حدیث آپ کو بھول جائے گی۔''

معلوم ہوا کہ صحابہ کرامؓ، اور ان کے شاگرد تابعین عظام بڑے اہتمام کے ساتھ احادیث ِمبارکہ کو یاد کرتے تھے اور پھر ان کے اور امام بخاریؒ کے درمیان فاصلہ ہی کتنا تھا؟ نبی اکرم ﷺ کے آخری صحابہ ۱۱۰ھ میں فوت ہوئے اور امام بخاری ۱۹۴ھ میں پیدا ہوئے۔ لیکن پرویز صاحب اس کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں، گویا درمیان میں صدیوں کا فاصلہ تھا اور پھر احادیث کو یاد کرنے کا اہتمام بھی نہیں تھا تاکہ لوگوں کو تاثر دیا جاسکے کہ محدثین نے اپنی طرف سے باتیں گھڑ کر نبی ﷺ کی طرف منسوب کی ہیں۔

اب رہا یہ دعویٰ کہ احادیث کا سابقہ تحریری ریکارڈ موجود نہیں تھا تو یہ سراسر باطل، لغو اور خلافِ واقعہ ہے۔کیونکہ نبی اکرم ﷺ خود احادیث لکھوایا کرتے تھے۔

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس احادیث لکھا کرتا تھا تو لوگوں نے مجھ سے کہا کہ نبی اکرم ﷺ کبھی غصے میں ہوتے ہیں اور کبھی خوشی میں توتم ہر بات لکھ لیتے ہو۔ چنانچہ میں نے لکھنا چھوڑ دیا اور آپ ﷺ سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: «أکتب فو الذي نفسي بيده ما يخرج منه إلا الحق» (مسند احمد: ۲؍۱۶۲)

''احادیث لکھا کرو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس منہ سے حق کے سوا دوسری بات نہیں نکلتی۔''

یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آپؐ احادیث لکھوایا کرتے تھے اور نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں ہی بہت سے صحابہ کرامؓ کے پاس تحریری شکل میں احادیث موجود تھیں۔مثلاً

(1)صحیفہ حضرت فاطمۃ الزہراء ؓ (2) نسخہ حضرت ابوبکر صدیقؓ جس میں زکوٰۃ کے احکام درج تھے، (3) نوشتہ ہائے سعد بن عبادۃؓ، (4) احادیث التفسیر لابی بن کعبؓ، (5)نوشتہ عمر بن خطابؓ، (6) صحیفہ عبداللہ بن مسعودؓ، (7) نوشتہ ابی رافعؓ، (8) صحیفہ صادقہ از حضرت علیؓ، (9)کتاب الفرائض لزید بن ثابتؓ، (10) کتاب مغیرہ بن شعبہؓ، (11) کتاب عمرو بن حزم انصاریؓ، (12) صحیفہ سمرۃ بن جندبؓ، (13)صحیفہ صادقہ از حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ، (14) صحیفہ عبداللہ بن عباسؓ، (15) صحیفہ رافع بن خدیج ؓ، (16) صحیفہ جابر بن عبداللہؓ، (17) صحیفہ شمعون بن یزیدؓ، (18) نوشتہ انس بن مالکؓ، (19) صحیفہ ہمام بن منبہؓ جو انہوں نے اپنے استاد حضرت ابوہریرہ ؓسے لکھا تھا۔

نیز صحیح بخاری سے پہلے ان صحف کے علاوہ یعنی تابعین اور تبع تابعین کے دور میں بھی کئی کتابیں لکھی جاچکی تھیں۔ صحیفہ معمر، موطا ٔامام مالک، موطأ امام محمد، کتاب الآثار ، کتاب الخراج، مسند الشافعی، کتاب الام، مسند احمد، مسند اسحاق بن راہویہ، مسند الحمیدی، مصنف ابن ابی شیبہ، مصنف عبدالرزاق وغیرہ۔ اسی طرح عبداللہ بن مبارک، حضرت وکیع اور علی بن مدینی رحمہم اللہ کی کتب لکھی جاچکی تھیں۔

کیا جامعین حدیث سب ایرانی تھے؟

مسٹر پرویز 'شاہکارِ رسالت' میں عنوان قائم کرتے ہیں

''جامعین ِحدیث سب ایرانی تھے۔'' (شاہکارِ رسالت: ص۵۰۳)

جب مقصود ہی فرامین رسول ﷺ کی مخالفت ہو تو پھر آدمی لوگوں کو فریب دینے کے لئے کچھ بھی کرسکتا ہے۔فرض کیجئے! اگر ایران کا کوئی آدمی قرآنِ مجید حفظ کر لے تو کیا ہم اس لئے قرآن کا انکار کردیں گے کہ اس کا حافظہ ایرانی ہے ۔یہ عجیب منطق ہے؟ رہی یہ بات کہ کیا واقعی جامعین حدیث سب ایرانی تھے یا عجمی تھے تو یہ سراسر جھوٹ ہے جو پرویز کی مسند ِتحقیق سے بولا گیاہے۔

(مولانا صفی الرحمن مبارکپوری نے عرب اورعجم محدثین کی الگ الگ فہرست تیار کر دی ہے اور اس اعتراض پر طویل بحث کی ہے ، دیکھئے صفحہ نمبر)
فتنہ انکارِ حدیث کی تاریخ
ستیزۂ کار رہا ہے ازل سے تا امروز        چراغِ مصطفوی سے شرارِ بو لہبی


فجر اسلام ہی سے دین حقہ کے خلاف سازشوں کا آغاز ہوا اور چراغِ مصطفوی کو گل کرنے کی سرتوڑ کوششیں ہوتی رہی ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دشمنانِ اسلام کے مکروہ عزائم اور ریشہ دوانیوں سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿يُر‌يدونَ أَن يُطفِـٔوا نورَ‌ اللَّهِ بِأَفو‌ٰهِهِم وَيَأبَى اللَّهُ إِلّا أَن يُتِمَّ نورَ‌هُ وَلَو كَرِ‌هَ الكـٰفِر‌ونَ ٣٢﴾... سورة التوبة

دشمنانِ اسلام اس نورِ الٰہی کو بجھا دینا چاہتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کی سازشوں کے علیٰ الرغم اس نور (دین اسلام) کی حفاظت کرے گا پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

سب سے پہلے جس شخص نے ردائِ نبوت میں نقب زنی کی، وہ ملعونمسیلمہ کذاب تھا جس نے ۱۰ہجری میں نبی اکرم ﷺ کی طرف خط لکھااور اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ تو نبی اکرم ﷺ نے اس ملعون اور دجال کو یہ جواب لکھا تھا :

«من محمد رسول اللهﷺ إلی مسيلمة الکذاب، سلام علی من اتبع الهدی أما بعد فإن الأرض لله يورثها من يشآء من عباده والعاقبة للمتقين» (البدایہ والنھایہ: ۵؍۵۱) '' یہ زمین اللہ ہی کی ہے وہ جسے چاہتاہے اس کا وارث بنادیتا ہے اور صرف اللہ سے ڈرنے والوں کا ہی انجام بخیرہوتا ہے۔''

نبی ﷺ کی وفات کے بعد کئی مدعی نبوت اٹھے ۔حضرت ابوبکرؓ نے ان تمام کو کیفر کردار تک پہنچایا اور باقی فتنوں کی طرح یہ فتنہ بھی دَب گیا ۔پھر شہادت ِفاروق اعظمؓ تک دوبارہ کسی فتنے کو سر اٹھانے کی جرأت نہ ہوسکی، لیکن ان کی شہادت کے بعد پھر فتنوں اور سازشوں نے سر نکالنا شروع کردیا۔ کیونکہ نبی اکرم ﷺ پیشین گوئی فرما چکے تھے اور آپ کی ہر پیشین گوئی نصف النہار کے آفتاب کی طرح واضح اور برحق ثابت ہوئی جو کہ فرمانِ رسولِ کریم ﷺ کی صداقت اور حجیت حدیث کی بین دلیل ہے۔

خوارج اور انکارِحدیث

حضرت عمرؓ کی شہادت کے بعدسر اٹھانے والے فتنوںمیں سے ایک فتنہ خوارج کا تھا۔ انہوں نے اپنی مرضی سے قرآن کریم کی تفسیر کی اور صحابہ کرامؓ اجمعین کے اجتماعی عقیدے سے انحراف کیا اور واقعہ تحکیم میں﴿إِنِ الحُكمُ إِلّا لِلَّهِ﴾ کی خود ساختہ تشریح کر کے حضرت علی، حضرت معاویہ اور حَکَمَین پر کفر اور شرک کا فتویٰ لگایا اور اسی بنا پر حضرت علی المرتضی ؓکے خلاف بغاوت کردی۔ تو اس وقت حضرت علی ؓنے فرمایا تھا: «کلمة حق أريد بها الباطل»کہ ''یہ فتنہ پرور لوگ اللہ تعالیٰ کے مقدس فرمان کی آڑ میں اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں۔''

چنانچہ امام شوکانیؒ نے اپنی کتاب 'فتح القدیر' کے مقدمہ میں ایک روایت ذکرکی ہے کہ جب حضرت علیؓ نے ابن عباس ؓ کو خوارج سے مناظرہ کے لئے بھیجا تو ان سے فرمایا :

''خوارج کے پاس جاؤ لیکن یاد رکھنا کہ ان سے قرآن کی بنیاد پر مناظرہ نہ کرنا کیونکہ قرآن کئی پہلوؤں کا حامل ہے ، بلکہ سنت کی بنیاد پر ان سے گفتگو کرنا ۔ ابن عباس ؓ نے جواب دیا : میں کتاب اللہ کا ان سے زیادہ عالم ہوں ۔فرمایا :تمہاری بات بجا لیکن قرآن کئی پہلوؤں کا حامل اورکئی معانی کا متحمل ہے ۔'' (مقدمہ فتح القدیر)

پھر ترجمان القرآن حضرت ابن عباسؓ نے ان لوگوں کے سامنے آیت ﴿إِنِ الحُكمُ إِلّا لِلَّهِ﴾ کی وہ تفسیر بیان کی جو انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سیکھی تھی اور ان پر واضح کیا کہ ان کا نظریہ غلط ہے تو یہ لوگ لاجواب ہوگئے۔ ( سیراعلام النبلائ)

امام ابن حزم ؒخوارج کے بارے میں 'الفصل فی الملل والنحل' میں فرماتے ہیں:

«کانوا أعراباً قرء وا القرآن ولم يتفقهوا في السنن» (۴؍۱۶۸) ''یہ دیہاتی لوگ تھے جنہوں نے قرآن تو پڑھا مگر سنت میں تفقہ حاصل نہ کیا۔''

صحابہ کی طرف سے اس نظریہ کا ردّ : یہ وہ نقطہ آغاز تھا جس میں حدیث وسنت سے استغنا کا ذہن دیا گیا۔ چونکہ صحابہ کا عقیدہ تھا کہ جس طرح قرآن مجید اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسی طرح اس کا بیان اور تفصیل بھی اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے ،اس لئے انہوں نے اس نظریہ کی بھرپور تردید کی۔

چنانچہ حسن بصری ؒسے مروی ہے کہ حضرت عمران بن حصینؓ اپنے شاگردوں کو حدیث پڑھا رہے تھے تو ایک شخص نے کہا: «لا تحدثونا إلا بالقرآن» کہ ہمیں صرف قرآن ہی کے متعلق بتائیے تو آپؓ نے اسے قریب بلایا اور اس سے کہا

'' اگر آپ اور آپ کے ہم خیال لوگوں کو صرف قرآن پر چھوڑ دیا جائے تو کیا تم قرآن کریم سے ظہر کے چار فرض اور مغرب کے تین فرض ، جن میں سے دو میں قراء ت جہراً ہوگی، کو ثابت کر سکتے ہو ؟ کیا تم قرآنِ کریم سے طواف بیت اللہ اور صفا و مروہ کی سعی کے سات چکروں کا ثبوت پیش کرسکتے ہو؟''پھر تمام حاضرین کو مخاطب کر کے فرمایا : ''اے لوگو! ہم سے علم سیکھو۔ اللہ کی قسم !اگر اپنی مرضی کرو گے تو گمراہ ہوجائو گے۔''

ایک دوسری روایت میں ہے کہ اس شخص نے صحابی رسول حضرت عمرانؓ کی بات سن کر اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور بطورِ شکریہ کہنے لگا: أحییتني أحیاك اﷲ ''اللہ آپ کی عمر دراز کرے آپ نے میرے دلِ مردہ میں تازگی پیدا کردی اور میری آنکھیں کھول دی ہیں'' (الکفایہ فی علم الروایہ، المستدرک للحاکم)

خوارج چونکہ حضرت علیؓ کے خلاف ہوگئے تھے، اس لئے انہوں نے حضرت علیؓ کے فضائل میں واردہ تمام احادیث کا انکار کردیا ۔پھر ان کے مقابلے میں ایک دوسرا گروہ پیدا ہوا ،جس نے اہل بیت ؓ کے علاوہ دیگر صحابہ کرامؓ کے فضائل میں وارد شدہ تمام احادیث کا انکار کردیا۔

معتزلہ اورانکارِ حدیث

اس فرقہ کا بانی واصل بن عطا(م۱۳۱ھ)ہے۔اس نے اہل سنت کے مد ِمقابل حدیث کی بجائے عقل کو بنیاد بنایا، اس وجہ سے یہ لوگ معتزلہ کے نام سے معروف ہو ئے۔ چونکہ یہ لوگ صفاتِ الٰہی کے منکرتھے ، اس لئے انہوں نے ان احادیث کو ماننے سے انکار کردیا جن میں اللہ تعالیٰ کی صفاتِ باکمال کا ذکر تھا۔

مسٹر پرویز اور معتزلہ کا باہم اشتراک: نظریۂ انکارِ حدیث درحقیقت وہی فتنۂ اعتزال ہے جو ایک نئے روپ میں ظاہر ہوا ہے، چنانچہ مسٹر پرویز معتزلہ کے ساتھ اپنی نسبت ظاہر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

''وحی متلو اور غیر متلو ' (مثلہ معہ) کا عقیدہ امام شافعیؒ نے وضع کیا تھا۔ (لیکن)جن لوگوں کے ذہن میں دین کا صحیح تصور اور دل میں قرآن مجید کے 'لا شریک لہ' ہونے کی عظمت تھی انہوں نے اس نئے عقیدے کی مخالفت کی اور کہا کہ دین میں سند اور حجت صرف قرآن ہے۔ جیسا کہ قدامت پرست طبقہ کا قاعدہ ہے، انہوں نے ان لوگوں پر معتزلہ کا لیبل لگایا اور پھر ان کے خلاف اس قدر پروپیگنڈہ کیا کہ آج جو شخص عقل و فکر کی بات کرے اور اس کے دلائل کا جواب ان سے نہ بن پڑے، اس کے متعلق اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ وہ معتزلہ ہے۔'' (شاہکارِ رسالت: صفحہ ۵۰۱)

مسٹر پرویز صاحب کا یہ بیان معتزلہ کے ساتھ ان کی نظریاتی ہم آہنگی کی واضح دلیل ہے اور ان کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ پرویزیت بھی اسی سلسلہ اعتزال کی ایک کڑی ہے۔فتنۂ اعتزال کا امام شافعی ؒنے مردانہ وار مقابلہ کیا ۔ ان کے ردّ میں کتابیں لکھیں اور مناظروں کے ذریعہ انہیں لاجواب کیا۔

جھمیہ اور انکارِ حدیث

اس فرقہ کا بانی جہم بن صفوان تھا ۔یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات دونوں کے منکر تھے، لہٰذا انہوں نے ان تمام احادیث کو ماننے سے انکار کردیا جن میں اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ اور صفاتِ جلیلہ کا ذکر تھا۔یہ انکارِحدیث یونانی فلسفہ سے مرعوب ہوکر رو بہ عمل آیا۔

انکارِ حدیث مختلف ادوار میں

اس کے بعدمختلف ادوار میں کئی شخصیات نے مختلف طریقوں سے وحی الٰہی کے بعض حصوں کا انکار کیا، کسی نے اپنی عقل کوہی سب کچھ سمجھ کر ان نصوص کا انکار کردیا جو اس کی سمجھ سے بالاتر تھیں، کسی نے اصول و فروع کا چکر چلا کر احادیث ِمتواترہ کو لیا اور آحاد کا انکار کردیا، کسی نے عقائد کے باب میں خبر آحادتسلیم کرنے سے انکار کردیا تو کسی نے ہوائے نفس کی پیروی میں اپنے مطلب کی احادیث قبول کیں اور باقی کو ردّ کردیا۔ مختلف اَدوار میں کسی نہ کسی صورت میں احادیث ِمبارکہ سے گریزاں رہنے والوں میں سے چند عرب شخصیات یہ ہیں: ڈاکٹر احمد امین، اسماعیل ادہم، حسین احمد امین، محمود ابوریہ، السید صالح ابوبکر، احمد ذکی پاشا۔ ( زوابغ فی وجہ السنۃ)

اور برصغیر میں مرزا غلام احمد قادیانی، سرسید احمد خان اور ان سے متاثر ہونے والوں میں سے مولوی چراغ علی، محب الحق عظیم آبادی، احمد دین امرتسری، مولوی نذیر احمد، اسلم جیرا جپوری اور مسٹر غلام احمد پرویز اور اس فکر کے حاملین چند معاصرین حضرات۔ تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو آئینہ پرویزیت از مولانا عبدالرحمن کیلانی رحمہ اللہ۔

چکڑالوی فرقہ

چودھویں صدی میں احادیث ِمبارکہ کا کھلم کھلا انکار عبداللہ چکڑالوی صاحب نے کیا اور اپنے گروہ کا نام 'اہل قرآن' رکھا۔آپ ضلع گورداسپور کے موضع چکڑالہ میں پیدا ہوئے، اس نسبت سے چکڑالوی کہلاتے ہیں۔ (آئینہ پرویزیت، ص۱۳۱) ... ان کے بارے میں دیگر کتب میں یوں لکھا ہے:

''چکڑالوی صاحب لنگڑا ہونے کے باعث لکڑی کے ایک تخت پوش (أریکة) پر ٹیک لگائے علم حدیث کی مخالفت کرتے رہتے تھے۔ سرسید کی طرح علومِ دینیہ اور عربیہ سے تو جاہل تھے ہی ـ، فکری اعتبار سے بھی مفلس تھے۔ البتہ ان کو گمراہی پھیلانے کے لئے ایک اچھا عنوان ضرور مل گیا یعنی کہ ''قرآن ایک کامل کتاب ہے''؛ جو ذہین ملحدین اور اس جیسے تیسرے درجے کے لوگوں کے لئے کافی جاذب ہوا۔ '' (برقِ اسلام، صفحہ ۷)

چکڑالوی کا یہ سراپا پڑھنے کے بعد احادیث کی صحت پریقین اور زیادہ پختہ ہوگیا کہ نبی اکرم ﷺ کی بیان کردہ پیشین گوئی ان پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ چنانچہ حضرات ابو رافعؓ سے روایت ہے کہ

''رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میرے بعد ایک ایسا آدمی ہوگا جو اپنی مسند (أریکة) پر ٹیک لگا کر بیٹھے گا ۔ جب اس کے پاس اوامر و نواہی پر مشتمل میری احادیث پہنچیں گی تو وہ کہے گا :میں نہیں جانتا ،ہم تو صرف وہی بات مانیں گے جو قرآن میں ہوگی اور غیر قرآنی تصورات ہم نہیں مانتے۔''

مولانا اسماعیل سلفیؒ فرماتے ہیں:

''متکئا'' کا مصداق زیادہ تر امیر لوگ ہوتے ہیں اور حدیث چونکہ قرآن کے احکام کی تعیین کرتی ہے اور مقید اور پابند بناتی ہے اس لئے وہ دین سے آزاد ہونے کے لئے سب سے پہلے حدیث کا انکار کریں گے۔ ہمارے ملک میں انکارِ حدیث کی بدعت مولوی عبداللہ چکڑالوی نے پیدا کی۔ وہ اپاہج تھا، اس کی ٹانگیں خراب تھیں، چل پھر نہیں سکتا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی میں اس کی جو شکل او رحلیہ بتا یا، واقعی وہ ظالم اسی حلیہ کا تھا۔ اس کے بعد جو لوگ انکارِ حدیث کی تحریک کو چلا رہے ہیں، وہ سب عموماً جاہل اور متکبر ہیں۔کسی نے بھی حدیث کو 'فن' کے طور پر حاصل نہیں کیا''

(مشکوٰۃ شریف مترجم از مولانا محمد اسمٰعیل سلفیؒ: ج۱؍ صفحہ ۲۲۳،۲۲۴)

پروفیسر اسلم جیراجپوری اور اس کے تربیت یافتہ مسٹر غلام احمد پرویز

عبداللہ چکڑالوی کے بعد جن لوگوں نے اس فکر کو پھیلایا اور نئے نئے شبہات پیدا کرکے سادہ لوح مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی، ان میں سے احمد دین امرتسری اور پروفیسر اسلم جیراجپوری وغیرہ ہیں اور اسی پروفیسر اسلم کے فیض یافتہ مسٹر غلام احمد پرویز ہیں جس کا اظہار انہوں نے خود کیا ہے، لکھتے ہیں:

''آج اسی سرزمین میں علامہ اسلم جے راج پوری مدظلہ العالی کی قرآنی فکر برگ وبار لارہی ہے۔ جنہوں نے اپنی عمر عزیز اسی جہاد کے لئے وقف کر رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں تادیر سلامت رکھے تاکہ ہم ان کے تدبر فی القرآن کے نتائج سے مستفیض ہوسکیں۔ میرے کاشانۂ فکر میں، سلیم! اگر کوئی چمکتی ہوئی کرن دکھائی دیتی ہے تو وہ انہی کے جلائے ہوئے دیپوں کا فروغ ہے۔ '' (دیکھئے: سلیم کے نام سترھواں خط)

کویت میں بزم طلوعِ اسلام کی سرگرمیاں

کویت میں پرویزی فکر کے حاملین حضرات 'بزمِ طلوع اسلام' کے نام سے پرویزیت کی اشاعت میں سرگرم ہیں، جیسا کہ بزمِ طلوعِ اسلام، کویت کے شائع کردہ تعارف سے واضح ہے کہ

''المختصر... مسلمانوں کے قلب و دماغ سے ہر قسم کے غیر قرآنی تصورات ، نظریات و معتقدات نکال کر ان کی جگہ خالص قرآنی تصورات پیش کرنا اور دلائل و براہین کی رو سے پیش کرنا طلوعِ اسلام کا مطلوب و مقصود ہے۔'' (طلوعِ اسلام کا مقصد و مسلک :ص۱۶)

کویت میں پرویزیت یا 'طلوعِ اسلام'کی سرگرمیوں کو درج ذیل نکات میں پیش کیا جاسکتا ہے:

1. ہفتہ وار درسِ قرآن کا اہتمام جس میں مسٹر پرویز کی ویڈیو کیسٹ کے ذریعے حاضرین کو قرآنِ کریم سے متعلق پرویز کی ذاتی آرا پر مبنی گمراہ کن افکار کی تعلیم دی جاتی ہے اور اخبارات کے ذریعے ان پروگراموں کی تشہیر کی جاتی ہے۔

2. پرویز کے لٹریچر سے لوگوں کو متعارف کروایا جاتا ہے اور دروس و پروگرام میں پرویزی فکر پر مشتمل لٹریچر تقسیم کیا جاتا ہے ۔

3. مسٹر پرویز کی وڈیو، آڈیوکیسٹ لوگوں تک پہنچانا اور طلوعِ اسلام کے مضامین لوگوں میں تقسیم کرنا۔

4. بذریعہ فیکس اور ڈاک لوگوں کے ایڈریس حاصل کر کے انہیں اپنا لٹریچر مفت ارسال کرنا ۔

5. مناسب مواقع پر خصوصی اجتماع منعقد کرنا مثلا: پاکستان ڈے، اقبال ڈے، یومِ آزادی کویت وغیرہ اور اس میں کویت اور پاکستان کی بڑی بڑی شخصیات مثلاً اراکین اسمبلی، سفیر پاکستان وغیرہ کو مدعو کرنا اور اس طرح اپنا اثر و رسوخ بڑھانا اور ان سے اپنے پروگرام کے حق میں تعریفی کلمات کہلوانا اور لوگوں کے اجتماع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان میں اپنا لٹریچر تقسیم کرنا۔

6. سکولز کے طلباء و طالبات تک اپنا لٹریچر پہنچانا بلکہ ان کے خلاف فتویٰ شائع ہونے سے قبل تو پرویزی فکر کے حامل اساتذہ کھلم کھلا بحث مباحثہ کرتے رہتے تھے اور بعض سکولوں میں تو ان کے پروگرام منعقد ہونا شروع ہوگئے تھے۔

7. لوگوں کی رہائش گاہوںپر جاکر انفرادی ملاقاتوں میں سادہ لوح مسلمانوں کے ذہن میں انکار حدیث کی فکر مسموم بھرنا اور حدیث کے متعلق شکوک شبہات پیدا کرکے انہیں قرآن و سنت سے دور کرنا اور الحاد و بے دینی کی دعوت دینا۔

8. طلوعِ اسلام لائبریری جس سے مطالعہ کے لئے کتب جاری کی جاتی ہیں۔

انہی سرگرمیوں کے پیش نظر ان کے اعتقادات سے کویت کی وزارت اوقاف کو مطلع کیا گیا تو انہوں نے ان کے اعتقادات کے تفصیلی مطالعہ کے بعد انہیں کافر قراردیا۔ بزم طلوعِ اسلام نے وزارتِ اوقاف سے شائع شدہ اس فتویٰ کی تردید کرتے ہوئے وزارتِ اوقاف سے استدعا بھی کی تھی کہ فتویٰ غلط معلومات پر مبنی ہے، لہٰذا اس پر نظرثانی کی جائے اور اسی طرح عدالت سے رجوع کر نے کی شنید بھی ملی لیکن اس کے بارے میں کسی حتمی بات کا علم نہیں ہوا۔

اللہ کے فضل و کرم سے کویت میں ایسی فکر کے حاملین کی تعداد بہت محدود ہے اور علمائے حق لوگوں کو اس پرفریب پروگرام کے خطرات سے آگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ الحمدللہ!

پرویزیت کی تردید میں علماء کی سرگرمیاں

1. مرکز دعوۃ الجالیات : مرکز اپنے تمام دروس اور خطبات جمعتہ المبارک میں یہ اہتمام کرتا ہے کہ لوگوں میں اہمیت ِحدیث کا شعور بیدار کیا جائے اور دلائل و براہین سے یہ ثابت کیا جائے کہ قرآن و سنت آپس میں لازم و ملزوم ہیں اور دونوں میں سے کسی ایک کا انکار کفر ہے۔ چنانچہ حجیت ِحدیث کے اثبات اور انکارِ حدیث کی تردید میں مرکز کی خدمات درج ذیل ہیں:

1۔جنوری ۱۹۹۴ء میں علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدی ؒ مرکز دعوۃ الجالیات کی دعوت پر کویت تشریف لائے اور حجیت ِحدیث کے موضوع پر جامع پروگرام کیا۔ نیز طلوعِ اسلام کے چند افراد نجی محفلوں میں شیخ کے پاس سوال و جواب کے لئے گئے اور شیخ ؒ نے ان کے شبہات کے مسکت جوابات دیے۔

2۔مولانا عبداللہ ناصر رحمانی،کراچی کا قرطبہ میں 'حجیت ِحدیث سیمینار' سے جامع اور مدلل خطاب جو دو آڈیو کیسٹ پر مشتمل ہے،جس میں انہوں نے تفصیلاً منکرین حدیث کے شبہات کا ذکر کرتے ہوئے دلائل سے ان کا ردّ کیا۔ اس پروگرام کے کیسٹ مرکز نے کئی مرتبہ مفت تقسیم کئے ہیں۔

3۔شیخ الحدیث حافظ ثنا ء اللہ مدنی، ۱۹۹۷ء کو وزارتِ اوقاف، کویت کی دعوت پر کویت تشریف لائے اور مرکز دعوۃ الجالیات نے قرطبہ جمعیہ احیا التراث الاسلامی کے مرکز میں فتنۂ انکار حدیث کے ردّ پر ان کے خطاب کا اہتمام کیا اور شیخ محترم نے ڈیڑھ گھنٹہ تک اس موضوع پر مفصل خطاب فرمایا اور فتنۂ انکارِ حدیث کی تاریخ اور اہم کرداروں کا ذکر کیا۔

4۔شیخ الحدیث مولانا عبدالعزیز نورستانی کا حجیت ِحدیث پروگرام ۱۹۹۸ء میں قرطبہ جمعیہ احیاء التراث الاسلامی اور پھر مسجد فرحان (العباسیہ) میں منعقد ہوا جس میں شیخ محترم نے اپنے مخصوص علمی انداز میں اتباعِ سنت کی اہمیت اور انکارِ حدیث کے خطرات سے آگاہ کیا۔

5۔اسی طرح راقم الحروف اور حافظ محمد اسحاق زاہد صاحب کے سلسلہ وار دروس میں بالتفصیل اس فتنے کی تاریخ، پس منظر اور نتائج کا جائزہ لیا گیا اور منکرین حدیث کے شبہات کا تفصیلی ردّ کیا گیا۔

2. فتنہ ٔپرویزیت کے رد میں لٹریچر کی تقسیم : اس سلسلے میں مرکز کی کاوشوں سے درج ذیل کتب لوگوں تک پہنچ چکی ہیں :

1۔ 'آئینۂ پرویزیت' از مولانا عبدالرحمن کیلانیؒ : یہ چھ اجزاء اور ۱۰۰۸ صفحات پر مشتمل پرویزیت اور انکارِ حدیث کے جواب میں ایک لاجواب کتاب ہے۔

2۔ 'حجیت ِحدیث' از شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی ؒ: منکرین حدیث کے ردّ میں ۲۰۲ صفحات پر مشتمل انتہائی مدلل اور جامع کتاب ہے جس میں بڑے عمدہ اسلوب میں منکرین حدیث کے شبہات کا ردّ کیا گیا ہے۔

3۔ 'حجیت ِحدیث' از محدث العصر علامہ محمد ناصر الدین البانی ؒ: یہ علامہ البانی کی کتاب کا اُردو ترجمہ ہے جو قیمتی فوائد پر مشتمل ہے۔ادارئہ محدث ، لاہور نے اسے شائع کیا ہے۔

4۔ 'انکارِ حدیث حق یا باطل؟' از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری: منکرین حدیث کے ردّ میں انتہائی عمدہ اور مفید کتابچہ ہے۔

5۔ 'قولِ فیصل 'از محمد طیب مدنی (انڈیا): منکرین حدیث کے ردّ میں ۱۲۷ صفحات پر مشتمل بہترین کتاب ہے۔

علاوہ ازیں اس موضوع پر لکھنے والے رسائل و جرائد ماہنامہ 'محدث' لاہور، ہفت روزہ 'الاعتصام'، ماہنامہ 'السراج' انڈیا، 'البلاغ' انڈیا اور'نوائے اسلام' انڈیا، وغیرہ کی تقسیم۔

3. کیسٹ : مرکز اس سلسلے میں شیخ الحدیث مولاناسلطان محمود ؒ محدث جلالپور پیروالہ، شیخ الحدیث حافظ عبدالستار حماد، حضرت شاہ بدیع الدین شاہ راشدیؒ، پروفیسر عبداللہ ناصر رحمانی، حافظ عبدالسلام بھٹوی، مولانا عبدالعزیز نورستانی اور شیخ الحدیث حافظ ثناء اللہ مدنی کے کیسٹ تقسیم کرچکا ہے۔

مولانا احمد علی سراج صاحب نے بھی اپنے خطبات میں اس فتنے کا بھرپور ردّ کیا اورفرقہ پرویزیت کو کافر قرار دلوانے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا ۔ انہوں نے وزارتِ اوقاف، کویت میں استفتا پیش کیا اور اسی دوران پرویزیت کے بارے میں مفتی عالم اسلام شیخ عبدالعزیز بن باز ؒ کا فتویٰ بھی شائع ہوچکا تھا لہٰذا کویت کی وزارتِ اوقاف نے ۲۲؍ جمادی الآخرۃ ۱۴۱۹ھ بمطابق۱۲؍اکتوبر۱۹۹۸ء کو فتویٰ جاری کیا کہ

''غلام احمد پرویز کے عقائد باطل اور گمراہ کن ہیں اور اسلامی عقیدے کے منافی ہیں اور ہر وہ شخص جو ان عقائد پر ایمان رکھتا ہو، وہ کافر اور اسلام سے خارج ہے۔''

اور اس پر دارلافتاء وزارت اوقاف، کویت کے چیئرمین مشعل مبارک عبداللہ احمد الصباح کے دستخط اور مہر ہیں... مولانا غلام محمد منصوری جن کا تعلق اسلامک ایجوکیشن سوسائٹی، کویت سے ہے، ممتاز عالم دین ہیں۔ منکرین حدیث کے شبہات کی تردید میں ان کی خدمات بھی قابل قدر ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام علماء کو جزائے خیر عطا فرمائے اور دین کی حفاظت کی فریضہ انجام دینے کی زیادہ سے زیادہ توفیق مرحمت فرمائیں ۔

٭٭٭٭٭