263-Aug-Sep-2002

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

ذیل میں جسٹس ایس اے رحمن کے ایک خط پرمولانا کا تبصرہ شائع کیاجارہا ہے۔ یہ خط اس مراسلت کا ایک حصہ ہے جو 'ترجمان القرآن' کے صفحات میں موصوف اور پروفیسر عبدالحمید صدیقی کے درمیان ہوئی تھی۔ ادارہ

جسٹس ایس اے رحمن اپنے مکتوب میں فرماتے ہیں:

''جہاں تک قرآن حکیم کاتعلق ہے، تفسیر و تعبیر کا حق برقرار رکھتے ہوئے ہر شخص اس سے اتفاق کرے گا لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں... سنت کامسئلہ مختلف فیہ ہے۔'' ان الفاظ سے یہ گمان ہوتا ہے کہ موصوف کے نزدیک قرآن تو اسلامی احکام معلوم کرنے کے لئے ضرور مرجع و سند ہے مگر وہ سنت کویہ حیثیت دینے میں اس بنا پر متامل ہیں کہ اس کا مسئلہ مختلف فیہ ہے۔ اب یہ بات ان کے بیان سے واضح نہیں ہوتی کہ اس مسئلے میں کیا چیز مختلف فیہ ہے؟

کیا سنت کا ماخذ ِقانون ہونا مسلمانوں میں اختلافی مسئلہ ہے؟

اگر ان کا مطلب یہ ہے کہ بجائے خود سنت (یعنی رسول اللہ ﷺ کے قول و عمل اور امرونہی) کا ماخذ ِقانون اور مرجع ِاحکام ہونا ہی مختلف فیہ ہے تو میں عرض کروں گا کہ یہ ایک خلافِ واقعہ بات ہے۔ جس روز سے اُمت ِمسلمہ وجود میں آئی ہے، اس وقت سے آج تک یہ بات اہل اسلام میں کبھی مختلف فیہ نہیں رہی ہے۔ تمام اُمت نے ہمیشہ اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ مؤمنوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مطاع اور متبوع ہیں، ان کے حکم کی اطاعت اور ان کے امرونہی کا اتباع ہر مسلمان پر واجب ہے۔ جس طریقے پر چلنے کی انہوں نے اپنے قول و عمل اور تقریر سے تعلیم دی ہے، اس کی پیروی پر ہم مامور ہیں اور زندگی کے جس معاملے کا بھی انہوں نے فیصلہ کردیا ہے، اس میں کوئی دوسرا فیصلہ کرلینے کے ہم مجاز نہیں ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ تاریخ اسلام کی گذشتہ ۱۴صدیوں میں کس نے اور کب اس سے اختلاف کیا ہے۔ نرالی اُپچ نکالنے والے کچھ منفرد اور شاذ قسم کے خبطی تو دنیا میں ہمیشہ ہر گروہ میں پائے جاتے رہے ہیں۔ اس طرح کے افراد نے کبھی مسلماتِ قوم کے خلاف کوئی بات کردی ہو تو اس کی بنا پر یہ کہہ دینا صحیح نہیں ہے کہ ایک عالم گیر مسلمہ مختلف فیہ ہوگیا ہے، اس لئے وہ مسلمہ نہیں رہا۔ اس طرح تو خبطیوں کی تاخت سے قرآن بھی نہیں بچا ہے۔ کہنے والے تحریف ِقرآن تک کا دعویٰ کر بیٹھے ہیں۔ اب کیا ان کی وجہ سے ہم کلامِ الٰہی کے مرجع و سند ہونے کو بھی مختلف فیہ مان لیں گے...؟

کیا اختلاف کی گنجائش ہونا سنت کے ماخذ ِقانون ہونے میں مانع ہے؟

لیکن اگر سنت کا بجائے خود مرجع و سند ہونا مختلف فیہ نہیں ہے بلکہ اختلاف جو کچھ بھی واقع ہوتا ہے اور ہوا ہے، وہ اس امر میں ہے کہ کسی خاص مسئلے میں جس چیز کے سنت ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہو وہ فی الواقع سنت ِثابتہ ہے یا نہیں؟تو ایسا ہی اختلاف قرآن کی آیات کے مفہوم و منشا میں بھی واقع ہوتا ہے۔ ہر صاحب ِعلم یہ بحث اٹھا سکتا ہے کہ جو حکم کسی مسئلے میںقرآن سے نکالا جارہا ہے، وہ درحقیقت اس سے نکلتا ہے یا نہیں؟ فاضل مکتوب نگار نے خود قرآن مجید میں اختلاف تفسیر و تعبیر کا ذکر کیا ہے اور اس اختلاف کی گنجائش ہونے کے باوجود وہ بجائے خود قرآن کو مرجع و سند مانتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اسی طرح الگ الگ مسائل کے متعلق سنتوں کے ثبوت و تحقیق میں اختلاف کی گنجائش ہونے کے باوجود فی نفسہٖ 'سنت' کو مرجع و سند تسلیم کرنے میں انہیں کیوں تامل ہے؟

یہ بات ایک ایسے فاضل قانون دان سے جیسے کہ محترم مکتوب نگار ہیں، مخفی نہیں رہ سکتی کہ قرآن کے کسی حکم کی مختلف ممکن تعبیرات میں سے جس شخص، ادارے یا عدالت نے تفسیر و تعبیر کے معروف علمی طریقے استعمال کرنے کے بعد بالآخر جس تعبیر کو حکم کا اصل منشا قرار دیا ہو،اس کے علم اور دائرہ کار کی حد تک وہی حکم ِخدا ہے، اگرچہ یہ دعویٰ نہیں کیاجاسکتا کہ حقیقت میں بھی وہی حکم خدا ہے۔ بالکل اسی طرح سنت کی تحقیق کے علمی ذرائع استعمال کرکے کسی مسئلہ میں جو سنت بھی ایک فقیہ، یا لیجسلیچر(قانون ساز مجلس) یا عدالت کے نزدیک ثابت ہوجائے، وہی اس کے لئے حکم رسولؐ ہے، اگرچہ قطعی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ حقیقت میں رسول ؐ کا حکم وہی ہے۔

ان دونوں صورتوں میں یہ امر تو ضرور مختلف فیہ رہتا ہے کہ میرے نزدیک خدا یا رسول کا حکم کیا ہے اور آپ کے نزدیک کیا؟ لیکن جب تک میں اور آپ خدا اور اس کے رسولؐ کو آخری سند (Final Authority) مان رہے ہیں، ہمارے درمیان یہ امر مختلف فیہ نہیں ہوسکتا کہ خدا اور اس کے رسول کا حکم بجائے خود ہمارے لئے قانون واجب الاتباع ہے۔ لہٰذا میں جناب ایس اے رحمن صاحب کی یہ بات سمجھنے سے معذور ہوں کہ احکامِ فقہ کی تحقیق میں وہ قرآن کو تو ان اختلافات کے باوجود مرجع و سند مانتے ہیں جو اس کے منشا کی تعیین میں واقع ہوسکتے ہیں اور ہوئے ہیں ، مگر سنت کو یہ حیثیت دینے میںاس بنا پر تامل کرتے ہیں کہ جزئیاتِ مسائل کے متعلق سنتوں کی تشخیص کرنے میں اختلافات واقع ہوئے ہیں اور ہوسکتے ہیں۔

کیا احادیث ِموضوعہ کی موجودگی واقعی بے اطمینانی کی موجب ہے؟

آگے چل کر صاحب ِموصوف سنت کو سند قرار نہ دینے کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ''متعدد احادیث موضوعہ، متداولہ مجموعوں میں شامل ہوگئی ہیں۔'' اور اس کے ساتھ وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ''اس موضوع پر ضخیم کتابیں بھی لکھی گئی ہیں۔''

بظاہر اس ارشاد سے ان کا مدعا یہ متصور ہوتا ہے کہ سنت ایک مشکوک چیز ہے۔ ممکن ہے کہ یہ شبہ اختصارِ بیان کی وجہ سے پیدا ہوتا ہو اور فی الواقع ان کا مدعا یہ نہ ہو۔ لیکن اگر ان کا مدعا یہی ہے تو میں عرض کروں گا کہ وہ اس مسئلے پر مزید غور فرمائیں۔ ان شاء اللہ انہیں خود محسوس ہوگا کہ جس چیز کو وہ سنت کے مشکوک ہونے کی دلیل سمجھ رہے ہیں، وہی دراصل اس کے محفوظ ہونے کا اطمینان دلاتی ہے۔ میں تھوڑی دیر کے لئے اس سوال کو چھوڑ دیتا ہوں کہ وہ کون سے متداول مجموعے ہیں جن میں احادیث ِموضوعہ شامل ہوگئی ہیں۔ اگرچہ مختلف محدثین نے جو مجموعے بھی مرتب کئے ہیں، ان میں اپنی حد تک پوری چھان بین کرکے انہوں نے یہی کوشش کی ہے کہ قابل اعتماد روایات جمع کریں۔مگر اس معاملے میں صحاحِ ستہ اور موطأ کا پایہ کس قدر ہے، وہ اہل علم سے پوشیدہ نہیں ہے۔ تاہم تھوڑی دیر کے لئے ہم یہ سن بھی لیں کہ سب مجموعوں میں موضوعات نے کچھ نہ کچھ راہ پالی ہے تو غور طلب بات یہ ہے کہ وہ 'ضخیم کتابیں' جن کا ذکر فاضل مکتوب نگار کررہے ہیں، آخر ہیں کس موضوع پر؟ ان کا موضوع یہی تو ہے کہ کون کون سی حدیثیں وضعی ہیں، کون کون سے راوی کذاب اور وضاعِ حدیث ہیں، کہاں کہاں موضوع احادیث نے راہ پائی ہے، کس کتاب کی کون کون سی روایات ساقط الاعتبار ہیں، کن راویوں پر ہم اعتماد کرسکتے ہیں اور کن پر نہیں کرسکتے، 'موضوع' کو 'صحیح'سے جدا کرنے کے طریقے کیا ہیں اور روایات کی صحت، ضعف، علت وغیرہ کی تحقیق کن کن طریقوں سے کی جاسکتی ہے؟

ان ضخیم کتابوں کی اطلاع پاکر تو ہمیں امن کا ویسا ہی اطمینان حاصل ہوتا ہے جیسا کسی کو یہ سن کر ہو کہ بکثرت چور پکڑ لئے گئے ہیں، بڑے بڑے جیل خانے ان سے بھرگئے ہیں، بہت سے اموالِ مسروقہ برآمد کرلئے گئے ہیں اور سراغ رسانی کا ایک باقاعدہ انتظام موجود ہے جس سے آئندہ بھی چور پکڑے جاسکتے ہیں۔ لیکن تعجب کی بات ہوگی اگر کسی کے لئے یہی اطلاع اُلٹی بے اطمینانی کا موجب ثابت ہو اور وہ اسے بدامنی کے ثبوت میں پیش کرنے لگے۔ بے شک بڑی مثالی حالت امن ہوتی،اگر چوری کا سرے سے کبھی وقوع ہی نہ ہوتا۔ بلا شبہ اس طرح کی واردات ہوجانے سے کچھ نہ کچھ بے اطمینانی تو پیدا ہوہی جاتی ہے، لیکن مکمل حالت ِامن زندگی کے اور کس معاملے میں ہم کو نصیب ہے جو یہاں ہم اسے طلب کریں۔ جس حالت پر ہم دنیا میں بالعموم مطمئن رہتے ہیں، اس کے لئے اتنا امن کافی ہے کہ چوروں کی اکثریت پکڑ کر بند کردی جائے اور جو قلیل تعداد بھی آزاد پھر رہی ہو، اس کے پکڑے جانے کا معقول انتظام موجود ہو۔ کیا ہمارے سپریم کورٹ کے فاضل جج سنت کے معاملے میں اتنے امن پر قانع نہیں ہوسکتے؟ کیا وہ اس مکمل امن سے کم کسی چیز پرراضی نہیں ہیں جس میں سرے سے چوری کے وقوع ہی کا نام و نشان نہ پایا جائے...؟

روایات کی صحت جانچنے کے اصول

آخر میں فاضل محترم تحریر فرماتے ہیں:

''میں اس معاملے میں بھی افراط و تفریط کا قائل نہیں۔ سنن متوارث جن کا تعلق طریق عبادات مثلاً نما زیا مناسک ِحج وغیرہ سے ہے، ان کی حیثیت مصئون ومامون ہے۔لیکن باقی ماندہ موادِ احادیث، روایت کے ساتھ درایت کے اصولوں پر پرکھا جانا چاہئے پیشتر اس کے کہ اس کی حجیت قبول کی جائے، میں تاریخی تنقید کا قائل ہوں۔''

یہ ایک حد تک صحیح نقطہ نظر ہے لیکن اس میں چند اُمور ایسے ہیں جن پر میں آں محترم کو مزید غوروفکر کی دعوت دوں گا۔ جس تاریخی تنقید کے وہ قائل ہیں، فن ِحدیث اسی تنقید ہی کا تو دوسرا نام ہے۔ پہلی صدی سے آج تک اس فن میں یہی تنقید ہوتی رہی ہے اور کوئی فقیہ یا محدث اس بات کا قائل نہیں رہا ہے کہ عبادات ہوں یامعاملات، کسی مسئلے کے متعلق بھی رسول اللہ ﷺ سے نسبت دی جانے والی کسی روایت کو تاریخی تنقید کے بغیر حجت کے طور پر تسلیم کرلیا جائے۔ یہ فن حقیقت میں اس تنقید کا بہترین نمونہ ہے اور جدید زمانے کی بہتر سے بہتر تاریخی تنقید کو بھی مشکل ہی سے اس پر کوئی اضافہ و ترقی (Improvement) کہا جاسکتا ہے۔ بلکہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ محدثین کی تنقید کے اُصول اپنے اندر ایسی نزاکتیں اور باریکیاں رکھتے ہیں جن تک موجودہ دور کے ناقدین تاریخ کا ذہن بھی ابھی تک نہیں پہنچا ہے۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر میں بلا خوفِ تردید یہ کہوں گا کہ دنیا میں صرف محمد رسول اللہ ﷺ کی سنت و سیرت اور ان کے دور کی تاریخ کا ریکارڈ ہی ایسا ہے جو اس کڑی تنقید کے معیاروں پر کسا جانا برداشت کرسکتا تھا جو محدثین نے اختیار کی ہے، ورنہ آج تک دنیا کے کسی انسان اور کسی دور کی تاریخ بھی ایسے ذرائع سے محفوظ نہیں رہی ہے کہ ان سخت معیاروں کے آگے ٹھہر سکے اور اس کوقابل تسلیم تاریخی ریکارڈ مانا جاسکے۔ مجھے افسوس ہے کہ ہمارے جدید زمانے کے اہل علم اس فن کا تحقیقی مطالعہ نہیں کرتے اور قدیم طرز کے اہل علم جو اس میں بصیرت رکھتے ہیں، وہ اس کو عصر حاضر کی زبان اور اسالیب ِبیان میں پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ اسی وجہ سے باہر والے تو درکنار خود ہمارے اپنے گھر کے لوگ آج اس کی قدر نہیں پہچان رہے ہیں۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ علومِ حدیث میں سے اگر صرف ایک علل حدیث ہی کے فن کی تفصیلات سامنے رکھ دی جائیں تو دنیا کو معلوم ہو کہ تاریخی تنقید کس چیز کا نام ہے؟ تاہم میں یہ کہوں گا کہ مزید اصلاح و ترقی کا دروازہ بند نہیں ہے۔ کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ روایات کو جانچنے اور پرکھنے کے جو اُصول محدثین نے اختیار کئے ہیں، وہ حرفِ آخر ہیں۔ آج اگر کوئی ان کے اصولوں سے اچھی طرح واقفیت پیدا کرنے کے بعد ان میں کسی کمی یا خامی کی نشاندہی کرے اور زیادہ اطمینان بخش تنقید کے لئے کچھ اُصول معقول دلائل کے ساتھ سامنے لائے تو یقینا اس کا خیر مقدم کیا جائے گا۔٭ ہم میں سے آخر کون یہ نہ چاہے گا کہ کسی چیز کو رسول اللہ ﷺ کی سنت قرار دینے سے پہلے اس کے سنت ِثابتہ ہونے کا تیقن حاصل کرلیا جائے اور کوئی کچی پکی بات حضور اکرم ﷺ کی طرف منسوب نہ ہونے پائے۔

'درایت' کی حقیقت

احادیث کے پرکھنے میں روایت کے ساتھ درایت کا استعمال بھی، جس کا ذکر محترم مکتوب نگار نے کیا ہے، ایک متفق علیہ چیز ہے۔ اگرچہ درایت کے مفہوم، اصول اور حدود میں فقہاء و محدثین کے مختلف گروہوں کے درمیان اختلاف رہے ہیں، لیکن بجائے خود اس کے استعمال پر تقریباً اتفاق ہے اور دور صحابہ کرامؓ سے لے کر آج تک اسے استعمال کیا جارہا ہے البتہ اس سلسلے میں جو بات پیش نظر رہنی چاہئے اور مجھے امید ہے کہ فاضل مکتوب نگار کو بھی اس سے اختلاف نہ ہوگا، وہ یہ ہے کہ درایت صرف انہی لوگوں کی معتبر ہوسکتی ہے جو قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی کے مطالعہ و تحقیق میں اپنی عمر کا کافی حصہ صرف کرچکے ہوں، جن میں ایک مدت کی ممارست نے ایک تجربہ کار جوہری کی سی بصیرت پیدا کردی ہو اور خاص طور پریہ کہ جن کی عقل اسلامی نظامِ فکر و عمل کے حدود اربعہ سے باہر کے نظریات، اصول اور اقدار لے کر اسلامی روایات کو ان کے معیار سے پرکھنے کا رجحان نہ رکھتی ہو۔٭ بلاشبہ عقل کے استعمال پر ہم کوئی پابندی نہیں لگا سکے، نہ کسی کہنے والے کی زبان پکڑ سکتے ہیں لیکن بہرحال یہ امر یقینی ہے کہ اسلامی علوم سے کورے لوگ اگر اناڑی پن کے ساتھ کسی حدیث کو خوش آئند پاکر قبول اور کسی کو اپنی مرضی کے خلاف پاکر ردّ کرنے لگیں یا اسلام سے مختلف کسی دوسرے نظام فکر و عمل میں پرورش پائے ہوئے حضرات یکایک اٹھ کر اجنبی معیاروں کے لحاظ سے احادیث کے ردّوقبول کا کاروبار پھیلا دیں تو مسلم ملت میں نہ ان کی درایت مقبول ہوسکتی ہے اور نہ اس ملت کا اجتماعی ضمیرایسے بے تکے عقلی فیصلوں پر کبھی مطمئن ہوسکتا ہے۔ اسلامی حدود میں تو اسلام ہی کی تربیت پائی ہوئی عقل اور اسلام کے مزاج سے ہم آہنگی رکھنے والی عقل ہی ٹھیک کام کرسکتی ہے۔ اجنبی رنگ و مزاج کی عقل یا غیر تربیت یافتہ عقل بجز اس کے کہ انتشار پھیلائے، کوئی تعمیری خدمات اس دائرے میں انجام نہیں دے سکتی۔

سنت کے معتبر ہونے کے دلائل

سنت کی جو تقسیم محترم مکتوب نگار نے ''سنن متوارث جن کا تعلق طریق عبادت سے ہے'' اور ''باقی ماندہ مواد احادیث'' میں کی ہے، اور ان میں سے مقدم الذکر کو مصئون و مامون اور مؤخر الذکر کو محتاجِ تنقید قرار دیا ہے، اس سے اتفاق کرنا بھی ہمارے لئے مشکل ہے۔ بظاہر اس تقسیم میں جو تصور کام کررہا ہے، وہ یہ ہے کہ جو طریقے نبی ا کرم ﷺ نے عبادات کے متعلق سکھائے تھے، وہ تو اُمت میں عملاً جاری ہوگئے اور نسل کے بعد نسل ان کی پیروی کرتی رہی، اس لئے یہ 'متوارث' سنن محفوظ رہ گئیں، باقی رہے دوسرے معاملاتِ زندگی تو ان میں حضور اکرم ﷺ کی ہدایات نہ عملاً جاری ہوئیں، نہ ان پر کوئی نظامِ تمدن ومعاشرت کام کرتا رہا، نہ وہ بازاروں اور منڈیوں میں رائج ہوئیں، نہ عدالتوں میں ان پر فیصلے ہوئے، اس لئے وہ بس متفرق لوگوں کی سینہ بسینہ روایات تک محدود رہ گئیں اور یہی مواد ایسا ہے کہ اب اس میں بڑی دیدہ ریزی کے بعد قابل اعتبار چیزیں تلاش کرنی ہوں گی۔ فاضل مکتوب نگار کا تصور اگر اس کے سوا کچھ اور ہے تو میں بہت شکر گزار ہوں گا کہ وہ میری غلط فہمی رفع کردیں۔ لیکن اگر یہی ان کا تصور ہے تو میں عرض کروں گا کہ ... یہ تاریخ ِسنت کی واقعی صورت حال سے مطابقت نہیں رکھتا!!

اصل حقیقت یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنے عہد ِنبوت میں مسلمانوں کے لئے محض ایک پیرومرشد اور واعظ نہیں تھے بلکہ عملاً ان کی جماعت کے قائد، رہنما، حاکم، قاضی، شارع، مربی، معلم سب کچھ تھے۔ اور عقائد و تصورات سے لے کر عملی زندگی کے تمام گوشوں تک مسلم سوسائٹی کی پوری تشکیل آپ ہی کے بتائے سکھائے اور مقرر کئے ہوئے طریقوں پر ہوئی تھی۔ اس لئے یہ کبھی نہیں ہوا کہ آپ نے نماز، روزے اور مناسک ِحج کی جو تعلیم دی ہو، بس وہی مسلمانوں میں رواج پاگئی ہو، اور باقی باتیں محض وعظ و ارشاد میں مسلمان سن کر رہ جاتے ہوں۔ بلکہ فی الواقع جو کچھ ہوا وہ یہ تھا کہ جس طرح آپ ﷺ کی سکھائی ہوئی نماز فوراً مسجدوں میں رائج ہوئی اور اسی وقت جماعتیں اس پر قائم ہونے لگیں، ٹھیک اسی طرح شادی بیاہ اور طلاق و وراثت کے متعلق جو قوانین آپ ﷺ نے مقرر کئے، انہی پر مسلم خاندانوں میں عمل شروع ہوگیا، لین دین کے جو ضابطے آپ ﷺ نے مقرر کئے، انہیں کا بازاروں میںچلن ہونے لگا، مقدمات کے جو فیصلے آپ ﷺ نے کئے، وہی ملک کا قانون قرار پائے، لڑائیوں میں جو معاملات آپ ﷺ نے دشمنوں کے ساتھ اور فتح پاکر مفتوح علاقوں کی آبادی کے ساتھ کئے، وہی مسلم مملکت کے ضابطے بن گئے اور فی الجملہ اسلامی معاشرہ اور ا س کا نظامِ حیات اپنے تمام پہلوؤں کے ساتھ انہی سنتوں پر قائم ہوا جو آپ ﷺ نے یا تو خود رائج کیں یا جنہیں پہلے کے مروّج طریقوں میں سے بعض کو برقرار رکھ کر آپ ﷺ نے سنت ِاسلام کا جز بنا لیا۔ یہ وہ معلوم و متعارف سنتیں تھیں جن پرمسجد سے لے کر خاندان، منڈی، عدالت، ایوانِ حکومت اور بین الاقوامی سیاست تک مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کے تمام ادارات نے حضورِ اکرم ﷺ کی زندگی ہی میں عملدرآمد شروع کردیا تھا اور بعد میں خلفائے راشدین کے عہد سے لے کر دورِ حاضر تک ہمارے اجتماعی ادارات کاڈھانچہ انہی پر قائم ہے۔

پچھلی صدی تک توان ادارات کے تسلسل میں ایک دن کا انقطاع بھی واقع نہیں ہوا تھا۔ اس کے بعد اگر کوئی انقطاع رونما ہوا ہے تو صرف حکومت و عدالت اور پبلک لاء کے ادارات عملاً درہم برہم ہوجانے کی وجہ سے ہوا ہے۔ اگر آپ 'متوارث' سنتوں کی محفوظیت کے قائل ہیں تو عبادات اور معاملات دونوں سے تعلق رکھنے والی یہ سب معلوم و متعارف سنتیں متوارث ہی ہیں۔ ان کے معاملے میں ایک طرف حدیث کی مستند روایات اور دوسری طرف امت کا متواتر عمل، دونوں ایک دوسروں سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ان میں مسلمانوں کی بے راہ روی سے جو الحاقی چیز بھی کبھی داخل ہوئی ہے، علمائِ اُمت نے اپنے اپنے دور میں بروقت 'بدعت'کی حیثیت سے اس کی الگ نشاندہی کردی ہے اور قریب قریب ہر ایسی بدعت کی تاریخ موجود ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے بعد کس زمانے سے اس کا رواج شرو ع ہوا، مسلمانوں کے لئے ان بدعات کو سنن ِمتعارفہ سے ممیز کرنا کبھی مشکل نہیں رہا ہے۔

اخبارِ احاد کی حیثیت

ان معلوم و متعارف سنتوں کے علاوہ ایک قسم سنتوں کی وہ تھی جنہیں حضورِ اکرم ﷺ کی زندگی میں شہرت اوررواج عام حاصل نہ ہوا تھا، جو مختلف اوقات میں حضور اکرم ﷺ کے کسی فیصلے، ارشاد، امرونہی، تقریر واجازت یا عمل کو دیکھ کر یا سن کر خاص خاص اشخاص کے علم میں آئی تھیں اور عام لوگ ان سے واقف نہ ہوسکے تھے۔ یہ سنتیں عبادات اور معاملات دونوں ہی طرح کے اُمور سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہ خیال کرنا صحیح نہیں ہے کہ ان کا تعلق صرف معاملات سے تھا۔ ان سنتوں کا علم جو متفرق افراد کے پاس بکھرا ہوا تھا، اُمت نے اس کو جمع کرنے کا سلسلہ حضور اکرم ﷺ کی وفات کے بعد فوراً ہی شروع کردیا۔ کیونکہ خلفا، حکام، قاضی، مفتی اور عوام سب اپنے اپنے دائرہ کار میں پیش آمدہ مسائل کے متعلق کوئی فیصلہ یا عمل اپنی رائے اور استنباط کی بنا پر کرنے سے پہلے یہ معلوم کرنا ضروری سمجھتے تھے کہ اس معاملے میں آنحضرت ﷺ کی کوئی ہدایت تو موجود نہیں ہے۔ اسی ضرورت کی خاطر ہر اس شخص کی تلاش شروع ہوئی جس کے پاس سنت کا کوئی علم تھا، اور ہر اس شخص نے جس کے پاس ایسا کوئی علم تھا خود بھی اس کو دوسروں تک پہنچانا اپنا فرض سمجھا۔ یہی روایت ِحدیث کا نقطہ آغاز ہے اور ۱۱؍ ہجری سے تیسری چوتھی صدی تک ان متفرق سنتوں کو فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

موضوعات گھڑنے والوں نے ان کے اندر آمیزش کرنے کی جتنی بھی کوششیں کیں وہ قریب قریب سب ناکام ہوگئیں، کیونکہ جن سنتوں سے کوئی حق ثابت یا ساقط ہوتا تھا، جن کی بنا پر کوئی چیز حرام یا حلال ہوتی تھی، جن سے کوئی شخص سزا پاسکتا تھا یا کوئی ملزم بری ہوسکتا تھا، غرض یہ کہ جن سنتوں پر احکام اور قوانین کا مدار تھا، ان کے بارے میں حکومتیں اور عدالتیں اور اِفتاء کی مسندیں اتنی بے پروا نہیں ہوسکتی تھیں کہ یوں ہی اٹھ کر کوئی شخص 'قال النبی ﷺ کہہ دیتا اور ایک حاکم یا جج یا مفتی اسے مان کر کوئی حکم صادر کرڈالتا۔ اسی لئے جو سنتیں احکام سے متعلق تھیں، ان کے بارے میں پوری چھان بین کی گئی، سخت تنقید کی چھلنیوں سے ان کو چھانا گیا، روایت کے اصولوں پر بھی انہیں پرکھا گیا اور درایت کے اصولوں پر بھی، اور وہ سارا مواد جمع کردیاگیا جس کی بنا پر کوئی روایت مانی گئی ہے یا ردّ کردی گئی ہے تاکہ بعد میں بھی ہر شخص اس کے ردّ و قبول کے متعلق تحقیقی رائے قائم کرسکے۔

ان سنتوں کا ایک معتدبہ حصہ فقہا اور محدثین کے درمیان متفق علیہ ہے اور ایک حصے میں اختلافات ہیں۔ بعض لوگوں نے ایک چیز کو سنت مانا ہے اور بعض نے نہیں مانا۔ مگر اس طرح کے تمام اختلافات میں صدیوں اہل علم کے درمیان بحثیں جاری رہی ہیں اور نہایت تفصیل کے ساتھ ہر نقطہ نظر کا استدلال، اور وہ بنیادی مواد جس پر یہ استدلال مبنی ہے، فقہ اور حدیث کی کتابوں میںموجود ہے۔ آج کسی صاحب ِعلم کے لئے بھی مشکل نہیں ہے کہ کسی چیز کے سنت ہونے یا نہ ہونے کے متعلق تحقیق سے خود کوئی رائے قائم کرسکے۔ اس لئے میں نہیں سمجھتا کہ سنت کے نام سے متوحش ہونے کی کسی کے لئے بھی کوئی معقول و جہ ہوسکتی ہے۔ البتہ ان لوگوں کا معاملہ مختلف ہے جو اس شعبۂ علم سے واقف نہیں ہیں اور جنہیں بس دور ہی سے حدیثوں میں اختلافات کا ذکر سن کر گھبراہٹ لاحق ہوگئی ہے!!

احکامی احادیث کی امتیازی حیثیت

اس سلسلے میں یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ احادیث میں جو مواد احکام سے متعلق نہیں ہے بلکہ جس کی نوعیت محض تاریخی ہے، یا جو فتن، ملاحم، رقاق، مناقب، فضائل اور اسی طرح کے دوسرے اُمور سے تعلق رکھتا ہے، اس کی چھان بین میں وہ عرق ریزی نہیں کی گئی ہے جو احکامی سنتوں کے باب میں ہوئی ہے۔ اس لئے موضوعات نے اگر راہ پائی بھی ہے تو زیادہ تر انہی ابواب کی روایات میں پائی ہے۔ احکامی سنتیں بے اصل اور جھوٹی روایتوں سے تقریباً بالکل ہی پاک کردی گئی ہیں۔ ان سے تعلق رکھنے والی روایتوں میں ضعیف خبریں تو ضرور موجود ہیں مگر موضوعات کی نشاندہی مشکل ہی سے کی جاسکتی ہے اور اخبارِ ضعیفہ میں سے بھی جس کسی کو فقہ کے کسی سکول نے قبول کیا ہے، اس بنا پر کیا ہے کہ اس کے نزدیک وہ قرآن سے ، سنن متعارفہ کے جانے پہچانے نظام سے، اور شریعت کے جامع اُصولوں سے مناسبت رکھتی ہے۔

محترم مکتوب نگار کی چند سطروں پر یہ تفصیلی تبصرہ میں نے صرف اس لئے کیا ہے کہ یہ سطریں کسی عام آدمی کے قلم سے نہیں نکلی ہیں بلکہ ایک ایسے بزرگ کے قلم سے نکلی ہیں جنہیں ہمارے سپریم کورٹ کے جج کی بلند پوزیشن حاصل ہے۔ سنت کی شرعی و قانونی حیثیت کے متعلق اس پوزیشن کے بزرگوں کی رائے میں ذرّہ برابر بھی کوئی کمزور پہلو ہو تو وہ بڑے دور رَس نتائج پیدا کرسکتا ہے۔

قریب کے زمانے میں سنت کے متعلق عدلیہ کی بعض دوسری بلند پایہ شخصیتوں کے ایسے ریمارکس بھی سامنے آئے ہیں جو صحیح نقطہ نظر سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ا س لئے میں چاہتا ہوں کہ جو باتیں میں نے اس تبصرے میں عرض کی ہیں، انہیں فاضل مکتوب نگار ہی نہیں، ہمارے دوسرے حکامِ عدالت بھی اسی بے لاگ نگاہ سے ملاحظہ فرمائیں جس کی ہم اپنی عدلیہ سے توقع رکھتے ہیں۔ (ترجمان القرآن' بابت دسمبر ۱۹۵۸ئ)
نوٹ

٭ یہاں نشان زدہ جملہ خصوصی توجہ کا مستحق ہے ۔فن حدیث میں ترمیم اور اضافہ کی اجازت اسے ہی دی جاسکتی ہے جو پہلے فن حدیث میں مہارت حاصل کرکے 'اہل فن' بن جائے، وہ محدثین کی خدمات کا اعتراف کرنے کے ساتھ اس فن میں انہی کے اندازمیںمزیدبہتری کا خواہش مند ہو۔ مثلاً اس دور میں علامہ البانی کی فن حدیث میں حیثیت مسلمہ رہی ہے ، ان جیسی امتیازی محدثانہ شان رکھنے والا اگر کوئی ترمیم واضافہ کرنا چاہتا ہے تو وہی اضافہ فن حدیث میں اضافہ معتبرہوگا۔دیگر علوم میں بھی دنیا بھر میں یہی اصول چلتا ہے کہ ماہرفن ہی ترمیم واضافہ کے مجاز ہوتے ہیں۔

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں نکلتا کہ فن حدیث سے ناواقف شخص 'اصلاح' کے نام پر فن حدیث کا حلیہ ہی بگاڑ کررکھ دے جیسا کہ اکثر منکرین حدیث کا اصل مقصد تو دین بیزاری اور عقل وفلسفہ پر اندھا اعتماد ہوتا ہے لیکن وہ اس کا اظہار احادیث کی تنقید کے نت نئے اُصول پیش کرکے کرتے ہیں۔ بعض کو عربی لغت کا لپکا ہوتا ہے اور بعض کو اپنے خانہ ساز مفہوم کو شریعت بنانے کا چسکا اور اس مقصد کے لئے وہ اپنا سارا زورِ تحقیق احادیث پر نکالتے ہیں۔ یہ رویہ کسی طور مناسب نہیں، بالخصوص اس کم علمی کے دور میں، ترمیم واصلاح کی عمومی اجازت دین کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دے گی۔

٭ مولانا کے ہاں درایت کے اسی کھلے مفہوم سے جو عقل، رائے اور ذوق کو بھی شامل ہو، علمائے اہل حدیث کو شدید اختلاف رہا ہے ۔ مولانا کایہ کہنا کہ ''جن میں ایک مدت کی ممارست نے ایک تجربہ کار جوہری کی سی بصیرت پیدا کردی ہو... '' دوسرے لفظوں میں یہ ایک ایسے میزان پر حدیث کے پورا اُترنے کا تقاضاہے جس کی ذاتی حیثیت خود مولانا کے نزدیک مستند اور مستحکم نہیں۔ چنانچہ مولانا مودودیؒ ایک مقام پرلکھتے ہیں:

''یہ چیز (مذکورہ کسوٹی ) چونکہ سراسر ذوقی ہے اور کسی ضابطہ کے تحت نہیں آتی، نہ آسکتی ہے۔ اس لئے اس میں اختلاف کی گنجائش پہلے بھی تھی، اب بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گی ...پھر یہ کوئی ایسی چیز نہیں کہ ایک شخص کا ذوق لامحالہ دوسرے شخص کے ذوق سے کلیۃ ً مطابق ہی ہو۔'' (تفہیمات: ص ۳۲۴)

دوسری جگہ لکھتے ہیں: ''ذوق کسی ضابطہ کے تحت نہیں آتااور نہ ہی آسکتا ہے بلکہ ہر ایک کا ذوق اپنا اپنا ہے۔ اس لئے اس میں اختلاف کی گنجائش پہلے بھی رہی، اب بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔ ''

اگر مولانا کے اس تصورِ درایت کو مان لیا جائے تو یہ رفع ِاختلاف نہیں بلکہ اختلافات کی ایک ابتدا ہوگی۔ اسی تصورِ درایت پر تنقید کرتے ہوئے حافظ عبد اللہ محدثؒ روپڑی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:

''... جب ذوق ایک قسم کا مزاج ہے جو کتاب اللہ اور سنت ِرسولؐ کے گہرے مطالعہ سے پیداہوتا ہے تو وہ کون سی سنت ہے جس میں گہرے مطالعہ سے یہ مزاج پیدا ہوگا؟ اگر تو وہ سنت ایسی ہے جو سنداً صحیح ہو اور آپ کے ذوق کی تعمیر کرے، ظاہر ہے کہ اس سنت کی صحت سندا ً ہی ہوگی کیونکہ وہ اس ذوق سے پہلے آپ کو پہنچ چکی ہوگی۔ تو برائے مہربانی اس ذوق کو پرے ہی رکھیں اور اسی صحت پر اکتفا کریں جواس سے پہلے آپ کوحاصل تھی... اسی طرح کتاب اللہ میں بھی گہرا مطالعہ بغیر سنت کے نہیں ہوسکتا کیونکہ سنت کتاب اللہ کی تفسیر ہے پس آپ کا ذوق بے وقت کی راگنی ہے۔''