263-Aug-Sep-2002

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

حفظ کی اہمیت

اللہ تعالیٰ نے یوں تو انسان کو بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں لیکن قوتِ حافظہ ان میں اہم ترین نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس خاص نعمت سے انسان مشاہدات و تجربات اور حالات و واقعات کو اپنے ذہن میں محفوظ رکھتا ہے اور ضرورت کے وقت انہیں مستحضر کرکے کام میں لاتا ہے۔ انسان کا قدیم ترین اور ابتدائی طریق حفاظت 'حفظ' تھا۔ تدریجاً وہ فن کتابت سے آشنا ہوا اور تہذیبوں کے ارتقا کے ساتھ کتابت کو فروغ ہوا۔ تہذیبوں کے اس نشیب و فراز کے ہر دور میں حافظہ کی حیثیت مسلم رہی۔

اہل عرب قبل از بعثت ِنبویﷺ ہزاروں برس سے اپنا کام تحریر و کتابت کے بجائے حافظہ سے چلانے کے خوگر تھے۔ ان کے تاجر لاکھوں روپے کا لین دین کرتے تھے اور کوئی لکھی پڑھی دستاویز نہ ہوتی تھی۔ پائی پائی کا حساب اور سینکڑوں گاہکوں کا تفصیلی حساب و تول زبان پر رکھتے تھے۔انکی قبائلی زندگی میں نسب اور خونی رشتوں کی بڑی اہمیت تھی، پشت ہا پشت سے نسب نامے ان کے حافظے میں محفوظ رہتے تھے۔

عرب بے پناہ قوت حافظہ کے مالک تھے۔ ان کے شعرا، خطبا اور اُدبا ہزاروں اشعار، ضرب الامثال اور واقعات کے حافظ تھے۔ شجر ہائے نسب کومحفوظ رکھنا ان کا معمول تھا بلکہ وہ تو گھوڑوں کے نسب نامے بھی یاد رکھتے تھے۔

ان کا سارا لٹریچر بھی کاغذ پرنہ تھا بلکہ لوحِ قلب پرلکھا ہوا تھا۔ وہ کاغذ کی تحریر پر اعتماد کرنے کی بجائے حافظے پر اعتماد کرنے کو زیادہ پسند کرتے تھے۔ انہیں اس پر فخر تھا اور ان کی نگاہ سے وہ شخص گر جاتا تھا جس سے بات پوچھی جائے اور وہ زبانی بتانے کی بجائے گھر سے کتاب لاکر اس کا جواب دے۔

ان کی یہ عادت اسلام کے بعد بھی تقریباً ایک صدی تک جاری رہی کہ وہ لکھنے کے باوجود یاد کرتے تھے اور تحریر پڑھ کر سنانے کی بجائے نوکِ زبان سے سنانا نہ صرف باعث ِعزت سمجھتے تھے بلکہ ان کے نزدیک آدمی کے علم پر اعتماد بھی اس طریقہ سے قائم رہتا تھا۔

موجودہ دور میں بھی مختلف اقوام میں ایسے بے شمار افراد پائے جاتے ہیں جن کے حافظوں کو بطورِ نظیر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ خود مسلمان علما میں یہ جملہ مشہور رہا: «العلم في الصدور لا في الکتب» فی الحقیقت علم وہی ہے جو انسان کو مستحضر ہو۔ اس استحضار کے لئے حافظے کے سوا اور کوئی شے نہیں ہے۔

خود ہندوستان میں سیدانور شاہ کشمیری، سید نذیر حسین محدث دہلوی، حافظ عبدالمنان وزیرآبادی اور حافظ محمد محدث گوندلوی رحمہم اللہ بے نظیر حافظے کے مالک تھے۔

عربوں اور غیر عربوں میں آج بھی اس امر کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ اَن پڑھ لوگ اور نابینا آدمی پڑھے لکھے اور بہت انسانوں کی نسبت زیادہ یادداشت رکھتے ہیں۔ ناخواندہ تاجروں میں ایسے لوگ بکثرت دیکھے جاتے ہیں جنہیں بہت سے گاہکوں کے ساتھ اپنا ہزارہا روپے کا لین دین تفصیل کے ساتھ یاد رہتا ہے۔ بے شمار اندھے ایسے موجود ہیں جن کی قوتِ حافظہ آدمی کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ یہ اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ تحریر پر اعتماد کرلینے کے بعد ایک قوم کے حافظے کی وہ حالت باقی نہیں رہ سکتی جو ناخواندگی کے دور میں اس کی تھی۔

عربوں کا تعلق جب کلامِ الٰہی سے ہوا تو ان کو رسولِ کریمﷺاور قرآنِ مجید سے بے پناہ عقیدت ومحبت ہوئی۔ انہوں نے قرآن و حدیث کو حفظ کرنا شروع کیا۔ بے شمار صحابہؓ نے قرآن کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ جنگ ِیمامہ میں تقریباً ۷۰؍حفاظِ قرآن صحابہ تھے جو شہید ہوگئے، جس کے خوف سے حضرت عمرؓ نے اس خدشہ کا اظہار کیا کہ اگر اس طرح حفاظ صحابہ دنیا سے اُٹھتے چلے گئے تو قرآن محفوظ نہ رہ سکے گا۔ ان کی اس تحریک پر حضرت ابوبکرؓ نے قرآن کو کتابی شکل میں مدوّن کیا۔

یوں بھی کوئی قرآن کی آیت ؍سورت نازل ہوتی تو صحابہ اس کو اَزبر کرلیتے۔ یہی تعلق ان کا حدیث ِرسولﷺسے تھا۔

حفظ ِحدیث ، ارشاداتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں

حضرت انس بن مالکؓ جو آپ کے خادمِ خاص تھے، کہتے ہیں کہ ''ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس ہوتے اور حدیث سنتے جب ہم اٹھتے تو ایک دوسرے سے دہراتے حتیٰ کہ ہم اس کو ازبر کرلیتے۔''

ایک اور واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ

''ہم لوگ رسول اللہ ﷺ سے حدیثیں سنتے اور جب آپ مجلس سے تشریف لے جاتے تو ہم آپس میں حدیثوں کا دور کرتے۔ یکے بعد دیگرے ہم میں ہر شخص ساری حدیثیں بیان کرتا، اکثر رسولِ اکرم ﷺ کی محفل میں بیٹھنے والوں کی تعداد ساٹھ تک ہوجاتی اور وہ سب باری باری بیان کرتے۔ پھر ہم اُٹھتے تو حدیثیں یوں یاد ہوتیں کہ گویا وہ ہمارے دلوں پر نقش ہوگئی ہیں۔''(۱)

صحابہ زیادہ تر حفاظت ِحدیث کے سلسلہ میں سفینہ کے بجائے سینہ پر اعتماد کرتے تھے۔ ڈاکٹر صبحی صالح حفاظت ِحدیث کے ضمن میں لکھتے ہیں :

''حضور ﷺ کا کتابت ِحدیث سے منع کرنا اور حفظ کو اہمیت دینا، یہ آپ کی حکمت ِتدریس کا حصہ تھا تاکہ صحابہ کا حدیث ِرسول ﷺ سے ایک خاص تعلق اور ربط پیدا ہوجائے۔ یہ تربیت تدریجی اور اسلامی معاشرہ کے حوادث و اَحوال سے بالکل ہم آہنگ تھی۔ یہ تربیت جامد نہ تھی کہ ایک ہی شکل وصورت پر قانع رہتی، بلکہ اس میں اشخاص و ازمنہ کے احوال و مقامات کا لحاظ رکھا جاتا تھا۔''(۲)

حضورِ کریم ﷺ نے جب اپنی دعوت کا آغاز کیا تو اس وقت عرب میں پڑھنے لکھنے کا رواج کم تھا۔ ایسے لوگوں کی تعداد تو اُنگلیوں پر گنی جاسکتی تھی جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ قرآن نے خود ان کو اَن پڑھ کہا جن کے اندر سے حضورؐ یہ دعوت لے کر اٹھے :

﴿هُوَ الَّذى بَعَثَ فِى الأُمِّيّـۧنَ رَ‌سولًا مِنهُم...٢ ﴾... سورة الجمعة ''اللہ وہ ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے پیغمبر بھیجا۔''

طبقاتِ ابن سعدؒ کے حوالہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعثت ِنبوی کے وقت سولہ سترہ سے زیادہ آدمی لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھیکہ عرب لکھنے پڑھنے کو پسند نہ کرتے تھے۔ صحرائی لوگ تو پڑھنے کو حقارت سے دیکھتے تھے۔ لکھنے پڑھنے کے خلاف حقارت کا یہ جذبہ آج تک صحرائی قبائل میں بدستور باقی ہے۔ ذوالرمہ اور مخضرمی جو بہت بڑے شاعر ہیں، وہ اس بات کو چھپاتے رہے کہ وہ فن کتابت سے آشنا ہیں، کہ کہیں لوگ اُنہیں ناپسند نہ کرنے لگیں۔

کتابت ِحدیث کے عدمِ رجحان اور رسول اللہﷺکی ممانعت کی وجہ سے صحابہ حافظہ پر زیادہ اعتماد کرتے۔ احادیث کو حفظ کرتے اور حافظہ کی مدد سے ہی بوقت ِضرورت اس کو مستحضر کردیتے تھے۔ پروفیسر خالد علوی لکھتے ہیں کہ

''حافظہ پر اعتماد ہی کا نتیجہ تھا کہ بڑی مدت تک علما حفظ ہی کرتے رہے۔ انہوں نے لکھنے کو پسند نہیں کیا۔''(۴)

امام اوزاعیؒ کا قول ہے : «کان هذا العلم شيئا شريفاً إذا کان من أفواه الرجال يتلاقونه ويتذاکرونه فلما صار في الکتب ذهب نوره و صار إلی غير أهله»''حدیث کا علم قیمتی اور شریف اس وقت تھا جب لوگوں کے منہ سے حاصل کیا جاتا تھا۔ لوگ باہم ملتے جلتے رہتے تھے اور آپس میں ان کاذکر کرتے رہتے تھے۔ لیکن جب سے حدیثیں کتابوں میں لکھی جانے لگیں تو اس کا نور اور ا س کی رونق جاتی رہی اور یہ علم ایسے لوگوں میں پہنچ گیا جو اس کے اہل نہ تھے۔''(۵)

حضورِ کریم ﷺ نے حفاظت کے لئے دو طرح کے اقدام فرمائے۔ ایک تو یہ کہ آپ نے احادیث کو روایت کرنے کی ہمت افزائی کی اور دوسری طرف جھوٹی حدیث روایت کرنے پر سخت وعید سنائی۔

زبانی روایت کی ہمت افزائی اور ترغیب

اہل عرب ہزاروں برس سے اپنے کام کتابت کے بجائے حفظ و روایت اور زبانی کلام سے چلانے کے عادی تھے اور یہی عادت اسلام کے ابتدائی دور میں برسوں تک رہی۔ ان حالات میں قرآن کومحفوظ کرنے کے لئے تو کتابت ضروری سمجھی گئی،کیونکہ اس کا لفظ لفظ، آیات اور سورتوں کی ٹھیک اسی ترتیب کے ساتھ جو اللہ نے مقرر فرمائی تھی، محفوظ کرنا مطلوب تھا۔ حدیث میں اس ترتیب کا ہونا ضروری نہ تھا کیونکہ قرآن کی تلاوت اس طرح مطلوب تھی جس طرح اللہ نے ترتیب دی۔ اس کے الفاظ کو بدلنا کسی صورت جائز نہ تھا جبکہ سنت کی نوعیت عملی تھی۔ اس کے الفاظ قرآن کے الفاظ کی طرح نازل نہیں ہوئے تھے بلکہ صرف ان کا مفہوم وحی تھا جنہیں الفاظ کا جامہ حضور نبی کریمؐ پہنایا کرتے۔

حضور ﷺ کے اقوال، الفاظ اور تقاریر کے نقل کرنے میں یہ پابندی نہ تھی کہ سننے والے انہیں لفظ بلفظ اسی طرح نقل کریں بلکہ اہل زبان سامعین کے لئے یہ جائز تھا ، وہ اس پر قادر بھی تھے کہ الفاظ سن کر معنی و مفہوم بدلے بغیر اپنے الفاظ میں بیان کریں۔

احادیث میں قرآن کی آیتوں کی طرح یہ بھی ضروری نہ تھا کہ فلاں حدیث پہلے اور فلاں بعد میں لائی جائے۔ یہاں مقصود صرف ان احکام اور تعلیمات و ہدایات کو یاد رکھنا اور بحفاظت آگے پہنچانا تھا جو صحابہ کو حضور سے ملنی تھیں۔ اس باب میں زبانی نقل و روایات کی کھلی اجازت ہی نہ تھی بلکہ بکثرت احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ حضورِ کریم ﷺ نے لوگوں کو بار بار اور بکثرت اس کی تاکید فرمائی۔

نبی پاکﷺنے ان اشخاص کے لئے خصوصی دعا فرمائی جو آپ کی باتوں کو سن کر یاد رکھیں اور دوسروں تک پہنچائیں:

1. حضرت ابوسعید ؓسے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے «نضر الله امرءا سمع مقالتي فوعاها...»(۶)

''اللہ تعالیٰ خوش و خرم رکھے اس بندے کو جس نے میری بات سنی اور اس کو یاد رکھا۔''

2. حضرت زید بن ثابتؓ، عبداللہ بن مسعودؓ اور جبیر بن مطعمؓ اور ابودردائؓ حضورِ کریم ﷺ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں:

«نضر الله امرءا سمع منا حديثا فحفظه حتی يبلغه فرُبّ حامل فقه إلی من هو أفقه منه ورب حامل فقه ليس بفقيه»(۷)

''اللہ اس شخص کو خوش و خرم رکھے جو ہم سے کوئی بات سنے اور دوسروں تک پہنچا دے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص سمجھ کی بات کسی ایسے شخص کو پہنچا دیتا ہے جو اس سے زیادہ فقیہ ہو اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص جو خود فقیہ نہیں ہوتا مگر وہ فقہ اٹھائے ہوتا ہے۔''

3. حضرت ابوبکرؓ کہتے ہیں کہ نبی اکر مﷺ نے فرمایا: «ليبلغ الشاهد الغائب عسیٰ أن يبلغ من هو أوعیٰ»(۸)

''جو حاضر ہے، وہ اس کو پہنچا دے جو حاضر نہیں،ممکن ہے کہ وہ کسی ایسے آدمی تک پہنچا دے جو اس سے زیادہ یاد رکھنے والا ہو۔''

4. قاضی ابو شریح کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پرخطبہ دیا جسے میں نے خود کانوں سے سنا اور خوب یاد رکھا۔ وہ موقع اب تک میری آنکھوں میں سمایا ہوا ہے۔ خطبہ کے اختتام پر آپ نے فرمایا: «ليبلغ الشاهد الغائب»

''جو حاضر ہیں وہ ان لوگوں سے پہنچا دیں جو حاضر نہیں ہیں۔''(۹)

5. حجۃ الوداع ۱۰ہجری میں وہی بات کہی جو فتح مکہ کے موقع پر کہی تھی۔

6. ابوجمرہ کہتے ہیں کہ بنی عبدالقیس کا وفد بحرین سے حضورِ اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم ایسے قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں کہ ہم سوائے حرام مہینوں کے آپ کی خدمت میں نہیں آسکتے، لہٰذا ہم کو ایسے اعمال بتائیں کہ ہم پیچھے والوں کو اس سے مطلع کریں اور اس کے سبب ہم جنت میں چلے جائیں۔ آنحضور ﷺ نے انہیں چند احکام دیئے اور فرمایا: «احفظوہ وأخبروا من وراء کم»(۱۰) ''اس کو یاد کرلو اور پیچھے والوں کو بھی بتاؤ۔''

پروفیسر خالد علوی نے مولانا سید امین الدین کی رائے نقل کی ہے کہ حضور رسالت ِمآب ﷺ نے ان صحابہ کے لئے دعا فرمائی جو حضور ﷺ کی حدیث کی حفاظت کرتے اور ضبط میں رکھتے اور پوری صحت اور اتقان کے ساتھ اس کو دوسروں تک پہنچاتے۔ حفاظت ِحدیث اور مبلغین حدیث کے لئے حضور کی مذکورہ دعا ثابت کرتی ہے کہ حفظ ِحدیث اور اس کی تبلیغ، حضور کی رضا اور خوشنودی، حیاتِ صحابہ کا عظیم اور اہم سرمایہ تھا۔ صحابہ خوب جانتے تھے کہ اللہ کے رسول کوراضی رکھنا ایمان والوں کے حفظ ِایمان کے لئے نہایت ضروری ہے: (۱۱)

﴿وَاللَّهُ وَرَ‌سولُهُ أَحَقُّ أَن يُر‌ضوهُ إِن كانوا مُؤمِنينَ ٦٢ ﴾... سورة التوبة ''اللہ اور اس کے رسول کو راضی رکھنا بہت ضروری ہے، اگر وہ ایمان رکھتے ہیں۔''

آنحضرت ﷺ نے فرمایا:«من رغب سنتي فليس مني» (بخاری: نمبر ۵۰۶۳) ''وہ مجھ سے نہیں جس نے میری سنت سے اعراض کیا۔''

صحابہ کرامؓ حافظہ کی مدد سے حدیث کو یاد رکھنے کا کام لیتے تھے۔ حضور کریم ﷺ کی اس تحریص وترغیب کا یہ نتیجہ ہواکہ صحابہؓ ذوق وشوق سے احادیث کو یاد رکھتے جو حضور کی محفل میں حاضر نہ ہوسکتے، وہ باری باری کا شانۂ نبوت میں حاضری دیتے۔ مثلاً حضرت عمرؓ نے اپنے غلام سے باری باندھی ہوئی تھی کہ ایک دن میں کاشانۂ نبوی میں حاضر ہو کر نورِ نبوت سے فیضیاب ہوں گا تو اس سے آپ کو آگاہ کروں گا لیکن جس دن میں حاضر نہ ہوسکوں تو آپ حضورؐ کے ہاں حاضر ہوکر فیض حاصل کریں اور ارشاداتِ نبوی سے مجھے آگاہ کریں۔

آنحضرت ﷺ کے ارشادات کا صحابہ دَور کرتے۔ ایک دوسرے کو سناتے، مذاکرے ہوتے اور ایک دوسرے سے اخذ و استفادہ کرتے۔ حضرت معاویہؓ کہتے تھے :

''میں آنحضرت ﷺ کے ہمراہ تھا۔ آپ مسجد میں داخل ہوئے تو آپ نے مسجد میں ایک جماعت بیٹھی ہوئی پائی۔ فرمایا: تم کس لئے بیٹھے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے فرض نماز پڑھی پھر ہم بیٹھ گئے۔ ہم اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت کا مذاکرہ کررہے ہیں۔ آپ نے فرمایا:

''اللہ جس چیز کا ذکر کرتے ہیں، اس کا ذکر بڑھ جاتا ہے۔'' (۱۲)

حضرت ابن عباسؓ، حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ، حضرت ابو سعید اور ان کے علاوہ دیگر اکابرین صحابہ اور تابعین حدیث کے مذاکروں میں اپنے ساتھیوں اور شاگردوں کو تاکید کرتے تھے۔علیؓ فرماتے تھے:

«تذاکروا الحديث و تزاوروا فإنکم إن لم تفعلوا يدرس»

''احادیث کا تکرار کیا کرو اور ایک دوسرے سے ملتے رہو اگر ایسا نہ کرو گے تو علم ضائع ہوجائے گا''

بقولِ سید منت اللہ

''صحابہ کرام میں دو چیزوں کا چرچا تھا: کلام اللہ اور احادیث رسول اللہ ﷺ ۔ وہ اپنے وقت کو انہیں دو کاموں میںصرف کرتے اور انہیں دو چیزوں کو خود پڑھتے، دوسروں کو پڑھاتے یا ان سے سنتے رہتے تھے۔ اپنے ساتھیوں اور شاگردوں کو انہی چیزوں کے مذاکرہ اور حفظ کی تاکید کرتے رہے۔ تو پھر جنہوں نے حدیث کو اپنا مشغلہ بنا لیا ہو، انہیں حدیثیں یادنہ رہتیں تو اور کس کو رہتیں۔''(۱۳)

حفظ ِحدیث میں حزم و احتیاط اور اس کے محرکات

صحابہ حفظ ِحدیث اور روایت میں بڑی احتیاط سے کام لیتے اوراس کو وہ اپنی بڑی ذمہ داری محسوس کرتے تھے تاکہ بعد میں آنیوالی نسلوں کو حضور ﷺ کی تعلیمات صاف شفاف صورت میں بغیر کسی آمیزش کے ملیں۔ ان کے نزدیک یہ دین ایک امانت ہے اور اس میں تغیر و تبدیلی خیانت اور بہت بڑا جرم ہے۔ بعض دفعہ تو صحابہؓ حدیث بیان کرتے ہوئے لرز اُٹھتے تھے۔ اس حزم و احتیاط کے درج ذیل محرکات تھے :

(1) جھوٹی احادیث پر تنبیہ

جھوٹی حدیث کو حضور ﷺ کی طرف منسوب کرنے پر تنبیہات اور وعیدیں دراصل حفاظت ِحدیث کی ہی اہم کوشش ہے جو آپ نے روایت کے سلسلہ میں فرمائی۔ آنحضرت ﷺ نے قطعی طور پربتایا کہ جھوٹی روایت بیان کرنے والا جہنمی ہوگا۔آپﷺنے فرمایا:

«من کذب علی متعمداً فلتيبوأ مقعده من النار» (مسند احمد: ۱؍۱۶۵)

''جو شخص میرا نام لے کر قصداً جھوٹی بات میری طرف منسوب کرے، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے۔''

2۔ ابو سعید خدری کہتے ہیں ، حضور کریم ﷺ نے فرمایا:

«حدثوا عني ولا حرج و من کذب علی متعمداً فليتبوأ مقعده من النار»

''میری باتیں روایت کرو، اس میں حرج نہیں ہے مگر میری طرف جو جان بوجھ کر جھوٹی بات منسوب کرے گا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے گا۔'' (مسند احمد: ۲؍۱۵۹)

3۔حضرت جابربن عبد اللہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا:

«اتقوالحديث عني إلا ما علمتم فمن کذب متعمداً فليتبوا مقعده من النار»(۱۴)

''میری طرف سے ا س وقت تک کوئی بات بیان نہ کرو۔ جب تک تمہیں یہ علم نہ ہو کہ میں نے وہ کہی ہے کیونکہ جو کوئی میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے گا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے۔''

اس حدیث کو عبداللہ بن مسعود اور ابن عباس نے بھی بیان کیا ہے۔

حضرت علیؓ نے فرمایا کہ جب میں تم کورسول اللہﷺ کی کوئی حدیث سناؤں تو مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ آسمان سے گر جاؤں اس سے کہ میں آنحضرت ﷺ پر جھوٹ باندھوں۔ آپ کے الفاظ ہیں :

«إذا حدثتکم عن رسول الله لأن أخر من السماء أحب إلی من أن أکذب عليه»(۱۵)

صحابہ کے لئے یہ وعید بڑی زبردست بات تھی۔ اسلام پر یقین رکھنا اور دوزخ سے نہ ڈرنا دو متضاد باتیں تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضور ﷺ نے حکمت ِپیغمبرانہ کے تحت حدیث کی نشرواشاعت کی تلقین اور ان میں جھوٹ کی آمیزش سے احتراز کی سخت تاکید فرمائی۔ یہ اس با ت کا بین ثبوت ہے کہ حضور ﷺ اپنی سنت کو ہر طرح سے محفوظ رکھنا چاہتے تھے تاکہ آنے والی نسلیں اس سے استفادہ کرسکیں۔

(2) عظمت ِ رسول ﷺ

صحابہ آنحضورؐ کو اللہ کا نبی اور سب سے عظیم انسان تصور کرتے تھے۔ اور اس بات پر وہ دل کی گہرائیوں سے یقین رکھتے تھے۔ ان کے نزدیک آپ کی تعلیمات، ارشادات اور حالات و واقعات کی حیثیت عام انسانی وقائع کی نہ تھی کہ وہ ان کو معمولی حافظے کے سپرد کردیتے۔ ان کے لئے تو آپ کی معیت میں گزرا ہوا ایک ایک لمحہ سب سے زیادہ قیمتی تھا اور اس کی یاد کو وہ اپنا سب سے قیمتی سرمایہ سمجھتے تھے۔ اسی بنا پر حضرت عمرؓ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ابوبکرؓ میری ساری عمر کی نیکیاں لے کر غارِ ثور کی ایک رات کی نیکیاں مجھے دے دے۔

(3) علم صحیح

حزم و احتیاط کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ حضور ﷺ نے جو علم صحابہ کو دیا تھا، وہ حقائق پر مبنی تھا۔ اس کا اعتراف صحابہ خود کرتے تھے۔ حضرت جعفر طیار نے نجاشی کے سامنے جو حقیقت واضح کی وہ اس کا بین ثبوت ہے کہ ہم اس سے پہلے جاہل اور گمراہ تھے، اب حضور ﷺ ہم کو پاکیزہ ترین اور صحیح علم دے رہے ہیں۔ انہوں نے ہم کو جینا سکھایا ہے۔ اسی لئے صحابہ پوری توجہ سے آپ کی ہر بات کو سنتے تھے، ہر فعل کو دیکھتے تھے کیونکہ عملی زندگی میں عملاً اسی کا نقش پیوست کرنا تھا اور اس کی رہنمائی میں کرنا تھا۔

(4) ذمہ داری کااحساس

صحابہ کو یہ بھی احساس تھا اور وہ یہ ذمہ داری محسوس کرتے تھے کہ بعد میں آنے والوں کو حضور ﷺ کے حالات اور تعلیمات بالکل صحیح صورت میں پہنچائیں اور اس میں کسی قسم کی آمیزش نہ کریں۔

حضور کی وعید کے بعد تو صحابہ اور محتاط ہوگئے تھے کہ اپنی طرف سے تغیر و تبدیلی کوئی معمولی جرم نہیں بلکہ وہ اسے عظیم خیانت تصور کرتے تھے۔ دین کو امانت سمجھ کر انہوں نے آگے منتقل کیا۔

(5)اکابر صحابہ کی تلقین

حضور پاک ﷺ کی تلقین کے علاوہ اکابر صحابہؓ بھی عام صحابہؓ کو احادیث روایت کرنے میں احتیاط کی تلقین کرتے تھے، اس معاملے میں سہل انگاری برتنے سے شدت کے ساتھ روکتے تھے۔ بعض اوقات حضورؐ کا ارشاد سن کر شہادتیں طلب کرتے تھے اور اطمینان کے لئے امتحان بھی لیتے مثلاً ایک مرتبہ حضرت عائشہؓ کو حج کے موقع پر عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے ایک حدیث پہنچی، دوسرے سال حضرت عائشہؓ نے حج کے موقع پر ہی یہی حدیث عبداللہ کو سنانے کے لئے کہا۔ دونوں مرتبہ حضرت عبداللہؓ کے بیان میں سرمو فرق نہ پایا گیا۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے میت کی دادی کو میراث ۶؍۱ حصہ اس وقت دیا جب مغیرہ بن شعبہؓ اور محمد بن سلمہؓ نے شہادت دی۔ ابو موسیٰ اشعریؓ نے جب اِذن طلب کرنے کے بارے میں حضرت عمرؓ کو حدیث سنائی تو آپ نے ان کو ڈانٹا اور کہا کہ اگر تم اس کی شہادت پیش نہ کرسکے تو میں تمہیں سزا دوں گا۔

(6)ماحول کا اثر

حضور ﷺ کی تعلیمات سے اسلامی ریاست کی فضا ایسی بن گئی تھی کہ تمام صحابہ پر آپ ﷺ کے اسوۂ کی ایک گہری چھاپ نظر آتی تھی۔ روایات محض زبانی ہی نہ تھیں بلکہ اسوۂ حسنہ کے آثار و نقوش ہر طرف نظر آتے تھے۔ جس بنا پر حافظہ کی غلطی سے یا اپنے ذاتی خیالات و تعصبات کی بنا پر کوئی نرالی بات پیش کرنا بھی محال تھا۔ صحابہ کے دور میں کوئی ایسی نظیر نہیں ملتی کہ غلط طور پر آپ کی طرف کوئی چیز منسوب کی گئی ہو۔

(7)تقویٰ اور خوفِ الٰہی

حضور ﷺ کی سیرت کی صحابہ کی انفرادی زندگیوں پر بڑی گہری چھاپ تھی۔ یہ سابقون الأولون کی جماعت تقویٰ کے اس مقام پر فائز تھی کہ حدیث کی روایت میں سہل انگاری کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ تقویٰ اور خوفِ الٰہی کی بنیاد پر روایات جو ایک دوسرے کو منتقل ہوتی تھیں، ان میں سرمو فرق نہ پایا جاتا تھا۔

(8)خوشنودیٔ رسول ﷺ

حفظ ِحدیث اور اس کی تبلیغ حضور ﷺ کی رضا اور منشائے قلبی تھا۔ حضور ﷺ کی رضا اور خوشنودی حیاتِ صحابہ کا عظیم سرمایہ تھا۔ صحابہ خوب جانتے تھے کہ اللہ کے رسول ﷺ کو راضی رکھنا حفظ ِایمان کے لئے ضروری ہے۔ ایک واقعہ سے اندازہ لگائیں کہ ہجرت کے بعد ایک شخص نے ایک پرتکلف مکان بنایا اور اسے چونا گچ کردیا۔ حضور ﷺ کا اِدھر سے گزر ہوا تو فرمایا یہ کس کا مکان ہے؟گویا آپ ﷺ نے ناپسند فرمایا تو جب صحابی کومعلوم ہوا کہ حضور ﷺ نے اس طرح فرمایا ہے تو اس نے اس مکان کو منہدم کردیا اور حضور ﷺ کی خدمت میں آکر اس کی خبر دی۔

ثمامہ بن اثال جب مسلمان ہوا تو اس نے یمن جاکر اہل مکہ کا غلہ بند کردیا اور کہا کہ جب تک اِذن رسول ﷺ نہ ہوگا، غلہ بند رہے گا۔ بعد میں رسول اللہ ﷺ نے از راہِ عنایت اجازت دے دی۔ حضرت عمرؓ کے تورات کی ورق گردانی پر جب ابوبکرؓ نے توجہ دلائی تو حضرت عمرؓ نے فرمایا:

«رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا و بمحمد نبيًا» ''میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے پر اور محمدﷺکے نبی ہونے پر راضی ہوں۔''

صحابہؓ یہ سمجھتے اور اچھی طرح جانتے تھے کہ خدا کے رسول کی رضا میں خدا کی رضا ہے۔ خوشنودی رسول ﷺ کے لئے حفظ ِحدیث میں احتیاط سے کام لیا جاتا تھا۔

کیا مکتوبہ چیز ہی قابل اعتماد ہے...؟

یہ بات کہی جاتی ہے کہ چونکہ حدیث لکھی ہوئی نہ تھی، عہد ِرسالت میں صرف حافظہ کی مدد سے ہی اس کو محفوظ رکھا جاتا تھا یا حدیث عہد ِرسالت یا عہد ِخلافت میں لکھوائی نہیں گئی تھی، اس لئے حجت نہیں۔ سید مودودی نے اس کا جواب تفصیل سے دیا ہے، ہم ان کی کتاب سے اقتباس پیش کرتے ہیں:

''قرآن کو جس و جہ سے لکھوایا گیا تھا وہ یہ تھی کہ اس کے الفاظ و معانی دونوں ہی من جانب اللہ تھے۔ اس کے الفاظ کی ترتیب ہی نہیں اس کی آیتوں، سورتوں کی ترتیب بھی خدا کی جانب سے تھی۔ اس کے الفاظ کو دوسرے الفاظ سے بدلنا بھی جائز نہ تھا۔ وہ اس لئے نازل ہوا تھا کہ لوگ انہی الفاظ میں اسی ترتیب کے ساتھ اس کی تلاوت کریں۔ سنت کی نوعیت اس سے مختلف تھی۔ اس کے الفاظ قرآن کے الفاظ کی طرح بذریعہ وحی نازل نہیں ہوئے تھے بلکہ حضور ﷺ نے اس کو اپنی زبان سے ادا کیا تھا۔پھر اس کا بڑا حصہ ایسا تھا جسے حضورؐ کے ہم عصروں نے اپنے الفاظ میں بیان کیا تھا۔ مثلاً حضور ﷺ کے اخلاق ایسے تھے، زندگی ایسی تھی، فلاں موقع پر حضور ﷺ نے فلاں کام کیا، حضور ﷺ کے اقوال، تقریریں نقل کرنے میں کوئی پابندی نہ تھی کہ انہیں سامعین لفظ بلفظ نقل کریں۔ بلکہ اہل زبان سامعین کے لئے یہ جائز تھا اور وہ اس پر قادر بھی تھے کہ آپ کی بات سن کر معنی و مفہوم بدلے بغیر اسے اپنے الفاظ میں بیان کردیں۔

حضور کے الفاظ کی تلاوت مقصود نہ تھی بلکہ اس تعلیم کی پیروی مقصود تھی جو آپ نے دی تھی۔ احادیث میں قرآن کی آیتوں اور سورتوں کی طرح یہ ترتیب محفوظ رکھنا بھی ضروری نہ تھا کہ فلاں حدیث پہلے ہو اور فلاں بعدمیں، اس بنا پر احادیث کے معاملہ میں یہ کافی تھا کہ لوگ انہیں یاد رکھیں اور دیانت کے ساتھ انہیں لوگوں تک پہنچائیں۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ کسی چیز کے حجت ہونے کے لئے اس کا لکھا ہوا ہونا ضروری نہیں ہے ۔ اعتماد کی اصل بنیاد اس شخص یا اشخاص کابھروسہ کے قابل ہونا ہے، جس کے ذریعہ بات دوسروں تک پہنچے خواہ مکتوب ہو یا غیر مکتوب۔ خود قرآن اللہ تعالیٰ نے آسمان سے لکھوا کر نہیں بھیجا بلکہ نبی کی زبان سے اس کو بندوں تک پہنچایا۔ اللہ تعالیٰ نے بھی پورا انحصار اس بات پر کیا کہ جو لوگ نبی کو سچ مانیں گے وہ نبی کے اعتماد پرقرآن کو بھی کلام الٰہی مان لیں گے۔

نبی کریمﷺکی جتنی تبلیغ و اشاعت تھی، زبانی تھی۔ آپ کے صحابہؓ مختلف علاقوں میں جاکر تبلیغ کرتے۔ وہ قرآن کی سورتیں لکھی ہوئی نہ لے جاتے تھے۔ لکھی ہوئی آیات اور سورتیں تو اس تھیلے میں پڑی رہتی تھیں جس کے اندر آپ انہیں کاتبانِ وحی سے لکھوا کر ڈال دیا کرتے تھے۔ باقی ساری تبلیغ واشاعت زبانی ہوتی تھی۔

ایمان لانے والے، صحابہ کے اعتماد پر تسلیم کرتے تھے کہ جو کچھ وہ سنا رہا ہے، وہ اللہ کا کلام ہے یارسول اللہ ﷺ کا حکم۔ اور جو حکم وہ پہنچا رہا ہے وہ حضور ﷺ ہی کا حکم ہے۔

تیسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ لکھی ہوئی چیز خود کبھی قابل اعتماد نہیں ہوتی جب تک زندہ انسانوں کی شہادت اس کی توثیق نہ کرے۔ محض لکھی ہوئی چیز اگر ہمیں ملے اور ہم لکھنے والے کا خط نہ پہچانتے ہوں یا لکھنے والاخود نہ بتائے۔ یہ اس کی تحریر ہے یا ایسے شواہد موجود نہ ہوں جو اس امر کی تصدیق کریں کہ یہ تحریر اسی شخص کی ہے جس کی طرف منسوب کی گئی ہے تو ہمارے لئے وہ تحریر یقینی کیا معنی، ظنی بھی نہیں ہوسکتی۔'' (۱۶)

اس طویل اقتباس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ کسی چیزکا لکھا ہوا ہونا ہی حجت نہیں جب تک زندہ انسانوں کی شہادت موجود نہ ہو۔ قرآن حضور ﷺ کو تحریری صورت٭ میں نہ دیا گیا تھا۔ جبریل علیہ السلام زبانی ہی وحی لاتے تھے اور حضور ﷺ بھی زبانی ہی صحابہ کو بتاتے تھے۔ آج بھی قرآن اس لئے حجت نہیں کہ یہ لکھا ہوا ہمارے پاس موجود ہے بلکہ زندہ انسانوں کی شہادت ہے جو مسلسل اس کو سنتے اور آگے بعد میں آنے والوں تک اسے پہنچاتے چلے آرہے ہیں۔ اگر قرآن کے سلسلہ میں زندہ انسانوں کی شہادت حجت ہے تو سنت ِرسول ﷺ کے بارے میں حجت کیوں نہیں۔


حوالہ جات

۱) مجمع الزوائد جلد۱ صفحہ ۱۶۱ بحوالہ حفاظت حدیث از خالد علوی، ص۱۱۱

۲) صبحی صالح، ڈاکٹر، علوم الحدیث، ص۳۹

۳) القرآن

۴) خالدعلوی، حفاظت حدیث، ص ۵۹

۵) جامع بیان العلم ، جلد۱ صفحہ ۹۸ بحوالہ حفاظت حدیث از خالد علوی، ص۵۹

۶) بخاری، الجامع الصحیح۔کتاب العلم

۷) ابوداؤد، کتاب العلم

۸) بخاری، الجامع الصحیح

۹) بخاری، جلد۳، ص ۴۵، حدیث نمبر ۱۰۴

۱۰) بخاری، کتاب العلم، جلد۱ ، ص ۲۲

۱۱) خالد علوی، حفاظت حدیث، ص۱۲۰

۱۲) دارمی، مذاکرۃ العلم، جلد۱، ص۱۵۰

۱۳) دارمی، مذاکرۃ العلم، جلد۱ ، ص۱۵۰... (۲) سید منت اللہ رحمانی: کتابت ِحدیث، ص۳۰

۱۴) مشکوٰۃ کتاب العلم ، جلد۱ ، ص۷۹

۱۵) مسند احمد، جلد۲، ص۴۵

۱۶) مودودی سید ابوالاعلیٰ، منصب رسالت نمبر، ص۳۳۸