263-Aug-Sep-2002

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

(مختصر تحقیقی جائزہ)
حدیث ِنبوی کے بارے میں عموماً یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ احادیث تو نبی اکرمﷺکے ڈیڑھ صدی بعد لکھی گئی ہیں، اس لئے ان میں غلطی کے امکانات بہت زیادہ ہیں لہٰذا احادیث سے استدلال کرنے اور اس کو ماخذ ِدین سمجھنے سے گریز کرنا چاہئے۔حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے شبہات پیدا کرکے حدیث ِنبوی کو مشکوک بنانے کی جسارت کرنے والے لوگ احکامِ دین سے ہی جان چھڑا کردین میں من مانی تاویلات کا دروازہ کھولنا چاہتے ہیں۔آج تک مسلمانوں کا یہ متفقہ موقف چلا آتا ہے کہ حدیث ِنبوی، قرآن کے ساتھ دین کا اہم ترین ماخذ ہے۔ ہمارے اس خطے کی بدقسمتی ہے کہ یہ چند دہائیوںسے تواتر سے حدیث پر اعتراضات کرنے والوں کی زد میں ہے اور جدید تعلیمافتہ ذہنوں میں حدیث کے بارے میں بہت سے شکوک وشبہات کو جنم دے کر دین سے انحراف کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔

زیر نظر مضمون میں محترم مقالہ نگار نے بڑے مختصر انداز میں دور ِنبوی میں کتابت ِحدیث کے موضوع پر دادِ تحقیق دی ہے جس سے کم از کم اس اعتراض کی حقیقت کھلتی ہے کہ ''احادیث عہد ِنبوی سے ڈیڑھ صدی بعد کی پیداوارہیں۔'' اپنے اختصار کی وجہ سے یہ مضمون مکتوب احادیث کی ایک فہرست ہی ہے۔ اس موضوع پر مزید مباحث اور اٹھائے گئے اعتراضات کے تفصیلی وتحقیقی تجزیہ کے لئے محدث کے گذشتہ شمارہ جات میں بکثرت مضامین موجود ہیں۔مثال کے طور پر شمارہ ۳۲؍۵ میں 'صحیح بخاری کے تحریری مآخذ' از ڈاکٹر خالد ظفر اللہ اورشمارہ ۱۴؍۴،۵ میں 'احادیث کی کتابت اور عدمِ کتابت کے نبویؐ فرامین میں تطبیق' پر ڈاکٹر عبد الرء وف ظفر کا ۲؍ اقساط میں گرانقدر مقالہ وغیرہ قابل مطالعہ ہیں۔مزید تفصیل کے خواہشمند قارئین محدث کے محولہ بالا شمارہ جات اور دیگر مضامین کی طرف رجوع کریں۔ (حسن مدنی)

اسلام علاج ہے انسانی زندگی کی تمام احتیاجات کا۔ اسلام کے معنی ہیں پورے طور پر اپنے آپ کواللہ کے سپرد کر دینا۔ اسلام نام ہے اللہ تعالیٰ کے ارشادات اورخاتم النّبیین ﷺ کے اسوۂ حسنہ کا یا یوں کہیے کہ اسلام قرآن وسنت کے مجموعے کو کہتے ہیں ۔ آنحضرت ﷺ نے دین حق کے لیے مخلص مؤمنوں کی ایک جماعت تیار کی تھی جس نے اسلام کو سمجھا، اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالا اور اسے آئندہ نسلوں تک پہنچانے کا اہتمام کیا ۔نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام ؓ نے نہ صرف قرآنِ مجید ہی کی دل وجان سے حفاظت کی بلکہ سنت ِرسول کی بھی حفاظت کا حق ادا کر دیا۔ اسی لیے حفاظت ِحدیث کا اہتمام عہد ِنبوی ؐ ہی میں شروع ہو چکا تھا۔کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ اور آپ کی ذات سے صادر شدہ احکام وافعال کو محفوظ کرنا دینی فریضہ بن گیا تھا ۔ صحابہ کرام ؓ کی جماعت آپ کے ان ارشادات کی اَمین تھی۔ حفاظت ِحدیث کے لیے صرف حفظ کا طریقہ ہی اختیار نہ کیاگیا بلکہ احادیث کے لکھنے کابھی اہتما م کیا گیا ہے ۔ نبی کریم ﷺ کے عہد کامکتوب ذخیرہ محفوظ ہے اور عقل عام رکھنے والا آدمی اندازہ کر سکتا ہے کہ عہد ِنبوی میں کتابت حدیث کا باقاعدہ اہتمام تھا۔ (ا)

احادیث کے حفظ وروایت کی تاکید

احادیث کے حفظ وروایت کی تاکید مندرجہ ذیل احادیث سے ثابت ہوتی ہے :

1. نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «حدّثوا عني» ''مجھ سے حدیث بیان کرو '' (۲)

2. حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا

«بلّغواعني ولوآية» میری طرف سے (لوگوں کو میرا پیام) پہنچاؤ خواہ ایک ہی آیت ہو (۳)

3. حضرت ابو بکر صدیق ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا

«ليبلّغ الشاهد الغائب فإن الشاهد عسی أن يبلغ من هو أوعی له منه»

''اور ضروری ہے کہ حاضر شخص غائب کو یہ حکم پہنچا دے کیونکہ ممکن ہے کہ جس شخص کو یہ حکم پہنچایا جائے وہ حاضرین سے زیادہ اس کو محفوظ کرنے والا ہو۔'' (۴)

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓفرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا :

«نضّر الله امرأ سمع منا شيئا فبلغه کما سمعه فربّ مبلَّغ أوعی من سامع»

''اللہ تعالیٰ اس شخص کے چہرے کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی چیز سنی اور پھر بالکل اسی طرح دوسروں تک پہنچا دی جس طرح سنی تھی، اس لیے کہ بہت سے ایسے لوگ جنہیں حدیث پہنچے گی وہ سننے والے سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوں گے ۔'' (۵)

گیارہ ہزار صحابہ کرام ؓ ایسے ہیں جن کے نام ونشان آج تحریری صورت میں موجود ہیں ۔ جن میں سے ہر ایک نے کم وبیش آنحضرت ﷺ کے اقوال وافعال وواقعات میں سے کچھ نہ کچھ حصہ دوسروں تک پہنچایا ہے یعنی جنہوں نے روایت ِحدیث کی خدمت انجام دی ہے ۔ (۶)

صحابہ کرام ؓکا اہتمامِ سماعت ؛ حفظ وکتابت ِحدیث

حضرت عمر ؓ کہتے ہیں کہ ''میں اور میرا ایک انصاری ہمسایہ قبیلہ بنو اُمیہ بن زید میں رہتے تھے اور یہ قبیلہ مدینہ کے باہرپورب (مشرق)کی طرف رہتاتھا ۔ہم دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں باری باری حاضر ہوتے، ایک روزوہ جاتا تھا اور ایک روز میں ۔ میں جب جاتا تھا تو اس دن کی وحی وغیرہ سے متعلق خبریں اس انصاری کو بتا دیتا اور جس دن وہ جاتا، وہ بھی یوں ہی کرتا تھا۔'' (۷)

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ جب ہم نبی کریم ﷺ سے احادیث سن کر آتے تو مل کر دہرایا کرتے حتیٰ کہ وہ اَ زبر ہو جاتیں۔ (۸)

حضرت ابو سعید ؓ خدری فرماتے ہیں کہ ہم حضور ؐ کے گرد بیٹھے ہوئے حدیث سنتے اور لکھتے تھے۔ (۹)

حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضور کے صحا بہ ؓ میں کوئی شخص ایسا نہ تھا جس کو مجھ سے زائد حدیثیں یاد ہوں، ہاں عبد اللہ بن عمرو ؓکو (حدیثیں مجھ سے زائد یاد تھیں) کیونکہ وہ لکھ لیتے تھے اورمیں لکھتا نہ تھا۔ (۱۰)

حضرت سُلَمِی فرماتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن عباسؓ کو دیکھا کہ لکھنے کی تختیاں ان کے پاس تھیں، ان پر وہ ابو رافع سے رسول اللہ ﷺ کے کچھ افعال لکھ کر نقل کررہے ہیں۔ (۱۱)

کتابت ِحدیث کے لیے احکامِ نبوی ﷺ

1. حضرت عبد اللہ بن عمروؓ فرماتے ہیں کہ میں رسو ل اللہ ﷺ کی خدمت میںحاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ کی احادیث روایت کروں۔ میرا اِرادہ ہے کہ میں دل کے ساتھ ہاتھ سے لکھنے کی مدد بھی لوں ،اگر آپ پسند فرمائیں تورسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إن کان حديثي ثم استعن بيدك مع قلبك » (۱۲)

''اگر میری حدیث ہو تو اپنے دل کے ساتھ اپنے ہاتھ سے بھی مدد لو۔''

2. حضر ت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری آنحضرت ﷺ کی مسجد میں بیٹھا کرتے اوراحادیث سنتے تھے۔وہ انہیں بہت پسند آتیں لیکن یاد نہیں رہتی تھیں، چنانچہ انہوں نے آپ سے شکایت کی کہ یا رسول اللہ! میں آپ سے حدیثیں سنتا ہوں لیکن مجھے یاد نہیں رہتیں، آپ نے فرمایا :

«استعن بيمينك وأومأ بيده الخط» (۱۳)

''اپنے دائیں ہاتھ سے مدد حاصل کرو اور آپ نے اپنے ہاتھ سے لکھنے کا اشارہ کیا ۔''

3. حضرت رافع ؓ بن خدیج فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ ہم آپ سے بہت سی باتیں سنتے ہیں کیا ہم انہیں لکھ لیا کریں ...آپ نے فرمایا : «اکتبوا ولاحرج» ''لکھ لیا کرو کوئی حرج نہیں '' (۱۴)

4. حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ایک مرتبہ خطبہ دیا ۔ یہ سن کر ایک یمنی شخص (ابوشاہ) نے حاضر ہو کر عرض کیا، یا رسول اللہ! یہ ( سب احکام) مجھے لکھ دیجئے۔ آ پ نے فرمایا:

«اکتبوا لأبي فلان» ''ابو فلاں کو لکھ دو '' (۱۵) اور ترمذی کی رو ایت میں ہے کہ

«اکتبوا لأبي شاه» ''ابو شاہ کولکھ دو '' (۱۶)

5. حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں کہ میں رسو ل اللہ ﷺ کی زبان سے جو لفظ سنتا تھا اسے یاد کرنے کے لیے لکھ لیا کرتا تھا۔ پھر قریش نے مجھے لکھنے سے منع کیا اورکہا تم ہر بات لکھ لیتے ہو حالانکہ رسول اللہ بشر ہیں ۔ غصے اورخوشی دونوں حالتوں میں باتیں کرتے ہیں یہ سن کر میں نے لکھنا چھوڑ دیا پھر میں نے رسو ل اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا۔ آپ نے انگلی سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیااورفرمایا:

«اُکتب فوالذي نفسي بيده ما يخرج منه إلا حق» (۱۷)

''قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میر ی جان ہے، ان دونوں ہونٹوں کے درمیان (زبان ) سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا، اس لیے تم لکھا کرو۔''

6 حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بن العاص کا بیان ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا:

« قيّدوا العلم قلت وما تقييده ؟ قال کتابته» (۱۸)

''علم کو قید کرو ...میں نے پوچھا :علم کی قید کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا :اسے لکھنا...''

7. حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ :

«قيِّدوا العِلمَ بالکتاب» ''علم کو لکھ کر محفوظ کر لو'' (۱۹)

علم سے مراد علم حدیث ہے اسلئے کہ اَسلاف کے ہاں یہ لفظ رائے کے مقابلے میں استعمال ہوتا ہے۔

8. نبی کریم ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو رافع ؓنے بھی احادیث لکھنے کی اجازت مانگی تو آپ نے اجازت مرحمت فرمائی۔ (۲۰)

عہد ِنبویؐ میں لکھی گئی احادیث اوران کے مجموعے

(1) حضرت رافع ؓ بن خدیج سے روایت ہے کہ مدینہ ایک حرم ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے حرم قراردیا ہے اوریہ ہمارے پاس ایک خولانی چمڑے پر لکھا ہوا ہے ۔ (۲۱)

(2) رسول اللہ ﷺ کی تلوار کے قبضے میں سے ایک کاغذ ملا جس میں لکھا تھا کہ ''اندھے کو رستے سے بھٹکانے والا ملعون ہے ، زمین کا چو ر ملعون ہے ، احسان فراموش ملعون ہے '' (۲۲)

(3) کتاب الصدقۃ: حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے کتاب زکوۃ لکھوائی لیکن ابھی اپنے عمال کو بھیج نہ پائے تھے کہ آپ کی وفات ہو گئی ۔ آپ نے اسے اپنی تلوار کے پاس رکھ دیا تھا۔ آپ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر نے اپنی وفات تک اس پر عمل کیا پھر حضرت عمرؓ نے اپنی وفات تک ۔ (۲۳)

(4) صحیفہ صادقہ: حضرت عبد اللہ بن عمرو نے نبی کریم ﷺ کی احادیث سے ایک صحیفہ مرتب کیا جسے 'صحیفہ صادقہ' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔حضرت عبد اللہ بن عمرو کا بیان ہے کہ''صادِقہ ایک صحیفہ ہے جومیں نے رسول اللہ ﷺ سے سن کر لکھا ہے ۔'' (۲۴)

(5) صحیفہ علی : حضرت علی نے فرمایا کہ ہمارے پاس کچھ نہیں ، سوائے کتاب اللہ کے اور اس صحیفہ کے جو نبی ﷺ سے منقول ہے (۲۵)...صحیح بخار ی کی دوسری روایت کے مطابق اس صحیفہ میں دیت اور قیدیوں کے چھڑانے کے احکام ہیں اور یہ حکم کہ کافر، حربی کے (قتل کے ) عوض مسلمان کو نہ مارا جائے۔ (۲۶)

(6) حضرت اَنس ؓ کی تالیفات : حضرت انس ؓ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں دس برس رہے۔ آپ نے عہد ِرسالت ہی میں احادیث کے کئی مجموعے لکھ کر تیا ر کر لیے تھے ۔ ان کے شاگرد سعید بن ہلال فرماتے ہیں کہ ہم جب حضرت انس سے زیادہ اصرار کرتے تو وہ ہمیں اپنے پاس سے بیاض نکال کر دکھاتے اورکہتے کہ ''یہ وہ احادیث ہیں جو میں نے نبی ﷺ سے سنتے ہی لکھ لی تھیں اورپڑھ کر بھی سنا دی تھیں'' (۲۷)

(7) صحیفہ عمر و بن حزمؓ : ۱۰ھ میں جب یمن کا علاقہ نجران فتح ہوا تو رسو ل اللہ ﷺ نے عمرو بن حزم کویمن کا عامل بنا کر بھیجا توانہیںایک عہد نامہ تحریر فرما دیا جس میں آپ نے شرائع وفرائض وحدود ِاسلام کی تعلیم دی تھی۔ (۲۸)

(8) قبیلہ جُہینہ کے نام تحریر : عبد اللہ بن عکیم روایت کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ کی ایک تحریر (ہمارے قبیلہ جہینہ ) کو پہنچی ۔ (۲۹)

(9) اہل جرش کے نام خط: نبی کریم ﷺ نے ایک نامہ مبارک اہل جرش کو بھیجا تھاـ جس میں کھجور اور کشمش کی مخلوط نبیذ کے متعلق حکم بیان فرمایا گیا تھا ۔ (۳۰)

(10) حضرت معاذ ؓ نے یمن سے آنحضرت ﷺ سے لکھ کر دریافت کیا کہ کیا سبزیوں میں زکوٰۃ ہے ؟ آپ نے تحریری جواب دیا کہ سبزیوں پر زکوٰۃنہیں ۔ (۳۱)

(11) عہد ِنبویؐ کے خطوط : عالم اسلام کے نامور مؤرخ ڈاکٹر حمید اللہؒ کا بیان ہے کہ عہد ِنبوی کے کوئی پونے تین سو مکتوب یکجا کیے جاچکے ہیں ۔ (۳۲)

(12) تبلیغی خطوط : صلح حدیبیہ کے بعد آپ نے دنیا کے چھ مشہور حکمرانوں کے نام تبلیغی خطوط روانہ فرمائے اور ان پر اپنی مہر بطورِ دستخط ثبت فرمائی۔ (۲۳)...قیصرو کسریٰ وغیرہ کے نام خطوط کا ذکر صحیح بخاری میں بھی موجود ہے اور خط پر مہر لگانے کیلئے چاندی کی انگوٹھی تیار کرنے کا ذکر بھی موجود ہے ۔ (۳۴)

(13) نومسلم وفود کے لیے صحائف: جب حضرت وائل بن حجر نے (مدینہ سے ) اپنے وطن لوٹنے کے ارادے پر رسول اللہﷺ کے حضور عرض کیا ''یا رسول اللہ !میری قوم پر میری سیادت کا فرمان لکھو ا دیجئے '' رسو ل اللہ ﷺ نے حضرت معاویہ ؓ سے تین ایسے فرمان لکھو ا کر وائل کے سپرد فرمائے (۳۵)... آپ نے مندرجہ ذیل وفود کو بھی اسلامی احکام پر مشتمل صحیفے الگ الگ لکھوا کر عنایت فرمائے : وفد قبیلہ خثعم، وفد الریاویّین ، وفد ثمالة والجدان۔ (۳۶)

(14) ایک مرتبہ کسی لشکر کے سردار کو حضور نے ایک خط دیا اور فرما دیا کہ جب تک توفلاں فلاں مقام پر نہ پہنچ جائے اس کو نہ پڑھنا، وہ سردا ر جب مقامِ مقررہ پر پہنچا تولوگوں کے سامنے حضور کاخط پڑھا اورسب کو اس کی اطلاع کر دی۔ (۳۷)

(15) تحریری معاہدے : ہجرت کے فوراً بعد مختلف قبائل عرب اور دوسری اَقوام سے آپ کے معاہدات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھاـ۔ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے ''الوثائق السیاسیۃ'' میں ایسے تحریری معاہدات کی بہت بڑی تعداد جمع کر دی ہے ۔''دستور ِمملکت '' جو ہجرت کے صرف پانچ ماہ بعد آپ نے نافذ فرمایا تھا، وہ بھی معاہدات ہی کے سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ (۳۸)اسی طرح چھ ہجری میںصلح حدیبیہ کامعاہدہ تحریر کیاگیا ۔ (۳۹) اس معاہدے کو حضرت علی ؓ نے تحریر فرمایا تھا۔ اس کی ایک نقل قریش نے لے لی اورایک آنحضرت ﷺ نے اپنے پاس رکھی ۔ (۴۰)

(16) جاگیروں کے ملکیت نامے : رسول اللہ ﷺ نے بہت سے لوگوں کوجاگیریں عطا فرمائیں اوران کے ملکیت نامے بھی تحریر کروا کے دئیے ۔ مثلاً حضرت زبیر بن العوام ؓ کو ایک بڑی جاگیر عطا فرماتے وقت یہ دستاویز لکھوا کر دی:

''یہ دستاویز محمد رسول اللہ ﷺ نے زبیر کو دی ہے ان کو سوارق پورا کاپورا بالائی حصے تک موضع مُورع سے موضع موقت تک دیا ہے، اس کے مقابلے میں کوئی اپنا حق اس میں نہ جتائے ۔'' (۴۱)

(17) اَمان نامے : آپ نے بہت سے افراد اور خاندانوں کو امان نامے لکھوا کر عطا فرمائے ۔ ان کا ذکر طبقات ِابن سعد میں بھی ملتا ہے اورالبدایہ والنہایہ میں ہے کہ آپ نے حضرت ابو بکر صدیق کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ سے ایک چمڑے کے ٹکڑے پر اَمان نامہ سراقہ بن مالک کو لکھوا دیا۔

(18) بیع نامے : رسو ل اللہ ﷺ قیمتی اشیاء کی خرید وفروخت کے وقت ان کی دستاویز بھی لکھوایا کرتے تھے ۔عبد المجید بن وہب روایت کرتے ہیں کہ

''عداء بن خالد بن ہوذہ نے ان سے کہا: کیا میں تمہیں ایسی تحریر نہ پڑھاؤں جو رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے تحریر کرائی تھی ۔انہوں نے کہا:کیوں نہیں ! اس پر انہوں نے ایک تحریر نکالی ،اس میں لکھا تھا: یہ اقرار نامہ ہے کہ عداء بن خالد بن ہوذہ نے محمد رسول اللہ ﷺ سے خریداری کی ...'' (۴۲)

حوالہ جات

(۱) حفاظت ِحدیث ، ڈاکٹر خالد علوی ؍۵ ص ۵۶ تا ۶۵

(۲) مسلم ،الجامع الصحیح، کتاب الزہد ج۶ ص ۵۰۱

(۳) کتا ب العلم ،بخاری، کتاب الانبیاء ،باب ما ذکر عن بنی اسرائیل ج ۲ ص ۶۹۲

(۴) الجامع الصحیح ، از بخاری ، کتاب العلم ج ۱ ص ۱۳۵

(۵) جامع ترمذی از محمد بن عیسیٰ ترمذی ج ۲ ص ۱۲۵

(۶) خطبات ِمدراس از سید سلیمان ندوی ص ۴۴

(۷) الجامع الصحیح ، از بخاری کتاب المظالم ج ۲ ص ۱۴۵

(۸) الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع از خطیب بغدادی ج ۱ ص ۲۳۶

(۹) مجمع الزوائد از نور الدین ، الہیثمی ج ۱ ص ۱۶۱

(۱۰) الجامع الصحیح از بخاری کتاب العلم ج ۱ ص ۱۵۸

(۱۱) الطبقات الکبریٰ لابن سعد ج ۲ ص ۳۷۱

(۱۲) سنن الدارمی از عبد اللہ بن عبد الرحمن الدارمی ج ۱ ص۱۲۶

(۱۳) جامع ترمذی ج ۲ ص ۱۲۸

(۱۴) تدریب الراوی از حافظ جلال الدین سیوطی ؒ ص ۲۸۶

(۱۵) الجامع الصحیح از بخاری ؒ کتاب العلم ،ج ۱ ص ۱۵۷

(۱۶) جامع ترمذی ج ۲ ص ۱۲۸

(۱۷) سنن ابی دائود ج ۳ ص ۱۱۷

(۱۸) المستدرک از حاکم ج ۱ ص ۱۰۶

(۱۹) جامع بیان العلم از ابن عبد البر اندلسی ج ۱ ص ۷۲

(۲۰)مقدمہ صحیفہ ہمام بن منبّہ از ڈاکٹر محمد حمید اللہ ص ۳۳

(۲۱) الجامع الصحیح از مسلم ج ۳ ص ۳۸۴

(۲۲) جامع بیان العلم از ابن عبد البر اندلسی ج ۱ ص ۷۲

(۲۳) جامع ترمذی ج ۱ ص ۲۶۴

(۲۴) طبقات ابن سعد از ابن سعد ج ۲ ص ۴۰۸

(۲۵) الجامع الصحیح از بخاری ج ۲ ص ۴۴۶

(۲۶) الجامع الصحیح از بخاری ج ۱ ص ۱۵۷

(۲۷) المستدرک از حاکم ، ذکر انس بن مالک ، دائرۃ المعارف ، حیدر آباد، دکن

(۲۸) طبقا ت ابن سعداز ابن سعد ج ۲ ص ۳۹

(۲۹) مشکوٰۃ المصابیح از خطیب بغدادی ج ۱ ص ۱۶۵نسائی ج ۳ ص ۱۶۴

(۳۰) الجامع الصحیح لمسلم: ۵؍۲۴۰

(۳۱) خطبات ِمدراس از سید سلیمان ندوی ص۵۱

(۳۲)رسول اکرم ﷺ کی سیاسی زندگی از ڈاکٹر محمد حمید اللہ ص ۳۱۱

(۳۳)طبقات ابن سعد از ابن سعد ج ۲ ص۲۹

(۳۴) الجامع الصحیح للبخاری ج ۱ ص ۱۳۴

(۳۵) الوثائق السیاسیۃ از ڈاکٹر محمد حمید اللہ ص ۱۴۲ تا ۱۴۴

(۳۶) طبقا ت ابن سعد از ابن سعد ج ۲ ص ۱۲۱ تا ۱۳۰