263-Aug-Sep-2002

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی وحی کے مطابق حضور ﷺ نے آئندہ زمانے کے مختلف فتنوں اور حوادث کا ذکر فرمایا جس کی تفصیل مختلف احادیث میں موجودہے۔ انکارِ حدیث کے فتنے کے بارے میں بھی حضورِ اکرمرنے مطلع فرمادیا تھا جیسا کہ آپؐکے درج ذیل فرمان سے واضح ہے :

''لا ألفين أحدکم متکئا علی أريکته، يأتيه الأمر من أمري مما أمرت به أو نهيت عنه، فيقول: لا أدري، ما وجدنا في کتاب الله اتبعناه '' (۱)

''میں تم میں سے کسی کو ایسا کرتے نہ پائوں کہ وہ اپنی مسہری پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اورجب اس کے سامنے میرے احکامات میں سے کسی بات کا امر یا کسی چیز کی ممانعت آئے تو وہ کہنے لگے کہ میں کچھ نہیں جانتا ، ہم تو جوقرآن مجید میں پائیں گے، اسی کو مانیں گے۔ ''

حضورِ اکرم ﷺ کی پیشین گوئی حرف بحرف درست ثابت ہوئی۔ چنانچہ دوسری صدی ہجری اور تیرھویں صدی ہجری میں انکارِ حدیث کے فتنے اُٹھے۔ مؤخر الذکر فتنے کا مرکز برصغیر ہندوپاک ہے۔ یہاں کے منکرین حدیث میں سے بعض نے اپنے آپ کو علیٰ الاعلان 'اہل قرآن' بھی کہلوایا، جن میں زیادہ مشہور عبد اللہ چکڑالوی تھا۔ ان صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تخت پوش پر تکیہ لگا کر حدیث ِنبوی ﷺ کا انکار کیا کرتے تھے۔ حضورِ اکرم ﷺ کافرمان عبد اللہ چکڑالوی پر مکمل طور پر صادق آتاہے۔ اس کی انکارِ حدیث کی کیفیت کو مولانا صادق سیالکوٹی مرحوم ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :

''غور فرمایا آپ نے کہ حضور ﷺ کا فرمان کتنا حرف بحرف صحیح نکلا ہے بلکہ معجزہ ثابت ہوا ہے کہ عبد اللہ چکڑالوی نے 'اریکہ' یعنی تخت پو ش پر بیٹھ کر (پلنگ پر بیٹھ کر) تکیہ لگائے ہوئے کہا ہے« لاأدري ما وجدنا في کتاب اللہ اتبعناہ» ''میں نہیں جانتا حدیث کو، حدیث دین کی چیز نہیں ہے۔ میں تو صرف قرآن پر ہی چلوں گا۔ '' (۲)

فتنۂ انکار حدیث ،حضورِ اکرم ﷺ کے فرمان کا مصداق ہونے کے علاوہ حجیت ِحدیث کی دلیل اور اہل ایمان کے لئے حدیث پر مزید یقین کا سبب بھی بنا۔

خوارج اور معتزلہ کا انکارِ حدیث

پہلی صدی ہجری تک قرآن مجید کے ساتھ ساتھ احادیث ِنبوی ﷺ کو متفقہ طور پر حجت ِشرعی تسلیم کیا جاتارہا۔ انکارِ حدیث کے فتنہ کا آغاز سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں ہوا۔ اس فتنہ کی ابتدا کرنے والے خوارج اور معتزلہ تھے ۔ حافظ ابن حزم ؒ لکھتے ہیں کہ

''اہل سنت ،خوارج ،شیعہ ، قدریہ، تمام فرقے آں حضرت کی ان احادیث کو جو ثقہ راویوں سے منقول ہوں، برابر قابل حجت سمجھتے رہے ۔ یہاں تک کہ پہلی صدی کے بعد متکلمین معتزلہ آئے اور انہوں نے اس اجماع سے اختلاف کیا ۔ (۳)

محمد نجم الغنی 'معتزلہ' کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے ہیں :

''وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب حسن بصریؒ کو یہ خبر پہنچی کہ مسلمانوں میں ایک جماعت ایسی پیدا ہوئی ہے، جو کہتی ہے کہ مرتکب ِکبیرہ نہ بالکل مؤمن ہے اور نہ بالکل کافر ہے بلکہ وہ ایک منزل میں ہے، درمیان منزل ایمان وکفر کے۔ تو انہوں نے کہا : هؤلاء اعتزلوا یعنی یہ لوگ کنارہ کش ہو گئے اجماعِ اسلام سے ۔ تب وہ فرقہ 'معتزلہ' کہلانے لگا ...''(۴)

'خوارج' انکارِ حدیث کے فتنہ کے بانی ہیں۔ انہوں نے اپنے عقائد کی بنیاد ہی اس بات پر رکھی کہ وہ اس چیزکو اختیار کریں گے جو قرآن سے ملے گی۔ مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی خوارج کے اعتقادات بیان کرتے ہوئے 'خوارج اور انکار ِحدیث ' کے عنوان سے لکھتے ہیں :

''انکارِ حدیث کے فتنہ کی بنیاد سب سے پہلے خوارج نے رکھی۔کیونکہ ان کے عقائد کی بنیاد ہی اس پر تھی کہ جو بات قرآن سے ملے گی، اسے اختیار کریں گے۔ چنانچہ ان کے یہاں بڑی حدتک احادیث کا انکار پایاجاتا ہے۔ اور اسی انکارِ حدیث کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے رجم کے شرعی حد ہونے سے انکار ہی اس بنا پر کیا کہ قرآن کریم میں اس کا ذکر نہیں ہے ۔ اور احادیث کو وہ نہیں مانتے اور بعض لوگوں نے خوارج کی تکفیر ہی اس رجم کے انکار کی وجہ سے کی ہے۔ '' (۵)

امام ابن حزمؒ خوارج اور معتزلہ کے بارے میں لکھتے ہیں :

''تمام معتزلہ اور خوارج کا مسلک ہے کہ خبر واحد موجب ِعلم نہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ جس خبر میں جھوٹ یا غلطی کا اِمکان ہو، اس سے اللہ تعالیٰ کے دین میں کوئی بھی حکم ثابت کرنا جائز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس کی نسبت اللہ کی طرف کی جاسکتی ہے اور نہ اللہ کے رسول ﷺ کی طرف۔'' (۶)

خوارج کی طرف سے انکارِ حدیث کی وجہ ان کے انتہا پسند انہ نظریات او رمقاصد تھے جو سنت ِرسول ﷺ کی موجودگی میں پایۂ تکمیل کو نہ پہنچ سکتے تھے۔ جب کہ معتزلہ نے یونانی فلسفوں سے متاثر ہو کر عقل کو فیصلہ کن حیثیت دی اور اسلام کے ا حکامات کو عقلی تقاضوں کے مطابق بنانے کی کوشش کی مگر اس رستے میں رسول اکرم ﷺ کی سنت حائل تھی ۔ چنانچہ انہوں نے حدیث کی حجیت سے انکار کردیا۔ خوارج اور معتزلہ کے اغراض ومقاصد اور ان کی ٹیکنیک بیان کرتے ہوئے مولانا ابو الاعلیٰ مودودی ؒ لکھتے ہیں :

''ان دونوں فتنوں کی غرض اور ان کی ٹیکنیک مشترک تھی۔ ان کی غرض یہ تھی کہ قرآن کو اس کے لانے والے کی قومی وعملی تشریح وتوضیح سے اور اس نظامِ فکرو عمل سے جو خدا کے پیغمبر ﷺ نے اپنی رہنمائی میں قائم کردیا تھا، الگ کر کے مجرد ایک کتاب کی حیثیت سے لے لیا جائے او رپھر اس کی من مانی تاویلات کر کے ایک دوسرانظام بنا ڈالا جائے جس پر اسلام کا لیبل چسپاں ہو۔ اس غرض کے لئے جو ٹیکنیک انہوں نے اختیار کی، اس کے دو حربے تھے: ایک یہ کہ حدیث کے بارے میں یہ شک دلوں میں ڈالا جائے کہ وہ فی الواقع حضور ﷺ کی ہیں بھی یا نہیں؟ دوسرے ،یہ کہ اصولی سوال اٹھا دیا جائے کہ کوئی قول یا فعل حضور ﷺ کا ہو بھی تو ہم اس کی اطاعت واتباع کے پابند کب ہیں؟ ان کانقطہ نظریہ تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ ہم تک قرآن پہنچانے کے لئے مامور کئے گئے تھے۔ سو انہوں نے وہ پہنچا دیا اس کے بعد محمدؐ بن عبداللہ ویسے ہی ایک انسان تھے، جیسے ہم ہیں۔ انہوںنے جو کچھ کہا اور کیا، وہ ہمارے لئے حجت کیسے ہو سکتا ہے؟ ''(۷)

خوارج اور معتزلہ کے فتنے زیادہ وقت نہ چل سکے اور تیسری صدی کے بعد تو مکمل طور پر مٹ گئے۔ ان فتنوں کے زوال کے مختلف اسباب تھے جن میں ایک اہم سبب یہ تھا کہ فتنہ کی تردید میں وسیع تحقیقی کام کیا گیا۔ امام شافعی ؒنے 'الرسالہ' اور 'کتاب الامّ ' میں اس فتنہ کا ردّ پیش کیا... امام احمدؒ نے مستقل ایک جز تصنیف کیا جس میں اطاعت ِرسول ﷺ کے اثبات کے ساتھ ساتھ قرآن وحدیث کی روشنی میں منکرین حدیث کے نظریات کی تردید کی گئی... حافظ ابن قیمؒ نے 'اعلام الموقعین' میں اس کے ایک حصہ کو نقل کیا ہے... بعد ازاں امام غزالی ؒنے 'المستصفی'، ابن حزم ؒنے 'الاحکام' اور حافظ محمد بن ابراہیم الوزیر نے 'الروض الباسم' میں اس فتنہ کے ردّ میں دلائل دئیے۔

دوسری صدی ہجری کے بعد صدیوں تک اسلامی دنیا میں کہیں بھی انکارِ حدیث کی کوئی تحریک نہیں اُٹھی اور یہ فتنہ مکمل طور پر ختم ہو گیا ۔ تیرہویں صدی ہجری (اُنیسویں صدی عیسویں )میں انکارِ حدیث کافتنہ دوبارہ اُٹھا۔ انکارِ حدیث کے پہلے فتنے کامرکز عراق تھا جب کہ تیرھویں صدی ہجری میں اس فتنے نے برصغیر ہندوپاک میں سر اٹھایا ۔

فتنہ انکار حدیث کا برصغیر میں آغاز

تیرہویں صدی ہجری (انیسویں صدی عیسوی) میں برصغیر میں انکار حدیث کی ابتدا کن لوگوں نے کی؟ منکرین حدیث کے مشہور سلسلے کون کون سے ہیں؟ نیز فتنہ انکار حدیث کو کن لوگوں نے فروغ دیا؟ اس سلسلے میں محققین علماء کرام نے بہت کچھ لکھا ہے۔ ان میں سے بعض کی آرا ذیل میں پیش کی جاتی ہیں:

مولانا ثناء اللہ امرتسری ...جو حجیت ِحدیث پر علمی و تحقیقی کام اور منکرین حدیث سے مختلف مناظروں کے حوالے سے کافی شہرت رکھتے ہیں... ہندوستان میں انکارِ حدیث کی آواز اٹھانے والوںکا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں :

''ہندوستان میں سب سے پہلے سرسیداحمد خان علی گڑھی نے حدیث کی حجیت سے انکار کی آواز اٹھائی۔ ان کے بعد پنجاب میں مولوی عبداللہ چکڑالوی مقیم لاہور نے ان کا تتبع کیا بلکہ سرسید مرحوم سے ایک قدم آگے بڑھے۔ کیونکہ سرسید حدیث کو شرعی حجت نہ جانتے تھے لیکن عزت واحترام کرتے تھے۔ واقعاتِ نبویہ ﷺ کا صحیح ثبوت کتب ِاحادیث سے دیتے تھے۔ برخلاف ان کے مولوی عبداللہ چکڑالوی حدیث ِنبوی ﷺ کو 'لہو الحدیث' سے موسوم کیا کرتے۔''(۸)

فتنۂ انکارِ حدیث کی تاریخ مولانا محمد تقی عثمانی یوں بیان کرتے ہیں:

''یہ آواز ہندوستان میں سب سے پہلے سرسیداحمدخان اور ان کے رفیق مولوی چراغ علی نے بلند کی، لیکن انہوں نے انکارِ حدیث کے نظریہ کو علیٰ الاعلان اور بوضاحت پیش کرنے کی بجائے یہ طریقہ اختیار کیا کہ جہاں کوئی حدیث اپنے مدعا کے خلاف نظر آئی، اس کی صحت سے انکار کردیا خواہ اس کی سند کتنی ہی قوی کیوں نہ ہو۔ اور ساتھ ہی کہیں کہیں اس بات کا بھی اظہار کیا جاتا رہا کہ یہ احادیث موجودہ دور میں حجت نہیں ہونی چاہئیں اور اس کے ساتھ بعض مقامات پر مفید ِمطلب احادیث سے استدلال بھی کیا جاتا رہا۔ اسی ذریعہ سے تجارتی سود کو حلال کیا گیا، معجزات کا انکار کیا گیا، پردہ کا انکار کیا گیا اور بہت سے مغربی نظریات کو سند ِجواز دی گئی۔ ان کے بعد نظریۂ انکارِ حدیث میں اور ترقی ہوئی اور یہ نظریہ کسی قدر منظم طور پر عبداللہ چکڑالوی کی قیادت میں آگے بڑھا اور یہ ایک فرقہ کا بانی تھا، جو اپنے آپ کو 'اہل قرآن' کہتا تھا۔ اس کا مقصد حدیث سے کلیتاً انکار کرنا تھا، اس کے بعد جیراج پوری نے اہل قرآن سے ہٹ کر اس نظریہ کو اور آگے بڑھایا، یہاں تک کہ پرویز غلام احمد نے اس فتنہ کی باگ دوڑ سنبھالی اور اسے منظم نظریہ اور مکتب ِفکر کی شکل دے دی۔ نوجوانوں کے لئے اس کی تحریر میںبڑی کشش تھی، اس لئے اس کے زمانہ میں یہ فتنہ سب سے زیادہ پھیلا۔''(۹)

برصغیر میں منکرین حدیث کے سلسلوں کو تاریخی ترتیب سے بیان کرتے ہوئے مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں:

''اس طرح فنا کے گھاٹ اتر کر یہ انکارِ سنت کا فتنہ کئی صدیوں تک اپنی شمشان بھومی میں پڑا رہا یہاں تک کہ تیرہویں صدی ہجری (انیسویں صدی عیسوی) میں پھر جی اٹھا۔ اس نے پہلا جنم عراق میں لیا تھا، اب دوسرا جنم اس نے ہندوستان میں لیا۔ یہاں اس کی ابتدا کرنے والے سرسیداحمدخان اور مولوی چراغ علی تھے۔ پھر مولوی عبداللہ چکڑالوی اس کے علم بردار بنے۔ اس کے بعد مولوی احمد الدین امرتسری نے اس کا بیڑا اٹھایا، پھر مولانا اسلم جیراج پوری اسے لے کر آگے بڑھے اور آخر کار اس کی ریاست چوہدری غلام احمدپرویز کے حصے میں آئی، جنہوں نے اس کو ضلالت کی انتہا تک پہنچا دیا ہے۔'' (۱۰)

برصغیر میں فتنۂ انکار حدیث کی ابتدا کس نے کی؟

درج بالا آرا کے مطابق برصغیر پاک و ہند میں فتنہ انکار حدیث کو سرسیداحمدخاں، مولوی چراغ علی، مولوی عبداللہ چکڑالوی، مولوی احمدالدین امرتسری، حافظ اسلم جیراج پوری اور چوہدری غلام احمد پرویز نے فروغ دیا اور اس کی ابتدا سرسیداحمدخان اور مولوی چراغ علی نے کی۔ لیکن بعض محققین کے نزدیک برصغیر میں فتنۂ انکار حدیث کے بانی عبداللہ چکڑالوی تھے جنہوں نے حجیت ِحدیث کا کھلا انکار کیا۔

جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ تخت پوش پر تکیہ لگا کر حدیث نبوی ﷺ کا انکار کیا کرتے تھے۔ فتنۂ انکار حدیث کے بارے میں حضور پاک ﷺ کا فرمان اورپیشین گوئی عبداللہ چکڑالوی پر مکمل طور پر صادق آتی ہے۔ جیسا کہ اس کے انکارِ حدیث کی کیفیت محمد صادق سیالکوٹی کی زبانی پیچھے گزر چکی ہے۔ (۲) اس بارے میں مفتی رشید احمد لکھتے ہیں:

''عبداللہ چکڑالوی نے سب سے پہلے انکارِ حدیث کا فتنہ برپا کرکے مسلمانانِ عالم کے قلوب کو مجروح کیا۔ مگر یہ فتنہ چند روز میں اپنی موت خود مرگیا۔ حافظ اسلم جیراج پوری نے دوبارہ اس دَبے ہوئے فتنہ کو ہوا دی اور بجھی ہوئی آگ کو دوبارہ جلا کر عاشقانِ شمع ِرسالت ﷺ کے جروح پر نمک پاشی کی اور اب غلام احمدپرویز بٹالوی نگران رسالہ 'طلوعِ اسلام' اس آتش کدہ کی تولیت قبول کرکے رسول دشمنی پر کمربستہ ہیں۔''(۱۱)

عبدالقیوم ندوی اپنی رائے درج ذیل الفاظ میں بیان کرتے ہیں:

''حجیت ِحدیث کا کھلا انکار مولوی عبداللہ صاحب چکڑالوی نے کیا۔ اس سے پہلے صراحتاً انکار ملحدین اور زنادقہ سے بھی نہ ہوسکا۔''(۱۲)

حکیم نور الدین اجمیری اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''ہندوستان میں فتنہ 'انکارِ حدیث' کی خشت ِاوّل عبداللہ چکڑالوی نے رکھی تھی اور اسی بنیاد پر مولانا اسلم جیراج پوری اور جناب پرویز جیسے اہل قلم ایک قلعہ تیار کررہے ہیں۔''(۱۳)

'حدیث کا کھلا انکار، چودہویں صدی میں' کے عنوان کے تحت مولانا محمداسماعیل سلفی لکھتے ہیں:

''مولوی عبداللہ چکڑالوی پہلے شخص ہیں، جنہوں نے علوم سنت کی کھلی مخالفت کی۔''(۱۴)

منکرین ِحدیث کے تعارف اور فتنہ انکار حدیث کی ابتدا کے بارے میں پیش کی گئی مختلف آرا کے تجزیہ سے اس امر کی وضاحت ہورہی ہے کہ سرسیداحمد خان اور مولوی چراغ علی نے انکار حدیث کے نظریہ کو علیٰ الاعلان اور بوضاحت پیش نہیں کیا بلکہ جہاں کوئی حدیث اپنے مدعا کے خلاف دیکھی، اس کی صحت سے انکار کردیا خواہ اس کی سند کتنی ہی قوی کیوں نہ ہو۔ مزید یہ کہ بعض مقامات پر اپنے لئے مفید مطلب احادیث سے استدلال بھی کرتے رہے۔ خود سرسیداحمد خان حدیث کی عزت و احترام بھی کرتے تھے اور واقعاتِ نبویہ ﷺ کا صحیح ثبوت کتب ِاحادیث سے دیتے تھے۔ انہوں نے تمام احادیث کی صحت کا انکار نہیں کیا۔ البتہ احادیث کی صحت کے بارے میں ان کا اپنا ایک خود ساختہ معیار ہے، چنانچہ سرسید لکھتے ہیں:

''جناب سید الحاج مجھ پر اتہام فرماتے ہیں کہ میں کل احادیث کی صحت کا انکارکرتا ہوں۔« لاحول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم» یہ محض میری نسبت غلط اتہام ہے۔ میں خود بیسیوں حدیثوں سے جو میرے نزدیک روایتاً و درایتاً صحیح ہوتی ہیں، استدلال کرتا ہوں۔''(۱۵)

محققین علماء ِکرام کی مذکورہ آرا کے مطابق عبداللہ چکڑالوی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے برصغیر میں کھل کر حدیث کا انکار کیا اور فرقہ 'اہل قرآن'کی بنیاد رکھی ہے۔ ا س کے بعد مولوی احمد الدین امرتسری نے انکارِ حدیث کے فتنے کا بیڑا اٹھایا۔ اور حافظ اسلم جیراج پوری نے اس نظریہ کو مزید آگے بڑھایا۔ آخر میںغلام احمد پرویز نے انکارِ حدیث کو ایک منظم نظریہ اور مکتب ِفکر کی صورت میں پیش کیا۔

برصغیر میں انکار حدیث کے علمبرداروں میں مولوی محب الحق عظیم آبادی، تمنا عمادی، قمر الدین قمر، نیاز فتح پوری، سیدمقبول احمد، علامہ مشرقی، حشمت علی لاہوری، مستری محمد رمضان گوجرانوالہ، محبوب شاہ گوجرانوالہ، خدا بخش، سیدعمرشاہ گجراتی اور سید رفیع الدین ملتانی بھی شامل ہیں۔(۱۶) ڈاکٹر غلام جیلانی برق بھی انکارِ حدیث کے مرتکب ہوئے مگر بعد ازاں انہوں نے نہ صرف رجوع کرلیا بلکہ تاریخ ِحدیث پر ایک مدلل کتاب بھی تالیف کی۔(۱۷)

انکارِ حدیث...دین سے انحراف کی روش

دوسری صدی ہجری کے منکرین حدیث اور تیرہویں صدی ہجری کے منکرین حدیث کے انکارِ حدیث کے سلسلے میں اغراض و مقاصد، حدیث کے بارے میں شبہات و اعتراضات اور انکارِ حدیث پر مبنی دلائل مختلف ہیں۔ شاید قدیم منکرین حدیث، دین سے مکمل آزادی نہیں چاہتے تھے۔ لیکن برصغیر کے منکرین حدیث کی تحریروں سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ ان کے انکارِ حدیث کے موقف کے پس پردہ وہ عزائم ہیں جن سے ان کا مقصود الحاد و لادینیت کا فروغ اور دین سے چھٹکارا اور آزادی حاصل کرنا ہے، ان کے ناپاک عزائم پر تبصرہ کرتے ہوئے مفتی رشید احمد لکھتے ہیں:

''دشمنانِ رسول اللہ ﷺ کا مقصد صرف انکارِ حدیث تک محدود نہیں بلکہ یہ لوگ (عليهم ما علیهم) اسلام کے سارے نظام کو مخدوش کرکے ہر امر و نہی سے آزاد رہنا چاہتے ہیں۔ نمازوں کے اوقاتِ خمسہ، تعدادِ رکعات، فرائض و واجبات کی تفاصیل، صوم و زکوٰۃ کے مفصل احکام، حج کے مناسک، قربانی، بیع و شرا، امورِ خانہ داری، ازدواجی معاملات اور معاشرت کے قوانین، ان سب اُمور کی تفصیل حدیث ہی سے ثابت ہے، قرآن میں ہر چیز کا بیان اجمالاً ہے جس کی تشریح اور تفصیل حدیث میں ہے۔''(۱۸)

مولانا عبدالجبار عمرپوری نے 'حدیث ِنبوی ﷺ کے بارے میں شبہات اور ان کا ازالہ' کے عنوان کے تحت برصغیر کے منکرین حدیث کے اصل مقصد کو بیان کیا ہے، وہ تحریر کرتے ہیں:

''کفار و مشرکین اور یہود و نصاریٰ کی ذہنیت اور اعمال حیرت کے لائق نہیں کیونکہ وہ قرآن کے منکر، رسول اللہ ﷺ سے منحرف اور ضروریاتِ دین سے برگشتہ ہیں۔ لیکن سخت افسوس ان ظالموں کی حالت پر ہے کہ زبان سے کلمہ شہادت پڑھتے ہیں اور توحید و رسالت کا اقرار کرتے ہیں اور اسلام کو صحیح و راست کہتے ہیں اور باایں ہمہ اسلام کے اجزاء و ارکان کو منہدم کرنا چاہتے ہیں۔''(۱۹)

انکارِ حدیث صرف یہ نہیں کہ حدیث کو حجت ِشرعی اور شریعت ِاسلامیہ کا ماخذ ماننے سے انکار کیا جائے بلکہ احادیث کو مشکوک بنانا، اسلاف کی روش سے ہٹ کر اپنی خواہش ِنفس سے احادیث سے مسائل کا استنباط کرنا، مستند احادیث کی صحت سے انکار کرنا اور حدیث کے معانی و مفاہیم کی غلط تاویلیں پیش کرنا بھی انکارِ حدیث کی مختلف صورتیں ہیں۔ برصغیر کے منکرین ِحدیث نے حدیث کے بارے میں جو شبہات واعتراضات پیش کئے ہیں، ان میں انکارِ حدیث کی مندرجہ بالا صورتیں واضح طور پر پائی جاتی ہیں۔ انکارِ حدیث کے فتنہ کے یہ علمبردار حدیث کو مشکوک بنانے اور اس سے دامن چھڑانے کے لئے اس قسم کے شبہات پیش کرتے ہیں کہ احادیث، رسول اللہ ﷺ کے دو ڈھائی سو سال بعد تحریری شکل میں مرتب ہوئیں، اس لئے قابل اعتبار نہیں ہیںـ؛احادیث باہم متعارض ہیں؛ رسول اللہ ﷺ نے کتابت ِحدیث سے منع فرما دیا تھا؛ اکثر حدیثیں خبر واحد کے درجہ کی ہیں؛ قرآن مجید جو جامع اور کامل کتاب ہے، اس کی موجودگی میں حدیث کی ضرورت باقی نہیںرہتی ہے اور اگر حدیث حجت ِشرعی ہوتی تو حضور ﷺ احادیث کو اسی اہتمام سے لکھواتے جس اہتمام سے آپ ﷺ نے قرآن مجید لکھوایا تھا، وغیرہ۔

حدیث ِرسول ﷺ کے بارے میں منکرین حدیث نے اپنے مذکورہ بے بنیاد اور من گھڑت شبہات کو ثابت کرنے کے لئے تصنیف و تالیف کابہت بڑا دفتر کھولا۔(۲۰) اور اپنے مشن میں ہمہ تن مصروف ہوگئے۔ مگر تیرہویں صدی ہجری میں برصغیر پاک و ہند میں انکارِ حدیث کے اس فتنے کے اٹھتے ہی اس خطے کے جید علماء کرام اور محققین اسلام اس فتنہ کے مضمرات کو بھانپ گئے۔ لہٰذا ان کو اس کے انسداد کی سخت فکر دامن گیر ہوئی۔ اس بارے میں علماء ِکرام کی فکرمندی کا اندازہ شاہ محمد عزالدین میاں پھلواروی کے اس بیان سے سے لگایا جاسکتا ہے :

''انکارِ حدیث کا جو فتنہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ اُمڈا چلا آتا ہے۔ وہ کس طرح خرمن دین وایمان پر بجلیاں گرا رہا ہے۔ آج اس فتنہ کا انسداد اسی طرح ہوسکتا ہے کہ دنیا کے سامنے حدیث رسولِ کریم ﷺ کی صحیح اہمیت کو پوری طرح واضح کیا جائے۔''(۲۱)

چنانچہ دیگر فتنوں کی طرح انکارِ حدیث کے فتنہ کے خلاف برصغیر کے علماء کرام نے بیسیوں کتب لکھیں، جن میں نہ صرف حجیت ِحدیث کو قرآن و حدیث اور عقلی دلائل سے ثابت کیا گیا بلکہ منکرین حدیث کے شبہات و اعتراضات کا مضبوط دلائل کے ساتھ ردّ پیش کیا گیا۔ مختلف دینی رسائل و جرائد نے اس فتنہ کے خلاف خصوصی نمبر شائع کئے، تحریری مواد کے علاوہ منکرین حدیث کے ساتھ علمی مناظرے بھی کئے گئے اور دینی اجتماعات میں بھی عوام الناس کو فتنۂ انکار حدیث کے عواقب و مضمرات سے آگاہ کیا گیا۔ چنانچہ تحریری و تقریری کاوشوں نے منکرین حدیث کی کمر توڑ دی۔

انکار حدیث کے اسباب

صاحبانِ فکر ونظر کے لئے اس امر کا مطالعہ بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ اس جدید انکار حدیث کی وجوہات کیا تھیں، برصغیر میں اس فتنے کے اُٹھنے کے اسباب داخلی بھی تھے اور خارجی بھی... جن کی تفصیل درج ذیل ہے :

انکار ِحدیث کے داخلی اسباب

1.خواہشاتِ نفس کی پیروی : دین اسلام میں داخل ہونے کے بعد مسلمان کو اسلام پابند کرتا ہے کہ وہ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے آزاداور خود مختار نہیں بلکہ مکمل طور پر قرآن وحدیث کے احکامات کا پابند ہے۔ یہ پابندی طبیعت میں آزادی رکھنے والوں اور خواہشات کی پیروی کرنے والوں پر گراں گزرتی ہے۔ احادیث ِنبویہ ﷺ جو قرآن مجید کے اُصول اور کلیات کی تفصیل ہیں، قدم قدم پر خواہشاتِ نفسانیہ کی پیروی میںرکاوٹ ہیں۔ نیز ان میں تاویل کی گنجائش بھی نہیں ہے۔ جب کہ خواہشات نفس کی پیروی کرنے والے اپنے آپ کو 'مسلمان' بھی کہلانا چاہتے ہیں اوران پابندیوں سے آزادی کے طلب گار بھی ہیں، لہٰذا احادیث کاانکار کردیا گیا اور مسلمان کہلانے کے لئے قرآنِ حکیم کو مانتے رہے۔ اس ضمن میں مولانا محمد ادریس کاندھلوی 'انکارِ حدیث کی اصل و جہ' کے عنوان سے لکھتے ہیں :

''انکارِ حدیث کی یہ و جہ نہیں کہ حدیث ہم تک معتبر ذریعہ سے نہیں پہنچی بلکہ انکارِ حدیث کی اصل وجہ یہ ہے کہ طبیعت میں آزادی ہے، یہ آزاد رہنا چاہتی ہے۔ نفس یورپ کی تہذیب اور تمدن پر عاشق اور فریفتہ ہے اور انبیاء ومرسلین کے تمدن سے نفور اور بیزار ہے، کیونکہ شریعت ِغراء اور ملت بیضاء اور احادیث ِنبویہ ؐ اور سنن ِمصطفویہؐ قدم قدم پر شہواتِ نفس میں مزاحم ہیں ۔

حضرات انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا اوّلین مقصد نفسانی خواہشوں کا کچلنا اور پامال کرنا تھا۔ اس لئے کہ شہوتوں کو آزادی دینے سے دین اور دنیا دونوں ہی تباہ ہو جاتے ہیں۔ اس لیے منکرین حدیث نے ان دو متضاد راہوں میں تطبیق کی ایک نئی راہ نکالی، وہ یہ کہ حدیث کا تو انکار کر دیا جائے جو ہماری آزادی میں سد ِراہ ہے۔ اور مسلمان کہلانے کے لیے قرآنِ کریم کا اقرار کر لیا جائے کیونکہ قرآن کریم ایک اُصولی اور قانونی کتاب ہے۔ اس کی حیثیت ایک دستورِ اساسی کی ہے کہ جو زیادہ تر اُصول وکلیات پر مشتمل ہے ۔ جس میں ایجاز اور اجمال کی و جہ سے تاویل کی گنجائش ہے اور احادیث ِنبویہ ؐ اور اقوالِ صحابہ ؓ میں ان اصول اور کلیات کی شرح اور تفصیل ہے، اس میں تاویل کی گنجائش نہیں۔ اس لیے اس گروہ نے حدیث ِنبویؐ کا تو انکارکردیا اور مسلمان کہلانے کے لیے قرآنِ کریم کو مان لیا اور اس کے مجملات اور موجز کلمات میں ایسی من مانی تاویلیں کیں کہ جس سے ان کے اسلام اور یورپ کے کفر اور الحاد میں کوئی منافات ہی نہ رہی۔'' «وذلك غاية طلبعهم ونهاية طربهم» (۲۲)

خواہشات کی پیروی حدیث کی مخالفت کا ایک بنیادی سبب ہے، اس حقیقت کو مولانا محمد سرفراز یوں بیان کرتے ہیں :

''اور یہ ایک خالص حقیقت ہے کہ حدیث کی مخالفت آج وہ لوگ کررہے ہیں جو دراصل اسلامی تہذیب وتمدن کے عادلانہ نظام کویکسر توڑنا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ اس کی تشریح ہے اور تعینات کی حدود میں، اپنی اَہوا اور خواہشات کی پیروی کے لیے وہ قطعا کوئی گنجائش نہیں پاتے۔ لہٰذا انہوں نے یہ مسلک اختیار کیا ہے کہ اس چیز ہی کو اصل سے مٹا دیا جائے جو مکمل طور پر اسلام کے عادلانہ نظام کی تشریح اور حد بندی کرتی ہے۔ تا کہ وہ آزاد ہو جائیں اور اسلام کے ڈھانچے پر جس قدر اور جس طرح چاہیں، گوشت پوست چڑھائیں اور جس طرح چاہیں اپنے خود ساختہ اسلام کی شکل بنا لیں۔'' (۲۳)

ایسے لوگوں کے بارے میں مولانا محمد عاشق الٰہی رقم طراز ہیں:

''قرآن حکیم میں اوامر و نواہی ہیں جن میں بہت سے احکام ایسے ہیں جن کا اجمالی حکم قرآن میں دے دیا گیا اور ان پر عمل کرنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کی طرف رجوع کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ ان احکام کی تفصیلات رسول اللہ ﷺ نے بتائیں۔ جو لوگ آزاد منش ہیں، اعمال کی بندش میں آنے کو تیار نہیں، ان کا نفس زندگی کے شعبوں میں اسلام کو اپنانے کے لئے تیار نہیں۔ لہٰذا یہ لوگ حدیث کے منکر ہوجاتے ہیں۔ چونکہ قرآن مجید میں احکام کی تفصیلات مذکور نہیں ہیں اس لئے آزادی کا راستہ نکالنے کے لئے بار بار یوں کہتے ہیں کہ فلاں بات قرآن میں دکھاؤ۔''(۲۴)

2. کم علمی اور جہالت : برصغیر کے منکرین حدیث کے لٹریچر کے مطالعہ اور حدیث کے بارے میں ان کے خود ساختہ اور من گھڑت شبہات اور اعتراضات کو دیکھ کر اس چیز کااندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ وہ نہ تو علم حدیث پر عبور رکھتے ہیں اور نہ ہی علومِ قرآنی کی گہرائیوں سے واقف ہیں۔ چونکہ قرآن وسنت اور ان کے مستند مآخذتک منکرین ِحدیث کی رسائی نہیں لہٰذا ان کی توجیہ بھی ان کے بس کاروگ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث ِرسولؐپر اعتراض کرنے لگتے ہیں۔ منکرین حدیث کا نامکمل مطالعہ اور جہالت کوبیان کرتے ہوئے پیر محمد کرم شاہ ازہری لکھتے ہیں:

''جہاں تک میں نے معترضین حدیث کی مشکلات کا اندازہ لگایا ہے، میں ا س نتیجہ پرپہنچا ہوں کہ ان کا مطالعہ صرف چند نامکمل تراجم کتب ِحدیث تک محدود ہوتا ہے۔ وہ ان اُصولوں سے بے خبر ہوتے ہیں جن سے کسی حدیث کی فقہی اور قانونی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ وہ اس سے قطعی ناواقف ہوتے ہیں کہ اس حدیث سے جو حکم ثابت ہے، وہ فرض ہے، سنت ہے، جائز ہے یا مباح ہے بلکہ انہوں نے تو احکام کے اس فرق کو جاننے کی کبھی کوشش ہی نہیں کی اور پھر بے چارے وہم وگمان کی بھول بھلیوں میں بھٹکنے لگتے ہیں اور اسی طرح اپنے خود ساختہ اوہام میں غلطاں و پیچاں رہتے ہیں۔ اس وجہ سے بعض تو اپنا دماغی توازن کھو بیٹھتے ہیں اور حدیث پربے جا اعتراض کرنے لگتے ہیں۔'' (۲۵)

مولانا محمد قطب الدین انکارِ حدیث کے اسباب کی تفصیل میں بیان کرتے ہیں کہ

''انکارِ حدیث کا سب سے پہلا اور بنیادی سبب یہ ہے کہ منکرین حدیث راسخ فی علم القرآن ہی نہیں، وہ علم حدیث پر بھی مکمل عبور نہیں رکھتے اور حدیث کی مختلف انواع و اقسام اور راویوں سے متعلق فن ِتنقید و تحقیق سے بے خبر واقع ہوئے ہیں۔ ان میں تطبیق ِآیات و احادیث کا فن بھی مفقود ہے جس کے لئے مسلسل اور عمیق مطالعہ کی ضرورت ہے اور جس کے بغیر احادیث ِنبویؐ کی صحیح عظمت وافادیت واضح نہیں ہوسکتی۔'' (۲۶)

منکرین ِحدیث کی جہالت اور اس کی بنیاد پرانکارِ حدیث کو بیان کرتے ہوئے شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی رقم طراز ہیں:

''انکارِ حدیث احساسِ کمتری کی پیداوار ہے جس نے گریز پائی کی صورت اختیار کرلی ہے۔ جب یہ حضرات کسی مخالف کا اعتراض سنتے ہیں تو چونکہ یہ قرآن و سنت اور اس کے مستند مآخذ سے واقف نہیں اور اس کی توجیہ سے ان کا ذہن قاصر ہوتا ہے، اس لئے بھاگنا شروع کردیتے ہیں جس کی صورت یہی ہوسکتی ہے کہ نصوص کا انکار کردیں اور احادیث کے متعلق تو وہ یہ ہتھیار استعمال کرتے ہیں کہ ہم اس حدیث کو نہیں مانتے۔''(۲۷)

3. عقل کو معیار بنانا: تاریخ اسلام اس چیز کی گواہ ہے کہ جب بھی اسلام میں کسی فرقہ یا گروہ نے اپنے عقائد و نظریات کو داخل کرنا چاہا تو عقل کا سہارا لیا اور عقل کی برتری کو منوانے کی کوشش کی۔ چنانچہ دوسری صدی ہجری میںمعتزلہ کے انکارِ حدیث کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے عقل کو فیصلہ کن حیثیت دی اور راہِ راست سے بھٹک گئے۔ برصغیر میں انکارِ حدیث کے دیگر اسباب میں ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ منکرین حدیث نے بعض ایسے اُمور میں عقل کا فیصلہ مانا جہاں عقل عاجز ہے۔ مثلاً جو حدیث عقل میں نہ آئی، اس کو ماننے سے انکار کردیا۔ حالانکہ انسانی عقل وحی کی محتاج ہے اور اسے قدم قدم پر رہنمائی اور ہدایت کی ضرورت ہے۔ عقل کی بنیاد پر حدیث کو قبول نہ کرنے کے معیار اور عقل کی بے بسی کا تذکرہ کرتے ہوئے محمد ادریس فاروقی لکھتے ہیں:

''بعض حضرات نے تو حدیث کے ٹھکرانے اور ناقبول کرنے کا معیار اپنی عقل، مشاہدہ اور فکر کو قرار دے رکھا ہے۔ حدیث خواہ کس قدر بے غبار اور صحیح ہو، سند کتنی مضبوط ہو، رواۃ کتنے بے عیب ہوں۔ پوری اُمت نے قبول کیا ہو، ان کی بلا سے، انہیں ان باتوں کی کوئی پرواہ نہیں۔ انہوں نے کامل نبیؐ کو اپنی ناقص عقل سے کم تر مقام دیا جو کہ افسوسناک بلکہ خطرناک ہے۔ عام طور پر ہمارے انگریزی خواں حضرات اور ماڈرن دوست اسی آسان اُصول کوقبول فرما لیتے ہیں کہ جو حدیث عقل میں نہ آئے، اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا حالانکہ عقل کو کیسے معیار قرار دیا جاسکتا ہے۔ عقل تو خام ہے۔ پھر عقل میں تفاوت ہے، سب کی عقل ایک جیسی نہیں۔ بہت سے لوگ ہیں کہ ان کی عقل پر مادّیت کا غلبہ ہے اور اس پر یورپ کی چھاپ ہے اور وہ اسلامی حدود و قیود سے سو فیصد نابلد اور یکسر ناآشنا ہے۔ خود فرمائیے مطلق عقل، اور پھر ایسی عقل حدیث کی جانچ کیسے کرسکتی ہے؟''(۲۸)

4. دنیاوی اغراض و مقاصد کا حصول:انکارِ حدیث کی ایک وجہ اغراض و مقاصد کا حصول بھی ہے جن کی خاطر جان بوجھ کر منکرین حدیث اس گمراہی کے مرتکب ہوئے چنانچہ مولانا محمد قطب الدین لکھتے ہیں:

''منکرین حدیث اور ان کے پیشوا علمائے یہود کی مانند محض دنیوی اغراض و مفادات کے لئے دیدہ و دانستہ 'کتمانِ حق' بھی کرتے ہیں اور 'التباسِ حق و باطل' بھی۔ '' (۲۹)

پروفیسر محمد فرمان نے انکار حدیث کی مختلف وجوہات کا احاطہ درج ذیل الفاظ میں کیا ہے :

''ہمیں یہ تسلیم ہے کہ بعض لوگوں نے دنیاوی جاہ و منصب کے لئے حدیث کو نشانہ بنا رکھا ہے۔ بعضوں نے کسی محبوب کا اشارہ پاکر یہ تحریک شروع کررکھی ہے بعضوں نے کم علمی اور اسلام کے سطحی مطالعہ کی بنیاد پر یہ روش پسند کرلی ہے۔''(۳۰)

انکارِ حدیث کے خارجی اسباب

5. برطانوی سامراج کی سازش: ہندوستان پر انگریز حکومت کی مکمل عملداری اور ۱۸۵۷ء کی جنگ ِآزادی میں کامیابی کے بعد انگریز، مسلمانوں کو اپنی انتقامی کارروائیوں کانشانہ بنانے لگے کیونکہ انہوں نے مسلمان حکمرانوں سے حکومت چھینی تھی اور انہیں ہر وقت مسلمانوں کی طرف سے مزاحمت کا خطرہ رہتا تھا۔ مزید برآں جنگ ِآزادی میں مسلمانوں نے انگریزوں سے سخت مقابلہ کیا تھا، لہٰذا وہ مسلمانوں کو ہر میدان میں کچلنا چاہتے تھے۔ لیکن ان کے رستے کی سب سے بڑا رکاوٹ مسلمانوں کی اپنے بنیادی عقائد کے ساتھ مکمل وابستگی اور آپس کا اتحاد تھا۔ چنانچہ انگریزوں نے مسلمانوں کو دینی اعتبار سے کمزور کرنے کے لئے مختلف سازشیں شروع کردیں۔ مثلاً مسلمانوں میں فرقہ بندی کو ہوا دینے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں ہی میں ایسے رجال تیار کئے جنہوں نے مختلف دینی احکام سے انحراف کرکے دین میں نئے نئے فتنے پیدا کئے۔ ان فتنوں میں انکارِ ختم نبوت اور انکارِ حدیث کے فتنے نہایت نقصان دہ اور خطرناک ثابت ہوئے۔ انگریزوں نے ان فتنوں کی مکمل پشت پناہی کی۔اس سلسلے میں انگریزوں کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے مولانا مفتی محمد عاشق الٰہی بلند شہری لکھتے ہیں:

''انگریزوں نے جب غیر منقسم ہندوستان میںحکومت کی بنیاد ڈالی تو اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایسے افراد بنائے جو اسلام کے مدعی ہوتے ہوئے اسلام سے منحرف ہوں۔ اس طرح کے لوگوں نے تفسیر کے نام سے کتابیں لکھیں، معجزات کا انکار کیا، آیاتِ قرآنیہ کی تحریف کی۔ بہت سے لوگوں کو انگلینڈ ڈگریاں لینے کے لئے بھیجا گیا۔ وہاں سے وہ گمراہی، الحاد،زندیقیت لے کر آئے۔ مستشرقین نے ان کو اسلام سے منحرف کردیا۔ اسلام پر اعتراضات کئے جو ان کے نفوس میں اثر کرگئے اور علما سے تعلق نہ ہونے کی وجہ سے مستشرقین سے متاثر ہوکر ایمان کھو بیٹھے۔ انگریزوں نے سکول اور کالجوں میں الحاد اور زندقہ کی جو تخم ریزی کی تھی، اس کے درخت مضبوط اور بار آور ہوگئے اور ان درختوں کی قلم جہاں لگتی چلی گئی، وہیں ملحدین اور زندیق پیدا ہوتے چلے گئے۔'' (۳۱)

مسلمانوں کے خلاف انگریزوں کی سازشوں کے اثرات ظاہر ہونے لگے، فتنۂ انکارِ حدیث ان سازشوں کی ایک اہم کڑی تھی۔ چنانچہ ہندوستان میں فتنۂ انکار حدیث کے اسباب اور اثرات کا نقشہ کھینچتے ہوئے مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں:

''تیرہویں صدی میں یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب کہ مسلمان ہر میدان میں پٹ چکے تھے۔ ان کے اقتدار کی اینٹ سے اینٹ بجائی جاچکی تھی۔ ان کے ملک پر دشمنوں کا قبضہ ہوچکا تھا اور ان کو معاشی حیثیت سے بُری طرح کچل ڈالا گیا تھا، ان کانظامِ تعلیم درہم برہم کردیا گیا تھا اور ان پر فاتح قوم نے اپنی تعلیم، اپنی تہذیب، اپنی زبان، اپنے قوانین، اور اپنے اجتماعی وسیاسی اور معاشی اداروں کو پوری طرح مسلط کردیا تھا۔

ان حالات میں جب مسلمانوں کو فاتحین کے فلسفہ و سائنس اور ان کے قوانین اور تہذیبی اُصولوں سے سابقہ پیش آیا تو قدیم زمانے کے معتزلہ کی بہ نسبت ہزار درجہ زیادہ سخت مرعوب ذہن رکھنے والے معتزلہ ان کے اندر پید ہونے لگے۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ مغرب سے جو نظریات، جو افکار و تخیلات، جو اُصولِ تہذیب و تمدن اور جو قوانین حیات آرہے ہیں، وہ سراسر معقول ہیں۔ ان پر اسلام کے نقطہ نظر سے تنقید کرکے حق و باطل کا فیصلہ کرنا محض تاریک خیالی ہے۔ زمانے کے ساتھ ساتھ چلنے کی صورت بس یہ ہے کہ اسلام کوکسی نہ کسی طرح ان کے مطابق ڈھال دیا جائے۔'' (۳۲)

6. مستشرقین کی خوشہ چینی:مستشرقین نے مسلمانوں کے بنیادی عقائد کو متزلزل کرنے کے لئے حدیث ِرسولؐ کے بارے میں مختلف شکوک و شبہات اور بے بنیاد اعتراضات پیش کرکے حدیث پرمسلمانوں کے اعتماد کو اٹھانے کی سر توڑ کوششیں کیں جس کے اثرات برصغیر کے منکرین حدیث پر بھی پڑے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث کے بارے میں یہاں کے منکرین حدیث کے بڑے بڑے شبہات اور مستشرقین کے شبہات میں مماثلت پائی جاتی ہے، جس سے یہ واضح نتیجہ نکلتا ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں انکارِ حدیث کا ایک اہم سبب مستشرقین کی حدیث ِرسولؐ کے خلاف علمی فتنہ انگیزیاں ہیں۔ مستشرقین کے فتنۂ انکار حدیث کے محرک ہونے کی دلیل کے لئے پروفیسر عبدالغنی 'منکرین حدیث کے اعتراضات' کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں:

''ان لوگوں کے اکثر اعتراضات مستشرقین یورپ ہی کے اسلام پر اعتراضات سے براہِ راست ماخوذ ہیں مثلاً حدیث کے متعلق اگر گولڈ زیہر (Gold Ziher)، سپرنگر(Sprenger) اور ڈوزی (Dozy) کے لٹریچر کا مطالعہ کیا جائے تو آپ فوراً اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ منکرین حدیث کی طرف سے کئے جانے والے بڑے بڑے اعتراضات من و عن وہی ہیں جو ان مستشرقین نے کئے ہیں۔''(۳۳)

برصغیر کے فتنۂ انکار حدیث میں مستشرقین کے لٹریچر کے اثرات کو مولانا محمد فہیم عثمانی ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:

''افسوس تو زیادہ اس بات کا ہے کہ سب کچھ دشمنانِ اسلام کی پیروی میں ہورہا ہے۔مستشرقین یورپ کے سفیہانہ اعتراضات کی اندھا دھند تقلید سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ ڈھائی سو برس بعد احادیث کے قلمبند ہونے کی باتیں اور اس طرح حدیث کے ذخیرے کو ساقط الاعتبار ثابت کرنے کی سکیمیں، یہ رجالِ حدیث کی ثقاہت پر اعتراضات اور یہ عقلی حیثیت سے احادیث پر شکوک وشبہات کا اظہار، یہ سب کچھ مستشرقین یورپ کی اُتارن ہیں جن کو منکرین حدیث پہن پہن کر اِتراتے ہیں۔'' (۳۴)

اسی حقیقت کو مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی نے یوں بیان کیا ہے:

''اور عجیب بات ہے کہ موجودہ دور کے منکرین حدیث نے بھی اپنا ماخذ و مرجع انہی دشمنانِ اسلام، مستشرقین کو بنایا ہے اور یہ حضرات انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور جو اعتراضات وشبہات ان مستشرقین نے اسلام کے بارے میں پیش کئے ہیں، وہی اعتراضات و شبہات یہ منکرین حدیث بھی پیش کرتے ہیں۔'' (۳۵)

برصغیر پاک و ہند میں انکارِ حدیث کے فتنے کے اُٹھتے ہی اس خطے کے مسلمانوں میں منکرین حدیث کے خلاف نفرت کی لہر دوڑ گئی۔ علمائِ کرام اور محققین اسلام نے منکرین حدیث کے مبنی برانکارِ حدیث اعتراضات کی تردید کے لئے بیسیوں کتب لکھیں، مختلف رسائل میں حجیت ِحدیث پر مقالے شائع ہوئے۔ قلمی کاوشوں کے ساتھ ساتھ دینی اجتماعات میں فتنۂ انکارِ حدیث کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔ جوں جوںمنکرین حدیث آگے بڑھتے گئے اور نئے نئے شبہات لاتے گئے، توں توں حجیت ِحدیث پر بھی زیادہ وزنی دلائل پیش کئے جاتے رہے۔ منکرین حدیث کے ساتھ مختلف علمائِ کرام کے علمی مناظرے بھی ہوئے مگر منکرین حدیث نہ صرف اپنے موقف پر قائم رہے بلکہ نئے نئے حیلوں بہانوں سے انکارِ حدیث کے شبہات سامنے لاتے رہے۔ منکرین حدیث نے اپنے مشن کو باقاعدگی اور مقرر پروگرام کے تحت آگے بڑھایا، مگر اپنی پوری قوتوں کوبروئے کار لانے کے باوجود منکرین حدیث انحطاط کا شکار ہوتے چلے گئے۔ حجیت ِحدیث پر متعدد کتب لکھے جانے کے باعث منکرین حدیث کو منہ کی کھانی پڑی۔ انہیں معاشرہ میں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا اور حجیت ِحدیث پر برصغیر کے اَدب کے خاطر خواہ نتائج نکلنے لگے۔


حوالہ جات

۱۔ ولي الدین ،إ مام، محمد بن عبداللہ ، مشکوٰة المصابیح، کتاب الإیمان باب الاعتصام بالکتاب والسنة

۲۔ صادق سیالکوٹی، محمد ، ضربِ حدیث ، سیالکوٹ، مکتبہ کتاب وسنت ، ۱۹۶۱ء ، ص ۴۸

۳۔ابن حزم ، إمام ، أبو محمد علی بن أحمد ، الإحکام في أصول الأحکام ، مصر مکتبة الخانجی، شارع عبدالعزیز ، ۱۹۲۰ء جلد ۱ ص ۱۱۴

۴۔نجم الغنی ،محمد ، مذاہب الاسلام ، انڈیالکھنؤ، مطبع منشی نو لکشور ، ۱۹۲۴ء صفحہ ۱۰۱

۵۔ ولی حسن ٹونکی ، مفتی ، عظیم فتنہ ، کراچی ۱۹۸۴ء ، صفحہ ۲۲

۶۔امام ابن حزم ، ابو محمد علی بن احمد ، الاحکام فی اصول الاحکام مصر مکتبہ الخانجی، شارع عبدالعزیز ، ۱۹۲۰ء ، ج ۱ ص ۱۱۹

۷۔مودودی ،سیدابو الاعلیٰ ، سنت کی آئینی حیثیت ، لاہور اسلامک پبلیکشنز لمیٹڈ ۱۹۶۳ء ،ص ۱۴

۸۔امرتسری، ثناء اللہ، مولانا، حجیت حدیث اور اتباع رسول ﷺ ، ہندوستان، امرتسری کتب خانہ ثنائیہ، ۱۹۲۹ء ص۱

۹۔عثمانی، محمد تقی، مولانا، درس ترمذی، کراچی مکتبہ دارالعلوم کراچی، ۱۹۸۰ء ص۲۶

۱۰۔مودودی، ابوالاعلیٰ، مولانا، سنت کی آئینی حیثیت، لاہور اسلامک پبلیکیشنز، ۱۹۶۳ء ص۱۶

۱۱۔رشیداحمد، مفتی، فتنہ انکار حدیث، کراچی کتب خانہ مظہری، ۱۹۸۲ء ص ۷

۱۲۔ندوی، عبدالقیوم، فہم حدیث، کراچی ، ص۱۳۸

۱۳۔اجمیری، نورالدین، حکیم،مقالہ 'انکارِ حدیث کی خشت اوّل' ماہنامہ صحیفہ اہل حدیث، کراچی، حدیث نمبر، ۱۹۵۲ء ص ۱۴۷

۱۴۔سلفی، محمد اسماعیل، مولانا، حجیت حدیث، لاہور اسلامک پبلیکیشنز ہاؤس ۱۹۸۱ء ص۱۷

۱۵۔پانی پتی، محمد اسماعیل، مقالات سرسید، لاہور مجلس ترقی ادب، ج۱۳، ص۱۷

۱۶۔انکار حدیث کے ان علمبرداروں کے نام درج ذیل وہ کتب سے ماخوذ ہیں۔

i۔ کیلانی، عبدالرحمن، آئینہ پرویزیت، لاہور مکتبہ السلام، ۱۹۸۷ء ص۱۰۱

ii۔ محمد فرمان، پروفیسر، انکار حدیث ایک فتنہ ایک سازش، گجرات، ۱۹۶۴ء ص ۱۷۸۔۱۷۹

۱۷۔برق، غلام جیلانی، ڈاکٹر، تاریخ حدیث، لاہور مکتبہ رشیدیہ لمیٹڈ، ۱۹۸۸ء

۱۷۔رشیداحمد، مفتی، مولانا، فتنہ انکار حدیث، کراچی کتب خانہ مظہری، گلشن اقبال، ۱۴۰۳ھ، ص ۱۰

۱۹۔عبدالغفار حسن، مولانا، عظمت ِحدیث، مقالات مولانا عبدالجبار عمرپوری، اسلام آباد، دارالعلم، ۱۹۸۹ء ص۴۹

۲۰۔منکرین حدیث کے مبنی برانکار حدیث لٹریچر کی تفصیل بوجہ طوالت پیش نہیں کی جاسکتی۔ چند کتب کے نام درج کئے جارہے ہیں مثلاً عبداللہ چکڑالوی کا ترجمہ قرآن بآیات القرآن، غلام احمد پرویز کا رسالہ طلوعِ اسلام، عبداللہ چکڑالوی کا رسالہ اشاعۃ القرآن اور صلوٰۃ القرآن، سرسید احمد خان کی تصنیف خطباتِ احمدیہ، اور مقالات جیراج پوری وغیرہ۔

۲۱۔پھلواروی، شاہ محمد عزالدین، علوم الحدیث، لاہور ، ۱۹۳۵ء ص۶

۲۲۔محمد ادریس کاندھلوی،'حجیت حدیث' لاہور ، ۱۹۵۲ء صفحہ ۱۶

۲۳۔محمد صفدر سرفراز خان ، شوقِ حدیث، حصہ اول گوجرانوالہ گکھڑ، انجمن اسلامیہ ، ۱۹۸۲ء ، صفحہ۹

۲۴۔محمد عاشق الٰہی، مفتی، فتنہ انکار حدیث اور اس کا پس منظر، لاہور ادارہ اسلامیات، ۱۹۸۶ء ص ۹

۲۵۔ ازہری، محمد کرم شاہ، سنت خیرالانام، لاہور، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، ۱۹۵۳ء ص ۱۷۹

۲۶۔ محمد قطب الدین، مولانا، مظاہر حق اردو ترجمہ مشکوٰۃ شریف، لاہور، ۱۹۶۶ء ، ج، دیباچہ کتاب

۲۷۔سلفی ، محمد اسماعیل، مولانا، حجیت حدیث، لاہور، اسلامک پبلی کیشنز ہاؤس، ۱۹۸۱ء ص ۱۷۷

۲۸۔فاروقی، محمد ادریس، مقام رسالت، لاہور مسلم پبلی کیشنز، ۱۹۷۰ئ، ص۱۶

۲۹۔محمد قطب الدین، مولانا، مظاہر حق، ۱۹۶۶ئ، ج۱ ، دیباچہ کتاب

۳۰۔محمد فرمان، پروفیسر، انکار حدیث ایک فتنہ ایک سازش، گجرات، مکتبہ مجددیہ نور پور شرقی، ۱۹۶۴ء ص۲۰۹

۳۱۔محمد عاشق الٰہی، مفتی، فتنہ انکار حدیث اور اس کا پس منظر، لاہور ادارہ اسلامیات، ۱۹۸۶ء ص۷

۳۲۔ مودودی، ابوالاعلیٰ، مولانا، سنت کی آئینی حیثیت، لاہور، اسلامک پبلی کیشنز لمیٹڈ، ۱۹۶۳ئ، ص۱۷

۳۳۔قادری، عبدالغنی، پروفیسر، ریاض الحدیث، لاہور، ۱۹۶۹ئ، ص۱۵۹

۳۴۔ فہیم عثمانی، مولانا محمد محترم، حفاظت و حجیت حدیث، لاہور، دارالکتب، ۱۹۷۹ئ، ص۱۳

۳۵۔ٹونکی، ولی حسن، مفتی ، عظیم فتنہ، کراچی، اقراء روضۃ الاطفال، ناظم آباد، ۱۹۸۴ء ص۲۶