263-Aug-Sep-2002

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

...غلام احمد پرویز کافر اور مرتد ہے ...

٭ امامِ حرمین شریفین شیخ محمد بن عبداللہ السبیل نے 'طلوعِ اسلام' تنظیم کے بانی غلام احمد پرویز اور اس کے متبعین کو ان کے باطل و ملحدانہ عقائد کی وجہ سے کافر قرار دیا ہے۔ اپنے فتویٰ میں انہوں نے لکھا :

''یہ شخص حجیت ِحدیث، معجزات، عذابِ قبر اور بہت سی ضروریاتِ دین کا منکر ہے۔ا س ملحد نے قرآنِ کریم کی ان آیات اور آنحضرت ﷺ کی ان احادیث کا جو نماز، زکوٰۃ، حج، جنت اور دوزخ سے متعلقہ ہیں، کا انکار کیا ہے۔یقینا اس میں شک نہیں کہ غلام احمد پرویز اور اس کے متبعین جو اس کے مذکورہ عقائد کے حامل ہیں، کافر اور قادیانیت کی طرح ملت ِاسلامیہ سے خارج ہیں۔''

شیخ عبداللہ السبیل نے پرویزی فتنہ کی سنگینی کے پیش نظر حکومت اور علماء کرام سے پرزور اپیل کرتے ہوئے فتویٰ میں یہ بھی لکھا :

''حکومت کے ذمہ داران اور علماء کرام پر واجب ہے کہ وہ اس عظیم خطرہ سے آگاہ رہیں اور ان کی جملہ حرکات اور ممکنہ کارروائیوں پر پابندی لگائیں تاکہ ان کا زہر مسلمانوں میں نہ پھیل سکے۔''

امام کعبہ کے فتوی کا تفصیلی متن بمعہ ترجمہ اگلے صفحات میں شائع کیا گیا ہے۔

٭ اس سے قبل حکومت ِکویت بھی سرکاری طور پر غلام احمد پرویز اور اس کے متبعین کو کافر و مرتد قرار دے چکی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کویت کی وزارۃ الاوقاف کی فتویٰ کمیٹی کے چیئرمین شیخ مشعل مبارک عبداللہ احمد الصباح نے اپنے فتویٰ میں لکھا :

''غلام احمد پرویز کے عقائد باطل و گمراہ کن ہیں اور اسلامی عقیدے کے منافی ہیں۔ ہر وہ شخص جو ان عقائد پر ایمان رکھتا ہے، وہ کافر اور دائرئہ اسلام سے خارج ہے اور اگر وہ پہلے مسلمان تھا پھر ان عقائد کو اختیا رکیا ہو تو وہ مرتد شمار ہوگا، کیونکہ ان عقائد سے ان امور کا انکار لازم آتا ہے جو قرآن و سنت سے قطعی طور پر ثابت ہیں اور ضروریاتِ دین میں شمار ہوتے ہیں۔''

٭ سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن باز مرحوم نے بھی غلام احمد پرویز کو منکر ِحدیث کی حیثیت سے کافر قرار دیا ہے۔ان کے فتویٰ کا مکمل متن بھی بمعہ ترجمہ آگے آرہا ہے۔

٭ سعودی عرب کے موجودہ مفتی اعظم فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبد اللہ بن محمد آلِ شیخ حفظہ اللہ نے بھی ۱۴؍ذیقعدہ ۱۴۲۰ھ کو فتوی نمبر ۲۱۱۶۸ کی رو سے 'بزم طلوعِ اسلام' کے مؤسس غلام احمد پرویز اور اس کے پیروکاروں کے کافر ومرتد ہونے کافتویٰ صادر فرمایا ہے۔ جس میں مسلمان حکومتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس گروہ کے تائب نہ ہونے کی صورت میں اس کے خلاف ارتداد کی شرعی سزا نافذکریں۔ اس فتویٰ کا مکمل اردو ترجمہ بھی آگے آرہا ہے ۔

٭ اسی طرح متحدہ عرب امارات، دبئی کے 'اسلامک مشن' نے بھی پرویز کے کفریہ عقائد کی تفصیل لکھتے ہوئے اجماعِ امت کی روشنی میں اس کے کفر اور خارج از اسلام ہونے کا فتویٰ صادر کیا ہے۔

٭ عالم عرب کے ان فتاویٰ کی توثیق و تصدیق کے ساتھ عالم اسلام کی جن مقتدر علمی اور دینی شخصیات نے پرویز کے کفر پر اتفاق کیا ہے، ان میں بالخصوص مندرجہ ذیل معروف شخصیات شامل ہیں :

1) مولانا محمد ادریس سلفی و حافظ عبدالقہار دہلوی (جماعت ِغرباء اہلحدیث، کراچی)

2) مولانا ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی (مہتمم جامعہ نعیمیہ، لاہور)

3) ڈاکٹر اسرار احمد (امیر تنظیم اسلامی، لاہور)

4) مولانا محمد تقی عثمانی (سابق جسٹس شریعت بنچ، سپریم کورٹ)

5) قاضی عبداللطیف (ممبر اسلامی نظریاتی کونسل و سابق سینیٹر)

6) مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی (ادارئہ منہاج القرآن، لاہور)

7) مولانا ڈاکٹر مفتی غلام سرور قادری (صوبائی وزیر مذہبی امور، پنجاب)

8) ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر (صدر جامعہ علومِ اسلامیہ)

9) مولانا سراج الدین (شیخ الحدیث جامعہ دارالعلوم نعمانیہ)

10) مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ (عالمی مجلس تحفظ ِختم نبوت)

11) مولانا حافظ عبدالقادر روپڑیؒ (چیئرمین جماعت اہل حدیث)

12) مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی (صدر مدرّس دار العلوم، کراچی)

13) مولانا شیخ عبدالحفیظ مکی (مکہ مکرمہ)

14) مولانا منظور احمد چنیوٹی (سابق ایم پی اے)

15) مولانا ڈاکٹر شیرعلی شاہ مدنی (شیخ الحدیث جامعہ حقانیہ ، اکوڑہ خٹک)

16) مولانا محمد اجمل خاں (سرپرست جمعیت علمائے اسلام)

17) مولانا مفتی محمد عاشق الٰہی ؒالبرنی (مدینہ منورہ)

18) ڈاکٹر عبدالواحد (مفتی جامعہ مدنیہ)

19) مولانا عبدالستار خان نیازیؒ

20) مولانا ابوطاہر محمد اسحق خان (اسلامی یونیورسٹی، مدینہ منورہ)

21) مولانا حافظ عبدالرشید شیخ الحدیث (دارالعلوم تقویۃ الاسلام، لاہور)

22) مولانا عبدالرحمن (چیئرمین متحدہ علماء بورڈ)

23) مولانا صفی الرحمن مبارکپوری (سابق امیر جماعت اہل حدیث ، ہند)

24) مولانا محمد سلطان ذوق ندوی (بنگلہ دیش)

25) مولانا مجاہد الاسلام (صدر اسلامی فقہ اکیڈمی، ہند)

26) مولانا نعیم الحق نعیم ؒ (مدیر 'الاعتصام' دارالدعوۃ السلفیہ ، لاہور)

27) مولانا حافظ محمد قاسم (شیخ الحدیث جامعہ دارالعلوم)

28) مولانا محمد یٰسین صابر (شیخ الحدیث جامعہ خیر المدارس، ملتان)

29) مولانا محمد اجمل قادری (مرکز خدام الدین، لاہور)

30) مولانا ریاض الحسن نوری ( مشیر وفاقی شرعی عدالت )

31) مولانا حافظ عبدالرحمن مدنی (مہتمم جامعہ لاہور الاسلامیہ)

32) ابوعمار زاہد الراشدی (سیکرٹری جنرل پاکستان شریعت کونسل)

33) مولانا عبدالمالک (صدر جمعیت اتحاد العلمائ، منصورہ)

34) حضرت قاضی عبدالکریم کلاوچی (مدرسہ عربیہ نجم المدارس)

35) حضرت مولانا مفتی نور محمد و مولانا عبدالحلیم (افغانستان)

36) مولانا مفتی محمد الیاس کشمیری

37) فتویٰ دارالعلوم دیوبند

اور کئی دیگر علمی شخصیات اور پاکستان کے معروف دینی ادارے بھی اس میں شامل ہیں۔

٭ اس سے قبل ۱۹۶۲ء میں بھی علمائِ کرام کی ایک اجتماعی تحریک کے نتیجہ میں غلام احمد پرویز کی کفریات پر مبنی تحریروں کی روشنی میںاس کے خلاف کفر و ارتداد کا فتویٰ مرتب کرکے توثیق وتصدیق کے لئے ملک کے طول و عرض میں تمام مکاتیب ِفکر کے تقریباً ایک ہزار علما کے پاس بھیجا گیا تھا جن میں حرمِ کعبہ اور مسجد ِنبوی کے علمائے کرام بھی شامل تھے۔ ان تمام حضرات نے متفقہ طور پر اس فتویٰ پر اجماع کیا اور اُمت کو پرویزی الحاد و زندقہ سے بچنے کی تلقین کی۔

اس دور میں غلام احمد قادیانی کے بعد غلام احمد پرویز وہ دوسری شخصیت ہے جس کے کفر پر بلا اختلاف و شک متفقہ طور پر اجماعِ امت قائم ہوا ہے جو اہل اسلام کے لئے ایک شرعی حجت ہے تاکہ وہ نہ صرف خود اس فتنہ سے اپنے ایمان و اسلام کی حفاظت کابندوبست کریں بلکہ دوسروں کوبھی اس کا شکار ہونے سے بچائیں۔

فتنۂ 'پرویزیت' کے متعلق امامِ کعبہ کافتویٰ بمعہ ترجمہ


الحمد لله وحده والصلاة والسلام علی من لا نبی بعده و علی آله وأصحابه أجمعين أما بعد: فإن منظمة (طلوع إسلام) والتی تصدر مجلة بإسم ''طلوع اسلام'' و تنتمی إلی إمامها الضال (غلام أحمد پرويز) الذی أنکر حجية الحديث الشريف وأنکر المعجزات وعذاب القبر وکثيرا من ضروريات الدين والحد وحرّف فی آيات القرآن الکريم وأقوال الرسول ﷺ مما يتعلق بالصلاة والزکاة والحج والجنة والنار وغير ذلک۔

ولاشک أن غلام أحمد پرويز وأتباعه ومن کان علی عقائده المذکورة کفار خارجون عن ملة الاسلام وهم فی ذلک مثل القاديانيين الکفرة۔

وقد آلمنا ما بلغنا من أن هاتين الطائفتين ''منظمة طلوع إسلام'' و''القاديانيّين'' تقوم بأنشطة متنوعة لنشر کفرياتها فی دولة الکويت الشقيقية وغيرها من دول الخليج۔

ويجب علی المسئولين والعلماء أن ينتبهوا لهذا الخطر العظيم ويعملوا للحظر علی أنشطتهم حتی لا تنتشر سمومهم بين المسلمين، والله الهادي إلی سبيل الرشاد۔

وصلی الله علی سيدنا ونبينا محمد و علی آله و صحبه اجمعين و بارک وسلم تسليما

الرئيس العام لشئون المسجد الحرام والمسجد النبوی

إمام وخطيب المسجد الحرام محمد عبدالله السبيل

ترجمه: الحمد لله والصلاة والسلام علی من لا نبی بعده وعلی آله وأصحابه أجمعين

اما بعد: طلوعِ اسلام نامی تنظیم جو طلوعِ اسلام کے نام سے ایک رسالہ نکال رہی ہے اور اپنے گمراہ پیشوا غلام احمد پرویز کی طرف منسوب ہے۔ یہ شخص حجیت ِحدیث، معجزات، عذاب ِقبر اور بہت سی ضروریات ِدین کا منکر ہے۔ اس ملحد نے قرآنِ کریم کی ان آیات اور آنحضرت ﷺ کی ان احادیث میں تحریف کی ہے جو نماز،زکوۃ، حج، جنت اور دوزخ سے متعلق ہیں ۔

یقینا اس میں شک نہیں کہ غلام احمد پرویز،اس کے متبعین اورجو بھی اس کے مذکورہ بالا عقائد کے حامل ہیں، کافر ہیں۔ اوریہ لوگ قادیانیت کی طرح ملت ِاسلامیہ سے خارج ہیں۔

ہمیں اس بات کا دلی رنج اور دکھ ہوا کہ یہ دونوں فرقے: پرویزی اور قادیانی اپنے کفریہ نظریات پھیلانے کے لئے برادر اسلامی ملک کویت میں مصروف ِعمل ہیں۔

حکومت کے ذمہ داران اور علماء کرام پر واجب ہے کہ وہ اس عظیم خطرے سے آگاہ رہیں اور ان کی جملہ حرکات اور ممکنہ کارروائیوں پر پابندی لگائیں تاکہ ان کا زہر مسلمانوں میں پھیل نہ سکے۔

والله اليادي إلی سبيل الرشاد وصلی الله علی سيدنا ونبينا محمد وعلی آله وصحبه أجمعين وبارک وسلم تسليما

نگرانِ اعلیٰ مسجد ِحرام و مسجد ِنبوی شریف و امام و خطیب ِمسجد ِحرام (مکہ مکرمہ) محمد عبد اللہ سبیل

بسم اللہ الرحمن الرحیم

غلام احمد پرویز اور اس کے حواریوں کے بارے میں

سابق مفتی ٔاعظم سعودی عرب شیخ عبدالعزیز بن عبد اللہ بن باز ؒ کا فتویٰ

الحمد لله والصلاة والسلام علی رسول الله و علی آله واصحابه ومن والاه

أمابعد، فقد اطلعت علی ما نشرتْه مجلة ''الحج'' فی عددها الثانی الصادر فی ۱۶ شعبان عام ۱۳۸۲ھ من الاستفتاء المقدم إليها من أخينا العلامة الشيخ محمد يوسف البنوري مدير المدرسة التربية الاسلامية بکراتشی عن حکم الشريعة الإسلامية في غلام أحمد پرويز الذي ظهر أخيرا في بلاد الهند وعن حکم معتقداته التی قدم فضيلة المستفتی نمــــاذج منها لاستفتـــائه وعن حــکم من اعتنـــق تلک العقـــائد واعتقـــدها ودعـــا إليها ... الخ

والجواب: کل من تأمل تلک النماذج التی ذکرها المستفتی فی استفتائه من عقائد غلام أحمد پرويز وهي عشرون أنموذجا موضحة فی الاستفتاء المنشور فی المجلة المذکورة، کل من تأمل هذه النماذج المشار إليها من ذوي العلم والبصيرة يعلم علما قطعيا لايحتمل الشک يوجه ما أن معتنقها ومعتقدها والداعي إليها کافر کفرا أکبر مرتد عن الاسلام يجب أن يستتاب فإن تاب توبة ظاهرة وکذب نفسه تکذيبا ظاهرا ينشر فی الصحف المحلية کما نشر فيها الباطل من تلک العقائد الزائفة وإلا يجب علی ولي الأمر للمسلمين قتله، وهذا شيیٔ معلوم من دين الاسلام بالضرورة والأدلة عليه من الکتاب والسنة وإجماع أهل العلم کثيرة جدا لا يمکن استقصاؤها فی هذا الجواب۔

وکل أنموذج من تلک النماذج التي قدمها المستفتی من عقائد غلام أحمد پرويز يوجب کفره وردّته عن الاسلام عند علماء الشريعة الاسلاميه۔

ترجمہ

'' تمام تعریفات اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں اور درود و سلام ہو اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ پر اور آپ کی آل اور آپ کے تمام صحابہ کرام ؓپر... اما بعد

۱۶ ؍شعبان ۱۳۸۲ھ کے مجلہ 'الحج' میں کراچی کے مدرسہ عربیہ اسلامیہ کے مدیر شیخ محمد یوسف بنوری ؒ کا ہندوستان میں عنقریب رونما ہونے والے غلام احمد پرویز اور اس کے حواریوں کے متعلق ایک استفتاء (سوال نامہ) شائع ہوا ہے جس میں غلام احمد پرویز اور اس کے پیروکاروں کے بارے میں شریعت اسلامیہ کے فیصلے کے متعلق دریافت کیا گیا ہے۔ اور ہمارے بھائی سائل مذکور نے پرویزی اعتقادات میں سے تقریباً بیس ۲۰؍عقائد بھی بطورِ نمونہ کے پیش کئے ہیں۔

میں نے مجلہ مذکور میں غلام احمد پرویز اور اس کے ساتھیوں کے ان عقائد میں پورا غوروفکر کیا ہے۔ لہٰذا علم و بصیرت کے ساتھ اور بغیر کسی شک و شہ کے میں سمجھتا ہوں کہ ایسے عقائد کا اختیار کرنے والا اور ان کی طرف دوسرے لوگوں کو دعوت دینے والا شخص کافر ہے، اور ایسا شخص کفر اکبر کا مرتکب ہے اور وہ اسلام سے مرتد ہوگیا ہے۔ ایسے شخص اور اس کے ساتھیوں کو اپنے ان بدعقائد سے توبہ کرنے کا حکم دیا جائے۔ اگر یہ لوگ واضح طور پر توبہ کر لیں اور اپنی غلطی کا اعتراف کرلیں اور ان کی توبہ کا اعلان مقامی اخبارات میں ویسے ہی نشر کیا جائے جیسے اس سے پہلے ان میں ان کے گندے عقائد نشر ہوتے رہے ہیں تو درست ہے (انہیں چھوڑ دیا جائے) لیکن اگر یہ لوگ اپنے ان عقائد سے توبہ کرنے سے انکار کریں تو مسلمانوں کے حکمران کو چاہئے کہ ایسے بدعقیدہ لوگوں کو قتل کرے، کیونکہ ان کا قتل دین اسلام کی تعلیمات سے بدیہی طور پر معلوم ہے، جس پر قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے بکثرت دلائل موجود ہیں جنہیں اس مختصر جواب میں تفصیل سے ذکر کرنا ممکن نہیں ہے۔

سائل مذکور نے غلام احمد پرویز کے جو غلیظ عقائد ذکر کئے ہیں ، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ علمائِ شریعت کے نزدیک غلام احمد پرویز پکا کافر ہے اور دین اسلام سے مرتد ہوگیا ہے۔''

(مجلہ 'الایمان' کویت ... عدد ۸۱۱۷، جمعہ ۲۹ ؍شعبان ۱۴۱۹ھ مطابق ۱۸ ؍دسمبر ۱۹۹۸ئ)

مفتی اعظم سعودی عرب شیخ عبد العزیز بن عبدا للہ آلِ شیخ کا فتویٰ

فتویٰ نمبر ۲۱۱۶۸ مؤرخہ ۱۴؍۱۱؍۱۴۲۰ھ

'طلوعِ اسلام' نامی جماعت کے عقائد وافکار جو اس جماعت کے بانی غلام احمد پرویز اوراس کے پیرو کاروں نے اپنی کتابوں اور مضامین کے ذریعے پھیلائے ہیں اور بہت سے اسلامی ملکوں میں اس جماعت کے خلاف علماے مسلمین کی کثیر تعداد کی طرف سے جاری کئے گئے فتاوی سے آگاہی کے بعد، یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ جماعت متعدد گمراہیوں کا مجموعہ ہے جن میں سے اکثر یہ ہیں :

1. اطاعت ِرسول ﷺ سے انحراف اور سنت کی حجیت(شرعی حیثیت) کا انکار کرنا اور یہ وہم کہ صرف قرآن ہی شریعت کا ماخذ ہے۔

2. ارکانِ اسلام میں تحریف کرنا اور ان کے ایسے مطالب لینا جو قرآن وسنت اور اجماعِ اُمت کے خلاف ہیں ۔ مثلاً صلوٰۃ ،زکوٰۃ اور حج کے ان کے نزدیک خاص معانی ہیںجو در حقیقت باطل توجیہات ہیں... جیسا کہ خارج از اسلام باطنی فرقوں کی تحریفات ہیں۔

3. ارکانِ ایمان میں تحریف کرنا جو قرآن وسنت اور اجماعِ امت کے خلاف ہے۔ ملائکہ کی ان کے نزدیک کوئی حقیقت نہیں بلکہ وہ کائنات کو ودیعت کی گئی قوتوں کاحصہ ہیں اور قضاء وقدر ان کے نزدیک مجوسی فریب ہے۔

4. جنت ودوزخ کا انکار کہ ان کے نزدیک یہ حقیقی جگہیں نہیںہیں۔

5. حضرت آدم ؑکے 'ابو البشر' ہونے کا انکار کہ ان کے نزدیک وہ ایک تمثیلی قصہ ہے حقیقت نہیں۔

6. قرآن کریم کی تفسیر اپنی مرضی اور خواہشات کے مطابق کرنا اور ان کا کہنا ہے کہ احکامِ قرآن عبوری (وقتی) تھے، ابدی نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ بھی اس جماعت نے بہت سے ایسے گمراہ عقائد وافکار اپنائے ہوئے ہیں (جن کی یہ دعوت بھی دیتے ہیں) جن میں سے ایک ہی عقیدہ اس جماعت کے اسلام سے خارج ہونے اور اس کے زمرۂ مرتدین میں شامل ہونے کے لیے کافی ہے چہ جائکہ بہت سے عقائد کفریہ جمع ہو جائیں۔٭ علمائے اسلام کی بجائے اگر عام مسلمان لوگ بھی ان کے عقائد وافکار کے بارے میں غوروفکر کریں گے تو وہ بھی اس جماعت کی ضلالت وکفریات کے جاننے کے بعد اس کے کافر ومرتد ہونے کا یقینی فیصلہ کریں گے۔ کیونکہ یہ جماعت اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلاتی اور مؤمنین کے رستے سے انحر اف کرتی اور معروف ضروریاتِ دین میں تحریف کرتی ہے۔

جو کچھ اس جماعت کے بارے میں پیش کیا گیا ہے، اس کی بنا پر جو بھی اس جماعت کی اتباع کرتا ہے یا اس کی طرف دعوت دیتا ہے یا کسی بھی ذریعے لوگوں کو ان کی آرا سے متاثر کرتا ہے، وہ کافر اور دین اسلام سے خارج ہے اور مسلم حکمرانوں پر واجب ہے کہ وہ اس سے توبہ کروائے اور اگر وہ تائب ہو جائے اور ایسی (کفریہ) حرکات سے باز آجائے اور اسلام کی طرف لوٹ آئے تو ٹھیک ورنہ ایسے کافر کو از روئے اسلام قتل کر دینا چاہئے۔

اور تمام مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ وہ اس گمراہ جماعت اور اس جیسی دوسری اسلام سے منحرف جماعتوں مثلاً قادیانیوں، بہائیوں وغیرہ سے بچیں اور لوگوں کو بچائیں اور ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ قرآن وسنت کو مضبو طی سے پکڑیں اور صحابہ وتابعین کی اتباع کا التزام کریں۔

ہم اللہ تعالیٰ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اسلام کے دشمنوں کو جہاں کہیں بھی ہوں، نیچا دکھائے اور ان کے مکر وفریب کو نیست ونابود کرے ۔بے شک وہ ہر چیز پر قادر اور ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کافی اور بہترین وکیل ہے۔اور تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔

وصلی الله و سلم علی نبينا محمد وعلی آله وصحبه