263-Aug-Sep-2002

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

کویت سے شائع ہونے والے اخبار 'الایمان' کے دسمبر ۱۹۹۸ء کے شمارہ میں سعودی عرب کے مفتی ٔاعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ کا غلام احمد پرویز اور اس کے حواریوں کے بارے میں ایک فتویٰ شائع ہوا تھا جس میں مفتی صاحب نے پرویز کے عقائد و نظریات معلوم ہونے کے بعد اُسے اور اس کے پیروکاروں کو کافر قرار دیا تھا۔

زیر نظر مضمون میں ہم چاہتے ہیں کہ مسٹر پرویز اور اس کے متبعین کے اعتقادات ان کی اپنی کتابوں کے حوالہ جات سے منظر عام پر لائیں تاکہ قارئین کو معلوم ہوسکے کہ واقعی آنجہانی پرویز اور اس کے حواری کفریہ عقائد کے علمبردار ہیں، اور ان کے کفر و ارتداد میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے، اور شیخ ابن باز نے ان کے کافر اور مرتد ہونے کا جو فتویٰ دیا ہے، بالکل برحق اور سچ ہے۔ کیونکہ مسٹر پرویز کی خودنوشت کتابیں ان کے کفریہ عقائد کی تصدیق کرتی ہیں اور اس کے افکار ان لوگوں کے ملحد و مرتد ہونے کو ثابت کرتے ہیں۔

اہل اسلام کے ہاں یہ بات مسلم ہے کہ اسلام کے بنیادی عقائد حسب ِذیل ہیں :

اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، حضرت محمد ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا، یومِ آخرت پر ایمان، فرشتوں پر ایمان اور قرآنِ کریم پر ایمان لانا وغیرہ ... یہ ایسے عقائد ہیں جن کے اِقرار و تصدیق سے کوئی شخص مسلمان ہوتا ہے اور ان عقائد کا انکار کرنے والا یا ان کی من پسند تحریف کرنے والا شخص کافر اور دائرئہ اِسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ لہٰذا آئندہ سطور میں اس بات کو واضح کیا جائے گا کہ امت ِمسلمہ کے نزدیک ان عقائد سے کیا مراد ہے ، اور مسٹر پرویز اور اس کے پیروکار کیسے ان عقائد کو مسخ کرنے کی مذموم کوشش میں مصروف ہیں۔

(1) ایمان باللہ

ذاتِ الٰہی کے بارے میں امت ِمسلمہ کا متفقہ عقیدہ

اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان لانے کو دین اسلام میں بنیادی اہمیت حاصل ہے جس سے کوئی مسلمان انکار نہیں کرسکتا، اور اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے اور اپنی مخلوقات سے الگ تھلگ ہونے کو تمام مسلمان بالاتفاق تسلیم کرتے آرہے ہیں اور قرآنِ کریم نیز سنت ِنبویہ ؐاللہ تعالیٰ کے بارے میں یہی عقیدہ پیش کرتے ہیں اور امام ذہبیؒ اس پر امت مسلمہ کا اجماع ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

«أدرکنا العلماء في جميع الأمصار حجازا وعراقا ومصر وشامّا ويمنا فکان مذهبهم أن اللّٰه تبارك وتعالی علی عرشه بائن من خلْقِه کما وصف نفسه بلاکيف وأحاط بکل شيء علما» (کتاب العلوّ للذہبی ص۱۳۷) ''حجاز، عراق، مصر، شام اور یمن کے تمام علما کا یہی عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے اور اپنی تمام مخلوقات سے جدا اور الگ تھلگ ہے۔ جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنی ایسی ہی صفات بیان فرمائی ہیں، جن کی کیفیت کو وہی جانتا ہے اور اس کا علم ہر چیز کو شامل ہے۔''

ابن بطہ عقیدئہ توحید پر اُمت کا اجماع نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: «أجمع المسلمون من الصحابة والتابعين أن الله علی عرشه فوق سمواته بائن من خلقه» (کتاب الإبانۃ) ''تمام صحابہ اور تابعین اور اہل اسلام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ساتوں آسمانوں کے اوپر عرش پر ہے اور وہ اپنی ساری مخلوق سے جدا ہے۔''

حافظ ابو نعیم، اللہ تعالیٰ کے بارے میں امت ِمسلمہ کا عقیدہ یوں بیان فرماتے ہیں :« طريقتنا وطريقة السّلف المتّبعين للکتاب والسنة وإجماع الأمة وممّا اعتقدوه أن الأحاديث التي ثبتت في العرش واستواء الله عليه يقولون بها ويُثبتونها من غير تکييف ولا تمثيل وأن الله بائن من خلقه والخلق بائنون منهٗ لا يحُلُّ فيهم ولايمتزج بهم وهو مستو علی عرشه في سمائه من دون أرضه»

'' ہمارا طریقہ وہی ہے جو سلف صالحین کا تھا اور وہ سب کتاب و سنت اور اِجماعِ امت کے پابند تھے۔ ان سب کا یہ عقیدہ تھاکہ جن نصوص و آیات میں اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کا ذکر آتا ہے، انہیں بلاکیف اور بلاتمثیل تسلیم کیا جائے اور اس بات پر بھی ایمان ہو کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اپنی تمام مخلوق سے جدا ہے اور مخلوقات اس سے الگ تھلگ ہے۔ یہ نہیں کہ وہ اپنی مخلوق کے اندر حلول کئے ہوئے ہو اور نہ ہی وہ اپنی مخلوق سے متصل ہے بلکہ وہ اپنے عرش پر مستوی ہے اور اس کا عرش آسمان کے اوپر ہے ، زمین پر نہیں۔'' (کتاب العلو، ص۱۴۸)

امام ابن خزیمہ ؒاللہ تعالیٰ کے بارے میں اہل سنت کے مذکورہ عقیدے سے انکار اور اس سے انحراف کرنے والے شخص کے مرتد اور ا س کے واجب القتل ہونے کی صراحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:« من لم يُقِرَّ بأن اللّه تعالیٰ علی عرشه قد استوی فوق سبع سمواته فهو کافر بربّهٖ يستتاب فإن تاب وإلا ضُرِب عُنقُهٗ» (معرفۃ علوم الحدیث، ص۸۴) '' جو شخص اس بات کا اقرار نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے اور اس کا عرش سات آسمانوں کے اوپر ہے ،وہ کافر ہے۔ اسے کہا جائے کہ وہ اپنے بدعقیدہ سے توبہ کرے، اور اگر وہ اس سے توبہ کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو اس کی گردن اڑا دی جائے۔''

یہ ہے وہ عقیدہ جس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے اور ذات ِباری تعالیٰ پر ایمان ہی دراصل دین اسلام کی بنیاد ہے، جس سے انکار کرنے یا اس عقیدۂ توحیدکی تحریف کر دینے کے بعد کوئی شخص مسلمان نہیں رہ سکتا۔

پرویز کی نظر میں اﷲسے کیا مراد ہے؟

اب آئیں دیکھیں کہ مسٹر غلام احمد پرویز جو فرقہ طلوعِ اسلام کے بانیوں میں سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے بارہ میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں، اور کیسے وہ ساری زندگی عقیدۂ توحید کو مسخ کرنے کی کوشش میں مصروف رہے ہیں۔

اگرچہ مسٹر پرویز اپنی تالیفات میں 'اللہ' یا 'خدا' کا لفظ بکثرت استعمال کرتے ہیں، جس سے عام لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ پرویز کے نزدیک بھی تصورِ خدا وہی ہے جو اہل اسلام کے ہاں ہے۔ حالانکہ حقیقت ِحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ مسٹر پرویز کے ہاں اللہ یا خدا سے مراد وہ ذات نہیں ہے جو عرش پر مستوی ہے اور جس پر تمام مسلمانوں کا ایمان ہے، بلکہ انہوں نے عقیدئہ توحید اور ایمان باللہ کے مفہوم کو ایسا مسخ کیا ہے کہ کوئی مسلمان اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا، اور اس پر ان کی تالیف کردہ کتابیں گواہ ہیں۔ جیسا کہ وہ اپنی کتاب 'سلیم کے نام' میں اپنے متبنّیٰ 'سلیم' کو اللہ پر ایمان لانے کا مفہوم سمجھاتے ہوئے لکھتے ہیں:

''میں نے تمہیں اپنے سابقہ خط میں بتایا تھا کہ خدا پر ایمان کے معنی یہ ہیں کہ جو معاشرہ اس کے قوانین کے مطابق قائم ہو، اسے صفات ِخداوندی کا مظہر ہونا چاہئے۔ '' (سلیم کے نام: ۱ ؍۲۲۵)

دیکھئے مسٹر پرویز نے خدا پر ایمان کو معاشرہ پر ایمان لانے سے تعبیر کردیا، اور اِس معاشرہ پر ہی صفات ِخداوندی کو چسپاں کردیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کامل اور بلاکیف مانی جاتی ہیں جبکہ معاشرہ اور مخلوق کی صفات ناقص ہیں اور ان کی کیفیت بھی ہمارے لئے منکشف ہے۔

مسٹر پرویز اپنی اسی کتاب کے دوسرے مقام پر اہل اسلام کے ہاں عقیدہ ٔ خدا کو ردّ کرتے ہوئے اور مارکس کے نظریۂ خدا کو اجاگر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''انسانوں کے خود ساختہ مذہب کے پیدا کردہ خدا پر ایمان لانے اور اس کے دعاویٰ پر توکل رکھنے سے وہ یقین کسی طرح پیدا نہیں ہوسکتا جو انسان کو احتیاج کی فکر سے بے خوف کردے۔ یہی وہ خدا تھا جس کے متعلق مارکس نے کہہ دیا تھا کہ اس کا تصور سرمایہ داروں کی مصلحت کوشیوں کا پیدا کردہ ہے، لیکن 'خدا' کے تصور کا ایک مفہوم وہ ہے جسے (بزعم پرویز) خود خدا نے متعین کیا ہے اور جو قرآن کے حروف و نقوش میں جگمگ جگمگ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس تصور کی رو سے ان مقامات پر خدا سے عملاً مفہوم، وہ نظام ہے جو ا س کے قوانین کو نافذ کرنے کے لئے متشکل ہوتا ہے اور اس طرح وہ تمام ذمہ داریاں اپنے سر پر لے لیتا ہے، جنہیں خدا نے اپنی طرف منسوب کیا ہے۔'' (سلیم کے نام: از پرویز، ج۱ ص۲۹۹)

اس عبارت پر غور کیجئے،مسٹرپرویز مارکس کی تقلید میں اندھا ہو کر کیسے خدا پر ایمان کے اسلامی مفہوم کو بے فائدہ بتا رہا ہے اور خدا پر ایمان سے مراد وہ نظام بتاتا ہے جو اس کے قوانین کا نفاذ کرے، اگرچہ قوانین خداوندی کے نفاذ سے انکار نہیں کیا جاسکتا، لیکن خدا سے مراد ہی نظام لے لینا بے دین ذہن کی اختراع ہے۔ آپ قرآنی آیت ﴿الرَّ‌حمـٰنُ عَلَى العَر‌شِ استَوىٰ ٥ ﴾... سورة طه ''رحمن جل شانہ عرش پر قائم ہے۔'' کی روشنی میں غور کریں، کیا قرآن کریم کی نصوص اس خدا کا تصور پیش کرتی ہیں جو مارکس یا مسٹر پرویز نے پیش کیا ہے؟ یا اس عقیدئہ توحید کو پیش کرتی ہیں جس کا تعارف ہم نے متذکرۃ الصدر سطور میں کروایا ہے؟ لہٰذا ایسی عبارتوں سے مسٹرپرویز کی ضلالت کھل کر سامنے آجاتی ہے اور اس سے ان کے کفر کا پردہ چاک ہوجاتا ہے اور اب وہ اپنے متبنّیٰ سلیم کو قرآن فہمی کا قانون سکھاتے ہوئے فرماتے ہیں:

''سلیم اگر تم ایک اہم نکتہ کو سمجھ لو تو قرآن فہمی میں تمہاری بہت سی مشکلات کا حل خود بخود نکل آئے گا یعنی ان مقامات میں جہاں قرآن کریم میں لفظ 'اللہ' استعمال ہوا ہے، 'اللہ کی جگہ اگر تم 'اللہ کا قانون' کہہ لیا کرو تو بات بالکل واضح ہوجائے گی۔'' (سلیم کے نام: ج۱ ؍ص۱۷۳)

بزمِ پرویز میں اگر کوئی شخص عقل سے کام لینے والا موجود ہو تو وہ ان حضرات سے پوچھے کہ جب قرآنِ کریم کے دیگر مقامات میں اللہ تعالیٰ کے قوانین اور ان کی پیروی کی اہمیت واضح الفاظ میں ذکر کردی گئی ہے تو 'اللہ' کے اسم گرامی کو قانون کے معنی میں لینے کی ضرورت کیا ہے؟ کیا اللہ اور قانون دونوں مترادف ہیں؟ اور اس کے باوجود اگر آپ لوگ 'اللہ' کو قوانین کے معنی لیتے ہیں تو یہ صرف اس لئے ہے کہ مسلمانوں کے ہاں اللہ تعالیٰ پر ایمان کے عقیدے کو مسخ کر دیا جائے اور اہل اسلام کے دلوں سے عظمت ِخدا کے تصور کو ختم کردیا جائے اور مرکزی حکومت کے قوانین کو خدا کے قوانین کا نام دے کر ان کی اہمیت کو دلوں میں راسخ کر دیا جائے۔

مسٹر پرویز اپنے مخصوص تمسخرانہ انداز میں اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کا انکار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: (سلیم کے نام: پیش لفظ، ج۲ )

''خدا کے متعلق عام تصور یہی ہے کہ وہ کائنات سے باہر، انسانی دنیا سے الگ اپنے عرشِ حکومت پر بیٹھا ہے۔ ہمارا فریضہ یہ ہے کہ ہم اس کے اَحکام بجا لاتے رہیں، اس سے وہ خوش ہوجاتا ہے، اگر ایسا نہ کیا جائے تو و ہ ناراض ہو کر انسانوں کو جہنم میں ڈال دیتا ہے، یہ تصور غیر قانونی ہے۔''

دیکھئے مسٹر پرویز کائنات سے الگ عرش پر مستوی ذات ِباری تعالیٰ کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہے، بلکہ وہ ایسے خدا کی تلاش میں سرگرداں ہے جو کسی تنظیم کی شکل میں کائنات کے اندر ہی موجود ہو۔

حالانکہ قرآنی نصوص سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات سے جدا ہے جسے ان دنیاوی آنکھوں سے دیکھا نہیں جاسکتا، اور ہر چیز سے بڑھ کر اس سے اور اس کی شریعت سے محبت کرنا مسلمانوں کے ایمان کا جز ہے، لیکن پرویز ایسے خدا سے محبت کو محال اور دشوار شمار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ''جس قسم کی محبت انسانی محبوب سے کی جاتی ہے، اس قسم کی محبت خدا سے کی ہی نہیں جاسکتی، تم کسی اَن دیکھی چیز سے محبت کر ہی نہیں سکتے۔'' اس سے ذرا آگے چل کر وہ لکھتے ہیں : ''محسوسات کا خوگر انسان کسی غیر مرئی وغیر محسوس حقیقت سے محبت نہیں کرسکتا۔'' (سلیم کے نام: ج۳؍ ص۸۹)

مسٹر پرویز کا یہ دعویٰ آیت ﴿وَالَّذينَ ءامَنوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ...١٦٥ ﴾... سورة البقرة" اور اس جیسی دیگر متعدد آیات کے خلاف ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنا خدا مخلوقات کے اندر ہی تلاش کرنے کی کوشش میں تھے جو محسوس اور مرئی یعنی دنیا میں ہی نظر آنے والا ہو، لہٰذا وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوگئے اور اس نے محسوس اور دنیا میں ہی نظر آنے والا خدا تلاش کر لیا جس کی بشارت وہ اپنے حواریوں کو دیتے ہوئے 'نظامِ ربوبیت' میں صفحہ۱۵۸پرلکھتے ہیں: ''ہم اس مقام پر ایک اہم نکتہ کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں، جسے آگے بڑھنے سے پہلے سمجھ لینا ضروری ہے۔ ہم نے ﴿إِنَّ اللَّهَ اشتَر‌ىٰ مِنَ المُؤمِنينَ...١١١ ﴾... سورة التوبة" کی آیت میں بھی اور مذکورہ صدر آیت میں بھی 'اللہ' سے مراد لیا ہے ''وہ معاشرہ جو قانونِ خداوندی کو نافذ کرنے کیلئے متشکل ہو۔''

قانونِ خداوندی کا لفظ بھی پرویز صاحب کا تکیہ کلام ہے جسے وہ بکثرت اپنی کتابوں میں ذکر کرتے ہیں، ورنہ قارئین پر یہ بات مخفی نہیں کہ وہ قانونِ فرنگی کو قانونِ خداوندی کا نام دیتے ہیں، اور مستشرقین وملحدین کے آراء و افکار کو قرآنی آیات کے لبادے میں پیش کرتے ہیں، اوراس ہیرا پھیری میں وہ مہارتِ تامہ رکھتے ہیں۔ان کی اس چابک دستی کا ہم فراخدلی سے اعتراف کرتے ہیں۔ دوسرے مقام میں وہ اسلامی حکومت کے منشور کو 'میثاقِ خداوندی' کا نام دیتے ہوئے اور اپنے حواریوں کو محسوس اور مرئی خدا کا مشاہدہ کرواتے ہوئے رقم طراز ہیں: (سلسبیل ،ص۱۲۲)

''چونکہ عمال حکومت ِاسلامیہ کا عہدنامہ ان کے اور حکومت کے اقتدارِ اعلیٰ (یعنی ان کے خدا) کے مابین ہوگا، اس لئے ہم نے اس کا عنوان 'میثاقِ خداوندی' مناسب سمجھا ہے۔''

اس کے بعد انہوں نے میثاقِ خداوندی کی تفصیل نقل کی ہے لیکن ان کے سابقہ اقتباس پر غور فرمائیں جس میں انہوں نے اقتدارِ اعلیٰ کو ہی خدا قرار دیا ہے اور ارباب ِاقتدار کو عمالِ حکومت کا خدا بنا کر کفر کا ارتکاب کیا ہے اور اپنے اس کفر کو برملا لوگوں پر مسلط کرتے ہوئے کہتے ہیں:

''قرآن میں جہاں 'اللہ اور رسول' کے الفاظ اکٹھے آتے ہیں، وہاں اس سے مراد کیا ہوتی ہے؟ ... اس سے مراد 'اسلامی نظامِ حکومت' ہے جو خدا کے احکام نافذ کرنے کے لئے متشکل ہوتا ہے۔'' (قرآنی فیصلے، ج۱ ص۲۳۷)

اللہ تعالیٰ کے احکام کے نفاذ سے کسی کو انکار نہیںہے اور نہ ہی اس پر کسی کو کوئی اعتراض ہوسکتا ہے۔ لیکن 'اللہ' اور 'رسول' کے مقدس کلمات سے نظام حکومت مراد لینامسٹر پرویز کے کفر والحاد اور ان کی منافقت کی غمازی کرتا ہے۔ جس کی جرأت اس سے پہلے کسی مسلمان کو نہیں ہوئی۔

مفسرین قرآن پر اپنی من مانی تعبیر تھوپنے کی جسارت

 مفسر ابن جریر طبری پر بہتان : جھوٹے آدمی کو اپنی بات سچ باور کرانے کے لئے دیگر متعدد جھوٹوں کا سہارا درکار ہوتا ہے جیسا کہ مسٹر پرویز نے 'اللہ و رسول' کے مقدس کلمات کو مرکزی حکومت کے لئے استعمال کرکے کذب بیانی کی، اور اسے سچ بنانے کے لئے دوسرا جھوٹ یہ بولا کہ وہ مفسر ابن جریر طبریؒ کو بھی اس میدان میں کھینچ لائے اور یہ دعویٰ کردیا کہ ''یہ بات کہ قرآنِ کریم میں جہاں اس ضمن میں 'اللہ اور رسول'کے الفاظ آئے ہیں، اس سے مراد 'اسلامی نظام' ہے، ہماری اختراع نہیں؛ یہ خیال متقدمین کا بھی تھا، اور خود ہمارے زمانے کے مفسرین کا بھی ہے، مثلاً قرآنِ کریم کی آیت ہے﴿يَسـَٔلونَكَ عَنِ الأَنفالِ ۖ قُلِ الأَنفالُ لِلَّهِ وَالرَّ‌سولِ...١ ﴾... سورة الانفال" اے رسول تم سے پوچھتے ہیں اَنفال (مال غنیمت )کے متعلق، کہہ دو کہ اَنفال اللہ اور رسول کے لئے ہے۔''

امام ابن جریر طبریؒ جن کی تفسیر کو اُمّ التفاسیر کہا جاتا ہے، اللہ و رسول کی تفسیر میں مختلف اقوال نقل کرنے کے بعد اپنا فیصلہ یہ لکھتے ہیں : «وأولی هذه الأقوالِ بالصَّواب في معنی الأنفالِ قول من قال هي زياداتٌ يزيدها الإمامُ لبعض الجيشِ أوجميعِهم»

'' انفال کے معنی کے متعلق ان تمام اقوال میں سے قرین صواب ان لوگوں کا قول ہے جنہوں نے کہا ہے کہ یہ وہ اضافے ہیں جو امامِ وقت بعض یا کل فوج کے لئے کرتا ہے۔''

اس کے بعد مسٹر پرویز حق کا خون کرتے ہوئے کہتے ہیں:

''یہاں انفال کے معنی سے بحث نہیں، مدعا صرف یہ ہے کہ 'اللہ و رسول' کی تفسیر انہوں نے امامِ وقت لکھی ہے۔'' (قرآنی فیصلے از پرویز، ج۲؍ ص۲۲۲)

مستشرقین کے اس ہندی شاگرد نے یہاں ابن جریر طبریؒ کے سر وہ جھوٹ تھوپنے کی کوشش کی ہے جس کا ان کے ذہن میں پو ری زندگی تصور بھی نہیں آیا اور نہ ہی انہوں نے اللہ و رسول کے مقدس الفاظ کو امامِ وقت کے لئے استعمال کیا ہے، بلکہ وہ مذکورہ عبارت میں لفظ اَنْفَال کا معنی اور اس کی تفسیر و تشریح بیان کر رہے ہیں اور ان کے یہ الفاظ «وأولی هذه الأقول بالصواب في معنی الأنفال» اس پر دلیل کے لئے کافی ہیں اور اَنفال کے بارہ میں وہ راجح قول یہ ذکر کر رہے ہیں کہ اس سے مراد ''وہ اضافی مال ہے جو امامِ لشکر مجاہدین میں سے بعض یا سب کو ان کی کارکردگی کے پیش نظر دیتا ہے''... لیکن ان صاحب نے اَنفال کی تشریح میں آنے والے لفظ 'امام' کو 'اللہ و رسول' کی تفسیر بنا دیا اور اِسے ابن جریر طبریؒ کے سر منڈھ دیا ہے، حالانکہ مفسر طبریؒ اپنی مذکورہ عبارت میں 'اللہ و رسول' کی تفسیر نقل نہیں کر رہے ، بلکہ وہ تو صرف اَنفال کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں، اس لئے ان کے کلام کی ابتدا میں یہ لفظ آئے ہیں «قال أبوجعفر: اختلف أهل التأويل في معنی الأنفال» (دیکھئے تفسیر طبری: ج۶؍ ص۱۶۸)

یعنی ابن جریر طبریؒ کے نزدیک اَنفالکی تفسیر میں مفسرین کا اختلاف ہے جسے وہ بیان کر رہے ہیں، اور اس بارے میں مختلف اقوال میں سے راجح قول کو ذکر کر رہے ہیں اور ان کے نزدیک اللہ اور رسول کی مراد میں کسی مسلمان کا اختلاف ہی نہیں جسے ذکر کرنے کی انہیں ضرورت درپیش ہو، ا ور نہ ہی اللہ و رسول کامفہوم ان کے نزدیک امامِ وقت یا مرکزی حکومت ہے، لیکن یہ صاحب ان کے قول کی غلط توجیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ''یہاں اَنفال کے معنی سے بحث نہیں'' حالانکہ امام طبریؒ بحث ہی 'انفال' کے معنی سے کر رہے ہیں، اللہ ورسول کا معنی تفسیر طبری میں زیر بحث ہی نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں امت ِمسلمہ کا کبھی اِختلاف ہی واقع نہیں ہوا۔

٭ مسٹرپرویز کی مثال تو ساون کے اندھے کی سی ہے جسے ہر طرف سبزہ ہی سبزہ نظر آتا ہے، ا س نے اِمامِ وقت یا حکومت ِوقت کو اپنا اللہ اور خدا بنا رکھا ہے، ا س لئے جہاں کہیں اسے 'امام' کا لفظ نظر آجاتا ہے وہ اس کی تعبیر اللہ و رسول سے کرنے کے درپے ہوجاتا ہے، جیسا کہ وہ اب امام رازیؒ کو اپنے کفریہ موقف کی تائید میں گھسیٹتے ہوئے لکھتا ہے:

''امام رازی نے آیت ﴿إِنَّما جَز‌ٰؤُاالَّذينَ يُحارِ‌بونَ اللَّهَ وَرَ‌سولَهُ...٣٣ ﴾... سورة المائدة" کے تحت امام ابوحنیفہؒ کا یہ قول نقل کیا ہے: «اِذا قَتَل واَخَذَ المالَ فالإمام مُخَيَّرٌ فيه بين ثلاثةِ أشياء» امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا کہ ''اگر باغی یا ڈاکو نے قتل بھی کیا ہے اور مال بھی لیا ہے تو 'امام' کو اختیار ہے کہ تینوں سزائوں (قتل، قطع اور صلیب) میں سے جو سزا چاہے، اس کو دے۔ (قرآنی فیصلے، ج۲ ص۲۲۳)

مسٹر پرویز نے صغریٰ امام رازیؒ سے اور اس کا کبریٰ امام ابوحنیفہؒ سے لے کر یہ نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کی ہے کہ امام رازیؒ کے نزدیک بھی اللہ سے مراد امامِ وقت ہے
کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا           بھان متی نے کنبہ جوڑا !!

حالانکہ امام رازیؒ لفظ 'اللہ'کو مخلوقات میں سے کسی دوسرے پر استعمال کرنے کے بالکل خلاف ہیں، اس لئے وہ اپنی کتاب کے آغاز اور سورۃ فاتحہ کی تفسیر میں اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کے تحت لفظ اللّٰہ کی یہ خصوصیت ذکر کرتے ہیں:« اَطبق جميعُ الخلق علی أن قولنا 'الله' مخصوص بالله سبحانهٗ وتعالی وکذٰلك قولنا 'الإله' مخصوص بهٖ سبحانه وتعالیٰ» (تفسیر رازی: ۱؍۱۶۳)

''اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق اس بات پر متفق ہے کہ لفظ اللّٰہ ذات ِباری تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے، ایسے ہی لفظ 'الٰه' اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے۔''

تفسیر رازیؒ میں اللہ تعالیٰ سے متعلق اس وضاحت کے ہوتے ہوئے بھی مسٹر پرویز کا یہ دعویٰ کر دینا کہ امام رازیؒ کے نزدیک 'اللہ' سے مراد امامِ وقت یا وقت کی گورنمنٹ ہے، بہت بڑی جہالت اور حماقت کی بات ہے اور وہ اپنے کفریات کو لوگوں میں رائج کرنے کے لئے علمائے اسلام کو استعمال کرنا چاہتے ہیں جبکہ امام رازیؒ کا مسلک تو یہ ہے کہ کلمہ اسلام (جو کفر سے اسلام میں داخل ہونے کے لئے پڑھا جاتا ہے) میں لفظ 'اللہ' کی جگہ اگر باری تعالیٰ کا ہی کوئی دوسرا نام استعمال کیا جائے تو یہ جائز نہیں ہے، اور نہ ہی اس طرح کوئی شخص دائرئہ اسلام میں داخل ہوسکتا ہے، مثال کے طور پر اگر کوئی غیر مسلم «لاإله إلا الله» کی بجائے «لا إلٰه إلا الرحمٰن» کہے تو امام رازیؒ کے نزدیک ایسا شخص مسلمان نہیں ہوگا۔ ان کے الفاظ ملاحظہ ہوں:

«الخاصية الثانية أن کلمة الشهادة التي بسببها ينتقل الکافر من الکفر إلی الإسلام لم يحصل فيها إلا بهذا الإسم فلو أن الکافر قال: أشهد أن لا إله إلا الرحمٰن أو إلا الرحيم أو إلا الملك أو إلا القدوس، لم يَخرج من الکفر ولم يَدخل في الإسلام أما إذا قال: أشهد أن لا إله إلا اللّه فإنه يخرج من الکفر و يدخل في الإسلام وذلك يدلّ علی اختصاص هٰذا الاسم بهذه الخاصية»

''یعنی کلمہ توحید جسے پڑھ کر کافر اسلام میں داخل ہوتا ہے، وہ کلمہ «لا إله الا الله » ہے۔ اگر کوئی شخص لفظ 'اللہ' کی جگہ کوئی دوسرا نام ذکر کرے، اور «لا اله إلا الرحمٰن» یا« لا إله إلا الرحيم» وغیرہ پڑھے تو وہ کفر سے نہیں نکلے گا اور نہ ہی دائرئہ اسلام میں داخل ہوگا۔کفر سے نکل کر وہ مسلمان تب ہی کہلائے گا جب «لا إله إلا اللّه» پڑھے اور یہ لفظ 'اللہ' کے ذاتِ باری تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہونے کی دلیل ہے۔'' (التفسیر الکبیر از امام رازی: ج۱ ص۱۶۴)

دیکھئے، امام رازیؒ کلمہ توحید میں لفظ اللّٰہ کی جگہ اسماء ِالٰہی سے ہی کوئی دوسرا اسم گرامی استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں دیتے، اور مسٹر پرویز ان سے لفظ 'اللہ' کو امامِ وقت یا حکومت ِوقت پر استعمال کرنے کے جواز کو ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں، اور اس طرح وہ اپنی ضلالت کی تائید میں امام رازیؒ کو سہارا بنانا چاہتے ہیں۔

٭ پرویز صاحب امام سیوطیؒ کوبھی اپنے کفریہ موقف کی تائید میں پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''اسی آیت کی تفسیر میں علامہ جلال الدین سیوطیؒ الدرّالمنثورمیں یہ روایت درج کرتے ہیں: «عن سعيد بن المسيب والحسن والضحاك في الاٰية قالوا: الإمام مخيّر في المحارب يصنع به ما شاء» سعید بن مسیب، حسن بصری اور ضحاک علیہم الرحمہ نے کہا ہے کہ 'محارب' کے معاملہ میں امام کو اختیار ہے کہ جو چاہے کرے۔ '' (قرآنی فیصلے: ج۲ ؍ص۲۲۳)

آخر میں مسٹر پرویز ان مفسرین سے نقل کردہ کلام کا نتیجہ ذکر کرتے ہیں کہ

''ان حضرات کے اَقوال سے دو باتیں ظاہر ہوگئیں، ایک یہ کہ ان کے نزدیک ''اللہ اور رسول'' سے مراد امامِ وقت ہے اور دوسرے یہ کہ ... '' (قرآنی فیصلے: ۲؍۲۲۴)

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ امام سیوطی کے نزدیک آیت ﴿إِنَّما جَز‌ٰؤُاالَّذينَ يُحارِ‌بونَ اللَّهَ وَرَ‌سولَهُ...٣٣ ﴾... سورة المائدة" میں اللہ و رسول سے مراد امامِ وقت نہیں ہے، بلکہ ان کے نزدیک 'اللہ' سے وحی نازل کرنے والی ذات اور رسول سے وحی قبول کرنے والی شخصیت ہی مراد ہے۔ اور ان کی مذکورہ عبارت میں'امام' سے مراد امیرالمومنین ہے، جسے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے خلاف بغاوت اختیار کرنے والے مجرم کو آیت ِبالا میں ذکر ہونے والی سزائوں میں سے کوئی ایک سزا دینے کی اجازت ہے۔

لیکن اگر مسٹر پرویز کے دعویٰ کو تسلیم کر لیا جائے تو بات بالکل اُلجھ جاتی ہے کیونکہ اس کے نزدیک 'اللہ اور رسول' سے مراد امامِ وقت سے الگ ہستیاں نہیں ہیں بلکہ امامِ وقت ہی اللہ و رسول ہے، تو اس طرح آیت ِبالا کا مفہوم یہ بن جاتا ہے کہ جو مجرم اللہ و رسول (یعنی امامِ وقت) کے خلاف بغاوت اختیار کرے، تو اس کی سزا میں امامِ وقت (یعنی اللہ و رسول) کو اختیار ہے وہ اُسے جو سزا چاہے دے سکتا ہے۔ حاصل کلام یہ ہوا کہ ... بقول پرویز... امامِ وقت (اللہ و رسول) اپنے خلاف ہونے والی بغاوت کے مجرم کو خود ہی سزا دے سکتا ہے اور اپنے مقدمہ کا فیصلہ خود ہی کرسکتا ہے کیونکہ بزعم پرویز امامِ وقت سے مراد اللہ و رسول ہے اور اللہ و رسول ہی امامِ وقت ہے۔ گویا مدعی خود ہی قاضی بن کر اپنے کیس کا فیصلہ ثالث کی بجائے خود ہی کرسکتا ہے، بلکہ خود ہی مجرم کو سزا دینے کا اختیار بھی حاصل کر لیتا ہے۔ حالانکہ جس طرح قاضی اپنے ذاتی کیس کا فیصلہ خود نہیں کرسکتا، اسی طرح امامِ وقت سے بھی لازماً 'اللہ و رسول' مرادنہیں ہوسکتا۔

اللہ اور رسول سے مراد 'مرکز ِملت' ہے ... پرویزؔ

مسٹر پرویز نے اپنی پوری کوشش ''اللہ و رسول'' کی اطاعت و فرمانبرداری سے لوگوں کو ہٹانے میں صرف کردی، اور ان مقدس کلمات کے مفاہیم کو بگاڑنے میں دن، رات وہ کو لہو کے بیل کی طرح جتے رہے اور قرآنِ کریم کی تحریف ِمعنوی کرنے کے لئے انہوں نے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں جانے دیا۔ قرآنی آیت ﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَطيعُوا اللَّهَ وَأَطيعُوا الرَّ‌سولَ وَأُولِى الأَمرِ‌ مِنكُم...٥٩ ﴾... سورة النساء" کے الفاظ پر اپنا کافرانہ موقف مسلط کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ''اس آیت ِمقدسہ کا مفہوم بالکل واضح ہے، اس میں 'اللہ و رسول' سے مراد مرکز ِملت یعنی نظامِ خداوندی (Central Authority) اور اولوالامر سے مفہوم افسرانِ ماتحت ہیں۔''

اس سے ذرا آگے چل کر وہ مزید کھل کر سامنے آتے ہیں ''قرآنِ کریم میں مرکز ِملت کو 'اللہ اور رسول' کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔'' (معراجِ انسانیت از پرویز: ص۳۲۲،۳۲۳)

مسٹر پرویز نے چونکہ مرکزی حکومت کو اپنا اللہ اور رسول بنا لیا تھا، اس لئے قرآنِ کریم میں جہاں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے وہاں اس کے نزدیک مرکزی حکومت کی اطاعت وفرمانبرداری مراد ہے۔ جیسا کہ اس نے لکھا ہے : ''حکومت کے انتظامی امور کے لئے ایک مرکز ہوگا اور اس مرکز کے ماتحت افسرانِ مجاز، قرآنِ کریم میں اس کے لئے 'خدا اور رسول' کی اصطلاح آئی ہے یعنی وہ نظامِ خداوندی جسے رسول اللہ نے متشکل فرمایا، خدا اور رسول کی اطاعت سے مقصو د اسی مرکز ِحکومت ِخداوندی کی اطاعت تھی۔'' (قرآنی قوانین، ص۶)

دوسرے مقام پر لکھتا ہے:

''رسول اللہ کے بعد خلیفۃُ الرسول رسول ُ اللہ کی جگہ لے لیتا ہے، اب خدا اور رسول کی اطاعت سے مراد اسی جدید مرکز ِحکومت کی اطاعت ہوتی ہے۔'' (معراجِ انسانیت: ص۳۵۷)

مسٹر پرویز ساری زندگی بے عقلی کی باتیں کرتے رہے اور اپنی کتابوں میں جابجا ایسی باتیں لکھ کر عقل کا منہ چڑاتے رہے، جبکہ ایک عقلمند انسان بشرطیکہ وہ مسلمان بھی ہو بخوبی جانتا ہے کہ اللہ اور رسول کے مقدس کلمات ایسی اصطلاحات نہیں ہیں جنہیں جس پر چاہیں منطبق کردیں، بلکہ لفظ 'اللہ' نام ہے اس ذات مقدس کا جو واجب ُالوجود ہے، عرش پر مستوی اوروحی نازل کرنے والا ہے اور رسول اللہ سے مراد وہ شخصیت ہے جو وحی کو قبول کرنے والی ہے۔ جدید مرکزی حکومت کو ان دونوں میں سے کسی کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں ہے اور نہ ہی اس میں اور اللہ و رسول میں کوئی قدرِ مشترک ہے۔ جس کی بنا پر مرکزی حکومت کو 'اللہ و رسول' بنا دیا جائے۔ اگر بقولِ پرویز مرکزی حکومت کو اللہ و رسول تسلیم کر لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ مرکز ِحکومت وحی نازل کرنے والا ہے اور خود ہی وحی وصول کرنے والا بھی ہے۔ اگر مسٹر پرویز کی عقل کا دیوالیہ نہ نکل گیا ہوتا تو وہ ضرور سوچتے کہ جب قرآنِ کریم اور حدیث ِنبویؐ میں اُمرا اور مسلمان حکمرانوں کی بات ماننے کا حکم بصراحت موجود ہے تو اللہ و رسول کی اطاعت پر مشتمل آیات سے مرکزی حکومت کی اطاعت مراد لینے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ جاتی۔

٭ مسٹر پرویز اللہ و رسول سے جدید مرکز ِحکومت ہی مراد لیتے اور اپنے اسی موقف پر قائم رہتے تو ہوسکتا تھا کہ انہیں ملحد لوگوں کی دنیا میں عقلمند انسان مان لیا جاتا، مگر تعجب ہے کہ وہ اپنے اس موقف پر بھی قائم نہ رہے، اور مرکز ِحکومت کے علاوہ اللہ و رسول کی دیگر مختلف تعبیرات پیش کرکے وہ ملحد لوگوں کے نزدیک بھی عقل و متانت سے عاری ایک یا وہ گو انسان ہی سمجھے جاتے ہیں۔ چنانچہ اب وہ ''اللہ اور رسول'' کی دیگر نئی ہی تعبیریں بیان کرتے ہیں اور آیت ﴿وَما مِن دابَّةٍ فِى الأَر‌ضِ إِلّا عَلَى اللَّهِ رِ‌زقُها...٦ ﴾... سورة هود ''یعنی زمین پر کوئی چلنے والا ایسا نہیں جس کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمہ نہ ہو'' کے تحت وہ 'اللہ' سے معاشرہ مراد لیتے ہوئے لکھتے ہیں: '' ہم نے (اس آیت میں) اللہ سے مراد لیا ہے وہ معاشرہ جو قانونِ خداوندی کو نافذ کرنے کے لئے متشکل ہو۔'' (نظامِ ربوبیت از پرویز ص۱۵۸)

لیکن سوال یہ ہے کہ بزعم پرویز زمین پر چلنے والوں کا رِزق تو معاشرے کے ذمہ ہوگیا، مگر اس معاشرہ کا رزق کس کے ذمہ ہوگا؟ کیونکہ دوسروں کے رزق کی ذمہ داری لینے والے معاشرے کے افراد بھی کھانے، پینے کے سامان سے مستغنی تو نہیں ہیں جنہیں رزق کی ضرورت نہ ہو۔

٭ دوسرے مقام پر خداکو ایک قوت بتاتا ہے اور کہتا ہے :

''قرآنی تعلیم کی بنیاد خدا کی وحدت پر ہے، یعنی اس حقیقت کے اعتراف پر کہ کائنات میں صرف ایک قوت ہے جس کااقتدار واختیار ہے۔'' (لغات القرآن: ج۴؍ ص۱۶۹۰)

اللہ تعالیٰ قائم بالذات، واجب ُالوجود ہے، لیکن اگر کہا جائے کہ وہ ایک قوت ہے، جیسے پرویزنے کہا ہے، تو اس طرح اللہ تعالیٰ کے قائم بالذات ہونے کی نفی ہوجاتی ہے کیونکہ قوت ایک عَرض ہے جو قائم بالغیر ہوتی ہے، تو اللہ تعالیٰ کو ایک قوت بنانے والاذات ِباری تعالیٰ کے وجود سے انکار کرنا چاہتا ہے، اور یہ نظریہ بھی مسٹر پرویز کا اپنا نہیں بلکہ اسے انہوں نے مستشرق میتھو آرنلڈ سے چرایا ہے جو کہتا ہے :

''خدا اس قوت کا نام ہے جو سب کی مسبّب ہے۔'' (انسان نے کیا سوچا،ص۳۸۷)

اسلامی تعلیمات کی بنیاد ایمان باللہ پر ہے، اس لئے مسٹرپرویز نے نظریہ خدا کو لوگوں کے دلوں میں سے مسخ کرنے کے لئے سرتوڑ کوشش کی، اور اس بارے میں وہ مختلف تضادات کا شکار ہوئے ہیں، کبھی وہ خدا کو مرکز ِحکومت بناتے ہیں اور کبھی اسے معاشرہ اور کبھی قوت کہتے ہیں۔ لیکن اول ُالذکر نظریہ اس کے نزدیک راجح معلوم ہوتا ہے ، اس لئے اس پر اس نے دلائل پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ان دلائل کا جائزہ ہم سابقہ صفحات میں ذکر کر آئے ہیں جس سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ مرکز ِملت یا مرکز ِحکومت کو خدا بنا کر مسٹرپرویز دائرہ اسلام سے خارج ہوچکے ہیں کیونکہ کوئی مسلمان کسی مرکز یا معاشرے کو خدا بنانے کی جسارت نہیں کرسکتا۔

آخر میں ہم اللہ تعالیٰ کے بارے میں امام راغب کی المفردات کا اقتباس نقل کرتے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظ اللہ کو مخلوقات میں سے کسی فرد و معاشرہ کے لئے استعمال کرنا جائز نہیں ہے اور المفردات راغب وہ کتاب ہے جسے مسٹر پرویز کی طرف سے بھی شرف ِقبولیت حاصل ہوچکا ہے۔ جیسا کہ انہوں نے لکھا ہے: ''مفردات امام راغب کے علاوہ، نظر سے کوئی ایسی کتاب نہیں گزری جسے خالص قرآنی الفاظ کا لغت کہا جاسکے'' (لغات ُالقرآن، ج۱ ص۲۰)

یہی امام راغبؒ 'الٰہ' کے مادہ کے تحت لفظ 'اللہ' کے بارہ میں فرماتے ہیں:« خُصّ بالباري تعالیٰ ولِتخصّصه به» قال تعالیٰ﴿هَل تَعلَمُ لَهُ سَمِيًّا ٦٥ ﴾... سورة مريم

''لفظ 'اللہ' ذاتِ باری تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اور اس کی خصوصیت کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ''بھلا تم اس کا کوئی ہم نام پاتے ہو؟'' (المفردات، ص۲۱)

امام راغبؒ کی طرح تمام اہل اسلام لفظ 'اللہ' کو اس ذات ِباری تعالیٰ کاذاتی نام مانتے ہیں جو اپنی مخلوقات سے بلند عرش پر مستوی ہے، اور اس لفظ کو خالق کائنات سے مخصوص سمجھتے ہیں اور اس کا استعمال مخلوق میںسے کسی فرد یا جماعت کے لئے حرام جانتے ہیں، لیکن مسٹر پرویز کا لفظ 'اللہ' کو مخلوق میں سے مرکز ِحکومت یا مرکز ِملت کے لئے استعمال کرنا، کبھی اس سے معاشرہ اور کبھی قوت مراد لینا ان کی منافقت کی دلیل ہے، چونکہ اس قسم کے نظریات انہوں نے مستشرقین کی تالیفات سے اَخذکئے ہیں جو قرآن اور اسلام کو ان کی تحریف ِمعنوی کرنے کے لئے پڑھتے ہیں اور وہ سب کافر و ملحد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں، تو ان کے نقش قدم پر چل کر قرآن اور اسلام کی تحریف معنوی کرنے والاغلام احمد پرویز مسلمان کیسے ہوسکتا ہے؟''

مسٹر پرویزنے چونکہ اپنے حواریوں کو جدید مرکزی حکومت کی صورت میں اس دنیا میںہی خدا دکھادیا تھا، اس لئے اس کے عقیدت مند اس پر بڑے خوش ہوتے اور خط و کتابت کے ذریعے وہ اپنی مسرت کا اظہار کرتے رہتے تھے۔ جیسا کہ ایک عقیدت مند نے تفصیلی خط لکھ کر مسٹر مذکورکے ہاں اپنی خوشی کا اظہار ان الفاظ سے کیا:

''وہ خدا جو وہموں کے پردے میں تھا، آپ کی کتابوں کے مطالعہ سے اب وہ ظاہر ہوچکا ہے۔'' (قرآنی فیصلے، ج۴ ص۱۱۰)

پرویزیوں پر ظاہر ہوجانے والا خدا وہی ہے جسے یہ لوگ جدید مرکزی حکومت یا مرکز ملت سے تعبیرکرتے ہیں، ان کے کفر و ارتداد پر اس سے بڑھ کر اور کون سی دلیل درکار ہے؟

(2) ایمان بالرسول

تمام مسلمانوں کے ہاں یہ مسلمہ عقیدہ ہے کہ نبوت و رسالت وہبی چیز ہے، اوراللہ تعالیٰ نے جسے چاہا، اُسے اپنی وحی کے لئے منتخب فرمایا ہے۔ کوئی شخص اپنی ذاتی محنت و کاوش سے یا عبادت و ریاضت سے منصب ِنبوت و رسالت کو حاصل نہیں کرسکتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہے جو اس کے ذاتی اختیار پر منحصر ہے ۔ جملہ اہل اسلام کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد بے شمار انبیائِ کرام علیہم السلام مبعوث ہوئے ہیں لیکن اب نبوت ورسالت حضرت محمد ﷺ پر مکمل ہوگئی ہے۔ اب آپ ﷺ ہی نبی اور رسول ہیں، کوئی شخص آپ ﷺ کے بعد نبی یا رسول کا لقب حاصل نہیں کرسکتا۔ قرآنِ کریم کی آیت ﴿وَما مُحَمَّدٌ إِلّا رَ‌سولٌ...١٤٤ ﴾... سورة آل عمران" میں کلمہ حصر اس بات پر فیصلہ کن دلیل ہے کہ رسول صرف محمد رسول اللہ ﷺ ہی ہیں۔ اوراُمت میں جو شخص اسلامی نظام کے نفاذ میںانتھک محنت کرنے والا ہو یا عملاً اسے نافذ کر دینے والا ہو، وہ رسول اللہ ﷺ کا ادنیٰ اُمتی ہونے سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ اس کے برعکس جو شخص محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے یا کسی اُمتی کو رسول کا لقب دینے لگے، بلکہ وہ قرآنی آیات جو 'رسول' کے لفظ پر مشتمل ہیں انہیں مرکز ِحکومت پرمنطبق کرنے لگے، وہ ختم نبوت کا منکر اور مسلمانوں کے اِجماع کے مطابق وہ دائرئہ اسلام سے خارج ہے۔

اب آئیں دیکھیں،مسٹر پرویز کیسے اس منصب ِرسالت پر ڈاکے ڈالتے رہے اوراُمت کے بعض افراد کو'رسول' کے مقدس لقب سے نوازتے رہے۔ جیسا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿فَلا وَرَ‌بِّكَ لا يُؤمِنونَ حَتّىٰ يُحَكِّموكَ فيما شَجَرَ‌ بَينَهُم...٦٥ ﴾... سورة النساء" کے تحت لکھتے ہیں :

''قرآن سے فیصلہ انفرادی طور پر نہیں لیا جائے گا، بلکہ اس کے لئے ایک زندہ اور محسوس ثالث اور حاکم کی ضرورت ہوگی۔ اس فیصلہ کرنے والی اتھارٹی کو قرآن میں 'اللہ اور رسول' کی جامع اصطلاح سے تعبیر کیا گیا ہے۔'' (سلیم کے نام، ج۲ ص۳۲۸)

دیکھئے پرویز نے ' اللہ و رسول' کو جامع اصطلاح بنا دیا اور اس میں بے شمار افرادکو داخل کرنے کی ناپاک جسارت کی ہے، حالانکہ کوئی مسلمان حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی اُمتی کو رسول کا لقب دینے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔

دوسرے مقام پر وہ رسول کے لفظ سے اپنی مراد کو بیان کرتے ہوئے یوں گویا ہیں:

''اللہ اور رسول سے مراد وہ مرکز ِنظامِ اسلامی ہے جہاں سے قرآنی احکام نافذ ہوں۔'' (معراجِ انسانیت، ص۳۱۸)

لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ مسٹر پرویز کے ہاں قرآنی احکام سے مراد وہ اَحکام نہیں ہوتے جو قرونِ اولیٰ سے مسلمانوں میں مسلم چلے آرہے ہیں اور جو صحابہ کرامؓ اور رسول اکرم ﷺ کے زیر عمل رہے ہیں، بلکہ مسٹرمذکور کے ہاں اس سے مراد وہ احکامات ہوتے ہیں جنہیں وہ فرنگیوں کے افکار کی روشنی میں گھڑتے ہیں اور پھر انہیں بڑی کھینچا تانی سے قرآنی آیات میں ٹانکنا شروع کردیتے ہیں۔ اس کے بعد انہیں'مفہومُ القرآن' یا 'مطالب ُالفرقان' کے نام سے منظر عام پر لے آتے ہیں۔ ذہنی لحاظ سے یورپ سے مرعوب لوگ ایسے افکار کواسلامی اور قرآنی سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں اور قرآن و سنت کی سمجھ رکھنے والے حضرات جب یہ دیکھتے ہیں کہ متن قرآن میں جن لوگوں کی مذمت ہو رہی ہے، مسٹر پرویز کی مفہوم ُالقرآن یا مطالب ُالفرقان میںانہی کوہیرو بنا کر پیش کیا جارہا ہے تو وہ ان کی اس ہیرا پھیری پر سر پیٹتے رہ جاتے ہیں۔

کہتے ہیں کسی جھوٹ کو سچ باور کرانے کے لئے اسے کئی بار بولیں تو سننے والوں کو وہ جھوٹ عین سچ دکھائی دینے لگتا ہے۔ مسٹر پرویز کی کتابوں کا بھی یہی حال ہے، وہ اپنے متعدد جھوٹوں کو قریباًہر کتاب میں دہراتے چلے جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کی تالیفات میں تکرار کی بھرمار ہے اور اس طرح ان کے کذبات اور افتراء ات کو ان کے عقیدت مند سچ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ حالانکہ یہ افکار ملحد مستشرقین کی عقلی غلاظتیں اور ان کی ذہنی نجاستیں ہیں جنہیں مسٹر پرویز اپنی ساری زندگی قرآنی اور اسلامی احکام کے طور پر متعارف کرانے کی حماقت کرتے رہے جیسا کہ وہ اللہ اور رسول سے مرکز ِحکومت اور افسرانِ مجاز جیسی اپنی مراد کو اپنی کتابوں میں لائے ہیں اور لکھتے ہیں:

''حکومت کے انتظامی اُمور کے لئے ایک مرکز ہوگا اور اس مرکز کے ماتحت افسرانِ مجاز، قرآنِ کریم میں اس کے لئے 'خدا و رسول' کی اصطلاح آئی ہے۔'' (قرآنی قوانین: ص۶)

لیکن پرویز نے ... جو مفکر ِقرآن کے لقب سے بھی یاد کئے جاتے ہیں... ان آیاتِ قرآنیہ پر (جن میں اللہ اور رسول کے مقدس کلمات استعمال ہوئے ہیں) رک کر کبھی یہ سوچنے کی زحمت نہ کی کہ ان قرآنی آیات میں اللہ اور رسول کا لفظ مفرد استعمال ہوا ہے جس سے لامحالہ فردِ واحد ہی مراد ہوسکتا ہے جو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا پیغمبر محمد رسول اللہ ﷺ ہے، لہٰذا رسول کا مفرد لفظ افسرانِ مجاز کے جتھوں کے لئے کیسے استعمال ہوسکتا ہے؟ اس سوال کا جواب دینے کی بجائے اب وہ اپنے خود ساختہ 'خدا و رسول' یعنی افرادِ حکومت کو اللہ تعالیٰ کے مبعوث کردہ رسول حضرت محمدرسول اللہ ﷺ کے فیصلوں کو کینسل کرنے اور منسوخ بنانے کااختیار دیتے ہوئے رقمطرازہیں:

''اسلامی نظام) سابقہ اَدوار کے فیصلوں میں خواہ وہ رسول اللہ کے زمانے میں ہی کیوں نہ صادر ہوئے ہوں، ردّ و بدل کرسکتا ہے اور بعض فیصلوں کو منسوخ بھی کرسکتا ہے۔'' (شاہکارِ رسالت، ص۲۸۱)

مسٹر پرویز کی طرف سے منصب ِرسالت پر اس ڈاکہ زنی کا مذکورہ کتاب کے نام (شاہکارِ رسالت) سے جو کھلا ہوا تضاد ہے، اس سے قطع نظر اگر... بقولِ پرویز... اسلامی نظام کی علمبردار حکومت اور اس کے افسروں کو رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے فیصلوں کو تبدیل یا منسوخ کرنے کا اختیار دے دیا جائے تواس طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ پر وحی کا نزول بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے بلکہ بایں طور تو آپ ﷺ کے فرمودات کا آپ کے کسی اُمتی کے قول و فعل سے بھی کوئی امتیاز باقی ہیں رہتا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کی طرف سے بعض احکام کا نسخ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی وحی سے ہوتا تھا۔ لیکن مسٹر پرویز کے خود ساختہ رسول (اسلامی حکومت) کا ردّوبدل اور نسخ اپنی ہوائے نفس سے ہوگا اور وحی الٰہی کے خلاف بھی۔ مسٹر پرویز کو نجانے ایسے کفریہ عقائد اپنانے اور انہیں لوگوں تک پہنچانے میں کیا لذت آتی تھی کہ وہ ان سے توبہ کرنے کی بجائے اُلٹا انہیں اپنی سب تصنیفات میں دہراتے رہتے تھے، جیسا کہ وہ لکھتے ہیں:

''قرآن میں جہاں 'اللہ اور رسول'کے الفاظ اکٹھے آتے ہیں، وہاں اس سے مراد اسلامی نظامِ حکومت ہے جو خدا کے احکام نافذ کرنے کے لئے متشکل ہوتا ہے۔ (قرآنی فیصلے، ج۱ ص۲۳۷)

اندھی عقیدت سے بالاتر ہو کر پرویزی لٹریچر کا مطالعہ کرنے والے شخص پر یہ بات مخفی نہیں ہے کہ مسٹر پرویز عام طور پر اپنی تالیفات میں اپنی لفاظی کا جادو دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور لفظی ہیرا پھیری سے وہ عامۃ ُالناس کو اپنے جال میں پھانسنے کی تاک میں رہتے ہیں جیسا کہ وہ مذکورہ اقتباس میںاور اس جیسے دیگر مقامات میں کہا کرتے ہیں کہ

''قرآن میں جہاں 'اللہ اور رسول'کے الفاظ اکٹھے آتے ہیں،وہاں اس سے مراد اسلامی نظامِ حکومت ہوتا ہے۔''

اس سے عام قاری یہی سمجھتا ہے کہ مسٹر پرویز کے ہاں اللہ اور رسول سے اسلامی نظامِ حکومت اسی وقت مراد ہے جبکہ یہ دونوں لفظ اکٹھے آجائیں لیکن یہ الفاظ ایک دوسرے سے جدا ہو کر استعمال ہوں تو پھر شاید اس کے ہاں اللہ سے مراد ذات ِباری تعالیٰ اور رسول سے مراد محمد رسول اللہ ﷺ کی شخصیت ہوتی ہے۔ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے، اور نہ ہی کسی شخص کو اس مغالطہ کاشکار ہونا چاہئے۔ بلکہ مسٹرپرویز کے نزدیک رسول کا لفظ خواہ لفظ اللہ سے مل کر استعمال ہو یا اُس سے جدا ہو کر، بہرحال اس سے ہر دور کی 'مرکزی اتھارٹی' ہی مراد ہوتی ہے جیسا کہ اس نے آیت ﴿وَإِذا جاءَهُم أَمرٌ‌ مِنَ الأَمنِ أَوِ الخَوفِ أَذاعوا بِهِ ۖ وَلَو رَ‌دّوهُ إِلَى الرَّ‌سولِ وَإِلىٰ أُولِى الأَمرِ‌ مِنهُم لَعَلِمَهُ الَّذينَ يَستَنبِطونَهُ مِنهُم...٨٣ ﴾... سورة النساء" کا مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھا ہے :

''ان کے دعوائے اطاعت کوشی کی یہ کیفیت ہے کہ جب کہیں سے امن یا خوف کی اُڑتی ہوئی سی بات سن پاتے ہیں تو اسے لے دوڑتے ہیں اور خوب پھیلاتے ہیں۔ حالانکہ نظام سے وابستگی اور اطاعت کا تقاضا ہے کہ ایسی باتوں کو رسول (یعنی مرکزی اتھارٹی) یا اپنے افسرانِ ماتحت تک پہنچا یا جائے تاکہ وہ لوگ جو بات کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس کی اچھی طرح جانچ پڑتال کر لیں۔'' (مفہوم القرآن، ج۱ ص۲۰۵)

دیکھئے یہاں لفظ 'رسول' کومسٹر پرویز نے مرکزی اتھارٹی سے تعبیر کیا ہے، اس لئے کہ لفظ 'رسول' خواہ لفظ 'اللہ' سے مل کر آئے یا اُس سے جدا ہو کر، دونوں صورتوں میں مسٹر مذکور کے ہاں اس سے مرکزی اتھارٹی یا مرکز ِملت مراد ہوتا ہے۔ اس کے ہاں ان سے مراد ذات ِباری تعالیٰ اور محمد رسول اللہ ﷺ کی شخصیت ہرگز نہیں ہوتی۔

بالکل ویسے ہی جیسے کہ غلام احمد پرویز کو اپنے داد ا رحیم بخش کے ساتھ ملا کر ذکر کیا جائے یا اس سے جدا کرکے، دونوں صورتوں میںاس سے مراد وہی شخص ہوگا جو اپنی پوری زندگی فرنگی اَفکار کو قرآن کے نام پر لوگوں کے سامنے پیش کرکے ان کی عقلوں سے کھیلتا رہا، او ر امت ِمسلمہ کے اَسلاف کو سازشی قرار دے کر خود اسلام کا علمبردار اور اس کا ٹھیکے دار بنتا رہا۔

مسٹرپرویز اگر اپنی کسی کتاب میں محمد رسول اللہ کا نام نامی ذکر بھی کرتے ہیں، تو اس کے ہاں اس سے مراد بھی وہ ذات ِرسالتما ٓب نہیں ہوتی جن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوتی تھی بلکہ وہ حضرت محمد ﷺ کو بھی ایک ریفارمر(مصلح) کی حیثیت سے لیتے ہیں، اور آپ ﷺ پر من جانب اللہ وحی کے نزول کے منکر ہیں ، جیسا کہ وہ لکھتے ہیں :

''دوسری طرف ہمارا مذہب پرست طبقہ ہے ۔ وہ بھی حقیقت کو بالعموم جس انداز سے پیش کرتا ہے، اس سے نہ صرف یہ کہ حقیقت کما ھی سامنے نہیں آتی بلکہ ان کے بیان سے جو تصویر ذہن میں مرتسم ہوتی ہے ، اس سے رسول کا صحیح مقام نگاہوں کے سامنے نہیں آتا، یہ کہتے ہیں کہ آپ مامور من اللہ تھے جو کچھ اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ، آپ اس کی تعمیل کرتے تھے۔'' (معراجِ انسانیت از پرویز: ص ۱۷۴)

حالانکہ پرویز کے ہاں صحت کے اعتبار سے شرفِ قبولیت حاصل کرنے والی کتاب المفردات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی پانے والی شخصیت کو ہی نبی کہا گیا ہے۔امام راغبؒ فرماتے ہیں :

«النبوة سفارة بين الله وبين ذوي العقول من عباده لإزاحة علتهم في أمر معادهم ومعاشهم» (المفردات: ص۴۸۲)

''نبی اللہ تعالیٰ اور اس کے اہل عقل بندوں کے درمیان پیغامبر ہوتا جو ان کی دنیا اور آخرت کے معاملات میں واقع ہونے والے فساد کا اِزالہ کرنے کے لئے بھیجا جاتا تھا۔ ''

اور قرآنِ کریم کی متعدد آیات میں آپ ﷺ پر وحی کے نزول کی صراحت موجود ہے۔ اس لئے مسٹر پرویز مسلمانوں کے اجماع کے خلاف 'رسول' کے لفظ سے مرکزی اتھارٹی یا مرکز ِملت مراد لے کر اور آپ ﷺ کے مامور من اللہ ہونے کا انکار کرکے دائرئہ اسلام سے خارج ہوچکے ہیں۔

(3) آخرت پر ایمان

اسلامی عقائد میں، 'یومِ آخرت' پر ایمان لانے کو جو اہمیت حاصل ہے، اس سے ہر صاحب ِ ایمان شخص بخوبی واقف ہے، اور وہ علی وجہ ِالبصیرت اس بات کو جانتا ہے کہ اس دنیا کی زندگی کے بعد موت ہے اور موت کے بعد قیامت کے دن ہر شخص کو زندہ کرکے اُٹھایا جائے گا اور ہر مردوزَن اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہو کر اچھے یا برے اعمال کا حساب دے گا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ہدایت کی کتابوں کے ذریعہ اور انبیائِ کرام کو مبعوث کرکے اچھے یا برے اَعمال سے لوگوں کو آگاہ کردیا، لہٰذا آخرت کے دن نیک اَعمال سرانجام دینے والے لوگ مقامِ جنت میں اللہ تعالیٰ کے مہمان ہوں گے اور وہ اپنے اچھے عملوں کی جزا دیئے جائیں گے، اور شریعت ِالٰہیہ سے ہٹ کر زندگی گزارنے والے لوگ جہنم رسید کئے جائیں گے اور اپنے بُرے اعمال کی سزا پائیں گے۔ اور قرآن کریم واشگاف الفاظ میں اس بات کی طرف راہنمائی کرتا ہے کہ جنت اور جہنم دو مقام ہیں جو اللہ تعالیٰ نے نیک اور بد لوگوں کی جزا اور سزا کے لئے تیار کر رکھے ہیں، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿فَأَمّا مَن طَغىٰ ٣٧ وَءاثَرَ‌ الحَيو‌ٰةَ الدُّنيا ٣٨ فَإِنَّ الجَحيمَ هِىَ المَأوىٰ ٣٩ وَأَمّا مَن خافَ مَقامَ رَ‌بِّهِ وَنَهَى النَّفسَ عَنِ الهَوىٰ ٤٠ فَإِنَّ الجَنَّةَ هِىَ المَأوىٰ ٤١ ﴾... سورة النازعات

'' جس شخص نے سرکشی اور شرارت کی زندگی گذاری اور دنیا کی زندگی کو ہی ترجیح دی تو جہنم اس کا مقام ہوگا، لیکن جو شخص اپنے ربّ کے سامنے حساب دینے سے ڈر کر زندگی بسر کرتا رہا او راپنے آپ کو نفسانی خواہشات سے روکتا رہا تو اس کا مقام جنت ہوگا۔''

پرویز کے نزدیک 'جہنم' سے مراد

آب آئیں دیکھیں، پرویزمسلمانوں کے ہاں مسلمہ عقیدۂ آخرت کی کیسے تحریف کرتا ہے اور جنت وجہنم کے دو مقام ہونے سے انکار کرتا ہے، بلکہ وہ جنت و جہنم کو اپنے قلم کے زور سے دنیا میں ہی کھینچ لانے کے درپے ہے، اور لکھتا ہے :

''جہنم انسان کی قلبی کیفیت کا نام ہے، لیکن قرآنِ کریم کا انداز یہ ہے کہ وہ غیر محسوس، مجرد حقائق کو محسوس مثالوں سے سمجھاتا ہے۔'' (جہانِ فردا: ص ۲۳۵)

مسٹر پرویز جہنم کو حقیقت سے خالی، غیر محسوس قلبی کیفیت کا نام دیتا ہے، اور اس کے مخصوص مقام کا نام ہونے سے انکار کرتا ہے، اور اس کا یہ نظریہ فرمانِ الٰہی کے خلاف ہے جس میں فاسق و فاجر لوگوں کے جہنم میںداخل ہونے کی صراحت پائی جاتی ہے، اِرشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿كَلّا إِنَّهُم عَن رَ‌بِّهِم يَومَئِذٍ لَمَحجوبونَ ١٥ ثُمَّ إِنَّهُم لَصالُوا الجَحيمِ ١٦ ثُمَّ يُقالُ هـٰذَا الَّذى كُنتُم بِهِ تُكَذِّبونَ ١٧ ﴾... سورة المطففين

''وہ (مجرم لوگ) اس (قیامت کے) دن اپنے ربّ تعالیٰ (کے دیدار) سے روک دیئے جائیں گے، اس کے بعد وہ جہنم میں داخل ہوں گے پھر ان سے کہا جائے گا یہ وہی جہنم ہے جسے تم (دنیا میں) جھٹلایا کرتے تھے۔''

مسٹر پرویز کو سوچنا چاہئے تھا کہ اگر جہنم غیر محسوس قلبی کیفیت کا نام ہے، جیسا کہ ان کا زعم باطل ہے تو اس میں داخل ہونے کا کیا معنی ہے؟اور کسی شخص کو قلبی کیفیت میں داخل ہونے کا حکم کیسے دیا جاسکتا ہے؟ قرآنِ کریم میں مجرمین کے جہنم میں داخل ہونے کا فرمان موجود ہے تو ا س کا مطلب یہ ہے کہ جہنم قلبی کیفیت نہیں ہے، بلکہ ایک مقام کا نام ہے، جس میں مجرم لوگ داخل کئے جائیں گے اور داخلہ کسی محسوس مقام میں ہی ہوتا ہے قلبی کیفیت میں نہیں، اور ﴿ثُمَّ يُقالُ هـٰذَا الَّذى كُنتُم بِهِ تُكَذِّبونَ ١٧ ﴾... سورة المطففين" میں جہنم کے متعلق (هٰذَا) اسم اشارہ کا استعمال کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ جہنم محسوس چیز کا نام ہے کیونکہ کسی محسوس چیز کی طرف اشارہ کرکے ہی یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ وہی جہنم ہے جسے تم دنیا میں ماننے کے لئے تیار نہیں تھے۔ بنابریں پرویز کا اسے قلبی کیفیت بتانا اور اسے غیر محسوس، حقیقت سے خالی حالت قرار دینا ایسا فکر ہے جو سراسر قرآنی نصوص کے خلاف ہے

پرویز کے نزدیک 'جنت' سے مراد

مسٹرپرویز جہنم کی طرف جنت کے بارہ میں بھی اپنا ایسا ہی باطل نظریہ اپنے حواریوں پر ٹھونستے ہوئے لکھتے ہیں:

''جہنم کی طرح اُخروی جنت بھی کسی مقام کا نام نہیں، کیفیت کا نام ہے۔'' (جہانِ فردا:ص۲۷۰)

ادھر قرآنِ کریم جنت کے متعلق لفظ ہی 'مقام' کا استعمال کرتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿إِنَّ المُتَّقينَ فى مَقامٍ أَمينٍ ٥١ فى جَنّـٰتٍ وَعُيونٍ ٥٢ ﴾... سورة الدخان '' پرہیزگار لوگ اَمن کے مقام جنت اور اس کے چشموں میں ہوں گے۔''

بلکہ قرآنِ مجید تو جنت کے دروازوں کا ذکر بھی کرتا ہے، سورئہ زمر میں ہے:

﴿وَسيقَ الَّذينَ اتَّقَوا رَ‌بَّهُم إِلَى الجَنَّةِ زُمَرً‌ا ۖ حَتّىٰ إِذا جاءوها وَفُتِحَت أَبو‌ٰبُها وَقالَ لَهُم خَزَنَتُها سَلـٰمٌ عَلَيكُم طِبتُم فَادخُلوها خـٰلِدينَ ٧٣ ﴾... سورة الزمر

''جو لوگ اپنے ربّ سے ڈر کر زندگی گذارتے رہے، ان کو گروہ در گروہ جنت کی طرف روانہ کیا جائے، جب وہ اسکے پاس پہنچیں گے اور ا سکے دروازے کھول دیئے جائیں، تو جنت کے فرشتے ان سے کہیں گے تم پر سلام ہو، تم بہت اچھے رہے، اب اس جنت میں ہمیشہ کے لئے داخل ہوجائو۔''

غور کیجئے، دروازے ایسی چیز کے ہوتے ہیں جو جوہر اور قائم بالذات ہو۔ مسٹر پرویز دل کی کیفیت کو جنت بناتے ہیں جو عرض ہے ،جس کے لئے دروازوں کا ہونا ناممکن ہے۔ اور وہ چونکہ چور دروازے سے داخل ہو کر مفکر قرآن بنے ہیں، اس لئے ان کے نزدیک ممکن اور ناممکن میں کوئی فرق نہیں تھا، اور وہ محال چیز کو ممکن کہنے سے بھی دریغ نہیں کیا کرتے تھے، یہ بات ان کی تالیفات سے واضح ہے جیسا کہ ایک مقام پر وہ اپنے حجرے میں بیٹھے قلم کے زور سے جنت کو عالم بالا سے دنیا میں کھینچ لانے کی کوشش کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:

''جنت کی آسائشیں اور زیبائشیں وہاں کی فراوانیاں اور خوشحالیاں اس دنیا کی زندگی میں حاصل ہوجاتی ہیں، مرنے کے بعد کی جنت کے سلسلہ میں ان کا بیان تمثیلی ہے۔''(نظامِ ربوبیت:ص۸۲)

مسٹر پرویز کی دنیاوی جنت چونکہ خود ساختہ ہے اور خلافِ قرآن بھی، اس لئے قرآنِ کریم کی روشنی میں پرویزی جنت پنپ نہیں سکتی، کیونکہ قرآنی جنت تو وہ ہے جو موت کے بعد قیامت کے دن حاصل ہوگی اور اس جنت میں داخل ہونے کے بعد کبھی موت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، اور نہ ہی جنتی کو اس سے کبھی نکالاجائے گا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿لا يَذوقونَ فيهَا المَوتَ إِلَّا المَوتَةَ الأولىٰ ۖ وَوَقىٰهُم عَذابَ الجَحيمِ ٥٦ ﴾... سورة الدخان ''یعنی پہلی (دنیا کی)موت کے بعد اس میں اہل جنت موت کا شکار نہیں ہوں گے اور اللہ تعالیٰ انہیں جہنم کے عذاب سے بچا لے گا۔''

مسٹر پرویز نے اس جنت کو جو دنیاوی موت ﴿المَوتَةَ الأولىٰ﴾ کے بعد تھی، موت سے پہلے ہی دنیا کی زندگی میں تراشنے کی سعی لاحاصل کی ہے جو قرآنِ کریم کی آیات کے خلاف ہے۔ ان کے دل میں اگر خوفِ خدا کی رمق باقی ہوتی تو وہ ایسا غلط نظریہ پیش کرنے کی جسارت ہرگز نہ کرتے اور غیر قرآنی چیز کوقرآنی بنانے کی کوشش نہ کرتے، اس پر مستزاد یہ کہ مسٹر مذکور نے مرنے کے بعد حاصل ہونے والی جنت کے متعلق قرآنی آیات کو تمثیل قرار دے کر...معاذ اللہ... اللہ تعالیٰ کو ڈرامہ باز بنانے کی حماقت کی ہے کیونکہ عربی لغت میں'تمثیل' کا معنی ڈرامہ ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی، لہٰذا ایسے شخص کو جو اللہ تعالیٰ کے فرامین کو حقائق پر محمول کرنے کی بجائے انہیں تمثیلی قرار دے ، دین اسلام کے بارے میں ہرگز مخلص تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔

جنت وجہنم کا خالق کون؟

پرویز چونکہ اپنی خیالی دنیا میں جنت اور جہنم کو اس دنیا میں لے آئے تھے، اس لئے لازم تھا کہ وہ اس جنت او رجہنم کو تیار کرنے والا بھی خود انسان کوبناتے، لہٰذا وہ اس بات کا اعلان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

''اس کے یہ معنی نہیں کہ یہ کوئی ایسی چیز ہے، جسے خدا نے وہاں اپنے طور پر الگ تیار کر رکھا ہے، اس کا مفہوم وہی ہے جسے اوپر بیان کیا گیا ہے، یعنی ہر شخص اپنی جنت یا جہنم زندگی کے ہر سانس میں ساتھ کے ساتھ تیار کرتا رہتا ہے۔'' (لغات القرآن: ج۳، ص۱۱۲۹)

مسٹر مذکور کا یہ نظریہ بھی قرآنی نصوص سے متصادم ہے، قرآن کریم کی وضاحت کے مطابق جنت وجہنم کو تیار کرنے والا کوئی انسان نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم جَنّـٰتٍ تَجر‌ى مِن تَحتِهَا الأَنهـٰرُ‌ خـٰلِدينَ فيها ۚ ذ‌ٰلِكَ الفَوزُ العَظيمُ ٨٩ ﴾... سورة التوبة

''یعنی ان(کامیاب ہونے والوں) کے لئے جنت کے مقامات اللہ تعالیٰ نے خود تیار کئے ہیں، جن میں نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہ ان کی بڑی کامیابی ہوگی۔''

نیز فرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿رَ‌ضِىَ اللَّهُ عَنهُم وَرَ‌ضوا عَنهُ وَأَعَدَّ لَهُم جَنّـٰتٍ تَجر‌ى تَحتَهَا الأَنهـٰرُ‌ خـٰلِدينَ فيها أَبَدًا...١٠٠ ﴾... سورة التوبة

''ان مہاجرین و انصار سے اللہ تعالیٰ راضی ہوگیا، اور وہ اس پر راضی ہوئے او راس (اللہ) نے ان کے لئے جنت کے مقامات تیار کئے ہیں، جن میں نہریں بہتی ہیں، اور وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔''

او رجہنم کے بارے میں فرمانِ الٰہی ہے: ﴿وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيهِم وَلَعَنَهُم وَأَعَدَّ لَهُم جَهَنَّمَ ۖ وَساءَت مَصيرً‌ا ٦ ﴾... سورة الفتح

''اور اللہ تعالیٰ ان (منافقوں اور مشرکوں) پر غصہ ہوا اور اس نے ان پر لعنت کی، اور ان کے لئے جہنم تیار کی ہے، اور وہ بہت بُری جگہ ہے۔''

ان قرآنی آیات میں اس بات کی صراحت پائی جاتی ہے کہ جنت و جہنم کو تیار کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے، ا س کے برعکس مسٹر پرویز کے مذکورہ اقتباس کو دیکھئے کہ وہ کیسے سینہ زوری سے قرآن کریم کی صریح آیات کی مخالفت کرتے ہیں اور جنت او رجہنم کا خالق اور ان کاتیار کرنے والا انسان کو بنانے کی کوشش میں ہیں۔

جہنم کے حق دار کون؟

مسٹر پرویز اپنی ساری زندگی مسلمانوں کو ہی گمراہ بناتے رہے، اور اہل اسلام کے اسلاف کو سازشی قرار دیتے رہے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے جہنم کے حقدار بھی مسلمانوں کوہی بنا ڈالا جس کا اظہار کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں: ''قرآن کریم نے جو کہا تھا کہ جہنم میں اکثریت ان لوگوں کی ہوگی جو اپنے جرائم کا بوجھ بھی اپنی پیٹھ پر لادے ہوں گے، اور ان لوگوں کے جرائم کا بوجھ بھی جو ان کی وجہ سے غلط راہوں پر چل نکلے تو مجھے تو اس کے مخاطب ہم مسلمان ہی دکھائی دیتے ہیں۔''(نظام ربوبیت ، ص۲۶۷)

مسٹر پرویز ہمیشہ اسی تگ و دو میں رہتے تھے کہ آیاتِ قرآنیہ کی وعید کو مسلمانوں پر ہی منطبق کر دیں، اور مسلمانوں کو لوگوں کے سامنے مجرم بنا کر پیش کریں، جیسا کہ اس مقام پر آپ دیکھ رہے ہیں کہ وہ دنیاوی زندگی میں کمزور ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کو ہی جہنمی بنانے کے درپے ہیں ، جس کا سبب یہ ہے کہ ان کے نزدیک دنیا کی آسائشیں اور دنیاوی خوشحالیاں ہی بنیادی چیزیں ہیں جنہیں وہ جنتی زندگی سمجھتے ہیں، لہٰذا جو شخص ان آرائشوں اور زیبائشوں سے محروم ہے، وہ اس کے نزدیک جنت کی نعمتوں سے بھی محروم ہے، اور جہنم کا حقدار بھی ہے۔ لیکن ان کا یہ نظریہ اس وقت خاک میں مل جاتاہے جب ہم قرآنِ کریم میں سابقہ قوموں کے واقعات کا مطالعہ کرتے ہیں، انہیں دنیا کی خوشحالیاں حاصل ہونے کے باوجود ان کے جرائم کی و جہ سے عذاب نازل کرکے نیست و نابود اور دنیا سے بے دخل کر دیاگیا، حالانکہ وہ دنیا کی پرویزی جنت میں مزے لے رہے تھے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی زندگی خواہ کتنی ہی خوشحال ہو اسے جنت قرار نہیں دیاجاسکتا، اس لئے مسٹر پرویز کا یہ کہنا کہ

''آج ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ کسی طرح اس دنیا کی جہنم جنت سے بدل جائے۔'' (لغات القرآن: ج۱؍ ص۴۴۹)

یہ ان کی بے فائدہ کوشش ہے کیونکہ پرویزی جنت سے موت آنے پر بہرحال بے دخل ہونا پڑے گا، جبکہ وہ جنت جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمانبردار بندوںکے لئے آخرت میں تیار کی ہے، اس میں نہ موت ہے اور نہ ہی اس میں جانے والے کوکبھی اس سے بے دخل ہی کیا جائے گا بلکہ وہ ﴿خَالِدِيْنَ فِيْهَا﴾ کے تحت اس میں ہمیشہ رہے گا۔

جنت اور دوزخ ، دنیا میں یا آخرت میں؟

تمام مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ جنت اور دوزخ کا تعلق آخرت کی زندگی سے ہے، اور قرآن و سنت نیز اجماعِ امت سے یہ بات بھی مسلم ہے کہ آخرت کی زندگی قیامت قائم ہونے کے بعد شروع ہوگی اور اس وقت اس دنیا کا سارا سلسلہ درہم برہم کردیا جائے گا، اس کے برعکس پرویز کی جہنم اور جنت اس دنیا کی زندگی سے ہی تعلق رکھتی ہے، بلکہ پرویزیوں کی قیامت اور آخرت بھی اس دنیا سے ہی شروع ہوجاتی ہے، جیسا کہ وہ خود لکھتے ہیں:

یوم القیامةسے مراد ہوگا وہ انقلابی دور جو قرآن کی رو سے سامنے آیا تھا۔'' (جہانِ فردا: ص۱۳۳)

حالانکہ قرآن کی رو سے جو انقلابی دور رسول اللہ ﷺ کی زندگی میںسامنے آیا تھا، اس میں آپس کے دشمن باہمی محبت و مودّت کے رشتے میں منسلک ہوگئے تھے، اور جو پشت در پشت خون کے پیاسے تھے وہ اس انقلاب کے بعد ایک دوسرے کے غمخوار اور غمگسار بن گئے تھے، او ران میں مثالی مؤاخاۃ اور بھائی چارہ قائم ہوگیا تھا، لہٰذا ایسے دور کو 'یوم القیامہ' کیسے کہا جاسکتا ہے؟

حالانکہ قیامت کے دن تمام رشتے ناطے ٹوٹ جائیں گے اور ہرایک کو اپنی جان کی ہی فکر ہوگی، کوئی شخص کسی دوسرے کا پرسانِ حال نہیںہوگا۔جیسا کہ قرآن کریم نے قیامت کا منظر پیش کیا ہے:﴿إِذ تَبَرَّ‌أَ الَّذينَ اتُّبِعوا مِنَ الَّذينَ اتَّبَعوا وَرَ‌أَوُا العَذابَ وَتَقَطَّعَت بِهِمُ الأَسبابُ ١٦٦ ﴾... سورة البقرة

''اس (قیامت کے) دن پیشوا لوگ اپنے پیرئووں سے بیزار ہوجائیں گے اور وہ عذابِ الٰہی دیکھ لیں گے اور ان کے آپس کے تعلقات منقطع ہوجائیں گے۔''

یومِ قیامت کب؟:بنابریں قرآن کی رو سے سامنے آنے والے انقلابی دور کو یوم القیامۃ نہیںکہا جاسکتاجو خوشحالیوں کا مجموعہ تھا جبکہ قیامت تو بڑی آفتوں پر مشتمل ہوگی۔ بعض قرآنی آیات میںاسی روزِ قیامت کے لئے الساعۃ کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے، اور پرویز اپنی عادت کے مطابق اس لفظ کی بھی تحریف معنوی کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

''الساعۃ'' سے مراد حق و باطل کی وہ آخری جنگ ہوتی ہے جس میں باطل کی قوتیں شکست کھا کر برباد ہوجاتی ہیں۔'' (لغات القرآن، ج۲، ص۹۱۸)

لیکن پرویز کی اس اختراع پر سوا ل پیدا ہوتا ہے کہ صاحب ِقرآن ﷺ سے جب الساعۃ کے بارہ میں پوچھا جاتاتھا تو آپ اس کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹایا کرتے تھے، جیسا کہ سورئہ احزاب میں ہے: ﴿يَسـَٔلُكَ النّاسُ عَنِ السّاعَةِ ۖ قُل إِنَّما عِلمُها عِندَ اللَّهِ...٦٣ ﴾... سورة الاحزاب

''یعنی لوگ آپ سے الساعۃ (قیامت) کے بار ے میں دریافت کرتے ہیں، کہہ دو اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔''

جب قیامت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، تو مسٹر پرویز کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ حق و باطل کے درمیان ہونے والی جنگوں میں سے آخری جنگ ہے جس میں باطل کی قوتیں شکست کھا جائیں گی۔اس پر مستزاد یہ کہ اہل حق اور اہل باطل تو ہر دور میںموجود رہتے ہیں، او رحق و باطل کی جنگیں بھی ہر زمانہ میں ہوتی رہتی ہیں او ریہ سلسلہ آئندہ بھی چلتا جائے گا، تو مسٹر مذکور نے اسے آخری جنگ کیسے بنا دیا؟ جبکہ یہ جنگی سلسلہ کبھی منقطع ہونے والا نہیں ہے۔ نیز قرآن کریم کاادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ الساعۃ (قیامت) کو بپا کرنا اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے، کسی انسان یا انسانوں کے کسی گروہ کے اختیار میں نہیں ہے کہ وہ قیامت کو قائم کردے جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿يَسـَٔلونَكَ عَنِ السّاعَةِ أَيّانَ مُر‌سىٰها ۖ قُل إِنَّما عِلمُها عِندَ رَ‌بّى ۖ لا يُجَلّيها لِوَقتِها إِلّا هُوَ...١٨٧ ﴾... سورة الاعراف ''لوگ آپ سے قیامت کے بارہ میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب واقع ہوگی؟ کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے ربّ کو ہے، وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کرے گا۔''

اس کے برعکس مسٹر پرویز نے قیامت کو اہل حق و باطل کے درمیان آخری جنگ قرار دے کر اس کے ظاہر کرنے کا اختیار بجائے اللہ تعالیٰ کے، لوگوں کے ہاتھ میں دے دیا ہے، ایسے شخص کو مفکر ِقرآن کہنے کی بجائے محرفِ قرآن کہنا چاہئے جس نے اللہ تعالیٰ کی مقدس کتاب کو بازیچہ اطفال بنا رکھا تھا۔

پرویز کی نظر میں آخرت کیا ہے؟

چنانچہ اس محرفِ قرآن نے ساعت اور قیامت کی طرح 'آخرت' کے مفہوم کو بھی مسخ کرنے کی کوشش کی ہے، جیسا کہ وہ اپنے متبنّٰی سلیم کو آخرت کا مفہوم سمجھاتے ہوئے لکھتا ہے :

''جو فائدہ پوری نوعِ انسانی کے اندر گردش کرتا ہوا افراد تک پہنچتا ہے، اسے مآلِ کار، آخرالامر یا مستقبل کا فائدہ کہا گیا ہے جس کے لئے قرآن میں آخرت (مستقبل) کی اصطلاح آئی ہے۔'' (سلیم کے نام: ج۱؍ ص۲۱۳)

سلیم کو چاہئے تھا کہ وہ پرویز سے پوچھتا کہ یہ آخرت جو آپ نے پیش کی ہے، ان لوگوں کی ہے جو نوعِ انسانی کو فائدہ پہنچاتے ہیں، لیکن جو لوگ نوعِ انسانی کو راہِ راست سے گمراہ کرکے انہیں نقصان پہنچاتے ہیں ان کی آخرت کون سی ہے؟ کیا ایسے لوگ آخرت سے دوچار نہیں ہوں گے جو کسی بھی طرح لوگوں کونقصان پہنچاتے ہیں؟ چاہئے تو تھا کہ آخرت کی تعریف ایسی کی جاتی جونفع اور نقصان پہنچانے والے دونوں قسم کے لوگوں پر صادق آتی اور اہل شر کے انجام کو بھی شامل ہوتی، لیکن مسٹر پرویز نے 'آخرت'کی ناقص بلکہ بھونڈی تعریف پیش کرکے اپنے جہل مرکب میں گرفتار ہونے کا ثبوت دیا ہے۔

پرویز کے ذہن پر چونکہ دنیاوی مفاد اور دنیاوی خوشحالیاں سوار تھیں اور وہ دنیا کے عیاش لوگوں کے مقابلہ میںمسلمانوں کولتاڑا کرتے اور ان پر جہنمی ہونے کے فتوے داغا کرتے تھے، اسلئے انہوں نے 'آخرت' کی پہچان کرواتے ہوئے بھی اسکے مفہوم میں دنیا کے سازوسامان کو داخل کردیا ہے جیسے کہ وہ کہتا ہے : ''سامانِ آخرت سے مقصود ہے وہ متاع جسے (انسان) آنے والی نسلوں کیلئے جمع کرتا ہے۔'' (اسبابِ زوالِ امت: ص۲۶)

اگر قرآن کریم آخرت کی اصطلاح کو...بقولِ پرویز... اس متاع و سامان کے لئے استعمال کرتا ہے جسے اس دنیا میں آنے والی نسلوں کے لئے جمع کیا جائے اور وہ پوری نوعِ انسانی میں گردش کرتا ہوا تمام افراد تک پہنچے تو اس نظریہ کی مخالفت کا تصور صاحب ِقرآن ﷺ سے نہیں کیا جاسکتا اورآپ اپنی امت بلکہ اپنے اہل بیت کے لئے مستقبل کے فائدہ (یعنی آخرت) کو چھوڑ کر ان پر مفادِ عاجلہ (یعنی دنیا کا سامان) پیش نہیں کرسکتے تھے، حالانکہ قرآنِ کریم میں یہ صراحت موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ازواجِ مطہرات نے بنو قریظہ اور بنو نضیر کی فتوحات کی وجہ سے مسلمانوں کے خوشحال ہوجانے کے بعد آپ ﷺ سے نان و نفقہ بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ چونکہ تمام معاملات میں سادگی پسند تھے، ا س لئے آپ کو ان کے اس مالی مطالبے پر سخت رنج ہوا اور آپ نے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار کر لی جو ایک مہینے تک جاری رہی۔ تب اللہ نے درپیش مسئلہ کے بارہ میں فیصلہ دیتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يـٰأَيُّهَا النَّبِىُّ قُل لِأَزو‌ٰجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِ‌دنَ الحَيو‌ٰةَ الدُّنيا وَزينَتَها فَتَعالَينَ أُمَتِّعكُنَّ وَأُسَرِّ‌حكُنَّ سَر‌احًا جَميلًا ٢٨ وَإِن كُنتُنَّ تُرِ‌دنَ اللَّهَ وَرَ‌سولَهُ وَالدّارَ‌ الءاخِرَ‌ةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلمُحسِنـٰتِ مِنكُنَّ أَجرً‌ا عَظيمًا ٢٩ ﴾... سورة الاحزاب

''یعنی اے نبی ﷺ! اپنی بیویوں سے کہہ دو: اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زیب و زینت کی طلبگار ہو تو آئو میں تمہیں (دنیا کا) مال دے کر اچھی طرح سے رخصت کردوں، اور اگر تم اللہ اور اس کے پیغمبر اور آخرت کے گھر کی طلبگار ہو تواللہ تعالیٰ نے تم میں سے نیکوکار عورتوں کے لئے اجرعظیم تیار کر رکھا ہے۔''

غور فرمائیے؛ اگر آخرت سے مراد وہ سامان ہو جو آنے والی نسلوں کے لئے جمع کیا جائے اور جو ساری نوعِ انسانی میں گردش کرتا ہوا تمام افراد تک پہنچے تو کیا اللہ کے رسول ﷺ جو قرآنی فکر کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے مبعوث ہوئے ہیں، ایسی آخرت کو نظر انداز کرکے اپنی اُمت کے لئے بلکہ اپنی ازواجِ مطہرات کے لئے مفادِ عاجلہ (الحیاة الدنیا) کو اختیار کرسکتے تھے؟ اور کیا صاحب ِقرآن ﷺ سے اس بات کا تصور کیا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺ اپنے اہل بیت کے لئے قرآنی آخرت چھوڑ کر اس کے برعکس دنیا کا سامان دینے کے لئے تیار ہوجائیں؟

مسٹر پرویز نے قرآنی اصطلاحات کے مفاہیم کو مسخ کرنے کے لئے ایسی تحریفات کی ہیں، جن کی زد سے خیر القرون کے اہل اسلام بلکہ خود رسول کریم ﷺ بھی نہ بچ سکے، ورنہ آپ ﷺ کے بار ے میں یہ کیسے باور کیا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺ اپنی ازواج کو مستقبل کا فائدہ (آخرت) چھوڑ کردنیا کا سامان دینے کے لئے آمادہ ہوجائیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ 'آخرت' کا وہ مفہوم نہیں ہے جو مسٹر پرویز نے گھڑا ہے بلکہ اس سے اُخروی زندگی مراد ہے، جسے ہر دور کے مسلمان بالاتفاق تسلیم کرتے چلے آرہے ہیں، اور جسے امام راغبؒ نے بایں الفاظ ذکر کیا ہے :

«ويعبر بالدار الآخرة عن النشأة الثانية کما يعبر بالدار الدنيا عن النشأة الأولیٰ» (المفردات:ص۱۳)

'' آخرت کے گھر سے مراد دوسری بار لوگوں کی تخلیق ہے، جیسا کہ ان کی پہلی بار تخلیق کو دارِ دنیا سے تعبیر کیا جاتا ہے۔''

پرویز اپنے قلم کی سائیڈ مارتے ہوئے میدانِ محشر میں اہل دنیا کے اجتماع سے بھی بائی پاس نکل جانا چاہتے ہیں او رلکھتے ہیں :

''یہ تصور صحیح نہیں کہ جتنے لوگ مرتے ہیں وہ مرنے کے بعد قبروں میں روک لئے جاتے ہیں، اور پھر ان سب کو ایک دن اکٹھا اٹھایا جائے گا، اسے حشر یا قیامت کا دن کہا جاتا ہے۔'' ( جہانِ فردا: ص۱۸۰)

اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے انسان کی ملاقات کو جھٹلاتے ہوئے لکھتا ہے : ''وہ (خدا ) ہماری رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہے، اس لئے اس سے جدا ہوکر دنیا میں آنے اور مرنے کے بعد اس سے پھر جاکر ملنے کا تصور قرآنی نہیں۔'' (جہانِ فردا: ص۳۴)

مسٹر مذکور یہاں بھی قرآنِ کریم کی صریح نص کی مخالفت کر رہے ہیں، اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو قرآن کے نام سے ہی غیر قرآنی بتلاتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے صالح بندوں کی صفات ذکر کرتے ہوئے ان کی حسب ذیل خوبی بیان فرماتے ہیں:

﴿الَّذينَ يَظُنّونَ أَنَّهُم مُلـٰقوا رَ‌بِّهِم وَأَنَّهُم إِلَيهِ ر‌ٰ‌جِعونَ ٤٦ ﴾... سورة البقرة ''وہ ایسے لوگ ہیں جنہیں یہ یقین ہے کہ وہ اپنے ربّ تعالیٰ سے ملنے والے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔''

اور مرنے کے بعد قیامت کے دن لوگوں کے اکٹھا کئے جانے کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿قُلِ اللَّهُ يُحييكُم ثُمَّ يُميتُكُم ثُمَّ يَجمَعُكُم إِلىٰ يَومِ القِيـٰمَةِ لا رَ‌يبَ فيهِ وَلـٰكِنَّ أَكثَرَ‌ النّاسِ لا يَعلَمونَ ٢٦ ﴾... سورة الجاثية

''یعنی کہہ دو کہ اللہ ہی تمہیں زندگی بخشتا ہے پھر وہی تمہیں مارتا ہے پھر قیامت کے دن تمہیں اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے، لیکن بہت سے لوگ اس سے بے علم ہیں۔''

اور قیامت کے دن میدانِ محشر میں جمع کئے جانے سے متعلق فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَيَومَ نُسَيِّرُ‌ الجِبالَ وَتَرَ‌ى الأَر‌ضَ بارِ‌زَةً وَحَشَر‌نـٰهُم فَلَم نُغادِر‌ مِنهُم أَحَدًا ٤٧ ﴾... سورة الكهف ''اس دن ہم پہاڑوں کو (اپنی جگہ سے) چلا دیں گے او رآپ زمین کوصاف میدان دیکھو گے، اور سب لوگوں کو ہم اکٹھا کریں گے اور ان میں سے کسی کو بھی پیچھے نہیں چھوڑیں گے۔''

اس مقام پر ذکر ہونے والی آیات کو آخر تک پڑھا جائے تو ایک سچے مسلمان کو یقین ہوتا چلا جاتا ہے کہ قیامت کا دن برحق ہے او رمرنے کے بعد لوگ میدانِ محشر میں اپنے خالق و مالک اللہ تعالیٰ سے ملاقات کریں گے، اور اپنی زندگی کے اعمال کا حساب دیں گے اور مجرمانہ زندگی گذارنے والے لوگ اپنے نامہ اعمال کو دیکھ کر خوف زدہ ہوں گے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَوُضِعَ الكِتـٰبُ فَتَرَ‌ى المُجرِ‌مينَ مُشفِقينَ مِمّا فيهِ وَيَقولونَ يـٰوَيلَتَنا مالِ هـٰذَا الكِتـٰبِ لا يُغادِرُ‌ صَغيرَ‌ةً وَلا كَبيرَ‌ةً إِلّا أَحصىٰها ۚ وَوَجَدوا ما عَمِلوا حاضِرً‌ا ۗ وَلا يَظلِمُ رَ‌بُّكَ أَحَدًا ٤٩ ﴾... سورة الكهف

'' عملوں کا دفتر کھول کر سامنے رکھ دیا جائے گا، آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ جو کچھ اس میں لکھا ہوگا، اسے دیکھ کر خوف زدہ ہو رہے ہوں گے، اور کہیں گے: ہائے شامت! یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے اور نہ ہی بڑی بات کو، ہمارے ہر عمل کو ہی اس کتاب نے لکھ رکھا ہے، اور انہوں نے جو عمل کئے ہوں گے، اپنے سامنے پائیں گے، اور آپکا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔''

اور مسٹر پرویز کے ہاں مسلمہ لغات 'المفردات' میں ہے : «وسمي يوم القيامة يوم الحشر کما سمي يوم البعث ويوم النشر» (ص ۱۲۰)

''قیامت کے دن کو ہی حشر کا دن کہا جاتا ہے، جیسا کہ اسے بعث و نشور کے دن سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔''

اور قیامت کے دن حساب و کتاب کے برحق ہونے کے متعلق امام راغبؒ فرماتے ہیں :« الساعة الکبریٰ وهي بعث الناس للمحاسبة» (المفردات:ص ۲۴۸) ''یعنی قیامت ِکبریٰ سے مراد لوگوں کا حساب و کتاب کے لئے اٹھایا جانا ہے۔''

مسٹر پرویز کی گمراہی اور ضلالت کی وجہ دراصل مستشرقین کے آراء و افکار ہیں جنہیں وہ اَبدی حقیقت مان کر قرآنِ کریم کی نصوص کی تحریف کیاکرتے تھے، اور قرآنی آیات کو مستشرقین کے افکار کے مطابق ڈھالنے میں مصروف رہا کرتے تھے، ان کے حشر و نشر اور اُخروی جنت و جہنم نیز یوم الحساب سے انکار کا سبب بھی درحقیقت مستشرقین کے افکار ہیں جیسا کہ وہ یوم الحساب کی تاویل 'وہائٹ ہائڈ' سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

''یوم الحساب توہر آن ہمارے ساتھ لگا ہوا ہے۔'' (انسان نے کیا سوچا؟: ص۴۱۳)

پرویز اگر اسلام کے ساتھ مخلص ہوتے تو قرآنی آیات کو بنیاد بنا کر ان کے خلاف آنے والے اہل استشراق کے آراء و افکار کو ردّ کرنے کی جرأت کرتے، اس کے برعکس انہوں نے خلاف قرآن ان افکار و اقوال کو اصل بنا لیا اور قرآنی آیات کی معنوی تحریف کرکے کفر کا ارتکاب کیا ہے، اور گمراہ لوگوں کو اپنا پیشوا بنا کر غلامانہ ذہنیت کا ثبوت دیا ہے۔

(4) فرشتوں پر ایمان

فرشتوں پرایمان لانا بھی مسلمانوں کے بنیادی عقائد میں شامل ہے۔ اور قرآن کریم کے متعدد مقامات پر اس با ت کی صراحت موجود ہے کہ فرشتے اپنا خارجی وجود اور ذاتی تشخص رکھتے ہیں۔ وہ غیبی مخلوق ہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، کی روایت کے مطابق فرشتے نور سے تخلیق کئے گئے ہیں، لہٰذا ان پرایمان لانا ایمان بالغیب کا ایک جز ہے۔ سب فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے ہیں، اور ا ن میں سے کسی میں بھی خدائی صفات نہیں پائی جاتیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طاعت اور فرمانبرداری کے لئے پیدا فرمایا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہیں، اور کسی بات میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے سرتابی نہیں کرتے، بلکہ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان رہتے ہیں۔

وہ آسمان سے نیچے بھی اُترتے ہیں، اور زمین سے اوپر آسمان کو بھی چڑھتے ہیں، جبرئیل ؑ اور میکائیل ؑ انہی میں سے ہیں۔ پھر کچھ فرشتے دو دو، تین تین، چار چار پروں والے بھی ہیں، فرشتوں نے بدر کے میدان میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے مسلمانوں کی نصرت بھی کی تھی۔ یہ سب چیزیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ فرشتوں کا خارجی وجود ہے، لیکن چونکہ وہ محسوسات اور مشاہدات کی زَد سے باہر ہیں، اس لئے بعض لوگ ان کے خارجی وجود کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں جیساکہ فرشتوں کے خارجی وجود سے انکار کرتے ہوئے پرویز لکھتے ہیں:

''ملائکہ ہماری اپنی داخلی قوتیں ہیں یعنی ہمارے اعمال کے وہ اثرات جو ہماری ذات پر مرتب ہوتے رہتے ہیں۔'' (ابلیس و آدم از پرویز: ص۱۶۲)

پرویز کے نزدیک 'فرشتے'کیا ہیں؟

مسٹر پرویز کے بقول ملائکہ (فرشتے) انسانوں سے الگ مخلوق نہیں ہیں، بلکہ انسان کی اندرونی قوتوں اور نفسیاتی توانائیوں کو ہی ملائکہ کہا گیا ہے، ا س کے برعکس قرآنِ کریم میں انسانوں سے بالکل الگ تھلگ مخلوق کو 'ملائکہ' سے تعبیر کیا گیا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلـٰئِكَتَهُ يُصَلّونَ عَلَى النَّبِىِّ ۚ يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا صَلّوا عَلَيهِ وَسَلِّموا تَسليمًا ٥٦ ﴾... سورة الاحزاب

''یعنی اے جماعت ِمؤمنین! دیکھو خدا اور اس کے فرشتے سب نبی پر درودو سلام بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی پیغمبر پر درودوسلام بھیجا کرو۔''

بنابریں اگر ملائکہ (فرشتوں) سے مراد ہماری داخلی قوتیں ہوتیں جیساکہ مسٹرپرویز کا دعوی ہے تو آیت ِمذکورہ میں ملائکہ (فرشتوں) کو مسلمانوں کے ساتھ خطاب سے الگ ذکر کرنے اور ان کے درود کو مسلمانوں کے درود سے جدا بیان کرنے کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ اہل اسلام کے درود بھیجنے کے حکم میں ان کی داخلی قوتیں... جنہیں پرویز صاحب ملائکہ اور فرشتے سمجھتے ہیں...بھی شامل تھیں، اس کے برعکس ملائکہ کو اہل ایمان سے الگ ذکر کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ملائکہ (فرشتے) انسان کی داخلی قوتوں کا نام نہیں بلکہ انسانوں سے الگ نورانی مخلوق ہے جس کا وجود انسانی وجود سے بالکل جداگانہ ہے۔

مسٹر پرویز کا ذہن چونکہ مادّی تھا، اس لئے وہ کسی ایسی ذات کو ماننے کے لئے ذہنی طور پر آمادہ نہیں تھے جو غیر مرئی ہو اور ان کی یہ جسارت یہاں تک جاپہنچی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کو بھی ایک مرئی اور محسوس پیرائے میں پیش کرنے کی تگ و دو کرتے رہے جیسا کہ ایک مقام پر وہ کہتے ہیں:

''اللہ سے مراد وہ معاشرہ جو قانونِ خداوندی کو نافذ کرنے کیلئے متشکل ہو'' (نظام ربوبیت: ص۱۵۸)

غور فرمائیں؛ جس شخص کی ذہنی آوارگی سے اللہ تعالیٰ کی مقدس ذات محفوظ نہیں رہ سکی، لفظ 'ملائکہ' اس کی ذہنی اُپج سے کیسے بچ سکتا تھا۔چنانچہ وہ ملائکہ کی بھی ایسی ہی مادّی توجیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''ملائکہ یعنی کائنات کی قوتیں جن سے رِزق پیدا ہوتا ہے، انسان کے تابع فرمان ہیں۔'' (ابلیس و آدم' از پرویز: ص۵۲)

اس طرح نبی کریمﷺ کو بھی فرشتہ ہونا چاہئے!

لیکن اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر واقعی ملائکہ سے مراد رزق پیدا کرنے والی قوتیں ہیں اور 'ابلیس و آدم' کے سابقہ اقتباس کے مطابق یہ انسان کی داخلی قوتیں ہیں اور بقول پرویز یہ ملائکہ کا قرآنی مفہوم بھی ہے تو صاحب ِقرآن ﷺ کو اس قرآنی مفہوم کے ساتھ بدرجہ اَتم متصف ہونا چاہئے تھا، کم ازکم آپ کو تو اپنے مَلک(فرشتہ) از ملائکہ ہونے کی نفی نہیں کرنا چاہئے تھی کیونکہ آپ ﷺ عملی میدان میں قرآنی مفاہیم و مطالب کی چلتی پھرتی تصویر تھے او رجب رِزق پیدا کرنے والی قوتیں (ملائکہ) آپ میں مکمل طورپر موجود تھیں تو آپ ﷺ خواہ مخواہ 'ملک' از ملائکہ قرار پاتے ہیں ۔مگر اس کے برعکس قرآنِ کریم میں یہ وضاحت موجود ہے کہ رسول کریم ﷺ ببانگ ِدہل اپنے ملک از ملائکہ ہونے کی نفی کرتے تھے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿قُل لا أَقولُ لَكُم عِندى خَزائِنُ اللَّهِ وَلا أَعلَمُ الغَيبَ وَلا أَقولُ لَكُم إِنّى مَلَكٌ ۖ إِن أَتَّبِعُ إِلّا ما يوحىٰ إِلَىَّ...٥٠ ﴾... سورة الانعام ''اے پیغمبر! تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ ہی میں غیب جانتا ہوں، اور نہ ہی میں یہ کہتا ہوں کہ میں 'ملک' ہوں، میری حیثیت تو فقط یہ ہے کہ اس بات پر چلتا ہوں جو خدا کی طرف سے مجھ پر وحی کی جاتی ہے۔''

پھر ملائکہ کی دوسری تعبیر

مسٹر پرویز اندھیرے میں تیر چلانے اور نادانوں کی طرح ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بہت عادی تھے اسی وجہ سے ان کی تصنیفات، تضادات کا پلندہ ہیں۔ ان کی تالیفات کا مطالعہ کرنے والے کو ان میں ایک خواب کی مختلف تعبیروں سے واسطہ پڑتا ہے، ہوسکتا ہے ایسے موقع پر پرویز صاحب کا کوئی عقیدت مند اور ان کا تقلید پسند تفنن کے نام سے اسے بخوشی قبول کرنے پر آمادہ ہوجائے، لیکن ایک حقیقت پسند شخص اس کے تضادات کو دیکھ کر حیران ہوجاتا ہے کہ وہ ان کی کس بات کا اعتبار کرے او ران کی کس رائے کو حتمی قرار دے۔ یہی کام انہوں نے ملائکہ کی تعبیر سے متعلق دکھایا ہے۔ پہلے تو وہ انہیں انسان کی داخلی قوتیں بناتے رہے جن سے رزق پیدا ہوتا ہے ، لیکن اب وہ اسکے برخلاف انہیں خارجی قوتیں بناتے ہوئے لکھتے ہیں:

''فرشتے 'ملائکہ' وہ کائناتی قوتیں ہیں جو مشیت ِ خداوندی کے پروگرام کو بروئے کار لانے کے لئے زمانے کے تقاضوں کی شکل میں سامنے آتی ہیں۔'' ('اقبال او رقرآن' از پرویز : ص۱۶۵)

لیکن متعدد قرآنی آیات سے نظریۂ پرویز کی تردید ہوتی ہے اوران سے ملائکہ کو کائناتی قوتیں بنانے کا عقیدہ باطل قرار پاتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿الحَمدُ لِلَّهِ فاطِرِ‌ السَّمـٰو‌ٰتِ وَالأَر‌ضِ جاعِلِ المَلـٰئِكَةِ رُ‌سُلًا أُولى أَجنِحَةٍ مَثنىٰ وَثُلـٰثَ وَرُ‌بـٰعَ ۚ يَزيدُ فِى الخَلقِ ما يَشاءُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلىٰ كُلِّ شَىءٍ قَديرٌ‌ ١ ﴾... سورة فاطر ''سب تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے سزا وار ہیں جو آسمانوں و زمین کو پیدا کرنے والا ہے اور فرشتوں کو قاصد بنانے والا ہے جن کے دو دو اور کسی کے تین تین اور کسی کے چار چار پرَ ہیں اور وہ اپنی مخلوق میں جو چاہتا ہے اضافہ کرتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔''

اس آیت میں آنے والے لفظ اَجنحة کے متعلق مسٹر پرویز لکھتے ہیں:

''سورۃ فاطر میں 'ملائکہ' کے متعلق کہا ہے أولي أجنحة (۳۵؍۱ )... ا س کے لفظی معنی ہیں بازوئوں (پروں) والے۔'' (لغات القرآن: ج۱؍ ص۴۴۳)

اگرچہ اس کے بعد مسٹر پرویز نے اس لفظ کا مجازی معنی گھڑ کر ڈنڈی مارنے کی کوشش کی ہے لیکن ہمیں اس کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ اہل اصول کے ہاں یہ بات طے شدہ ہے کہ حقیقی معنی کے ہوتے ہوئے مجاز کی طرف رجوع کرنا جائز نہیں ہے۔اسی طرح سورئہ زخرف میں ارشاد الٰہی ہے:

﴿وَجَعَلُوا المَلـٰئِكَةَ الَّذينَ هُم عِبـٰدُ الرَّ‌حمـٰنِ إِنـٰثًا...١٩ ﴾... سورة الزخرف ''یعنی انہوں نے فرشتوں کو جو اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، اس کی بیٹیاں بنا ڈالا۔''

نیز ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿قُل يَتَوَفّىٰكُم مَلَكُ المَوتِ الَّذى وُكِّلَ بِكُم ثُمَّ إِلىٰ رَ‌بِّكُم تُر‌جَعونَ ١١ ﴾... سورة السجدة ''یعنی اے نبیﷺ! بتادیں کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے، تمہیں فوت کرتا ہے، اس کے بعد تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاتے ہو۔''

پرویز نے اس آیت میں 'ملک' کامعنی کائناتی قوتوں سے کیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ 'ملک' کا لفظ واحد ہے جو قرآنِ کریم میں ہے، اور کائناتی قوتیں'جمع'ہے جو پرویز صاحب نے اس کا مفہوم بتایا ہے ۔ تو کیا مسٹر پرویز یہ سمجھتے ہیں کہ معاذ اللہ، اللہ تعالیٰ سے ملائکہ کی بجائے لفظ 'ملک' لانے میں ذہول ہوگیاہے یا مسٹر پرویز ہی 'مفہوم القرآن' کے نام سے لوگوں کو گمراہ کرنے کے درپے ہیں۔

من مانے مفہوم کی دلیل لانے کی ایک ناکام کوشش

جس شخص کا عقیدہ اور عمل قرآن و سنت کے ٹھوس دلائل پر مبنی ہوتا ہے، وہ اسے علیٰ وجہ البصیرت اختیار کرتا ہے اور بادِمخالف اس کے اس نظریہ میں کسی قسم کا تزلزل پیدا نہیں کرسکتی، لیکن جس شخص کے نظریات خود ساختہ ہوں جنہیں اہل علم و عقل آسانی سے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے تو اسے اپنے اعتقادات و نظریات کو لوگوں میںمقبول بنانے کے لئے خارجی سہاروں کی ضرورت پیش آتی ہے، جیسا کہ مسٹر پرویز نے ملائکہ کے بارہ میں اپنے خود ساختہ نظریہ کو لوگوں سے منوانے کے لئے مفتی محمد عبدہٗ کا سہارا لیا ہے اور کہا :

''مفتی محمد عبدہٗ نے اپنی تفاسیر 'المنار' میں لکھاہے کہ یہ امر ثابت ہے کہ کائنات کی ہر شئی کے اندر ایک قوت ایسی ہے ، جس پر اس چیز کا دارومدار ہے اور جس کے ساتھ اس شے کا قوام و نظام قائم ہے۔ جو لوگ وحی پر ایمان نہیں رکھتے وہ ان قوتوں کو طبیعی قوتیں کہتے ہیں اور شریعت کی زبان میں انہیں ملائکہ کہاجاتا ہے، لیکن انہیں ملائکہ کہئے یاکائناتی قوتیں، حقیقت ایک ہی ہے۔'' (لغات القرآن: ج۱؍ ص۲۴۲)

تفسیر 'المنار' میں 'ملائکہ' کے بارہ میں مختلف اقوال نقل کئے گئے ہیں، اور مذکورہ بالا قول اس تفسیر کے ص ۲۶۸ سے نقل کیا گیاہے، اور مفتی محمد عبدہٗ صاحب نے یہ قول صرف مادّہ پرست لوگوں کو مطمئن کرنے کے لئے پیش کیا ہے، جیسا کہ ان کے شاگردِ رشید محمد رشید رضا ... جو اس تفسیر کے مرتب ہیں... ان سے اس قول کو ذکر کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:«أراد بهذا أن يحتج علی المادّيين و يقنعهم بصحة ما جاء به الوحي من طريق علمهم المسلم عندهم کما صرح بهٖ فيما مرفي صفحة۲۶۸» (تفسیر المنار: ج۱ ص۲۷۴)

''صفحہ ۲۶۸ پر نقل ہونے والے اقتباس سے مفتی صاحب کا مقصد صرف یہ ہے کہ مادّہ پرست لوگوں پر حجت قائم کردی جائے اور انہیں اس بارہ میں مطمئن کیا جائے کہ (فرشتوں کے بارہ میں) جو کچھ وحی الٰہی میں ثابت شدہ امر ہے، وہ اس کے ہاں مسلمہ علمی طریقے کے بھی مطابق ہے۔''

اس نظریہ کوذکر کرنے سے مفتی صاحب کا مقصد اس کی تائید کرنا نہیں ہے، بلکہ اسے وحی الٰہی کے قریب کرنامقصود ہے بایں طور کہ مادّہ پرست حضرات اگرچہ ملائکہ کے وجود سے انکارکرتے ہیں لیکن دوسری طرف وہ ان کا نام 'کائناتی قوتیں' رکھ کر اسے ماننے پر بھی مجبور ہیں، جیساکہ سید رشید رضا اپنے استاد کے اس اقتباس پر اپنے ریمارکس دیتے ہوئے فرماتے ہیں : «هذا ما کتبه شيخنا في توضيح کلامهٖ فيما يفهمه علماء الکائنات من لفظ القویٰ إلی ما يفهمه علماء الشرع من لفظ الملائکة» (تفسیر المنار: ج۱ ص۲۷۳)

'' ہمارے استاذ نے یہ کلام اس لئے درج کیا ہے، تاکہ علمائِ سائنس کے ہاں فرشتوں کے لئے جو لفظ (قوتوں کا) استعمال کیا جاتا ہے، اسے لفظ 'ملائکہ' کے قریب کردیا جائے جو علمائِ شریعت کے ہاں متعارف ہے۔''

ملائکہ کی بابت مفتی محمد عبدہٗ صاحب اپنا سلفی عقیدہ اس سے چند صفحات قبل آیت نمبر۳۰ کے تحت ذکرکر آئے ہیں جسے نقل نہ کرنے میں پرویز صاحب نے اپنی عافیت سمجھی ہے، مفتی صاحب فرماتے ہیں:

«أما الملئکة فيقول السلف فيهم أنهم خلق أخبرنا الله تعالیٰ بوجودهم وببعض عملهم فيجب علينا الإيمان بهم ولايتوقف ذلك علی معرفة حقيقتهم فنفوض علمها إلی الله تعالیٰ فإذ ورد أن لهم اجنحة نؤمن بذلک ولکننا نقول أنها ليست أجنحة من الريش ونحوه کأجنحة الطير» (تفسیر المنار: ج۱؍ ص۲۵۴)

''فرشتوں کے بارہ میں سلف صالحین کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ بھی (اللہ تعالیٰ کی) مخلوق ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کے موجود ہونے اور بعض ایسے کاموں کے بارہ میں بتا دیا ہے جنہیں وہ سرانجام دیتے ہیں، لہٰذا ہم پر فرض ہے کہ ان پر ایمان لائیں او ریہ ضروری نہیںکہ ان کی اصل حقیقت معلوم کرکے ہی ان پر ایمان لایا جائے ، بنابریں فرشتوں کے متعلق (قرآن میں) أجنحة (پروں) کا ذکر آیا ہے تو ہم اسے مانتے ہیں، لیکن یہ نہیں کہتے کہ فرشتوں کے پر پرندوں کے پروں کے مشابہ ہیں۔''

غور فرمائیں؛ مفتی محمد عبدہٗ رحمہ اللہ نے فرشتوں کا جو تعارف پیش کیا ہے، بالکل وہی ہے جسے اہل اسلام ہمیشہ سے تسلیم کرتے آرہے ہیں، اوریہاں انہوں نے ملائکہ کو کائناتی قوتیں قرار دینے کے خود ساختہ نظریہ کو ذکر تک نہیںکیا، جس سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ مفتی صاحب اپنی تفسیر میں ملائکہ سے متعلق دیگر نظریات کو ذکر کرنے کے باوجود ان کے حامی نہیں ہیں۔ فرشتوں کے بارہ میں ان کا عقیدہ بھی وہی ہے، جو دیگر مسلمانوں کے ہاں مسلم ہے، اور جس سے خروج اختیار کرکے مسٹر پرویز اسلام کی نظریاتی سرحدوں سے ہی خارج ہوگئے ہیں۔

(5) ایمان بالقرآن


پرویزی لٹریچر کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسٹر پرویز قرآنِ کریم کو ایک محفوظ کتاب تسلیم کرتے ہیں جو وحی پر مشتمل ہے۔ اس حقیقت سے وہ انکار نہیںکرسکے اور اس کے اصول کو بھی وہ ابدی مانتے ہیں۔ لیکن مسٹر پرویز چونکہ مطلبی آدمی تھے، لہٰذا انہوں نے قرآنِ کریم کو اگر وحی الٰہی تسلیم کیا ہے تو اس سے اپنا مطلب نکالنے کے لئے ہی تسلیم کیا ہے اور مستشرقین کے افکار کو قرآن کے نام سے مسلمانوں میں پھیلانے کے لئے اسے 'وحی' مانا ہے اور اس پر ان کا پورا لٹریچر خاص طور پر ان کی 'مفہوم القرآن' جیسی کتابیں شاہد ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مسٹر پرویز کی پوری زندگی کی تگ و دو کا محور صرف یہ تھا کہ وہ یورپین مفکرین اور مستشرقین کے نظریات سے کشید کردہ افکار کو قرآن کے نام سے اسلامی معاشرے میں پھیلانے کے لئے سرگرم رہے اور چند حدود کے اندر کھلی آزادی کو قرآنی نظام باور کراتے رہے، وہ خود اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

''قرآن کریم نے صرف اُصولی احکام دیئے ہیں او ریہ چیز انسانوں پر چھوڑ دی ہے کہ وہ اپنے اپنے زمانے کے تقاضوں کے مطابق ان اُصولوں کی روشنی میں جزئی قوانین ایک نظام کے تابع خود مرتب کریں۔'' (لغات القرآن: ج۲؍ ص۴۷۹)

جبکہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان کا ایمان اس بات پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم جیسی مقدس کتاب نازل کرنے کے لئے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ گرامی کو منتخب فرمایا ہے اور اس کی تبیین وتوضیح کا فریضہ آپ کو تفویض کیا ہے، اور اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آپ ﷺ قرآنی آیات سے مرادِ الٰہی کو بخوبی جانتے تھے، اور آپﷺ کے بیان کردہ مفاہیم قرآن او رمطالب ِفرقان بلاریب منشاے الٰہی کے عین مطابق تھے اور آپ کا کوئی قول و فعل تقاضاے الٰہی کے خلاف نہ تھا، کیونکہ آپ کی ذات پر وحی خداوندی کا پہرہ ہر وقت موجو درہتا تھا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلَو تَقَوَّلَ عَلَينا بَعضَ الأَقاويلِ ٤٤ لَأَخَذنا مِنهُ بِاليَمينِ ٤٥ ثُمَّ لَقَطَعنا مِنهُ الوَتينَ ٤٦ فَما مِنكُم مِن أَحَدٍ عَنهُ حـٰجِزينَ ٤٧ ﴾... سورة الحاقة

''اگر یہ رسول ﷺ اپنی طرف سے کوئی بات بنا کر اسے ہماری طرف منسوب کرتا تو ہم اسے دائیں ہاتھ کی محکم گرفت سے پکڑ لیتے پھر ہم اس کی رَگِ گردن کاٹ دیتے اورتم میں سے کوئی ہمیں اس سے روکنے والانہ ہوتا۔''

اس قسم کی متعدد قرآنی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے تمام اقوال وافعال اور آپ کی ہمہ تقریرات مرادِ الٰہی کے عین مطابق تھیں جن پر وحی خداوندی کی نگرانی ہر وقت موجود رہتی تھی، او ریہ امتیاز صرف صاحب ِقرآن ﷺ کو ہی حاصل تھا۔ انسانوں میںسے کوئی شخص بھی آپ کے ساتھ اس وصف میں شامل نہیں ہے۔ اور اگر بالفرض یہ مان لیا جائے کہ قرآنِ کریم کی تعبیر و تشریح سے متعلق اقوال وافعال ...عام انسانوں کی طرح... آپ کی ذاتی آرا تھیںجن کا وحی الٰہی سے کوئی تعلق نہ تھا تو اس طرح آپ کے فرمودات کا، آپ کسی اُمتی کے قول و فعل سے کوئی فرق باقی نہیں رہتا، بلکہ بایں طور تو آپ کے زمانہ قبل از نبوت کے اقوال و افعال نیز نبوی دور کے فرامین میں بھی کوئی امتیاز باقی نہیں رہے گا ، جبکہ اس قسم کا تصور رکھنا مقامِ نبوت سے انکار کے مترادف ہے۔

پرویز قرآنی آیات کی تعبیر و تشریح کا حق مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ تمام انسانوں کو دینے پر کمر بستہ ہیں او روہ اصولِ قرآن کو سمجھانے کے لئے کسی مامور من اللہ (نبی یارسول) کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے، جیسا کہ ایک مقام پر وہ لکھتے ہیں: ''قرآن کے اصول مکمل غیر متبدل اور ابدی ہیں، اس لئے اب کسی نبی کی ضرورت نہیں۔ باقی رہا یہ تصور کہ ان اصولوں کو سمجھانے کے لئے کسی ایسے شخص کی ضرورت ہے جو خدا کی طرف سے ان اُصولوں کو سمجھنے کا علم حاصل کرے اور انہیں پھر دوسرے انسانوں کو سمجھائے تو یہ تصور یکسر غیر قرآنی ہے۔ قرآن کریم نے کہیں یہ نہیں کہا کہ میری تعلیم کو سمجھانے کے لئے بھی کسی مامور من اللہ یا مُلہم ربّانی کی ضرورت ہے۔'' (قرآنی فیصلے: ج۳ ؍ص۲۶۰) ''قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ تو کہا ہے کہ اس کتاب کابیان اور اس کے اُصولوں کی توضیح کی ذمہ داری بھی ہماری ہے۔'' (القیامہ:۱۹)

اور نزولِ قرآن کے لئے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ گرامی کا انتخاب بھی اسی لئے کیا گیا تاکہ آپ اپنی عملی زندگی کے ذریعہ سے اُمت کے لئے قرآنِ کریم پر چلنے کا ا یک راستہ متعین فرما دیں اور قرآنی مفاہیم و مطالب کوکھول کر لوگوں کے سامنے رکھ دیں، گویا آپ ﷺ کی ذاتِ مقدس روئے زمین پر چلتا پھرتا قرآن تھا جس کا ہر قول و عمل قرآن کے رنگ میں رنگا ہوا تھا، اور یہ بات بھی بلاشبہ مسلم ہے کہ مامور من اللہ ہی کونبی ﷺ کہتے ہیں، جسے اس کتاب کی تفسیر و تشریح کے لئے منتخب کیا گاتھا جو اس پر نازل ہونے والی تھی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

﴿وَأَنزَلنا إِلَيكَ الذِّكرَ‌ لِتُبَيِّنَ لِلنّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيهِم وَلَعَلَّهُم يَتَفَكَّر‌ونَ ٤٤ ﴾... سورة النحل ''اور ہم نے آپ پر یہ نصیحت نامہ (کتاب)اس لئے اتاری ہے تاکہ آپ لوگوں کی طرف نازل شدہ کتاب کو ان کے لئے کھول کر بیان کردیں اور تاکہ وہ سب اس پر غوروفکر کریں۔''

منزل من اللہ کتاب کی تبیین و توضیح نبی ﷺ کا ہی وظیفہ ہے کیونکہ اسے براہِ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے تعلیم دی جاتی تھی اور بذریعہ وحی اسے علومِ الٰہیہ سے آراستہ کیا جاتا تھا جیساکہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿وَأَنزَلَ اللَّهُ عَلَيكَ الكِتـٰبَ وَالحِكمَةَ وَعَلَّمَكَ ما لَم تَكُن تَعلَمُ...١١٣ ﴾... سورة النساء

''اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب و حکمت نازل فرمائی ہے، اور اس نے آپ کو وہ کچھ سکھایا ہے جو آپ نہیں جانتے تھے۔''

اللہ تعالیٰ سے علم وحی کا حاصل کرنا اور اس کی مراد ومرضی کے کاموں سے براہِ راست باخبر ہونا صرف نبی اور رسول کی ہی خصو صیت ہے جومامور من اللہ ہے۔ اور ایسے نبوی منہج سے ہٹ کر جو شخص بھی مفکر ِقرآن بننے کی کوشش کرے گا تو بدیہی بات ہے کہ وہ قرآن کے نام سے ایسے آراء و افکار پیش کرے گا جن کا مرادِ الٰہی ہوناحتمی نہیں کیونکہ اس کے افکار پر وحی الٰہی کی نگرانی نہیں جس کے ذریعے سے ان کے صحیح اور درست ہونے کا فیصلہ کیا جاسکے ا س کے برعکس نبی ﷺ اور رسول کے تمام اقوال و افعال مرادِ الٰہی ہیں۔ لہٰذاوہ دین میں حجت ہیں بلکہ عین دین ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ مسٹر پرویز او ران کے فرقے کے ہاں سند او رحجت اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن کریم بھی نہیںہے، اگرچہ پروپیگنڈے کی حد تک وہ یہی کہتے ہیں کہ قرآن محفوظ کتاب ہے اور اسے خالی الذہن ہو کر سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے لیکن دوسری طرف مسٹر پرویز کی تالیفات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عملی میدان میں اپنے اس دعوے پر قائم نہیں رہے، او رانہوں نے خود ہی بہت سی غیر قرآنی چیزوں کو ذہن میں رکھ کر قرآنِ کریم کو ان غیر اسلامی اشیاکا محتاج بنائے رکھا، جیسا کہ وہ قرآنِ مجید کے ایک مقام کو اناجیل محرفہ سے حل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''قرآن کریم تک آنے سے پیشتر ہمیں ایک بار پھر اناجیل پر غور کر لینا چاہئے، اناجیل جیسی کچھ بھی آج ہیں، بہرحال انہی کے بیانات کو سامنے رکھا جائے گا۔ اس کے سوا چارہ ہی کیا ہے؟'' (شعلہ مستور:ص ۹۸)

اگر ان لوگوں کے ہاں قرآن فہمی کے لئے ان اناجیل کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے، جو صرف منسوخ ہی نہیں بلکہ تحریف شدہ بھی ہیں تو مسلمانوں کے ہاں صاحب ِقرآن ﷺ کی ہدایات اور تعلیمات کی روشنی میں قرآن مجید کو سمجھنے سے چین بجبیں ہونا غیر معقول ہے۔

دوسرے مقام پر وہ قرآنی الفاظ کو جاہلی کلام کا محتاج بناتے ہوئے رقم طراز ہیں:

''بہرحال شعرائِ جاہلیہ کے کلام کا بیشتر حصہ اپنے اصل الفاظ میں عربی ادب کی کتابوں میں مدوّن اور محفوظ ہوگیا ... اس لئے ان اشعار کی مدد سے ان الفاظ کا وہ مفہوم بھی متعین کیا جاسکتا ہے جو ان سے زمانۂ نزولِ قرآن میں لیا جاتا تھا۔'' (لغات القرآن: ج۱؍ ص۱۲)

اگر زمانۂ جاہلیت کا کلام عربی ادب کی کتابوں میں آج تک محفوظ رہ سکتا ہے او روہ جاہلیت جسے قرآن مٹانے کے لئے نازل ہوا ہے، اس کے کلام سے قرآن کے مفاہیم متعین کئے جاسکتے ہیں تو تعلیماتِ نبویہ اور احادیث ِرسول ﷺ آج تک محفوظ کیوں نہیں رہ سکتیں او ران سے قرآنی مطالب متعین کرنے پر اعتراض کیوں ہے۔ اگر اب بھی کسی کو اصرار ہے کہ پرویز خالی الذہن ہو کر ہی قرآن میں غوروفکر کرتے رہے ہیں تو ہمیں بتایا جائے یہ کیا ہوتا رہا ہے کہ ''حقیقت یہ ہے کہ جس قوم پر صدیوں سے سوچنا حرام ہوچکا ہو او رتقلید ِکُہن زندگی کی محمود روش قرار پاچکی ہو، ان میں فکری صلاحیتیں بہت کم باقی رہ جاتی ہیں، لہٰذا ہمیں اس مقصد کے لئے بھی مغرب کے محققین کی طرف ہی رجوع کرنا ہوگا۔'' (سلیم کے نام: ج۳ ص۱۵۱)

بتائیے؛ کیا یہ حسبنا کتاب اللہ پر عمل ہوتا رہا ہے؟

کیا حدیث ِنبویﷺ کی بجائے اناجیل محرفہ اور مغرب کے محققین کے افکار قرآن فہمی کے لئے ناگزیر ہیں؟ فرض کیا ہمارے ہاں مغربی طرز کی بعض تحقیقات نہیں ہوئیں، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ چابک دستی سے مغربی افکار کو قرآنی آیات میں ٹانکنا شروع کردیا جائے۔اگر پرویز اور ا ن کے حواریوں کے ہاں کافرانہ افکار کے بغیر چارہ نہیں تو وہ بڑی خوشی سے انہیں اختیارکریں، لیکن دھوکہ اور فریب سے انہیں مسلمانوں پر مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ یہ ہیں وہ چند عقائد و نظریات جنہیں اختیار کرنے کی وجہ سے مسٹر پرویز پر ایک ہزار علما نے ان کی زندگی میں ہی ان پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا، او رایسے باطل نظریات کے پیش نظر سعودی عرب کے مفتی اعظم اور امامِ کعبہ نے انہیں اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔

٭٭٭٭٭