ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
263
فتنہ انکارِ حدیث
263-Aug-Sep-2002

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔
  • اگست
  • ستمبر
2002
حسن مدنی
برصغیر میں انکارِ حدیث کا فتنہ چند صدیوں سے زوروں پر ہے۔ اس کی بعض صورتیں ایسے صریح انکارِ حدیث پر مبنی ہیں جس کے حامل کا مسلمان رہنا بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ جبکہ استخفاف حدیث جدید تعلیم یافتہ طبقہ میں اکثر وبیشتر پایا جاتا ہے۔ مرض ایک ہی ہے اگرچہ اس کی علامات مختلف صورتوں میں سامنے آتی ہیں۔
  • اگست
  • ستمبر
2002
محمد رمضان سلفی
کویت سے شائع ہونے والے اخبار 'الایمان' کے دسمبر ۱۹۹۸ء کے شمارہ میں سعودی عرب کے مفتی ٔاعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ کا غلام احمد پرویز اور اس کے حواریوں کے بارے میں ایک فتویٰ شائع ہوا تھا جس میں مفتی صاحب نے پرویز کے عقائد و نظریات معلوم ہونے کے بعد اُسے اور اس کے پیروکاروں کو کافر قرار دیا تھا۔
  • اگست
  • ستمبر
2002
محمد دین قاسمی
''اجی، چھوڑیئے، احادیث کو۔ ان میں اختلافات ہیں، لہٰذا وہ اسلامی آئین کے لئے بنیاد اور مسائل حیات کے لئے دلیل و سند کیوں کر ہوسکتی ہیں۔''
یہ ہیں وہ الفاظ، جو اکثر و بیشتر منکرین حدیث کی زبان پر جاری و ساری رہتے ہیں، لیکن جب اس کے جواب میں یہ کہا جاتا ہے کہ ایسا اختلاف تعبیر قرآن میں بھی ممکن ہے... تو یہ جواب ، ان کے لئے، سانپ کے منہ میں چھچھوندر والا معاملہ پیدا کردیتا ہے،
  • اگست
  • ستمبر
2002
منظور احسن عباسی
جو لوگ 'ادارئہ طلوعِ اسلام' کے اغراض و مقاصد اور مسٹرغلام احمدپرویز کے متعلق کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہیں، ان کو یقینا ادارئہ مذکور کے شائع کردہ پمفلٹ موسومہ 'اطاعت ِرسول 'کے نام سے بڑی حیرت ہوگی۔ لیکن یہ حیرت اسی قسم کی حیرت ہے جو مجھے مرزا غلام احمد قادیانی کی جماعت ِاحمدیہ کے ترجمان اخبار 'الفضل'کی ایک خصوصی اشاعت موسومہ 'خاتم النّبیین نمبر' کے نام سے ہوئی تھی۔
  • اگست
  • ستمبر
2002
ادارہ
٭ امامِ حرمین شریفین شیخ محمد بن عبداللہ السبیل نے 'طلوعِ اسلام' تنظیم کے بانی غلام احمد پرویز اور اس کے متبعین کو ان کے باطل و ملحدانہ عقائد کی وجہ سے کافر قرار دیا ہے۔ اپنے فتویٰ میں انہوں نے لکھا :
''یہ شخص حجیت ِحدیث، معجزات، عذابِ قبر اور بہت سی ضروریاتِ دین کا منکر ہے۔
  • اگست
  • ستمبر
2002
عبداللہ عابد
اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی وحی کے مطابق حضور ﷺ نے آئندہ زمانے کے مختلف فتنوں اور حوادث کا ذکر فرمایا جس کی تفصیل مختلف احادیث میں موجودہے۔ انکارِ حدیث کے فتنے کے بارے میں بھی حضورِ اکرمرنے مطلع فرمادیا تھا جیسا کہ آپؐکے درج ذیل فرمان سے واضح ہے :
''لا ألفين أحدکم متکئا علی أريکته، يأتيه الأمر من أمری مما أمرت به أو نهيت عنه، فيقول: لا أدری، ما وجدنا فی کتاب الله اتبعناه '' (۱)
  • اگست
  • ستمبر
2002
محمد نعیم
حدیث ِنبوی کے بارے میں عموماً یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ احادیث تو نبی اکرمﷺکے ڈیڑھ صدی بعد لکھی گئی ہیں، اس لئے ان میں غلطی کے امکانات بہت زیادہ ہیں لہٰذا احادیث سے استدلال کرنے اور اس کو ماخذ ِدین سمجھنے سے گریز کرنا چاہئے۔حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے شبہات پیدا کرکے حدیث ِنبوی کو مشکوک بنانے کی جسارت
  • اگست
  • ستمبر
2002
علی احمد چودھری
اللہ تعالیٰ نے یوں تو انسان کو بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں لیکن قوتِ حافظہ ان میں اہم ترین نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس خاص نعمت سے انسان مشاہدات و تجربات اور حالات و واقعات کو اپنے ذہن میں محفوظ رکھتا ہے اور ضرورت کے وقت انہیں مستحضر کرکے کام میں لاتا ہے۔ انسان کا قدیم ترین اور ابتدائی طریق حفاظت 'حفظ' تھا۔
  • اگست
  • ستمبر
2002
عبد الرحمن مدنی
منکرین حدیث کی طرف سے اکثر وبیشتر اس سوال کا اعادہ و تکرار کیا جاتا ہے کہ'' احادیث چونکہ آنحضرت ﷺ کے دور میں لکھی نہ گئی تھیں، اس لئے یہ قابل حجت نہیں۔ کیونکہ جب کوئی چیز ضبط ِکتابت میں آجائے تو وہ محفوظ ہوجاتی ہے جبکہ ضبط ِکتابت سے محروم رہنے والی چیز آہستہ آہستہ محو ہوکر اپنا وجودکھوبیٹھتی ہے۔
  • اگست
  • ستمبر
2002
صفی الرحمن مبارک پوری
انکارِ حدیث کے لئے سب سے اہم اور بنیادی نکتہ یہ تلاش کیا گیا ہے کہ قرآنِ مجید میں ہر مسئلہ کی تفصیل بیان کردی گئی ہے، اس لئے حدیث کی ضرورت نہیں ۔اس کے ثبوت میں قرآن مجید کے متعلق تبيانا لکل شيئ اور تفصيلا لکل شيئ والی آیات پیش کی جاتی ہیں۔ جن کا مطلب توڑ مروڑ کر اور غلط ملط بیان کرکے یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ قرآن میں ہر مسئلہ کی تفصیل موجود ہے۔
  • اگست
  • ستمبر
2002
ابو الاعلیٰ مودودی
ذیل میں جسٹس ایس اے رحمن کے ایک خط پرمولانا کا تبصرہ شائع کیاجارہا ہے۔ یہ خط اس مراسلت کا ایک حصہ ہے جو 'ترجمان القرآن' کے صفحات میں موصوف اور پروفیسر عبدالحمید صدیقی کے درمیان ہوئی تھی۔ ادارہ
جسٹس ایس اے رحمن اپنے مکتوب میں فرماتے ہیں:
  • اگست
  • ستمبر
2002
عبدالخالق محمد صادق
'اصولِ حدیث' کی رو سے حدیث اور سنت دو مترادف اصطلاحات ہیں جن سے مراد نبی اکرم ﷺ کے اقوال و افعال اور تقریرات ہیں، گویا حدیث یا سنت قرآنِ کریم کی عملی تفسیر اور بیان و تشریح کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کو نازل کرکے اس کے احکامات کی عملی تطبیق کے لئے نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو نمونہ قرار دیا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
  • اگست
  • ستمبر
2002
محمد موسیٰ
زمانۂ رسالتؐ اور عہد ِصحابہؓ و تابعینؒ سے جوں جوں دوری ہوتی جارہی ہے، رشدوہدایت میں کمی واقع ہوتی جارہی اور شروضلالت پنجے گاڑتی جارہی ہے۔ فتنے تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور ان کا یہ طوفان و طغیان فطری اور لازمی ہے۔ جب تک دنیا میں خیر و اصلاح کا نام و نشان باقی ہے، دنیا بھی باقی ہے۔
  • اگست
  • ستمبر
2002
خالد ظفراللہ
برصغیر میں فتنۂ انکارِ حدیث کے ظہور پذیر ہونے کے بعد ان کے عقائد و نظریات کا جائزہ لینے اور حجیت ِحدیث، عظمت و اَہمیت ِحدیث، تاریخ ِحدیث جیسے مختلف موضوعات پر لٹریچر کی تیاری میںبڑی تیزی سے اضافہ ہوا۔ ایک طرف منکرین حدیث ، ردّ ِحدیث میں ورق سیاہ کرتے رہے، حدیث ِنبوی ﷺ کے بارے میں شکوک و شبہات اور اعتراضات پھیلانے کے لئے رسائل و جرائد میں مضامین اور کتابیں پھیلائی گئیں۔
  • اگست
  • ستمبر
2002
عبدالرشید عراقی
قرآن مجید اگرچہ ایک واضح او رکھلی ہوئی کتاب ہے، اس میں کسی قسم کا غموض و ا خفا نہیں ہے۔ لیکن اس میں اسلام کی تعلیمات کی پوری تفصیل اور تمام جزئیات کا اِحاطہ نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لئے بہت سے احکام مجمل یا کلیات کی شکل میں ہیں۔ جن کی وضاحت و تشریح اور کلیات سے جزئیات کی تصریح رسول اللہ ﷺ نے اپنے قول و عمل سے فرمائی۔
  • اگست
  • ستمبر
2002
حسن مدنی
دینی رسائل وجرائد نے 'فتنہ انکارِ حدیث' کی تردید میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ رسائل میں شائع ہونے والے مضامین کا یہ امتیاز ہے کہ ان میں معاشرتی رجحانات پر ماہ بہ ماہ تنقید و تبصرہ ہوتا رہتا ہے اور ان کے ذریعے معاشرے میں پائے جانے والے افکار کی ساتھ ساتھ وضاحت و تردید او رمطلوبہ ذہن سازی کی جاتی ہے۔