میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

گذشتہ دنوں جامعہ لاہور الاسلامیہ نے سعودی عرب کے فلاحی اِدارے 'شیخ سلیمان راجحی ویلفیئر فاؤنڈیشن' کے تعاون سے سعودی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور پاکستانی جامعات کے طلبہ کے لئے ایک ہفت روزہ علمی اور تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا جس کامقصد یہ تھا کہ دینی طلبا کی فکری تربیت اس نہج پر کی جائے کہ وہ دورِ حاضر میں عالم اسلام کو در پیش چیلنجز کا جائزہ لے کر ان سے عہدہ بر آ ہو سکیں اور ان اعتراضات سے انہیں متعارف کرایا جائے جو اسلام کو عالمی سطح پر درپیش ہیں۔

اس کے لیے دینی اور عصری علوم کے ماہر علماء کرام، پروفیسرز اورسکالرز کو محاضرات کی دعوت دی گئی۔ محاضرات کے علاوہ اہم موضوعات پر سیمینار اورسمپوزیم کا اہتمام بھی کیا گیا ۔یہ ورکشاپ مدیر جامعہ لاہور الاسلامیہ کی خصوصی نگرانی کے تحت منعقد ہوئی؛ جس کی نظامت کے فرائض حافظ محمد انور نے انجام دیے جو جامعہ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ میں پی ایچ ڈی کے طالبعلم ہیں۔

تقریب ِافتتاح (ہمدردسنٹر، لاہور ... ۱۳؍جولائی ۲۰۰۲ء )

اس اہم علمی اور تربیتی ورکشاپ کے با ضابطہ افتتاح اور تعارف کے لیے ۱۳؍جولائی ۲۰۰۲ء کو ہمدرد سنٹر، لاہور میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مہمانِ خصوصی عزت مآب قائم مقام سفیر خادم الحرمین الشریفین(سعودی عرب)، شیخ الحدیث حافظ ثناء اللہ مدنی، ڈاکٹر راشد رندھاوا ، ظفر علی راجا ایڈووکیٹ، محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ ، قاضی حسن معز الدین (حفید قاضی سلیمان منصور پوریؒ)، مولانا عبد الصمد رفیقی (شیخ الحدیث جامعہ تدریس القرآن للبنات، واربرٹن)، پروفیسر حافظ عاکف سعید، شیخ عبد الربّ (مدیر ادارۃ بناء المساجد والمشاریع الخیریہ) کے علاوہ جامعہ لاہور الاسلامیہ کے کلیہ الشریعہ کے پرنسپل مولانا محمدشفیق مدنی، پرنسپل کلیہ القرآن قاری محمد ابراہیم میر محمدی، مدیر مجلس التحقیق الاسلامی مولانا عبد السلام فتح پوری، مدیر المعہد العالی للدعوۃ والاعلام مولانا رمضان سلفی اور مدیر ماہنامہ محدث حافظ حسن مدنی شریک ہوئے۔علاوہ ازیں کئی اہم دینی شخصیات اور مختلف جامعات کے ممتاز طلبا کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور ہمدرد سنٹر کا وسیع ہال تنگ دامانی کی شکایت کرنے لگا۔

شام ۳۰:۶ بجے تقریب کا باقاعدہ آغاز قاری محمد ابراہیم میرمحمدی کی تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔ قاری صاحب نے روایت ِورش میں سورئہ ابراہیم کی آیاتِ مبارکہ کی تلاوت کی۔ان کی پر سوز آواز سے عجب سماں پیدا ہوگیا ۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض پرنسپل کلیہ الشریعہ مولانا محمد شفیق مدنی نے انجام دیے۔

1۔ خطبہ استقبالیہ کیلئے تربیتی ورکشاپ کے ناظم ڈاکٹر حافظ محمد انور کو دعوت دی گئی۔ انہوں نے عربی زبان میں مہمانانِ گرامی اور تمام حاضرین کو خوش آمدید اور تقریب میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کرنے کے بعد اس ورکشاپ کے اغراض ومقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس ورکشاپ کا مقصد 'سعودی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم پاکستانی طلبا اور پاکستانی جامعات کے طلبا کی فکری تربیت' ہے تا کہ وہ دورِ حاضر میں اسلام اور عالم اسلام کو در پیش چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں اور ایک ایسی دینی قیادت تیار کی جائے جو اُمت کی رہنمائی کا فریضہ بخوبی انجام دے سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کیلئے ممتاز علما اور سکالرز کو جدید فکری موضوعات پر محاضرات کی دعوت دی گئی ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے اپنے خطبہ میں کہا کہ اس ورکشاپ کے اہداف میں سعودی یونیورسٹیوں اور پاکستانی جامعات میں زیر تعلیم طلبا کو باہم مل بیٹھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے تا کہ وہ اپنے علمی تجربات اور وسیع ا فکار کا باہمی تبادلہ کر سکیں۔ جس کا فائدہ یہ ہو گا کہ پاکستان کی اسلامی جامعات میں ہم آہنگی اور یگانگت کی فضا قائم ہو گی۔علاوہ ازیں دعوت کے میدان میں سر گرم مبلغین اور علما کے درمیان گہرے روابط کو فروغ دینے اور ان کے تجربات سے مستفید ہونے کے لیے شرکائِ دورہ کی ان سے ملاقاتوں کا اہتمام بھی کیا گیا۔

مہمانانِ گرامی کومخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے پروگراموں کے فوائد و ثمرات کسی سے مخفی نہیں ہے، لہٰذا میں جامعات کے ذمہ داران سے اُمید کرتا ہوں کہ وہ بھی اس قسم کے پروگراموں کا انعقاد کروائیں گے،کیونکہ لا دینیت کی یلغار اور مغربی تہذیب کی منہ زور آندھی کو روکنے کے لیے طلبا کی جدید خطوط پر تربیت نہایت ضروی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ پروگرام ان شاء اللہ اس جیسے دیگر پروگراموں کے لیے نقطہ آغاز ثابت ہو گا...آخر میں انہوں نے حاضرین کی تقریب میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

2۔ اس کے بعد تربیتی ورکشاپ کے نگرانِ خصوصی حافظ عبد الرحمٰن مدنی مدیر جامعہ لاہور الاسلامیہ کو دعوتِ خطاب دی گئی ۔ انہوں نے موجودہ عالمی صورتحال میں پاکستان کی پوزیشن پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت عالم اسلام اور کفر کے درمیان عسکری اورتہذیبی تصادم برپا ہے۔آج اگر کفر کو کسی نظام سے خطرہ ہو سکتا ہے تو وہ اسلام کا ہمہ گیر نظامِ حیات ہے ۔ اس لیے وہ اس نظام کو عسکری اور فکری یلغار کے ذریعے تباہ کرنے کے لیے تمام ذرائع اختیار کر رہا ہے ۔

پاکستان دولحاظ سے دیگر اسلامی ممالک پر ممتاز حیثیت رکھتا ہے : (1) اس کی بنیاد جس پر پاکستان معرضِ وجود میں آیا ؛ وہ کلمہ طیبہ ہے۔ (2) دوسرا امتیاز یہ ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت ہے۔ اور یہ دونوں چیزیں سپر پاور امریکہ کو کانٹے کی طرح کھٹکتی ہیں اور اس کا اصل ہدف پاکستان کی بنیاد 'کلمہ طیبہ' کو جڑ سے اُکھیڑنا اور پاکستان کی ایٹمی حیثیت کو ختم کرنا ہے۔ اسی طرح عالم اسلام میں جہاں بھی اسلامی حکومت قائم ہو، یا قائم ہونے کا خدشہ ہو اس کے خلاف وہ ہر قسم کے ذرائع اختیار کر رہا ہے۔

(1) عسکری تصادم کے ذریعے: اس کے لئے افغانستان کی تباہی ہمارے سامنے ہے کہ وہاں سے اسلامی حکومت کو ختم کرنے کے لیے کس طرح دہشت گردی کا ڈرامہ رچایا گیا اور پھر پاکستان کو یہ دھمکی دی گئی کہ اب دوستی یا دشمنی میں سے ایک رستہ اختیار کر لو اور افسوس کہ پاکستان نے ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود اپنے نظریہ سے اِنحراف کرتے ہوئے گھٹنے ٹیک دیئے اور پھر دنیا نے تماشا دیکھا کہ وہی امریکہ جو روس کے مد مقابل تو جہادِ افغانستان کا پشت پناہ تھا اور وہی پاکستان جو جہادِ افغانستان کا ہیرو تھا، آج پاکستان نے اسی امریکہ کو «المسلم أخو المسلم لا يظلمه ولا يسلمه ولا يخذله» کا فرمانِ نبوی بھلا کر اپنا کندھا پیش کر دیا تھااور پھر ظلم کی جو داستان رقم ہوئی، تاریخ اس کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔

(2) غزوۂ فکری: امریکہ جہاں اپنے نیو ورلڈ آرڈر کو دنیا پر مسلط کرنے کے لیے عسکری ذریعہ کو اِختیار کر رہا ہے، وہاں اس نے ایک اور جنگ بھی چھیڑ رکھی ہے؛ وہ ہے غزوۂ فکری۔سقوطِ ڈھاکہ کا دلدوز منظر ذہن میں لائیے جس کے نتیجہ میں بنگلہ دیش بنا، اس کے پیچھے در اصل یہی غزوۂ فکری کار فرما تھا۔ اور ہنٹگئن کا یہ کہنا کہ اسلام اورکفر کی کشمکش در اصل دو تہذیبوں کا تصادم ہے مغربی ہدف کے اعتبار سے درست ہے جبکہ پاکستان اس تہذیبی تصادم کی جولان گاہ بن چکا ہے ۔جو بظاہر تو ایک اسلامی ملک ہے لیکن در حقیقت یہاں مغرب اور امریکہ کی گماشتہ این جی اوز کی حکومت ہے جو مغربی تہذیب کے پنجے گاڑنے کے لیے کوشاں ہیں۔

ستم ظریفی دیکھئے کہ ان اسلام دشمن تنظیموں کو علی الاعلان کروڑوں ڈالر اِمداد بھیجی جاتی ہے جو ببانگ ِ دہل اِسلامی تہذیب کو ختم کرنے کے لیے استعمال کی جارہی ہے اس پر کوئی چیک بھی نہیں ہے۔ لیکن اِسلامی روایات کے محافظ دینی اِداروں کے لیے باہر سے کوئی ڈرافٹ تک نہیں بھیجا جا سکتا۔ حتیٰ کہ اسلامی ممالک کی طرف سے دینی مجلات کے زرِ سالانہ کے ڈرافٹ بھیجنے پر بھی پابندی عائد ہے ۔

انہوں نے فرمایا کہ بر صغیر میں استعمار نے دو 'میک' سے کام لیا ہے ایک غزوِ فکری کے میدان میں لارڈ میکالے سے یعنی یہاں آج تک ہمارے نصابِ تعلیم کی بنیاد 'لارڈ میکالے کے سامراجی نظام' پر ہے جس نے اسلامی تہذیب کا گلا گھونٹ کر رکھ دیا ہے اور اسلام کا تصور اس حد تک مسخ کر دیا گیا ہے کہ آج ہمارے قانون اور حکمران جرأت و حیرانگی سے کہہ رہے ہیں کہ کیایہاں اِسلام کا نفاذ ممکن ہے؟ کیا یہاں غیر سودی اسلامی اقتصادیات نافذ کرنا ممکن ہے؟ اللہ تعالیٰ نے جو اسلام کو ہمارے لیے مکمل ضابطہ حیات Complete code of Islam قرار دیا ہے، کیا ہمارا یہ طرزِ عمل اللہ تعالیٰ پر عدمِ ا ِعتماد کا غماز نہیں ہے ؟

اور پھر ہماری سیاست خواہ اس میں دینی جماعتیں بھی شامل ہوں، اس کی بنیاد 'میکیاولی' ہے اور اس سیاست کے پروردہ لوگ آج یہ کہہ رہے ہیں کہ پہلے معاشرہ کو اِسلامی بنایا جائے پھر اِ سلام کونافذ کیا جا سکتا ہے۔ ہمارا تصورِ سیاست اس قدر کیوں بگڑ گیا ہے اور ہمارے ذہن اس قدر کیوں مسموم ہو گئے ہیں؟ صرف اسلئے کہ ہماری سیاست کفر کے نظامِ سیاست پر استوار ہے جس پر ہم گاہے بگاہے اسلام کی پیوندکاری کی ناکام کوشش کر رتے رہتے ہیں۔

انہوں نے قاری محمد ابراہیم کی تلاوت کردہ آیات ﴿أَلَم تَرَ‌ كَيفَ ضَرَ‌بَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَ‌ةٍ...٢٤﴾... سورة ابراهيم" کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ہماری سیاست اورتعلیم کی مثال کلمہ خبیثہ کی سی ہے جس کی جڑیں گہری نہیں جبکہ اسلام کی جڑیں تو قرآن کے بقول﴿أَصلُها ثابِتٌ وَفَر‌عُها فِى السَّماءِ ٢٤﴾... سورة ابراهيم"کی تصویر پیش کرتی ہیں۔آج ہم جن مسائل سے دو چار ہیں اس کابنیادی سبب یہ ہے کہ ہم نے اپنے پاکیزہ الہامی دین کو کفر کے گندے اور خبیث نظام پر استوار کرنے کی راہ اپنالی ہے ۔ جب تک ہم اپنے نظام کی بنیاد کلمہ طیبہ (جس کی جڑیں انتہائی گہری ہیں اور اس کی چوٹی بلند ہے) پر استوار نہیں کریں گے، اس وقت تک ذلت ورسوائی سے چھٹکارا حاصل نہ ہو سکے گا۔

آج مغربی تہذیب سے مرعوب ہمارا اشرافی طبقہ میڈیا کے زور پر اِسلام کی اصلی صورت کو نہایت مسخ کر کے پیش کر رہا ہے۔ عدالتوں میں اسلام کی متفقہ اور مسلمہ اصلاحات کو خود ساختہ مفہوم پہنائے جا رہے ہیں۔ حکمرانوں کے کاسہ لیس، استعمار کے ایجنٹوں کے ذریعے اسلامی تعلیمات کو جزیرۂ عرب اور عہد رِسالت وصحابہ میں محدود کرکے اسلام کی عالمگیر حیثیت کو ختم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے ۔

یہ وہ چیلنجز ہیں جو ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔ ان سے عہدہ برآ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ایک ایسی دینی قیادت تیار کی جائے جو عالمی صورتِ حال کے تناظر میں حالات کا گہرا جائزہ لے، ملحد لابی کے ہتھکنڈوں کو سمجھے، شر کو اس کی اصل سے پہچانے کیونکہ بقول حضرت عمرؓ شر کوختم کرنے کے لیے اس کی پہچان ضروری ہے ۔ اور پھر اس کے علاج کے لیے مناسب لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے لیے یہ مناسب ہوگا کہ ہمارے وہ سکالرز جو اس وقت سعودی عرب میں کام کر رہے ہیں مثلاً قاری محمد اَنور صاحب جو بیس سال سے سعودی عرب میں ہیں اور اب جامعہ الامام محمدبن سعود الاسلامیہ سے پی ایچ ڈی کررہے ہیں، ان کو چاہیے کہ وہ واپس آئیں اور عرب ممالک میں کام کرنے والے اپنے قابل ساتھیوں کو بھی لائیں اور پاکستان کے حالات کو سمجھ کر اسلام کی خالص اور سچی روشنی کو پھیلانے کا کام کریں۔

مولانا مدنی نے فرمایا کہ اس تربیتی ورکشاپ کو منعقد کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ بیرونی یونیورسٹیوں میںزیر تعلیم طلبا جو بین الاقوامی حالات سے زیادہ واقفیت رکھتے ہیں اور پاکستانی جامعات کے طلبا جو پاکستان کے حالات سے نسبتاً زیادہ واقف ہیں، مل بیٹھ کر اپنے خیالات کا تبادلہ کر سکیں۔ ہم نے اس نیک کام کی ابتدا کر دی ہے اور اُمید کرتے ہیں کہ اسلام سے لگاؤ رکھنے والے حضرات اس پروگرام کو آگے بڑھائیں گے۔ آج اسلامی قیادت کو چاہیے کہ وہ کھلی ڈسکشن کا اہتمام کرے اور بین الاقوامی حالات کو پیش نظر رکھے اور اسلام پر کفر کے لگائے ہوئے دھبوں کو دھو کر اسلام کی صحیح تصویر پیش کرے جس سے مملکت ِخداداد پاکستان میں اسلام کے غلبہ کا راستہ ہموار ہو گا اور پاکستان بقول قائد اعظم محمد علی جناح ایک دن ضرور اسلام کی آماجگاہ بن جائے گا۔ وما علینا إلا البلاغ

3۔ سعودی عرب کے سفیر چونکہ ان دنوں ملک میں نہیں تھے اس لئے ان کے قائم مقام عزت مآب جناب نبیل البہلول تقریب کے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے آئے۔ انہوں نے اس تربیتی پروگرام کے اِنعقاد پر خوشی کا اظہار کیا اور اس کے لئے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ آج میڈیا کے ذریعے اسلام کا صحیح تصور مسخ کیا جا رہا ہے۔ اور دنیا کو یہ بھی باور کروایا جا رہا ہے کہ پاکستان کوئی نظریاتی ملک نہیں ہے کہ جس کی بنیاد کلمہ طیبہ ہو۔ ہمارا یہ پروگرام ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اسلام کے حقیقی تصور کو واضح کریں اور اسلامی روح جس کو بگاڑا جا رہا ہے، اس کی صحیح عکاسی پیش کریں؛ نظریاتی طور پر بھی اورعملی طور پر بھی۔جس سے ہم کفر کے مقابلہ میں اچھی پیش رفت کر سکتے ہیں ... آخر میں انہوں نے کہا کہ میںسعودی یونیورسٹیوں اور پاکستانی جامعات کے طلبا کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس ورکشاپ میں اس نہج پر شرکت کریں اور اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں کہ وہ دوسروں کے لیے ایک نمونہ اور آئیڈیل بن جائے۔

4۔ اس کے بعد مجاہد ِناموسِ رسالت ﷺ جناب محمّد اسماعیل قریشی نے قائم مقام سفیر کی خدمت میں سعودی حکومت کے لیے چند تجاویز پیش کیں ... انہوں نے اپنے انگریزی خطاب میں کہا کہ اب ضروری ہو گیا ہے کہ مسلمان ممالک خانۂ کعبہ کو اپنا مرکزبنا کر سعودی حکومت کی قیادت میں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں۔اور آج مسلمانانِ اُمت کی نظریں خادم الحرمین الشریفین پر لگی ہوئی ہیں۔سعودی حکومت کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کے اِتحاد میں کردار ادا کرے۔

آخر میں شیخ الحدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ حافظ ثناء اﷲ مدنی کی رِقت آمیز دُعاسے یہ پروگرام اختتام پذیر ہو گیا۔

تربیتی ورکشاپ بمقام جامعہ لاہور الاسلامیہ، گارڈن ٹائون، لاہور

پہلادن (۱۴؍ جولائی بروز اتوار)

تربیتی ورکشاپ میں شرکت کرنے والے طلبہ ہفتہ کی صبح جامعہ لاہور الاسلامیہ میں پہنچنا شروع ہوگئے تھے جہاں شرکا کے استقبال کا اہتمام تھا اور انہیں مختلف گروپوں میں تقسیم کرکے رہائش الاٹ کردی گئی۔جبکہ ان دنوں اس ورکشاپ کی مناسبت سے جامعہ میں ہفتہ بھر کی تعطیلات کر دی گئی تھیں تاکہ ورکشاپ کے طلبہ یکسوئی سے فکری تربیت کے پروگرام میں شرکت کرسکیں۔قیام وطعام کا انتظام جامعہ کی گارڈن ٹائون والی عمارت میں تھا جبکہ ماڈل ٹائون میں مجلس التحقیق الاسلامی کی وسیع لائبریری میں لیکچرزکا انعقادکیا گیا۔

اس ہفت روزہ 'تربیتی ورکشاپ' کا پہلا روز اِنتہائی مؤثر، بامقصد اور پر مغز تقاریر اورلیکچرز کے علاوہ سوال وجواب کی بھرپور نشستوں میں صرف ہوا۔ کاروائی کا باقاعدہ آغاز صبح تقریباً ۸ بجے حافظ حمزہ مدنی کی تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔ جب کہ قاری محمد اَنور صاحب نے کو آرڈی نیٹر اور تربیتی ورکشاپ کے ناظم کی حیثیت سے اپنے تمہیدی کلمات میں تربیتی ورکشاپ کے ہمہ جہتی مقاصد پرر وشنی ڈالنے کے بعد حسب ِپروگرام سب سے پہلے جامعہ لاہور الاسلامیہ کے شیخ الحدیث جناب حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہ اللہ کو ان کے خصوصی موضوع 'اسلامی وراثت پر شبہات کا اِزالہ' پر اظہارِ خیال کرنے کی دعوت دی۔

(1) حافظ صاحب گھنٹہ بھر اپنے موضوع پر علمی پیرائے میں مخصوص انداز پر گفتگو سے شرکا کو محظوظ فرماتے رہے۔ حافظ صاحب دلائل میں پیش کردہ اَحادیث کی مکمل اسناد بھی زبانی بیان فرما رہے تھے ۔ اس پیرانہ سالی میں ان کا قابل ذکر حافظہ اور اندازِ خطابت بھی شرکا کے لیے نہایت مؤثر کن تھا ... حافظ صاحب نے اپنے خطاب میں وراثت سے متعلق شبہات کا مدلل ازالہ کرنے کے ساتھ ساتھ طلبہ کو بڑی تاکید کے ساتھ اس امر کی ترغیب دی کہ وہ علم میراث پر خصوصی توجہ مرکوز کریں کیونکہ پاکستان میں علم میراث کے ماہر نہ ہونے کے برابر ہیں۔ا س علم کے ماہرین یکے بعد دیگرے رخصت ہو رہے ہیں جبکہ ان کا خلا پر ہونے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔

انہوں نے فرمایا کہ عالم کی موت گویا عالم کی موت ہے۔ امام ذہبیؒ نے صدیوں پہلے فرمایا تھا کہ علم یا تو کتابوں میں ہے یا مٹی کے نیچے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے کم اِختلاف میراث کے مسائل میں ہے کیونکہ یہ زیادہ تر منصوصات پر مبنی ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں 'وراثت ِاسلامیہ' جو کہ حافظ عبداللہ روپڑیؒ کی معرکہ آرا تصنیف ہے کو وراثت کے موضوع پر بہترین کتاب قرار دیا اور اس میدان میں انہی کے شاگرد رشید مولانا محمد صدیق سرگودھوی کی نمایاں خدمات بھی بیان کیں۔

(2) حافظ ثناء اللہ صاحب کے محاضرہ کے بعد معاشیات کے پروفیسر جناب میاں محمد اکرم کو حسب پروگرام اپنے موضوع پر روشنی ڈالنے کے لیے لیکچر کی دعوت دی گئی۔ پروفیسر محمد اکرم نے اپنے موضوع 'استعمار اور اقتصادیات' پر نہایت فکر انگیز،علمی اور معلوماتی لیکچر پیش کیا۔ انہوں نے اپنے موضوع کا آغاز یہاں سے کیا کہ دنیا میں اب تک تقریباً ۳۶ سپر پاورز آئیں اور اپنا عرصۂ اقتدار پورا کرکے تاریخ کا حصہ بنتی چلی گئیں جن میں ماضی قریب کا برطانوی اور روسی استعماربھی شامل ہیں۔ اس وقت امریکہ دنیا پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کیلئے اپنا 'نیو ورلڈ آرڈر' لاگو کر کے واحد سپر پاور بننے کے لئے کوشاں ہے۔

اس وقت ادارئہ تحقیقاتِ اسلامی میں ایسوشی ایٹ پرفیسر ہیں نے 'پاکستان میں نفاذِ شریعت کے اداروں' کے موضوع پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ہونے والی نفاذِ اسلام کی کوششوں اور علما کے کردار کا جائزہ لیا۔ انہوں نے حکمرانوں کی اسلام سے بے توجہی کی تصویر کشی کی۔ انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اسلامی ادارے تو قائم کئے ہیں لیکن عملی طور وہ اسلام کے نفاذ کے لئے ان کی تجاویز کو ردّی کی ٹوکری میں ڈال دیتی ہے۔

پاکستان میں اس مقصد کے لئے قائم سرکاری وغیر سرکاری اداروں کا اپنے خطاب میں انہوں نے بالاختصار تعارف کرایا او ران کی نمایاں خدمات پر روشنی ڈالی۔ ان خصوصی خطوط کا تذکرہ کیا جن پر یہ ادارے اپنا کام پیش کرکے قدم بقدم اسلام کے نفاذ کی کوشش کررہے ہیں۔

چونکہ ہر لیکچر کے آخر میں سوال جواب کے لئے بھی وقفہ مخصوص کیا گیا تھا جس میں طلبہ نے بڑے ذوق وشوق سے متعلقہ موضوع پر سوالات اٹھائے۔ ڈاکٹر سہیل حسن سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان میں نفاذ شریعت کے ان سرکار ی اداروں کی کوششوں پر اعتماد کیا جاسکتا ہے؟ یا ۵۴ سالہ تجربے کی روشنی میں نفاذِ اسلام کی دیگر صورتوں پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ آپ نے اپنے جواب میں ان اداروں مثلا اسلامی نظریاتی کونسل ، شرعی عدالتوں، اسلامی یونیورسٹیوں کے کام کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر کوئی مخلص حکمران پاکستان کو نصیب ہوجائے تو وہ ان اداروں کی بنائی ہوئی بنیاد اور علمی کام کو ثمر آور کرسکتا ہے کیونکہ ان کی مدد سے بنیادی نوعیت کا عظیم کام ہوچکا ہے ۔

(8) جناب حافظ حسن مدنی، مدیر ماہنامہ 'محدث' نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اس کا دعوتی میدان میں استعمال' کے موضوع پر بات کرتے ہوئے موجودہ دور میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی اہمیت کا تفصیل سے ذِکر کیا اور طلبہ کو اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ وہ اس جدیدایجاد کو اسلام کی تبلیغ کے لئے استعمال کریں۔ انہوں نے کمپیوٹر و انٹرنیٹ سے استفادہ کرنے کے طریقوں سے بھی قابل قدر آگاہی فراہم کی۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کمپیوٹر کی ایجاد کو فنون کا ارتقا قرار دے کر اسلامی علوم کیلئے اس سے بھر پور استفادہ کی اہمیت پرمثالوں سے روشنی ڈالی۔انٹرنیٹ پر اسلام کے خلاف ہونے والے پراپیگنڈے کے مثبت توڑ کی طرف بھی انہیں متوجہ کیا۔ طلبہ کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کو تبلیغ اسلام کے لئے زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے پر اُبھارا۔ اس کی مختلف صورتوں کی نشاندہی کے علاوہ اسلام کی دعوت ہر گھر تک پہنچانے کے اسلامی فریضہ کی طرف انہیں ترغیب دی۔

(9) شام کے سیشن میں ممتاز عالم دین حافظ عبدالمنان نورپوری شیخ الحدیث جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ نے 'اجتہاد اور تقلید ' کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہا رکیا۔ تقلید کی مختلف تعریفیں کرکے ان کا تجزیہ کیا اور قرآن و حدیث کو چھوڑ کر کسی معین امام کی نقالی کا ردّ کیا ۔اپنے خطاب میں انہوں نے خبرآحاد کی حجیت کو واضح کیا۔ آپ نے طلبہ کو سوالات کے لئے بڑا لمبا وقت دیا اور اپنے مخصوص انداز میں جوابات دیے۔

تیسرا دن (۱۶؍ جولائی بروزمنگل)

(10) حافظ حمزہ مدنی کی سورۂ ابراہیم کی تلاوت سے صبح کے سیشن کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد جامعہ الامام ریاض کے ریسرچ سکالر قاری محمد انور صاحب نے 'فقہا کے اختلاف کے اسباب' کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں میں فقہی اختلافات کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بڑے فقہا نے قرآن و حدیث کے اطلاق کو اپنی عقل وتجربہ کے مطابق استعمال کیا جو اپنے دور میں تو واقعی بڑا اہم تھا لیکن آئندہ ادوار کیلئے بھی انہیں اتھارٹی قرار دینا مشکل ہے کیونکہ نبی معصوم ﷺ کے بعد ہر شخص کی سمجھ بوجھ کا معیار مختلف ہے۔ اس کے علاوہ ابتدائی دورِ تدوین میں تمام احادیث کا اُن تک نہ پہنچنا بھی اس کا ایک بڑا سبب ہے۔انہوںنے اختلافِ فقہا کی صورت میں کتاب وسنت سے قریب تر رائے کو اختیارکرنے پرزور دیا۔

اسکے بعد محترم حافظ عبدالرحمن مدنی نے 'اجتہاد' کے موضوع پر چندمنٹ اِظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ اجتہاد کی تین تعریفیں ہیں: (1) ابن حزمؒ (2) متجددین (3) جمہور فقہاء کی تعریف۔ پھر جمہور فقہاء کی تعریف کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ فہم خبر وفتویٰ اور اجتہاد واستنباط میں فرق ہے، جبکہ ابن حزمؒ نے تقلید جامد کے خطرہ کے پیش نظر اجتہاد میں اطلاق کے پہلو پر زور دیتے ہوئے فہم اور استنباط کی تفریق ملحوظ نہیں رکھی۔ جس سے افراط وتفریط کے کئی رویے جنم لیتے ہیں۔انہوںنے روایت ودرایت اور فقہ کے ضوابط کو مختلف قرار دیتے ہوئے وضاحت کی کہ محدثین کی تصحیح وتضعیف 'حدس وفراست' کی قبیل سے ہے جس کو تسلیم کرنا تقلید فقہی کے زمرہ میں نہیں آتا۔

(11) مولانا رمضان سلفی نائب شیخ الحدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ نے 'حجیت ِحدیث' کے موضوع پر نہایت علمی گفتگو کی۔ آپ نے روایت اور درایت کی اصطلاحاتِ حدیث سے وضاحت کی اور دلائل سے ثابت کیا کہ حدیث و سنت کا تمام ذخیرہ تو نبی اکرم ﷺ کے عہد ِمبارک ہی موجود تھا جبکہ عہدِصحابہ میں اس کی ترویج ہوئی اور اس علم کی تدوین کا کمال عروج امام بخاریؒ کے دور میں ہوا۔ آپ نے یہ بتایا کہ اجتہاد کے اصولوں سے خبر واحد قرآنِ کریم کی تخصیص کرسکتی ہے۔ انہوں نے اس موقف پربھی سیر حاصل بحث کی کہ قرآن قطعی ہے اور حدیث ظنی؟ آپ نے فرمایا کہ حدیث قرآن کی تفسیر و تشریح کرتی ہے ،اس لئے صرف قرآن سے اسلامی شریعت کو نہیں سمجھا جاسکتا۔

(12) 'وحدتِ اَدیان اور رسالت' کے موضوع روشنی ڈالنے کے لئے جناب مولانا زاہد الراشدی مدیر اعلیٰ ماہنامہ 'الشریعہ' گوجرانوالہ سے تشریف لائے ۔ انہوں نے کہا کہ تحریف شدہ تورات میں بھی توحید کے موضوع پر اکثر عقائد وہی ہیں جن کی اسلام دعوت دیتا ہے، ہم اہل کتاب کو اللہ عزوجل کی وحدانیت پر جمع ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔وحدت ادیان کا اسلامی اور قابل قبول تصور یہ ہوسکتا کہ ہر الہامی دین اپنی اصل تعلیمات کی بنا پر اتحاد کرے اور یہ امر واضح ہے کہ قرآن کے علاوہ ان ادیان پر کوئی مستند شہادت نہیں کیونکہ قرآن کی خصوصیت ان ادیان کی نگرانی (مہیمن ہونا) بھی ہے۔ انہوں نے ﴿تَعالَوا إِلىٰ كَلِمَةٍ سَواءٍ بَينَنا وَبَينَكُم...٦٤ ﴾... سورة آل عمران" کو دعوتی حکمت عملی کی تدریج قرار دیا اور کہا کہ آخرکار ہمیں اسلام کے رسول اعظم محمد ﷺکی طرف ہی آنا پڑے گا جو الہامی شریعتوں کے سلسلہ کی آخری کڑی ہیں۔

(13) 'عصر حاضر کی بدعات اور انکا ردّ' کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے 'جماعت الدعوۃ پاکستان' کے قائم مقام امیر مولانا حافظ عبدالسلام بھٹوی نے کہا کہ دین اسلام کی تکمیل محمد ﷺکے زمانہ میں ہوچکی لہٰذا اب کسی کو یہ اِجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ دین کے نام پر کوئی نئی چیز دین وشریعت میں داخل کرے، اَقوامِ مغرب کی نقالی یا اپنے نفس کی پیروی کی بنا پر اگر کوئی اسلام میں نئی چیز کا اِضافہ کرتا ہے تو ایسا کوئی عمل بھی قابل قبول نہ ہوگا۔

انہوں نے پارلیمنٹ سے اسلام کی تعبیر نو کی کوشش کو زیادتی سے تعبیر کیا اور اس کااعادہ کیا کہ پارلیمنٹ کو رسالتماب ﷺکے بعد قانون دینے کے الٰہی حق پر دست درازی کرنے والے کون ہوتے ہیں؟؟ انہوں نے آخر میں شہید کی نمازِ جنازہ اور سرکاری مناصب کے حصول کی کوششوں پر بھی اظہارِ خیال کیا۔

(14) شام کے سیشن کا آغاز ہوا تو محترم حافظ عبدالرحمن مدنی نے 'جہاد اور دہشت گردی میں فرق' کے موضوع پر اظہا رخیا ل کیا۔انہوں نے واضح کیا کہ اسلام لوگوں کو بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ مغرب کے پیش کردہ بنیادی حقوق جان، مال، آبرو سے بڑھ کر نسل، عقل اور دین کے انسانی حقوق کے تحفظ کا بھی اسلام ضامن ہے۔ انہوں نے فرمایاکہ فروغِ اسلام کا ذریعہ تو دعوت وتعلیم ہی ہے جبکہ اسلامی معاشرے کی تشکیل و تحفظ کا ذریعہ جہاد وقتال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جہاد کے مثبت پہلو واضح کرنے کی ضرورت ہے جو فروغ اور غلبۂ اسلام کی تمام مساعی پر محیط ہے۔ جبکہ قتال فتنہ وظلم کے خاتمہ کیلئے کیا جاتا ہے لہٰذا اسلام میں جہاد فی نفسہٖ پسندیدہ فعل ہے جبکہ قتال اسلام میں نفاذِ حدود کی طرح حسن لغیرہٖ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کو فلسفہ واشتراکیت یا امریکہ کے نیو ورلڈ آرڈر سے تشبیہ دے کر اس کے نفاذ کا جواز بتانا معذرت خواہانہ انداز ہے جبکہ اللہ تعالیٰ مسلمہ طور پر اس کائنات کا خالق ہے اس کی رہنمائی اور انسانی ذہن کے تراشے ہوئے فلسفے اور نظام یکساں نہیں ہوسکتے۔ تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کی استعمال کر کے اس کا شکر تو بڑی بات ہے اس کی شریعت (رہنمائی) پر اکتفا نہ کرنا بہت بڑاظلم ہے، لہٰذا کم از کم اجتماعی طور پر وَيكون الدِّين كله ﷲِ پر اعتراض نہیں ہونا چاہئے البتہ انفرادی طور پر اللہ تعالیٰ نے دنیا میں لَا إِکْرَاہَ فِی الدِّینِ وغیرہ تعلیمات سے جبر کا خاتمہ کر کے انسانی مساوات اور آزادی فکر کے تحفظ کی ضمانت مہیا کی ہے چنانچہ اللہ کی آخری شریعت اور مکمل دین ہونے کے ناطے محمدی شریعت دیگر الہامی شریعتوں پر فوقیت رکھتی ہے اور اس مقصد کے لئے دنیا سے انسانی جبر وظلم کا خاتمہ کرکے ایک انسان کو آزادی سے اللہ کی بندگی قبول کرنے کا ماحول مہیا کرنا اسلام کا مقصد ومنشا ہے۔ حضرت عمرؓ کے سپہ سالار سعد بن ابی وقاصؓ کے نمائندہ ربعی ابن عامر کے بقول، لوگوں کو انسانوں کی بندگی سے نکال کر ایک اللہ کی بندگی میں اجتماعی طور دینا اسلام کا اقدامی 'فلسفہ قتال' ہے۔جس کے بعد قبولِ اسلام کے لئے دعوت و تعلیم راہ ہموار کرتی ہیں۔

اپنے خطاب میں انہوں نے دہشت گردی اور جہاد میں فرق کرتے ہوئے کہا کہ اسلام حرابہ کی سخت ترین سزا مقرر کرکے دہشت گردی کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام میں قتال کے لئے بڑی کڑی شرائط اور آداب وضوابط ہیں جن کو ملحوظ نہ رکھنے کی بنا پر بسا اوقات دہشت گردی کا مغالطہ ہو سکتا ہے۔ آخر میں انہوں نے عسکری تنظیموں کی سرکاری ایجنٹ ہونے کے حوالے سے بعض بے اعتدالیوں کا تذکرہ کیا۔

چوتھا دن (۱۷؍ جولائی بروزبدھ)

(15) صبح کے سیشن کا آغاز جناب قاری محمد ابراہیم میرمحمدی نے تلاوتِ قرآن کریم سے کیا۔ اس کے بعد پروفیسر عبدالجبار شاکر (ڈائریکٹر پنجاب پبلک لائبریریز) نے 'عصر حاضر میں مسلمانوں کا اضطراب، اَسباب اور حل' کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف سب سے زیادہ سازشیں بنانے والے یہود ہیں اور ان کی ذہنیت سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ان کے لٹریچر کا مطالعہ کریں۔ یہود کا منصوبہ ہے کہ وہ مدینہ نبویہ کو بھی اپنے زیر تسلط لے لائیں۔

بعد ازاں انہوں نے عیسائیوں کی اسلام کے خلاف سازشوں کا نقشہ کھینچا۔ اور ان کوششوں کے تناظر میں مسلمانوں کو مناسب حکمت ِعملی وضع کرنے اور اس پر مخلصانہ عمل کرنے پر زور دیا۔

(16) 'انسانی حقوق' کے موضوع پر جناب محمد عطاء اللہ صدیقی نے اظہارِ خیال کیا اور اسلام کی حقانیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ انسانی حقوق کا ذکر مغرب کے ہاں بارہویں صدی میں ملتا ہے جبکہ اسلام نے یہ تصور چودہ سوسال پہلے ہی پیش کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی جو اہم ترین دستاویز ہے وہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی دستاویز ہے، مغربی ممالک اس کا شور تو بہت مچاتے ہیں لیکن اس پر خود بھی عمل پیرا نہیں ہوتے اور تما م دنیا میں صرف مسلمانوں کوتختۂ مشق بنا رہے ہیں۔

اپنے خطاب میں انہوں نے انسانی حقوق پر مغرب کے تضادات کو نمایاں کیا اور انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کا دفعہ وار اسلامی تعلیمات سے تقابل پیش کیا۔علاوہ ازیں مغرب اور اسلام میں حقوق کے فلسفہ پر بھی انہوں نے روشنی ڈالی۔

مذاکرہ 'تحریک ِاہل حدیث'

اس لیکچر کے بعد ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔

محترم حافظ عبدالرحمن مدنی نے 'اہل سنت کے دو فقہی مکتبہ فکر: اہل الرائے اور اہل الحدیث' کے موضوع پر اظہارِ سخن فرمایا۔ جس میں ان کے بنیاد ی فرق بالاختصار پیش کئے ۔

محترم حافظ صلاح الدین یوسف 'شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور فقہی جمود کو ختم کرنے کی کوشش' کے موضوع کو زیر بحث لائے۔ آپ نے اس موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا جس میں شاہ ولی اللہ کا فقہی موقف اور اجتہاد وتقلید کے متعلق ان کی رائے ان کی تحریروں کی روشنی میں پیش کی گئی ۔

محترم حافظ عبدالوحید صاحب نے 'برصغیر میں سکھوں اور انگریز کے خلاف اہل حدیث کے کردار' کے موضوع پر لب کشائی کی۔ شاہ ولی اللہ کی دعوت پر مرہٹوں کے خلاف احمد شاہ ابدالی کی پانی پت کی تیسری لڑائی سے لے کر شاہ اسماعیل شہید کی تحریک ِجہاد اور اہل حدیث کی ہردور میں جہاد کی سرپرستی، اس کیلئے آزمائشیں اور گرفتاریاں ان کا موضوع تھا جس پر انہوں نے نہایت خوبی سے اظہا رخیال کیا۔

'اہل حدیث کے امتیازات' پر محترم ڈاکٹر عبدالرشید اظہر نے اپنے خیالات کو سامعین کے سامنے پیش کیا۔ ڈاکٹر راشد رندھاوا صاحب نے 'پاکستان میں نفاذِ شریعت کیوں اور کیسے؟ کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔صدرِ محفل محترم جناب عبد اللہ اَمجد چھتوی (شیخ الحدیث دار الدعوۃ السلفیہ، ستیانہ بنگلہ) نے 'منہج اہل حدیث' پر اپنے خیالات کو جامہ الفاظ پہنایا۔آپ کے ساتھ مولانا عتیق اللہ صاحب (ناظم دار الدعوۃ السلفیہ) بھی تشریف لائے۔

ان جید علما کرا م کے خطابات کے بعد سوال وجواب کی ایک تفصیلی نشست ہوئی جس میں مولانا عبد الرحمن مدنی، ڈاکٹر عبد الرشید اظہر اور مولانا عبد اللہ چھتوی کے پینل نے شرکا کے سوالات کے جوابات دیے۔

ہم نصابی سرگرمیاں

(1) طلبہ نبی کریم محمد ﷺ کی سنت پرعمل کرتے ہوئے حافظ عبد المنان نورپوری اور حافظ حسن مدنی کی معیت میں ممتاز عالم دین مولانا عزیز زبیدی کی عیادت کے لئے ان کے گھر حاضر ہوئے۔ موصوف ان دنوں علیل اور نہایت ضعیف ہیں اور کبرسنی کے مشکل ایام سے گزر رہے ہیں۔

(2) اس کے علاوہ منگل کو بعد نمازِ مغرب طلبہ کو تفریح کے لئے گلشن اقبال پارک کی سیر کے لئے لے جایا گیا۔ طلبہ نے خوبصورت ماحول اور بے مثال لمحات کو یادوں کے دریچے میںمحفوظ کرلیا۔ اسی موقع پر باہمی تعارف کی محفل بھی سجی اور وہیں رات کے کھانے کے بعد یہ دلفریب لمحات اختتام کو پہنچے۔

(۳) بدھ کی شام طلبہ نے بیت الحکمت کی زیارت کی۔جہاں مخطوطات کی بڑی تعداد اور اقبالیات پر کثیر لٹریچر نے طلبہ کو متاثر کیا۔بعض جدید موضوعات پر اہم کتب کی موجودگی بھی قابل دید ہے۔

تربیتی ورکشاپ کی نمایاں علمی و انتظامی خصوصیات


1. ہر لیکچر کے اختتام پر لیکچرر (محاضر) سے سوال و جواب کی نشست

2. متنوع ؍معاصر موضوعات پر لیکچرز کا اہتمام

3. تمام لیکچرز کی سی ڈی پر آڈیو ریکارڈنگ، تاکہ مستقبل میں بھی استفادہ کیا جاسکے اور معیاری سائونڈ سسٹم

4. طلبہ کے لئے عمدہ قیام و طعام کا انتظام

5. طلبہ کے لئے موزوں علمی سیر اور تفریح کا انتظام

6. لیکچرز کے دوران مشروبات سے تواضع

الغرض اپنی نوعیت کی اس پہلی ورکشاپ میںطلبہ کو باہمی تجربات و افکار کے تبادلہ کا موقع ملا، مختلف موضوعات پر لیکچرز سے ان کے لئے فکر و عمل کے نئے دریچے کھلے۔ فاضل علماء کرام کے ساتھ گفتگو سے ان کو علم کے موتی سمیٹنے کا موقع ملا۔ تجرباتی علم کی روشنی ملی، عمل کا جذبہ فراواں نصیب ہوا، نئے دوست ملے، چند دنوں میں ان کی زندگی کو ایک نیا نقشہ اور نئی جہت ملی۔

پانچواں دن(۱۸؍ جولائی بروزجمعرات)

صبح کے سیشن کے آغاز پر طلبہ کو سعودی یونیورسٹیوں میں داخلہ کے طریقۂ کار سے آگاہ کیا گیا۔ جس کے بعد حافظ حسن مدنی نے پاکستانی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم (ایم فل، پی ایچ ڈی) کے مراحل اور طریقہ کار سے طلبہ کو متعارف کرایا۔بعد ازاں طلبہ کے مابین تقریری مقابلہ کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز قاری حمزہ مدنی کی تلاوت سے ہوا۔ محمود احمد نے حمد ِباری تعالیٰ پرسوز آواز میں پیش کی۔نعت ِرسول مقبول ﷺ پیش کرنے کا اعزاز محمد نعمان فاروقی کے حصہ میں آیا۔ طلبہ نے درج ذیل موضوعات پر اظہار خیال کیا :

قاری محمد شعیب (مدینہ منورہ یونیورسٹی) 'جنگ ِآزادی میں اہل حدیث کا کردار'

حافظ شعیب احمد (جامعہ سلفیہ، فیصل آباد) 'مدارس کے طلبہ کی ذمہ داریاں'

شکیل احمد (جامعۃ الدعوۃ ، مریدکے) 'غیر مسلموں کی سازشیں اور ان کا توڑ'

محمد نعمان فاروقی (دار الدعوۃ السلفیہ، ستیانہ) 'فقہی جمود کے اسباب اور ان کا حل'

مرزا عمران حیدر (جامعہ لاہور الاسلامیہ) 'پاکستان میں نفاذ شریعت، ماضی، حال، مستقبل'

اسی مقابلہ کے نتائج یوں رہے : اول:حافظ شعیب احمد، دوم :قاری شعیب احمد اور سوم :عمران حیدر

اس کے بعد اعجاز حسن (متعلّم مدینہ یونیورسٹی) نے تربیتی ورکشاپ کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی بے مثال ورکشاپس ہر سال منعقد ہونی چاہئیں۔ انہوں نے سعودی جامعات سے فارغ التحصیل اور زیر تعلیم طلبہ کو ایک نظم میں پرونے کی تجویز پیش کی۔

پاکستانی جامعات کے طلبہ کے نمائندہ کی حیثیت سے حافظ قمر حسن نے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے ورکشاپ کے انتظامی، تعلیمی اور تفریحی پروگرامز کو سراہا اور کہا کہ مختلف موضوعات پر لیکچرز اور اہل علم سے ملاقات نے ہمارے خرد کو جلا بخشی ہے۔

بعد ازاں حافظ حسن مدنی نے اسلامک ویلفیئر ٹرسٹ کے زیراہتمام چلنے والے اداروں کا مختصر تعارف کروایا۔

تربیتی ورکشاپ کے منتظم محترم قاری محمد انور نے مدیر جامعہ لاہو راسلامیہ، انتظامیہ ادارہ، اپنے معاونین، اور طلبہ کا شکریہ ادا کیا کہ ان سب کے تعاون سے یہ فقید المثال تربیتی ورکشاپ منعقد ہوسکی۔ انہوں نے طلبہ سے شکایت و تجاویز دریافت کیں۔ اس کے علاوہ طلبہ سے تحریری طور پرتربیتی ورکشاپ کے مجموعی انتظام و انصرام کے حوالہ سے سوال نامے اور جائزہ فارم بھی پر کروائے گئے۔

آخر میں صدرِ محفل مدیر جامعہ لاہور اسلامیہ حافظ عبدالرحمن مدنی نے قاری محمد انور صاحب کو اس عدیم المثال ورکشاپ کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ آئندہ جب بھی طلبہ کی خیر خواہی اور دینی خدمت کے کسی کام میں ان کے تعاون کی ضرورت پڑے گی تو وہ دامے، درمے، سخنے مدد فرمائیں گے۔ ان شاء اللہ

اختتامی تقریب ( عصر تا مغرب )

تقریب کا آغاز کلامِ پاک سے ہوا، حافظ حمزہ مدنی نے پرسوز آواز میں تلاوت بروایت ِقالون کی۔ نظامت کے فرائض ورکشاپ کے انچارج قاری محمد انور نے انجام دیئے۔ خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے جامعہ لاہور الاسلامیہ کے مدیر حافظ عبدالرحمن مدنی نے فرمایا کہ اگر آج ہم اسلام کی مدد کے لئے کھڑے نہیں ہوں گے تو اللہ عزوجل ایسے لوگ لے آئے گا جو مسلمانوں پر مہربان اور کفار پر سخت ہوں گے۔ انہوں نے کہا اس ورکشاپ سے ہمیں یہ موقع میسر آیا کہ ہم مل کر عصر حاضر کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے سوچ و بچار کریں۔

قرآن انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر اور جامعہ ابی بکر،کراچی کے مدیر ڈاکٹر راشد رندھاوا نے اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ مسجد تعلیمی اداروں میں سب سے عظیم ادارہ ہے جو انسان کی دنیوی و دینی کردار سازی کرتا ہے، اور یوں معاشرہ میں انقلابی تبدیلی آتی ہے۔

ریکٹر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمن خاں نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ دینی طلبہ کو دور حاضر میں اسلام کے پیغام کو پھیلانے کے لئے عصری علوم وفنون حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔ امامِ کائنات ﷺنے اپنے صحابی زید بن ثابتؓ کو یہودیوں کی زبان (عبرانی) سیکھنے کا حکم دیا اور جنگ ِبدر میں قیدیوں سے فدیہ کے طور پر مسلمانوں کو فن کتابت سکھانے کا حکم دیا۔ انہوں نے طلبہ پر زور دے کر کہا کہ وہ ہر میدان زندگی میں سامنے آئیں تاکہ سیکولر عناصر کا بھرپور مقابلہ کیا جاسکے۔

تقریب کے آخر میں تربیتی ورکشاپ کے شرکا میں انعامات تقسیم کئے گئے۔

اس ورکشاپ میں سعودی عرب کی مدینہ منورہ یونیورسٹی، امام محمد بن سعود یونیورسٹی ریاض اور اُم القریٰ یونیورسٹی مکہ مکرمہ میں زیر تعلیم طلبہ کے علاوہ پاکستان سے جامعہ سلفیہ ، فیصل آباد، جامعہ الدعوۃ، مریدکے، جامعہ محمدیہ، گوجرانوالہ، دار القرآن، فیصل آباد، جامعہ لاہور الاسلامیہ اور دار الدعو ۃ السلفیہ ستیانہ وغیرہ کے ۱۰۰ سے زائدطلبہ نے شرکت کی۔

٭٭٭٭٭