ادارئہ محدث کے رکن حضرت مولاناعبد الرحمن کیلانی ؒ کی شخصیت اور علمی خدمات کے تعارف پر مبنی مضامین محدث میں شائع کرنے کے علاوہ آپ کے وِرثہ علمی کو محفوظ کرنے کے لئے مختلف رسائل میں شائع ہونے والے آپ کے تمام مقالہ جات،کتب کی فہرستیں اوران پر سیر حاصل تبصرے محدث میں باقاعدگی سے شائع ہوتے رہے ہیں۔ادارئہ محدث میں آپ کی مفصل تفسیر 'تیسیر القرآن ' کی کتابت او رتدوین کا کام مکمل ہونے کے بعد الحمد للہ اب اس تفسیر کی مکمل چاروں جلدیں شائع ہوکر منظر عام پر بھی آچکی ہیں۔

آپ کی رِحلت پر آپ کے بعض مضامین ایسے تھے جن کی آپ بوجوہ تکمیل نہ فرماسکے تھے۔ امسال ادارئہ محدث نے ان مقالات کی اچھی طرح تکمیل اور ان میں ضروری اضافہ جات کے بعد انہیں بھی شائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو نامکمل ہونے کی و جہ سے اب تک شائع نہیں ہوسکے تھے۔ مجلس التحقیق الاسلامی میں کام کرنے والے فضلا نے انہیں مکمل کیا ہے۔ چنانچہ اسی نوعیت کا ایک طویل مقالہ بعنوان ''شرک اور اس کی مروّ جہ صورتیں '' محدث کے جنوری اور مارچ کے شماروں میں بالاقساط شائع ہوچکا ہے۔

'توسل واستعانت' کے موضوع پر زیر نظر مضمون بریلی کے ایک بزرگ کے رسالہ کا جواب ہے جو اُدھورا رہ گیا تھا۔ مجلس التحقیق الاسلامی کے ریسرچ سکالر حافظ مبشر حسین نے اس جواب کا دوسرا حصہ خود تحریر کیا ہے جو آئندہ شمارے میں شائع ہوگا۔ جبکہ اس مقالہ میں بعض مقامات پر انہوںنے بعض اضافہ جات کئے ہیں۔ تحقیقی تقاضوں کی تکمیل کے لئے ان اضافہ جات کے دائیں طرف ایک خط لگا دیا گیا ہے تاکہ وہ مولانا کیلانی کی تحریر سے ممتاز ہوجائیں۔ (حسن مدنی)

ہر مسلمان روزانہ اپنی نمازوں کے دوران سورۂ فاتحہ کی اس آیت ﴿إِيّاكَ نَعبُدُ وَإِيّاكَ نَستَعينُ ٥﴾... سورة الفاتحة"کو بیسیوں دفعہ دہراتا ہے۔ اس آیت میں إیاک کے الفاظ سے جو مفہوم ابھرتا ہے، وہ یہ ہے کہ ''(اے اللہ) ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔'' اس مکرر اقرار کے باوجود بہت سے مسلمان غیر اللہ سے استعانت چاہتے ہیں، پھر وہ اپنے اس فعل کو جائز ہی نہیں بلکہ مستحسن قرار دیتے ہیں اور اس کے لئے کچھ دلائل بھی پیش فرماتے ہیں۔ یہاں ہم انہی دلائل کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔اسی سلسلہ میں چند ماہ پیشتر میرے ایک دوست نے مجھے مرکزی مجلس رضا، لاہور کی مطبوعہ ایک کتاب ''ندائے یارسول اللہؐ الاستعانة والتوسل'' از قلم اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان و محمدعبدالحکیم اشرف قادری، لاکر دی اور کہا کہ اس کتاب کو بنیاد بنا کران مسائل کو زیر بحث لایا جائے۔ بالفاظِ دیگر اس کتاب کا جواب لکھنے کی استدعا کی گئی تھی۔ کتابِ مذکورہ میں غیر اللہ سے استمداد و استعانت کو صرف جائز ہی نہیں بلکہ بدلائل اسے مستحسن و مستحب قرار دیا گیاہے۔ اب یہ مسئلہ اس لحاظ سے نہایت اہم قرار پاتا ہے کہ ایک طرف تو ہرمسلمان روزانہ اپنی نمازوں کے دوران سورئہ فاتحہ کی اس آیت ﴿إِيّاكَ نَعبُدُ وَإِيّاكَ نَستَعينُ ٥﴾... سورة الفاتحة"کو بیسیوں مرتبہ دہراتا ہے، ان الفاظ سے جو مفہوم متبادر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ''(اے اللہ!) ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔'' اور دوسری طرف بہت سے مسلمان اپنی عملی زندگی میں غیر اللہ سے استمداد و استعانت چاہ بھی رہے ہیں تو آخر یہ ماجرا کیا ہے؟

استعانت کیا ہے؟

دعا یا ندا لغیراللہ، استعانت اور توسل٭... ان سب امور کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ قرآنِ کریم میں کئی مقامات پر دعا کو عبادت ہی قرار دیا گیاہے اور حدیث میں تو بالوضاحت «الدعاء ھو العبادة» (ترمذی: ۳۲۴۷) اور «الدعاء مُخ العبادة» (ترمذی: ۳۳۷۱) کے الفاظ مذکور ہیں۔ اب یہ تو مسلمہ امر ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی 'عبادت' جائز نہیں۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ دعا یا ندا لغیر اللہ بھی جائز نہیں اور یہ صریح شرک ہے۔ بموجب ِارشاد باری تعالیٰ : ﴿وَأَنَّ المَسـٰجِدَ لِلَّهِ فَلا تَدعوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا ١٨﴾... سورة الجن ''یقینا مساجد اللہ (کی عبادت) کیلئے ہیں ، لہٰذا تم اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔''

اور یہ بھی واضح ہے کہ دعا یا ندا کے بغیر 'استعانت' کا تصور بھی ناممکن ہے۔ اب دیکھئے، استعانت دو طرح کے اغراض کے لئے ہی ہوسکتی ہے: جلب ِمنفعت (کسی بھلائی کے حصول) یا رفع حاجات کے لئے اوردفع مضرت کے لئے جسے عام زبان میں'مشکل کشائی' بھی کہہ دیا جاتا ہے۔

ان دو طرح کی اغراض کے علاوہ اور کوئی قسم نہیں، جس کے لئے کسی کو پکارا جائے یا اس سے مدد طلب کی جائے۔ قرآن میں بیسیوں مقامات پر بصراحت ذکر ہے کہ ان اغراض کے لئے اللہ کے سوا کسی کو نہ پکارا جائے۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب ﷺکی زبان سے بھی کہلوا دیا کہ

﴿ قُل إِنّى لا أَملِكُ لَكُم ضَرًّ‌ا وَلا رَ‌شَدًا ٢١﴾... سورة الجن''آپؐ کہہ دیں : میں تمہارے لئے کسی نقصان یا نفع کا مالک نہیں۔''

یعنی دوسرے نبی ؍ولی تو کسی کی کیا حاجت روائی یا مشکل کشائی کریں گے۔ خود رسول اکرم ﷺ بھی یہ اعلان فرما رہے ہیں کہ ''میں بھی تمہیں نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتا۔'' اور بعض دوسری قرآنی آیات کے مطالعہ کے بعد 'استعانت' کے متعلق جو کچھ سمجھ آتی ہے، وہ یہ ہے کہ

''اللہ کے سوا کسی ہستی کو خواہ وہ زندہ ہے یا بے جان یا کوئی فوت شدہ بزرگ، حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے پکارنا اس صورت میں شرک ہوتا ہے جبکہ ظاہری اسباب مفقود ہوں۔''

اور اگر ظاہری اسباب موجود ہوں یعنی جس سے مدد طلب کی جارہی ہے، وہ پاس ہی موجود ہو تو اس کو پکارنا، مدد کے لئے کہنا، اس سے دعا کروانا، غرضیکہ سب کچھ جائز ہوگا اور اس میں شرک کا کوئی شائبہ نہ ہوگا۔ اور مذکورہ کتابچے(صفحہ :۱۲)میں جن قرآنی آیات یا احادیث کو استعانت کے بغیر اللہ کیلئے بطورِ دلیل ذکر کیا گیا ہے، ان کا تعلق ظاہری اسباب سے ہے۔ مثلاً حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہ آیت پیش کی گئی ہے: ﴿كَما قالَ عيسَى ابنُ مَر‌يَمَ لِلحَوارِ‌يّـۧنَ مَن أَنصار‌ى إِلَى اللَّهِ... ١٤... سورة الصف''جیسے عیسیٰ ابن مریم ؑ نے حواریوں سے کہا تھا کہ اللہ کی طرف (بلانے میں) کون میرا مددگار ہے؟'' اس آیت کو انصاف سے دیکھا جائے تو اس میں کہیں یہ بات دکھائی نہیں دے گی کہ معاذ اللہ حضرت عیسیٰ ؑ نے غیر اللہ (اپنے ساتھیوں) سے مافوق الاسباب امر میں مدد طلب کی ہو بلکہ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے جس استعانت کا تقاضا کیا، وہ ظاہری اسباب کے تحت کی جانے والی ممکن الاستطاعت تعاون ہے، وگرنہ اس سے دو قباحتیں لازم آئیں گی:

(1) حضرت عیسیٰ ؑ نے (معاذ اللہ) شرک کا ارتکاب کیا حالانکہ یہ ناممکن بات ہے!

(2) خود ایک برگزیدہ نبی ؐ نے اپنے سے کم تر درجے کے افراد کے سامنے دست ِسوال دراز کیا حالانکہ اگر اس عمل کو ماتحت الاسباب میں شامل نہ سمجھا جائے تو اس میں حضرت عیسیٰ ؑ کی توہین واہانت لازم آئے گی !! اللہ ہمیں اس گستاخی سے معاف رکھے۔ مزید تفصیل 'بے کار دلائل' میں ملاحظہ فرمائیے۔

اب ہم ان دلائل کا جائزہ لیں گے جن کی بنیاد پر استمداد بغیر اللہ کو جائز بلکہ مستحسن قرار دیا گیاہے :

پہلی دلیل: ذاتی اور عطائی کا فلسفہ

عقیدئہ استمداد سے متعلق جناب احمد رضا خان بریلوی فرماتے ہیں:

''اس استعانت ہی کو دیکھئے کہ جس معنی پر غیر خدا سے شرک ہے یعنی اسے قادر بالذات ومالک مستقل جان کر مدد مانگنا بایں معنی کہ اگر دفع مرض میں طبیب یا دوا سے استمداد کرے یا حاجت ِفقر میں امیر یا بادشاہ کے پاس جائے یا انصاف کرانے کو کسی کچہری میں مقدمہ لڑائے۔ بلکہ کسی کے روزمرہ کے معمولی کاموں میں مدد لے جو بالیقین تمام وہابی صاحب روزانہ اپنی عورتوں، بچوں، نوکروں سے کرتے کراتے رہتے ہیں مثلاً یہ کہنا کہ فلاں چیز اٹھادے یا کھانا پکادے، سب قطعی شرک ہے کہ جب یہ جانا کہ اس کام کے کردینے پر خود انہیں اپنی ذات سے بے عطائے الٰہی قدرت ہے تو صریح کفر و شرک میں کیا شبہ رہا؟ اور جس معنی پر ان سب سے استعانت شرک نہیں یعنی مظہر عونِ الٰہی و واسطہ و وسیلہ و سبب سمجھنا، اس معنی پر حضرات انبیا، اولیا علیہم افضل الصلوٰۃ سے کیوں شرک ہونے لگی؟'' (برکات الامداد: ص ۲۸،۲۹ از احمد رضا خان بریلوی، بحوالہ ر سالہ مذکور، ص ۵،۶)

مندرجہ بالااقتباس میں امامِ اہلسنّت نے مغالطہ یہ دیا ہے کہ جتنی مثالیں بیان فرمائی ہیں، سب ظاہری اسباب سے متعلق ہیں۔ ان باتوں سے کسی کافر کو انکار ہوسکتا ہے نیز آپ کی وہابی صاحبان سے برہمی اس وجہ سے بے محل ہے کہ جو امداد ظاہری اسباب کی بنا پر لی یا دی جارہی ہو، اسے کوئی سخت سے سخت وہابی بھی شرک نہیں کہتا۔ یہ شرک صرف اس صورت میں ہوگا جبکہ ظاہری اسباب مفقود ہوں جیسے کسی کا یوں پکارنا کہ

امداد کن امداد کن     از رنج و غم آزاد کن       دردین و دنیا شاد کن       یا شیخ عبدالقادرا !

یا کسی پنجابی مسلمان کا منجدھار میں پھنسنے کی حالت میں یوں پکارنا: یا بہاء الحق! بیڑا بنّے دھک

علاوہ ازیں امام موصوف نے ذاتی قدرت اور عطائی قدرت کا مذکورہ بالا مثالوں سے متعلق جو فلسفہ پیش فرمایا ہے، وہ بھی قطع نزاع کے سلسلہ میں بے کار ہے۔ جس بات کو آپ صریح شرک فرما رہے ہیں یعنی حکیم کے متعلق یہ کہنا کہ وہ اپنی قدرت سے شفا دے رہا ہے اور دوائی کے متعلق یہ سمجھنا کہ یہ بالخاصہ شفا بخش رہی ہے وغیرہ وغیرہ تو ایسا شرک کوئی مسلمان بھی نہیںکرتا کیونکہ یہ سب باتیں ظاہری اسباب کے تحت آرہی ہیں۔ شرک کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب ظاہری اسباب مفقود ہوں۔ مثلاً گذشتہ مثالوں میںاگر کوئی شخص یہ سمجھ کر شیخ عبدالقادر کو پکارتا ہے کہ حقیقی عطا کنندہ تو واقعی اللہ تعالیٰ ہے۔ شیخ عبدالقادر تومحض اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قدرت و قوت کے تحت ہی امداد کرسکتے ہیں یا شیخ بہاء الحق بھی منجدھار سے بیڑا اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قوت کے ذریعہ ہی پار لگا سکتے ہیں تو ایسی پکار صریح شرک ہوگی۔ اس ذاتی اور عطائی قدرت کے فلسفہ کے تو مشرکین مکہ بھی قائل تھے۔ وہ جب حج کے دوران تلبیہ پکارتے تو یوں کہتے:

«عن ابن عباس رضي الله عنه قال: کان المشرکون يقولون لبيك لا شريك لك لبيك قال فيقول: رسول اللهﷺويلكم قد قد۔ فيقولون: إلا شريكا ھو لك تملكه وما ملك۔ يقولون ھذا وھم يطوفون البيت» (مسلم: کتاب الحج، باب التلبیة)

''عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں: مشرکین کہا کرتے تھے: لبیک لا شریک لک۔ تو رسول اللہ ﷺ فرماتے: تمہاری خرابی ہو، یہیں تک رہنے دو (یعنی آگے کچھ نہ کہو) لیکن وہ اس کے آگے کہتے: مگر ایک شریک جو تیرے ہی لئے ہے تو ہی اس کامالک ہے اور وہ کسی چیز کا مالک نہیں... اس وقت یہ کہتے جب وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے ہوتے تھے۔''

مندرجہ بالاحدیث پر مسلم شریف کے مترجم علامہ وحیدالزمان کا حاشیہ یہ ہے :

''غرض اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین مکہ بھی اپنے شریکوں کو اللہ کے برابر نہیں جانتے تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ کو ہر شے کا مالک جانتے تھے اور ان کو کسی شے کا مالک نہ جانتے تھے۔ تاہم ان کو پکارنا اور اپنا سفارشی اور وکیل قرار دینا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کے مشرک ہونے اور ابدالآباد دوزخ میں جھونکنے کو کافی تھا۔ پس معلوم ہوا کہ جو اپنا حمایتی اور وکیل اور سفارشی سمجھ کر بھی کسی کی عبادت کرے اور اس کو دور دور سے پکارے تو وہ بھی مشرک ہوجاتا ہے، اسی لئے رسول اللہ ﷺ لبیک لا شریک لک پر فرماتے تھے کہ یہیں تک رہنے دو۔ مگر وہ ملاعنین کب سنتے تھے۔''

حدیث ِبالاسے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ جو کام اپنے بتوں سے لیتے تھے، وہی کام آج کا مسلمان اپنے زندہ یا فوت شدہ بزرگوں سے لیتا ہے۔ ان کے بت بھی فوت شدہ بزرگوں ہی کے مجسّمے ہوتے تھے۔ ان کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ ان مجسّموں سے ان بزرگوں کی روحوں کا تعلق قائم ہے جن کے یہ مجسّمے تھے اور یہی عقیدہ آج کے مسلمان کا ہے۔ وہ بھی قبروں پر چلہ کشی اسی لئے کرتا ہے کہ اس بزرگ کی روح کا تعلق بدستور اس قبر سے قائم ہے۔ مشرکین مکہ اور موجودہ مسلمان میں اگر کچھ فرق ہے تو صرف یہ کہ وہ کھلے دل سے یہ کہہ دیتے تھے کہ یہ ہیں تیرے شریک ہی، تیرے برابر نہ سہی چھوٹے سہی۔ گو ان کا بھی حقیقی مالک تو ہی ہے اور وہ حقیقتاً کسی چیز کے بھی مالک نہیں، تاہم وہ تیرے شریک ہیں۔ لیکن آج کامسلمان انہیں شریک نہ کہنے کے باوجود ان کے سپرد وہی کام کرتا ہے جو کام مشرکین اپنے بتوں کے سپرد کرتے تھے اور یہ تو ظاہر ہے کہ نام نہ لینے یا نام بدل لینے سے اصل حقیقت میں چنداں فرق نہیں پڑتا۔

حیلہ نمبر2:حقیقت اور مجاز کا فلسفہ

صاحب ِرسالہ فرماتے ہیں کہ ''نسبت کی دو قسمیں ہوتی ہیں: (1) حقیقت ِعقلیہ اور (2) مجازِ عقلی۔ مثلاً اگر کوئی یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ نے سبزہ اگایا تو یہ حقیقت ِعقلیہ ہے کیونکہ سبزہ اگانا اللہ تعالیٰ ہی کی صفت ہے اور اگر کوئی یہ کہے کہ امیر نے شہر بنایا تو یہ مجازِ عقلی ہے کیونکہ حقیقتاً بنانے والے تو مستری اور مزدور ہیں۔ امیر تو ایک سبب ہے جس کی طرف نسبت کردی گئی۔ اب اس سے اگلا قدم یہ ہے کہ اگر ایک موحد یہ کہے کہ موسم بہار نے سبزہ اگایا تو اسے اِسنادِ مجازی کہا جائے گا۔کیونکہ موحد کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ سبزہ اگانا موسم بہار کی صفت ہے، جبکہ یہی بات اگر اللہ تعالیٰ کے وجود کا منکر کہے گا تو اسے حقیقت کہا جائے گا۔ اسی طرح اگر کافر نے کہا کہ طبیب نے مریض کو شفا دی تو یہ حقیقت ہے۔ یہی بات اگر مؤمن نے کہی تو اسے مجازِ عقلی کہا جائے گا اور اس کا ایماندار ہونا اس بات کی علامت ہوگاکہ وہ شفا کی نسبت طبیب کی تعریف اس لئے کررہا ہے کہ وہ شفا کا سبب ہے، اس لئے نسبت نہیں کررہا کہ فی الواقع طبیب نے شفا دی۔ شفا دینا تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔

اس گفتگو پر غور کرلینے سے مسئلہ استعانت کی حیثیت بالکل واضح ہوجاتی ہے۔کیونکہ انبیاء و اولیا سے مدد چاہنے والااگر مؤمن ہے تو اس کا ایماندار ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اس کے نزدیک کارسازِ حقیقی، مقاصد کا پورا کرنے والا، حاجتیں برلانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، ان اُمور کی نسبت انبیاء و اولیا کی طرف مجازِ عقلی کے طور پر کی گئی ہے۔ وہ مقاصد کے پورا ہونے کے لئے سبب اور وسیلہ ہیں۔'' (رسالہ مذکور صفحہ ۷ تا۹، ملخّصا)

اسی فلسفہ کو مولانا حالی ؒنے درج ذیل اشعار میں یوں بیان فرمایا کہ
کرے غیر گر بت کی پوجا تو کافر     جو ٹھہرائے بیٹا خدا کا تو کافر
جھکے آگ پر بہر سجدہ تو کافر        کواکب میں مانے کرشمہ تو کافر
مگر مؤمنوں پر کشادہ ہیں راہیں         پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں
نبی کو جو چاہیں خدا کر دکھائیں     اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں
مزاروں پر دن رات نذریں چڑھائیں    شہیدوں سے جا جا کے مانگیں دعائیں
نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے    نہ اسلام بگڑے، نہ ایمان جائے !

اب مولانا حالی اور مولانا محمد عبدالحکیم شرف قادری کے افکار کی مطابقت کی صورت یہ ہوگی کہ اگر کافر (یعنی ہندو یا کفارِ مکہ یا کوئی غیر مسلم) بت کو سجدہ کرتا ہے تو اسے حقیقت پر محمول کیا جائے گا اور اس لئے حقیقت پر محمول کیا جائے گا کہ وہ کافر ہے اور اگر ایک مؤمن اسی بت کو سجدہ کرے تو اسے مجازِ عقلیہ پر محمول کیا جائے گا اور اس لئے کیاجائے گا کہ وہ مؤمن ہے اور سمجھتا ہے کہ حقیقی معبود تو واقعی صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ بت یا آستانہ تو محض ایک سبب اور مظہر عونِ الٰہی ہے لہٰذا اس کی تعظیم اور پوجا پاٹ بھی حقیقت میں اللہ ہی کی پوجا پاٹ ہے۔ وقِس علی هذا !

دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ کیا خود کو مؤمن اور ایماندار سمجھ لینے سے ایسے افعال کی بجاآوری واقعی مجازِ عقلیہ بن جاتی ہے اور اس میں کچھ حرج نہیں ہوتا؟ ہمارے خیال میں یہ کلیہ ہی غلط ہے۔ وجہ یہ ہے کہ مشرکین مکہ بھی خود کو دین ابراہیمی کے پاسبان سمجھتے تھے اور جو شخص ان شرکیہ افعال کو چھوڑ کر مسلمان ہوجاتا، اسے کہتے تھے کہ یہ صابی یا بے دین یا بد مذہب ہوگیا۔ ان کو قرآن نے مشرکین کے لقب سے نوازا تھا۔ ورنہ وہ خود کو مشرک یا کافر کہلوانے کے لئے ہرگز تیار نہ تھے۔ تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ان کے حق میں ان کی اپنی شہادت ناقابل قبول نہیں تو کیا ان حضرات کی اپنے حق میں ایمانداری کی شہادت معتبر سمجھی جاسکتی ہے؟ قرآن کی شہادت تو یہی ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو مؤمن یا ایماندار کہتے یا سمجھتے ہیں، ان میں سے اکثریت مشرک ہی ہوتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَما يُؤمِنُ أَكثَرُ‌هُم بِاللَّهِ إِلّا وَهُم مُشرِ‌كونَ ١٠٦... سورة يوسف''اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ پر ایمان کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن وہ مشرک ہوتے ہیں۔''

3۔ غلط تعبیریں

''استعانت اور توسل ایک ہی شے ہے۔ اللہ تعالیٰ مقصودِ اصلی ہے، اسے وسیلہ نہیں بنایا جاسکتا۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول اشیا خواہ وہ ذوات ہوں یا اعمالِ صالحہ، کو وسیلہ بنانا جائز ہے اور ان سے استعانت بھی جائز ہے۔ کیونکہ توسل اور استعانت اگرچہ الگ الگ الفاظ ہیں لیکن ان کی مراد ایک ہے۔ امام علامہ تقی الدین سبکی فرماتے ہیں کہ جب مطلب ظاہر ہوگیا تو اب تم اس طلب کو توسل کہو یا تشفع، استغاثہ کہو یا تجو ّہ یا توجہ کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ ان سب کا مطلب ایک ہے۔'' (ایضاً: ص۶، ۷)

اقتباسِ بالا میں قادری صاحب کے ارشاد کے مطابق استعانت اور توسل ایک ہی شے ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے اس کتاب کے پہلے حصہ میں صفحہ ۵ سے صفحہ ۳۶ تک استعانت کا ذکر فرمایا اور دوسرے حصے میں صفحہ ۳۷ سے لے کر صفحہ ۶۴ تک توسل کا۔ اگر استعانت اور توسل ایک ہی شے ہے تو ان کو الگ الگ کرکے بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی؟

فی الحقیقت استعانت اور توسل ایک چیز نہیں، بلکہ دو چیزیں ہیں۔ دیکھئے ایک آدمی میرے پاس بیٹھا ہے، میںاسے کہتا ہوں: براہِ کرم مجھے یہ کتاب پکڑا دیں۔ تو یہ استعانت کے لفظ کا بالکل اطلاق ہوگیا۔ اس میں توسل کی کوئی بات نہیں، نہ ہی اس کی ضرورت پیش آتی ہے اور یہ استعانت چونکہ ظاہری اسباب سے متعلق ہے لہٰذا جائز اور درست ہے۔ گویا استعانت کا معاملہ دو ذاتوں کے درمیان بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن توسل تو ان دو ذاتوں کے درمیان ایک تیسری چیزکا نام ہے۔ یعنی ایک مانگنے والا، دوسرا دینے والا اور تیسری چیز وہ ذریعہ ہے جسے درمیان میںلاکر مانگنے والا مانگتا ہے۔ اس تیسری چیز کا نام 'وسیلہ' ہے اور اس وسیلہ کو درمیان میں لاکر مانگنے کے عمل کو 'توسل' کہتے ہیں۔

امام علامہ تقی الدین سبکی امام اور علامہ تو ہوں گے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ انہیں لغت سے کم ہی شغف رہا ہے کیونکہ آپ نے جو توسل کے مترادف الفاظ بیان فرمائے ہیں، ان سب میں کچھ نہ کچھ فرق ضرور ہے جو ہم یہاں ذیل میں واضح کئے دیتے ہیں۔ پھر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قادری صاحب نے توسل کا مترادف یاہم معنی جو لفظ بتلایا تھا یعنی استعانت، امام اور علامہ صاحب نے اس لفظ کا ذکر ہی نہیں کیا۔

توسل: توسل إلی اللہ بعمل أو وسیلة یعنی اللہ تک تقرب حاصل کرنا

الواسلہ والوسیلة یعنی ذریعہ تقرب، مرتبہ، درجہ (منجد عربی؍اردو)

توسل بمعنی نزدیکی جتن بچیزے و بکارے (منتہی الادب)

توسل بمعنی رغبت (مفردات القرآن) توسل بمعنی حاجت (لسان العرب)

تشفع:بمعنی سفارش کے لئے کہنا (منجد)، شفاعت کرنا( منتہی الادب)

استغاثة: غوث سے، بمعنی مدد کے لئے چلانا اور استغاث یعنی مدد چاہنا (منجد)

غوث یعنی فریاد و فریاد رس۔

استغاثة یعنی فریاد خواستن (منتہی الادب)

مذکورہ حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ توسل، استعانت اور شفاعت میں فرق ہے۔ علاوہ ازیں توسل کے لغوی معانی میں تین چیزیں شامل ہیں: (1) تقرب (2) رغبت (3) اور حاجت و ضرورت، جبکہ اصطلاحِ شرع میں اللہ کے رسولؐ کی اطاعت میں اعمالِ صالحہ بجالانا او ران اعمالِ صالحہ کے ذریعہ اللہ کی رضا تلاش کرنے کو 'توسل' سے موسوم کیا جاتا ہے: ﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابتَغوا إِلَيهِ الوَسيلَةَ ... ٣٥ ﴾... سورة المائدة" کا یہی مفہوم صحابہ، تابعین اور مفسرین سے منقول ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے: تفسیر ابن کثیر (۲؍۵۲ ،۵۳) اور قاعدۃ فی التوسل لابن تیمیہ (ص۴۸)

سلف صالحین میں وسیلہ کا یہی مفہوم رائج تھا جبکہ متاخرین نے 'رضاے الٰہی کے حصول کے لئے انبیاء واولیا کی ذاتوں اور غیراللہ کو پکارنے اور ان سے مدد طلب کرنے' کو بھی وسیلہ کہنا شروع کردیا ہے۔ اس طرح ایک شرکیہ عمل کے جواز کی مذموم کوشش کرکے مسلمانوں کو گمراہ کیا جانے لگا۔

چوتھاطریقہ: مغالطہ آفرینی اور فریب دہی

قادری صاحب فرما رہے ہیں کہ ''یہی عقیدہ امام احمدر ضا بریلوی نے بیان کیا ہے۔'' فرماتے ہیں:

''جو شرک ہے وہ جس کے ساتھ کیا جائے گا شرک ہی ہوگا اور ایک کیلئے شرک نہیں تو وہ کسی کیلئے شرک نہیں ہوسکتا۔ کیا اللہ کے شریک مردے نہیں ہوسکتے، زندہ ہوسکتے ہیں؟ دور کے نہیں ہوسکتے، پاس کے ہوسکتے ہیں؟ انبیا نہیں ہوسکتے ، کلیم ہوسکتے ہیں؟ انسان نہیں ہوسکتے فرشتے ہوسکتے ہیں؟ حاشا للہ ، اللہ کا شریک کوئی نہیں ہوسکتا۔'' (برکات الامداد: ص ۲۸ بحوالہ رسالہ مذکور ص ۲۷)

مندرجہ بالا اقتباس میں امام اہلسنّت نے زبان ذرا مغلق استعمال فرمائی ہے، ہم اسے آسان زبان میں پیش کرکے اس کا جواب دیں گے۔ آپ یہ فرما رہے ہیں کہ اگر زندوں سے استعانت جائز ہے اور شرک نہیں تو مردوں سے استعانت کیسے شرک بن سکتی ہے؟ اس اقتباس سے پیشتر نواب وحید الزمان کے حوالہ سے زندوں اور مردوں سے استعانت کو ایک سطح پر رکھنے کے لئے جو دلیل پیش کی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر زندہ سے استعانت جائز ہے تو مردہ سے بھی جائز ہونی چاہئے کیونکہ غیر اللہ ہونے میں زندہ اور مردہ دونوں برابر ہیں۔

یہ ہیں عقل عیار کے کرشمے۔ مردوں سے استعانت میںشرک کا حقیقی سبب تو ظاہری اسباب کا فقدان ہے جس کا ذکر تک نہیں کیا اور اس کے عوض قاری کا ذہن ایک غلط قسم کی توجیہ ...کہ غیر اللہ ہونے میں زندہ اور مردہ دونوں برابر ہیں ...کی طرف موڑ کر مطلب براری کی کوشش کی گئی ہے۔

امام موصوف کا باقی ماندہ اقتباس بھی اس قسم کی مغالطہ آفرینی پرمشتمل ہے۔ مثلاً آگے آپ یہ فرما رہے ہیں کہ کیا اللہ کے شریک دور کے ہوسکتے ہیں، نزدیک کے نہیں ہوسکتے؟ اس کا بھی مطلب وہی ہے کہ اگر پاس والے سے استعانت جائز ہے تو دور والے سے استعانت کیسے شرک ہوسکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دور والے سے استعانت اس لئے شرک ہے کہ ظاہری اسبابِ استعانت مفقود ہیں۔ گویا شرک کے اصل سبب کو یہاں بھی اخفا میں رکھا گیا ہے۔

اسی طرح آپ کا تیسرا سوال ہے کہ اگر کلیم سے استعانت جائز ہے تو انبیا سے کیوں جائز نہیں اور اسے 'شرک' کیوں کہا جاتاہے۔ اسی سوال کا جواب بھی اوپر واضح کردیاگیاہے۔ چوتھا سوال آپ کا یہ تھا کہ اگر فرشتوں سے استعانت طلب کی جاسکتی ہے تو انسانوں سے کیوں نہیں کی جاسکتی؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوال آپ نے محض وزنِ بیت کے طور پر درج فرما دیا ہے کیونکہ فرشتوں سے استعانت توبجائے خود شرک ہے، پھر اسے بنیاد بنا کر اس سے انسانوں سے استعانت کا جواز ثابت کرنا چہ معنی دارد؟

اقتباس کے آخر میں جو فقرہ درج فرمایا، اس کا کوئی جواب نہیں۔ فرماتے ہیں: ''لا حاشا للہ، اللہ کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا''... اب سوال یہ ہے کہ اگر اللہ کا کوئی شریک ہو ہی نہیں سکتا تو مشرکین مکہ کا آخر کیا جرم تھا؟

5۔بے کار دلائل

اس طریق کار کا ایک حصہ یہ ہے کہ آپ نے استعانت کے سلسلہ میں قرآن سے بھی چند آیات بطورِ دلائل پیش فرمائی ہیں۔ پہلے توبہت تعجب ہوا کہ بریلوی عقائد اور ان کا استشہاد قرآن سے ہو۔ فیا للعجب مگر بغور دیکھنے سے معلوم ہواکہ یہ دلائل ان کے عقیدہ کے لحاظ سے بالکل بیکار ہیں۔ جو پانچ آیات رسالہ مذکور کے صفحہ ۱۲ اور ۱۳ پر مذکور ہیں، ان سب میں ایسی استعانت کاذکر ہے جو ظاہری اسباب کے تحت آتی ہے اور ایسی استعانت جب ہم پہلے ہی جائز اور درست تسلیم کرتے ہیں تو پھر ان آیات سے دلائل مہیا کرنے کا فائدہ کیا تھا!!... اسی طرح استعانت کے جواز کے سلسلہ میں مسلم کی ایک روایت بھی پیش کی گئی ہے جو بمعہ ترجمہ وتشریح درج ذیل ہے:

«عن ربيعة بن کعب قال: کنت أبيت مع رسول اللهﷺ فأتيته بوضوئه وحاجته فقال لي: سَلْ، فقلت: أسئلك مرافقتك في الجنة: قال أوغيرذلك:قلت ھو ذاك: قال: فأَعِنِّي علی نفسك بکثرة السجود»(رواہ مسلم :حدیث ۷۵۴)

''حضرت ربیعہ بن کعبؓ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رات گزارا کرتاتھا۔(ایک رات جب) میں نے آپ کی خدمت میں وضو کا پانی اور دیگر ضرورت کی اشیا (مسواک وغیرہ) پیش کیں تو آپؐ نے فرمایا: کچھ مانگ لے۔ میں نے کہا: میں آپ سے جنت میں آپ ؐ کی رفاقت مانگتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: کچھ اور، میں نے عرض کیا: بس یہی کچھ۔ آپؐ نے فرمایا: تو میری امداد کر اپنے نفس پر کثرت سجود سے۔''

غور کیجئے! حضرت ربیعہ ؓ بارگاہِ رسالتؐ میں اپنی دلی مراد کا سوال پیش کررہے ہیں۔ جواباً حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں منع نہیں فرماتے کہ تم مجھ سے کیوں مانگ رہے ہو۔ جنت چاہتے ہو تو خدا سے مانگو۔ میںکون ہوتا ہوں، جنت دینے والا۔ بلکہ ان سے وعدہ فرما یا جاتا ہے، ان سے مدد طلب کی جاتی ہے کہ سجدے کثرت سے ادا کرو۔ جنت میں میری رفاقت عطا کردی جائے گا۔''(رسالہ مذکورہ: صفحہ ۱۴)

اب دیکھئے مندرجہ بالا حدیث کی رو سے مدد طلب کرنے والے ربیعہ بن کعبؓ اور جن سے مدد چاہی جارہی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اور دونوں آمنے سامنے ہیں۔ مدد کا ذریعہ یا وسیلہ اعمالِ صالحہ یا کثرتِ سجود ہے۔ ایسی صورت میں استعانت تو بالاتفاق جائز ہے۔ پھر معلوم نہیں، اس حدیث کے ذکر کرنے سے آپ ثابت کیاکرنا چاہتے ہیں؟

البتہ حدیث کی تشریح میں قادری صاحب کے چند جملے قابل غور ہیں کہ

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ربیعہ بن کعبؓ کے اس سوال پر یہ نہیں فرمایا کہ جنت چاہتے ہو تو خدا سے مانگو، میں کون ہوتا ہوں دینے والا؟''

اب سوال یہ ہے کہ کیا آپ نے اس صحابی کو واقعی جنت دے دی تھی؟ایمان اور اعمالِ صالحہ کی شرط پر جنت کی خوشخبری دینا سب پیغمبروں کا کام ہوتا ہے۔ چونکہ اس صحابی نے جنت کے علاوہ آپ کی رفاقت کا بھی سوال کیا تھا۔ جس کی وجہ سے آپؐ نے کثرت السجود کی اضافی شرط بھی عائد کردی۔

اسی حدیث کو آگے چل کر قادری صاحب نے توسل کے بیان میں بھی بایں الفاظ ذکر فرمایا ہے:

''نبی اکرمﷺ سے توسل کبھی اس طرح ہوتا ہے کہ ایک چیز آپ سے طلب کی جاتی ہے۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ بارگاہِ الٰہی میں دعا، شفاعت کے ذریعہ سبب بننے پر قادر ہیں۔ اس کا مآل یہ ہوگا کہ آپ سے دعا کی درخواست ہے۔'' (ایضاً: صفحہ ۴۵)

اس تشریح سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ ایک زندہ شخص دوسرے زندہ شخص کو دعا یا شفاعت کے لئے کہہ سکتا ہے اور یہ دعا یا شفاعت وسیلہ بن سکتی ہے تو ان باتوں سے تو کسی کو انکارنہیں۔معلوم نہیں قادری صاحب اس حدیث سے کیا سمجھانا چاہتے ہیں؟

6۔ غلط استدلال

عہد ِفاروقی کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ قحط پڑا تو حضرت عمرؓ نے حضرت عباسؓ کو بارش کی دعا کرنے کے لئے کہا اور خود یوں فرمایا:

''یااللہ! ہم تیری طرف اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وسیلہ پیش کیا کرتے تھے تو تو ہمیں سیراب کردیا کرتا تھا۔ اب ہم اپنے نبی کے چچا کو تیری طرف وسیلہ بناتے ہیں تو ہمیں سیراب کر۔ (حضرت انس بن مالکؓ ، راوی) کہتے ہیں تو انہیں بارش عطا کردی جاتی۔''

اس حدیث کا متن بمعہ ترجمہ پیش کرنے کے بعد قادری صاحب لکھتے ہیں کہ''ابن تیمیہ اور ان کے مقلدین کہتے ہیں کہ حضرت عمر فاروقؓ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے حضرت عباسؓ کا وسیلہ پیش کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد توسل جائز نہیں۔ یہ کھلا ہوا مغالطہ ہے کیونکہ : (1) اس حدیث سے ثابت ہوگیا کہ بارگاہِ الٰہی میں صرف اعمال صالحہ کا وسیلہ پیش کرنا ہی جائز نہیں۔ بلکہ ذواتِ صالحین کا وسیلہ پیش کرنا بھی جائز ہے اور اس پر صحابہ کرامؓ کا اجماع ہے۔کیونکہ یہ دعا صحابہ کرامؓ کے اجماع میں مانگی گئی اور کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔ جبکہ تمہیں اس سے انکار ہے اور (2) اگرچہ حضرت عباسؓ وہ برگزیدہ ہستی ہیں کہ خود ان کا وسیلہ بھی پیش کیا جاسکتا تھا لیکن حضرت عمر فاروقؓ نے یوں عرض کیا کہ یااللہ! ہم اپنے نبی کے چچا کا وسیلہ پیش کرتے ہیں۔ تو یہ دراصل حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وسیلہ ہے۔'' (رسالہ مذکور، صفحہ ۵۸)

اب دیکھئے کہ اس حدیث سے جو نتائج سامنے آتے ہیں، وہ یہ ہیں کہ

1۔ فوت شدہ اولیا تو درکنار انبیا بلکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وسیلہ بھی جائز نہیں۔ اگر یہ جائز ہوتا تو عمرفاروقؓ کو حضرت عباسؓ کو سامنے لانے کی کیا ضرورت تھی۔ قادری صاحب کا یہ ارشاد کہ نبی کے چچا کا وسیلہ گویا نبی کا ہی وسیلہ تھا، بھی ایک فریب ہے۔ جب آپ کے نزدیک براہِ راست رسولِ اکرمﷺ کی روح کو بعد ازوصال وسیلہ بنایا جاسکتا ہے تو درمیان میں ان کے کسی بھی رشتہ دار کا واسطہ لانا گویا اصل وسیلہ کو خود ہی کمزو رکردینے کے مترادف ہے!

2۔ رسول اللہ ﷺ کا وسیلہ بھی یہ تھا کہ وہ دعا یا سفارش کرتے اور حضرت عباسؓ نے بھی دعا ہی کی۔ تو اس لحاظ سے بھی اعمالِ صالحہ ہی وسیلہ قرار پاتے ہیں اور یہی بات فریقین میں مسلم ہے۔ رہا ذوات کے وسیلہ کا مسئلہ تو کم از کم یہ حدیث قطع نزاع کے سلسلہ میں مفید مطلب نہیں ہے۔ذوات کا توسل صرف اس صورت میں ثابت ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص کسی فوت شدہ یا غائب بزرگ کا واسطہ دے کر خود دعا کرے اور ظاہر ہے کہ یہاں یہ صورت نہیں ہے۔

اسی طرح کا ایک اور واقعہ حضرت معاویہ ؓکے عہد میں پیش آیا۔ جسے ہم اس رسالہ کے صفحہ ۵۹ سے، قادری صاحب کی زبان میں ہی پیش کرتے ہیں:

''حضرت امیر معاویہ اور اہل دمشق بارش کی دعا کے لئے باہر نکلے، جب حضرت امیرمعاویہ منبر پر بیٹھے تو فرمایا: یزید بن الاسود الجرشی کہاں ہیں؟ لوگوں نے انہیں بلایا تو وہ پھلانگتے ہوئے تشریف لائے۔ حضرت امیرمعاویہ کے حکم سے وہ منبر پر چڑھے۔ حضرت امیرمعاویہ نے دعا مانگی: اے اللہ! آج ہم بہتر اور افضل شخصیت کی سفارش پیش کرتے ہیں، اے اللہ! ہم تیری بارگاہ میں یزید الاسود بن الجرشی کی سفارش پیش کرتے ہیں۔ یزید! اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھاؤ۔ انہوں نے ہاتھ اٹھائے، لوگوں نے بھی ہاتھ اٹھائے اور دعا کی۔ اچانک مغرب کی طرف سے ایک بادل اٹھا۔ ہوا چلنے لگی اور زور دار بارش شروع ہوگئی۔ یہاں تک کہ لوگوں کو گھروں تک پہنچنا مشکل ہوگیا''۔

یہ روایت بیان کرنے کے بعد قادری صاحب فرماتے ہیں کہ

''اس اجتماع میں صحابہ کرام ؓ بھی موجود ہیں، تابعین بھی حاضر ہیں۔ ان میں سے کسی نے ایک مردِ صالح کے وسیلے سے دعا مانگنے پر اعتراض نہیں کیا۔ یہ بھی ان حضرات کا جواز توسل پراجماع ہے۔'' (رسالہ مذکور: صفحہ ۵۹)

اب قادری صاحب سے ہمارا سوال یہ ہے کہ ایک زندہ سلامت مرد صالح سے دعا کروانے پر کسی کو اعتراض ہے؟ اعتراض تو اس بات پر ہے کہ آپ حضرات جب کسی فوت شدہ یا غائب بزرگ کا وسیلہ پکڑتے ہیں توکیا اس واقعہ سے آپ کا یہ عقیدہ ثابت کیا جاسکتا ہے؟ اور دوسرے یہ کہ یہاں بھی مردِ صالح کی ذات کو نہیں بلکہ اس کی دعا کو وسیلہ بنایا گیا ہے اور یہی کچھ ہم کہتے ہیں کہ کسی مردِ صالح سے دعا کروانے میں کوئی حرج نہیں جبکہ آپ ان ذواتِ صالحہ سے دعا کروانے کی بجائے خود ان ذوات ہی کو پکارنے اور انہی سے مدد مانگنے کا عقیدہ رکھتے ہیں او ریہ قطعی طور پر شرک ہے۔ اگر آپ اسے جائز سمجھتے ہیں تو قرآن و حدیث سے کوئی ایسی صریح دلیل پیش کریں جس میں غیر اللہ کو مافوق الاسباب کاموں میں استعانت کے لئے پکارنے کا جواز ہو، حالانکہ ایسی کوئی ایک دلیل بھی نہیں!

غائب ہستیوں سے توسل کے ثبوت کیلئےضعیف اور موضوع احادیث کا سہارا

1۔ حضرت آدم علیہ السلام کا وسیلہ

''حضرت فاروق اعظمؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب آدم ؑ سے لغزش سرزد ہوئی تو انہوں نے دعا مانگی: اے میرے ربّ! میں تجھ سے محمد مصطفی ؐ کے وسیلے (یہ لفظ 'بحق' کا قادری ترجمہ ہے) سے دعا مانگتا ہوں کہ میری مغفرت فرما۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''اے آدم! تم نے محمد مصطفی ؐ کو کیسے پہچانا؟ حالانکہ میں نے ابھی انہیں پیدا بھی نہیں کیا۔ عرض کیا، میرے ربّ! جب تو نے میرا جسم اپنے دست ِقدرت سے بنایا اور میرے اندر روحِ خاص پھونکی تو میں نے سر اٹھایا، کیا دیکھتا ہوں کہ عرش کے پایوں پر 'لا إله إلا اللہ محمد رسول اللہ' لکھا ہوا ہے۔ میں نے جان لیا کہ تو نے اپنے نام کے ساتھ اس ہستی کا نام لکھا ہوا ہے جو تجھے تمام خلق سے زیادہ محبوب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم! تو نے سچ کہا۔ وہ مجھے تمام خلق سے زیادہ محبوب ہے، تم مجھ سے ان کے وسیلے سے دعا مانگو۔ میں نے تمہاری مغفرت فرما دی۔ اگر محمد مصطفی ؐ نہ ہوتے تو میں تمہیں پیدا نہ کرتا۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔'' (مستدرک حاکم، کتاب التاریخ: ۲؍ ۶۱۵، بحوالہ رسالہ مذکورہ، صفحہ ۴۲)

قادری صاحب کی پیش کردہ یہ دلیل محدثین کے ہاں ضعیف ہی نہیں بلکہ موضوع (جھوٹی) اورمن گھڑت بھی ہے۔ کبار محدثین نے اس حدیث پر موضوع (ضعیف) ہونے کا حکم لگایا ہے۔ قادری صاحب نے مستدرک حاکم کے حوالے سے اس حدیث کو ذکر کرکے کمال علمی خیانت کا ثبوت دیا ہے کیونکہ مذکورہ کتاب کے محولہ صفحہ (۲؍۶۱۵) پر ہی امام ذہبیؒ نے اس حدیث پر تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ

قلت:«بل موضوع وعبدالرحمن واہ» ''میں کہتا ہوں کہ یہ حدیث موضوع ہے اور عبدالرحمن (بن زید بن اسلم) راوی کمزور ہے۔''

حافظ ذہبیؒ جیسے ثقہ او رماہر محدث کے فیصلے کو چیلنج کرنا کوئی معمولی بات نہیں لیکن قادری صاحب نے حافظ ذہبیؒ کے فیصلے پر علمی بحث کرنے کی بجائے اسے ہڑپ کرنے میں ہی عافیت سمجھی۔

اور صرف امام حاکم کے حوالے سے یہ ذکر کردیا کہ ''اس کی سند صحیح ہے۔'' حالانکہ یہ بات معروف ہے کہ امام حاکم احادیث پر حکم لگانے میں متساہل ہیں اور مذکورہ مثال بھی اس تساہل کی ترجمانی کرتی ہے کیونکہ امام حاکم نے خود ہی اس حدیث کے راوی عبدالرحمن بن زید کے بارے میں 'المدخل' میں یہ بات کہی ہے کہ «روی عن أبيه أحاديث موضوعة لا يخفي علی من تأملهامن أھل الصناعة أن الحمل فيهاعليه» (ص:۱۵۴)

'' یہ (عبدالرحمن) اپنے والد سے موضوع احادیث روایت کرتا ہے جیسا کہ اہل فن میں سے معمولی سا غوروفکر کرنے والوں پربھی یہ بات مخفی نہیں۔ ''

لہٰذا جب امام حاکم نے خود ہی اس روایت کے مرکزی راوی عبدالرحمن بن زید کے بارے میں یہ فیصلہ کردیا ہے کہ وہ جعلی احادیث بیان کرتا ہے اور دیگر ائمہ مثلاً امام ذہبی (میزان الاعتدال:۲؍۵۰۴) وغیرہ نے بھی اس راوی کو ضعیف قرار دیا ہے تو پھر یہ حدیث 'صحت' کے معیار تک کیسے پہنچ سکتی ہے؟ علاوہ ازیں حافظ ابن حجرؒ نے لسان المیزان (۳؍۳۵۹) میں اس روایت کوباطل،من گھڑت قرار دیا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے الرد علی البکری (ص:۲۱) اور منہاج السنۃ (۷؍۱۳۱) میں اسے بے بنیاد کہا ہے۔ ابن عبدالہادی نے الصارم المنکی (ص:۳۶) میں اور علامہ البانی ؒ نے السلسلۃ الضعیفۃ (۱؍۳۸) اور التوسل (ص:۱۰۲) میں اس روایت کو جعلی اور من گھڑت ثابت کیا ہے۔

یہ روایت موضوع ہونے کے ساتھ قرآنِ مجید کی صریح نصوص کے بھی خلاف ہے کیونکہ قرآنِ مجید میں ہے کہ حضرت آدم ؑ نے اپنی لغزش کی معافی کے لئے یہ دعا کی تھی: ﴿رَ‌بَّنا ظَلَمنا أَنفُسَنا وَإِن لَم تَغفِر‌ لَنا وَتَر‌حَمنا لَنَكونَنَّ مِنَ الخـٰسِر‌ينَ ٢٣ ﴾... سورة الاعراف

''اے ہمارے ربّ!ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا او رہم پر رحم نہ کیا تو ہم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔''

2۔ حدیث ِاعمیٰ

حضرت عثمان بن حنیفؓ راوی ہیں کہ ایک نابینا صحابی بارگاہِ رسالتؐ میں حاضر ہوکر درخواست کرتے ہیں کہ میرے لئے بینائی کی دعا فرمائی جائے۔حضورؐ نے فرمایا: اگرچاہو تو میں تمہارے لئے دعا کرتا ہوں اور چاہو تو صبر کرو اور صبر تمہارے لئے بہتر ہے۔ انہوں نے عرض کیا: دعا فرمائیے۔ آپؐ نے فرمایا: اچھی طرح وضو کرکے دو رکعت ادا کرو اور یہ دعا مانگو:

«اللهم إني أسئلك وأتوجه إليك بمحمد نبي الرحمة يامحمد إني توجهت بك إلی ربي في حاجتي ھذہ لتقضٰی، اللهم شفعه في» (مستدرک حاکم:۱ ؍ ۵۱۹، بیروت)

''اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف نبی رحمت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے متوجہ ہوتا ہوں۔ یا محمدؐ! میں آپ کے وسیلے سے اپنی اس حاجت میں اپنے ربّ کی طرف توجہ کرتا ہوں تاکہ یہ پوری کردی جائے ۔ اے اللہ میرے حق میں حضورؐ کی شفاعت قبول فرما۔''

امام طبرانی کی روایت میں ہے کہ ابھی ہم وہیں بیٹھے تھے کہ وہ صاحب تشریف لائے۔ ان کی بینائی بحال ہوچکی تھی۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ انہیں کبھی تکلیف ہوئی ہی نہ تھی۔''(رسالہ مذکور، صفحہ ۴۸، معجم صغیر للطبرانی، صفحہ ۱۰۳)

علامہ ابن تیمیہ ؒ نے 'قاعدہ فی التوسل' (صفحہ ۱۰۰تا ۱۰۵) میں اس حدیث پر تفصیلی بحث کرکے ثابت کیا ہے کہ اس کے متن میں اضطراب پایا جاتا ہے او راس حدیث کے ایک راوی ابوجعفر میں بھی اختلا ف پایا جاتا ہے۔ نیز فرماتے ہیں کہ

''اگر اس حدیث کو صحیح بھی تسلیم کیا جائے تو پھر بھی اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو وسیلہ بنانے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں ہوسکتا کیونکہ مذکورہ صحابی نے آپؐ کی دعا کو وسیلہ سمجھتے ہوئے آپؐ سے دعا کی درخواست کی تھی۔ چونکہ یہ آپؐ کا معجزہ ثابت ہوا کہ آپ کی دعا سے ا س کی بینائی لوٹ آئی اس لئے علما نے اس حدیث کو حضورؐ کے معجزات میں شمار کیا ہے۔ لہٰذا اس حدیث کو اگر صحیح بھی تسلیم کرلیا جائے تو اس میں یہ کہاں ہے کہ وہ نابینا صحابی حضورؐ کی ذات کو وسیلہ بنا رہا تھا بلکہ وہ تو حضور ؐ کی مقبول دعا کو وسیلہ بنا رہا تھا۔ اسی لئے اس نے آکر سب سے پہلے یہی بات کہی کہ«ادع الله أن يعافيني» آپؐ اللہ سے دعا کریں کہ اللہ مجھے صحت عطا کردے۔ آپؐ نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں دعا کردیتا ہوں لیکن اگر تم صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ لیکن اس نے اصرار کیا کہ آپؐ میرے لئے دعا ہی فرمائیں۔ پھر اس روایت کے آخر میں بھی اس نابینے صحابی نے یہ کہا کہ ''یا اللہ! میرے حق میں حضور ؐ کی شفاعت قبول فرما۔

لہٰذا اس روایت کے ہر ہر جملے سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ وہ صحابیؓ آپ کی ذات کو وسیلہ نہیں بنا رہا بلکہ آپؐ کی دعا کو وسیلہ سمجھ کر آپؐ سے اپنے حق میں دعا کروانے کااصرار کرتا ہے اور دعا کا وسیلہ تو مشروع ہے۔ چنانچہ حضورؐ نے اس نابینا کے لئے دعا کی اور اس نے خود بھی اللہ سے دعا مانگی، اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور وہ نابینا، بینا ہوگیا۔

جبکہ محل نزاع مسئلہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی بھی شخص اور ذات کووسیلہ بنانا درست ہے یا نہیں۔ اس روایت میں یا دیگر کسی بھی روایت میں حضورؐ کی ذات کو وسیلہ بنانا مذکور نہیں وگرنہ اس اندھے شخص کو تکلیف اٹھا کر آپؐ کی مجلس میں آنے کی کیا ضرورت تھی؟ وہ اپنے گھر میں بیٹھا ہی یہ دعا کرلیتا کہ ''یا اللہ! اپنے نبی کے جاہ و مقام کے وسیلے سے میری بینائی لوٹا دے۔'' لیکن اس نے ایسا نہیں کیا...! ''

حدیث ِاعمیٰ پر شاہ ولی اللہ صاحب کا تبصرہ: آپ فرماتے ہیں کہ

''اس حدیث میں دو طریق غیر صحیح ہیں: اقبح اور قبیح۔ اوّل الذکر بہت برا اس لئے ہے کہ گور پرستوں نے بزعم خود یہ سمجھا ہے کہ بزرگوں کی روحوں کو پکارنا اور حاجت براری کی درخواست کرنا سنت اور مستحب ہے۔ مگر یہ گناہ کو حلال تصور کرتا ہے اور گناہ کو حلال سمجھنا کفر ہے۔ آخر الذکر اس لئے برا ہے کہ بعض لوگوں نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ اپنی حاجتوں میں نیک روحوں کو پکارنا اور اپنی ضرورتوں کو پورا کرنا کے لئے بزرگوں کو خدا کے ہاں سفارشی بنانا اور سفارش کو اپنے حق میں مقبول سمجھنا درست ہے مگر یہ اُمور دین میں بغیر اِذنِ شارع، اس رائے سے اباحت اور جواز پیدا کرنا ہے اور یہی وجہ اصل برائی کی ہے۔ '' فرمانِ خداوندی ہے﴿ أَم لَهُم شُرَ‌كـٰؤُاشَرَ‌عوا لَهُم مِنَ الدّينِ ما لَم يَأذَن بِهِ اللَّهُ...٢١... سورة شورى

''کیا ان کے ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے شرع مقرر کی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے انہیں اذن نہیں دیا۔''

﴿ أَمِ اتَّخَذوا مِن دونِ اللَّهِ شُفَعاءَ ۚ قُل أَوَلَو كانوا لا يَملِكونَ شَيـًٔا وَلا يَعقِلونَ ٤٣... سورة الزمر

''انہوں نے اللہ کے سوا سفارشی بنا رکھے ہیں اگرچہ یہ سفارشی نہ کسی چیز کی قدرت رکھتے ہیں اور نہ ہی سمجھتے ہیں۔(پھر بھی ان کو سفارشی بناتے ہیں)''

بعض لوگ انتہائی ضلالت میں ہیں۔ شافع اور مشفوع میںفرق نہ کرتے ہوئے یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیئا للہ کہتے ہیں۔ اس کلام میں خدا کو سفارشی اور جیلانی ؒ کودینے والا بنایا ہے اور واقعہ اس کے برعکس ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں سے حاجت چاہنا خدا کو کمزور سمجھنا ہے اور مخلوق کو قوی اور دانا خیال کرنا ہے۔ معاذ اللہ! (بلاغ المبین: صفحہ ۶۱)

اس حدیث سے متعلق ایک اور واقعہ بھی اس رسالہ میں مذکور ہے، جو یوں ہے کہ

''ایک صاحب کسی مقصد کے لئے حضرت عثمان ؓ سے ملنا چاہتے تھے لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ انہوں نے حضرت عثمان بن حنیفؓ سے تذکرہ کیا۔ انہوں نے فرمایا: وضو کرکے مسجد میں دو رکعت نماز پڑھو اور اس کے بعد یہ دعا مانگو: «اللهم إني أسئلك ... الخ» انہوں نے یہ عمل کیا، نہ صرف حضرت عثمانؓ سے ملاقات ہوگئی اور انہوں نے ان کی حاجت پوری کردی بلکہ فرمایا کہ جب کوئی کام ہو تو میرے پاس آجانا۔ یہ صاحب واپسی پر حضرت عثمان بن حنیفؓ سے ملے اور شکریہ ادا کیا کہ آپ کی سفارش سے میرا کام ہوگیا۔ انہوں نے فرمایا: میں نے سفارش بالکل نہیں کی، میں نے تو تمہیں وہ عمل بتایا تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نابینا صحابی کو تعلیم فرمایا تھا۔ (ملخصاً از المعجم للطبرانی : صفحہ ۱۰۳)

قادری صاحب نے اس روایت میں بھی علمی خیانت کا مظاہرہ کیا ہے کیونکہ انہوں نے یہ روایت امام طبرانی کی کتاب 'الدعائ' کے حوالے سے ذکر کی ہے لیکن خود امام طبرانی کے ان الفاظ کو...«وھم عون في الحدیث وھما فاحشا» (عون بن عمارہ راوی نے اس حدیث میں فحش غلطی کی ہے) ... پی گئے ہیں کیونکہ یہیں سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ یہ گذشتہ روایت ہی ہے جس میں مذکورہ واقعہ کا اضافہ ہے او راس اضافے کو امام طبرانی نے نقل کرنے کے بعد اس کی وضاحت بھی کردی ہے کہ یہ عون بن عمارہ کی فحش غلطی ہے۔لہٰذا یہ قصہ غیر محفوظ (منکر) ہے۔ علاوہ ازیں اگر یہ روایت درست ہوتی تو پھر آج تک کوئی صحابی، تابعی اور مسلمان نابینا نہیں ہوسکتا تھا بلکہ ہر نابینا اس روایت پر عمل کرکے بصارت حاصل کرلیتا لیکن فی الواقع ایسا نہیں !!

3۔ قبر مبارک کی چھت پر روشن دان

ابوالجوزاء حضرت اوس بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ مدینہ طیبہ میں سخت قحط پڑا۔ اہل مدینہ نے اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے شکایت کی تو آپؓ نے فرمایا: '' نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو دیکھو اور آسمان کی طرف اس کا روشن دان کھول دو تاکہ اس کے اور آسمان کے درمیان چھت حائل نہ رہے۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اتنی بارش ہوئی کہ سبزہ اگا، اونٹ موٹے ہوگئے اور چربی کی زیادتی کی وجہ سے ان کے جسم پھٹ گئے۔ چنانچہ اس سال کا نام ہی عام الفتق رکھ دیا گیا ( دارمی: ۱؍ ۴۳، بحوالہ رسالہ مذکورہ ۵۳)

حدیث ِکو ّہ پرامام ابن تیمیہؒ کا تبصرہ: آپ فرماتے ہیں کہ «ما روي عن عائشة من فتح الکوة من قبرِ إلی السماء لينزل المطر فليس بصحيح ولا يثبت إسنادہ» (کتاب الرد علی البکری: صفحہ ۶۸)

''حضرت عائشہؓ کے متعلق روایت جس میں قبر مبارک کی چھت میں سوراخ کرنا ذکر ہے تاکہ بارش ہو، یہ روایت صحیح نہیں اور نہ اس کی اسناد ثابت ہیں۔'' اس حدیث میں درج ذیل سقم ہیں:

1. یہ بات یاد رہے کہ دارمی میں صحیح وضعیف ہر طرح کی روایات درج ہیں جیسا کہ علامہ عراقی کا بیان ہے کہ ''دارمی میں مرسل، معضل، منقطع اور مقطوع حدیثیں موجود ہیں۔''

2. اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فضل ابوالقعان بصری ہے۔ جسے آخری عمر میں خلل دماغ اور نسیان واقع ہوگیاتھا(الکواکب النیرات:۵۲ اور تقریب: ۳۱۵) دوسرا راوی سعید بن زید ہے ۔ میزان (۲؍۱۳۸) میں اس کو'ضعیف'، کاشف میں امام ذہبیؒ نے 'غیر قوی' اور خلاصہ میں امام نسائی نے 'غیرقوی' قرار دیا ہے۔ الکامل (۳؍۱۲۱۲) اور تہذیب التہذیب (۴؍۳۳) کے مطابق بھی یہ راوی ضعیف ہے۔تیسرا راوی عمرو بن عبدالمالک النکری ہے۔ اس کے متعلق تقریب (ص ۳۹) میں ہے «له أوھام» (یہ بہت وہمی ہے) چوتھا راوی ابوالجوزاء اوس بن عبداللہ ہے تقریب میں یرسل کثیرا یعنی وہ درمیان سے راوی چھوڑ جاتا ہے۔

یہ ہے اس حدیث کی اسنادی حیثیت۔ گویا یہ حدیث ضعیف اور منقطع ہے اور دونوں اقسام حدیث کی مردود اقسام میں شمار ہوتی ہیں۔

3. عقائد کے سلسلہ میں حنفی حضرات خبر واحد کو حجت تسلیم نہیں کرتے خواہ وہ حدیث صحیح الاسناد اور مرفوع

ہی کیوں نہ ہو جبکہ توسل کا مسئلہ بھی عقائد سے تعلق رکھتا ہے لیکن احناف اس سلسلہ میں اس قدر نیچے اُتر آئے ہیں کہ ضعیف بلکہ موضوع احادیث کو بھی بطورِ حجت پیش کررہے ہیں!! (جاری ہے)

٭٭٭٭٭

إِيّاكَ نَعبُدُ وَإِيّاكَ نَستَعينُ ٥﴾... سورة الفاتحة