اگرچہ مجالس میلاد سال بھر میں وقتاً فوقتاً منعقد ہوتی ہی رہتی ہیں، بلکہ اس کی وسعت اور ہمہ گیری کا تو یہ عالم ہوچکا ہے کہ ہر خوشی کی تقریب میں، ہر مصیبت و تکلیف سے نجات و راحت حاصل کرنے اور ہر آرام و راحت کے میسر ہونے پر مجالس مولود منعقد کی جاتی ہیں، لیکن اس مہینے میں زیادہ اہتمام اور خصوصیت کے ساتھ یہ مجالس منعقد کی جاتی ہیں۔ مکانات کی زیبائش و آرائش کے ساتھ، گلی کوچوں اور بازاروں کی بھی تزئین و خوبصورتی کی جاتی ہے۔ دو کانوں کو خوبصورت، زرّین اور ریشمی کپڑوں سے سجایا جاتا ہے، درختوں کی سبز اور بابرگ ٹہنیوں سے دروازوں اور گذرگاہوں کو اس طرح مزین کیا جاتا ہے، ان میں مختلف روشنیوں کی آویزانی اور بجلی کے قمقموں کی روشنی ایک عجب بہار پیداکردیتی ہے۔ اور اگر ان مجالس کی حقیقت آپ معلوم کریں گے تو ان میں بھی آپ کو عجب مناظر دکھائی دیں گے، سبز عمامے اور لمبے لمبے چوغے پہنے ہوئے مولود خواں واعظ اور قصہ گو ملا نے انواع و اقسام کے لذیذ کھانوں کی طرف توجہ قلبی کئے ہوئے ذکر ِمولد کرتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ اس تذکارِ میلاد میں قصص و حکایات اور ضعیف موضوع روایات کا ایک افسوسناک سلسلہ آپ کو دکھائی دے گا، جو اس وقت صحیح طور پر پیغمبر اسلام کے متعلق مخالفین کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کا موجب اور باعث بنا ہوا ہے۔ ان حکایاتِ موضوعہ تک ہی اگر میلاد خوانی کو محدود رکھتے تو بھی ایک بات تھی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ ذکر کرتے کرتے ایک دم ان میں کا ایک قسّیسں کھڑا ہوجاتا ہے۔ اس خیال سے کہ نبی اکرم ﷺ کی روح حاضر ہوگئی ہے تو از راہِ ادب سب کے سب دست بستہ کھڑے ہوجاتے ہیں اورجو خشوع و خضوع اور توجہ و اِنابت اس وقت ان لوگوں کے اعضاء وجوارح پر طاری ہوتی ہے، اس کا عشر عشیر بھی ان کی نمازوں میں نظر نہیں آتا جبکہ وہ ربّ السماوات والارض کے حضور دست بستہ کھڑے ہوتے ہیں یا جبکہ سرعجز و نیاز اس حی و قیوم کی بارگاہ میں رکھتے ہیں اور لطف یہ ہے کہ ۱۲/ ربیع الاول کو ہر جگہ اور جہاں کہیں تمام عالم اسلام میں اس قسم کی مجالس میلاد منعقد ہوتی ہیں، ہر جگہ یہی خیال کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لاتے ہیں، اگرچہ یہ مجالس ایک ہی وقت میں ہوں اور مختلف اقطارِ ارض میں ہوں۔

تلاشِ حقیقت

اس میں کوئی شک نہیں کہ عشق محمدی اور محبت ِنبوی کے پاکیزہ جذبات اور ذوق و شوق کے مخلصانہ ولولے ایک موٴمن قانت اور مسلم صادق کی زندگی کے سب سے زیادہ قیمتی متاع اور محبوب جنس ہے اور یہ صحیح ہے کہ یہ محبت اور شیفتگی انسانی سعادت اور صداقت کا سرچشمہ ہے۔ کیونکہ یہ محبت و عقیدت اس مقدس و مطہر وجود کے ساتھ ہے جس کو خدا نے تمام کائناتِ انسانی میں ہر طرح کی محبوبیت اور ہر قسم کی محمودیت کے لئے چن لیا ہے۔ اور اس سے زیادہ اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ اس کائناتِ ارضی میں بڑی سے بڑی بات جو کسی انسان کے لئے کہی جاسکتی ہے، زیادہ سے زیادہ محبت اور اعلیٰ سے اعلیٰ مدح و ثنا جو کسی انسان کے لئے کی جاسکتی ہے، غرضیکہ انسان کی زبان انسان کے لئے جو کچھ کہہ سکتی ہے اور کرسکتی ہے وہ سب کا سب اس کامل انسان اور اکمل 'عبد' کے لئے ہے۔ جس کو خدا نے اپنے غلامی کے لئے مخصوص کرلیا، جس کو خدانے عبودیت کے عزوشرف سے سب سے زیادہ بہرہ ور کیا۔﴿سُبحـٰنَ الَّذى أَسر‌ىٰ بِعَبدِهِ لَيلًا مِنَ المَسجِدِ الحَر‌امِ إِلَى المَسجِدِ الأَقصَا...١ ﴾... سورة الإسراء

"کیسا پاک ہے وہ خداوند ِقدوس جس نے ایک رات اپنے بندے کو مسجد ِحرام سے مسجد ِاقصیٰ تک کی سیر کرائی"

اور جس کو کبھی تو ﴿يـٰأَيُّهَا الرَّ‌سولُ﴾ کے خطابِ عزت سے نوازا اور کبھی ﴿يـٰأَيُّهَا المُزَّمِّلُ ١ ﴾... سورة المزمل" کے طریق محبت سے پکارا اور کبھی ﴿يـٰأَيُّهَا المُدَّثِّرُ‌ ١﴾... سورة المدثر" کی صدائے شفقت سے سرفرازا، اور جس آبادی میں وہ بسا اور جس شہر کی گلیوں میں وہ چلا پھرا ،کبھی اس کی عزت و عظمت کو دنیا میں نمایاں کرنے کے لئے فرمایا:﴿لا أُقسِمُ بِهـٰذَا البَلَدِ ١ وَأَنتَ حِلٌّ بِهـٰذَا البَلَدِ ٢ ﴾... سورة البلد

"ہم مکہ کی قسم کھاتے ہیں، یعنی جس سرزمین پر تو رہا اور بسا ہے۔"

پس جس کی محبوبیت اور محمودیت کا یہ مرتبہ ہو، اس کی یاد میں جتنی گھڑیاں کٹ جائیں اور جتنی بھی راتیں آنکھوں میں بسر ہوجائیں اور اس کی محبت و عشق اور مدح و ثنا میں جس قدر بھی زبانیں زمزمہ پیرا ہوں، یقینا روح کی سعادت اور دل کی طہارت اور انسانیت کا حاصل ہے لیکن آپ کی ولادت، آپ کی حیاتِ طیبہ کا ذکر اور اس کے لئے مجالس کا انعقاد اسی وقت ذریعہ ارشاد و ہدایت ہوسکتا ہے جبکہ یہ مجالس ومحافل 'اسوئہ حسنہ' کے جمالِ الٰہی کی تجلی گاہ ہوں۔ نبی اکرم ﷺ کے صحیح حالاتِ زندگی سنائے جائیں۔ آپ کے اخلاقِ عظیمہ، خصائل کریمہ اور سنن مطہرہ کی طرف لوگوں کو دعوت دی جائے

﴿لَقَد كانَ لَكُم فى رَ‌سولِ اللَّهِ أُسوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَن كانَ يَر‌جُوا اللَّهَ وَاليَومَ الءاخِرَ‌ وَذَكَرَ‌ اللَّهَ كَثيرً‌ا ٢١﴾... سورة الاحزاب

"بے شک رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ان لوگوں کے لئے پیروی اور اتباع کا بہترین نمونہ ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والے اور بکثرت ذکر کرنے والے ہیں۔"

کیونکہ بڑے بڑے اولوالعزم انسانوں کی بڑائیوں اور عظمتوں کی یادگار کو تازہ اور زندہ رکھنے کے لئے جس روح کی ضرورت ہے، اس کا تعلق محض تذکرہ اور یادآوری سے نہیں ہوتا بلکہ اس سے اصلی غرض یہ ہوتی ہے کہ جو اعمالِ حسنہ اور اخلاقِ کریمہ، بصائر اور مواعظ ِجلیلہ ان کی زندگی سے وابستہ ہیں اور جن کی یاد اور تذکرہ میں بنی نوع انسان کے لئے سب سے زیادہ موٴثر دعوت ِعمل موجود ہے ، کو اس طرح زندہ رکھا جائے کہ آئندہ نسلیں ان اعمالِ حسنہ کے نمونوں کو اپنی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیں۔

ضیاعِ مقصد

لیکن دنیا کے خسران اور ناکامی کا راز صرف اسی میں نہیں ہے کہ وہ سچائی کی طرف بڑھتی نہیں یا صداقت کی تلاش کے لئے اس میں کو ئی تڑپ نہیں ہوتی۔ نہیں بسا اوقات حق کی تلاش میں دنیا قدم اٹھاتی ہے اور اس راستہ پر گامزن بھی ہوتی ہے، لیکن اس کا خسران اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔ وہ اٹھنے اور اقدام کے بعد اپنا راستہ گم کردیتی ہے، اور ایسا ہوتا ہے کہ جس طرح اس راستہ کی طرف نہ چل کر اس سے محروم تھی، ٹھیک اس طرح اس کی طرف چل کر بھی محروم رہتی ہے۔

دیکھئے، قرآنِ کریم میں انسان کے خسران و نقصان کے جس قدر حالات بیان کئے ہیں، ان میں سے ایک اور زیادہ پیش آنے والی حالت کے لئے 'ضلالت'کا لفظ اختیار کیا ہے، اور 'ضلالت'کا ٹھیک ترجمہ 'گم راہی' اور راستے میں 'بھٹک جانے' کے ہیں۔ فرمایا:

﴿وَأَضَلّوا كَثيرً‌ا وَضَلّوا عَن سَواءِ السَّبيلِ ٧٧ ﴾... سورة المائدة

"بہتوں کو گمراہ کیا اور خود بھی راہ راست سے بھٹک گئے۔" اور

﴿وَلا تَتَّبِعِ الهَوىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبيلِ اللَّهِ...٢٦ ﴾... سورة ص

"خواہش نفسانی کے پیچھے مت لگو، یہ تمہیں اللہ کے راستے سے گم کردے گی۔"

اور سورہ فاتحہ میں مغضوب علیہم کے ساتھ ایک اور گروہ کا بھی ذکر کیا ہے، جس کا نام ضالین رکھا ہے، تو وہ یہی گم کردہ راہ گروہ ہے جو راستے پر چلنے کے لئے اُٹھا مگر راستہ گم کردیا۔

پس قرآنِ کریم نے انسان کی بدحالی اور تباہی کی سب سے بڑی عام حالت کو اس لفظ 'ضلالت' سے تعبیر کیا ہے، جس کی وجہ یہی ہے کہ بسا اوقات انسان کو اٹھنے اور چلنے سے انکا رنہیں ہوتا۔ وہ سفر تو اختیار کرتا ہے، لیکن ہوتا یہ ہے کہ منزلِ مقصود کی حقیقی شاہراہ اس پرنہیں کھلتی اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ باوجود چلنے کے منزلِ مقصود سے اسی طرح محروم رہتا ہے جس طرح وہ بدبخت محروم رہا جس نے چلنے کا قصد بھی نہیں کیا تھا۔ اور یہی وہ فریق ہے جس کی کوششوں اور مشقتوں کے ضائع ہونے کو قرآن کریم نے تحبط أعمال سے جابجا مختلف پیراؤں میں ظاہر کیا ہے۔ فرمایا:

﴿قُل هَل نُنَبِّئُكُم بِالأَخسَر‌ينَ أَعمـٰلًا ١٠٣ الَّذينَ ضَلَّ سَعيُهُم فِى الحَيو‌ٰةِ الدُّنيا وَهُم يَحسَبونَ أَنَّهُم يُحسِنونَ صُنعًا ١٠٤ أُولـٰئِكَ الَّذينَ كَفَر‌وا بِـٔايـٰتِ رَ‌بِّهِم وَلِقائِهِ فَحَبِطَت أَعمـٰلُهُم فَلا نُقيمُ لَهُم يَومَ القِيـٰمَةِ وَزنًا ١٠٥ ﴾... سورة الكهف

"اے پیغمبر! مخالفین سے کہہ دو کہ کیا ہم تمہیں وہ لوگ بتائیں جو اپنے اعمال کے لحاظ سے بڑے گھاٹے میں ہیں؟ (ہاں تو یہ) وہ لوگ ہیں جن کی دنیاوی زندگی کی کوشش سب ضائع ہوگئی اور وہ اسی خیال میں ہیں کہ وہ اچھے کام کررہے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں کو اور قیامت کے دن اس کے دربارمیں حاضر ہونے کو نہ مانا، پس ان کی تمام محنتیں اور راہروی کی مشقتیں بالکل اِکارت گئیں۔ پس قیامت کے دن ہم ان کے اعمال (نیک) کا کوئی تول قائم نہیں کریں گے۔"

جس طرح بے راہروی اور گم گشتگی ٴ طریق کے مختلف حالات و مراتب اور درجات ہوتے ہیں، ٹھیک اسی طرح ضلالت ِاعمال کی حالت ہے، اس میں بھی تفاوتِ مراتب اور اختلافِ درجات ہے اور اس کی جومثال اس وقت ہمارے پیش نظر ہے، وہ یہ ہے کہ دنیا میں ہر قوم نے اپنے مشاہیر اور بزرگوں کی بڑائیوں اور عظمتوں کی یاد کو مختلف یادگاروں، تہواروں اور قومی مجمعوں کے انعقاد کی صورت میں زندہ رکھناچاہا ہے، لیکن یہ چیزیں اپنی جگہ پر اگرچہ کیسی ہی اہم اور سعادت بخش ہیں، اور ان سے قومی زندگی کے نشوونما کو کتنا ہی عظیم الشان فائدہ پہنچتا ہے، لیکن افسوس کہ دنیا کی عالمگیر ضلالت نے جو ہر عمل میں حقیقت اور مقصد کو فنا کرتی اور ظواہر و رسوم کی پوجا کرتی ہے، یہاں بھی انبیاءِ کرام اور دوسرے بزرگانِ سلف کی یادگاروں کا جو اصل مقصد تھا یعنی اُسوئہ حسنہ کی اتباع اور نیکی و صداقت کے عملی نمونوں کی پیروی اور اعمالِ صالحہ کی حقیقی عملی یاد اس کو تو مٹا دیا اور اس کی جگہ محض رسموں کی عظمت اور تہواروں کی رونق اور میلوں کی چہل پہل چھوڑ دی، اور اصلی روح ضائع کردی۔ یہی وجہ ہے کہ اعمال کی جگہ رسوم اور افراد واسماء کی پرستش نے لے لی اور اسی چیز نے دو تین نسلوں کے بعد انسان کو بت پرستی تک پہنچا دیا !!

اُسوہٴ حسنہ

لیکن قرآنِ حکیم نے ان تمام رسمی طریقوں سے انکار کردیا جو عام طور پر دنیا نے اختیار کررکھے تھے اس نے یادگاروں کے لئے سالانہ مجمعوں اور جلوسوں پر زور نہیں دیا جو کچھ مدت کے بعد رسوم پرستی کا ذریعہ بن جاتے ہیں اور یادگار کی حقیقی روح مفقود ہوجاتی ہے۔ اس نے اینٹ اور چونے کی عمارتوں اور بڑے بڑے میناروں کے ذریعہ یادگاریں نہیں بنائیں جو تندو تیز ہواؤں اور چمکتی ہوئی بجلیوں کی ایک نگہ خشمگیں کی تاب نہ لاسکیں۔ اس نے یادگاروں کے لئے لوہے اور پتھر کے بت نہیں بنائے جن کو آگ کا ایک شعلہ گلا سکتا ہے اور ایک موحد کا ہاتھ اس کو چکنا چور کرسکتا ہے۔ اس نے دنیا کے سامنے انبیاءِ کرام کی پاکیزہ زندگیوں کو پیش کیا اور یہی وہ حقیقت ِکبریٰ ہے جسے قرآن کریم نے 'اُسوئہ حسنہ' کے جامع و مانع لفظ سے تعبیر کیا ہے۔کیونکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسانی سعادت کے لئے محض تعلیم بالکل بیکار ہے جب تک اس تعلیم کے ساتھ اس کے زندہ نمونے انسانوں کے سامنے نہ ہوں اور جو اثر انسان کی منفعل طبیعت پر انسانی نمونہٴ عمل سے پڑ سکتا ہے، وہ محض تعلیم اور سماعت ِاحکام سے نہیں پڑ سکتا۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی نوعِ انسان کی ہدایت کے لئے صرف کتابوں اور شریعت ِ مطہرہ پر کفایت نہیں کی بلکہ اس کے ساتھ انبیاء کرام کا عملی نمونہ بھی پیش کیا۔ وہ جس شریعت اور جس کتاب کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے، اس کا عملی پیکر خود ان کی پاک زندگی ہوتی تھی، اور اسی حقیقت کو حضرت عائشہ نے اس وقت بیان کیا، جب ان سے نبی اکرم ﷺ کے 'خلق عظیم'کے متعلق سوال کیا گیا جس کی بشارت قرآن نے یوں دی تھی کہ ﴿وَإِنَّكَ لَعَلىٰ خُلُقٍ عَظيمٍ ٤ ﴾... سورة القلم" تو فرمایا:« كان خلقه القرآن» یعنی اگر تم آنحضرت اکے خلق عظیم کو دریافت کرنا چاہتے ہو تو قرآن کو دیکھ لو۔ اس میں حروف و الفاظ ہیں تو آپ اس کے پیکر عمل ہیں۔ اگر وہ چراغ ہے تو آپ اس کی روشنی ہیں۔ حقیقت ایک ہی ہے جس نے ایک جگہ علم کی اور دوسری جگہ عمل کی صورت اختیار کی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ'سنت' کو کتاب کا ایک جزو اور مفہومِ' کتاب' میں تبعاً داخل سمجھا جاتا ہے۔ جو ظاہربین اس حقیقت ِکبریٰ سے ناواقف اور بے خبر ہیں وہ 'قرآن' کے ساتھ 'حدیث' کا لفظ سنتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ 'حدیث' کی پیروی کا مطالبہ ایک ایسا مطالبہ ہے جو قرآن مجیدکے علاوہ ایک دوسرے قانون کو تسلیم کراتا ہے، حالانکہ 'سنت' کی اطاعت 'کتاب' کی اطاعت میں داخل ہے اور 'سنت' علم قرآنی ہی کی عملی تفسیر ہے۔

غرض کہ انسانی ہدایت و سعادت کے لئے'تعلیم' کے ساتھ'نمونہ' اور'کتاب' کے ساتھ 'سنت' یا 'حکمت' ایک ضروری چیز ہے جس سے اُمت کو کسی حالت میں بھی استغنا نہیں ہوسکتا اور یہی وہ دو نعمتیں ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے ہرنبی کو سرفرازکیا۔ ابراہیم علیہ السلام کے خاندانِ نبوت کے لئے فرمایا:

﴿فَقَد ءاتَينا ءالَ إِبر‌ٰ‌هيمَ الكِتـٰبَ وَالحِكمَةَ وَءاتَينـٰهُم مُلكًا عَظيمًا ٥٤ ﴾... سورة النساء

"ہم نے خاندانِ ابراہیم کو کتاب اور سنت دی اور ان کو بہت بڑی سلطنت دی۔"

حضرت مریم علیہ السلام کو جب عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت دی تو اس میں فرمایا: ﴿وَيُعَلِّمُهُ الكِتـٰبَ وَالحِكمَةَ﴾ (اللہ تمہارے بیٹے کو کتاب و سنت کی تعلیم دے گا) اور سورة النساء میں رسول اللہ ا کو مخاطب کرکے فرمایا: ﴿وَأَنزَلَ اللَّهُ عَلَيكَ الكِتـٰبَ وَالحِكمَةَ﴾ (اللہ نے آپ پرکتاب و سنت اُتاری) اور آپ نے اسی کتاب و سنت کی اُمت کو تعلیم دی جیسا کہ سورئہ آلِ عمران اور سورئہ جمعہ میں فرمایا: ﴿وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتـٰبَ وَالحِكمَةَ﴾ اور سورئہ بقرہ میں فرمایا: ﴿وَيُعَلِّمُكُمُ الكِتـٰبَ وَالحِكمَةَ﴾

پس قرآن و حکمت کہہ لو یا کتاب و سنت سے تعبیر کرلو، اسماء مختلف ہیں لیکن موصول و مسمّٰی میں فرق نہیں جیسے قرآن و کتاب کہہ لیا، ایسے ہی حکمت و سنت نام دو ہوگئے لیکن حکایت ِشہد و عسل سے زیادہ نہیں۔ «عباراتنا شتی وحسنك واحد»

غرض یہ تھی کہ انسانی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے کتابوں کے ساتھ انبیا ء کرام کی پاکیزہ زندگیوں کا نمونہ بھی پیش کیا ہے، جس کو قرآن حکیم نے 'اسوئہ حسنہ' سے تعبیر کیا ہے۔

حقیقی یادگار

پس قرآنِ کریم نے اس 'اُسوئہ حسنہ' کو اپنی تمام تعلیمات کا جزوِ اعظم قرار دیا اور اس کو ایک خالص روحانی اعتقاد بنا کر اس طرح دلوں کے اندر قائم کردیا کہ اس کی حقیقت دائمی طور پر زندہ ہوگئی اور ہر طرح کی مادّی اجسام و اشکال سے بے نیاز کرکے ہر طرح کی رسم پرستیوں کی آمیزش سے پاک کرکے انبیاء کرام کے 'اسوئہ حسنہ' کی یادگار انسان سے باہر نہیں بلکہ خود اس کے اندر قائم کردی جو تاریخوں اور مہینوں کی قیود سے آزاد رہ کرکبھی بھی اس کی نظروں سے اوجھل نہ ہوسکے۔اسی کی تفصیل میں اس قدر اور عرض کردینا چاہتا ہوں کہ قرآنِ کریم میں سب سے پہلے ایک مقدس 'دعا' بتلائی ہے اور حکم دیا کہ دن میں پانچ مرتبہ جب بندہ عجز و نیاز کے ساتھ ربّ العالمین کے حضور میں کھڑا ہو تو یہ دعا پڑھے۔ اس دعا میں انسان اپنے لئے سب سے بڑی نعمت اور سب سے زیادہ قیمتی دولت جو مانگ سکتا ہے وہ اس دعا میں سکھلائی گئی ہے ۔ یہ'دعا' سورئہ فاتحہ ہے جو ہر موٴمن دن میں پانچ مرتبہ نماز کی ہر رکعت میں پڑھتا ہے اور وہ'نعمت' اور متاعِ محبوب 'صراطِ مستقیم' ہے۔ یہ 'صراط مستقیم' کیا ہے اور اس سے مقصود کیا ہے؟ اس کی یہاں کوئی تشریح نہیں کی گئی، البتہ یہ بتلایا گیا ہے کہ

﴿صِر‌ٰ‌طَ الَّذينَ أَنعَمتَ عَلَيهِم...٧ ﴾... سورة الفاتحة

"اے پروردگار !اُن لوگوں کی راہ پرجن پر تو نے انعام کیا ہے۔"

پس 'صراطِ مستقیم' وہ راہ ہوئی جو 'انعام یافتہ' لوگوں کی راہ ہے اور جن لوگوں کو خدا نے اپنی نعمتوں سے سرفراز ا، ان کاذکر سورئہ نسا میں موجود ہے:

﴿وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّ‌سولَ فَأُولـٰئِكَ مَعَ الَّذينَ أَنعَمَ اللَّهُ عَلَيهِم مِنَ النَّبِيّـۧنَ وَالصِّدّيقينَ وَالشُّهَداءِ وَالصّـٰلِحينَ ۚ وَحَسُنَ أُولـٰئِكَ رَ‌فيقًا ٦٩ ﴾... سورة النساء

"اور جن لوگوں نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی، تو وہ سب ان خوش نصیبوں کے ساتھی ہوجائیں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا اور وہ انبیا ، صدیقین، شہدا اور صالحین ہیں، اور یہ کیا ہی اچھی رفاقت ہے۔"

اس آیت ِکریمہ میں یہ بتلایا دیا گیا کہ جس راہ پرچلنے کی سورئہ فاتحہ میں ہرموٴمن التجا کرتا ہے، وہ راہ انعام یافتہ گروہ کی ہے جس سے مراد انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین ہیں اور یہ چار گروہ وہ ہیں جن کے اندر نوعِ انسانی کا تمام اَصلح اور سعید حصہ آگیا ہے۔ انسانی آبادی میں جب کبھی عمل صالح کی صداقت ظہور پذیر ہوگی تو ضرور ی ہے کہ انہی انعام یافتہ چار جماعتوں میں سے کسی جماعت سے متعلق ہو۔

اب دیکھئے کہ قرآنِ حکیم نے یادگار اور تذکار کے اصلی مقصد کو تمام رسوم کی آلودگیوں سے صاف کرکے کس طرح قائم کردیا ہے۔ اس کے لئے کیسی محفوظ و مصئون راہ اختیار کی ہے کہ ہر نماز اور اس کی ہر رکعت میں'صراطِ مستقیم' پر چلنے کیجب التجا کرتا ہے تو وہ انعام یافتہ گروہ کی 'اُسوئہ حسنہ' کو پیش نظر رکھ کر ان کی یاد کو زندہ رکھے اور ان کے عقائد ِحسنہ اور اعمالِ صالحہکے نمونے کو کبھی فراموش نہ ہونے دے۔ پھر اگر یہ دنیا کی مقدس ہستیوں کی سچی یادگار اور ان کا حقیقی تذکار نہیں توکیا ہے؟ دنیا نے 'مشاہیر پرستی' کی حقیقت کبھی پتھر کے بتوں، کبھی اینٹوں کی عمارتوں، کبھی انسانوں کے مجسّموں، کبھی ملکوں، کبھی قوموں کی وقتی رسموں اور تقریبوں میں تلاش کی ہے۔لیکن قرآنِ کریم نے ایسی یادگار کی جو ہرروز ان میں پانچ مرتبہ ہر موٴمن کے سامنے آتی ہے اور ہر موٴمن راہِ سعادت حاصل کرنے کے لئے ان کی یادگار کو زندہ رکھنا اپنے لئے موجب ِہدایت اور ذریعہ نجات سمجھتا ہے۔

استبدالِ نعمت

﴿فَبَدَّلَ الَّذينَ ظَلَموا قَولًا غَيرَ‌ الَّذى قيلَ لَهُم...٥٩ ﴾... سورة البقرة

" پھر ان ظالموں نے وہ بات جو اُن سے کہی گئی تھی، بدل ڈالی۔"

آج ہر جگہ عیدمیلاد کی مجلسیں منعقد ہورہی ہیں اور ماہِ ربیع الاول میں تشریف لانے والے مقدس انسان کی یاد کو زندہ رکھنے کے لئے مدح و ثنا کی صدائیں بلند ہورہی ہیں اور غناء و سرود کے نغموں میں قصائد ِمدحیہ پڑھے جارہے ہیں، کافوری شمعوں کی قندیلیں روشن کی جارہی ہیں، پھولوں کے گلدستے سجائے جارہے ہیں، مجلس میں گلاب کے چھینٹوں سے مشامِ روح کو معطر کیا جارہا ہے۔

لیکن اے کاش کہ جس کی یاد اور محبت میں ہم اپنے گھروں کو مجلسوں سے آباد کرتے ہیں، اس کی جگہ دل کی اُجڑی ہوئی بستیوں کو آباد کرتے، پھولوں کے گلدستوں کی جگہ ہم اپنے اعمالِ حسنہ کے مرجھائے ہوئے پھول کو تازہ کرتے، اور روشن قندیلیوں کی جگہ ہم اپنے دل کی اندھیاری کو دور کرنے کے لئے چراغِ سنت ِمصطفوی کو تلاش کرتے۔بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ اگر ہماری مجلسیں تاریک ہوتیں، ہمارے اینٹ اور چونے کے مکانوں کو زیب و زینت کا ایک ذرّہ بھی نصیب نہ ہوتا، ہماری آنکھیں رات رات بھر مجلس آرائیوں میں نہ جاگتیں، ہماری زبانوں سے ماہِ ربیع الاول کی وِلادت کے لئے دنیا ایک حرف بھی نہ سنتی، لیکن ہماری روح کی آبادی معمور ہوتی، ہماری دل کی بستی نہ اُجڑتی اور ہماری زبانوں سے نہیں بلکہ ہماری خصائل حمیدہ، اخلاقِ کریمہ اور اعمالِ حسنہ کے اندر سے 'اسوئہ حسنہ نبوی' کی مدح و ثنا کے ترانے اٹھتے، دنیا ہم کو، ہمارے اعمال کو، ہمارے حسن معاملات، شریفانہ عادات، مخلصانہ عبادات واطاعات و صدقِ مقالات کو دیکھ کر اعزاز و تکریم کی صداؤں میں پکار اٹھتی کہ یہ خیر الامم 'امت ِمسلمہ' ہے

﴿كُنتُم خَيرَ‌ أُمَّةٍ أُخرِ‌جَت لِلنّاسِ تَأمُر‌ونَ بِالمَعر‌وفِ وَتَنهَونَ عَنِ المُنكَرِ‌...١١٠ ﴾... سورة آل عمران

"تم دنیا کی بہترین اُمت ہو جس کو خدا نے دنیا کی ہدایت کے لئے نمایاں کیا، کیونکہ نیکی کا حکم دیتے ہو برائی سے روکتے ہو۔"

لیکن افسوس!کہ جس کی یاد میں ہم مجلسیں منعقد کررہے ہیں، اس کی عزت کے لئے ہمارا وجود بٹہ ہے، جس کی مدح و ثنا میں صدائیں بلند کرتے ہیں اور جس کی یاد کا ہماری زبانیں دعویٰ کرتی ہیں، اس کی فراموشی کے لئے تقریباً ہمارا ہر عمل گواہ ہے، اس نے کہا :

﴿وَلا تَكونوا كَالَّذينَ تَفَرَّ‌قوا وَاختَلَفوا مِن بَعدِ ما جاءَهُمُ البَيِّنـٰتُ...١٠٥ ﴾... سورة آل عمران

"مسلمانو! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو مختلف فرقوں میں تقسیم ہوگئے، اور اللہ کے صریح احکام کے ہوتے ہوئے پھر بھی اختلاف کیا۔" لیکن ہم نے کہا کہ اسلام چار اِماموں میں منقسم ہے۔ اس نے تفریق و تحزب کو معصیت قرار دیا۔ لیکن ہم نے اس کو اصل اسلام بنا لیا، ا س نے اتحادِ کلمة المسلمین کی دعوت دی لیکن ہم نے افتراقِ بین المسلمین کی بنیادیں استوار کیں، اس نے کہا :

﴿قُل إِن كُنتُم تُحِبّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعونى يُحبِبكُمُ اللَّهُ...٣١ ﴾... سورة آل عمران

"اگر تم اللہ سے محبت کرنے کے دعویٰ میں صادق ہو تو میری اطاعت کرو، پھر خدا بھی تم سے محبت کرے گا۔"

لیکن ہم نے سنت پر عمل کرنے والوں کو حقارت کی نظر سے دیکھا۔ ہم نے کوشش کی کہ ان پر عرصہٴ حیات تنگ کردیا جائے۔ اللہ کی مسجدوں کے دروازے ان پر بند کردیئے جائیں۔ اس نے کہا کہ تمہارا اللہ کہتا ہے:

﴿اليَومَ أَكمَلتُ لَكُم دينَكُم وَأَتمَمتُ عَلَيكُم نِعمَتى وَرَ‌ضيتُ لَكُمُ الإِسلـٰمَ دينًا...٣ ﴾... سورة المائدة

"آج میں نے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی، اور اسلام تمہارے لئے پسندیدہ مذہب قرار دیا۔"

لیکن ہم نے دین کے ہر حصے کو ناقص سمجھ کر ایسی ایسی بدعات اسلام میں مذہب کے نام سے رائج کردیں کہ بدعات اور رسوم سے پاک و صاف اسلام کا پتہ چلانا مشکل ہوگیا اوراصل حقیقت بدعات ورسوم پرستی میں مستورہوکر رہ گئی جس کانتیجہ وہی ہوا جو اس صادق و مصدوقنے فرمایا تھا :

«ما ابتدع قوم بدعة إلانزع الله عنهم من السنة مثلها» (مسنداحمد)

"جو قوم جس قدر بھی بدعات میں مبتلا ہوتی ہے، اسی قدر اللہ ان سے اتباعِ سنت کو اٹھا لیتا ہے۔"

اور یہ اس لئے کہ انسانی جسم کی طرح انسان کے دل اور روح کے لئے بھی خوراک کی ضرورت ہے اور شریعت ربانی اور الٰہی تعلیم ہے۔ اور یہ کھلی ہوئی حقیقت کہ انسان اگر اپنا کھانا چھوڑ کر کسی دوسری جگہ سے پیٹ بھر کر کھائے گا تو اپنا کھانا نہیں کھاسکے گا اور اگر کھائے گا تو بہت تکلیف سے اور وہ بھی بسااوقات اس کے لئے غیر مفید بلکہ مضر ثابت ہوتا ہے اور اگر پیٹ بھر کر نہیں کھایا تو جتنی بھی جگہ دوسرے کے ہاں کھانا کھا کر روک لی ہے، اتنی جگہ تو ضرور اس کے اپنے کھانے سے محروم رہے گی۔ پس اسی طرح جس شخص نے روح اور قلب کو شریعت ِالٰہیہ اور اتباعِ سنت ِسید المرسلین کی جگہ بدعات و مشرکانہ رسوم سے غذا بہم پہنچائی تو یقینا جس قدر بھی دوسری غذا جگہ لے گی اسی قدر روح و قلب اپنی اصلی غذا سے محروم رہیں گے اور جس طرح دوسرے کے ہاں سے کھانا کھا لینے کے بعد اپنے کھانے کی طرف انسان کی توجہ اور رغبت باقی نہیں رہتی یا کم ہوجاتی ہے، اسی طرح بدعات و محدثات کی طرف جس قدر بھی کسی کی طبیعت مائل ہوگی، اسی قدر وہ اتباع سنت ِنبویہ علی صاحبها الصلوٰة والتحیة سے محروم اور بدذوق ، بے شوق ہوگی۔ کیونکہ نور و ظلمت اور سنت و بدعت ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتی یا یوں کہئے: جس قدر بھی صبح کی سپیدی نمایاں ہوتی چلی جائے اور جس قدر سورج کی روشنی پھیکی پڑتی جائے گی، اسی قدر رات کی تاریکی اس دنیا پر پھیلتی چلی جائے گی۔ ٹھیک اسی طرح جس قدر بھی کوئی شخص اپنی ہمت، کوشش اور توجہ کو خالص سنت ِنبویہ کی طرف منعطف کرے گا، اسی قدر اس کا قلب اور اس کی روح بدعت کی ظلمت وتاریکیسے محفوظ ومصئون رہے گی، اور جس قدر بھی بدعات و محدثات کا شوق دامن گیر ہوتا چلا جائے گا، اسی قدر سنت کا نور اور شریعت ِالٰہیہ کی روشنی کم ہوتی چلی جائے گی۔

اور یہ اسی کا نتیجہ ہے جوآپ دیکھ رہے ہیں کہ قصائدوغزلیات پڑھنے والے قرآنِ مجید کے سننے سنانے میں بے شوق ہوتے ہیں بلکہ بسا اوقات آپ دیکھیں گے کہ قرآنِ مجید کے درس میں اس مذاق کے لوگوں کی اوّل تو حاضری ہی بہت کم ہوتی ہے اور اگر آبھی جائیں تو اس قدر جلد اُکتا جاتے ہیں کہ اس سے اگر دس گنا زیادہ وقت بھی قصائد و غزلیات کے سننے میں صرف کرنا پڑے تو پھراسے شوق و ذوق اور دلچسپی کے ساتھ سنیں گے اور جو لذت وہ گانے بجانے اور غناء و سرود میں محسوس کرتے ہیں، وہ قرآن کی تلاوت یا ا س کے درس میں حاضر ہوکر سننے میں نہیں پاتے۔

اسی طرح جو شخص کتاب و سنت کی جگہ فلاسفہ ملا عنہ اور متکلمین متحیرین کی تصنیفات میں اپنی دلبستگی اور اطمینانِ قلب کا سامان پاتاہے، اس کے دل میں یقینا علومِ کتاب و سنت اور طریقہ سلف صالحین کی نفرت جاگزیں ہوجاتی ہے اور یہ یہاں تک ترقی کرجاتی ہے کہ بسا اوقات علماء ِکتاب و سنت کو جاہل اور عاملین طریقہ سلف کو احمق بتانے میں بھی کوئی کوتاہی نہیں کرتے اور بازاری لوگوں کی طرح سلفی العقیدہ حضرات کا تمسخر اڑانااور ان کی تحقیر و تذلیل کرنا ان کا شیوہ ہوجاتا ہے۔ غرض یہ کہ حکمت ِاسلام اور حکمائے اسلام (صحابہ کرام، ائمہ دین) کی محبت اور قدرو منزلت ان کے دل سے زائل یا کم ہوجاتی ہے اور اس کی جگہ حکمت ِفلاسفہ یونان اور ان کے خوشہ چین (متکلمین) کی محبت اور عظمت پیدا ہوجاتی ہے۔

اور اسی طرح جو لوگ اولیاء کرام اور صلحاء اُمت کی قبروں کی زیارت کے لئے اور ان کے عرسوں میں شامل ہونے کے لئے ہمیشہ سفر کرتے رہتے ہیں اور اس کے عادی ہوجاتے ہیں، وہ اکثر حج بیت اللہ الحرام سے محروم رہتے ہیں، بلکہ بعض کی تو یہ حالت ہوجاتی ہے کہ باوجود قدرت و استطاعت کے اگر حج نہ کرسکیں تو طبیعت پر کسی قسم کا ملال نہیں گزرتا، لیکن اگر خواجہ اجمیری یا پیرانِ کلیر کے عرس میں کسی سال شامل نہ ہوں تو ان کو سخت صدمہ ہوتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ حج بیت اللہ کی محبت اور عظمت دن بدن ان کے دل سے کم ہوجاتی ہے اور اس کی جگہ اجمیر کے حج کا شوق و ذوق اور اس کی عظمت بڑھ جاتی ہے۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ ارکانِ اسلام اور شعائر ِدین کے لئے اس سے بڑھ کر اور کون سی چیز زیادہ مہلک ہوسکتی ہے؟

غرض یہی وہ 'استبدالِ نعمت' ہے جس کا میں نے شروع میں ذکر کیا تھا۔ اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقے پر نہ تو ہم قانع ہوئے اور نہ اس کو ہم نے کامل سمجھا، ہم نے بہت سی چیزیں شریعت میں بڑھائیں کہ شریعت کو کامل کردیں۔ شریعت کی بہت سی بتائی ہوئی چیزوں کو چھوڑ کر ان کی جگہ دوسری شریعت تجویز کی، اگر یہود نے حطة کی جگہ حنطة کہا تھا جس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَبَدَّلَ الَّذينَ ظَلَموا قَولًا غَيرَ‌ الَّذى قيلَ لَهُم...﴿٥٩ ﴾... سورة البقرة "ظالموں نے اس بات کو بدلا، جو ان سے کہی گئی تھی"

تو مسلمانوں نے بہت سی باتیں جو اللہ اور اس کے رسول نے کہی تھیں، بدل دیں۔ زیادہ تفصیل میں نہ جائیے، اسی مسئلہ کو لے لیجئے۔ انبیا ء کرام کی یاد زندہ رکھنے کے لئے فرمایا کہ ہر نماز کی ہر رکعت میں دن میں پانچ مرتبہ یہ دعا پڑھیں ﴿اهدِنَا الصِّر‌ٰ‌طَ المُستَقيمَ ٦ صِر‌ٰ‌طَ الَّذينَ أَنعَمتَ عَلَيهِم...٧ ﴾... سورة الفاتحة

اور یہ بتایا کہ ان کا نام زندہ رکھنے کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کے 'اُسوئہ حسنہ' کی اتباع کی جائے۔ ان کے اخلاقِ کریمہ، خصائل حمیدہ اور اعمالِ صالحہ کی اقتدا کی جائے

﴿قَد كانَت لَكُم أُسوَةٌ حَسَنَةٌ فى إِبر‌ٰ‌هيمَ وَالَّذينَ مَعَهُ...٤ ﴾... سورة الممتحنة

"یقینا تمہارے لئے حضرت ابراہیم اور ان لوگوں کی زندگی میں جو ان کے ساتھ ایمان کے اعلیٰ ترین مدارج میں نظر آتے ہیں، پیروی اور اتباع کے لئے بہترین نمونہ ہے۔" اور

﴿لَقَد كانَ لَكُم فى رَ‌سولِ اللَّهِ أُسوَةٌ حَسَنَةٌ...٢١ ﴾... سورة الاحزاب

"بلاشبہ تمہارے لئے اللہ کے رسول کی زندگی میں پیروی اور اتباع کے لئے بہترین نمونہ ہے۔"

لیکن بدعت پسند طبائع نے اس سچی یادگار اور حقیقی تذکار کی جگہ انسانوں کے مجسّموں اور رسمی تہواروں اور تقریبوں کو اختیار کرلیا اور ﴿صِر‌ٰ‌طَ الَّذينَ أَنعَمتَ عَلَيهِم...٧ ﴾... سورة الفاتحة" کی سعادت سے محروم ہوگئے۔

سید مجددین اور فخر محدثین امام ابن تیمیہ نے 'اقتضاء' میں میلادِ نبوی کا ذکر کرتے ہوئے کس قدر بصیرت افروز ارشاد فرمایا ہے ۔ اور اسی پر ہم اس مضمون کو ختم کرتے ہیں :

«فإن هذا لم يفعله إنسان مع قيام المقتضیٰ به وعدم المانع منه لوکان هذا خيرا محضا أوراجحا لکان السلف أحق به منا ، فإنهم کانوا أشد محبة لرسول الله ﷺ وتعظيما له منا وهم علی الخير أحرص وإنما کمال محبته وتعظيمه في متابعته واتباع أمره وإحياء سنته باطنا وظاهراً ونشر ما بعث به والجهاد علی ذلك بالقلب و اليد واللسان فإن هذه طريقة السابقين الأولين من المهاجرين والأنصار والذين اتبعوهم بإحسان»

"مجالس میلاد کا انعقاد سلف سے قطعاً ثابت نہیں باوجودیکہ کوئی مانع موجود نہ تھا بلکہ اس کے مقتضیات موجود تھے۔ اگر یہ محض خیرو بھلائی یا راجح بسوئے خیر و برکت ہوتیں تو سلف ہم سے زیادہ اس کے مستحق تھے۔ وہ ہم سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم و محبت کرنے والے تھے، اور وہ ہم سے کہیں زیادہ نیکی کے خواہشمند تھے، اصل بات یہ ہے کہ آپ کی تعظیم و محبت کی صحیح صورت یہی ہے کہ آپ کے ارشادت کی تعمیل کی جائے، آپ کی سنتوں کو زندہ کیا جائے، پوشیدہ اور علانیہ۔ آپ کی تعلیمات کی دنیا میں اشاعت کی جائے اور منکرات سے روکنے کے لئے دل، زبان اور ہاتھ سے جہاد کیا جائے۔ پس یہ ہی طریقہ مرضیہ ان مہاجرین وانصار کا ہے جو سب سے پہلے اسلام سے مشرف ہوئے اور اسی طرح ان لوگوں کا جو ان کے ٹھیک متبع اور پیروکار تھے۔"