جامعہ لاہور الاسلاميہ، انسٹیٹیوٹ آف پاليسى سٹڈيز اسلام آباد اور دعوة اكيڈمى بين الاقوامى اسلامى يونيورسٹى اسلام آبادكے باہمى اشتراك سے مدير الجامعہ حافظ عبدالرحمن مدنى كى زيرصدارت 28/جولائى 2005ء كو جامعہ كے كانفرنس ہال ميں ايك تربيتى وركشاپ كا انعقاد ہوا- جس كا مقصد يہ تها كہ مسلمانوں كى علمى ميراث كے امين مدارسِ دينيہ كے كردار كو بہتر بنايا جائے اور اس وقت جو كمزورياں نصابِ تعليم، طرقِ تدريس اور تربيت كے حوالہ سے مدارسِ دينيہ ميں موجود ہيں، ان كى نشاندہى كرتے ہوئے اس كا حل تجويز كيا جائے تاكہ مدارس سے فارغ التحصيل طلبہ دينى، سياسى اور معاشرتى ميدانوں ميں مزيد موٴثركردار ادا كرسكيں۔
 
اس وركشاپ ميں جامعہ اشرفيہ لاہور، دار العلوم اسلاميہ كامران بلاك، جامعہ مدنيہ كريم پارك، جامعہ لاہور الاسلاميہ، جامعہ الدعوة مريدكے، جامعہ نعیمیہ لاہور، منہاج القرآن لاہور، قرآن اكيڈمى اور شيعہ مكتب ِفكر كے جامعة المنتظر كے منتظمین اور سينئر اساتذہ نے شركت كى- مزيد برآں ڈاكٹر محمود الحسن عارف (صدر انسا ئيكلوپيڈيا آف اسلام، پنجاب يونيورسٹى) جناب ڈاكٹر راشد رندهاوا (امير جماعت المجاہدين)، جناب سليم منصور خالد (نائب مدير 'ترجمان القرآن')، ڈاكٹر محمد امين، ڈاكٹر حميد اللہ عبد القادر (پرو فيسر شعبہٴ اسلاميات پنجاب يونيورسٹى) پروفيسرمياں محمد اكرم، حافظ عبد العظیم اسد (مدير'دارالسلام' لاہور)اورجامعات كے مہتمم حضرات بهى شريك ہوئے نيز جامعہ ہذا كے اكثر عہديداران بهى وركشاپ ميں شامل تهے۔

پروگرام كا باقاعدہ آغاز جامعہ لاہور الاسلاميہ كے اُستاذ قارى عارف بشير كى تلاوتِ كلام مجید سے ہوا- اُنہوں نے پروگرام كے مناسب ِحال تلاوت كے لئے سورة التوبہ كى آيات (فَلَوْلَا نَفَرَ‌ مِن كُلِّ فِرْ‌قَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُ‌وا قَوْمَهُمْ إِذَا رَ‌جَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُ‌ونَ ﴿١٢٢...سورۃ التوبہ) كا انتخاب كيا، جس ميں دينى علوم كے حصول كى ترغيب اور حاملين كتاب و سنت كے اصل مشن كا تذكرہ كيا گيا ہے۔

30:9 بجے پروگرام كے سٹیج سيكرٹرى جناب راشد بخارى نے مدارسِ دينيہ كى خدمات اور اس كردار كا تذكرہ كرتے ہوئے ...جن كى بدولت آج مملكت ِخداداد ميں دين كى جھلك نظر آتى ہے ... پروگرام كے اغراض و مقاصد كو مختصراً بيان كيا۔

 اس كے بعدجناب خالد رحمن (ڈائريكٹر انسٹیٹیوٹ آف پاليسى سٹڈيز) سٹیج پر تشريف لائے-اُنہوں نے آغاز ميں، 1979ء سے قائم شدہ اپنے ادارے كا مختصر تعارف،مقاصد، مشن، بنيادى كردار، تحقیقى اور تعلیمى سرگرمياں، دينى مدارس پر سيمينارز اور دينى مدارس پر اپنى شائع كردہ كتب كى بعض تفصيلات پيش كيں- اپنے موضوع پر بات شروع كرنے سے پہلے اُنہوں نے وركشاپ كے شركا: مدارس كے منتظمین اور اساتذہ كو مدارس كى موجودہ صورتِ حال پر باہم تبادلہ خيالات اور اس كے متعلق تجاويز پيش كرنے كى دعوت دى۔

شركا نے ملتے جلتے خيالات و رجحانات كا اظہار كيا جن كا لب ِلباب يہ تهاكہ مدارسِ دينيہ نے نا گفتہ بہ حالات ميں بهى ہر ميدان ميں كارہاے نماياں انجام ديے ہيں ،ليكن دورِ حاضر كے بدلتے تقاضوں اور چیلنجز كا مقابلہ كرنے كے لئے مدارس كے كردار كو مزيد بہتر بنانے كى ضرورت ہے-اُنہوں نے ان ركاوٹوں كا بهى ذكر كيا جو مدارس كے موٴثر كردار ادا كرنے كے سامنے مانع ہيں ،مثلاً دينى نظام تعليم كے مدمقابل ايك ايسے نظامِ تعليم كو كهڑا كرديا گيا جو خالصتاً مادّى بنيادوں پر استوار ہے اور اسلامى علوم كا رشتہ جملہ معاشرت سے كاٹ ديا گيا- ايسے ہى نظرياتى مملكت پاكستان كے قيام كے باوجود حكومت نے دينى تعليم كى ذمہ دارى كو كبهى سنجيدگى سے نہيں ليا بلكہ اس كے عملى كردار كو ختم كرنے كى كوششيں كى جاتى رہى ہيں۔

خالد رحمن صاحب نے اپنے خطاب كا آغاز تعليمى نظام پر اہم كتب كى نشاندہى كے علاوہ بعض مدارس كى نماياں سرگرميوں كے تعارف سے كيا- اُنہوں نے شخصى و ادارتى نشوونما كے موضوع پر گفتگو كرتے ہوئے مختلف مثالوں اور تصاوير كى مدد سے ثابت كيا كہ انسان جس كى نشوونما كا عمل مسلسل جارى و سارى ہے، اس وقت تك كاميابى كى منزل تك نہيں پہنچ سكتا جب تك وہ اپنى منزل، ہدف اور اس تك پہنچنے كے لئے وقت كا تعين نہيں كرليتا- اُنہوں نے كہا كہ جب آدمى يہ سوچنا چهوڑ دے كہ ميں نے دس سال بعد كيا بننا ہے تو اس كى نشوونما كا عمل رُك جائے گا ليكن اگر منزل متعین ہو اور اس تك پہنچنے كے لئے وقت بهى متعین ہو تو آدمى اس كے حصول كے لئے اپنى صلاحیتیں صرف كرے گا اور ناكامى كااحساس اسے مضطرب اور بے چين كردے گا- اُنہوں نے ہر فرد كے لئے حياتِ مستقبل كا ايك چارٹ تشكيل دينا ضرورى قرا رديا كہ جس ميں منزل كے تعین كے ساتھ ساتھ اس كے لئے دركار وقت، راستہ ميں حائل ركاوٹوں اور ان كے حل اور وسائل كى فراہمى كا تعين پر كا فى غور و خوض كيا گيا ہو۔

اُنہوں نے معاشرتى اور سياسى خرابيوں كے ساتھ گزارا كرنے اور بے نيازى كے رويہ كى مذمت كرتے ہوئے مزاحمتى اور تخليقى رويہ كو مستحسن قرار ديا اور كہا كہ آج مغرب كى كاميابى اسى رويہ كى مرہونِ منت ہے جو مستقبل ميں پيش آمدہ خطرات كى بو سونگھ كر ان كى گردن مروڑتے يا ان كے مقابلے ميں كسى اور كو كهڑا كرديتے ہيں۔

اُنہوں نے كہا كہ دين كا تحفظ ہى تمام تر مقصود نہيں بلكہ يہ تحفظ ايك بڑے مقصد كے حصول كے لئے ہے اور وہ مقصد غلبہ اسلام ہے۔ روز بروز معاشرہ ميں برائى اور انتشار كے رجحانات ميں اضافہ ہميں غور وفكر پر مجبور كرتا ہے كہ دينى مدارس اپنے كردار ميں مزيد تاثير پيدا كريں- ہميں برائى كے بڑهتے ہوئے رجحان كو دشمن كى یلغار قرار دے كر اس پر مطمئن ہونے كى بجائے بہتر كردار كے لئے مضطرب، بے چين اور كوشاں ہوجانا چاہئے-اُنہوں نے واضح كيا كہ ہميں تصاوير كے تمام رُخ اور اس كے ہر پہلو كو پيش نگاہ ركهتے ہوئے اختلافات ميں وسيع نظرى پيدا كرنا چاہئے۔

اس ليكچر كا مركزى خيال 'زندگى كے اہداف كا تعين اور اس كے لئے نظام الاوقات ' اور 'دور انديشى كے ساتھ مستقبل كا جائزہ لے كر اس كے لئے موزوں حكمت ِعملى' وضع كرنا رہا۔

30:11بجے چائے كا وقفہ ہوا ،جس ميں شركا كى چائے اورمفرحات سے تواضع كى گئى-

 پروگرام كے دوسرے سيشن كا آغاز قارى احمد مياں تهانوى نائب مہتمم دار العلوم اسلاميہ كى تلاوتِ قرآن سے ہوا- اُنہوں نے سورة العلق كى ابتدائى آيات تلاوت فرمائيں-

 انٹرنيشنل اسلامك يونيورسٹى اسلام آبادكے شعبہٴ عربى كے پروفيسر حبيب الرحمن عاصم نے 'تعلیمى نفسیات' كے موضوع پر انتہائى موٴثر خطاب كيا۔

اُنہوں نے قرآن و سنت كى نصوص سے استدلال كرتے ہوئے دل و دماغ كو جسم انسانى اور تمام قوتوں كا مركز، فلاح وصلاح كا اہم ذريعہ، جسم كے ہر عمل كا مرہونِ منت، علم كا اہم ماخذ اور احساسات و خيالات كا منبع قرار ديا-اُنہوں نے ديگر اعضا كے برعكس دل و دماغ كو ہر قيد اور پابندى سے آزاد قرار ديتے كہا كہ اس ترقى يافتہ دور ميں بهى كوئى ايسا آلہ ايجاد نہيں ہوسكا جو دل و دماغ كے احساسات اور نفسیات كو ماپ سكے۔

اُنہوں نے خوف و جبراور اِكراہ كى بجائے محبت و شوق كو دل ودماغ كے مختلف احساسات و خيالات كو قابو كرنے كا اہم محرك قرار ديتے ہوئے واضح كيا كہ كامياب وہ استاد ہے جو طلبا كے دل ودماغ ميں علم كى لگن اور شوق پيدا كردے كيونكہ دنيا ميں جن لوگوں نے بهى كائنات كے لئے مفید علمى، تاريخى اورسائنسى كارہائے نماياں انجام ديے ہيں، ان كى زندگى ميں جبرواِكراہ كى بجائے، محبت و لگن كى داستانيں ہى بكهرى نظر آتى ہيں۔

اُنہو ں نے كہا كہ قرآن وسنت، فقہ، فلسفہ ، طب اور ديگر علوم كى ترقى، ايك ايك حديث كى خاطر سينكڑوں ميلوں كا سفر، حكومت كے جبركى بجائے لگن اور شوق كا ہى مرہونِ منت ہے- اس كے بجائے حكومتى جبر واكراہ كى بنياد پر بننے والى ديوارِ چين اور اہرامِ مصر سے سوائے سياحت اور معمولى آمدن كے دنيا كو كچھ فائدہ حاصل نہيں ہوا۔

اُنہوں نے شاگرد كے ساتھ محبت كے رويہ كو اسلاف كا شعار قرا رديتے ہوئے كہا كہ قرآن و سنت ميں علم، معلم اور متعلّم كى فضيلت كا مقصد بهى يہى ہے كہ معلم ميں سكھانے كا شوق اور متعلّم ميں سیكھنے كى لگن پيدا ہوجائے-

اس كے بعد اُنہوں نے 'اسلام ميں سزا كے تصور' كى وضاحت كرتے ہوئے كہا كہ سزا بذاتِ خود مقصود نہيں ہے بلكہ اس كامقصد طلبا كو تنبیہ اور غلطى كا احساس دلانا ہے - اُنہوں نے كہا كہ سزا ديتے ہوئے ايسا طريقہ اختيار نہ كيا جائے جو شاگر د ميں اُستاد اور مضمون كے خلاف نفرت پيدا كردے- اُنہوں نے قرآن وسنت كى رُو سے سزا كے درج ذيل آداب بيان كئے :
(1) چہرے پر نہ مارا جائے كہ يہ انسانيت كى توہين ہے-
(2) سزا دينے كے فوراً بعد طالب ِعلم كو كچھ پڑهانے كى بجائے اسے سوچنے كى مہلت ديں كہ اسے سزا كيوں ملى ہے ؟ تاكہ اس كے اندر سے نفرت كے جذبات ختم ہوجائيں-
(3) طالب علم كو بطورِ سزا كلاس سے نہ نكالا جائے-
(4) نفسیاتى سزا ميں بچے كو غربت اور باپ كے پيشہ كا طعنہ نہ ديا جائے- باپ كى اہانت جسمانى سزا كے مقابلہ ميں بچے كو زيادہ ردِعمل كا شكار بنا سكتى ہے-
(5) بچے كو گالى نہ دى جائے،ورنہ وہ دل ميں يا خالى كمرہ ميں اونچى آواز ميں اُستاد كو گالى دے گا- اُستاد ايك نمونہ اور كلاس كا بادشاہ ہوتا ہے اورطلبا اس كے طرزِ تكلم، بیٹھنے، اُٹھنے غرض ہر انداز كو اپنانے كى كوشش كرتے ہيں-
(6) حكمت كے ساتھ طلبہ كو كوتاہى پر توجہ دلائى جائے- اگر دو بچے باتيں كررہے ہوں تو اُنہيں يہ كہہ كر ندامت كا احساس دلائيں : ہميں بهى بتاؤ كہ تم كيا مفيد باتيں كررہے تهے؟

اس كے بعد اُنہوں نے سوالات كا جواب ديتے ہوئے امتحان ميں نقل كے رجحان كو كم كرنے كا علاج يہ بتاياكہ پرچہ تخليقى انداز كا ہو كہ محض رٹا كام نہ آسكے، نيز پرچہ نہ بالكل تفصيلات وتشريحات كا محتاج ہو اور نہ ہى كلى طورپر معروضى اور اشاراتى-

اُنہوں نے طلبا كے لئے جرمانہ كے طريقہ كو اُستاد كى عزت ميں كمى اور شاگردوں كى سبق سے غير حاضرى كا باعث قرا رديا-

نمازِ ظہر كے بعد شركا كے لئے پرتكلف ظہرانہ كا انتظام كيا گيا تها- جہاں سے واپسى كے بعد 2:00 بجے پروگرام كے تيسرے سيشن كا آغاز قارى حمزہ مدنى كى تلاوت ِكلام مجيد سے ہوا ۔

 بعد ازاںIPSكے ڈائريكٹر جناب خالد رحمن نے 'شخصى واداراتى نشوونما' كے موضوع پر اپنى گفتگو كو آگے بڑهاتے ہوئے ترقى اور نشوونما كے حصول ميں قوى اُميد كو اہم عنصر قرار ديا- اُنہوں نے صبح كے وقت فٹ پاتهوں پر بیٹھے ہوئے مزدوروں كى ايك تصوير كے تناظر ميں يہ واضح كيا كہ اُميد انسان كو اقدام پر اُبهارتى اور نا اُميدى انسان كو بے كارى اور گو مگو كى كیفیت ميں مبتلا كر ديتى ہے -اُنہوں نے جنگ كے ايك شعبہ' نفسیاتى جنگ 'كا حوالہ ديتے ہوئے بتايا كہ آج دشمن ہمارى نفسیات پر اثر انداز ہونے كى پاليسى پر عمل پيرا ہے- وہ ہمارى ايٹمى صلاحيت كو ہمارى غلطى اور ہمارى آبادى كو ہم پر بوجھ باور كروا رہا ہے اور ہمارے اپنوں نے بهى اسے اُميد افزا اور قابل فخر كارنامہ باور كروانے كى بجائے انہى كى زبان بولنا شروع كر دى ہے۔

اُنہوں نے چين،امريكہ، برازيل وغيرہ كثير آبادى والے ترقى يافتہ ممالك كا حوالہ ديتے ہوئے واضح كيا كہ ترقى اور آبادى ميں منفى تعلق تلاش كرنا غلط ہے-اُنہوں نے پاكستان كى كثرتِ آبادى اور اس ميں امريكہ اور جاپان وغيرہ ممالك كے مقابلے ميں نوجوان آبادى كے تناسب كا زيادہ ہونا، سمندرى بندرگارہوں اوردنيا كى دوسرى بلند ترين چوٹى 'كے ٹو'، چاروں موسموں كا وجود، ہر طرح كى زمين، ہر قسم كى فصل، پهر سب سے بڑھ كر خاندانى ادارہ كا مستحكم ہونا جيسے امتيازات كو پاكستان كى اہم خاصيات قرار ديتے ہوئے اس بات پر زور ديا كہ ہميں شہد كى مكهى كا كردار ادا كرتے ہوئے اپنے معاشرے ميں روشن پہلووٴں كو اُجاگر كر كے نوجوان نسل ميں اُميد كى كرنيں ر وشن كرنا چاہئيں- اُنہوں نے كہا كہ دشمن ترقى كے پيمانے تبديل كر كے ہميں احساسِ كمترى ميں مبتلا كرناچاہتا ہے تا كہ ہم مايوس ہو كر ہر معاملہ ميں ان كى طرف ديكهنے پر مجبور ہو جائيں۔

اُنہوں نے كہا كہ ہميں پروپيگنڈہ كا شكار ہونے كى بجائے دل ودماغ ميں وسعت پيدا كرنا ہوگى اور مغرب كے متعارف كردہ ترقى كے پيمانوں پر از سر نو غور كرنا ہوگا-اُنہوں نے واضح كيا كہ ہميں معاشرہ كو دونوں رخ دكهانے چاہئيں اور برائيوں كے پہلو بہ پہلو اچهائيوں كا ذكر بهى ہونا چاہيے تا كہ ہمارى نسل نا اُميد ہو كر معاشرہ كا عضو ِمعطل بننے كى بجائے پر اُميد ہو كر نئے عزم و حوصلہ كے ساتھ ميدانِ عمل ميں ا پنا كردار ادا كرنے كے قابل بن سكے۔

اس ليكچر كا مركزى موضوع 'اُميد افزا رجحانات كى تلاش اور تعميرى طرزِ فكر كى كوشش' رہا۔

 اس كے بعد پروفيسر حبيب الرحمن عاصم نے 'طرقِ تدريس' كے موضوع پر خطاب كرتے ہوئے معلم كے لئے ضرورى قرار ديا كہ
(1) وہ اپنے فن كاماہر ہو- اس كے پاس علم كا اتنا سرمايہ موجود هو كہ وہ طلبا كے سوالات كا تسلى بخش جواب دے سكے ،ورنہ اسے اس منصب ِ رسالت سے سبكدوش ہوجانا چاہئے-
(2) اُنہوں نے اپنے پنجاب يونيورسٹى كے ايك اُستاد جو دورانِ تدريس بهى جامعہ اشرفيہ اور جامعہ تقوية الاسلام، شيش محل روڈ ميں پڑهنے كے لئے جاتے تهے، كا حوالہ ديتے ہوئے ايك مدرّس كے لئے سیكھنے كے عمل اور سبق كے مطالعہ كو مسلسل جارى ركهنے پر زور ديا اور كہا كہ سیكھنے كا عمل درحقيقت طالب ِعلمى كے بعد ہى شروع ہوتا ہے- مشہور مقولے الحكمة ضالة المؤمن يأخذ ممّن سمعها ولايبالي من أي فيه اور حضرت على كے قول :"تم يہ مت ديكهو كہ كون كہہ رہا ہے، ديكهو كہ وہ كيا كہہ رہا ہے؟" پيش كركے انہوں نے توجہ دلائى كہ كسى بهى صاحب ِعلم سے استفادہ كرنے ميں كوئى عار محسوس نہيں كرنا چاہيے-
(3) استاد كو چاہئے كہ طالب ِعلم كى ذہنى صلاحيت كو ملحوظ ركهتے ہوئے بات كرے-
(4) درجہ بندى، تدريج اور ارتقا كا اُصول پيش نظر ركها جائے- ايسے اُصول و قواعد نہ پڑهائے جائيں جن كا اس وقت استعمال نہ ہورہا ہو،مثلاابتدائى كلاس كا طالب علم جب صرف صغير اور كبيرپڑھتا ہے تو پريشان ہوجاتا ہے- نيز طالب ِعلم كو آسان سے مشكل كى طرف لے جايا جائے مثلاً سبق كا آغاز ضَرَبَ سے كرنا ايك تو نفسیاتى لحاظ سے پريشان كن ہے دوسرا لفظ 'ض' مخرج كے اعتبار سے بهى مشكل ہے۔
(5) تعليم كے لئے سننے كا فطرى طريقہ اختيار كيا جائے-
(6) غلطى پر حوصلہ شكنى كى بجائے كوشش كى حوصلہ افزائى كى جائے اور صحيح راستہ بتايا جائے-
(7) "ألزموا أولادكم"كے تحت اُستاد شاگرد كا باہمى تعلق اور وابستگى استوار رہنى چاہئے-
(8) طالب ِعلم كو سوال كرنے پر اُبهارا جائے اور متعلّم بحیثیت ِمرشد نمونہ جات كے ذريعے خود سوال تخلیق كرے اور اُستاد كا سوال كرنے سے روكنا دراصل اپنى جہالت كا اعلان ہے۔
(9) طالب علم اگر سیكھنے كى غرض سے دس بار بهى سوال كرے تو استاد كو جواب دينا چاہئے كيونكہ 'تكرار 'تعليم و تعلّم كا بنيادى عنصر ہے-
(10) طالب ِعلم كو بار بار حصول علم بالخصوص جو مضمون آپ پڑها رہے ہيں ، اس كى ضرورت اور افاديت كا احساس دلايا جائے-
(11) حفظ وغيرہ جيسے تجديد ِمعلومات كے تمام طريقے اختيار كئے جائيں-

 اس كے بعد جناب خالد رحمن نے شركا كو پروگرام كے جائزہ كے لئے اپنے خيالات پيش كرنے كى دعوت دى-

 تقريب ميں شريك مولانا شفيع طاہر نے خاص طور پر پروفيسر حبيب الرحمن عاصم كى تقارير كو انتہائى مفيد اور موٴثر قرار ديتے ہوئے ملٹى ميڈيا پروجیكٹرسے لیكچر كے دوران خواتين كى تصاوير كى پيشكش كو ہدفِ تنقيد ٹھہرايا-اُنہوں نے كہا كہ ايسے پروگرام ميں ماحول كے پيش نظر مثاليں دى جائيں تو زيادہ فائدہ حاصل ہوسكتا ہے- نيز سامعين كى اعلىٰ ذ ہنى صلاحيت كو سامنے ركهتے ہوئے گفتگو ميں ايجاز واختصار اور اشاروں پر اكتفا كرنا بهى كافى ہوتا-

 مہمانانِ گرامى ميں سے پروفيسر ڈاكٹر حميد اللہ عبد القادر نے پروگرام كو مجموعى اعتبار سے نہايت موٴثر اور حوصلہ افزا قرار ديتے ہوئے جناب خالد رحمن كے ليكچر كو سراہااور اس بات كى تائيد كى كہ ﴿لاَتقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ﴾ اور(الإيمان بين الخوف والرجاء)كے تحت قوى اُميد واقعى انسانى ترقى اور نشوونما ميں اہم كردار ادا كرتى ہے - البتہ اُنہوں نے كہا كہ ان كے تمام خيالات سے اتفاق لازمى نہيں- اُنہوں نے 'طرقِ تدريس اور تعليمى نفسیات' كے موضوع پر پروفيسر عاصم كے ليكچر كو بهى نہايت موٴثر قرار ديا۔

 مولانا عبدالسلام ملتانى نے پروگرام كو مجموعى اعتبارسے مفید اورمعلوماتى قرار ديتے ہوئے كہا كہ ايسى وركشاپ یقیناافراد كى تربيت ميں اہم كردار ادا كرتى ہيں- اُنہوں نے كہا كہ اس نوعيت كى وركشاپوں ميں مقررين كو مناسب ِحال مثاليں پيش كرنا چاہئيں اور ہر دو احتمال ركهنے والے الفاظ كى بجائے صريح اور واضح الفاظ كو خطاب ميں ترجيح دينا چاہئے-

 مرزا عمران حيدر نے ايسے پروگرامز كے انعقاد كو حوصلہ افزا قرار ديتے ہوئے اسے باہمى افہام وتفہیم كى بہترين صورت قرار ديا- اُنہوں نے مدارس اوريونيورسٹيوں كے ماحول اور نصاب ميں فرق كى وضاحت كرتے ہوئے ان كے درميان اس نوعیت كى وركشاپوں كو خوب سراہا-

اس دوران شركاميں ايك جائزہ فارم تقسيم كيا گيا جس ميں شركا كے تعلیمى كوائف اور پروگرام كے بارے ميں ان كے تاثرات اور تجاويز كى بابت پوچها گيا تها - شركا نے اپنے اپنے ذوق كے مطابق اسے پر كيا-

اس موقع پر انسٹى ٹيوٹ آف پاليسى سٹڈيز كى طرف سے تمام مدارس كے نمائندگان كو دينى مدارس كے بارے ميں اہم كتابوں كے سيٹ تحفت ًديے گئے جبكہ جامعہ لاہور الاسلاميہ كى طرف سے ماہنامہ 'محدث' كے ايسے شمارہ جات جن ميں دينى تعليم اور مدارس پر مضامين شائع كئے گئے تهے، بهى شركا ميں تقسيم كيے گئے۔

 آخر ميں صدرِ مجلس مولانا حافظ عبدالرحمن مدنى كودعوتِ خطاب دى گئى- اُنہوں نے ايسى وركشاپوں كو ذ ہنى اور فكرى تربيت كے لئے نہايت اہم اور ان پروگراموں كے منتظمین كى كوششوں كو قابل قدر قرا رديتے ہوئے اس طرح باہم مل بیٹھ كر افہام وتفہیم اور اشتراكِ عمل كو آگے بڑهانے پر زور ديا۔

اُنہوں نے دينى مدارس پر زور ديا كہ وہ اپنے اپنے دائروں ميں مطمئن ہونے اور انفراديت ميں مگن رہنے كى بجائے پورى اُمت كااحساس كرتے ہوئے قومى دهارے ميں اپنا كردار ادا كريں كيونكہ اس وقت اصل كشمكش دين و لادينيت اور مغربى تہذيب كے درميان ہے- اُنہوں نے ماضى كى روايات پر جمود اور بعض شخصيات كى آرا پر مضبوطى سے جم جانے كو اُمت ِمسلمہ كے مسائل كے حل ميں اہم ركاوٹ قرار ديتے ہوئے ماضى سے زيادہ حال اور مستقبل كو اہميت دينے پر زور ديا- شام كى چائے پر يہ پروگرام اپنے اختتام كو پہنچا۔