نام و نسب

ابو عبیدقاسمؒ دوسری صدی ہجری کے معروف فقیہ ، نحوی اور عالم قرآن تھے ۔ آپ کا نام قاسم، کنیت ابو عبید اور باپ کا نام سلام تھا۔ ابن ندیم نے اپنی معروف تصنیف الفہرست میں اتنا اور اضافہ کیا ہے:«قیل سلام بن مسکین بن زید»

ولادت

ابو عبید ؒ قاسم ۱۵۴ ھ؍ ۷۷۰ء میں خراسان کے شہر ہرات میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد رومی النسل اور ہرات کے کسی شخص کے غلام تھے ۔ قبیلہ اَزد سے ان کا تعلق تھا۔ عرصۂ دراز تک بغداد میں مقیم رہے۔ اسی بنا پر اَزدی اور بغدادی کی نسبتوں سے مشہور ہیں۔

تعلیم و تربیت

ابو عبیدؒ نے علم کی تلاش و جستجو میں متعدد مقامات کے سفر کئے۔ ابتدائی عمر ہی میں اُنہوں نے کوفہ اور بصرہ کا سفر کیا تاکہ خلافت ِاسلامیہ کے ابتدائی دور کے علما کی زیر نگرانی اَدب، فقہ ، حدیث اور دینی علوم کی تحصیل کریں۔ علامہ ابن سعد ؒکا بیان ہے:

''طلب للحدیث والفقه''''یعنی حدیث و فقہ کی تلاش و جستجو کی۔''

آپ نے علم کے حصول میں ابن معین کے ہمراہ مصر کا سفر اختیار کیا، طبقات ابن سعد میں ان کے بارے میں مکہ اور مدینہ جانے کا ذکر بھی ملتا ہے ۔

اساتذہ و شیوخ

ابو عبید ؒنے نحو، لغت، قراء ت اور حدیث کی تکمیل جن ائمہ فن اور اکابر فضلا سے کی تھی، ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں:

ابن عربی، ؒابوبکر ؒبن عیاش، ابوزکریا کلابیؒ، ابو زید انصاریؒ، ابو عمرو شیبانیؒ، اسماعیل بن جعفرؒ، اصمعیؒ، جریر بن عبدالحمیدؒ، سفیان بن عینیہؒ، شجاع بن نصرؒ، صفوان بن عیسیٰؒ، عبدالرحمن بن مہدیؒ، عبداللہ بن مبارکؒ، یحییٰ بن سعید قطانؒ، یحییٰ بن صالح اور یزید بن ہارون ؒ وغیرہ ۔ اس زمانہ میں کوفہ اور بصریٰ نحو و لغت کے مرکز تھے۔ ابو عبید ؒ کو دونوں مراکز کے ائمہ فن سے کسب فیض کا موقع ملا۔

تلامذہ

ابو عبیدالقاسمؒ جیسے فاضل اور یکتاے زمانہ سے متعدد طلبا نے استفادہ کیا۔ مؤرخین نے ان کے کچھ شاگردوں کے نام بیان کیے ہیں:

ابوبکر بن ابی الدنیا، احمد بن یحییٰ بلاذری، احمد بن یوسف تغلبی، حسن بن مکرم، عباس دوری، عباس عنبری عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، علی بن عبدالعزیز بغوی، محمد بن اسحق صاغانی، محمد بن یحییٰ مروزی اور نصر بن داؤد۔

روایات

حافظ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں کہ ان کی روایتیں کتب ِحدیث میں میری نظر سے نہیں گزریں، البتہ ان کے اَقوال اکثر کتابوں میں نقل کئے گئے ہیں۔

امام بخاری ؒنے 'کتاب الادب' اور بعض دوسرے اَبواب و کتب میں، امام ابو داؤدؒ نے کتاب الزکوٰۃ میں اور امام ترمذی ؒنے قراء ت و نحو کے متعدد اَبواب میں ان کے اقوال نقل کئے ہیں۔

دینی علوم میں مہارت

ابو عبیدقاسمؒ مختلف علوم و فنون کے جامع اور گوناگوں اَوصاف اور کمالات سے متصف تھے۔ احمد ؒبن کامل فرماتے ہیں :

''ابوعبیدؒ اپنے زمانہ میں ہر فن کے امام ، جملہ اسلامی علوم: قراء ت، تفسیر قرآن، فقہ ، حدیث اور عربیت کے ماہر و متبحر عالم اور روایات و اَخبار کے صحیح ناقل و راوی کی حیثیت سے مشہور و ممتاز تھے۔ ''

عبداللہ بن جعفر کا بیان ہے کہ

'' ابو عبداللہ ؒبغداد کے ان مشہور علماے اسلام میں تھے جو کوفیوں کے نحوی مذہب کے قائل اور کوفیوں اور بصریوں سے نحو، لغت اور غریب الفاظ کے راوی،جملہ علوم میں یکتا و جامع، قراء ت کے عالم اور علم و اَدب کے تمام فنون میں کثیر التصانیف تھے۔ ''

علامہ ابن کثیر ؒ مختلف علوم و فنون میں ان کی مہارت کا ان الفاظ میں تذکرہ کرتے ہیں:

«أحد أئمة اللغة والفقه والحدیث والقرآن والأخبار وأیام الناس»

''وہ لغت ، فقہ ، حدیث، قرآن اور اخبار و وقائع کے ماہر اور ائمہ فن میں تھے۔''

علامہ موصوف میں تلاش و تحقیق کا خوب ذوق پایا جاتا تھا۔ اُنہوں نے اپنی کتاب 'غریب الحدیث ' کی تکمیل میں۴۰سال صرف کر دئیے۔ علمی تحقیق کے سلسلے میں اُنہیں اپنے معاصرین بلکہ اپنے سے کم تر درجہ کے لوگوں سے بھی استفادہ میں کوئی عار نہیں تھا۔

ذیل میں ان کے علمی کمالات کا مختصر تعارف پیش کیا جاتا ہے :

1. قراء ت و تفسیر

ابو عبید قاسمؒ قرآنِ مجید اور اس کے متعلقہ علوم پر دسترس رکھتے تھے اور فن قراء ت میں تو وہ امامِ وقت تھے۔ ان کی معروف تصنیف 'کتاب القراء ت ' کا ذکر کرتے ہوئے صاحب کشف الظنون نے لکھا ہے کہ

'' لوگوں نے ابو عبیدؒ کو ممتاز قاری قرار دیا ہے۔ ''

بعض مؤرخین نے ان کو أحد أئمۃ القرآن کے نام سے یاد کیا ہے ۔

2. حدیث

ابو عبید ؒ کو جن علوم سے خاص تعلق اور اشتغال تھا، ان میں ایک فن حدیث بھی ہے۔ طلب حدیث میں موصوف کے شوق و دلچسپی کا مؤرخین اور علماے سیرت نے خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا ہے ۔ اصحابِ فن نے المُحدِّث اور عالم بالحدیث کے الفاظ سے ان کا تذکرہ کیا ہے ۔ فن حدیث میں اُنہوں نے کئی کتابیں تصنیف کیں جو متاخرین علما کی توجہ کا مرکز رہیں۔

ابو عبیدؒ حدیثوں کے حافظ اور اس کی دقیق علتوں سے پوری طرح باخبر تھے ۔ امام ابو داؤدؒ نے اُنہیں ثقہ و مامون، دار قطنی، یحییٰ بن معین اور ابن ناصر الدین نے ثقہ اور حافظ، ابن حجر نے ثقہ اور فاضل قرار دیا ہے ۔

3.  فقہ

علامہ ابو عبید ؒ کا خاص فن فقہ ہے، اس موضوع پر ان کی متعدد تصانیف ہیں۔خطیب بغدادیؒ کہتے ہیں کہ فقہ میں ابو عبید ؒ کی نظر بڑی دقیق اور راسخ تھی۔ علامہ ذہبیؒ نے اُنہیں فقیہ و مجتہد اور عارف بالفقہ کے لقب سے موسوم کیا ہے ۔

4.  ادب و عربیت

ابو عبید قاسمؒ کو سب سے زیادہ لگائو ادب، لغت، نحو اور عربیت سے تھا۔ ان فنون میں ان کی کئی بلند پایہ کتابیں ہیں۔ علامہ ابن سعد ؒنے ان کو ادیب ، صاحب ِنحو و عربیت لکھا ہے ۔

علمی مقام و مرتبہ

محدث ابو عبید ؒ قاسم کے علم و فضل کے متعلق بے شمار اَقوال کتابوں میں مذکور ہیں۔ ان کے اساتذہ، تلامذہ، معاصرین اور سوانح نگار سب ان کے علمی کمالات کے مداح و معترف ہیں۔ اسحٰق ؒبن راہویہ فرماتے ہیں کہ

''ابو عبید ؒمجھ سے اور امام احمد ؒو امام شافعیؒ سے زیادہ صاحب ِعلم اور علم و ادب اور جامعیت و کمال میں ہم سب سے زیادہ ممتاز و فائق تھے ۔ ہم لوگ تو ان کے محتاج ہیں مگر وہ ہم سے مستغنی ہیں۔' '

جبکہ امام احمد ؒ فرماتے ہیں :

'' وہ ہمارے شیخ اور ان بزرگوں میں تھے جن کی خیر و برکت میں برابر اضافہ ہوتا ہے۔ ''

ابن کثیر ؒ نے أحد أئمة الدنیا، حافظ ابن حجر ؒنے الإمام المشهور، امام ذہبی ؒنے العلامة العالم اور الإمام البحر جیسے اَلقاب کے ساتھ ان کا تذکرہ کیا ہے ۔

فقہی مسلک

ابو عبیدؒ خود فقیہ اور مجتہد تھے اور اپنے دور کے مذاہب ِفقہ میں کسی مذہب کے مقلد نہ تھے ۔ البتہ امام ابو حنیفہ ؒکے مقابلے میں امام مالک ؒ اور امام شافعیؒ کے مذہب سے زیادہ قریب تھے ۔ چنانچہ اپنی کتابوں میں ان بزرگوں کے مسالک کے شواہد، احادیث و روایات سے ان کی تطبیق اور نحوی و لغوی استدلال سے ان کو قوی ثابت کیا ہے جس سے ان مذاہب کی جانب ان کے رجحان کا پتہ چلتا ہے ۔

لیکن درحقیقت وہ کسی مسلک کے پابند نہ تھے،البتہ صاحب ِفقہ اور مجتہد ہونے کے باوجود امام مالکؒ اور امام شافعیؒ سے علمی وفقہی طور پر زیادہ قربت رکھتے تھے ۔

تصانیف

ابو عبید قاسمؒ علمی کمالات کے ساتھ مسلمہ مصنف اور اہل قلم بھی تھے۔ علامہ ابن کثیر ؒلکھتے ہیں کہ

'' ان کی تصانیف لوگوں میں مشہور اور مقبول تھیں۔''

جاحظ جیسے بلند پایہ ادیب و انشا پرداز کو بھی ان کی تصانیف کی خوبیوں کا اعتراف ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ

«لم یکتب الناس أصح من کتبه ولا أکثر فائدة»

'' ان سے زیادہ صحیح، عمدہ اور مفید کتابیں لوگوں نے نہیں لکھیں۔''

موصوف نے مختلف فنون پر کتابیں لکھیں۔ مؤرخین اور علماے سیر نے ان کو کثیر التصانیف اور صاحب مصنفاتِ کثیرہ لکھا ہے ۔ ابن ندیم نے ان کی بیس کتابوں کے نام لکھے ہیں اور یہ بھی لکھا ہے کہ ان کے علاوہ بھی فقہ میں متعدد کتابیں اُنہوں نے لکھیں۔

کتب ِفقہ

ذیل میں ان کی بعض کتابوں کا مختصر تذکرہ کیا جاتا ہے :

1. کتاب الاحداث     2. کتاب الحیض

3.  کتاب الحجر والتسلیم       4.کتاب أدب القاضی

5.کتاب الناسخ و المنسوخ        6. کتاب الأیمان والنذور

کتب ِقراء ت و قرآن

1. کتاب فضائل القرآن         2.کتاب المقصور والممدود

3.کتاب القراء ت        4.کتاب معانی القرآن

کتب ِحدیث

1. کتاب الطہارۃ یا کتاب الطھور       2.غریب الحدیث

کتب انساب ، شعر و نحو

1.کتاب النسب       2. کتاب الشعراء

3.کتاب المذکر والمؤنث

امام موصوف کی ایک بلند پایہ تصنیف ' کتاب الاموال ' ہے، یہ چھپ چکی ہے ۔ اور بہت سے اَجزا و اَبواب پر مشتمل ہے ۔ یہ کتاب اسلامی حکومتوں کے مالیاتی نظام سے متعلق تمام اُمور و مسائل پر جامع و حاوی ہے ۔ حدیث کے علاوہ فقہی اور اجتہادی حیثیت سے بھی اس کتاب کو معتبر سمجھا جاتا ہے۔

خطیب بغداد ی کا بیان ہے کہ'' یہ فقہ کی بہترین کتاب ہے۔''

بعض اصحابِ سیر کے نزدیک ابو عبید قاسمؒ کی تصنیفات میں سب سے اہم اور بے نظیر کتاب غریب المصنّف یا المصنَّف الغریب ہے، اس میں اُنہوں نے پہلے انسان، پھر عرش اور اس کے بعد گھوڑوں اور اونٹوں اور دوسرے اَنواع و صفات کی خلقت کا یکے بعد دیگرے تذکرہ کیا ہے ۔ م

اس کتاب کو مصنف خود بھی بہت پسند کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ میرے نزدیک دس ہزار دینار سے بہتر ہے ۔ن

وفات

معتصم باللہ کے عہد ِخلافت میں ۲۲۳ ھ میں مکہ معظمہ میں ۷۳ سال کی عمر میں انتقال کیا۔