1. علم التوحید ایک 'مرکب ِ اضافی' ہے۔ علم کے دو معانی ہیں :

(i) الاعتقاد الجازم المطابق للواقع عن دلیل

''ایسا پختہ اعتقاد جو حقیقت حال کے مطابق اور مبنی بر دلیل ہو۔''

(ii) إدراك الشيء علی حقیقته

''کسی شے کا مبنی بر حقیقت اِدراک''

(iii) إدراکه کما ھو علیه مثلاً: فاعلم أنه لا إله إلا اﷲ

''کسی امر کا ایسا ادِراک جیسا کہ درحقیقت وہ ہے۔'' جیسا کہ اللہ کی وحدانیت کا علم

چنانچہ ہرمسلمان کاعقیدہ ہے کہ اللہ ایک ہے اور یہ عقیدہ پختہ بھی ہے جو نفسِ امر کے موافق بھی ہے۔ کیونکہ خارج میں اللہ ایک ہی ہے، زیادہ نہیں اوریہ عقیدہ دلیل کی بنیاد پربھی ہے جس کے متعدد عقلی و نقلی دلائل موجود ہیں۔

جو عقیدہ پختہ ہو، لیکن نفسِ امر کے مخالف ہو،وہ عقیدہ فاسد ہے جیسے عیسائیوں کاعقیدۂ تثلیث۔یہ عقیدہ عیسائیوں کاپختہ عقیدہ توہے، لیکن یہ نفسِ امر کے مطابق نہیں،کیونکہ الٰہ 'مُحدَث' (بعد میں وجود میں آنے والا) اور ' محتاج' نہیں ہوسکتا جبکہ عیسائی عیسیٰ علیہ السلام کو الٰہ یا الٰہ کابیٹا کہتے ہیں حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام 'محدث' تھے کہ ان کاوجود پہلے نہیں تھا، بعد میں آیا۔ اسی طرح وہ محتاج بھی تھے چنانچہ ارشادِ باری ہے: ﴿مَا المَسيحُ ابنُ مَر‌يَمَ إِلّا رَ‌سولٌ قَد خَلَت مِن قَبلِهِ الرُّ‌سُلُ وَأُمُّهُ صِدّيقَةٌ ۖ كانا يَأكُلانِ الطَّعامَ...٧٥ ﴾... سورة المائدة"

''مسیح بن مریم صرف ایک رسول ہے اس سے پہلے بھی بہت سے رسول ہو چکے ہیں اور اس کی والدہ نہایت سچی عورت تھیں دونوں (ماں بیٹا) کھانا کھانے والے تھے،لہٰذا عقیدۂ تثلیث عیسائیوں کے ہاں اگرچہ پختہ عقیدہ ہے، لیکن امرِ واقع کے خلاف ہونے کی وجہ سے نہایت باطل اور فاسد عقیدہ ہے۔''

2. غلبہ ٔ ظن کوبھی علم کہتے ہیں جیسے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿فَإِن عَلِمتُموهُنَّ مُؤمِنـٰتٍ فَلا تَر‌جِعوهُنَّ إِلَى الكُفّارِ‌...١٠ ﴾... سورة الممتحنة

یہاں کسی عورت کے مؤمن ہونے کے متعلق غلبۂ ظن توہوسکتا ہے، علم یقینی نہیں،کیونکہ ایمان کا تعلق دل سے ہے اور دل کی بات اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جان سکتا۔ گویا جس طرح 'علم یقین' حجت بنتا ہے اور معتبر ہوتا ہے، اسی طرح شرعی احکام میں غلبۂ ظن بھی معتبر ہوتاہے جیساکہ مذکورہ بالا آیت اس پر دلالت کرتی ہے۔

الغرض اعتقادِ جازم اور غلبۂ ظن دونوں شریعت میں حجت ہیں۔

توحید:واحد کے ہم معنی ہے یعنی اللہ کو ایک ماننا اورکسی کو اس کا شریک نہ بنانا۔

علم التوحید: مذکورہ بالا تفصیلات کے پیش نظر اس کی تعریف یوں ہوئی:

«ھو إثبات ذات اﷲ سبحانه وتعالیٰ مع نفي مشابهتها للذوات وعدم تعطیلها عن الصفات ووجوب إفرادھا بالعبادات»

تعریف میں شامل ہرنکتے کی تفصیل حسب ِذیل ہے:

اثبات ذات اﷲ: یعنی وجودِ باری تعالیٰ کا اقرار کرنا۔

نفي مشابہتہا للذوات:یعنی اللہ خالق ہے باقی سب مخلوقات،اور خالق مخلوق کے مشابہ نہیں ہوسکتا۔

وعدم تعطیلہا عن الصفات:صفات کو اسی طرح ماننا جیسے قرآن و سنت میں وارد ہیں اور اللہ تعالیٰ کی صفات کی نفی سے بچنا۔

ووجوب إفرادھا بالعبادات:کسی بھی قسم کی عبادت خواہ وہ قولی ہو جیسے دعا، خواہ بدنی ہو جیسے کسی کے لیے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوناخواہ مالی عبادات مثلاً نذرو نیاز، ان کو اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک کے لئے ہی خاص ماننا

انسان سب سے پہلے توحید کامکلف ہے۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ، جہاد کی باری بعدمیں آتی ہے۔ چنانچہ سب سے پہلے عقیدہ کو درست کرنا ضروری ہے۔لہٰذا مشرک کو نماز سے محض ٹکریں مارنے کے سواکچھ نہیں ملتا۔اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے ۲۳ سال میں سے ۱۳ سال عقیدے کی درستگی پر لگائے اور باقی سارا دین مدینہ منورہ میں ۱۰سال میںپورا ہوگیا۔

چار شرطوں کے پائے جانے سے انسان مکلف بنتا ہے:

1. عقل

2.  بلوغت:اور بلوغت کا علم مندرجہ ذیل چیزوں سے حاصل ہوتا ہے،احتلام،عمر اور زیر ناف بالوں کا اگنا،اسی طرح عورت کے لیے حیض آنا۔

3. بلوغِ دعوت یعنی دعوتِ توحید کا پہنچنا

4.  سلامة إحدی الحاستین یعنی کان اور آنکھوں میں سے کسی ایک کے صحیح اور کار آمد ہونے سے بھی انسان توحید کا مکلف بن جاتا ہے۔

ان شروط کے پائے جانے سے انسان علم التوحیدکامکلف بن جاتاہے۔

علم توحید کے دیگر نام

اس علم کو 'عقیدہ'،' علم اُصول الدین' یا 'الفقه الأکبر'بھی کہتے ہیں۔

اس علم کی فضیلت

(i) موضوع کے اعتبار سے یہ علم اَفضل العلوم ہے،کیونکہ اس کا موضوع اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات،اسمائ، اُلوہیت اور عبودیت وغیرہ ہے۔

(ii) غرض وغایت کے اعتبار سے بھی یہ علم سب سے افضل علم ہے،کیونکہ علم التوحید کی غرض وغایت یہ ہے :

«'معرفة الحق بالأدلة القطعیة والفوز بالسعادة الأبدیة»

''یعنی حق تعالیٰ کو یقینی اور قطعی دلائل سے پہچاننا اور آخرت کی دائمی سعادت حاصل کرنا۔''

بندوںپر سب سے پہلا فریضہ عقیدۂ توحید کی معرفت ہے جیسا کہ مسند احمد، سنن دارمی، موطأ،بخاری،مسلم، نسائی،ترمذی وغیرہ میں مروی ہے کہ جب معاذ ؓکونبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کاگورنر بناکربھیجا تو فرمایا:

« فلیکن أوّل ماتدعوھم إلیه شهادة أن لاإله إلا اﷲ وأني رسول اﷲ فإن ھم أجابوا لذلك فقل لهم: إن اﷲ افترض علیهم خمس صلوات في الیوم واللیلة...»

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوتِ توحید کو مقدم رکھنے کا حکم اس کی اَفضلیت پردالّ ہے۔

(iv) جتنے بھی رسول آئے، جتنی بھی آسمانی کتابیں ہیں، سب کااصل مقصد توحیدکوقائم کرنا ہے۔ کیونکہ کتاب اللہ کی تمام نصوص پانچ مضامین سے خارج نہیںاور ان پانچوں کاتعلق توحید سے ہے۔ وہ پانچ چیزیںدرج ذیل ہیں:

(ا)بعض آیات و اَحادیث اللہ تعالیٰ کی ذات اور اَسماء و صفات کو بیان کرتی ہیں اور یہ توحید نظری ہے۔

(ب) بعض نصوص اللہ کی عبادت اور اہمیت کو بیان کرتی ہیں یعنی عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی ہونی چاہئے اور یہ توحید ِعملی ہے۔

(ج) بعض نصوص اَوامر و نواہی پرمشتمل ہیں مثلاً أقیموالصلوٰة، اٰتوا الزکوٰة،لاتقربوا الزنا وغیرہ۔یہ لوازمِ توحید اور مقتضیاتِ توحید ہیں یعنی جب تم توحید باری تعالیٰ کو مانتے ہو تو اللہ تعالیٰ کے اَوامر و نواہی کو بھی مانو۔

(د) بعض نصوص جنت اور اس کی نعمتوں کا ذکرکرتی ہیں۔اس کا تعلق بھی توحید سے ہے، کیونکہ جنت میںصرف توحید والے ہی جائیں گے مشرک تو جنت میں جائے گا نہیں۔ جیسا کہ قرآنِ کریم میں ہے:

﴿نَّهُ مَن يُشرِ‌ك بِاللَّهِ فَقَد حَرَّ‌مَ اللَّهُ عَلَيهِ الجَنَّةَ...٧٢ ﴾... سورة المائدة

'' یقین مانو کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے جنت کو حرام کر دیا ہے۔''

(ھ) بعض نصوص میں جہنم اور دیگر سزاؤں کا ذکر ہے۔ ان نصوص کا تعلق بھی توحید سے ہے، کیونکہ یہ سزائیں توحید سے انحراف کرنے والے مشرکوں کے لیے ہیں۔

اس علم کا حکم

اس کی دو صورتیں ہیں :

1.  اس کو علیٰ الاجمال سیکھنا سب مسلمانوں پرفرض ہے یعنی ہرشخص کو علم ہوناچاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات موجود ہے اور وہ ہر چیز کا خالق ومالک ہے اور ہر چیز میںتصرف کرنا اللہ ہی کا حق ہے اور یہ بھی علم ہونا چاہئے کہ عبادت کے لائق صرف وہی ہے، مدبر بھی وہی ہے، رازق وداتا بھی وہی ہے اور اللہ تعالیٰ ہر کمال کے ساتھ موصوف اور ہر عیب اور نقص سے پاک ہے اور رسولوں کے بارے میں یہ علم ہونا چاہئے کہ وہ اللہ کے فرستادہ ہیں اور وہ اپنی دعوت میں سچے ہیں جو اپنی خواہش سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی وحی سے کلام کرتے ہیں۔

2.  تفصیلی طور پر اس علم کو سیکھنا فرضِ کفایہ ہے۔ یعنی مسلمانوں میں سے اگر اتنے لوگ اس علم کو سیکھ لیں کہ مسلم معاشرے کی ضرورت پوری ہوجائے تو یہ فرض دیگر مسلمانوں سے ساقط ہوجائے گا۔

توحیدکی اَقسام

توحید کی بنیادی طور پر دوقسمیں ہیں :

1.  توحید في الإثبات والمعرفة

2.  توحید في القصد والطلب

1.  توحید في الأثبات والمعرفة (توحید ِنظری)

اس کی آگے دو قسمیں ہیں:

(i) توحید ِربوبیت (ii)توحید ِاسماء وصفات

2.  توحید في القصد والطلب (توحید ِعملی وطلبی)

توحید ِاُلوہیت اور توحید في العبادة بھی اس کے نام ہیں۔

الغرض توحید کی کل تین قسمیں ہوگئی:

1. توحید ِ ربوبیت    2. توحید ِاسماء و صفات    3.توحید ِاُلوہیت

1. توحید ِربوبیت

«تعریف: الإعتقاد الجازم بوجود اﷲ سبحانه وتعالیٰ وأنه خالق کل شيء ومدبرہ والمتصرف فیه»

''یعنی اس بات کا پختہ یقین رکھنا کہ اللہ تعالیٰ موجود اور وہ ہر چیز کا خالق ومالک اور تدبیر کرنے والااور ہر چیز میں تصرف کرنے والا ہے۔''

منقولہ دلائل سے قطع نظر اللہ تعالیٰ کے وجود کے عقلی دلائل بے شمار ہیں :

1.  اَربوں انسانوں کی شکلوں کا مختلف ہونا اللہ تعالیٰ کے وجود پردلیل ہے۔

2.  مختلف بولیاں اور لغات اللہ تعالیٰ کے وجود پر دال ہیں کہ بچہ بغیر کسی مکتب میں پڑھنے کے اپنی مادری زبان سیکھ جاتا ہے۔

3. جانوروں کا دودھ اور خون آپس میں نہیں ملتا۔ یہ معمل الهي (اللہ کا کارخانہ)ہے۔

4.  بے شمار قسم کے پھل اور درخت پودے وغیرہ سب ایک ہی مٹی اور پانی سے پیدا ہوتے ہیں، لیکن ذائقے اور شکلیں مختلف ہیں:«وفي کل شيء له أیة تدل علی أنه واحد»

''ہر چیز اللہ تعالیٰ کی توحید پر دلالت کرتی ہے۔'' (مدارج السالکین از ابن القیم:۱؍۴۰۷)

5.  مختلف جانوروں کے گوشت کے ذائقے الگ الگ ہیں۔

6.  صحیح بخاری میں ہے کہ انسان کھاتا منہ سے اور پیتا بھی منہ سے، لیکن دونوں کا مخرج مختلف ہے۔(صحیح بخاری مع الفتح:۸؍۵۹۸)یہ بھی اللہ کے وجود کی نشانی و دلیل ہے۔

چند دہریوں کے سوا توحید ِ ربوبیت کو سب مانتے ہیں ،حتیٰ کہ مشرکین مکہ بھی مانتے تھے:

﴿وَلَئِن سَأَلتَهُم مَن خَلَقَ السَّمـٰو‌ٰتِ وَالأَر‌ضَ لَيَقولُنَّ اللَّهُ...٢٥ ﴾... سورة لقمان

''اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں وزمین کا خالق کون ہے تو یہ بھی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ خالق ہے۔''

گویا توحیدِربوبیت توانسانی فطرت میںداخل ہے، اس لیے پیغمبروں کی بعثت سے اصل مقصود توحید ِربوبیت نہ تھی بلکہ توحید اُلوہیت اَصل مقصود تھی۔ اور مشرک اسی کو کہا جاتا ہے جو اللہ کو تو مانتا ہو، لیکن ساتھ ہی دوسروں کوبھی شریک کرتا ہو۔

2. توحید ِاسماء وصفات

«ھو إثبات أسماء اﷲ تعالیٰ وصفاته إثباتًا بلا تشبیه وتنزیه بلا تعطیل»

''اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کو ویسے ماننا (جیسے قرآن و سنت میں آئے ہیں یعنی ہر صفت ِکمال اللہ کے لائق ہے اور وہ ہر نقص سے پاک ہے) لیکن یہ اثبات بغیر تشبیہ کے اور نقائص سے منزہ قرار دینا بلاتعطیل کے ہونا چاہئے۔''

اللہ تعالیٰ کی صفات کی ماہیت، کیفیت، حقیقت صرف اللہ جل جلالہ کے علم میں ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات کی ماہیت، کیفیت اور حقیقت بھی صرف اللہ ہی کے علم میں ہے۔

دلیل: ﴿لَيسَ كَمِثلِهِ شَىءٌ ۖ وَهُوَ السَّميعُ البَصيرُ‌ ١١ ﴾... سورة الشورىٰ

'' اللہ کے مثل کوئی نہیں، اور وہ سمیع وبصیر ہے۔''

اس آیت میں تمثیل و تشبیہ اور تعطیل دونوں کی نفی ہوگئی،مثلاًبعض لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کلام نہیں کرتا تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ اللہ تعالیٰ میں نقص ہے۔ معاذ اللہ وہ تو ہر نقص سے پاک ہے۔

3. توحید قصد وطلب

اس سے مراد توحیدِالوہیت ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنایا جائے۔ اورہرقسم کی عبادت کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص کرنا توحید اُلوہیت(توحید القصد والطلب)کہلاتا ہے۔

عبادت کی کئی قسمیں ہیں:

1. قولی      2. مالی      3. بدنی

قولی:اب اگر کوئی شخص کہے 'یاعلی مدد' تو گویا اس نے قولی عبادت میں علیؓ کو اللہ کا شریک بنایا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿فَلا تَدعوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا ١٨﴾... سورة الجن

''یعنی اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔''

بدنی: اسی طرح اگر کوئی شخص بدنی عبادت میں اللہ کے ساتھ شرک کرتاہے تو وہ بھی مشرک ہے مثلاً کوئی علی ہجویری کے دربار پر ماتھا ٹیکے، رکوع کرے، ہاتھ باندھ کر اَدب سے کھڑا ہو تو یہ عملی عبادت میںاللہ کے ساتھ شرک ہے۔

مالی:اسی طرح اگر کوئی شخص نذرِ حسینؓ دیتا ہے تو گویا وہ مالی عبادت میںاللہ کے ساتھ شرک کرتاہے۔اسی طرح قبروں پر دیگیں چڑھانا غیر اللہ کے نام کی گیارھویں دینا،جعفر صادق کے کونڈھے بھرنا بھی مالی عبادت میں خالق کے ساتھ مخلوق کو شریک بناناہے۔اصل مقصود یہی توحید (توحید ِ اُلوہیت) ہے۔ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اور تمام آسمانی کتابیں توحید اُلوہیت کی خاطرآئیں اور قرآن وسنت میں توحید ِربوبیت صرف توحید اُلوہیت سمجھانے کے وسیلے کے طور پر ذکر کی گئی ہے۔ مثلاً

﴿الَّذى جَعَلَ لَكُمُ الأَر‌ضَ فِر‌ٰ‌شًا وَالسَّماءَ بِناءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخرَ‌جَ بِهِ مِنَ الثَّمَر‌ٰ‌تِ رِ‌زقًا لَكُم ۖ فَلا تَجعَلوا لِلَّهِ أَندادًا وَأَنتُم تَعلَمونَ ٢٢ ﴾... سورة البقرة

''وہ ذات جس نے تمہارے لیے زمین کو فرض اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتار کر اس سے پھل پیدا کر کے تمہیں روزی دی،تو باوجود یہ جاننے کے تم اللہ تعالیٰ کے شریک نہ بناؤ۔''

الغرض کائنات کی تخلیق کامقصد توحید اُلوہیت ہے رسولِ اکرم1 کی ذات تخلیق کائنات کا مقصود نہیں ہے جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔

مصادرِ توحید

یہ تین ہیں:

1.  قرآنِ کریم      2. سنت ِمطہرہ       3. اجماعِ اُمت (اجماعِ سلف)

1.  نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں وہ تمام عقائد و اعمال بیان کردیئے جن کی انسانوں کو ضرورت تھی اور جو عقائد واعمال آپؐ نے بیان نہیں کیے،ان کی ضرورت ہی نہ تھی۔اس کے کئی دلائل ہیں:

1.  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ہدایت اور نور پر مشتمل ہے اور نور وہدایت اللہ تعالیٰ کی معرفت سے حاصل ہوتی ہے اس لیے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لیے اللہ تعالیٰ کی توحید کو واضح طور پر بیان فرمایا ہے اور عقائد کی خوب وضاحت فرمائی ہے تا کہ امت مسلمہ آسانی کے ساتھ عقیدہ تو حید کی روشنی سے منور ہو سکے اور کوئی چیز ہدایت ا ور نور تب ہی ہو سکتی ہے جب کہ اس میں کوئی چیز مخفی نہ ہو۔

2. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے لیے چھوٹے سے لے کر بڑے مسائل سب بیان کیے ہیں جن کی لوگوں کو ضرورت تھی۔یہاں تک کہ آپ نے بول وبراز جیسے مسائل بھی واضح کیے ہیں جیسا کہ مسلم شریف کی حدیث ہے حضرت سلمان فارسیؓ بیان کرتے ہیں:

«قا ل بعض المشرکین وهو یستهزیٔ أني لأری صاحبکم یعلمکم حتی الخراء ة قلت أجل أمرنا أن لا نستقبل القبلة ولا نستنجي بأیماننا ولا نکتفی بدون ثلاثة أحجار لیس فیها رجیع ولا عظم»(مشکوۃ،ص۴۴)

'' کسی مشرک نے استہزا اور مذاق کرتے ہوئے کہا کہ تمہارا نبی تو تمہیں ہر چیز سکھلاتا ہے یہاں تک کہ بول وبراز اور قضائِ حاجت کے مسائل بھی، تو حضرت مسلمان نے کہا ہاں واقعی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم بول وبراز کے وقت قبلہ کی طرف متوجہ نہ ہوں اور انہوں نے ہمیں دائیں ہاتھ کے استنجاء کرنے سے منع کیا ہے اور ڈھیلوں کے ساتھ استنجا کرتے ہوئے تین ڈھیلوں سے کم استعمال کرنے سے بھی روکا ہے اور گوبر اور ہڈی کے ساتھ استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔''

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کہ چھوٹے چھوٹے مسائل کو ترک نہیں کیا تو عقیدہ توحید تو دینِ اسلام کی اَساس اور بنیاد ہے۔عقائد کی وضاحت کو آپ کیسے نظر انداز کر سکتے تھے۔

3. نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں تین خصلتیں ایسی پائی جاتی ہیں جو ہر چیز کو واضح طور پر بیان کرنے کا تقاضا کرتی ہیں وہ خصلتیں یہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم:

1. ساری مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کا علم رکھنے والے تھے۔

2. تمام مخلوق سے بڑھ کر فصیح وبلیغ تھے۔

3. مخلوقات سے بڑھ کر اپنی امت کے خیر خواہ تھے۔

اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ایک واضح دین کے راستے پر چھوڑا ہے جس کی راتیں بھی دنوں کی طرح جگمگاتی ہیں اور اس دین کے عقائد واعمال میں کوئی تاریکی اور اندھیرا نہیں پایا جاتا۔اس دین کو چھوڑ کر وہی شخص ہلاک ہوتا ہے جو بدقسمت ہو۔ایسے دین کے ہوتے ہوئے ہمیں اپنے عقائد واعمال میں فلاسفہ،متکلمین اور دیگر گمراہ فرقوں کے پیچھے چلنے کی ضرورت نہیں ہے۔

توحید ِاسماء وصفات میں خرابی کرنیوالے فرقے

اسماء و صفات میں مشہورگمراہ فرقے پانچ ہیں:

1. قدریہ        2. رافضہ         3.  جہمیہ        4. خوارج         5. کرامیہ

1.  قدریہ

اس کا بانی ایک عیسائی 'سوسن' تھا۔ وہ معبد جہنی سے ملا اور اسے یہ عقیدہ دیا کہ کسی بھی چیز کے وجود میں آنے سے پہلے اللہ کو اس کا علم نہیں ہوتا اور تقدیر کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ بصرہ کا رہنے والا تھا۔ صحیح مسلم میں ہے کہ یحییٰ بن یعمرؓ کہتے ہیں:

''معبد جہنی پہلا شخص ہے جس نے بصرہ میں تقدیر کا قول اختیار کیا میں اور حمید بن عبد الرحمن حمیری حج یا عمرہ کے لیے روانہ ہوئے تو ہم نے کہا وہاں اگر ہماری ملاقات کسی صحابی سے ہوئی تو ہم ان قدریہ کے بارہ میں سوال کریں گے۔اتفاق سے وہاں ہماری ملاقات حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے ہو گئی جب کہ وہ مسجد میں داخل ہو رہے تھے ۔ہم دونوں میں سے ایک ان کے دائیں اور دوسرا بائیں جانب ہو گیا۔میں سمجھا کہ میرا ساتھی مجھے ہی بولنے کا موقع دے گاتو میں نے کہا اے ابوعبد الرحمن! ہمارے ہاں بصرہ میں کچھ ایسے لوگ نمودار ہو رہے ہیں جو قرآن کریم پڑھتے ہیں اور علم کے طلب گار ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی تقدیر مقرر نہیں کی اور ہر چیز نوپید ہے تو حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے فرمایا:جب آپ ان لوگوں سے ملیں تو ان سے کہنا میں ایسے لوگوں سے بری ہوں اور ان کامجھ سے کوئی تعلق نہیں۔میں اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھا کر کہتاہوں اگر ان قدریہ میں کسی کے پاس احد پہاڑ کی بقدر سونا ہو اور وہ اسے اللہ کے راستے میں خرچ بھی کر دے تو تقدیر پر ایمان لائے بغیر اللہ تعالیٰ اسے قبول نہیں کرے گا۔اس کے بعد انہوں نے وہ مشہور حدیث بیان کی جو حضرت عمر فاروقؓ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دن بیٹھے ہوئے تھے اچانک ایک آدمی آیا جس کے کپڑے انتہائی سفید اور بال انتہائی سیاہ تھے۔اس پرکوئی سفرکے آثار بھی نہ تھے اور نہ ہم میں سے کوئی اسے جانتا تھا۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے اپنے گھٹنے لگا کر اور آپ کے رانوں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا اور سوال کیااے محمدصلی اللہ علیہ وسلم! مجھے ایمان کے بارہ میں بتائیں۔ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ پر اس کے فرشتوں،کتابوں،رسولوں،اور آخرت پر ایمان لانا ہے اور اچھی بری تقدیر پر بھی...''(صحیح مسلم:۱؍۲۷)

حجاج بن یوسف کو جب پتہ چلا تو اُس نے معبد کو گرفتار کرکے اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے اور سولی دے دی،لیکن اس کے بعد غیلان دمشقی نے یہ عقیدہ پھیلانا شروع کردیا۔ اس کو عبدالملک بن مروان نے گرفتار کرکے اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ کرسولی چڑھا دیا اور پھر آگ میں جلا دیا۔ لیکن اس کے بعد اس نظریہ کا عَلَم واصل بن عطا غزال نے اٹھایا، لیکن اس نے تھوڑی سی ترمیم کرلی کہ اللہ تعالیٰ اشیا کو ان کے معرضِ وجود میں آنے سے پہلے جانتا ہے اور یہ بھی کہ خیر کاخالق تواللہ ہے، لیکن شر کا خالق اللہ تعالیٰ نہیں۔گویا قدریہ دو طرح کے ہوگئے:

1) قدریہ غلاۃ: یہ غیلان دمشقی کی ہلاکت سے ختم ہوگئے۔

2) قدریہ معتزلہ: واصل بن عطا سے اس فرقہ کی ابتدا ہوئی جو معتزلہ کا بانی ہے۔ اس کے نظریات کو عمرو بن عبید معتزلی نے بڑے زوروشور سے پھیلایا۔

قدریہ معتزلہ نے اپنے خود ساختہ تصورات کو متعارف کرانے کے لئے پانچ اُصول بنائے جن کے نام توبظاہر اہل سنت والے رکھے، لیکن ان کی تعبیر خود ساختہ کی۔ مزید برآں معتزلہ نے اپنا نام بھی 'اہل العدل والتوحید'رکھا جیسا کہ آج کل لوگ اپنا نام اہل سنت والجماعت رکھ لیتے ہیں، لیکن ساتھ ہی شرک و بدعت میں بھی مبتلا رہتے ہیں۔

قدریہ معتزلہ کے اُصولِ خمسہ فاسدہ جن پر انہوں نے اپنے مذہب کی بنیاد رکھی اور ان کے ذریعہ سے اسلام کے ارکان کوگرانے کی کوشش کی:

1.  توحید        2. عدل

3. منزلة بین المنزلتین        4. إنفاذ الوعید

5. أمربالمعروف ونهي عن المنکر

1.  توحید: سے ان کی مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا انکار کیا جائے۔اور اس کی دلیل یہ دی کہ صفات ماننے سے اللہ تعالیٰ کا جسم لازم آئے گا،کیونکہ مخلوق بھی صفات کے ساتھ متصف ہے اور اس سے مخلوق کے ساتھ مشابہت لازم آئے گی حالانکہ ﴿لَيسَ كَمِثلِهِ شَىءٌ﴾اللہ کے مشابہ کوئی چیز نہیں ہے، لہٰذا اللہ کی صفات ہی نہیں ہیں،ان کا یہ نظریہ فاسد اور باطل ہے۔ صفات کا انکاردراصل توحید اسماء وصفات کا انکار ہے۔

حالانکہ اہل السنۃ والجماعہ اللہ عزوجل کی صفات کو کیفیت کی تفصیل میں جائے بغیر مانتے ہیں، لہٰذا اس سے جسم ہونا لازم نہیں آتا۔

2. عدل:اللہ تعالیٰ نے صرف خیر کو پیدا کیا ہے، شر کو اللہ نے پیدانہیں کیا بلکہ شر مخلوق کی تخلیق ہے۔ اس موضوع پراہل السنۃ کے ابواسحق اسفرائینی اور عبدالجبار معتزلی کا مناظرہ ہوگیا:

عبدالجبار: سبحان من تنزّہ عن الفحشاء

'' اللہ تعالیٰ شر کو پیدا کرنے سے پاک ہے۔''

ابواسحق : سبحان من لا یقع في ملكه إلا ما شاء

''اللہ تعالیٰ پاک ہے جس کی بادشاہت میں کوئی چیز اس کے ا رادے کے بغیر واقع نہیں ہوتی خواہ وہ خیر ہو یا شر۔''

عبدالجبار: أفیرید أن یُعصیٰ؟

''کیا اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کی نافرمانی کی جائے؟''

ابواسحق: أفیُعصیٰ رُبنا مکرھًا؟

''ہمارا رب تعالیٰ نافرمان کی نافرمانی میں مجبور تو نہیں ہے ۔''

عبد الجبار: مجھے بتلائیے اگر اللہ تعالیٰ مجھ سے ہدایت کو روک لے اور میری ہلاکت کا فیصلہ کر دے تو کیا یہ فیصلہ اچھا ہوگا یا برا؟

ابواسحق: جس چیز کو اللہ تعالیٰ تجھ سے روکتا ہے اگر تو وہ تیری ملکیت میں ہے تو یہ فیصلہ برا ہو،لیکن اگر وہ چیز اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں ہے اورواقعی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملک ہے تو اللہ جوچاہے کرے (وہ صاحب اختیار ہے)۔ اس پر عبد الجبار لاجواب ہو گیا۔

معتزلہ کو یہ مغالطہ اس بنا پر لاحق ہوا کہ اُنہوں نے اِرادہ کونیہ قدریہ اور اِرادہ دینیہ شرعیہ کو ایک ہی کردیا۔حالانکہ اللہ تعالیٰ اِرادہ کونیہ قدریہ کے اعتبار سے شر کے بھی خالق ہیں اور اِرادہ شرعیہ کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ شر کو پسند نہیں کرتے۔ واضح رہے کہ اِرادہ دینیہ شرعیہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مطلوب و مقصود ہے جبکہ ارادہ کونیہ قدریہ میں اللہ کی پسند و رضا کا ہونا ضروری نہیں۔

گویامعتزلہ نے اِرادئہ کونیہ کا انکار کردیا اورصرف شرعیہ کو مانا جب کہ صوفیا نے اِرادہ دینیہ شرعیہ کو لغو کردیااور اِرادہ کونیہ قدریہ کے تحت ہر چیز کو اللہ کا محبوب بنادیا۔

ارادہ دینیہ شرعیہ اللہ تعالیٰ کی محبوب اور پسندیدہ چیزوں کو شامل ہے جب کہ ارادہ کونیہ قدریہ خیر وشر ہر چیز کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے مقدر کی ہے۔بعض چیزوں میںاللہ کے دونوںارادے جمع ہوجاتے ہیں جیسے مؤمن کا ایمان لانا

اور بعض چیزوں میں صرف ارادہ کونیہ قدریہ آتاہے جیسے کافر کا کفر کرنا

بعض چیزوں میں اِرادہ شرعیہ آتاہے جیسے کافر کا ایمان لے آنا۔

3. المنزلۃ بین المنزلتین: معتزلہ کے اس اُصول کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص کبیرہ گناہ کرتاہے تو وہ ایمان سے نکل جاتاہے، لیکن کفرمیں داخل نہیں ہوتا بلکہ ایمان و کفر کے درمیان ہوتا ہے۔

خوارج بھی یہی کہتے ہیں کہ مرتکب ِکبیرہ ایمان سے نکل جاتاہے، لیکن ان میں اور معتزلہ میں فرق یہ ہے کہ ان کے نزدیک وہ کفر میں داخل ہوجاتاہے، جبکہ معتزلہ اس کو کفر میں داخل نہیں سمجھتے۔لیکن نتیجہ اور آخرت کے اعتبار سے دونوں کا نظریہ برابر ہے کہ وہ دائمی جہنمی ہوگا۔جب کہ اہل سنت کہتے ہیں کہ مرتکب ِکبیرہ نہ تو ایمان سے نکلتاہے اور نہ ہی مخلد فی النارہوگا، بلکہ ارتکابِ کبیرہ سے اس کے ایمان میں نقص اورکمی لاحق ہوجاتی ہے۔

4.  انفاذ الوعید:وعیدکا نافذ کرنااللہ پر لازمی ہے یعنی کسی مرتکب ِکبیرہ کو اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرسکتا،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے کہ ہرمجرم کو عذاب ہوگا۔اگر اللہ تعالیٰ اسے عذاب نہیں کرے گا تو وعدہ خلافی لازم آئے گی۔

دو اعتبار سے معتزلہ کایہ نظریہ بھی غلط ہے:

1. اس وعید اورعذاب کو اللہ تعالیٰ نے عدمِ مغفرت کے ساتھ معلق کیاہے کہ اگر معاف نہیں کروں گا تو پھر عذاب دوں گا، جیسا کہ گناہ سے توبہ کرنے والے کو وعید شامل نہیں ہے۔ لہٰذااللہ کے وعدہ کی مخالفت لازم نہیں آتی۔

2. نیز وعدہ اور وعید میںفرق ہے۔ وعدہ کی مخالفت تو مذموم ہے، لیکن وعید کی مخالفت توقابل تعریف اور اکرام و اِحسان میں داخل ہے۔اس کی دلیل یہ شعر ہے:

وإني إن أوعدته أو وعدته

لمخلف إیعادي و منجز موعدي


''میں اگر کسی کو وعید سناؤں یا اس سے وعدہ کروں تو وعید کو چھوڑ دیتا ہوں،لیکن اپنے وعدہ کو پورا کرتا ہوں۔''

یعنی انعام کا اعلان وعدہ ہوتاہے اور سزا کا اعلان وعیدکہلاتا ہے اور وعدہ کو پورا کرنا ضروری ہے جب کہ وعید کو چھوڑنا ممدوح ہے۔

5. الأمربالمعروف والنہي عن المنکر: اس خودساختہ اصول سے ان کے نزدیک مراد یہ ہے کہ ظالم حکمران کے خلاف تلواریں لے کر نکلنا اور اس سے لڑناضروری ہے۔

معتزلہ کے پھیلاؤ کے اَسباب

1. حکمرانوں سے تعلقات        2. چرب زبانی

3.فصاحت و بلاغت        4. باہم شدتِ تعاون

2.رافضہ

تشیع میں غلو کرنے والوں کو'روافض' کہا جاتا ہے۔

وجہ تسمیہ: روافض کی وجہ تسمیہ کے بارے میں درج ذیل تین اَقوال ہیں:

پہلا قول:

حضرت ابوبکر وعمر کی خلافت کو قبول نہ کرنے کی وجہ سے اُنہیں روافض(انکار کرنے والے) کہا جاتا ہے۔ لرفضهم خلافة الشیخین

دوسرا قول:

دین چھوڑ دینے کی وجہ سے یہ روافض کہلاتے ہیں۔لرفضہم الدین یعنی یہ بظاہر تو دین کے دعوے دار ہیں، لیکن درحقیقت حقیقی اسلام سے بہت دور ہیں۔روافض نے خود ساختہ دین بنایا ہوا ہے اور توحید کو نظر انداز کر کے یہ شرک میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔

تیسرا قول:

زیدؒ بن علیؒ بن حسینؓ بن علیؓ دوسری صدی ہجری میں بنواُمیہ کے خلاف لڑنے کے لیے نکلے تو اُنہوں نے کہا اگر آپ شیخین کو گالیاں دیں گے اور ان سے براء ت کا اظہار کریں گے تو ہم آپ کا ساتھ دیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ معاذ اللہ میں ایسانہیں کرسکتا تویہ الگ ہوگئے تو زیدنے فرمایا: أرفضتموني

''کیا تم نے میرا ساتھ چھوڑ دیا'' اس سے انہیں 'رافضہ' کہا گیا۔

یمن کا رہنے والا عبداللہ بن سبا یہودی دور عمرؓ میں تو درّئہ فاروقی سے ڈرتا تھا، لیکن دورِ عثمانیؓ میں اُن کی نرمی کی وجہ سے اس کو موقع مل گیا۔ یمن سے حجاز آکر ا س نے اسلام کادعویٰ کردیا اور غلط عقائد پھیلانے شروع کردیئے۔اس نے یہ نظریات پھیلا دیئے کہ

1. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسم نے اپنے بعد حضرت علیؓ کی خلافت کی وصیت کی تھی۔

2. ابن ملجم نے حضرت علیؓ کو قتل نہیں کیا تھا بلکہ (معاذ اللہ)شیطان کوقتل کیا تھا جو علیؓ کی صورت میں آیا تھا۔

3. علیؓ میں اُلوہیت کا جز پایا جاتاہے لہٰذا وہ قیامت کے نزدیک لوٹ کر آئیں گے اور اپنے دشمنوں سے انتقام لیں گے۔

گویا اس طرح ابن سبا نے شیعوں کو گمراہ کیا جیسے پولس نے عیسائیوں کو گمراہ کیااس نے کہا:

1.  مجھے عیسیٰ علیہ السلام ملے اور کہا کہ عیسائیت تمام لوگوں کا دین ہے۔

2. مجھے وصیت کی ہے: الإله ثلاثة وثلاثة واحد وَھُم:أب،ابن وروح القدس یعنی خدا تین ہیں(اب ، ابن ، روح القدس)اور تین ملک کر ایک ہے۔

3. عیسیٰ علیہ السلام لوگوں کے گناہوں کا کفارہ بن کر سولی چڑھ گئے ہیں۔

4. عیسیٰ علیہ السلام سولی دیئے جانے کے بعد زندہ ہوگئے تھے اور اللہ تعالیٰ کے دائیں جانب عرش پر بیٹھ گئے۔

گویا جس طرح پولس نے عیسائیوں کو عیسائی بن کر گمراہ کیا، اسی طرح عبداللہ بن سبا نے مسلمان بن کر شیعوں کو گمراہ کیا۔

3. الجہمیۃ

یہ جہم بن صفوان کی طرف منسوب ہیں جس کو سلم بن اَحوز نے گرفتار کرکے قتل کردیا تھا اور جہم نے یہ نظریات جعد بن درہم سے حاصل کئے تھے۔گویا اصل میں یہ نظریات جعد کے تھے، لیکن جہمیہ کی نسبت جہم کی طرف اس لیے ہے کہ اس نے ان نظریات کا پرچار کیا۔جعد کوخالد قسری نے گرفتار کیا اور عیدالاضحی کو خطبہ دیا اور کہا:

«یأیھا الناس ضحُّوا تقبل اﷲ ضحایاکم فإني مضحٍّ بجعد بن درهم إنه زعم أن اﷲ لم یتخد إبراهیم خلیلاً ولم یکلم موسی تکلیما ثم نزل فذبحه»

'' اے لوگو! تم جانوروں کی قربانی کرو اللہ تعالیٰ تمہاری قربانیاں قبول کرے۔میں تو جعد بن درہم کی قربانی کروں گا،کیونکہ یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل نہیں بنایا اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے گفتگو کی ہے پھر منبر سے اتر کر اسے ذبح کر دیا۔''

جہمیہ کے گمراہ کن نظریات

1. نفی الصفات:یہ صفاتِ الٰہی کی کلی طور پر نفی کرتے ہیں۔

2. القول بالجبر ونفي الإختیار عن العَبد:یعنی بندے کو کچھ اختیار نہیں، وہ مجبور محض ہے۔ جو کچھ کرواتا ہے، اللہ ہی کرواتا ہے۔

3. فناء الجنۃ والنار: یعنی جنت اور جہنم بھی آخر کار فنا ہوجائیں گے۔

4. الإیمان معرفۃ فقط: یعنی ایمان فقط معرفت کا نام ہے۔

5. الخروج بالسیف علی أئمۃ الجور: یعنی ظالم حکمرانوں کے خلاف ہتھیاروں سے لڑنا واجب ہے۔

4. الکرّامیۃ

یہ محمد بن کرام سجستانی کی طرف منسوب ہیں۔ محمد بن کرام کو حکومت ِوقت نے آٹھ سال تک قید رکھا۔ اس نے بظاہر توبہ کرلی، لیکن جب آزاد ہواتو پھر وہی نظریات پھیلانے شروع کردیئے۔

گمراہ کن نظریات

1. مجاوزة الحد في إثبات الصفات حتی شبَّهوہ بخلقه:یعنی یہ صفات باری تعالیٰ کو ثابت کرنے میں حد سے بڑھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ کی صفات بندوں کے مشابہ ہیں۔

2. الإیمان ھو النطق فقط:یعنی ایمان صرف اقرار کا نام ہے تصدیق اور عمل کی ضرورت نہیں۔ فقط کلمہ پڑھنے سے بندہ مسلمان ہوجاتا ہے۔

3. جواز وضع الأحادیث في الترغیب والترهیب: دینی اعمال کی طرف لوگوں کو راغب کرنے اور اللہ سے ڈرانے کے لیے اَحادیث اپنے پاس سے وضع کرناجائز ہیں۔ جیسا کہ امام عراقی اپنے الفیہ میں فرماتے ہیں

«وجوّز الوضع في الترغیب قوم ابن الکرّام وفي الترهیب»

''کرامیہ فرقے نے ترغیب وترہیب کے باب میں احادیث وضع کرنے کو جائز کر لیا ہے۔''

5. خوارج

جنگ جمل کے بعد حضرت علیؓ نے حضرت امیر معاویہ ؓ سے بیعت لینے کی کوشش کی،لیکن ناکامی ہوئی،لہٰذاآپ نے بزورِ طاقت بیعت لینے کا ارادہ کیا اور اسی ہزرا کا لشکر لے کر کوفہ سیشام چلے اور نخلیہ کے مقام پر مقیم ہو گئے۔امیر معاویہ کو اس کا علم ہوا تو ساٹھ ہزار شامیوں کے ساتھ مقابلے کے لیے نکلے اور صفین کے میدان میں دریائے فرات کے ساحل پر ڈیرے لگا لیے، دونوں فوجوں میں امت کے خیر خواہ، علما،صلحا اور حفاظِ قرآن کی کافی تعداد تھی۔انہوں نے مصالحت کی کوشش کی۔اس وجہ سے تین ماہ تک لڑائی رکی رہی اور طرفین کے سفیروں کی آمدورفت جاری رہی، لیکن مصالحت نہ ہو سکی۔حضرت امیر معاویہؓ اس شرط پر بیعت کرنے کے لیے تیار تھے کہ قاتلین عثمان کو ان کے حوالے کر دیا جائے،لیکن یہ معاملہ بڑا پیچیدہ تھا،کیونکہ اس مطالبہ پر حضرت علیؓ کی فوج سے بیس ہزار آدمیوں نے آگے بڑھ کر بلند آواز سے کہا ہم سب قاتلینِ عثمان ہیں،اسی طرح مصالحت کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں اور جنگ شروع ہو گئی جس کا سلسلہ کئی مہینے تک جاری رہا،شامی لشکر نے عمرو بن عاص کے مشورے سے ایک عجیب کام کیا۔صبح جب دونوں فوجیں مقابلے کے لیے نکلیں تو شامی نیزوں پر قرآن کریم اٹھائے ہوئے نکلے اور بلند آوز سے کہنے لگے۔ہمارے اور تمہارے درمیان کتاب اللہ ہے آؤ مل کر اس کا فیصلہ قبول کر لیں۔یہ تجویز کارگر ثابت ہوئی جس پر عراقیوں نے لڑائی سے ہاتھ روک لیے۔حضرت علی ؓنے بہت سمجھایا کہ یہ ایک چال ہے مگر وہ نہ مانے اور کہا کہ اگر آپ نے قرآن کو حکم تسلیم نہ کیا تو ہم آپ سے بھی جنگ کریں گے۔مجبورا حضرت علیؓ کو لڑائی بند کرنی پڑی۔

اب تجویز یہ ٹھہری کہ طرفین سے ایک ایک نمائندہ بطورِ ثالث مقرر کیا جائے جو قرآن کریم کی رو سے اس جھگڑے کا فیصلہ کریں اور تا فیصلہ جنگ بند رہے گی اور یہ فیصلہ فریقین کے لیے واجب العمل ہو گا۔حضرت امیر معاویہ ؓ کی طرف سے عمرو بن عاص اور حضرت علیؓ کی طرف سے ابو موسی اشعری ثالث مقرر ہوئے۔اس موقع پر ایک گروہ نے حضرت علیؓ کی مخالفت شروع کر دی اور یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے حضرت علیؓ کو بڑے اصرار کے ساتھ ثالثی کے لیے آمادہ کیا تھا جب کہ حضرت علیؓ شروع میں ثالثی کے حق میں نہ تھے ،لیکن ان لوگوں کے زور دینے پر وہ ایسا کرنے پر مجبور ہو گئے،مگر اب یہی لوگ''إن الحکم إلا ﷲ''فیصلہ تو صرف اللہ ہی کر سکتا ہے کا نعرہ لگا کر حضرت علیؓ کی فوج سے الگ ہو گئے۔اس گروہ کی تعداد بارہ ہزار کے قریب تھی اور انہیں 'خارجی' کہا جاتا ہے،بعد میں ان لوگوں نے زور پکڑ لیا اور منظم تحریک کی صورت اختیار کر لی۔حضرت علیؓ کے استفسار پر ان لوگوں نے کہا،آپ نے اللہ کے حکم میں انسانوں کو ثالث بنا لیا ہے، اس لیے ہم نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔حضرت علیؓ نے فرمایا میں تو ثالثی کے خلاف تھا،تم لوگوں نے اصرار کر کے مجھے ایسا کرنے پر مجبورکیا تھا۔اب جب کہ میں ثالثی کے عہد نامہ پر دستخط کر چکا ہوں تو تم مجھے اپنے عہد سے پھر جانے پر مجبورکرنے لگے ہو، میں ایسا نہیں کروں گا اور ثالثوں نے بھی قرآنی احکام کے مطابق فیصلہ کرنا ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے،اس لیے انہیں ثالث ماننے میں کوئی قباحت نہیں ہے،مگر خارجیوں نے کہا ثالثی قبول کرنا کفر ہے ،اگر ہم نے آپ کو ثالثی قبول کرنے کی تجویز دی تھی تو ہم نے گناہ کیا تھا اب ہم اس گناہ سے توبہ کرتے ہیں،اگر آپ بھی غلطی کا اعتراف کر کے توبہ کر لیں تب ہم آپ کا ساتھ دیں گے، ورنہ آپ کے خلاف بھی جہاد کریں گے۔حضرت علیؓ نے انہیں بہت سمجھایا، لیکن وہ اپنی ضد پر مصر رہے اور حضرت علیؓ کی مخالفت شروع کر دی اور اس کے بعد خارجیوں کی سرگرمیاں تیز ہو گئیں۔

خوارج کے نظریات

1. حضرت علیؓ اور امیر معاویہؓ کو کافر کہنا

2. مرتکب کبیرہ پرکفر کا فتوی لگانا اور اسے مخلد في النار کہنا

3. الخروج بالسیف علی أئمة الجوریعنی ظالم حکمرانوں کے خلاف ہتھیارلے کر لڑنا

٭٭٭٭٭